حافظ محمد ہارون (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ
گرین ٹاؤن ، ٹاؤن شپ لاہور ،پاکستان)
انسان کی فطرت میں خوف اور غم جیسے
جذبات شامل ہیں کبھی ماضی کے غم ستاتے ہیں تو کبھی مستقبل کا خوف پریشان کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بارہا اپنے مومن
بندوں کو تسلی دی ہے کہ اگر وہ ایمان اور تقویٰ اختیار کریں تو اللہ انہیں روز
قیامت خوف اور غم دونوں سے نجات دے گا۔ خوف اور غم کا علاج، ایمان، عملِ صالح، توکل اور
اللہ کی یاد میں پوشیدہ ہے آیئے اس کے متعلق چند آیات پڑھیے:
(1) قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا
جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ
فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ
كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا
خٰلِدُوْنَ۠(۳۹) ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے فرمایا
تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری
ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم اور وہ جو کفر کریں اور میری آیتیں
جھٹلائیں گے وہ دوزخ والے ہیں ان کو ہمیشہ اس میں رہنا۔ (پ1 ، البقرۃ:38،39)
(2) اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ
لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ
مُّهْتَدُوْنَ۠(۸۲) ترجمۂ کنز الایمان: وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں
کسی ناحق کی آمیزش نہ کی انہیں کے لیے امان ہے اور وہی راہ پر ہیں۔(پ7، الانعام:
82)
(3) اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا
تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ
اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ(۳۰) ترجمہ کنز الایمان:بے شک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر
قائم رہے اُن پر فرشتے اترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور خوش ہو اس جنت پر جس
کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا۔ (پ 24، حٰمٓ السجدۃ:30)
Dawateislami