قرآن پاک کے اندر ہر قسم کا بیان ہے اور یہ اپنے ماننے والوں کو ہر لحاظ سے رہنمائی مہیا کرتا ہے اور قرآن پاک کا یہ خاصہ ہے کہ قرآن پاک حق سچ اور واضح بات کو بیان کرتا ہے کہیں پر تو قرآن پاک کفار و مشرکین کے لیے، منافقین کے لیے، برے لوگوں کے لیے وعید یں اور سزائیں سناتا ہے اور کہیں پر قرآن پاک اپنے ماننے والوں کے لیے، اللہ تعالی پر ایمان لانے والوں کے لیے ،تمام نبیوں پر ایمان لانے والوں کے لیے، حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو خاتم النبیین ماننے والوں کے لیے خوشخبری اور ہدایت کی بشارت سناتا ہے اور اسی طرح جو اللہ تعالی کے احکامات پر عمل کرے اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی سنتوں پر عمل کرے اور تمام انبیاء کرام پر ایمان لائے تو قرآن پاک اس کو خوف و غم سے امن کی بشارت دیتا ہے، اسی طرح قرآن پاک کے اندر اللہ تعالی نے متعدد مقامات پر ایسی آیات کہ جن کے اندر اللہ تعالی نے مسلمانوں کو مومنین کو پریشانیوں مصیبتوں شیطان کے وسوں مشرکین اور کفار اور منافقین کی چالوں سے اللہ تعالی نے مومنین کو امن کی خوشخبری سنائی ہے۔ آئیے ہم بھی قرآن پاک کی ان آیات جن میں اللہ تعالی نے مومنین کو خوف و غم سے امن کی خوشخبری سنائی ہے ان میں سے چار آیات کو ملاحظہ کرتے ہیں:

(1) جو ایمان لائے اور اپنی اصلاح کر لے: اللہ تعالی اپنے رسولوں کا خاصہ بیان کرتے ہوئے فرما رہا ہے کہ رسولوں کو اس لیے نہیں بھیجا گیا کہ کفار ان سے اپنی من مرضی کے معجزات کا مطالبہ کریں بلکہ لوگوں کو امن کی طرف بلانے کے لیے بھیجا جیسا کہ اللہ تعالی نے قرآن پاک کی اس آیت میں فرمایا: وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَۚ-فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۴۸) وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ(۴۹) ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نہیں بھیجتے رسولوں کو مگر خوشی اور ڈر سناتے تو جو ایمان لائے اور سنورے ان کو نہ کچھ اندیشہ نہ کچھ غم۔ اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں انہیں عذاب پہنچے گا بدلہ ان کی بے حکمی کا۔ (پ7، الانعام:48، 49)

(2) ان کا اجر ان کے رب کے پاس : اللہ تبارک و تعالی نے ایمان والوں کو اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کرنے کا خواہ پوشیدہ ہو یا اعلانیہ ہو یا دن میں ہو یا رات میں ہو اس کا اجر و ثواب کا بیان اور خوف و غم سے نجات کی بشارت سنائی ہے لہذا اللہ تعالی کا فرمان ہے: اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴) ترجمۂ کنزُالایمان: وہ جو اپنے مال خیرات کرتے ہیں رات میں اور دن میں چھپے او رظاہر ان کے لیے ان کا نیگ(اجر) ہے ان کے رب کے پاس ان کو نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔ (پ3، البقرۃ: 274)

(3)تم نہ ڈرو اور نہ غم کرو: اللہ تعالی نے فرمایا کہ جو بندہ یہ کہے کہ اللہ وحدہ لا شریک ہے اور اس پر ثابت قدم بھی رہا ، استقامت بھی اختیار کی اللہ تعالی ان پر فرشتے نازل فرماتا ہے جو ان کو جنت کی بشارت دیتے ہیں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ(۳۰) ترجمۂ کنز الایمان: بےشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے اُن پر فرشتے اُترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور خوش ہو اس جنت پر جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا ۔(پ24، حٰمٓ السجدۃ: 30)

(4)تم سب جنت سے اتر جاؤ: قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠(۳۹) ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے فرمایا تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم۔ اور وہ جو کفر کریں اور میری آیتیں جھٹلائیں گے وہ دوزخ والے ہیں ان کو ہمیشہ اس میں رہنا۔ (پ1 ، البقرۃ:38 ،39)

تفسیر صراط الجنان:فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ:توجو میری ہدایت کی پیروی کریں: ہدایت ِ الہٰی کے پیروکاروں کیلئے بشارت ہے کہ انہیں نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے بلکہ بے غم جنت میں داخل ہوں گے۔ یہاں جمع کے صیغے کے ساتھ سب کو اترنے کا فرمایا ، اس میں حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضرت حواء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے ساتھ ان کی اولاد بھی مراد ہے جوابھی حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پشت میں تھی۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ان آیات میں ہم نے جو کچھ پڑھا اور جو کچھ سیکھا اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان آیات کے اندر جو احکامات بیان ہوئے جن پر عمل کرنے کے بارے میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا اس پر ہمیں اللہ تعالی استقامت عطا فرمائے اور سیکھ کر دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلّم