قرآن کریم میں بارہا ایمان والوں کو اس بات کی خوشخبری دی گئی ہے کہ دنیا کی مشکلات اور آزمائشوں کے بعد ایک ایسا دن آئے گا جب ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ غم۔ یہ اعلان  اہل ایمان کے لیے سب سے بڑی تسلی اور امید ہے۔ مختلف مقامات پر یہ پیغام مختلف انداز میں بیان ہوا ہے، کبھی غریب مگر مخلص بندوں کے بارے میں، کبھی ثابت قدم رہنے والوں اور کبھی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کے لیے۔ آئیے چند ایسی آیات ملاحظہ فرمایئے:

(1) غریب مؤمنوں کی عزت اور جنت کی خوشخبری:قیامت کے دن ان غریب و کمزور مؤمنوں کو، جنہیں دنیا میں کمتر سمجھا گیا، عزت و تکریم کے ساتھ جنت میں داخل ہونے کی خوشخبری دی جائے گی، جہاں نہ کوئی خوف ہوگا نہ کوئی غم، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍؕ-اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ (۴۹)ترجمۂ کنز الایمان:کیا یہ ہیں وہ لوگ جن پر تم قسمیں کھاتے تھے کہ اللہ ان کو اپنی رحمت کچھ نہ کرے گا ان سے تو کہا گیا کہ جنت میں جاؤ نہ تم کو اندیشہ نہ کچھ غم۔(پ8، الاعراف:49)

(2) رسولوں کی بعثت کا مقصد اور ایمان والوں کا سکون:وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَۚ-فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۴۸) ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نہیں بھیجتے رسولوں کو مگر خوشی اور ڈر سناتے تو جو ایمان لائے اور سنورے ان کو نہ کچھ اندیشہ نہ کچھ غم۔(پ7، الانعام:48)

انبیا کو صرف خوشخبری اور ڈر سنانے کے لیے بھیجا گیا، جو ایمان لا کر عمل سنوار لیتے ہیں، وہ دنیا و آخرت میں خوف و غم سے محفوظ رہتے ہیں۔

(3) خرچ میں اخلاص اور قلبی سکون کی بشارت: اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًىۙ-لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۶۲)

ترجمۂ کنز الایمان: وہ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر دیے پیچھے نہ احسان رکھیں نہ تکلیف دیں ان کا نیگ (اجروثواب)ان کے رب کے پاس ہے اور انہیں نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔(پ3، البقرۃ:262)

جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کر کے احسان نہ جتلائیں اور نہ ایذا دیں، ان کا اجر اللہ کے ذمے ہے اور وہ قیامت میں ہر خوف اور غم سے آزاد ہوں گے۔

(4) ثابت قدم اہل ایمان کا انعام:اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳) اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۴) ترجمہ کنزالایمان:بیشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے نہ ان پر خوف نہ ان کو غم۔ وہ جنت والے ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے ان کے اعمال کا انعام۔ (پ26، الاحقاف:13، 14)

جو توحید اور شریعت پر ثابت قدم رہتے ہیں، ان کے لیے یہ خوشخبری ہے کہ قیامت کے دن ان پر کوئی خوف اور غم نہیں ہوگا، بلکہ وہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔

(5) قیامت کے دن اہل ایمان کی ضیافت:یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ (۶۸)اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ(۶۹) ترجمہ کنزالایمان: ان سے فرمایا جائے گا اے میرے بندو آج نہ تم پر خوف نہ تم کو غم ہو وہ جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور مسلمان تھے۔(پ25، الزخرف:68، 69)

قیامت کے دن ایمان والے اور ان کی بیویاں عزت و مسرت کے ساتھ جنت میں داخل کیے جائیں گے، جہاں ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ غم، بلکہ ہمیشہ کی راحت ہوگی۔

اللہ پاک ہمیں ان اوصاف کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین