ضمیر احمد رضا عطاری (دورہ حدیث شریف مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ،پاکستان)
خوف اور غم کا احساس انسان میں
فطرتاً موجود ہے۔ وہ کبھی مستقبل کے اندیشوں سے لرزتا ہے، کبھی ماضی کے نقصانات پر
غمگین ہوتا ہے۔ خصوصاً ایک بندۂ مومن کے دل میں آخرت کا خوف، قبر کی تنہائی، اس کی
وحشتوں اور حساب کتاب کا تصور دل کو کانپنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ لیکن قرآنِ حکیم،
جو دلوں کا سکون ہے، کچھ ایسے خوش نصیب بندوں کا ذکر کرتا ہے
جنہیں اللہ پاک نے دنیا و آخرت میں خوف و غم سے آزادی کی بشارت دی ہے۔ آئیے قرآن
مجید کی اُن آیات کا جائزہ لیتے ہیں جن میں اللہ پاک نے اپنے پیاروں کے لیے بروز
قیامت خوف و غم سے نجات ، امن و سکون اور راحتِ قلبی کی
ضمانت دی ہے۔
قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اللہ پاک نے اپنے
نیک بندوں کو یہ خوشخبری دی ہے کہ اگر وہ اللہ کی اطاعت اور ایمان کے ساتھ زندگی
گزاریں تو ان پر نہ کوئی خوف ہوگا، نہ وہ غمگین ہوں گے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ
ہے: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ
اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ (۶۳) ترجمہ کنز الایمان: سن لو بےشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے
نہ کچھ غم۔ وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری
کرتے ہیں۔(پ11، یونس:62، 63)
یہ آیت انسانی دل کو ایک عجیب سی
طمانیت عطا فرماتی ہے۔ اولیائے کرام جن کا تعلق دنیاوی اسباب سے زیادہ ربِ کائنات
سے ہوتا ہے ، جو ایمان و تقویٰ کے جامع ہوتے ہیں، وہ دنیا کے تمام ہنگاموں اور ہر
طرح کے اضطراب سے بھی سکون میں رہتے ہیں۔ اور اُخروی مصائب وآلام سے بھی بے خطر
رہتے ہیں ۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ
بِظُلْمٍ اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠(۸۲) ترجمۂ کنز الایمان: وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں
کسی ناحق کی آمیزش نہ کی انہیں کے لیے امان ہے اور وہی راہ پر ہیں۔(پ7، الانعام:
82)
ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے: فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ
فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنز الایمان: پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی
ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم۔ (پ1 ، البقرۃ:38
)
اللہ پاک کی عطا کردہ ہدایت کے
پیرو کاروں کے لیے کسی قسم کا کوئی خوف نہیں ہے اور نہ ہی وہ آخرت میں غمگین ہوں
گے یعنی ایسوں کو دنیا اور آخرت کے تمام غموں اور پریشانیوں سے نجات مل جائے گی۔
سورہ حم السجدہ میں عقیدہ توحید
کے اقرار اور اس پر استقامت رکھنے والوں کے بارے میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا
رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ
اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ
تُوْعَدُوْنَ(۳۰) ترجمۂ کنز الایمان: بےشک وہ
جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے اُن پر فرشتے اُترتے ہیں کہ نہ
ڈرو اور نہ غم کرو اور خوش ہو اس جنت پر جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا ۔(پ24، حٰمٓ
السجدۃ: 30)
قرآن کریم کی ان آیات کا اگر
بنظرِ عمیق مطالعہ کیا جائے تو یہ عقدہ کھلتا ہے کہ خالص ایمان جس کے ساتھ شرک کی
آمیزش نہ ہو ، تقوی ، اللہ پاک کے عطا کردہ احکامات کی پیروی اور ثابت قدمی، یہ
صفات جس شخص کے اندر ہوتی ہیں اللہ پاک اس کو دنیوی اور اخروی ہر طرح کے خوف و غم
سے امن عطا فرما دیتا ہے۔ اللہ کرے کہ ہم بھی ان صفات کے جامع بننے میں کامیاب ہو
جائیں ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
Dawateislami