محمد یوسف قریشی (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ
فیضانِ بغداد کورنگی کراچی ،پاکستان)
تمام حمد اس ربّ العزت کے لیے
ہے جو نیک اعمال کرنے والوں کو اس دن امن دے گا جس دن لوگ اپنے ہی پسینوں میں ڈوب
رہے ہوں گے اور دوسری طرف وہ امن والے ہوں گے جن کواس دن بھی کوئی خوف و غم نہیں
ہوگا۔قرآن میں بارہا یہ الفاظ ہمیں سکون دیتے ہیں: لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ ایمان والوں کے لیے یہی وہ
مقامِ عزت و راحت ہے جس کی تمنا ہر دل میں ہونی چاہیے۔
ہدایتِ الٰہی کے پیروکار: رب العزت قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا
خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنز الایمان: تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی اندیشہ
نہ کچھ غم۔ (پ1 ، البقرۃ:38)
ہدایت ِ الہٰی کے پیروکاروں کیلئے
بشارت ہے کہ انہیں نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں
گے۔
پرہیز گاری اختیار کرنے والے: اللہ ربّ العزت فرماتا ہے: یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ
رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْۙ-فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ
فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۵) ترجمۂِ کنزالایمان: اے آدم کی اولاد اگر تمہارے پاس تم میں
کے رسول آئیں میری آیتیں پڑھتے تو جو پرہیزگاری کرے اور سنورے تو اس پر نہ کچھ خوف
اور نہ کچھ غم۔(پ8، الاعراف:35)
جو پرہیزگاری اور عبادت و اطاعت
کا راستہ اختیار کرے گا تو قیامت کے دن اس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب کا نہ کچھ
خوف ہوگا اور نہ وہ دنیا میں کچھ چھوڑ دینے کی وجہ سے غمگین ہوگا بلکہ قیامت کے دن
حسب ِ مرتبہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل و کرم سے بہرہ وَر ہوں گے۔
خیرات کرنے والے: رب العالمین ان لوگوں کے بارے میں فرماتا ہے: اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ
اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ
اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴)
ترجمۂ کنزُالایمان: وہ جو اپنے مال خیرات کرتے ہیں
رات میں اور دن میں چھپے او رظاہر ان کے لیے ان کا نیگ(اجر) ہے ان کے رب کے پاس ان
کو نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔ (پ3، البقرۃ: 274)
آیت ِ کریمہ میں ان سب خرچ کرنے
والوں کیلئے بارگاہِ الٰہی سے اجرو ثواب اور قیامت کے دن غم و خوف سے نجات کی
بشارت ہے۔
اولیاء اللہ: ربّ کریم اپنے اولیا سے مخاطب ہو کر ارشاد فرماتا ہے: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ
اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) ترجمہ کنز الایمان: سن لو بےشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے
نہ کچھ غم۔ (پ11، یونس:62)
قیامت کے دن ان پر کوئی خوف ہو
گا اور نہ اس دن یہ غمگین ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ولیوں کو دنیا میں ان
چیزوں سے محفوظ فرما دیا ہے جو آخرت میں خوف اور غم کا باعث بنتی ہیں۔
آج تم پر کوئی خوف نہیں: یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ
عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ(۶۸) ترجمہ کنزالایمان: ان سے فرمایا جائے گا اے میرے بندو آج
نہ تم پر خوف نہ تم کو غم ہو ۔(پ25، الزخرف:68)
آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ دینی دوستی اور اللہ
تعالیٰ کی خاطر محبت رکھنے والوں کی تعظیم اور ان کے دل خوش کرنے کے لیے ان سے
فرمایا جائے گا:’’اے میرے بندو! آج نہ تم پر خوف ہے اور نہ تم غمگین ہوگے، اور میرے
بندے وہ ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور وہ فرمانبردار تھے۔‘‘ (ابو سعود،
الزّخرف، تحت الآیۃ: ۶۸-۷۰، ۵ / ۵۵۰، ملخصاً)
میدانِ حشر میں اعلانِ امن: حشر کے میدان میں ایک مُنادی یہ
اعلان فرمائے گا: یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ
عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ(۶۸) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے میرے بندو! آج نہ تم پر خوف ہے
اور نہ تم غمگین ہوگے۔ (پارہ25، الزخرف: 68)
تو تمام اہلِ محشر اپنے سروں کو
اٹھا لیں گے۔پھر وہ مُنادی فرمائے گا: اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ(۶۹) ترجمہ کنزالعرفان: وہ جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور وہ
فرمانبردارتھے۔(پارہ25، الزخرف: 68)
یہ سن کر مسلمانوں کے علاوہ
تمام مذاہب والے اپنے سروں کو جھکا لیں گے۔
زندگی کے چند لمحے اگر اللہ اور
اس کے دین کے لیے گزار لیے جائیں، تو قیامت کے دن کے ہزاروں سال کی گھبراہٹ اور پریشانی
سے بچا جا سکتا ہے۔رب تعالیٰ ہمیں اپنے اُن وفادار بندوں میں جگہ عطا فرمائے جنہیں
روزِ محشر امن، سکون اور جنت کی نعمتیں دی جائیں گی۔ آمین
Dawateislami