حافظ محمد حسین عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ
المدینہ فیضانِ بغداد کورنگی کراچی ،پاکستان)
قرآن مجید ، جو کہ انسان کی ہدایت
کا کامل سرچشمہ ہے، ان جذبات کو نظرانداز نہیں کرتا بلکہ نہایت حکمت و رحمت کے
ساتھ خوف و غم کا تذکرہ کر کے انسان کو صبر، ایمان، تقویٰ اور اللہ پر توکل کا پیغام
دیتا ہے۔ خوف و غم کے متعلق چند قرآنی آیات :
(1) اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا
رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳)
ترجمہ کنزالایمان:بیشک وہ جنہوں
نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے نہ ان پر خوف نہ ان کو غم۔ (پ26، الاحقاف:13)
اس آیت میں فرمایا گیا کہ بیشک
وہ لوگ جنہوں نے کہا:ہمارا رب اللہ ہے ،پھر وہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور سیّد
المرسَلین ﷺ کی شریعت پر آخری دم تک ثابت قدم رہے، توقیامت میں نہ ان پر خوف ہے
اور نہ وہ موت کے وقت غمگین ہوں گے اور ان اوصاف کے حامل افراد جنت والے ہیں اور یہ
ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور انہیں ان کے نیک اعمال کابدلہ دیا جائے گا۔
(2) قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ
مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸)
ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے فرمایا تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر
تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی
اندیشہ نہ کچھ غم۔ (پ1 ، البقرۃ:38)
ہدایتِ الہٰی کے پیروکاروں کیلئے
بشارت ہے کہ انہیں نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے
بلکہ بے غم جنت میں داخل ہوں گے۔
(3) یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ
تَحْزَنُوْنَۚ(۶۸) ترجمہ
کنزالایمان: ان سے فرمایا جائے گا اے میرے بندو آج نہ تم پر خوف نہ تم کو غم ہو۔(پ25،
الزخرف:68)
اس آیت میں فرمایا گیا کہ دینی
دوستی اور اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت رکھنے والوں کی تعظیم اور ان کے دل خوش کرنے
کے لئے ان سے فرمایا جائے گا اے میرے بندو! آج نہ تم پر خوف ہے اور نہ تم غمگین
ہوگے اور میرے بندے وہ ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور وہ فرمانبردارتھے،ان
سے کہا جائے گا کہ تم اور تمہاری مومنہ بیویاں جنت میں داخل ہوجائیں اورجنت میں تمہارا
اکرام ہوگا، نعمتیں دی جائیں گی اورایسے خوش کئے جاؤ گے کہ تمہارے چہروں پر خوشی
کے آثار نمودار ہوں گے۔
قرآن کریم کا پیغام خوف و غم کے حسین توازن پر
قائم ہے۔ جہاں اللہ کا خوف انسان کو گناہوں سے روکتا ہے، وہیں اس کی رحمت پر یقین
اسے امید اور سکون عطا کرتا ہے۔ بندہ جب تقویٰ اختیار کرتا ہے تو خوف اس کے لیے بیداری
کا ذریعہ بنتا ہے، اور جب وہ اللہ کے وعدوں پر ایمان لاتا ہے تو دل کو اطمینان نصیب
ہوتا ہے۔ یہ توازن ہی دراصل مؤمن کی اصل روحانی غذا ہے۔ پس ضرورت اس امر کی ہے کہ
ہم قرآن کی روشنی میں خوف اور امن دونوں کو اپنے قلب و عمل کا حصہ بنائیں تاکہ نہ
تو ناامیدی کا شکار ہوں، اور نہ ہی غفلت کا۔ یہی راہ ہدایت ہے، اور یہی ہمیں اللہ
کی رضا اور نجات تک پہنچا سکتی ہے۔
Dawateislami