عبدالرحمن مدنی عطاری (درجہ تخصص فی اللغۃ
العربیۃ جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کاہنہ نو لاہور ،پاکستان)
اللہ تعالیٰ
نے قرآن مجید کو ہدایت ، تسلی، سکون اور امن کا سرچشمہ بھی بنایا ہے۔ یہ دلوں کی
بیماریوں کا علاج، اور اہلِ ایمان کے لیے نور ورحمت ہے۔ قرآن پاک کی بہت سی آیات ایسی ہیں جو اہلِ
ایمان کو خوش خبری دیتی ہیں کہ اگر وہ ایمان اور تقویٰ پر قائم رہیں تو اللہ
تعالیٰ انہیں دنیا وآخرت کے خوف اور غم سے نجات دے گا۔ قرآن مجید نے متعدد مقامات
پر خوف وغم سے امن کا ذکر کیا ہے۔ آئیے چند آیات کو ترجمہ اور مختصر وضاحت کے ساتھ
پڑھتے
ہیں:
امن کا وعدہ کن
لوگوں کے لیے؟: ارشاد باری
تعالیٰ ہے: اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ
لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ
مُّهْتَدُوْنَ۠(۸۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ جو ایمان لائے
اور اپنے ایمان میں شرک کو نہ ملایا تو انہی کے لیے امان ہے اوریہی ہدایت یافتہ ہیں۔
(پ7، الانعام: 82)
یہ آیت واضح
کرتی ہے کہ ایمان خالص ہونا چاہیے، کسی قسم کا شرک یا نافرمانی اسے آلودہ نہ کرے،
تب ہی اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کے دلوں میں امن ہو گا۔
تفسیر صراط
الجنان میں ہے کہ اس آیت میں ایمان سے مراد ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ کو
ماننا اور ظلم سے مراد شرک ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے
ہیں ’’ جب یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی توصحابۂ کرام علیھم الرضوان بہت
پریشان ہوئے اور انہوں نے رسولُ اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کی: ہم میں
سے ایسا کون ہے جو اپنی جان پر ظلم نہیں کرتا۔ رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد
فرمایا:’’اس سے یہ مراد
نہیں بلکہ اس سے مراد شرک ہے۔ کیا تم نے وہ بات نہیں سنی جو حضرت لقمان نے اپنے بیٹے
کو نصیحت کرتے ہوئے کہی کہ ’’ اے میرے بیٹے !اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کسی کو شریک نہ
کرنا، بیشک شرک بڑا ظلم ہے ۔ (بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب قول اللہ
تعالی: ولقد آتینا لقمان الحکمۃ۔۔۔ الخ، ۲ / ۴۵۱، الحدیث: ۳۴۲۹)
ایمان اور
تقویٰ، امن کی کنجی:
قرآن مجید نے واضح طور پر فرمایا کہ ایمان اور تقویٰ اختیار کرنے والے ہی حقیقی
امن اور ہدایت کے مستحق ہیں،ارشاد باری تعالیٰ ہے: اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاۙ-یُخْرِجُهُمْ مِّنَ
الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ۬ؕ- ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اللہ مسلمانوں کا والی ہے انہیں اندھیروں سے نور کی طرف نکالتا
ہے۔(پ3، البقرۃ:257)
یہ آیت بتاتی
ہے کہ جو لوگ ایمان لاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی سرپرستی فرماتا ہے اور انہیں خوف
و غم کے اندھیروں سے نکال کر امن اور اطمینان کی روشنی میں داخل کرتا ہے۔
اولیاء اللہ کے
لیے بشارت: ارشاد باری
تعالیٰ ہے: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ
اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا
اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے۔(پ11، یونس:62، 63)
اس آیت میں دو
صفات والے لوگوں کے لیے خوشخبری ہے: ایمان اور تقویٰ۔ اور اللہ کے
ولیوں پر کسی قسم کا خوف یا غم نہیں۔
قیامت کے دن کی
سلامتی: قرآن کریم میں
بارہا قیامت کا ذکر آیا ہے اور مومنین کے لیے اس دن کے خوف سے نجات کی بشارت بھی
دی گئی ہے،ارشاد باری تعالیٰ ہے: وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍ مُّسْفِرَةٌۙ(۳۸) ضَاحِكَةٌ
مُّسْتَبْشِرَةٌۚ(۳۹) ترجمۂ کنزالعرفان: بہت سے چہرے
اس دن روشن ہوں گے۔ہنستے ہوئے خوشیاں مناتے ہوں گے ۔ (پ30، عبس:38، 39)
یہ آیات اس
حقیقت کو بیان کرتی ہیں کہ ایمان والوں کے چہرے قیامت کے دن پرنور ہوں گے، جبکہ
گناہ گاروں کے چہرے سیاہ اور خوف زدہ۔
Dawateislami