ایصال کا معنی "پہنچانا" اور "ثواب " کسی نیک اور جائز کام پر اللہ عزوجل کی جانب سے ملنے والے اجر کو کہتے ہیں۔ جبکہ شرعی طور پر ایصال ثواب کا مطلب قرآن مجید یا درود شریف یا کلمہ طیبہ یا کسی نیک عمل کا ثواب دوسرے کو (چاہے وہ زندہ ہویا مردہ )پہنچانا ہے ۔اور یہ جائز و مستحسن عمل ہے۔( ملتقطا بہار شریعت جلد 3،حصہ 16،ص 645 مکتبۃ المدینہ)

بہار شریعت میں ہے: ایصال ثواب یعنی قرآن مجید یا درود شریف یا کلمہ طیبہ یا کسی نیک عمل کا ثواب دوسرے کو پہنچانا جائز ہے۔ عبادتِ مالیہ یا بدنیہ فرض و نفل سب کا ثواب دوسروں کو پہنچایا جاسکتا ہے، زندوں کے ایصال ثواب سے مردوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جب انسان مر جاتا ہے اس کے عمل ختم ہو جاتے ہیں مگر تین چیزوں سے مرنے کے بعد ان کے ثواب اعمال نامہ میں درج ہوتے رہتے ہیں: 1۔ صدقہ جاریہ 2۔ وہ علم جس سے اس کے مرنے کے بعد لوگوں کو نفع پہنچتا رہے ۔3:نیک اولاد جو مرنے کے بعد اپنے والدین کے لئے دعا کرے ۔

(صحیح مسلم حدیث :1255)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انسان کو مرنے کے بعد بھی اس کے کچھ کاموں کا ثواب پہنچتا رہتا ہے ۔وہ کام صدقہ جاریہ ہوتے ہیں۔ جس کے کئی طریقے ہیں جن میں سے پانچ یہاں ذکر کیے جاتے ہیں:۔

حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی والدہ کا جب انتقال ہوا، انھوں نے حضور اقدس صلَّی اللہ علیہ وسلَّم کی خدمت میں عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) سعد کی ماں کا انتقال ہوگیا، کون سا صدقہ افضل ہے؟ ارشاد فرمایا:پانی۔ انھوں نے کنواں کھودا اور یہ کہا کہ یہ سعد کی ماں کے لئے ہے۔( سنن ابی داود حدیث:1668)

اس حدیث شریف سے ہمیں کئی سبق ملتے ہیں، جس سے ہم ایصال ثواب کو بہتر جہت میں موڑ سکتے ہیں اور میت کے ساتھ ساتھ زندوں کو بھی فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔

غور کیا جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے( جبکہ صحابہ کرام علیہم رضوان مکہ سے مدینہ ہجرت کر کے آئے تو پانی کی کمی کا شکار تھے۔) پانی کی ضرورت کے پیش نظر پانی کے انتظام کا حکم فرمایا ۔تو معلوم ہوا کہ صدقہ جاریہ ایسے امور سے کرنا چاہیے کہ جو مخلوق کی ضرورت کے مطابق ہو۔ جیسا کہ سائنس کے ماہرین اور ماحول کے معلومات رکھنے والے اہل علم بتاتے ہیں کہ دنیا میں درخت لگانے کی بڑی ضرورت ہے اور اسی کے پیش نظر دعوت اسلامی بھی میدان عمل میں ہے اور ہر سو نعرہ لگا رہی ہے "پودا لگانا ہے درخت بنانا ہے۔'' جہاں درخت کی دنیاوی فائدے ہیں وہاں پر ایصال ثواب کا بہترین ذریعہ ہے۔ چنانچہ:

2: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان جو کچھ اگائے پھر اس میں کوئی انسان یا جانور یا پرندہ کھائے تو وہ اس کے لئے قیامت تک صدقہ ہے۔

( صحیح مسلم حدیث:1552،ص 889)

لہذا ہمیں دعوت اسلامی کا بالخصوص اس کام میں ساتھ دینا چاہیے۔

3: یوں ہی ایصال ثواب کا ایک اور ذریعہ حدیث مبارکہ میں یوں بیان ہوا: لوگوں نے ایسا کوئی صدقہ نہیں کیا جو علم کی اشاعت کی مثل ہو۔( المعجم الکبیر لطبرانی 2/231،حدیث:6964)

آج ہم اپنے معاشرے پر غور کرے تو کھانا اور پانی کی ضرورت سے زیادہ "علم دین" کی ضرورت زیادہ نظر آتی ہے۔ لاعلمی اور جہالت کی بنا پر مسلمان ناجائز رسم و رواج میں پڑنے کے ساتھ ساتھ سنت رسول سے دور اور معاذ اللہ گمراہی اور کفریات تک میں پڑ رہے ہیں۔ ایسے موقع پر ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کا احساس کرتے ہوئے ان تک علم دین پہنچانے کا زیادہ سے زیادہ انتظام کرنا چاہیے۔ اور ایصال ثواب کے اس طریقے میں بھی دعوت اسلامی پیش پیش ہے کہ" لنگر رسائل" کے ذریعے مسلمانوں تک اسلامی لٹریچر پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ایصال ثواب کے اور بھی کئی طریقے احادیث طیبہ میں ہمیں بتائے گئے ہیں جیسا کہ حدیث میں ہے: اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :مومن کے انتقال کے بعد اس کے عمل اور نیکیوں میں سے جو چیزیں اسے ملتی ہیں وہ یہ ہیں:(1) اس کا علم جسے اس نے سکھایا اور پھیلایا (2) نیک بیٹا جسے چھوڑ کر مرا (3) قرآن پاک جسے ورثاء میں چھوڑا (4) وہ مسجد جسے اس نے بنایا (5) مسافروں کے لئے کوئی گھر بنایا ہو (6) کسی نہر کو جاری کیا ہو (7) وہ صدقہ جاریہ جسے اس نے حالت صحت میں اور زندگی میں اپنے مال سے دیا ہو۔

( سنن ابن ماجہ 1/157،حدیث:242)

اللہ پاک ہمیں زیادہ سے زیادہ ایصال ثواب کرنے والا بنائے۔اٰمین