محمد شاہ زیب سلیم عطاری ( درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم
سادھوکی لاہور ،پاکستان)
غم کی تعریف:غم ایک ایسا داخلی احساس ہے جو
دکھ افسوس یا صدمے کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے اور انسان کو جذباتی طور پر متاثر
کرتا ہے۔
خوف کی تعریف: خوف ایک ایسی ذہنی اور جذباتی کیفیت
ہے جو کسی حقیقی یا خیالی خطرے نقصان یا اذیت کے اندیشے سے پیدا ہوتی ہے۔
آئیے کچھ ایسی آیات ملاحظہ ہوں
جن میں روز قیامت کے خوف و غم سے امن کو بیان کیا گیا ہے:
(1) اللہ عزوجل کو ماننا: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا
رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳)
اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۴)
ترجمہ کنزالایمان:بیشک وہ جنہوں
نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے نہ ان پر خوف نہ ان کو غم۔ وہ جنت والے
ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے ان کے اعمال کا انعام۔ (پ26، الاحقاف:13، 14)
(2) اللہ کے ولیوں پر نہ خوف اور
نہ غم: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ
اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) ترجمہ کنز الایمان: سن لو بےشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے
نہ کچھ غم۔ وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری
کرتے ہیں۔(پ11، یونس:62، 63)
تفسیر: لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ:اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہوگا اور نہ
وہ غمگین ہوں گے: مفسرین نے اس آیت کے بہت سے معنی بیان
کئے ہیں ، ان میں سے 3معنی درج ذیل ہیں:
(1)مستقبل میں انہیں عذاب کا
خوف نہ ہو گا اور نہ موت کے وقت وہ غمگین ہوں گے۔
(2) مستقبل میں کسی ناپسندیدہ چیز
میں مبتلاہونے کا خوف ہوگا اور نہ ماضی اور حال میں کسی پسندیدہ چیز کے چھوٹنے پر
غمگین ہوں گے۔
(3) قیامت کے دن ان پر کوئی خوف
ہو گا اور نہ اس دن یہ غمگین ہوں گے کیونکہ اللہتعالیٰ نے اپنے ولیوں کو دنیا میں
ان چیزوں سے محفوظ فرما دیا ہے کہ جو آخرت میں خوف اور غم کا باعث بنتی ہیں۔ (تفسیر
صراط الجنان ،پارہ 11،سورۃیونس،آیت62،63)
(3)ایمان والوں کو نہ خوف اور نہ
غم: وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ
اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَۚ-فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ
عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۴۸) وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ
الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ(۴۹) ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نہیں بھیجتے رسولوں کو مگر
خوشی اور ڈر سناتے تو جو ایمان لائے اور سنورے ان کو نہ کچھ اندیشہ نہ کچھ غم۔ اور
جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں انہیں عذاب پہنچے گا بدلہ ان کی بے حکمی کا۔ (پ7، الانعام:48،
49)
(4)نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے
والوں کا اجر: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ
اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۷۷)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک وہ
جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور نماز قائم کی اور زکٰوۃ دی اُن کا نیگ(اجروثواب)
ان کے رب کے پاس ہے اور نہ انہیں کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔(پ3، البقرۃ: 277)
(5)مال خرچ کرنے کا اجر: اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ
اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ
اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴)
ترجمۂ کنزُالایمان: وہ جو اپنے مال خیرات کرتے ہیں
رات میں اور دن میں چھپے او رظاہر ان کے لیے ان کا نیگ(اجر) ہے ان کے رب کے پاس ان
کو نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔ (پ3، البقرۃ: 274)
تفسیر :اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ: وہ لوگ جو اپنے
مال خیرات کرتے ہیں: یہاں ان لوگوں کا بیان ہے جو راہِ خدا میں خرچ کرنے کا نہایت
شوق رکھتے ہیں اور ہر حال میں یعنی دن رات، خفیہ اعلانیہ خرچ کرتے رہتے ہیں۔ یہ آیت
حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حق میں نازل ہوئی جب آپ نے راہِ
خدا میں چالیس ہزار دینار خرچ کئے تھے۔ دس ہزار رات میں اور دس ہزار دن میں اور دس
ہزار پوشیدہ اور دس ہزار ظاہر ۔(تفسیرصراط الجنان ،پارہ3،سورۃالبقرہ،آیت274)
Dawateislami