عامر فرید (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور
،پاکستان)
خوف کی تعریف: لغوى تعريف: خوف عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے
معنی ہیں: ڈر اندیشہ دل میں گھبراہٹ یا کسی نقصان یا خطرے کا تصور۔ اصطلاحی
(شرعی) تعریف: ایسا دل کا اضطراب جو کسی آنے والے نقصان، عذاب یا ناگوار انجام
کے اندیشے سے پیدا ہو۔
قرآن مجید انسان کی صرف انفرادی زندگی نہیں بلکہ
اجتماعی و معاشرتی نظام کی اصلاح بھی کرتا ہے۔ ان پانچ آیات میں اللہ تعالیٰ نے
انفاق فی سبیل اللہ ، ایمان ، تقوی ، نیکی اور خوف خدا کی تعلیمات دی ہیں۔ ان پر
عمل کرنا قیامت کے خوف و غم سے نجات کا سبب ہو سکتا ہے ۔
(1)اللہ تعالیٰ کی راہ میں دن کے
خرچ سے رات کا خرچ افضل ہے : اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ
سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ
وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو رات میں اور دن میں ، پوشیدہ اور
اعلانیہ اپنے مال خیرات کرتے ہیں ان کے لئے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے ۔ ان پر
نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ3، البقرۃ: 274)
تفسیر صراطِ الجنان : آیت ِکریمہ
میں رات کے خرچ کو دن کے خرچ سے اورخفیہ خرچ کواعلانیہ خرچ سے پہلے بیان فرمایا
،اس میں اشارہ ہے کہ چھپا کر دینا ظاہر کرکے دینے سے افضل ہے۔ ان سب خرچ کرنے
والوں کیلئے بارگاہِ الٰہی سے اجرو ثواب اور قیامت کے دن غم و خوف سے نجات کی
بشارت ہے۔
(2)اعراف والوں کے لئے بشارت : اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ
اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍؕ-اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا
خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ (۴۹) ترجمۂ کنز العرفان: کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھاکر
کہتے تھے کہ اللہ ان پر رحمت نہیں کرے گا( ان سے تو فرمایا گیا ہے کہ) تم جنت میں
داخل ہوجاؤ تم پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ تم غمگین ہو گے۔ (پ8، الاعراف:49)
تفسیر صراط الجنان: اعراف والے غریب جنتی
مسلمانوں کی طرف اشارہ کر کے مشرکوں سے کہیں گے کہ کیا یہی وہ غریب مسلمان ہیں جنہیں
تم دنیا میں حقیر سمجھتے تھے اور جن کی غریبی فقیری دیکھ کر تم قسمیں کھا تے تھے
کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان پر رحمت نہیں فرمائے گا، اب خود دیکھ لو کہ وہ جنت کے
دائمی عیش و راحت میں کس عزت و احترام کے ساتھ ہیں اور تم کس بڑی مصیبت میں مبتلا
ہو۔
(3)ولیوں پر نہ خوف ہے نہ ہی غم: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا
هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک
ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور
ڈرتے رہے۔(پ11، یونس:62، 63)
تفسیر صراط الجنان: مفسرین نے
اس آیت کے بہت سے معنی بیان کئے ہیں ، ان میں سے 3معنی درج ذیل ہیں:
(1)مستقبل میں انہیں عذاب کا
خوف نہ ہو گا اور نہ موت کے وقت وہ غمگین ہوں گے۔
(2) مستقبل میں کسی ناپسندیدہ چیز
میں مبتلاہونے کا خوف ہوگا اور نہ ماضی اور حال میں کسی پسندیدہ چیز کے چھوٹنے پر
غمگین ہوں گے۔
(3) قیامت کے دن ان پر کوئی خوف
ہو گا اور نہ اس دن یہ غمگین ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ولیوں کو دنیا میں
ان چیزوں سے محفوظ فرما دیا ہے کہ جو آخرت میں خوف اور غم کا باعث بنتی ہیں۔
(4)نیکی کا اجر ملتا ہے : وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ
الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا(۱۱۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو کوئی اسلام کی حالت میں کچھ نیک اعمال
کرے تو اسے نہ زیادتی کا خوف ہوگا اور نہ کمی کا۔ (پ16، طٰہٰ:112)
تفسیر صراط الجنان: جو کوئی
اسلام کی حالت میں کچھ نیک اعمال کرے تو اسے اس بات کا خوف نہ ہو گا کہ وعدے کے
مطابق وہ جس ثواب کا مستحق تھا وہ اسے نہ دے کر اس کے ساتھ زیادتی کی جائے گی اور
نہ ہی اسے کم ثواب دئیے جانے کا اندیشہ ہو گا۔
ان اعمال پر عمل کر کےہم قیامت
کےخوف و غم سے نجات حاصل کر سکتےہیں، اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین
Dawateislami