محمد عدنان عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی
لاہور ،پاکستان)
قرآن مجید ہمیں سکھاتا ہے کہ
سچا ایمان، صبر، اور اللہ پر توکل ہی وہ راستے ہیں جو انسان کو روز قیامت خوف و غم
سے نکال کر امن و سکون عطا کرتے ہیں۔ قرآن میں کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے ان
لوگوں کے لیے” فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ “کی بشارت دی ہے، جو ایمان لاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں۔
یہ تمہید اسی قرآنی پیغام کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے کہ کیسے اللہ تعالیٰ خوف اور
غم کے بدلے امن، اطمینان اور امید عطا فرماتا ہے۔
(1) اللہ پاک کی ہدایت کی پیروی
کرنے والے:قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا
جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ
فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنزالعرفان: ہم نے فرمایا: تم سب جنت سے اتر جاؤ
پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے
انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ1، البقرۃ:38)
تفسیر صراط الجنان:فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ:توجو میری ہدایت کی پیروی کریں۔ہدایت ِ
الہٰی کے پیروکاروں کیلئے بشارت ہے کہ انہیں نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف
ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے بلکہ بے غم جنت میں داخل ہوں گے۔ یہاں جمع کے صیغے کے
ساتھ سب کو اترنے کا فرمایا ، اس میں حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
اور حضرت حواء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے ساتھ ان کی اولاد بھی مراد ہے
جوابھی حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پشت میں تھی۔
(2) اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ
کرنے کا اجر:اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ
اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ
اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴)ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو
رات میں اور دن میں ، پوشیدہ اور اعلانیہ اپنے مال خیرات کرتے ہیں ان کے لئے ان کا
اجر ان کے رب کے پاس ہے ۔ ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ3، البقرۃ:274)
تفسیر صراط الجنان:اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ
اَمْوَالَهُمْ: وہ لوگ جو اپنے مال خیرات
کرتے ہیں۔ یہاں ان لوگوں کا بیان ہے جو راہِ خدا میں خرچ کرنے کا نہایت شوق رکھتے
ہیں اور ہر حال میں یعنی دن رات، خفیہ اعلانیہ خرچ کرتے رہتے ہیں۔ یہ آیت حضرت
ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حق میں نازل ہوئی جب آپ نے راہِ خدا
میں چالیس ہزار دینار خرچ کئے تھے۔ دس ہزار رات میں اور دس ہزار دن میں اور دس
ہزار پوشیدہ اور دس ہزار ظاہر۔
(3) انبیاء علیہم السلام پر ایمان لانے والوں کا
انعام:وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ
اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَۚ-فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ
عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۴۸) ترجمۂ کنز العرفان: اور ہم رسولوں کواسی حال میں بھیجتے ہیں کہ وہ
خوشخبری دینے والے اور ڈر سنانے والے ہوتے ہیں تو جو ایمان لائیں اور اپنی اصلاح
کرلیں تو ان پرنہ کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(پ7، الانعام:48)
تفسیر صراط الجنان:اس آیت اور
ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم اپنے رسولوں کو اس لئے نہیں بھیجتے کہ
کفار ان سے اپنی من مرضی کے معجزات طلب کرتے پھریں بلکہ اس لئے بھیجتے ہیں کہ وہ
اپنی قوم کو اطاعت پر ثواب کی بشارت اور نافرمانی کرنے پر عذاب کی وعید سنائیں تو
جو اپنے کفر کو چھوڑ کر ان پر ایمان لے آیا اور ا س نے اپنے اعمال کی اصلاح کر لی
تو ان پر دنیوی یا اخروی عذاب کاکوئی خوف ہے اور نہ وہ ثواب ضائع ہونے کے اندیشے
سے غمگین ہوں گے۔
(4) اللہ کے ولیوں پر رحمت:اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ
اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک
ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ11، یونس:62)
تفسیر صراط الجنان: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ
اللّٰهِ:سن لو! بیشک اللہ کے ولیوں
لفظِ ’’ولی‘‘ وِلَاء سے بناہے جس کا معنی قرب ا ور نصرت ہے۔ وَلِیُّ اللہ وہ ہے جو
فرائض کی ادائیگی سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا قرب حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت
میں مشغول رہے اور اس کا دل اللہ تعالیٰ کے نورِ جلال کی معرفت میں مستغرق ہو۔
(5) اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ
اللّٰهُ بِرَحْمَةٍؕ-اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ
اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ(۴۹)ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھاکر
کہتے تھے کہ اللہ ان پر رحمت نہیں کرے گا( ان سے تو فرمایا گیا ہے کہ) تم جنت میں
داخل ہوجاؤ تم پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ تم غمگین ہو گے۔ (پ8، الاعراف:49)
تفسیر صراط الجنان:اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ
اَقْسَمْتُمْ:کیا یہ ہیں وہ لوگ جن پر تم
قسمیں کھاتے تھے ۔ اعراف والے غریب جنتی مسلمانوں کی طرف اشارہ کر کے مشرکوں سے کہیں
گے کہ کیا یہی وہ غریب مسلمان ہیں جنہیں تم دنیا میں حقیر سمجھتے تھے اور جن کی غریبی
فقیری دیکھ کر تم قسمیں کھا تے تھے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان پر رحمت نہیں فرمائے
گا، اب خود دیکھ لو کہ وہ جنت کے دائمی عیش و راحت میں کس عزت و احترام کے ساتھ ہیں
اور تم کس بڑی مصیبت میں مبتلا ہو۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ
تعالیٰ ہمیں انبیاء علیہم السلام اور تمام بزرگان دین کے نقشِ قدم پر چلنے اور
اپنے خوف سے ڈرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبین صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم
Dawateislami