بلال اسلم عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی
لاہور ،پاکستان)
خوف مستقبل کے نقصان یا خطرے کا
اور غم ماضی کے دکھ یا محرومی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ قرآنِ حکیم ان دونوں منفی جذبات
کا علاج، ایمان، عملِ صالح، اللہ پر توکل اور استقامت کی صورت میں پیش کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو یقین
دلاتا ہے کہ جو ایمان لاتے اور نیک عمل کرتے ہیں، ان کے لیے بروز قیامت نہ خوف ہے
نہ غم۔
(1) نیک عمل: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ النَّصٰرٰى وَ الصّٰبِـٕیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ
الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ
لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۶۲) ترجمۂ کنز الایمان: بےشک ایمان والے نیز یہودیوں اور
نصرانیوں اور ستارہ پرستوں میں سے وہ کہ سچے دل سے اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائیں
اور نیک کام کریں ان کاثواب ان کے رب کے پاس ہے اور نہ انہیں کچھ اندیشہ ہو اور نہ
کچھ غم۔ (پ1، البقرة: 62)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ ایمان
اور نیک عمل انسان کو خوف اور غم سے نجات دلاتے ہیں۔ یہ امن کا وعدہ اللہ کی طرف
سے ہے، جو ہر اس شخص کو شامل کرتا ہے جو ایمان و عمل صالح پر قائم ہو۔
(2) اللہ کے دوست:اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ
اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) ترجمہ کنز الایمان: سن لو بےشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے
نہ کچھ غم۔ وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری
کرتے ہیں۔(پ11، یونس:62، 63)
اللہ کے دوست (اولیاء اللہ) وہ
ہیں جو ایمان اور تقویٰ میں پختہ ہیں۔ ایسے لوگ دنیا و آخرت کے ہر خوف اور غم سے
محفوظ رہتے ہیں کیونکہ اللہ کی حفاظت اور رحمت ان کا سہارا ہوتی ہے۔
(3) یقین اور استقامت:وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا
وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۱۳۹) ترجمۂ کنز الایمان:اور نہ سستی
کرو اور نہ غم کھاؤ تمہیں غالب آؤ گے اگر ایمان رکھتے ہو۔(پ4، آل عمران: 139)
مومنوں کو مشکل حالات میں حوصلہ
دیا گیا ہے کہ نہ کمزور پڑو، نہ غم کرو۔ ایمان تمہیں بلند مرتبہ دیتا ہے، لہٰذا
خوف اور غم کی جگہ یقین اور استقامت پیدا کرو۔
(4) امن کی خوشخبری:اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا
رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ
اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ
كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ(۳۰) نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ
فِی الْاٰخِرَةِۚ-وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا
مَا تَدَّعُوْنَؕ(۳۱) ترجمہ کنز الایمان:بے شک وہ
جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے اُن پر فرشتے اترتے ہیں کہ نہ
ڈرو اور نہ غم کرو اور خوش ہو اس جنت پر جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا۔ہم تمہارے
دوست ہیں دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں اور تمہارے لیے ہے اس میں جو تمہارا جی
چاہے اور تمہارے لیے اس میں جو مانگو۔(پ 24، حٰمٓ السجدۃ:30، 31)
جو لوگ ایمان کے بعد استقامت
اختیار کرتے ہیں، ان پر فرشتے اتر کر خوف و غم سے امن کی خوشخبری دیتے ہیں۔
(5) ایمان لاتے اور اپنی اصلاح
کرتے ہیں:فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ
فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ (۴۸) ترجمہ کنز الایمان: تو جو ایمان لائے اور سنورے ان کو نہ
کچھ اندیشہ نہ کچھ غم۔ (پ7، الانعام:48)
جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور اپنی
اصلاح کرتے ہیں، اللہ ان کے لیے خوف اور غم کا دروازہ بند کر دیتا ہے۔ یہ امن
اصلاحِ نفس کا صلہ ہے۔
قرآنِ حکیم کے مطابق خوف اور غم
سے امن کا راز ایمان، تقویٰ، اور عمل صالح میں پوشیدہ ہے۔ یہ امن ایک دائمی کیفیت
ہے، جو اللہ کی رضا اور اس کے وعدوں پر یقین سے حاصل ہوتی ہے۔ مومن کے لیے خوف و
غم مٹ جاتا ہے ، قرآن کا پیغام یہ ہے کہ اگر انسان اللہ کو اپنا ولی اور سہارا بنا
لے تو دنیا کی مشکلات بھی سکونِ قلب کو متاثر نہیں کر سکتیں، اور آخرت تو سراسر
امن و راحت ہے۔
Dawateislami