اللہ تعالیٰ نے انسان کو آزمائش کے لئے پیدا فرمایا ہے، اہل ایمان کو اپنے ایمان کی حفاظت، اللہ کے غضب سے بچاؤ، اور قیامت کے دن کی ہولناکیوں کا ڈر رہتا ہے۔ مگر قرآن مجید ہمیں یہ خوش خبری دیتا ہے کہ کچھ خوش نصیب ایسے بھی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت کے خوف و غم سے نجات کی بشارت عطا فرمائی ہے۔ یہ مضمون ان خوش نصیب بندوں اور ان کی صفات کے بیان کے بارے ہے جن پر رب کریم کی رحمت چھائی ہوتی ہے اور جو امن و اطمینان کے حقدار قرار دیے گئے ہیں۔

جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے: ایمان صرف زبانی دعویٰ کا نام نہیں، بلکہ دل سے یقین، زبان سے اقرار کا نام ہے۔ ایسے ایمان والے جو اعمال صالحہ کے ساتھ اپنے رب کی رضا کے طالب رہتے ہیں، ان کے لیے قرآن میں بشارت ہے:رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِؕ- ترجمہ کنز العرفان: وہ جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے ان کے لئے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں خوشخبری ہے ۔(پ11، یونس:63، 64)

اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ جو ایمان کے تقاضے پورے کرتے ہیں اور تقویٰ کو اپنا شعار بناتے ہیں، ان کے دلوں سے اللہ دنیا و آخرت کے خوف دور فرما دیتا ہے۔ ان کے لیے خوشخبری ہے، یعنی امن، سکون، رحمت اور جنت کی نعمتیں۔

اللہ کے ولی خوف و غم سے محفوظ: اللہ تعالیٰ کے نیک بندے، جنہیں اولیاء اللہ کہا جاتا ہے، ان کا تذکرہ کرتے ہوئے رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ11، یونس:62)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں کے لیے ایک جامع اور پرنور بشارت دی ہے۔ وہ لوگ جو اللہ کے قرب کے طلبگار ہوتے ہیں، جن کی زندگیاں اطاعتِ الٰہی سے مزین ہوتی ہیں، ان کے لیے خوف اور غم کا خاتمہ کر دیا جاتا ہے۔ قیامت کے دن جب سب کانپ رہے ہوں گے، یہ بندے مطمئن ہوں گے۔

مفسرین نے اس آیت کے بہت سے معنی بیان کئے ہیں، ان میں سے 3 معنی درج ذیل ہیں:

(1)مستقبل میں انہیں عذاب کا خوف نہ ہوگا اور نہ موت کے وقت وہ غمگین ہوں گے۔

(2) مستقبل میں کسی ناپسندیدہ چیز میں مبتلا ہونے کا خوف ہوگا اور نہ ماضی اور حال میں کسی پسندیدہ چیز کے چھوٹنے پر غمگین ہوں گے۔(البحرا لمحیط، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۳۸، ۱ / ۳۲۳۔جلالین مع صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۶۲، ۳ / ۸۸۰)

(3) قیامت کے دن ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ اس دن یہ غمگین ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ولیوں کو دنیا میں ان چیزوں سے محفوظ فرما دیا ہے کہ جو آخرت میں خوف اور غم کا باعث بنتی ہیں۔

ان تین کے علاوہ مزید اَقوال بھی تَفاسیر میں مذکور ہیں۔

جنت میں داخل ہونے والوں کی حالت: ایمان والوں کے لیے آخرت میں جنت کا وعدہ بھی ایک اطمینان کا باعث ہے۔ وہاں داخلے کے وقت فرشتے انہیں کہتے ہیں: رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: -اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ(۴۹) ترجمۂ کنز العرفان: تم جنت میں داخل ہوجاؤ تم پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ تم غمگین ہو گے۔(پ8، الاعراف:49)

یہ آیت اُس وقت کی تصویر پیش کرتی ہے جب نیک بندے جنت میں داخل ہوں گے۔ ان پر ہر طرح کے دنیاوی و اخروی اندیشے ختم ہو چکے ہوں گے۔ نہ ماضی کا غم، نہ مستقبل کا خوف، بس رب کی رضا اور جنت کی نعمتیں۔

توکل کرنے والوں کے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے: قرآن میں بارہا اللہ پر بھروسہ کرنے والے بندوں کو تسلی دی گئی ہے، رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ(۹۰) ترجمۂ کنزالایمان: بےشک جو پرہیزگاری اور صبر کرے تو اللہ نیکوں کا نیگ(اَجر) ضائع نہیں کرتا۔ (پ13، یوسف: 90)

یہ پیغام حضرت سیدنا یوسف علیہ السلام کے قصہ میں دیا گیا۔ اہلِ ایمان جو تقویٰ اور صبر کے راستے پر چلتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے لیے دنیا و آخرت میں عزت، کامیابی اور خوف و غم سے نجات عطا فرماتا ہے۔

ایمان، تقویٰ، صبر، نیکی، اللہ پر بھروسہ اور صالح عمل ایسے اوصاف ہیں جن سے بندہ نہ صرف دنیا میں سکون پاتا ہے بلکہ آخرت میں بھی جنت کا حق دار بنتا ہے۔ قرآن مجید کی ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ خوف و غم سے بچاؤ کا راستہ اللہ کے دین کو اختیار کرنا، اس کی رضا کو مقدم رکھنا، اور مسلسل نیکی کی راہ پر گامزن رہنا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان خوش نصیب بندوں میں شامل فرمائے جن پر نہ دنیا میں خوف ہوتا ہے نہ آخرت میں غم۔ آمین