اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں انسان کی فطرت، مزاج، جذبات اور نفسیات وغیرہ کے کئی پہلوؤں کو بیان فرمایا ہے۔ ان میں ایک اہم پہلو “خوف و غم“ اور ”امن“ کا ہے۔ انسان کبھی مستقبل کے خطرات سے ڈرتا ہے (خوف) اور کبھی ماضی کے حادثات یا نقصان پر افسوس کرتا ہے (غم)۔ قرآن ان فطری کیفیات کا نہ صرف تذکرہ کرتا ہے بلکہ ان سے نجات کا روحانی اور عملی حل بھی عطا فرماتا ہے۔

(1) خوف و غم سے نجات کا وعدہ: قرآن مجید اہلِ ایمان کو خوش خبری دیتا ہے کہ وہ اللہ کے ولی بن جائیں تو خوف و غم سے محفوظ ہو جائیں گے: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ11، یونس:62)

(2) امن کی اصل بنیاد ، ایمان: ایمان، جب شرک جیسے ظلم سے پاک ہو، تو انسان کو دنیا و آخرت میں حقیقی امن حاصل ہوتا ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠(۸۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں شرک کو نہ ملایا تو انہی کے لیے امان ہے اوریہی ہدایت یافتہ ہیں۔ (پ7، الانعام: 82)

(3) خوف و غم آزمائش بھی ہیں اور علاج بھی : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ خوف و غم دنیاوی امتحان کا حصہ ہیں، لیکن صبر کرنے والوں کو خوشخبری ہے: وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ-وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ (۱۵۵) ترجمۂ کنزالعرفان: اور ہم ضرورتمہیں کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کوخوشخبری سنا دو۔(پ2، البقرۃ:155)

(4) قرآن دلوں کی شفا، روح کا سکون: قرآن وہ عظیم کتاب ہے جو ہدایت دینے کے ساتھ ساتھ دلوں کے زخموں پر مرہم بھی رکھتی ہے۔ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِۙ۬-وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ(۵۷) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی شفا اور مومنوں کیلئے ہدایت اور رحمت آگئی۔(پ11، یونس: 57)

(5) جنت امن کا آخری مقام: قرآن آخرت میں کامیاب ہونے والوں کے لیے ہمیشہ کی سلامتی کی نوید سناتا ہے: اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْنَ(۴۶) ترجمہ کنزالایمان: ان میں داخل ہو سلامتی کے ساتھ امان میں۔(پ 14، الحجر: 46)

پیارے اسلامی بھائیو: قرآن مجید صرف ایک کتابِ شریعت نہیں بلکہ ایک مکمل نفسیاتی، روحانی اور معاشرتی علاج ہے۔ جو اس سے جُڑ گیا، وہ خوف و غم سے آزاد ہو گیا، اور جو اس سے دور ہو گیا، وہ دنیا و آخرت کی بے چینیوں میں مبتلا ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان، تقویٰ، صبر اور قرآن سے وابستگی کو خوف و غم کا علاج بنایا اور امن کی ضمانت عطا فرمائی۔

قرآن سے دوستی اختیار کرو، دل کا سکون پاؤ

صبر، تقویٰ، اور توحید ہی خوف و غم کا علاج ہیں

جو قرآن کے سائے میں آیا، دنیا و آخرت کے امن میں آ گیا۔