خرم شہزاد (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور ،پاکستان)
عنوان کے مطابق نہیں اللہ تعالیٰ نے قیامت
کے خوف و غم سے امن کے بارے میں بہت سی آیات نازل فرمائی اور ان میں سے کچھ یہ ہیں :اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍؕ(۴۵)
اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْنَ(۴۶) ترجمہ کنزالایمان: بےشک ڈر والے باغوں اور چشموں میں ہیں ان میں داخل
ہو سلامتی کے ساتھ امان میں۔(پ 14، الحجر: 45، 46)
( تفسیر صراط الجنان)اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ:بیشک
متقی لوگ: اس سے وہ لوگ مراد ہیں جوکفر و شرک سے باز
رہے اور ایمان لائے اگرچہ گناہگار ہوں گناہگار مومنین کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی
مَشِیّت پر مَوقوف ہے وہ چاہے تو انہیں ایک مدت تک عذاب میں مبتلا کر دے، پھر اپنے
حبیب ﷺ کی شفاعت کے صدقے انہیں معاف فرما دے اور اگر چاہے تو انہیں عذاب ہی نہ دے۔
(صاوی، الحجر، تحت الآیۃ: ۴۵، ۳ / ۱۰۴۳)
اُدْخُلُوْهَا:ان میں داخل
ہو جاؤ : ایک قول یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ سے ڈرنے
والے جنت کے دروازوں پر پہنچیں گے تو ان سے کہا جائے گا اور دوسرا قول یہ ہے کہ جب
جنتی جنت میں ایک جگہ سے دوسری جنت کی طرف متوجہ ہوں گے تو فرشتوں کی زبانی ان سے
کہاجائے گا تم سلامتی اور امن و امان کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ، نہ یہاں سے
نکالے جاؤ گے نہ تمہیں یہاں موت آئے گی نہ تم پر کوئی آفت رونما ہو گی نہ یہاں کوئی
خوف اور پریشانی ہوگی۔ (روح البیان، الحجر، تحت الآیۃ: ۴۶، ۴ / ۴۷۱، مدارک، الحجر، تحت الآیۃ: ۴۶، ص۵۸۲، خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۴۶، ۳ / ۱۰۳، ملتقطاً)
مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَاۚ-وَ هُمْ مِّنْ
فَزَعٍ یَّوْمَىٕذٍ اٰمِنُوْنَ(۸۹) وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَكُبَّتْ
وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِؕ-هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۹۰)ترجمۂ کنز الایمان: جو نیکی
لائے اس کے لیے اس سے بہتر صلہ ہے اور ان کو اس دن کی گھبراہٹ سے امان ہے اور جو
بدی لائے تو اُن کے منہ اوندھائے گئے آ گ میں تمہیں کیا بدلہ ملے گا مگر اسی کا جو
کرتے تھے۔(پ20، النمل:89، 90)
تفسیر
صراط الجنان:مَنْ جَآءَ
بِالْحَسَنَةِ: جو نیکی لائے:
نیکی سے مراد کلمۂ تَوحید کی شہادت ہے بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس سے مراد عمل میں
اخلاص ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد ہر وہ نیکی ہے جو اللہ تعالیٰ کے لئے ہو آیت
کا خلاصہ یہ ہے کہ جو نیکی لائے اس کے لیے اس سے بہتر صلہ یعنی جنت اور ثواب ہے
اور وہ نیک لوگ قیامت کے دن کی اس گھبراہٹ سے امن و چین میں ہوں گے جو عذاب کے خوف
کی وجہ سے ہوگی یاد رہے کہ یہاں جس گھبراہٹ کا ذکر ہے وہ اس گھبراہٹ کے علاوہ ہے
جس کا اوپر کی آیت میں ذکر ہوا ہے۔ ( خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۸۹، ۳ / ۴۲۲، مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۸۹، ص۸۵۸، ملتقطاً)
Dawateislami