قرآن مجید میں قیامت کے خوف و
غم سے امن کی بشارتیں موجود ہیں، آئیے دیکھتے ہیں وہ بشاریں کن افراد کے لیے ہیں،
ملاحظہ کیجیے:
(1) جو ایمان لائے ان کو نہ کچھ
غم ہے نہ اندیشہ: وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ
اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَۚ-فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ
عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۴۸) وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ
الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ(۴۹) ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نہیں
بھیجتے رسولوں کو مگر خوشی اور ڈر سناتے تو جو ایمان لائے اور سنورے ان کو نہ کچھ
اندیشہ نہ کچھ غم۔ اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں انہیں عذاب پہنچے گا بدلہ ان
کی بے حکمی کا۔ (پ7، الانعام:48، 49)
خلاصہ یہ ہے کہ ہم اپنے
رسولوں کو اس لئے نہیں بھیجتے کہ کفار ان سے اپنی من مرضی کے معجزات طلب کرتے پھریں
بلکہ اس لئے بھیجتے ہیں کہ وہ اپنی قوم کو اطاعت پر ثواب کی بشارت اور نافرمانی
کرنے پر عذاب کی وعید سنائیں تو جو اپنے کفر کو چھوڑ کر ان پر ایمان لے آیا اور ا
س نے اپنے اعمال کی اصلاح کر لی تو ان پر دنیوی یا اخروی عذاب کاکوئی خوف ہے اور
نہ وہ ثواب ضائع ہونے کے اندیشے سے غمگین ہوں گے اور جنہوں نے ہماری ان آیتوں کو
جھٹلایا جو ہمارے رسولوں نے ان کے سامنے بیان کیں تو انہیں ان کی مسلسل نافرمانی
کے سبب عذاب پہنچے گا۔ (روح البیان، الانعام، تحت الآیۃ: ۴۸، ۳ / ۳۲)
(2) جو لوگ اللہ کی راہ میں مال
خرچ کرتے ہیں: اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ
اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ
اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴) ترجمۂ کنزُالایمان: وہ جو اپنے
مال خیرات کرتے ہیں رات میں اور دن میں چھپے او رظاہر ان کے لیے ان کا نیگ(اجر) ہے
ان کے رب کے پاس ان کو نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔ (پ3، البقرۃ: 274)
آیت ِکریمہ میں رات کے خرچ کو
دن کے خرچ سے اورخفیہ خرچ کواعلانیہ خرچ سے پہلے بیان فرمایا ،اس میں اشارہ ہے کہ
چھپا کر دینا ظاہر کرکے دینے سے افضل ہے۔ ان سب خرچ کرنے والوں کیلئے بارگاہِ الٰہی
سے اجرو ثواب اور قیامت کے دن غم و خوف سے نجات کی بشارت ہے۔
(3) اللہ کے ولیوں کو نہ خوف ہے
نہ غم: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ
اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) ترجمہ کنز الایمان: سن لو بےشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے
نہ کچھ غم۔ وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری
کرتے ہیں۔(پ11، یونس:62، 63)
جب ہم قرآن کریم کے ان پیغامات
پر غور کرتے ہیں جو خوف و غم سے نجات اور امن کے وعدے کے بارے میں نازل ہوئے، تو
دل میں ایک عجیب سا سکون اُترتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ کلمات صرف ماضی کے لوگوں
کے لیے نہیں، بلکہ آج بھی ہمارے دلوں کی دھڑکنوں کو سنبھالنے کے لیے اتر ے ہیں۔
اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے
کہ ہمارے دلوں سے قیامت کا خوف و غم دور فرمائے ، ہمیں صبر، یقین اور اپنا سکون
عطا کرے، اور اُن لوگوں میں شامل فرمائے جن پر تیرا وعدہ ہے کہ بروز آخرت نہ اُن
پر خوف ہوگا نہ غم۔ آمین
Dawateislami