خوف مطلب ڈر اور غم مطلب پریشانی، قرآن مجید میں کئی مقامات پر خوف و غم کے بارے میں آیات ہیں ، یہ آیات اولیاء کرام نیک اور متقی لوگوں کے بارے میں آئی ہے کہ وہ قیامت کے دن نہ خوف میں ہوں گے اور نہ وہ غمگین ہوں گے کیونکہ وہ دنیا میں اللہ تعالی سے ڈرتے تھے اور اس کے عذاب سے بھی ڈرتے تھے اور ہمیشہ آخرت کی فکر میں رہتے تھے ۔ آئیے آج ہم خوف و غم کے متعلق قرآن مجید میں پڑھتے ہیں:

ایمان والوں کے لیے بشارت: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳) اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۴) ترجمہ کنزالایمان:بیشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے نہ ان پر خوف نہ ان کو غم۔ وہ جنت والے ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے ان کے اعمال کا انعام۔ (پ26، الاحقاف:13، 14)

خیرات کرنے والوں کا اجر: اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴) ترجمۂ کنزُالایمان: وہ جو اپنے مال خیرات کرتے ہیں رات میں اور دن میں چھپے او رظاہر ان کے لیے ان کا نیگ(اجر) ہے ان کے رب کے پاس ان کو نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔ (پ3، البقرۃ: 274)

مذکور آیات میں اولیاء کرام نیک اور متقی لوگوں کی شان بیان ہوئی ہے کہ وہ کس طرح اللہ تعالی سے ڈرتے ہیں اور اس کی راہ میں خیرات دیتے ہیں، اللہ تعالی نے انہیں قیامت کے خوف سے بری کر دیا اور ان سے جنت کا وعدہ فرمایا ، جس کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔

ہمیں بھی چاہیے کہ اللہ تعالی کے عذاب سے ڈریں اس کی نافرمانیوں والے کام سے ڈریں تاکہ ہم بھی نیک لوگوں میں شامل ہو جائیں اور قیامت کے دن ہمیں خوف اور غم نہیں ہوں گے۔ اللہ تعالی ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔