پیارے اسلامی بھائیو! خوشی و
غم، خوف و سکون، آسانی و تنگی ، یہ سب زندگی کا حصہ ہیں۔لیکن اصل غم تو آخرت کا ہے
، قرآن پاک کی تعلیمات انسان کو ایسے اعمال بتاتی ہیں جو اسے روز قیامت کے خوف و
غم سے نجات دلا کر دل کا سکون عطا کرتی ہیں۔
خوف و غم سے نجات: اللہ پاک کا فرمان ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا
رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳)
ترجمہ کنزالایمان:بیشک وہ جنہوں
نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے نہ ان پر خوف نہ ان کو غم ۔ (پ26، الاحقاف:13)
تفسیر نعیمی: بیشک وہ لوگ جنہوں
نے کہا:ہمارا رب اللہ ہے ،پھر وہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور سیّد المرسَلین ﷺ کی شریعت
پر آخری دم تک ثابت قدم رہے، توقیامت میں نہ ان پر خوف ہے اور نہ وہ موت کے وقت
غمگین ہوں گے اور ان اوصاف کے حامل افراد جنت والے ہیں اور یہ ہمیشہ جنت میں رہیں
گے اور انہیں ان کے نیک اعمال کابدلہ دیا جائے گا۔( تفسیرکبیر ، الاحقاف ، تحت
الآیۃ: ۱۳-۱۴ ، ۱۰ / ۱۳-۱۴ ، مدارک ، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۱۳-۱۴، ص۱۱۲۶، روح البیان، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۱۳-۱۴، ۸ / ۴۷۲، ملتقطاً)
امن کن کے لیے ہے؟: ارشادِ باری تعالیٰ: اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ
بِظُلْمٍ اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠(۸۲) ترجمۂ کنز الایمان: وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کسی ناحق کی
آمیزش نہ کی انہیں کے لیے امان ہے اور وہی راہ پر ہیں۔(پ7، الانعام: 82)
تفسیر صراط الجنان میں ہے: اس
آیت میں ایمان سے مراد ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ کو ماننا اور ظلم سے مراد شرک ہے۔
البتہ معتزلہ اس آیت میں ’’ظلم‘‘ سے مراد گناہ لیتے ہیں ، یہ صحیح احادیث کے خلاف
ہے اس لئے اس کا اعتبار نہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
فرماتے ہیں ’’ جب یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی توصحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُم بہت پریشان ہوئے اور انہوں نے رسولُ اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کی ’’ہم میں
سے ایسا کون ہے جو اپنی جان پر ظلم نہیں کرتا۔ رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’اس
سے یہ مراد نہیں بلکہ اس سے مراد شرک ہے۔ کیا تم نے وہ بات نہیں سنی جو حضرت لقمان
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہی کہ ’’ اے میرے
بیٹے !اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کسی کو شریک نہ کرنا، بیشک شرک بڑا ظلم ہے ۔ (بخاری،
کتاب احادیث الانبیاء، باب قول اللہ تعالی: ولقد آتینا لقمان الحکمۃ۔۔۔ الخ، ۲ / ۴۵۱، الحدیث: ۳۴۲۹)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ صرف ایمان
کافی نہیں، بلکہ خالص توحید کے ساتھ ایمان ہو۔ شرک سے مکمل پرہیز ہو تو خوف و غم
سے امن و سکون نصیب ہوتا ہے۔ سیاق و سباق یہ
ہے کہ امان انہی کے لیے ہے جو ہدایت پر رہے اور کفر نہ کیا۔
دلوں کو قرار کیسے ملے؟ فرمانِ الٰہی: اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ(۲۸) ترجمۂ کنز الایمان: سن لو اللہ کی یاد ہی میں
دلوں کا چین ہے۔(پ13، الرعد:28)
ایک اور مقام پر اللہ رب العزت
نے ارشاد فرمایا: وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ
الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۱۳۹) ترجمۂ کنز الایمان:اور نہ سستی کرو اور نہ غم کھاؤ تمہیں غالب آؤ گے
اگر ایمان رکھتے ہو۔(پ4، آل عمران: 139)
حضرت یونس علیہ السلام کی نجات: دعاِ یونس علیہ السلام: لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)ترجمۂ کنز الایمان: کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے
تجھ کو بےشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (پ17، الانبیآء: 87)
فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ
الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸) ترجمۂ کنز الایمان: تو ہم نے اس کی پکار سُن لی اور
اُسے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو۔ (پ17، الانبیآء: 88)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آخرت کے خوف و غم سے
نجات اسی میں ہے کہ ہم اللہ کے دین حق کا دامن مضبوطی سے تھام لیں اور دین کےاحکام
پر عمل کریں۔
جو ہم نے پڑھا اللہ اس پر عمل کی توفیق عطا
فرمائے ۔ آمین بجاہ نبی الامینﷺ
Dawateislami