ہر طبقہ کا انسان اپنے آپ کو دنیا و آخرت میں قبر سے قیامت تک کی ہولناکیوں سے وحشتوں سے اور موت کے غم سے اپنے آپ کو امن دلا سکتا ہے ۔ اپنے لئے دائمی امن کی راہ ہموار کر سکتا ہے ۔ آئیے قرآن مجید فرقان حمید کی روشنی میں جانتے کہ کن اوصاف ،خوبیوں ، کن راستوں پر چل کر ، کن اعمال کو بجا لا کر انسان قیامت کے خوف اور غم سے امن حاصل کر سکتا ہے جانتے ہیں:

(1) ایمان لانے والے اور اپنی اصلاح کرنے والے امن میں رہیں گے: وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَۚ-فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۴۸) ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نہیں بھیجتے رسولوں کو مگر خوشی اور ڈر سناتے تو جو ایمان لائے اور سنورے ان کو نہ کچھ اندیشہ نہ کچھ غم۔ (پ7، الانعام:48)

اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں مفتی اہلسنت تفسیر صراط الجنان میں فرماتے ہیں: اس سے معلوم ہوا کہ اخروی نجات کے لئے ایمان اور نیک اعمال دونوں ضروری ہیں ،ایمان لانے کے بعد خود کونیک اعمال سے بے نیاز سمجھنے والے اور ایمان قبول کئے بغیر اچھے اعمال کو اپنی نجات کے لئے کافی سمجھنے والے دونوں احمقوں کی دنیاکے باسی ہیں البتہ ان دونوں صورتوں میں صاحب ِ ایمان قطعاً بے ایمان سے بہتر ہے۔

(2) ہمارا رب اللہ ہے اس پر استقامت قائم کرنے والے: قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ بیشک وہ لوگ جنہوں نے کہا:ہمارا رب اللہ ہے ،پھر وہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور سب سے آخری نبی محمد عربی ﷺ کی شریعت پر آخری دم تک ثابت قدم رہے، توقیامت میں نہ ان پر خوف ہے اور نہ وہ موت کے وقت غمگین ہوں گے اور ان اوصاف کے حامل افراد جنت والے ہیں فرمایا: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳) ترجمہ کنزالایمان:بیشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے نہ ان پر خوف نہ ان کو غم۔ (پ26، الاحقاف:13)

(3) ہدایت کی پیروی کرنے والے: فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنز الایمان: تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم۔ (پ1 ، البقرۃ:38)

(4) اللہ کے ولیوں کو نہ کوئی خوف ہو گا نہ غم: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) ترجمہ کنز الایمان: سن لو بےشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے نہ کچھ غم۔ (پ11، یونس:62)

اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں آتا ہے کہ مفسرین نے اس آیت کے بہت سے معنی بیان کئے ہیں ، ان میں سے چند ایک معنی درج ذیل ہیں:

(1) مستقبل میں انہیں عذاب کا خوف نہ ہو گا اور نہ موت کے وقت وہ غمگین ہوں گے۔

(2) مستقبل میں کسی ناپسندیدہ چیز میں مبتلاہونے کا خوف ہوگا اور نہ ماضی اور حال میں کسی پسندیدہ چیز کے چھوٹنے پر غمگین ہوں گے۔

(5) رب تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنے والے امن میں ہوں گے: اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴) ترجمۂ کنزُالایمان: وہ جو اپنے مال خیرات کرتے ہیں رات میں اور دن میں چھپے او رظاہر ان کے لیے ان کا نیگ(اجر) ہے ان کے رب کے پاس ان کو نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔ (پ3، البقرۃ: 274)

اِن آیات کریمہ کے مطالعہ سے معلوم ہوا کہ کن کن اوصاف کے حامل لوگوں کو خوف اور غم نہیں ہو گا وہیں اللہ عزوجل کے مقرب بندوں کی شان و عظمت کا بھی معلوم ہوا ۔ ان تمام تر اوصاف میں جو بیان کیا گیا کہ ایمان والا ہونا ، ہدایت یافتہ ہونا پھر اس کی پیروی کرنا ، رب تعالیٰ کی واحدانیت کا اقرار کرنا اس پر قائم رہنا دیگر شرعی احکامات کو بجا لانا ، مزید فرمایا استقامت کے ساتھ قائم رہنے والے اور ہر وقت اپنی اصلاح کے لیے کوشاں رہنے والے ، راہ خدا میں اعلانیہ پوشیدہ خرچ کرنے والے یہی وہ لوگ ہیں جنہیں دنیا و آخرت میں امن ہی امن ہے ۔

ہمیں بھی چاہیے کہ ان تمام تر اوصاف کو خوبیوں کو اپنائیں اور ان کی صحبت اختیار کریں جو اپنی اصلاح کے لیے کوشاں رہتے ہیں ۔ قرآن کریم کی آسان تفسیر بنام تفسیر صراط الجنان اس کو مطالعہ میں لائیں کہ قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھنے سے بھی بندہ اصلاح کی طرف مائل رہتا ہے اور علم کا خزانہ حاصل ہو گا تبھی عمل کی طرف بھی آئے گا ۔

دعا ہے کہ اللہ عزوجل ہمیں ان میں شامل فرمائے جو دنیا و آخرت میں ہر لحاظ سے خوف اور غم سے امن میں رہیں گے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ