محمد آصف رضا مدنی ( مدرس جامعۃالمدینہ
فیضان ر ضا کاہنہ بازار لاہور ،پاکستان)
انسان کی فطرت میں خوف اور غم
دونوں کا احساس رکھا گیا ہے۔ خوف اُس نقصان یا انجام کا ہوتا ہے جو آگے پیش آنے
والا ہے، اور غم اُس محرومی یا تکلیف کا جو گزر چکی ہو۔ لیکن قرآن پاک میں اللہ
تعالیٰ نے اہلِ ایمان اور متقی بندوں کو یہ خوشخبری سنائی ہے کہ اُن کے لیے قیامت
کے دن نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ غم۔ یہ انعام صرف اُن کے لیے ہے جو ایمان اور تقویٰ
پر ثابت قدم رہیں۔
ایمان اور استقامت کا انعام: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا
رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳)
ترجمہ کنزالایمان:بیشک وہ جنہوں
نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے نہ ان پر خوف نہ ان کو غم ۔ (پ26، الاحقاف:13)
اللہ کے دوستوں کے لیے امن: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ
اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا
اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ11، یونس:62)
قیامت کے دن نیکوکاروں کا حال: وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍ
مُّسْفِرَةٌۙ(۳۸) ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌۚ(۳۹) ترجمۂ کنزالایمان: کتنے منہ اس دن روشن ہوں گے ہنستے خوشیاں مناتے ۔(پ30،
عبس:38، 39)
جنت والوں کا امن: لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ
الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِؕ- ترجمہ کنز العرفان:ان کے لئے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں خوشخبری
ہے ۔(پ11، یونس:64)
قیامت کے دن جنت میں داخلے کی
بشارت: اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا
خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ(۴۹) ترجمۂ کنز العرفان: تم جنت میں داخل ہوجاؤ تم پر نہ کوئی
خوف ہے اور نہ تم غمگین ہو گے۔(پ8، الاعراف:49)
تفسیر صراط الجنان: یہ جنتیوں
کو قیامت کے دن ملنے والا پہلا کلام ہوگا، کہ تم ہمیشہ کے لیے امن میں ہو، نہ کوئی
ڈر باقی رہا نہ غم۔
Dawateislami