محمد عثمان سعید (درجۂ سادسہ جامعۃُ المدینہ شاہ عالم مارکیٹ لاہور ، پاکستان)

Mon, 22 Apr , 2024
28 days ago

حضرت الیاس علیہ السّلام حضرت ہارون علیہ السّلام کی اولاد میں سے ہیں، قراٰنِ پاک میں آپ علیہ السّلام کا نام اِلْ یاسین بھی ہے، یہ بھی الیاس کی ایک لغت ہے جیسے سِینا اور سِیْنِین دونوں طورِ سینا کے نام ہیں ایسے ہی الیاس اور اِلْ یاسین دونوں ایک ہی ذات کے نام ہیں۔ آیئے! حضرت الیاس علیہ السّلام کی قراٰنِ کریم میں مذکور6 صفات پڑھتے ہیں:

(1)کامل ایمان والے: آپ علیہ السّلام اعلیٰ درجے کے کاملُ الایمان بندوں میں سے ہیں۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:﴿ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ(۱۳۲) ترجمۂ کنزالایمان: بےشک وہ ہمارے اعلیٰ درجہ کے کاملُ الایمان بندوں میں ہے۔(پ23، الصّٰٓفّٰت: 132)

(2)رسالت کی گواہی: قراٰنِ پاک میں آپ علیہ السّلام کی رسالت کی گواہی دی گئی ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَاِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۲۳)﴾ترجمۂ کنزالایمان: اور بےشک الیاس پیغمبروں سے ہے۔(پ23، الصّٰٓفّٰت: 123)

(3)بعد والی امتوں میں ذکرِ خیر کی بقا: اللہ پاک نے بعد میں آنے والی اُمتوں میں آپ علیہ السّلام کا ذکرِ خیر باقی رکھا، جیسا کہ قراٰنِ پاک میں ہے: ﴿وَتَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ(۱۲۹) ترجمۂ کنزُالایمان: اور ہم نے پچھلوں میں اس کی ثنا باقی رکھی۔(پ23، الصّٰٓفّٰت: 129)

(4)خصوصی سلام: اللہ پاک نے آپ علیہ السّلام کا نام مبارک لے کر آپ پر خصوصی سلام بھیجا، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلْ یَاسِیْنَ(۱۳۰) ترجمۂ کنزُالایمان: سلام ہو الیاس پر۔(پ23، الصّٰٓفّٰت: 130)

(5)بعثت اور قوم کی تبلیغ: اللہ پاک نے حضرت الیاس علیہ السّلام کو بَعلَبک والوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا تو آپ علیہ السّلام نے قوم کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَلَا تَتَّقُوْنَ(۱۲۴) اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّتَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَۙ(۱۲۵) اللّٰهَ رَبَّكُمْ وَرَبَّ اٰبَآىٕكُمُ الْاَوَّلِیْنَ(۱۲۶)﴾ ترجمۂ کنزالایمان: جب اس نے اپنی قوم سے فرمایا کیا تم ڈرتے نہیں کیا بعل کو پوجتے ہو اور چھوڑتے ہو سب سے اچھا پیدا کرنے والے اللہ کو جو رب ہے تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادا کا۔ (پ23، الصّٰٓفّٰت: 124تا 126)

(6)قوم کا جھٹلانا: قوم نے حضرت الیاس علیہ السّلام کی نصیحت قبول کرنے کی بجائے اللہ پاک کی وحدانیت اور آپ علیہ السّلام کی رسالت کو جھٹلایا۔ قیامت کے دن اس قوم کے کفار ضرور عذابِ الٰہی میں مبتلا ہوں گے اور ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور ان کے برعکس اللہ پاک کے وہ برگزیدہ بندے جو حضرت الیاس علیہ السّلام پر ایمان لائے، یہ عذاب سے نجات پائیں گے۔ قراٰنِ پاک میں ہے: ﴿فَكَذَّبُوْهُ فَاِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ(۱۲۷) اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ(۱۲۸) ترجمۂ کنزالعرفان: پھر انہو ں نے اسے جھٹلایا تو وہ ضرور پیش کئے جائیں گے مگر اللہ کے چنے ہوئے بندے ۔(پ23، الصّٰٓفّٰت:127، 128)

اللہ پاک نے آپ علیہ السّلام کو بہت سے معجزات سے نوازا جیسے پہاڑوں اور حیوانات کو آپ کےلئے مسخر فرما دیا، آپ علیہ السّلام کو ستر انبیائے کرام کی طاقت بخش دی غضب و جلال اور قوت و طاقت میں حضرت موسیٰ علیہ السّلام کا ہم پلہ بنا دیا۔

(صاوی، الصّٰٓفّٰت، تحت الآیۃ:123، ص1749)

حضرت خضر علیہ السّلام کی طرح آپ علیہ السّلام بھی زندہ ہیں مؤرخین اور مفسرین نے اس بات پر تفصیل سے کلام کیا ہے کہ آپ علیہ السّلام زندہ ہیں اور قربِ قیامت وصال فرمائیں گے۔

اللہ پاک ہمیں انبیائے کرام کی سیرت پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

یہ مضمون نئے لکھاری کا ہے ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلف کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔