نصیر احمد عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ
فیضان بغداد کورنگی کراچی ،پاکستان)
انسان کی کامیابی کا راز اللہ
تعالیٰ سے تعلق میں مخفی ہے اور اس تعلق کی بنیاد "خوفِ خدا" پر ہے۔ یہ
ایسا روحانی جذبہ ہے جو انسان کو گناہوں سے روکتا، نیکیوں کی طرف مائل کرتا اور دل
کو عاجزی سکھاتا ہے۔
خوف کی تعریف : خوف ایک دل کی کیفیت ہے جو
نقصان یا سزا یا دشمن کے خوف کے اندیشے سے پیدا ہوتی ہے۔ لیکن خوفِ خدا کا مطلب
صرف اللہ کے عذاب سے ڈرنا نہیں، بلکہ اس کی عظمت، قدرت اور عدل کو جان کر دل میں
ادب و احترام اور خوف کا جزبہ پیدا کرنا ہے ۔
اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے برگزیدہ
بندے ہیں جسے دنیا کا کوئی خوف و غم نہیں جو اللہ کا ہوجاتا ہے اسے اللہ کے سوا کسی
طاقت کا خوف و غم نہیں ہوتا ، جیسے اللہ تعالیٰ اپنی مقدس و لاریب کتاب میں ارشاد
فرماتا ہےسورہ یونس آیت نمبر 21 میں : اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ
اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) ترجمہ کنز الایمان: سن لو
بےشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے نہ کچھ غم۔ (پ11، یونس:62)
تفسیر صراط الجنان: وَلِیُّ
اللہ وہ ہے جو فرائض کی ادائیگی سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا قرب حاصل کرے اور اللہ
تعالیٰ کی اطاعت میں مشغول رہے اور اس کا دل اللہ تعالیٰ کے نورِ جلال کی معرفت میں
مستغرق ہو ،جب دیکھے قدرتِ الٰہی کے دلائل کو دیکھے اور جب سنے اللہ عَزَّوَجَلَّ
کی آیتیں ہی سنے اور جب بولے تو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی ثناہی کے ساتھ بولے اور
جب حرکت کرے اطاعتِ الٰہی میں حرکت کرے اور جب کوشش کرے تو اسی کام میں کوشش کرے
جو قربِ الٰہی کاذریعہ ہو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکر سے نہ تھکے اور چشمِ دل سے خدا
کے سوا غیر کو نہ دیکھے۔ یہ صفت اَولیاء کی ہے، بندہ جب اس حال پر پہنچتا ہے تو
اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کا ولی و ناصر اور معین و مددگار ہوتا ہے ۔
مزید اللہ تبارک و تعالیٰ سورہ
بقرہ آیت نمبر 38 میں ارشاد فرماتا ہے: قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ
مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸)
ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے فرمایا
تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری
ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم۔(پ1 ، البقرۃ:38)
فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ:توجو میری ہدایت کی پیروی کریں:
ہدایت ِ الہٰی کے پیروکاروں کیلئے بشارت ہے کہ انہیں نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ
کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے بلکہ بے غم جنت میں داخل ہوں گے۔
تو پتہ چلا کہ جو لوگ ایمان لاتے ہیں، نیک اعمال کرتے ہیں، اللہ پر
توکل رکھتے ہیں اور اس کی راہ میں صبر سے کام لیتے ہیں، ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے
خوف اور غم سے محفوظ رہنے کی ضمانت دی ہے ، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم ایمان و تقویٰ
کی راہ اپنائیں، اپنے دل کو ذکرِ الٰہی سے منور کریں اور ہر حال میں اپنے رب پر
بھروسہ رکھیں، کیونکہ اصل سکون اور امن صرف اسی کے دامن میں ہے۔ قرآن ہمیں یہی درس
دیتا ہے کہ خوف و غم کا علاج اللہ کی بندگی اور اس کی رضا میں پنہاں ہے۔
Dawateislami