(1) ایمان اور تقویٰ کا نتیجہ: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ
وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک
ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ11، یونس:62)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور تقویٰ
اختیار کرتے ہیں، اللہ انہیں دنیا و آخرت میں خوف اور غم سے محفوظ رکھتا ہے۔
(2) ہدایت پر چلنے والوں کا امن:
قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ-
فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ
عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنزالعرفان: ہم نے فرمایا: تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر
تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے انہیں
نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(پ1 ، البقرۃ:38)
یہ اصول قیامت تک کے لیے ہے کہ اللہ کی ہدایت پر چلنے
والا بروز قیامت سکون اور امن کا مستحق ہو گا۔
Dawateislami