ایک انقلاب آفریں شخصیت

Mon, 30 Aug , 2021
4 years ago

مولانا ابومعاویہ محمد  منعم عطاری مدنی

اسکالر اسلامک ریسرچ سینٹر ، دعوتِ اسلامی

عموماً شخصیات فکر و نظر کو نئی آگہی تو دیتی ہیں مگر عمل سے دور رہتی ہیں، ان کی خواہش ہوتی ہے کہ خود تو شیشے کے بنے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے رہیں جبکہ ان کے نام لیوا گر می و سردی کی سختیاں برداشت کریں،اورتصویر کا دوسرا رخ دیکھیں تو اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ شخصیات ہی ہوتی ہیں جو کایہ پلٹ دیتی ہیں، شخصیات ہی ہوتی ہیں جو انقلاب آفریں بھی ہوتی ہیں اور انقلاب انگیز بھی، شخصیات ہی ہوتی ہیں جو وقت کا رخ بدلتی ہیں، طوفانوں سے ٹکراتی ہیں اور ناقۂ بےزِمام کو سوئے قطار لے جاتی ہیں، مگر آج میں جس شخصیت پر لکھنے جا رہا ہوں وہ بجا طور پر ایک انقلاب آفریں شخصیت ہیں،وہ فکر کو تازگی بھی دیتے ہیں اور عمل کا نمونہ بھی ہیں ، وہ سمع و بصر کو جنت کا رستہ بھی دکھاتے ہیں اور مَن کی دنیا کو اُجلا بھی کرتے ہیں، وہ نظریات کی ایک نئی دنیا بھی دکھاتے ہیں اور عمل کا خوبصورت نقش بھی سامنے لاتے ہیں، وہ استقامت و جہدِ مسلسل کے کوہِ گراں ہیں، وہ حکمت و دانائی کے پیکر ہیں، وہ بندہ نواز بھی ہیں بندہ پروربھی اور علم و عمل کے نیر اعظم بھی، وہ شریعت و طریقت کے جامع بھی ہیں اور محبت و مودت کے مخزن بھی۔ اُن کی حیات میں کمالات و محاسن کا ایک پورا جہان ہے۔ اُن کی زندگی کا گلستان متنوع اور رنگارنگ پھولوں سے مزین ہے۔ اُن کی حیات کا ہر ہر ورق یقینِ محکم اور جُہدِ مسلسل سے عبارت ہے۔اُن کا خاندان نہ کوئی سرکاری منصب رکھتا تھا نہ رئیسانہ ٹھاٹ باٹ، نہ عالمانہ جاہ و جلال مگر آپ میں دین کی حکمرانی بھی ہے اور دین داری کا سچا حسن و جمال بھی، جنہیں اپنا پیٹ بھی پالنا تھا گھروالوں کیلئے بھی کام کرنا تھا، ان کی زندگی میں غربت کی آہیں بھی تھیں، مفلسی کی سسکیاں بھی تھیں ، ان سب چیزوں کے باوجود علما سے مراجعت اور ذاتی شوق و لیاقت کی بنا پر آج وہ طریقت و شریعت کے آفتاب و ماہتاب ہیں۔ وہ امت کے رہنما بھی ہیں،اوران کے سچے خیر خواہ بھی، جو حکمت و دانائی کے پیکر، عجز و انکسار کے خوگر، تقویٰ و پرہیزگاری کے سنگم اور ملنساری و خودداری کی زندہ دلیل ہیں جو منزل کی تلاش میں جادہ پیمائی کو نکلے تھے توخود ہی میرِ قافلہ بھی تھے اور اس قافلے کے اکیلے مسافر بھی مگر آج ان کا کاروانِ رحمت دعوتِ اسلامی کی صورت میں دنیا بھر میں دین کا پیغام عام کررہا ہے۔ اُن کی خدمتِ خلق، غم گساری و ہم دردی، رہ نمائی و ہمت افزائی، مہربانی و سخاوت، رحمدلی و نرمی، اکابر کی عظمت و اصاغر سے شفقت، خودداری و پامردی، پُرتاثیر مواعظ و نصائح اور دیگر اخلاقِ عالیہ کا دورانیہ دعوتِ اسلامی کی ابتدا بلکہ اس سے بھی پہلے سے لے کر اس کے ہر ہر لمحے، شہرِ کراچی کے چپے چپے بلکہ ملکِ پاکستان کے گوشے گوشے میں پھیلا ہوا ہے۔ اُن کی خطابت میں عالمانہ نکات، فلسفیانہ گفتگو، فصیح و بلیغ عبارات، فی البدیہ مقفی مسجع جملے نہ سہی مگر اُن کے سیدھے سادھے جملوں نے ہزاروں ، لاکھوں افراد کے دلوں میں انقلاب برپا کر دیا اور انہیں سنتوں کی راہوں کا مسافر بنا دیا۔ اُن کے تحریر بھی ایسی دلکش و دل پذیر ہوتی کہ قاری کا دل موہ لیتی اور اسے عمل پر آمادہ کرتی ہے۔ اُن کی شفقتیں اور عنایتیں ایسی ہیں کہ جو ایک بار ملتا ہے ایسا سرشار ہوتا ہے کہ زندگی بھر کیلئے گرویدہ ہو جاتا ہے۔اُن کی راتیں بھی تبلیغِ دین کیلئے ہیں اور دن بھی تبلیغِ دین کیلئے، اُن کی زندگی کا ایک ایک دن سنتوں کی خدمت میں گزرتا نظر آتا ہے۔ اُن کی ایک صدائے دل نواز نے لاک ڈاؤن کے کٹھن ایام میں بلڈ کے امراض میں مبتلا حسرت و یاس کی تصویر بنے مریضوں کے لبوں پر مسکراہٹیں بکھیر دیں۔ اُن کے چمنستانِ تربیت کی عطر بیز، رنگیں فضاؤں اور نشیلی ہواؤں نے صرف دعوتِ اسلامی کے گلستان کو نہیں مہکایا بلکہ ہر طرف بادِ بہار کا سماں باندھا ہے۔انہوں نے مسلمانوں کی پستیِ اخلاق، دنائتِ طبع، بغض و عناد، حسد وکینہ، کذب و افترا، اختلاف و افتراق، بے حیائی و بےشرمی اور ان جیسی درجنوں برائیوں کے خلاف علمِ جہاد بلند کیا اور اپنے دلنشیں اور من موہنے انداز میں سادہ و دلپذیر الفاظ کا سہارا لے کر لوگوں کے قلوب میں اخلاقِ عالیہ کی عظمت، بزرگی اورفوائد کے ان مٹ نقوش مرتسم کئے۔ آج جب دنیا بھر کا میڈیا و سوشل میڈیا مسلمانوں سے شرم و حیا کی دولتِ بے بہا چھین لینا چاہتا ہے تو اُس مردِ کامل نے بے حیائی اور میوزک سے پاک خالص علمی و دینی چینل کا تحفہ امت کو دیا۔

الغرض کون سے ایسے نیک اوصاف ہیں جو ہمیں اپنے ممدوح کی شخصیت میں نظر نہیں آتے، دور اندیشی کا کوہِ گراں کہا جائے، عاجزی و انکساری کا پیکر کہا جائے یا جہدِ مسلسل کا استعارہ قرار دیا جائے ، سادگی،عاجزی،تحمل،تدبر،تفکر،صبر،قناعت،مطانت،جراءت،ہمت،ذہانت،فطانت،فقاہت علمیت،صداقت،حکمت،سخاوت،محبت،شفقت،رقت،عفو،درگزر،عیب پوشی،دلجوئی، غمخواری، خیرخواہی،دلجوئی،ہمدردی،حوصلہ افزائی،خوش مزاجی،خوش اخلاقی،پرہیزگاری،تصلب فی الدین،تصلب فی المسلک، خوف خدا،حب الٰہی،عشق رسول،الفت صحابہ،حب اہل بیت، عقیدتِ اسلاف،جذبۂ نیکی کی دعوت،فکر امت،شوق مطالعہ،ذوق عبادت، وسعت نظری،اطاعتِ شریعت،اتباعِ سنت،اشاعت قرآن وسنت،فکررضا،ذکررضا،حب رضا،ادب علماء،محبت صلحاء، اعلاء کلمۃالحق،احقاق حق، ابطال باطل،قیام مدارس و مساجد،کثرت تصنیف و تالیف،شعر و سخن میں دلچسپی اور اس کا صحیح استعمال، نورانیت، روحانیت اور رضویت سمیت کئی ایسے اوصاف ہیں جن کو ملا کر اگر کسی شخصیت کا تصور باندھا جائے تو ایک ہی شخصیت ذہن میں آتی ہے ۔

جنہیں ہم شیخِ طریقت، امیر اہلسنت، پیرِطریقت،رہبرِ شریعت، برہانِ شریعت، گنجینہ رموزِ شریعت، آفتاب ہدایت، منبع رشد وہدایت، واقفِ اسرارِ حقیقت، آفتاب ولایت، منبعِ جود و سخا، کرامتِ غوثِ اعظم، ولیٔ کامِل، صوفیٔ باصفا، پیکرِ علم و حیا، عالمِ ربانی، عارفِ صمدانی، عالی مرتبت،پروانۂ شمع رسالت، یادگارِ اسلاف، نمونۂ اسلاف، بقیۃ السلف، عمدۃ الخلف، سرمایہ ملک و ملت، آفتابِ علم و حکمت، مقبول عوام و خواص، مبلغِ فکر رضا، پاسبانِ مسلک رضا، نباض قوم،امیر اہلسنت بانیِ دعوتِ اسلامی، الحاج ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم القدسیہ کے نام سے جانتے ہیں۔ جو بانئ دعوت اسلامی ہیں،جو سلسلہ قادریہ کے شیخ ہیں،جو دنیا میں مسلک اعلحضرت کی پہچان ہیں،جو رضویت کے پاسبان ہیں،جو ناموس صحابہ واہل بیت کے علمبردار ہیں، اللہ کریم انہیں عافیتوں والی عمرخضری عطا فرمائے آمین 


امیرِ اہلِ سنّت کا پیغام مجلس دعوتِ اسلامی ویلفیئر کے نام

ذوالحجۃ الحرام1441

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ وَنُسَلِّمُ عَلٰی رَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْم

سگِ مدینہ محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی عُفِیَ عَنْہُ کی جانب سے میٹھے میٹھے مدنی بیٹے حاجی شفاعت علی عطّاری اور دعوتِ اسلامی ویلفیئر ٹرسٹ کے تمام عاشقانِ رسول کی خدمتوں میں:

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ

مَا شَآءَ اللّٰہ! آپ کے کارنامے اور کارکردگیاں، مرحبا! کورونا وائرس کی آئی ہوئی اس آفت میں راشن کی خریداری کرنا، پیکنگ کرنا، تقسیم کرنا، نقد رقم بانٹنا، پکا ہوا کھانا پہنچانا، تقسیم کرنے کے لئے دور دراز کا سفر کرنا، رَمَضانُ المبارَک میں سحری و افطاری کے اوقات بھی وہیں گزارنا، عید کے دنوں میں بھی مجلس دعوتِ اسلامی ویلفیئر ٹرسٹ کے کارنامے مدینہ مدینہ! اسپتال میں خیرخواہی ہو رہی ہے تو اولڈ ہاؤس میں بھی بزرگوں کے ساتھ وقت گزررہا ہے تو یتیم خانے میں یتیموں کی بھی دل جوئی کی جارہی ہے، کیا بات ہے مدینے کی! اللہ کریم آپ کی ان کاوشوں کو قبول فرمائے اور اجرِ عظیم عطا فرمائے، آپ کو استِقامت دے، مدنی چینل پر مدنی خبروں میں بارہا آپ حضرات کی زیارتیں کرتا ہوں اور آپ حضرات کی مَساعی (کوششیں) دیکھتا ہوں، میرے پیارے پیارےمدنی بیٹو! اب پیچھے نہیں ہٹنا، دعوتِ اسلامی جب سے بنی ہے اس کی آگے کُوچ جاری ہے تو آپ کی مجلس کا بھی آگے کُوچ جاری رہے۔ زوردار آندھی چلی اور لانڈھی (کراچی) میں باڑوں میں آگ لگ گئی تو ان مواقع پر بھی آپ نے خدمات پیش کیں، پھر نیاآباد (کراچی) میں سات منزلہ عمارت گِرگئی تو وہاں بھی آپ لوگ پہنچے، اس میں بھی مَا شَآءَ اللّٰہ آپ نے غالباً لیبر ورک بھی کیا ہوگا، اللہ برکت دے، ہمّت دے، مدد کرے اور مددگار پیدا کرے، خوب آگے بڑھتے جائیے اور اللہ کی رضا کا خزانہ لُوٹتے رہئے۔ میں آپ کو ایک حدیثِ پاک تحفے میں سناتا ہوں: فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم: جو شخص مسلمان کی ضرورت پوری کرنے کے لئے جائے، اللہ پاک 75ہزار فرشتوں کے ذریعے اُس پر سایہ فرماتا ہے جو اُس کے لئے دُعا کرتے ہیں، وہ فارغ ہونے تک رحمت میں چھپا رہتا ہے اور جب فارغ ہوتا ہے تو اللہ پاک اُس کے لئے حج و عمرہ کا ثواب لکھتا ہے۔(مجمع الزوائد، 8/354، حدیث:13725)

مزید عرض ہے کہ دعوتِ اسلامی کے 12مدنی کام پر بھی توجّہ رکھیں، ”آقا کی دُکھیاری اُمّت“ کی خدمت کریں اور اس کے ساتھ ساتھ دعوتِ اسلامی کے 12مدنی کام میں بھی حصّہ لیتے رہیں، اللہ کرے کورونا وائرس دُور ہوجائے اور لاک ڈاؤن ختم ہوجائے، مساجد کی رونقیں بحال ہوں تو ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں مع رات اعتکاف شرکت کیجئے اور ہر مہینے تین دن کے مدنی قافلے میں سفر کے ذریعے سنّتیں سیکھنے سکھانے کی ترکیبیں بھی رکھنی ہے، علاقائی دورہ کے ذریعے نیکی کی دعوت بھی دیتے رہنا ہے، درس دینا، سننا اور مدنی انعامات پر عمل کرکے روزانہ اپنا مُحاسَبہ کرکے اس کے خانے بھرنے ہیں اور اسلامی مہینے کی پہلی تاریخ کو اپنے یہاں کے ذمّہ دار کو جمع کروانا ہے، اِنْ شَآءَ اللہ۔ اللہ پاک آپ کو خوش رکھے۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللہُ علٰی محمَّد


عید میلادُ النبی کے موقع پر خُوشی کا اظہار کرنا اور محافل و جلوسِ میلاد کا اِنعِقاد کرنا رسولِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے مَحبت کی علامت ہے۔ ہر سال ربیعُ الاوّل کے مقدّس مہینے میں عاشقانِ رسول اپنے پیارے مُصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے عشق و مَحبت کا اظہار کرتے ہوئے جلوسِ میلاد اور محافلِ میلاد کا اہتمام کرتے ہیں۔ عاشقانِ رسول کی مدنی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت بھی دنیا بھر میں عید میلادُ النبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم بڑی عَقیدت و اِحترام سے منائی جاتی ہے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی یکم (1st) ربیعُ الاوّل سے قبل ہی دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ کو نہایت خوبصورت برقی قُمقُمے لگا کرسجادیا گیا تھا۔ جلوسِ میلاد عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں یکم تا13ربیعُ الاوّل 1440 ہجری روزانہ مدنی مذاکرے سے پہلے جلوسِ میلاد کا اِہتمام کیا جاتا رہا جس میں شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سمیت کثیر عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔ کشتیوں میں جلوسِ میلاد دعوتِ اسلامی کی مجلس ماہی گیر کے تحت مختلف بندرگاہوں پر کشتیوں اور لانچوں میں بھی جلوسِ میلاد کا سلسلہ ہوا جن میں اراکینِ شوریٰ حاجی عبدُالحبیب عطّاری، حاجی ابوماجد محمد شاہد عطّاری مدنی، محمد فاروق جیلانی سمیت بڑی تعداد میں ماہی گیر و دیگر اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔ مدنی مذاکرے امیرِ اہلِ سنّت حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے 29صفرُ المظفر 1440ھ تا 13ربیعُ الاوّل1440ھ مدنی مذاکرے فرمائے جن میں جانشین و صاحبزادۂ امیرِ اہلِ سنّت مولانا عبید رضا عطّاری مدنی مُدَّظِلُّہُ الْعَالِی اور نگرانِ شوریٰ مولانا محمد عمران عطّاری مُدَّظِلُّہُ الْعَالِی نیز بیرونِ ملک (عرب شریف، یوکے، اسپین، اٹلی، ناروے، ہالینڈ، سری لنکا، ساؤتھ افریقہ، یو اے ای) اور پاکستان کے مختلف شہروں سے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ آئے ہوئے 9145 اسلامی بھائیوں کے علاوہ ہزاروں عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔ اجتماعاتِ میلاد دعوتِ اسلامی کے تحت ربیعُ الاوّل کی بارھویں شب ملک بھر میں تقریباً 869مقامات پر اجتماعاتِ میلاد مُنعقِد ہوئے جن میں2لاکھ 59ہزار 401 سے زائد اسلامی بھائیوں نے شرکت کی، عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ کراچی میں بھی عظیمُ الشّان اجتماعِ میلاد ہواجس میں مدنی مذاکرے کا بھی سلسلہ ہوا، اس پُر نور اجتماع میں بلا شبہ ہزاروں عاشقانِ رسول نے شرکت کی جبکہ میئر کراچی وسیم اختر، صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی، آئی جی جیل خانہ جات مظفر عالم صدیقی،ایڈیشنل آئی جی امیر شیخ، ایم پی اے بلال غضنفر، ایم این اے عالمگیر خان اور ڈی ایس پی، ایس ایس پی، ایس پی، ایس ایچ او، آئی جی ٹریفک، ڈی ایس پی ٹریفک، کے ایم سی، ڈی ایم سی انتظامیہ کے عہدیداران نے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کا وزٹ کیا۔ بیرونِ ملک میں ہونے والے اجتماعاتِ میلاد دعوتِ اسلامی کے تحت ٭عرب شریف ٭ہند ٭یوکے ٭بنگلا دیش ٭یونان (Greece) ٭یو ایس اے ٭کینیڈا ٭یو اے ای ٭عمان ٭کینیا ٭یوگنڈا ٭تنزانیہ ٭نیپال ٭ترکی ٭ماریشس ٭آسٹریلیا ٭زامبیا ٭ملائیشیا ٭تھائی لینڈ ٭ساؤتھ کوریا ٭سری لنکا ٭ہانگ کانگ ٭ہالینڈ ٭ڈنمارک ٭اٹلی ٭فرانس ٭جرمنی ٭بلجئیم ٭ناروے ٭سویڈن ٭قطر ٭کویت ٭بحرین ٭اسپین ٭موزمبیق ٭جارڈن ٭سویڈن ٭ملاوی کے علاوہ دنیا کے سینکڑوں شہروں میں اجتماعاتِ میلاد مُنعقد ہوئے جن میں ہزاروں اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔ میڈیا کوریج دعوتِ اسلامی کے تحت مختلف مقامات پر ہونے والے اجتماعاتِ میلاد کو الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا (نیوز چینلز اور اخبارات) نے نمایاں کوریج دی۔ چند چینلز کے نام یہ ہیں: ٭92 نیوز ٭سماء نیوز ٭جیو نیوز ٭A.R.Y نیوز ٭بول نیوز ٭ایکسپریس نیوز ٭نیو نیوز ٭نیوز ون ٭ڈان نیوز ٭میٹرو نیوز ٭دنیا نیوز ٭24 نیوز ٭K.21 نیوز ٭اب تک نیوز ٭7 نیوز ٭K.T.N نیوز و دیگر۔


فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ و سلَّم ہے:مَنِ اعْتَکَفَ اِیْمانًا وَّاِحْتِسَابًا غُفِرَلَہ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ یعنی:جس شخص نے ایمان کے ساتھ ثواب حاصل کرنے کی نیَّت سے اعتکاف کیا اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دئیے جائیں گے۔(جامع صغیر، ص516 ،حدیث:8480)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! رمضانُ المبارک کا چاند نظرآنے سے پہلے ہی اسلامی بھائیوں کی ایک بڑی تعداد عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں پہنچ جاتی ہے، جن کا مقصد عاشقانِ رسول کی مدنی تحریک دعوتِ اسلامی کے اسلامی بھائیوں کے ساتھ اجتماعی اعتکاف کرنا ہوتا ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ ! ہر سال کی طرح اس سال (1439ھ/ 2018ءمیں) بھی عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ اور دنیا بھر میں دعوتِ اسلامی کے تحت پورے ماہِ رمضان اور آخری عشرے کا سنّت اعتکاف اجتماعی طور پر ہوا۔ عالمی مدنی مرکز میں تو عجب بہار آئی ہوئی تھی، ہرطرف معتکفین ہی نظر آرہے تھے، اس رونق میں مزید اضافہ یوں ہوا کہ شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادریدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے پورا ماہ نمازِ عصر اور تراویح کے بعد مدنی مذاکرہ فرمایا اور عقائد و اعمال، فضائل و مناقِب، شریعت و طریقت، تاریخ اور سیرت وغیرہ کے متعلق ہونے والے مختلف سوالات کے حکمت بھرے جوابات ارشاد فرمائے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق رمضان المبارک کے آخری عشرے میں صرف عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ کراچی میں مدنی مذاکروں میں روزانہ کم و بیش نو ہزار 9000 اسلامی بھائی شریک ہوتے رہے، جبکہ دیگر مختلف مقامات اور گھروں میں بذریعہ مدنی چینل شریک ہونے والوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔ پورے رمضان المبارک کا اعتکاف رواں سال (1439ھ/ 2018ء میں) دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے پورے ماہِ رمضان کے اجتماعی اعتکاف میں پاکستان میں 73مقامات پر تقریباً نو ہزار چار سو ستتّر9477 اور دیگر مختلف ممالک میں 76 مقامات پر تقریباً دو ہزار آٹھ سو سینتیس 2837 عاشقانِ رسول شریک ہوئے۔ بیرونِ ممالک میں ہند، نیپال، اٹلی، یوگینڈا اور بنگلہ دیش سمیت کئی ممالک شامل ہیں۔ عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ باب المدینہ کراچی میں اعتکاف کرنے کے لئے کم و بیش600اسلامی بھائی رمضان ایکسپریس اور داتا ایکسپریس کے ذریعے آئے۔ آخری عشرے کا اعتکاف پاکستان میں دعوتِ اسلامی کے تحت بابُ المدینہ کراچی، زم زم نگر حیدرآباد، مرکزُالاولیاء (لاہور)، سردارآباد (فیصل آباد)، مدینۃُ الاولیا ملتان، بہاولپور، راولپنڈی، اسلام آباد، واہ کینٹ، پشاور، کوئٹہ، کشمیر سمیت( کم و بیش) 5175مقامات پر رمضانُ المبارک کے آخری عشرے کا اجتماعی اعتکاف ہوا جس میں تقریباً ایک لاکھ گیارہ ہزار دو سو ننانوے 111299 اسلامی بھائی شریک ہوئے، جن میں سے تقریباً آٹھ ہزار پانچ سو نو 8509 اسلامی بھائیوں نے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ باب المدینہ (کراچی) میں اعتکاف کرنے کی سعادت پائی۔ عالمی مدنی مرکز میں عرب شریف،عرب امارات، کویت، یوکے، عمان، آسٹریا، یونان، فرانس، ناروے، جرمنی، ہانگ کانگ، سری لنکا، ملائشیا، تھائی لینڈ، ہند، نیپال، یوایس اے، کینیڈا اور موذمبیق وغیرہ سے آنے والے کئی معتکف اسلامی بھائی بھی شامل تھے۔ پاکستان کے علاوہ عمان، عرب امارات، امریکہ، کینڈا، یوکے، کینیا، یوگینڈا، تنزانیہ، زامبیا، انڈونیشیا، ملائشیا، ساؤتھ کوریا، سری لنکا، اٹلی، یونان، جرمنی، بیلجئم، ہند، نیپال، بنگلہ دیش، ایرانوغیرہ میں بھی تقریباً 474 مقامات پر آخری عشرے کا اجتماعی اعتکاف ہوا جس میں 9703 اسلامی بھائی شریک ہوئے۔ اعتکاف کے دوران متعدد اسلامی بھائیوں نے مدنی چینل کو تأثرات دیے کہ ہمیں یہاں نمازوں کی پابندی نصیب ہوئی، توبہ کرنےاور گناہوں سے بچنے کا ذہن بنا ،یہاں ہمیں محبت بھرا مدنی ماحول نصیب ہوا، بہت سے اسلامی بھائیوں نے نمازیں اور دیگر فرائض ادا کرنے، داڑھی و عمامہ کی سنّت سجانے، فرض علوم سیکھنے اورجامعۃ المدینہ میں داخلہ لینے، مدنی قافلوں میں سفر کرنے اور اپنے علاقوں میں مدنی کام کرنے کی نیتوں کا بھی اظہار کیا۔

اللہ کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں میں

اے دعوتِ اسلامی تری دھوم مچی ہو


اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰنکا وِصالِ پُرملال 25 صفر المظفّر 1340ھ کو ہوا۔رواں سال 1440ھ میں آپ کے وصال کو 100 سال پورے ہوئے۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّدنیا بھر کے عاشقانِ رضا نے 100سالہ عرسِ اعلیٰ حضرت دھوم دھام سے منایا۔ عاشقانِ رسول کی مدنی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت بھی 100سالہ عرسِ اعلیٰ حضرت بڑی شان و شوکت سے منایا گیا جس کی کچھ جھلکیاں یہ ہیں: فاتحہ خوانی شیخِ طریقت امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے 25 صفرالمظفّر 1440ھ کو اپنے گھر(بیت البقیع) کے جنّت ہال میں اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ علیہ کے ایصالِ ثواب کے سلسلے میں فاتحہ خوانی کی اور دعا فرمائی جس میں کثیر عاشقانِ رسول نے شرکت کی،اختتام پر لنگرِ رضویہ کا سلسلہ بھی ہوا۔ مدنی مذاکرہ ٭صفر المظفّر کی 25 ویں رات عالَمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ کراچی میں مدنی مذاکرے سے قبل جلوسِ رضویہ کا سلسلہ ہوا جس میں عاشقِ اعلیٰ حضرت، امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے باادب انداز میں شرکت فرمائی بعد ازاں مدنی مذاکرے میں مدنی پھول عطا فرمائے جن میں سے چند درج ذیل ہیں:٭اللہ کی رحمت سے جب سے اعلیٰ حضرت کا تذکرہ سنا،ان کی مَحَبّت کا بیج دل میں جڑ پکڑ کر تَناوَر درخت بن گیا،تحدیثِ نعمت کے طور پر عرض کرتا ہوں کہ آج ایک دنیا اس درخت کا پھل کھارہی ہے۔ ٭ عالم و مفتی تو بہت ہوئے ہیں لیکن میرے اعلیٰ حضرت جیسا کوئی ہو تو بتائیں۔مجھے نہیں لگتا کہ پچھلے دو چارسو سال میں اعلیٰ حضرت جیسا کوئی پیدا ہوا ہو۔ ٭دعوتِ اسلامی والوں کو سیّدوں کے ادب کا جو شعور ملا وہ فیضانِ رضا ہے۔٭اللہ کریم نے دنیا میں ہمیں اعلیٰ حضرت کے فیوض و برکات سے مالا مال فرمایا، آخرت میں بھی ہمیں محروم نہ فرمائے۔یاد رہے! عالَمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں ہونے والے اس مدنی مذاکرے میں 7000سے زائد اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔ مدنی چینل کی خصوصی نشریات فیضانِ اعلیٰ حضرت: مدنی چینل کی جانب سے یکم تا 23 صفرالمظفرّ 1440ھ براہِ راست سلسلہ (Live Program) ”فیضانِ اعلیٰ حضرت“ پیش کیا گیا جس میں مُبلّغینِ دعوتِ اسلامی نے سیرتِ اعلیٰ حضرت کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی۔ اس سلسلے (Program) میں مدرسۃ المدینہ کے حفّاظِ کرام کے درمیان مدنی مقابلہ ”ذوقِ قراٰن“ اور دعوتِ اسلامی کی مختلف مجالس کے درمیان مدنی مقابلہ ”ذوقِ نعت“ بھی ہوا۔مدنی مقابلے ذوقِ نعت کا فائنل 23 صفرالمظفّر 1440ھ کو عالَمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ کراچی کے وسیع و عریض صحن میں ہوا جس میں مجلس خصوصی اسلامی بھائی کامیاب رہی۔ فیضانِ امام اہلِ سنّت کی اشاعت اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ علیہ کے 100 سالہ عرس کے موقَع پر دعوتِ اسلامی کی مجلس ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ کی جانب سے امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ علیہ کی حیاتِ مبارَکہ کے کثیر پہلوؤں کو اجاگر کرتاہوا تقریباً 57 مضامین اور 252 صفحات پر مشتمل ایک خصوصی شمارہ بنام ”فیضانِ امامِ اہلِ سنّت“پاک و ہند میں بیک وقت کم و بیش 7100 کی تعداد میں شائع کیا گیا۔ سیرتِ اعلیٰ حضرت کے مختلف گوشوں پر مشتمل اس خصوصی شمارے کی اِشاعت پر اراکینِ شوریٰ، ملک و بیرونِ ملک سے عُلَما و مفتیانِ کرام اور دیگر ذِمّہ داران کی جانب سے مبارَک باد کے پیغامات موصول ہوئے جنہوں نے مجلس ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ کے لئے اپنی نیک دعاؤں کا اظہار کیا۔ یہ خصوصی شمارہ مزارِ اعلیٰ حضرت بریلی شریف ہند میں ہونے والی عرسِ رضوی کی مرکزی تقریب میں٭حضرت مولانا سبحان رضا خان سبحانی میاں صاحب (سجادہ نشین درگاہِ اعلیٰ حضرت بریلی شریف) ٭حضرت مولانا پروفیسر سیّد امین میاں برکاتی صاحب (سجادہ نشین خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ شریف و بانی البرکات علی گڑھ) ٭حضرت مولانا منّان رضا خان منّانی میاں صاحب (برادرِ تاج ُ الشریعہ بریلی شریف، بانی و سرپرست جامعہ نوریہ رضویہ بریلی شریف) ٭حضرت مولانا مفتی محمد عسجد رضا خان قادری رضوی صاحب (جانشین و شہزادۂ تاجُ الشّریعہ و سرپرستِ اعلیٰ جامعۃ الرضا بریلی شریف) سمیت کثیر عُلَمائے کرام، سجادہ نشین اور شخصیات کو پیش کیا گیا جس پر انہوں نے مَسرت کا اظہار کیا۔ سنّتوں بھرے اجتماعات ملک بھر کئی مساجد میں 25 صفرالمظفّر کو 100 سالہ عرسِ اعلیٰ حضرت کی مناسَبت سے محافل ہوئیں جبکہ موصول ہونے والی کارکردگی کے مطابق بڑی سطح پر 775 مقامات پر اجتماعاتِ ذکر و نعت ہوئے جن میں کم و بیش ایک لاکھ 17 ہزار 990 سے زائد عاشقانِ رسول شریک ہوئے۔ بیرون ِ ملک اجتماعاتِ عرسِ رضا وطنِ عزیز پاکستان کی طرح بیرونِ ممالک میں بھی عاشقانِ رضا نے 100 سالہ عرسِ اعلیٰ حضرت کے سلسلے میں محافل سجاکر اعلیٰ حضرت سے اپنی عقیدت و مَحبّت کا اظہار کیا۔مجلس بیرونِ ممالک کی جانب سے موصول ہونے والی کارکردگی کے مطابق عرب شریف، ہند، نیپال، بنگلہ دیش، بحرین،بیلجیئم، فرانس، اٹلی، اسپین، ناروے، سویڈن، ڈنمارک، آسٹریا، گریس، ہالینڈ، ساؤتھ افریقہ، موزمبیق، ماریشیس، یوکے، اسکاٹ لینڈ، ہانگ کانگ، تھائی لینڈ، سری لنکا، جاپان، امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا، عمان، عرب امارات، ترکی، زامبیا، کینیا، تنزانیہ، ملاوی، قطر، کویت، ساؤتھ کوریا، ملائیشیا، سوڈان اور نیوزی لینڈ میں اجتماعات منعقد کئے گئے جن میں عاشقانِ رسول کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مجلس جامعۃ المدینہ مجلس جامعۃ المدینہ کے تحت 24 صفر المظفّر 1440ھ بروز جمعہ عالَمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ باب المدینہ کراچی کے وسیع و عریض صحن میں ایک عظیم الشّان اجتماع منعقد کیا گیا جس میں مقابلۂ حسنِ قرأت، حفظِ قرآن، حسنِ بیان، ذہنی آزمائش،حسنِ نعت،علمی مُباحَثہ، اساتِذۂ کرام کے بیانات، سامعین سے سوالات، عَرَبی سلسلہ، رضوی کمپیوٹر اور تعارفِ رسائلِ رضویہ کے مختلف مرحلے (Segments) ہوئے۔ اس اجتماع میں بھی عاشقانِ رسول کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مکتبۃ المدینہ کی خصوصی رعایتی آفر دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارہ مکتبۃ المدینہ نے 100 سالہ عرسِ اعلیٰ حضرت کے موقع پر عاشقانِ اعلیٰ حضرت کے لئے اپنی مطبوعات پر%20 ڈسکاؤنٹ رکھا ۔ یہ رعایتی پیشکش تین دن تک پاکستان بھر میں مکتبۃ المدینہ کی تمام شاخوں پر جاری رہی جس سے عُلَمائے کرام، طَلَبائے کرام اور دیگر اسلامی بھائیوں نے فائدہ اٹھایا۔ وقتِ وصال فاتحہ خوانی:اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 25 صفر المظفّر (پاکستان کے وقت کے مطابق)دوپہر 2 بج کر8 منٹ پر ہوا تھا۔ دعوتِ اسلامی کے عالَمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ کراچی میں اعلیٰ حضرت کے عَین وقتِ وصال پر فاتحہ خوانی کا سلسلہ ہوا ،نگرانِ شوریٰ حضرت مولانا محمد عمران عطّاری مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی نے دعا کروائی اور مدنی پھول ارشاد فرمائے۔


قراٰنِ پاک آسمانی کتابوں میں سے آخری کتاب ہے جسے اللہ پاک نے سب سے آخری نبی، محمدِ عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر نازِل فرمایا۔ اس کو پڑھنا، پڑھانا، دیکھنا اور چُھونا عبادت ہے۔ قراٰنِ پاک کو شایانِ شان طریقے سے شائع (Publish) کرنا، دنیا کی مختلف زبانوں میں اس کا دُرُست ترجمہ اور تفسیر کرنا، مسلمانوں کو دُرُست قراٰن پڑھنا سکھانا، مساجد و مدارس،عوامی جگہوں مثلاً(ائیرپورٹ،ریلوے اسٹیشن و بس اسٹینڈ وغیرہ کی جائے نماز)میں قراٰنِ کریم پہنچانااور احکامِ قراٰن پر عمل کی ترغیب دلانا وغیرہ خدمتِ قراٰنِ پاک کی مختلف صورتیں ہیں۔ خدمتِ قراٰن کی تاریخ سب سے پہلے خدمتِ قراٰنِ مجید کی عظیم سعادت صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان کو حاصل ہوئی جنہوں نے اللہ کے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے قراٰنِ مقدّس کی تعلیم حاصل کی، دیگر مسلمانوں تک قراٰنِ مجید اور اس کے احکام پہنچائے، بعض حضرات نے حفظِ قراٰن کی سعادت پائی نیز سرکارِ نامدار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے وصالِ ظاہری کے بعد قراٰنِ پاک کو جمع کرنے کا اِہتمام فرمایا چنانچہ جنگ یَمامہ میں بہت سے حُفّاظ صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان کی شہادت کے بعد حضرتِ سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہنے حضرتِ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو جمعِ قرآن کا مشورہ دیا۔ حضرتِ سیدنا عمر فاروق کے مشورے کو قبول فرماتے ہوئے حضرتِ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو قراٰن مجید جمع کرنے کا حکم فرمایا (بخاری، 3/398، حدیث:4986) اور بعد میں حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اسی جمع شدہ نسخے کی نقول تیار کرواکے مختلف علاقوں میں روانہ فرمائیں۔(بخاری ،3/399،حدیث: 4987)صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان کے بعد تابعین، تبع تابعین اور ہردور کے بزرگانِ دِین رضوان اللہ علیہم اَجْمعین نے خدمتِ قراٰنِ پاک کو اپنا معمول بنایا اور قراٰنِ کریم کے ترجمہ، تفسیر، احکامِ قراٰن کی وضاحت، علومِ قراٰن کی تفصیل، قراٰنِ پاک پر ہونے والے اِعتراضات کے جوابات، الغرض کثیر قراٰنی موضوعات پر بے شمار کتابیں تصنیف فرمائیں۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بزرگانِ دِین کی قراٰنِ پاک سے لاجواب محبت اور خدمتِ قراٰن کے جذبے کے برعکس آج کا مسلمان قراٰنِ پاک سے دُور ہوتا چلا جارہا ہے۔ اس عظیم کتاب کی تلاوت، ترجمہ و تفسیر کا مطالَعہ اور احکامِ قراٰن پر عمل کا جذبہ دن بدن کم ہوتا جارہا ہے۔ بدقسمتی سے اب ایسا لگتا ہے کہ قراٰنِ مجید صرف لڑائی جھگڑے کے موقع پر قسم اُٹھانے اور شادی کے موقع پر حصولِ برکت کے لئے دُلہن کے سر پر رکھنے کے لئے رہ گیا ہے۔ ان پُرفِتن حالات میں قراٰنِ پاک سے مسلمانوں کا رشتہ مضبوط کرنے اور فیضانِ قراٰن کو عام کرنے کے لئے عاشقانِ رسول کی مدنی تحریک دعوتِ اسلامی مختلف انداز سے کوشاں ہے۔ دعوتِ اسلامی کس کس طرح خدمتِ قراٰن کررہی ہے اس کی چند جھلکیاں ملاحظہ کیجئے:تدریس(Teaching)کے ذریعے خدمتِ قراٰن دعوتِ اسلامی کے تحت ملک و بیرونِ ملک اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کو بِلا مُعاوضہ تَجوِید و مَخارِج کے ساتھ دُرُست تلاوتِ قراٰن سکھانے کے لئے مدرسۃ المدینہ بالِغان اور مدرسۃ المدینہ بالِغات جبکہ مدنی مُنّوں اور مدنی مُنّیوں کو حفظ و ناظرہ کی تعلیم دینے کے لئے مدرسۃ ُالمدینہ لِلْبَنِین اور مدرسۃ ُالمدینہ لِلْبَنَات قائم ہیں نیز جن مقامات پر قراٰن کریم پڑھانے والے بآسانی دستیاب نہیں ہوتے وہاں کے لئے مدرسۃ المدینہ آن لائن کا بھی سلسلہ ہے۔ متعدّد مدارسُ المدینہ میں مدنی مُنّوں کو قیام وطَعام کی سہولت بھی دستیاب ہے۔ غیر رہائشی مدارسُ المدینہ میں 8 گھنٹے کا دورانیہ ہوتا ہے جبکہ ایک اور دو گھنٹے کے جُزْ وقتی(Part Time) مدارسُ المدینہ بھی اپنی مدنی بہاریں لُٹا رہے ہیں۔(اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ! اس وقت ملک و بیرونِ ملک کم و بیش 2734 مدارس المدینہ قائم ہیں،جن میں تقریباً 128737(ایک لاکھ اٹھائیس ہزارسات سو سینتیس)مدنی مُنّے اورمدنی مُنّیاں زیرِ تعلیم ہیں جبکہ اساتذہ سمیت کل مدنی عملے (اسٹاف) کی تعدادتقریباً 7268ہے۔ 2017ء میں تقریباً 5229 (پانچ ہزاردوسواُنتِیس) مدنی منّوں اور مدنی منّیوں نے حفظِ قراٰن اور تقریباً 20580 (بیس ہزارپانچ سو اسّی) نے ناظرہ قراٰنِ کریم پڑھنے کی سعادت حاصل کی،اب تک کم و بیش74329(چوہتّرہزارتین سو اُنتِیس)مدنی مُنّے اورمدنی مُنّیاں حفظِ قراٰن جبکہ تقریباً 215882(دولاکھ پندرہ ہزارآٹھ سو بیاسی) ناظرہ قراٰنِ پاک پڑھنے کی سعادت پاچکے ہیں۔ مدرسۃ المدینہ آن لائن میں دُنیا بھر سے تقریباً7ہزار طلبہ و طالبات پڑھ رہے ہیں۔ ان کو پڑھانے والوں کی تعدادتقریباً633جبکہ مدنی عملے(ناظمین،مُفتشین وغیرہ)کی تعدادتقریباً140ہے ۔ ملک و بیرونِ ملک تقریباً 13853مدرسۃ المدینہ بالغان اور ان میں پڑھنے والے تقریباً89043جبکہ مدرسۃ المدینہ بالغات میں پڑھنے والیوں کی تعدادتقریباً63 ہزار سے زائد ہے۔) اسی طرح اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّدعوتِ اسلامی کے تحت قائم جامعاتُ المدینہ کے نصاب میں بھی قراٰنِ پاک کی تعلیم شامل ہے، یہ نصاب اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ درجہ مُتَوَسِّطَہ اوّل سے درجہ خامِسہ تک مدنی قاعدہ اورپورا قراٰنِ پاک ترجمہ و تفسیر کے ساتھ پڑھا دیا جاتاہے، جبکہ درجہ سابِعہ میں تجوید اور پارہ26تا30حَدرکی دُہرائی اور درجہ دورۂ حدیث میں حُسنِ قراءت کے حوالے سے تربیت کی جاتی ہے۔(اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ملک و بیرونِ ملک جامعۃ المدینہ کی 526شاخیں قائم ہیں جن میں 42770(بیالیس ہزار سات سو ستر)سے زائدطلبہ وطالبات درسِ نظامی (عالم کورس ) کی تعلیم حاصل کررہے ہیں اور 6871 طلبہ وطالبات درسِ نظامی مکمل کرچکے ہیں۔)طباعت کے ذریعے خدمتِ قراٰن (1)اشاعتِ قراٰنِ پاک:دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے ”مکتبۃ المدینہ“سے قراٰنِ پاک کے مختلف لائنوں اور سائزوں پر مشتمل متعدد نسخے شائع کئے گئے ہیں جبکہ معیار میں مزید بہتری لانے کیلئے مشہور اِشاعتی مرکزبیروت(لُبْنان)سے بھی قراٰنِ پاک کی اشاعت کا اِہتمام کیا گیا ہے۔ (اب تک تقریباً 2لاکھ89ہزار 769 نسخے شائع کئے جا چکے ہیں۔) (2)مدنی قاعدہ:تجوید و قرأت کے بنیادی قواعد کو آسان انداز میں سکھانے کے لئے ”مدنی قاعدہ“ مرتّب کیا گیا ہے۔ (اب تک دومختلف سائز میں مدنی قاعدے کے تقریباً 57لاکھ 94ہزار436 نسخے شائع ہوچکے ہیں) (3)کنزالایمان مع خزائن العرفان: اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن کا شاہکار ترجمۂ قراٰن ”کنز الایمان“ اور اس پر صدرُالافاضل مفتی نعیم الدین مُراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادِی کا تفسیری حاشیہ ”خزائن العرفان“ کسی تعارُف کا محتاج نہیں ہے۔ مکتبۃ المدینہ نے اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَہ کے تعاون سے کنزالایمان مع خزائن العرفان کا اَغلاط سے حتی المقدور پاک، تسہیل شدہ اور معیاری نسخہ شائع کیا ہے۔(اب تک اس کے 87 ہزار 107نسخے شائع ہو چکے ہیں) (4)مَعْرِفَۃُ القراٰن عَلٰی کَنْزِالْعِرْفَان: یہ 6جلدوں پر مشتمل قراٰنِ پاک کا جدیدانداز میں ”لفظی ترجمہ“ ہے جو حُسنِ صُوری و معنوی کا مجموعہ ہے، مختلف رنگوں کے استعمال کی وجہ سے ہر لفظ کا ترجمہ الگ معلوم کیا جاسکتا ہے، جبکہ بامحاورہ ترجمہ ”کنز العرفان“ بھی شامل ہے(جو الگ سے بھی شائع ہوگا) آیات کے عنوانات اور ضَروری حاشیے بھی دئیے گئے ہیں۔ (تادمِ تحریر 5جلدوں کے مجموعی طور پر تقریباً ایک لاکھ دو ہزار 119 نسخے شائع ہوچکے ہیں) (5)صِراطُ الْجِنَان:موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق اُردو زبان میں 10جلدوں پرمشتمل تفسیرصِراطُ الْجِنَاناُمّتِ مُسلمہ کے لئے ایک عظیم تحفہ ہے جس کو پڑھنے سے محبتِ قراٰن، ذوقِ تلاوت اور شوقِ عبادت بڑھتا اور دِینی معلومات کا خزانہ ہاتھ آتا ہے، یہ اردوزبان کی بہترین تفسیرہے۔(اب تک مجموعی طور پر اس کے 1 لاکھ 84ہزار567نسخے شائع ہو چکے ہیں) (6)جلالین مع حاشیہ اَنوارُالْحَرَمَیْن:تفسیرِ جلالین امام جلال الدّین محلی اور امام جلالُ الدِّین سیوطی شافعیرحمۃ اللہ تعالٰی علیھما کی مشترکہ تصنیف ہے جو کہ درسِ نظامی (عالِم کورس) میں پڑھائی جاتی ہے۔ اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَہ کا شعبہ درسی کتب اس عظیم تفسیر پر حاشیہ اَنوارُ الْحَرَمَیْن کے نام سے کام کررہا ہے۔ (مکتبۃ المدینہ اب تک 6جلدوں میں سے 2 جلدوں کے تقریباً 7167نسخے شائع کرچکا ہے، مزید پر کام جاری ہے۔) (7)بیضاوی مع حاشیہ مقصود الناوی: ”تفسیرِ بیضاوی“ علامہ ناصرُ الدین عبداللہ بن عمربَیْضَاویعلیہ رحمۃ اللہ القَوی کی مشہور تفسیر کا جتنا حصّہ درسِ نظامی میں شاملِ نصاب ہے، اس پر اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَہ کی طرف سے ”مقصودُ النّاوِی“ کے نام سے حاشیہ مُرَتَّب کیا گیا ہے(اب تک اس کے تقریباً 5000نسخے شائع ہوچکے ہیں) (8)تفسیر سُورۂ نور: اسلامی بہنوں کےجامعاتُ المدینہ میں درسِ نظامی کے علاوہ ”فیضانِ شریعت کورس“ بھی کروایا جاتا ہے۔ اس کی نصابی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ”تفسیر سورۂ نور“ نامی کتاب تیار کی گئی ہے جسے 18اَسباق میں تقسیم کیا گیا ہے۔(تادمِ تحریر یہ کتاب 5ہزار کی تعداد میں چھپ چکی ہے) (9)فیضانِ یٰسۤ شریف مع دعائے نصف شعبانُ المعظّم:شعبان المعظم کی پندرھویں (15) رات یعنی شبِ برأت میں بعد نمازِ مغرب 6 نوافل کا سلسلہ ہوتا ہے جن کے درمیان سورۂ یٰسٓ شریف اور دُعائے نصف شعبان پڑھی جاتی ہے۔ (اب تک اس کے تقریباً 2لاکھ 25ہزار نسخے شائع ہو چکے ہیں) (10)مدنی پنج سُورہ:یہ شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت حضرت علّامہ مولانا محمد الیاس عطّاؔر قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی تالیف ہے جس میں مشہور قراٰنی سورتوں کے فضائل اور ان کا مَتن و ترجمہ، درود شریف کے فضائل، مختلف وظائف اور رُوحانی علاج وغیرہ شاملِ تحریر ہیں۔(اب تک تقریباً13 لاکھ 85 ہزار نسخے شائع ہوچکے ہیں) (11)آیاتِ قراٰنی کے اَنوار: دعوتِ اسلامی کی طرف سے بالخصوص تعلیمی اداروں کے طلبہ و اساتذہ اور دیگر عملے نیز اسلامی بہنوں کے لئے ”فیضانِ قراٰن و حدیث کورس“ کا سلسلہ شروع کیاگیا ہے ۔’’ آیاتِ قراٰنی کے انوار“ نامی رسالہ اسی کورس کے لئے ترتیب دیا گیا ہے۔(اب تک تقریباً 37 ہزار 6سو کی تعداد میں چھپ چکا ہے) (12)عجائب القرآن مع غرائب القرآن: یہ کتاب شیخ الحدیث حضرت علامہ عبدالمصطفیٰ اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی تالیف ہے جس میں قراٰنی واقعات کو دلچسپ انداز میں بیان کیا گیا ہے، مکتبۃ المدینہ نے اس کا تخریج شدہ نسخہ شائع کیا ہے(اب تک اس کے تقریباً1 لاکھ نسخے شائع ہوچکے ہیں) (13)فیضانِ تجوید:علمِ تجوید کے اُصول و قوانین کو آسان انداز میں پیش کرنے کے لئے اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَہ کی طرف سے ”فیضانِ تجوید“ کے نام سے کتاب مُرَتَّب کی گئی ہے۔ (اب تک اس کے تقریباً 44ہزار850 نسخے شائع ہوچکے ہیں) (14)آئیے قراٰن سمجھتے ہیں: اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کے لئے یہ ایک نصابی کتاب ہے جو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ عنقریب منظرِ عام پر آجائے گی۔(نوٹ: مذکورہ بالا کتابوں کی اشاعت کے حوالے سے یہاں جو تعداد ذ کر کی گئی وہ ہارڈ کاپی کی صورت (کتابی شکل) میں ہے، سافٹ کاپی (PDFوغیرہ) کی صورت میں بھی یہ کتابیں دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ www.dawateislami.net پر موجود ہیں جنہیں مفت ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔) بیانات کے ذریعے خدمتِ قراٰن خدمتِ قراٰنِ پاک کے لئے بیانات کے میدان میں بھی دعوتِ اسلامی کی کثیر کاوشیں ہیں، مدنی چینل پر فیضانِ قراٰن کو عام کرنے والے کئی سلسلے پیش کئے، بعض اب بھی جاری ہیں مثلاً: (1)فیضانِ قراٰن (2)تفسیرِ قراٰن (3)قراٰن کی روشنی میں (4)قراٰنی سورتوں کا تعارف (5)احکامِ قراٰن (6)شانِ نزول (7)صِرَاطُ الْجِنَان (8)قراٰنی واقعات (9)میرے ربّ کا کلام (10)فیضانِ کنزالایمان (11)کتابُ اللہ کی باتیں (12)قراٰنی قصّے (13)قراٰنی مثالیں اور اسباق (14)فیضانِ علم القراٰن (15)ایک قصّہ ہےقراٰن سے، (17)Blessing of Quran (16)Wonder of Quran(18)Summary of Tafseer ul Quran (19)In the light of Quran (20)Learn Quran (21)The Excellence of the Holy Quran عملی میدان میں خدمتِ قراٰن عملی میدان میں بھی دعوتِ اسلامی مسلمانوں میں قراٰنِ پاک کی محبت اور اس کے احکام پر عمل کا جذبہ بیدار کرنے میں مصروف ہے۔ نمازِ فجر کے بعد مدنی حلقے میں اجتماعی طور پر3 آیاتِ قراٰنی کی تلاوت اور ترجمہ و تفسیر پڑھنے سننے کا سلسلہ ہوتا ہے نیز مدنی انعامات میں روزانہ رات سورۂ ملک کی تلاوت کرنے، آخری 10 سورتیں زبانی یاد کرکے مہینے میں ایک بار پڑھنے اور مخارج کی درست ادائیگی کے ساتھ کم از کم ایک بار قراٰنِ پاک ختم کرکے سال میں دُہرانے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پانچ پانچ ماہ کے ”اِمامت کورس“اور ”مُدَ رِّس کورس“میں جبکہ 7 ماہ کے”قاعدہ ناظِرہ کورس “میں اور12 ماہ کے ”فیضان ِ تجوید وقِراءَت کورس“ میں دیگر مسائل و اَحکامات کے ساتھ ساتھ مَدَنی قاعدہ اور مکمل قراٰن پاک حَدرکے ساتھ پڑھایا جاتا ہےنیز”مُدَرِّس کورس “میں مخصوص سورتیں اور عَمَّ پارہ(پارہ 30) ترتیل کے ساتھ پڑھناسکھایا جاتا ہے ۔اللہ کریم دعوتِ اسلامی کی خدماتِ قراٰن قبول فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

یہی ہے آزو تعلیم ِ قراٰں عام ہو جائے ہر اِک پرچم سے اونچا پرچمِ اسلام ہو جائے


ہر دور میں اللہ پاک کے نیک بندوں نے وقت کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر دینِ اسلام کے لئے اپنی خدمات انجام دیں چونکہ ان حضرات کی دینی خدمات کا دائرہ کار بڑھتے بڑھتے دنیا کے کئی خطّوں میں پھیلا اور خوش گوار اور مثبت معاشرتی تبدیلیوں کا سبب بنا اس لئے دنیا نے بھی ان حضرات کی بے مثال دینی خدمات کو ”انقلابی کارنامے“ کے عنوان سے یاد رکھا۔

پندرہویں صدی ہجری کی عظیم علمی و روحانی شخصیت شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ان ہستیوں میں سے ایک ہیں جنہیں اللہ کریم نے کئی کمالات عطا کئے جن میں سے اِصلاحِ امت کے جذبے سے سَرشار دل، چٹانوں سے زیادہ مضبوط حوصلہ، معاملہ فہمی کی حیرت انگیز صلاحیت، نیکی کی دعوت میں پیش آنے والے مسائل کو حل کرنے اور مشکلات کا سامنا کرنے کی ہمّت سرِ فہرست ہیں۔

امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے کثرتِ مطالعہ اور اَکابر علَمائے کرام کی صحبت کی بدولت شَرْعی احکام پر حیرت انگیز دسترس حاصل کی، یوں آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی شخصیّت اِردگِرد کو منوّر کرنے والا ہیرا بَن گئی۔ جوانی کے زمانے میں آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ایک عرصے تک نور مسجد میٹھادر میں اِمامت کے فرائض سَرانجام دئیے۔ معاشرے میں بے عملی کو طوفان کی صورت اِخْتِیار کرتا ہوا دیکھ کر آپ نے بے عملی کے آسیب سے چھٹکارا دلانے کے لئے عملاً کوششیں فرمائیں۔ مسجد میں آنے والے نَمازیوں کی مدنی تربیَت اور مساجد سے دور مسلمانوں کا ناطہ مسجد سے جوڑنے کے لئے پُراثر نصیحت اور خیر خواہی کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے خوشی غمی میں شرکت نے آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو ہر دل عزیز بنا دیا۔ مقصد بڑا اور لگن سچی ہو تو منزل تک پہنچنے کے اسباب خود ہی پیدا ہوجاتے ہیں، چونکہ آپ پر امت کی اِصلاح کی دُھن سوار تھی، آپ کی لگن سچی اور مقصد نیک تھا اسی لئے آپ کی پُراثر دعوت کو بےپناہ مقبولیت ملی۔

آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے دعوتِ اسلامی بنانے سے لے کر عالمگیر سطح پر پھیلانے کے سلسلے میں جو اَن گنت دینی خدمات انجام دیں وہ تمام کی تمام ان دو پہلوؤں کے اِرد گِرد گھومتی ہیں:

انفرادی اصلاح آپ نے انسان کی شخصیت کو درست سمت کی جانب گامزن کرنے کے لئے عملی جد و جہد فرمائی، جھوٹ، غیبت، چغلی اور فحش گوئی جیسے کئی ظاہری و باطنی امراض سے نجات دلانے کا بیڑا اٹھایا، ذاتی اِحتساب (Self-Accountability) کے لئے اپنے گزشتہ اعمال پر غور کرنے کا ذہن دیا اور اس کے لئے مدنی انعامات“ کا مضبوط نظام متعارف (Introduce) کروایا۔ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی صحبت دراصل ”کردار سازی کا وہ کارخانہ ہے کہ جہاں انسان کے ظاہر و باطن کے زنگ کو دور کرکے محبتِ الٰہی اور عشق مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے رنگ سے مزین کیا جاتا ہے، اخلاق و کردار کی خوشبو اس میں رچائی جاتی ہے، حسنِ اعمال کے نگینوں سے آراستہ کرکے اُسے معاشرے کے لئے پُرکشش بنایا جاتا ہے اور دینِ اسلام کا ایسا درد اور سوز اس کے دل و دماغ میں بسایا جاتا ہے جو اسے ایک باکردار انسان، دینِ اسلام کا متحرک مبلغ اور معاشرے کا خیرخواہ بننے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ آپ کی اس جدو جہد کو دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ امیرِ اہلِ سُنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی ذاتِ گرامی عصرِ حاضر میں شخصی تعمیر (Self-Development) کا مُسْتَنَد اور مؤثر ذریعہ ہے۔ اِنفرادی اصلاح کے اس خوب صورت نظام سے فیض یاب ہونے والوں میں دولتِ اسلام سے سرفراز ہونے والے لاتعداد نَومسلم بھی شامل ہیں۔

اجتماعی اصلاح یقیناً فرد کی اصلاح سے معاشرے کی اِصلاح ہوتی ہے مگرفرد کے اخلاق و کردار میں نیکی کاعُنصر بر قرار اور دیرپا رکھنےلئے سازگار معاشرتی ماحول درکار ہوتا ہے۔ اسی لئے امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے معاشرتی اصلاح کی جانب خصوصی توجہ فرمائی۔ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے نیکی کی دعوت عام کرنے اور معاشرے کی اِصلاح کے لئے خود مدنی قافلوں میں سفر کرکے اس کی اہمیت اور ضَرورت کو اجاگر کیا اور اس کارِ خیر کو خوش اسلوبی سے انجام دینے کے لئے ایسے تربیَت یافتہ مبلغین فراہم کئے جو غیر مسلموں کو ایمان کی دعوت دینے، فاسِقوں کو متقی بنانے، غافِلوں کو خوابِ غفلت سے جگانے، جہالت کے اندھیرے کا خاتمہ کرکے عِلم و مَعرِفَت کا نور پھیلانے میں مصروف ہیں اور مسلمانوں کو یہ مدنی مقصد اپنانے کی ترغیب دلا رہے ہیں کہ ”مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔“ یوں پاکستان سے اٹھنے والی عاشقانِ رسول کی مَدَنی تحریک دعوتِ اسلامی دنیا کے کثیر ممالک میں اپنی بہاریں لُٹا رہی ہے۔

آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے دعوتِ اسلامی کے انتظامی معاملات کو اپنی ذات تک محدود نہ رکھا بلکہ مبلغین دعوتِ اسلامی میں سے چن چن کر ہیرے جمع کئے اور اسے مجلسِ شوریٰ کی لَڑی میں پرویا اور دعوتِ اسلامی کا نظام مرکزی مجلسِ شوریٰ کے حوالے کردیا۔ معاشرے کو جس جس میدان میں اِصلاح کی ضرورت پیش آتی گئی دعوتِ اسلامی نے اس کیلئے شعبے قائم فرمائے اس سلسلے میں:

اشاعتِ علم کے لئے جامعاتُ المدینہ اور دارُالمدینہ جیسی عصرِ حاضر سے ہم آہنگ درس گاہیں، حفظِ قراٰن میں مصروف مدرسۃ المدینہ، المدینۃ العلمیہ جیسا علمی و تحقیقی شعبہ، مکتبۃ المدینہ جیسا اہلِ سنّت کا اشاعتی ادارہ، معاشرے کے مختلف طبقوں کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے دلچسپ اور معلوماتی مضامین پر مشتمل ماہنامہ فیضانِ مدینہ کا اجراء اور لوگوں کے روز مرہ پیش آنے والے مسائل کے بروقت شرعی حل کے لئے دارالافتا اہلِ سنّت کا قیام سرفہرست ہے۔ جبکہ عالَمِ اسلام کا 100فیصد اسلامی چینل ”مدنی چینل“ تو ایک نئی تاریخ رقم کررہا ہے۔ معاشرے میں دینِ متین کی ترویج و اشاعت ((Propagation and Publicationکیلئے امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی خدمات کا دائرہ کار 104سے زائد شعبہ جات پر مشتمل ہے۔ دعوتِ اسلامی جیسی فعال غیر سیاسی تحریک انقلابی کارناموں کی ایک ناقابلِ فراموش تاریخ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی دینی خدمات سورج کی طرح روشن ہیں جن کا اعتراف آج دنیا بھر میں کیا جارہا ہے۔ 26رمضان المبارک اس انقلابی شخصیت کا یومِ ولادت ہے جسے مختلف ممالک کے عاشقانِ رسول اسلام کی روشن تعلیمات کو عملی طور پراپنانے کے عزم اور شیطان کے خلاف اعلانِ جنگ کرکے مناتے ہیں۔

اےخُدا میرے عطار کوشادرکھ

ان کے سارے گھرانے کو آباد رکھ


تحریر: مولانا سید کریم الدین  عطاری مدنی

اسکالر اسلامک ریسرچ سینٹر المدینۃ العلمیہ، دعوتِ اسلامی

حضرتِ سیِّدُناامام زَین العابدین علی بن حسین رضی اللہ عنہماکی وِلادت 38 میں مدینۃ المنورہ میں ہوئی ۔آپ کے والدِ بزرگوار حضرتِ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اپنے والدِ ماجد حضرتِ سیِّدُنا علی رضی اللہ عنہ سے اظہارِ عقیدت کے لئے اپنے بچوں کے نام علی رکھتے تھے۔ اسی مناسبت سے امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کا نام بھی علی ہے اور کنیت ابومحمد، ابوالحسن ، ابوالقاسم اور ابوبکر ہے،جبکہ کثرتِ عبادت کے سبب آپ کا لقب سجاد ،زین العابدین، سیدالعابدین اور امین ہے ۔آپ کی والدہ ماجدہ حضرتِ سیِّدَتُناشہر بانورضی اللہ عنہا فارس کے آخری بادشاہ یزدجرد کی بیٹی تھیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے 2سال تک اپنے دادا حضور حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی آغوشِ عاطفت میں پرورش پائی، پھر 10سال اپنے تایا جان حضرتِ سیِّدُناامام حسن رضی اللہ عنہ کے زیرِ سایہ رہے اور تقریباً 11سال اپنے والد ماجد حضرتِ سیِّدُنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی زیرِ نگرانی تربیت پاکر علوم معرفت کی منازل طے کیں ۔

چہرے کا رنگ زرد پڑ جاتا

آپ رضی اللہ عنہ اپنے اکابرین رضی اللہ عنہم کی پاکیزہ زندگیوں کی چلتی پھرتی تصویر تھے اور خوفِ خدا میں یگانہ روزگار تھے ۔آپ رضی اللہ عنہ جب وضو کرتے تو خوف کے مارے آپ کے چہرے کا رنگ زرد پڑ جاتا۔ گھر والے دریافت کرتے ، ''یہ وضو کے وقت آپ کو کیا ہوجاتا ہے؟'' تو فرماتے : ''تمہیں معلوم ہے کہ میں کس کے سامنے کھڑے ہونے کا ارادہ کر رہا ہوں؟'' (احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۶)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

بے ہوش ہو گئے

ایک مرتبہ آپ رضی اللہ عنہ نے حج کا احرام باندھا تو تلبیہ (یعنی لبیک) نہیں پڑھی ۔ لوگوں نے عرض کی ،''حضور! آپ لبیک کیوں نہیں پڑھتے ؟'' آبدیدہ ہو کر ارشاد فرمایا،''مجھے ڈر لگتا ہے کہ میں لبیک کہوں اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ''لاَ لَبَّیْکْ''کی آواز نہ آجائے ، یعنی میں تو یہ کہوں کہ'' اے میرے مالک ! میں بار بار تیرے دربار میں حاضر ہوں ۔'' اور ادھر سے یہ آواز نہ آجائے کہ'' نہیں نہیں ! تیری حاضری قبول نہیں ۔''لوگوں نے کہا ، ''حضور! پھر لبیک کہے بغیر آپ کا احرام کیسے ہوگا؟'' یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے لَبَّیْکْ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکْ لَبَّیْکَ لاَشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکْ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْک لاَشَرِیْکَ لَکْ پڑھا لیکن ایک دم خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ سے لرز کر اونٹ کی پشت سے زمین پر گر پڑے اور بے ہوش ہو گئے ۔ جب ہوش میں آتے تو ''لبیک'' پڑھتے اور پھر بے ہوش ہوجاتے ، اسی حالت میں آپ رضی اللہ عنہ نے حج ادا فرمایا۔(اولیائے رجال الحدیث ص۱۶۴ )

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

میدانِ کربلا کی طرف جانے والے حسینی قافلے کے شرکاء میں آپ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے

میدانِ کربلا کی طرف جانے والے حسینی قافلے کے شرکاء میں آپ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے مگر جب ۱۰ محرم الحرام کوبزمِ شہادت سجی تو آپ شدید بیمار تھے ۔ چُنانچہ آپ رضی اللہ عنہ حسینی قافلے کے واحد مرد تھے جو اس معرکہ حق وباطل کے بعد زندہ بچے تھے ۔ 58برس کی عمر میں ولید بن عبدالملک نے آپ کو زہر دیا جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ محرم الحرام ۹۴؁ھ میں شہادت کے منصب پر فائز ہوکر مدینہ شریف میں جنت البقیع میں آرام فرما ہوئے ۔

اللہ عَزّوَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

اونٹنی سُدھر گئی

ایک مرتبہ امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کی اونٹنی نے شوخی کرنا شروع کر دی۔ آپ نے اسے بٹھایا اور کوڑا دکھایا اور فرمایا : سیدھی ہو کر چلو ورنہ یہ دیکھ لو ! چنانچہ اس کے بعد اس نے شوخی چھوڑ دی۔ (جامع کرامات اولیاء ،ج۲،ص۳۱۱)

اللہ عَزّوَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

اسم اعظم

حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے خواب میں دیکھا کہ اسمِ اعظم '' اَللہُ اَللہُ اَللہُ الَّذِيْ لَا إِلٰہَ إِلَّا ھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ '' ہے۔ (''فتح الباري''، باب للہ مائۃ اسم غیر واحدۃ، ج۱۱، ص۱۸۹، (بحوالہ ابن ابی الدنیا).

حدیث پر عمل کا جذبہ اور سخاوت امام زین العایدین

صحیحین میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حضوراقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص مسلمان غلام کو آزاد کریگا اسکے ہر عضو کے بدلے میں اﷲتعالیٰ اس کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد فرمائے گا۔'' سعید بن مرجانہ کہتے ہیں میں نے یہ حدیث علی بن حسین (امام زین العابدین) رضی اﷲتعالیٰ عنہما کو سنائی اونھوں نے اپنا ایک ایسا غلام آزاد کیا جس کی قیمت عبداﷲ بن جعفر دس ۱۰ ہزار دیتے تھے۔ (صحیح البخاري''،کتاب العتق،باب فی العتق وفضلہ، الحدیث : ۲۵۱۷،ج۲،ص۱۵۰.)

امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کے پاس نبی کریم ﷺ کی تلوار

حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس تلوار ''ذوالفقار'' حضرت زین العابدین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس تھی۔ جب حضرت امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد وہ مدینہ منورہ واپس آئے تو حضرت مسور بن مخرمہ صحابی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا مجھے یہ خطرہ محسوس ہو رہا ہے کہ بنو امیہ آپ سے اس تلوار کو چھین لیں گے۔ اس لئے آپ مجھے وہ تلوار دے دیجئے جب تک میرے جسم میں جان ہے کوئی اِس کو مجھ سے نہیں چھین سکتا۔ (بخاری جلد۱ ص۴۳۸ باب ما ذکر من درع النبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)

امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کی کرامت

حجاج ابن یوسف کے وقت میں جب دوبارہ حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہ اسیر کئے گئے اور لوہے کی بھاری قید و بند کا بارِگراں ان کے تنِ نازنین پر ڈالا گیا اور پہرہ دارمتعین کردئیے گئے، زہری علیہ الرحمہ اس حالت کو دیکھ کر روپڑے اور کہا کہ مجھے تمنا تھی کہ میں آپ کی جگہ ہوتا کہ آپ پر یہ بارِمصائب دل پرگوارا نہیں ہے۔اس پر امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیاتجھے یہ گمان ہے کہ اس قیدو بند ش سے مجھے کرب و بے چینی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اگر میں چاہوں تو اس میں سے کچھ بھی نہ رہے مگر اس میں اجر ہے اور تَذَکُّرہے اور عذابِ الٰہی عزوجل کی یادہے۔ یہ فرماکر بیڑیوں میں سے پاؤں اور ہتھکڑیوں میں سے ہاتھ نکال دئیے۔

یہ اختیارات ہیں جو اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے کرامۃً انھیں عطا فرمائے گئے اور وہ صبر و رضا ہے کہ اپنے وجود اور آسایشِ وجود ، گھر بار،مال و متاع سب سے رضائے الٰہی عزوجل کیلئے ہاتھ اٹھالیتے ہیں اور اس میں کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتے۔ اللہ تعا لیٰ ان کے ظاہری و باطنی برکات سے مسلمانوں کو متمتع اور فیض یاب فرمائے اور ان کی اخلاص مندانہ قربانیوں کی برکت سے اسلام کو ہمیشہ مظفرو منصور رکھے۔آمین۔وَصَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلیٰ خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہٖ وَعِتْرَتِہٖ اَجْمَعِیْنَ۔(المنتظم، سنۃ اربع وتسعین، ۵۳۰۔علی بن الحسین...الخ، ج۶، ص۳۳۰)

شجرے قادریہ عطاریہ شریف کا ایک شعر

سَیِّدِسجاد کے صدقے میں ساجد رکھ مجھے (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ )

عِلْمِ حَقْ دے باقِر علمِ ہُد یٰ کے واسِطے (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ )

مشکل الفاظ کے معانی:سجاد:کثرت سے سجدے کرنے والا ساجد:سجدہ کرنے والا

ہدی:ہدایت باقرِ علمِ ہُدٰی:علمِ ہدایت کے ماہِر عالم

دُعائیہ شعر کا مفہوم:

یا اللہ عَزَّوَجَلَّ! تجھے سَیِّدِسجاد یعنی حضرتِ سیدنا امام زین العابدین علی بن حسین رضی اللہ عنہما کا واسطہ مجھے سجدہ کرنے والا یعنی نَمازی بنااورباقرِ علمِ ہُدٰی یعنی امام حسین رضی اللہ عنہ کے پوتے امام باقر رضی اللہ عنہ کے وسیلہ سےعِلْم ِدین کی دولت سے مالا مال فرما ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم

''سجاد '' اور ''ساجد''میں معنوی مناسبت یہ ہے کہ دونوں میں ''س، ج اورد ''کا معنی ایک ہے یعنی سجدہ کرنے والا۔ جبکہ'' عَلَمِ ہُدٰی ''اور'' عِلْمِ حق ''میں لفظی مناسبت پائی جارہی ہے کہ دونوں میں ایک ہی طرح کے حُرُوف ''ع، ل اور م'' کا استعمال ہوا ہے۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

اس شعر میں سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ کے چوتھے اورپانچویں شیخِ طریقت یعنی حضرتِ سیدنا امام زین العابدین علی بن حسین رضی اللہ عنہما اوراِن کے فرزندِ ارجمندامام محمد باقر رضی اللہ عنہ کے وسیلے سے دُعا کی گئی ہے۔ (شرح شجرہ شریف مکتبہ المدینہ)

انسان نُما کُتّوں کا سالن

حضرتِ سیِّدُنا امام زین العابِدین علیہ رَحمَۃُ اللہِ المبین نے کسی شخص کو غیبت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا: غیبت سے بچو، کیونکہ یہ انسان نُما کُتّوں کا سالن ہے۔(ذَمُّ الْغِیبَۃلِابْنِ اَبِی الدُّنْیا ص۱۸۱رقم۱۶۱)

كُتّوں سے تشبیہ دینے كی وجہ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مظلوم کربلاحضرتِ سیِّدُنا امام زین العابدین علیہ رَحمَۃُ اللہِ المبین نے غیبت کرنے والوں کوانسان نُما کتّوں کے ساتھ اس لئے تشبیہ دی ہے کہ قراٰنِ مجید اور احادیثِ مبارَکہ میں غیبت کو مردار کا گوشت کھانے کی مثل بتایا گیا ہے اور مردار کاگوشت چبانا اور کھانا کتّوں کا کام ہے لہٰذا غیبت کرنے والے گویا کُتّوں کی مثل ہو کر آدمیوں کی اَقسام سے خارِج ہوئے کیونکہ اگر آدَمی ہوتے تو ان میں آدمی کی صفت ہوتی اور انسان کی خصلت ان میں پائی جاتی ،کسی کی غیبت نہ کرتے ،کسی کا گوشت کُتّوں کی طرح نہ چباتے۔

نبی کا صدقہ سدا غیبتوں سے دور رکھنا کبھی بھی چُغلی کروں میں نہ یا رب!

ترے حبیب اگر مسکراتے آ جائیں تو گورِتیرہ میں ہو جائے چاند نا یا رب!

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(غیبت کی تباکاریاں ص 324 مکتبہ المدینہ)

(''لبیک''کیسے کہوں؟۔۔۔۔۔۔ )

حضرت سَیِّدُنا امام علی بن حسین زین العابدین رضي اللہ تعالي عنہ علمِ حدیث میں اپنے والد ِ ماجد حضرت سَیِّدُنا امام حسین ودیگر صحابہ کرام رَضِیَ اللہ تعالٰی عَنہم کے وارث ہیں ۔ آپ بڑے خدا ترس تھے اور آپ کا سینۂ مبارک خشیتِ الٰہی کا سفینہ تھا ۔ ایک مرتبہ آپ نے حج کا احرام باندھا تو تلبیہ (یعنی لبیک)نہیں پڑھی ۔ لوگوں نے عرض کی ،''حضور! آپ لبیک کیوں نہیں پڑھتے ؟'' آبدیدہ ہو کر ارشاد فرمایا،''مجھے ڈر لگتا ہے کہ میں لبیک کہوں اور اللہ عزوجل کی طرف سے ''لاَ لَبَّیْکْ'' کی آواز نہ آجائے ، یعنی میں تو یہ کہوں کہ'' اے میرے مالک ! میں بار بار تیرے دربار میں حاضر ہوں ۔'' اور ادھر سے یہ آواز نہ آجائے کہ'' نہیں نہیں ! تیری حاضری قبول نہیں ۔''لوگوں نے کہا ، ''حضور! پھر لبیک کہے بغیر آپ کا احرام کیسے ہوگا؟'' یہ سن کر آپ نے بلند آواز سے لَبَّیْکْ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکْ لَبَّیْکَ لاَشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکْ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْک لاَشَرِیْکَ لَکْ پڑھا لیکن ایک دم خوفِ خد ل سے لرز کر اونٹ کی پشت سے زمین پر گر پڑے اور بے ہوش ہو گئے ۔ جب ہوش میں آتے تو ''لبیک'' پڑھتے اور پھر بے ہوش ہوجاتے ، اسی حالت میں آپ نے حج ادا فرمایا۔(اولیائے رجال الحدیث ص۱۶۴ )

سیّدنا امام زین العابدین کا سفید عمامہ

حضرت سیّدنامحمد بن ہِلال رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں :میں نے حضرت سیّدنا علی بن حسین (یعنی امام زین العابدین) کو سفید عمامہ شریف باندھتے دیکھا، آپ رضی اللہ عنہ عمامہ کا شملہ اپنی پیٹھ مبارک پر لٹکا تے تھے۔(تاریخ الاسلام، ۶/۴۳۲، تاریخ ابنِ عساکر، ۴۱/۳۶۵واللفظ لہ)

بعدِ وصال سخاوت کا پتا چلا

حضرت سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنی زندگی میں دو مرتبہ اپنا سارا مال راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں خیرات کیا اور آپ کی سخاوت کا یہ عالم تھا کہ آپ بہت سے غرباءاہلِ مدینہ کے گھروں میں ایسے پوشیدہ طریقوں سے رقم بھیجا کرتے تھے کہ ان غرباء کو خبر ہی نہیں ہوتی تھی کہ یہ رقم کہاں سے آتی ہے؟مگر جب آپ کا وصال ہو گیاتو ان غریبوں کو پتا چلاکہ یہ حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالٰی عنہ کی سخاوت تھی۔(سیر اعلام النبلاء،۵/۳۳۶)

گالی دینے والے کے ساتھ خیر خواہی

حضرتِ سَیِّدُنا امام زین العابدین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو کسی نے گالی دی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہمانے اسے اپنا مبارک کُرتا اور ایک ہزار درھم دینے کا حکم دیا۔ تو کسی نے کہا: آپ نے پانچ خصلتیں جمع کر لی ہیں :

(۱)بردباری(۲) تکلیف نہ دینا (۳) اس شخص کوایسی بات سے رہائی دینا جو اسے اللہ عزوجل سے دور کردیتی (۴) اسے توبہ وندامت کی طرف راغب کرنا (۵) برائی کے بعد تعریف کی طرف رجوع کرنا۔ آپ نے معمولی دنیا کے ساتھ یہ تمام عظیم چیزیں خرید لیں۔(احیاءالعلوم: ۳/۲۲۱)

حضرتِ سیِّدُنا زَیْنُ الْعابِدِیْن عَلِی بن حُسَیْن عَلَیْہِمَاالرَّحْمَہ

حضرتِ سیِّدُناامام زین العابدین علی بن حسین بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ تابعین مدینہ منورہ میں سے ہیں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ عابدین کی زینت، اطاعت گزاروں کے سردار، وفادار عبادت گزار اور مہربان سخی تھے۔(اللہ والوں کی باتیں۔۔۔جلد 3 /ص193)

دنیامیں پانچ حضرات بہت روئےہیں:

دنیامیں پانچ حضرات بہت روئےہیں:حضرتِ آدم عَلَیْہِ السَّلَامفراقِ جنت میں،حضرتِ نوح عَلَیْہِ السَّلام و(حضرتِ)یحیی عَلَیْہِ السَّلام مخوفِ خدامیں،حضرتِ فاطمہ زہرا(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا)فراقِ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم میں،حضرتِ امام زین العابدین (عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن)واقعَۂ کربلاکےبعدحضرتِ حسین(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)کی پیاس یادکرکے۔ (مراٰۃ المناجیح،۸/ ۲۹۱)

پانچ قسم کے لوگوں کی صحبت سے بچو:

حضرتِ سیِّدُنامحمدبن علی باقر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَافِرفرماتے ہیں:میرےوالدِماجدحضرتِ سیِّدُنااِمام زینُ العابدین علی بن حسین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَانے مجھے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:’’پانچ قسم کے لوگوں کی نہ تو صحبت اختیار کرنا، نہ ان سے گفتگو کرنا اورنہ ہی سفر میں ان کی رفاقت اختیار کرنا۔‘‘میں نے عرض کی:میں آپ پر قربان!وہ کون ہیں؟فرمایا: ’’فاسق کی صحبت اختیار نہ کرنا کیونکہ وہ تجھے ایک یا ایک سے کم لقمہ کے بدلے میں بیچ دے گا۔‘‘میں نے عرض کی:لقمے سے کم کیامراد ہے؟فرمایا:’’لقمے کا لالچ کرے گا لیکن اسے حاصل نہیں کر سکے گا۔‘‘میں نے عرض کی:دوسرا شخص؟ فرمایا:’’بخیل کی صحبت میں نہ بیٹھنا کیونکہ وہ ایسے وقت میں تجھ سے مال روک لے گا جب تجھے اس کی سخت حاجت وضرورت ہوگی۔‘‘میں نے عرض کی:تیسراکون ہے؟ فرمایا:’’جھوٹے کی صحبت میں نہ بیٹھنا کیونکہ وہ سَراب کی طرح ہے جو تجھ سے قریب کو دور اور دور کو قریب کر دےگا۔‘‘میں نے عرض کی:چوتھا شخص؟فرمایا:’’اَحمق(بےوقوف) کی صحبت اختیار کرنے سے بچنا کیونکہ وہ تجھےفائدہ پہنچانے کی کوشش میں نقصان پہنچادےگا۔‘‘میں نے عرض کی:پانچواں شخص کون ہے؟فرمایا: ’’رشتہ داروں سے قطع تعلُّق کرنے والے کی صحبت میں بیٹھنے سے بچنا کیونکہ میں نے کتابُاللہ میں تین مقامات پراسے ملعون پایا ہے۔‘‘

حضرت سیِّدُناامام زینُ العابدین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:سخی وہ نہیں جو مانگنے والوں کو دیتا ہے بلکہ سخی وہ ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فرمانبرداروں کے حقوق کی ادائیگی میں پہل کرتا ہےاور اپنی تعریف کا خواہشمند نہیں ہوتا بشرطیکہ بارگاہِ خداوندی سے کامل ثواب کا یقین رکھے۔(احیا العلوم ج3 /739)

فاروقِ اعظم سیِّدُنا امام زین العابدین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پھوپھا:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیِّدُنا امام زین العابدین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پھوپھاہیں ، کیونکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بیٹے ہیں اور سیدتنا ام کلثوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بہن ہیں اور والدکی بہن پھوپھی ہوتی ہےاور پھوپھی کا شوہر پھوپھا ہوتا ہے ، چونکہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سیدتنا اُمّ کلثوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے شوہر ہیں لہٰذاوہ آپ کےپھوپھا ہوئے۔(طبقات کبری، بقیۃ الطبقۃ الثانیۃ من التابعین، ج۵، ص۱۶۲۔)

علم مغازی (وہ علم جس میں غزوات کے بارے میں معلومات ہو)

حضرت سیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے صاحبزادے حضرت سیِّدُنا امام زین العابدین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :

’’كُنَّا نَعْلَمُ مَغَازِي النَّبِيِّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا نُعَلِّمُ السُّوْرَةَ مِنَ الْقُرْآنِ

یعنی: ہم رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مغازی کا علم اس طرح حاصل کرتے جس طرح قرآن مجید کی سورتیں سیکھا کرتے تھے۔(البدایۃ والنھایۃ، ج۲، ص۶۴۲، سبل الھدی والرشاد، الباب الثانی، اختلاف الناس۔۔۔ الخ، ج۴، ص۱۰۔)

شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا امام زین العابدین

عہدِ رسالت میں شیخین کا مقام:

حضرت سیِّدُنا ابو حازم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت سیِّدُنا علی بن حسین امام زین العابدین رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ’’مَا کَانَ مَنْزِلَۃُ اَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ مِنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یعنی حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وسیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانے میں کیا مقام ومرتبہ تھا؟‘‘ فرمایا: ’’کَمَنْزِلِھِمَا الْیَوْمَ ھُمَا ضَجِیْعَاہُ یعنی عہدِ رسالت میں ان کا مقام ومرتبہ وہی تھا جو آج ہے کہ دونوں اس وقت بھی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دوست تھےا ور آج مزار میں بھی دونوں رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دوست ہیں ۔‘‘(مناقب امیر المومنین عمر بن الخطاب،الباب العشرون،ص۴۳۔)

زخمی کرنے والے کو اِنعام(حکایت)

غصہ پی جانے کی حقیقت یہ ہے کہ کسیغصہ دلانے والی بات پر خاموش ہوجائے اور غصے کے اظہار اور سزا دینے اور بدلہ لینے کی قدرت کے باوجود صبر وسکون کے ساتھ رہے ۔ حضرت سیِّدُنا امام زین العابدین رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ کو ان کی کنیزوضو کروا رہی تھی کہ اچانک اس کے ہاتھ سے لوٹا گرگیا جس سے وہ زخمی ہوگئے ، انہوں نے اس کی طرف سر اٹھا کر دیکھا تو اس نے عرض کی : اللہپاک ارشاد فرماتا ہے : وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ ’’اور غصّہ پینے والے ‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ نے فرمایا: قَدْ کَظَمْتُ غَیْظِیْ یعنی میں نے اپنا غصّہپی لیا ۔ اس نے پھر عرض کی: وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِؕ- ’’ اور لوگوں سے در گزر کرنے والے ‘‘ ارشاد فرمایا: قَدْ عَفَا اللّٰہُ عَنْکِیعنی اللہ پاک تجھے معاف کرے۔ پھر عرض گزار ہوئی: وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ’’ اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں ‘‘ ارشاد فرمایا: اِذْہَبِیْ فَاَنْتِ حُرَّۃٌ یعنی جا! تو آزاد ہے ۔(شُعَبُ الْاِیمان ج۶ص۳۱۷حدیث۸۳۱۷ ملخّصاً)

کیوں میری خطاؤں کی طرف دیکھ رہے ہو!

جس کو ہے مِری لاج وہ لج پال بڑا ہے

ابوجان سے مَحَبَّت کا عالَم

حضرتِ سیدنا امام حسین رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اپنے ابوجان حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضٰی شیرِ خُدا رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے بے حد پیار کرتے تھے اوراِسی وجہ سے آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے اپنے تمام شہزادوں (یعنی بیٹوں)کے نام ’’علی ‘‘رکھتے تھے۔ بڑے شہزادے (یعنی بڑے بیٹے ) کا نام ’’علی اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہ‘‘ہے۔ اُن سے چھوٹے جوکہ امام زین العابدین کے نام سے مشہور ہیں مگر اِن کا اَصل نام ’’علی اَوسط رَضِیَ اللہُ عَنْہُ ‘‘ ہےاورسب سےچھوٹے شہزادے ، ننھے ننھے پیارے پیارے ’’علی اصغررَضِیَ اللہُ عَنْہُ ‘‘ہیں۔ (امام زین العابدین رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے علاوہ دونوں شہزادےاپنے ابوجان کے ساتھ’’میدانِ کربلا‘‘میں شہید ہوگئے تھے۔ )

اس شہیدِ بَلا شاہِ گُلگُوں قَبا بیکسِ دَشتِ غربت پہ لاکھوں سلام

(حدائقِ بخشش)

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد

جسم بیمار نہ ہو تو

حضرت سَیِّدُناامام زینُ العابدین علی بن حُسینرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیہ فرماتے ہیں:اگر جسم بیمار نہ ہو تو وہ اکڑ جاتا ہے اور اکڑنے والے جسم میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی۔(اللہ والوں کی باتیں،۳/۱۹۴)

تضمین بر نظم منسوب بہ زین العابدین رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ:

ایسا کوئی محرم نہیں پہنچائے جو پیغامِ غم

تو ہی کرم کردے تجھے شاہِ مدینہ کی قسم

ہو جب کبھی تیرا گزر بادِ صبا سوئے حرم

پہنچا مری تسلیم اس جا ہیں جہاں خیر الامم

اِنْ نِّلْتِ یَا رِیْحَ الصَّبَا یَوْمًا اِلٰیٓ اَرْضِ الْحَرَم

بَلِّغْ سَلَامِیْ رَوْضَۃً فِیْھَا النَّبِیُّ الْمُحْتَشَم

میں دُوں تجھے ان کا پتہ گر نہ تو پہچانے صبا

حق نے انہی کے واسطے پیدا کیے اَرض و سما

رخسار سورج کی طرح ہے چہرہ ان کا چاند سا

ہے ذات عالم کی َپنہ اور ہاتھ دریا جود کا

مَنْ وَّجْھُہٗ شَمْسُ الضُّحٰی مَنْ خَدُّہٗ بَدْرُالدُّجٰی

مَنْ ذَا تُہٗ نُوْرُ الْھُدٰی مَنْ کَفُّہٗ بَحْرُ الْھِمَمْ

حق نے انہیں رحمت کہا اور شافعِ عصیاں کیا

رتبہ میں وہ سب سے سوا ہیں ختم ان سے انبیا

وہ مَہبِطِ قران ہیں ناسخ ہے جو اَدیان کا

پہنچا جو یہ حکم خدا سارے صحیفے تھے فنا

قُرْاٰ نُہٗ بُرْہَانُنَا نَسْخًا لِّاَدْیَانٍ مَّضَتْ

اِذْ جَائَ نَا اَحْکَامُہٗ لِکُلِّ الصُّحُفِ صَارَ الْعَدَم

یوں تو خلیلِ کبریا اور اَنبیائِ باصفا

مخلوق کے ہیں پیشوا سب کو بڑا رُتبہ ملا

لیکن ہیں ان سب سے سوا دُرِّیتیمِ آمنہ

وہ ہی جنہیں کہتے ہیں سب مشکل کشا حاجت رَوا

یَا مُصْطَفٰی یَا مُجْتَبٰی اِرْحَمْ عَلٰی عِصْیَانِنَا

مَجْبُوْرَۃٌ اَعْمَالُنَا طَمَعْنًا وَّ ذَنْبًا وَّ الظُّلَمِ

اے ماہِ خوبانِ جہاں اے اِفتخارِ مرسلیں

گو جلوہ گر آخر ہوئے لیکن ہو فخر الاولیں

فرقت کے یہ رَنج و عنا اب ہوگئے حد سے سوا

اس ہجر کی تلوار نے قلب و جگر زخمی کیا

وہ لوگ خوش تقدیر ہیں اور بخت ہے ان کا رَسا

رہتے ہیں جو اس شہر میں جس میں کہ تم ہو خسروا

سب اَولین و آخریں تارے ہیں تم مہر مبیں

یہ جگمگائے رات بھر چمکے جو تم کوئی نہیں

اَکْبَادُنَا مَجْرُوْحَۃٌ مِّنْ سَیْفِ ہِجْرِ الْمُصْطَفٰی

طُوْبٰی لِاَھْلِ بَلْدَۃٍ فِیْھَا النَّبِیُّ الْمُحْتَشَم

اے دو جہاں پر رحمِ حق تم ہو شفیع المجرمیں

ہے آپ ہی کا آسرا جب بولیں نَفْسِیْ مرسلیں

اس بیکسی کے وقت میں جب کوئی بھی اپنا نہیں

ہم بیکسوں پر ہو نظر اے رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْن

یَا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ اَنْتَ شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْں

اَکْرِمْ لَنَا یَوْمَ الْحَزِیْنِ فَضْلًا وَّ جُوْدًا وَّ الْکَرَم

اس سالکِؔ بدکار کا گو حشر میں کوئی نہیں

لیکن اُسے کیا خوف ہو جب آپ ہیں اس کے ُمعیں

مجرم ہوں میں غفار رب اور تم شَفِیْعُ الْمُذْ نِبِیْں

پھر کیوں کہوں بیکس ہوں یَا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْں

یَا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْں اَدْ رِکْ لِزَیْنِ الْعَابِدِیْں

مَحْبُوْسُ اَیدِی الظَّالِمِیْنَ فِیْ مَرْکَبٍ وَّالْمُزْدَحِم

(دیوان سالک)

نام کی وجہ تسمیہ

سوال: زینُ العابدین اورسجاد نام رکھنا کیسا؟

جواب :عام لوگوں کے جو یہ نام رکھے جاتے ہیں تو اس میں خود ستائى پائی جاتی ہے۔ پنچ وقتہ نماز تو پڑھتا نہیں اور کہلا رہا ہے : سَجَّاد یعنی بہت زیادہ سجدے کرنے والا ، جمعہ کی نماز تک پڑھتا نہیں اور نام ہے : زَیْنُ الْعَابِدِیْن یعنی عبادت گزاروں کی زینت۔غلام زَیْنُ الْعَابِدِیْن نام رکھىں تو چل جائے گا لیکن زَیْنُ الْعَابِدِیْن نام رکھنے میں خودستائی پائی جا رہی ہے۔ زیادہ بہتر یہ ہے کہ حصولِ برکت کے لىے بزرگوں کے نام پر نام رکھے جائیں۔ اگر کوئی خود کو سَجَّاد ، شہزاد اور شہزادہ وغیرہ کہلواتا ہے تو اس سے اُلجھنا نہیں ۔ بعض لوگ اپنے بیٹے کا تعارف شہزادہ یا صاحب زادہ کہہ کر کرواتے ہیں ، گناہ اِس میں بھی نہیں ہے لیکن خودستائی سے بچنے کے لیے بہتر ہے کہ نہ کہا جائے۔ مىں تو اپنے بیٹے کو غرىب زادہ بولتا ہوں یعنی غرىب کا بىٹا۔(اجتماع کے فوائد ص23- 24مکتبۃ المدینہ)

تفسیرقرآن بزبان امام زین العابدین رضی اللہ عنہ خلفائے راشدین کے بارے میں ۔

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ ۱۴،الحجر:۴۷)

ترجمۂ کنزالایمان:’’اور ہم نے ان کے سینوں میں جو کچھ کینے تھے سب کھینچ لئے آپس میں بھائی ہیں تختوں پر روبرو بیٹھے۔‘‘

حضرت سیدنا امام زین العابدین علی بن حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ’’ یہ آیت مبارکہ بنوہاشم، بنوتمیم، بنو عدی ، حضرت سیدنا ابوبکر صدیق ،حضرت سیدنا عمر فاروق اور حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے بارے میں نازل ہوئی۔‘‘حضرت سیدنا ابوجعفرامام باقر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا گیا کہ حضرت سیدنا علی بن حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے جویہ بات منقول ہے کہ یہ آیت مبارکہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق ،حضرت سیدنا عمر فاروق اور حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے بارے میں نازل ہوئی درست ہے؟انہوں نے فرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَل َّکی قسم! یہ آیت انہیں کے بارے میں نازل ہوئی ہے اگران کے بارے میں نازل نہیں ہوئی توپھرکس کے بارےمیں نازل ہوئی ہے؟‘‘پوچھا گیا کہ اس میں توان کے کینے کا ذکر ہے حالانکہ ان کے دلوں میں توایک دوسرے کے لیے کوئی کینہ نہیں ہے؟فرمایا:’’اس کینے سے مراد زمانہ جاہلیت والا کینہ ہے جوان کے قبائل بنو عدی ، بنو تمیم، بنوہاشم میں پایاجاتاتھاجب یہ تمام لوگ اسلام لےآئے ،تو کینہ ختم ہوگیا اورآپس میں شیروشکر ہوگئے،نیزان کے مابین اس قدر الفت ومحبت پیداہوگئی کہ ایک بار حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پہلو میں درد ہوا توحضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اپنے ہاتھ کوگرم کرکے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پہلو کو ٹکور کرنے لگے۔ رب تعالٰی کو یہ ادا اتنی پسندآئی کہ اس پریہ آیت مبارکہ نازل فرمائی۔‘‘ (تفسیرالدرالمنثور،الحجر:۴۷، ج۵، ص۸۴۔۸۵)

سیدنا علی المرتضی وسیدنا صدیق اکبردونوں کی رشتہ داری

حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے صاحب زادے حضرت سیدنا امام حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ محترمہ حضرت سیدتنا شہر بانو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا اور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے بیٹے حضرت سیدنا محمد بن ابوبکر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ دونوں آپس میں سگی بہنیں تھی۔یعنی سیدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اور سیدنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ دونوں کی بہوئیں آپس میں سگی بہنیں تھیں۔حضرت سیدنا علی المرتضی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے دور خلافت میں حضرت سیدنا حریث بن جابرجعفی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے شاہ ایران یزد جردبن شہر یار کی دو بیٹیاں آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں بھیجی تو آپ نے ان میں سے بڑی بیٹی کا نکاح اپنے بیٹے حضرت سیدنا امام حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمادیا اور چھوٹی بیٹی کا نکاح حضرت سیدنا محمد بن ابوبکر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمادیا۔ان سے حضرت سیدنا امام حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے بیٹے حضرت سیدنا امام زین العابدین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ پیدا ہوئے اور حضرت سیدنا محمد بن ابوبکر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے بیٹے حضرت سیدنا قاسم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ پیداہوئے۔یوں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے بیٹے حضرت سیدنا محمد بن ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے بیٹے حضرت سیدنا امام حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ہم زلف ہوئے۔(لباب الانساب والالقاب والاعقاب،ابناء علی ،العلویۃ الجعفریۃ و العقیلیۃ،ج۱، ص۲۲ )

قطع رحمی کرنے والے کے ساتھ دوستی نہ کرو

حضرت سیِّدُنا امام باقر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَافِر فرماتے ہیں : میرے والد ِ گرامی حضرت سیِّدُنا امام زین العابدین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’قطع رحمی کرنے والے کے ساتھ دوستی نہ کرو کیونکہ میں نے قرآنِ پاک میں اسے 3 جگہوں پر ملعون پایا۔‘‘ اور پھر انہوں نے سابقہ 3 آیات پڑھیں یعنی قتال والی آیت ِ کریمہ میں صریح لعنت ہے، سورۂ رعد کی آیت ِ مبارکہ میں عمومی طور پر لعنت ہے کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جن چیزوں کے جوڑنے کا حکم دیا اس میں رحم (یعنی رشتہ داری )وغیرہ بھی شامل ہیں اور سورۂ بقرہ کی آیت ِمقدسہ میں لازمی طور پرلعنت ثابت ہے کیونکہ یہ ان چیزوں میں سے ہے جو خسارے کو لازم ہیں۔ حضرت سیِّدُنا امام ابوعبداللہ محمد بن احمد قرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۶۷۱ھ) نے اپنی تفسیر میں صلہ رحمی کے واجب اور قطع رحمی کے حرام ہونے پر امت کا اجماع نقل فرمایا ہے۔(جہنم میں لے جانے والے اعمال جلد 2 ص282)

ایک ہزار رکعت نفل

امام زین العابدین ہر شب ایک ہزار رکعت نفل پڑھتے تھے۔(مراۃ المناجیح جلد 6ص6)

امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کا اسم مبارک اور اولا مبارک کا تذکرہ خیر

زین العابدین: آپ کا نام عابد ہے،لقب علی اوسط،خطاب زین العابدین،آپ کی والدہ بی بی شہر بانو بنت یزد گرد شاہ ایران ہیں،شہر بانو ایران کی شاہزادی تھیں جو خلافت فاروقی میں گرفتار ہوکر مدینہ منورہ آئیں،حضرت عمر نے فرمایا کہ شاہزادی شاہزادے کو دی جاوے گی اور امام حسین سے آپ کا نکاح کردیا،ان کے شکم سے امام زین العابدین پیدا ہوئے،آپ کے بیٹے گیارہ اور بیٹیاں چھ۔ تفصیل یہ ہے بیٹے: محمد باقر،جعفر،ابو الحسن،زید،عبد اللہ،عبد الرحمن،سلیمان،عمر،اشرف،حسن اصغر،حسن اکبر علی۔بیٹیاں: خدیجہ،زینب،عالیہ،ام کلثوم،ملیکہ،ام الحسن،ام الحسین۔محمد،باقر،عبد اللہ،عمر،اشرف،زید شہید ہوئے۔(مراہ المناجیح جلد 8 ص 618)

علی ابن حسین ابن علی ابن ابی طالب: آپ کی کنیت ابو الحسن لقب امام زین العابدین سادات اہل بیت سے ہیں،جلیل القدر تابعی ہیں،امام زہری کہتے ہیں کہ میں نے ان سے افضل کوئی قرشی نہیں دیکھا آپ کی عمر ۵۸ اٹھاون سال ہوئی ۹۴ میں وفات ہوئی جنت بقیع میں اپنے تایا امام حسن کے ساتھ دفن ہیں،مترجم کہتا ہے کہ امام حسین کے تینوں بیٹوں کا نام علی ہے علی اکبر علی اوسط علی اصغر،حضرت علی اکبر اور علی اصغر تو کربلا میں شہید ہوئے علی اوسط یعنی امام زین العابدین وہاں سے بچ کر آئے بقیہ زندگی بغیر روئے ہوئے کبھی پانی نہ پیا آپ کی قبر زیارت گاہ خاص و عام ہے۔(مراہ المناجیح جلد 8 ص 583)

آپ تابعی ہیں

امام زین العابدین صحابی نہیں بلکہ تابعی ہیں(مراہ المناجیح جلد 8 ص217)

امام زین العابدین رضی اللہ عنہ سے مروی روایت

روایت ہے حضرت علی ابن حسین سے(ارسالًا) ۱؎ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نماز میں جب جھکتے اور اٹھتے تو تکبیر کہتے حضور کی یہی نماز رہی حتی کہ اﷲ تعالٰی سے مل گئے۲؎(مالک)

شرح

۱؎ آپ کا لقب زین العابدین ہے،کنیت ابوالحسن،اہل بیت اطہار سے ہیں،۵۸ سال کی عمر ہوئی، ۹۴ھ؁ میں وفات،چونکہ آپ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو نہ دیکھ سکے اس لیے تابعین میں سے ہیں اور یہ روایت مرسل ہے۔

۲؎ یعنی یہ عمل شریف منسوخ نہیں۔(مراہ المناجیح جلد 2 ص37)

حسینی سادات کا سلسلہ آپ ہی سے چلا

آپ کا نام جعفر،لقب امام صادق ہے،والد کا نام محمد،لقب امام باقر،ان کے والدکا نام علی اوسط،لقب امام زین العابدین ہے،حادثہ کربلا سے صرف امام زین العابدین ہی بچ کر آئے تھے،حسینی سادات آپ ہی کی نسل پاک سے ہیں،امام حسین کے درمیانے صاحبزادے ہیں۔(مراہ المناجیح جلد2 ص907)

،امام زین العابدین تو نماز پنجگانہ کے لئے جوڑا رکھتے تھے۔

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن سلام سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کسی پر کیا دشوار ہے کہ اگر ممکن ہو تو جمعہ کے دن کے لیئے دو کپڑے کام کاج کے کپڑوں کے سوا بنالے ۱؎(ابن ماجہ)اور مالک نے یحیی ابن سعید سے روایت کی۔

شرح

۱؎ یہ بھی مستحب ہے کہ جمعہ کا جوڑا الگ رکھے جو بوقت نماز پہن لیا کرے اور بعد میں اتار دیا کرے،امام زین العابدین تو نماز پنجگانہ کے لئے جوڑا رکھتے تھے۔(مراہ المناجیح جلد2 ص617)

امام زین العابدین کے صاحبزادے کا مقام ومرتبہ

جب استاد کا یہ عالم ہے تو جو قرب زمانہ کے حضور ﷺ کے زمانے کے قریب ہیں اور نسب میں بھی حضورﷺ کے قریب اورجب امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کا یہ عالم ہے کہ وہ حضور امام اعظم امام ابو حنیفہ کے استاد صاحب ہیں تو ۔۔۔۔۔ ان کے والد کا عالم کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔ جن کی تربیت کے عظیم شاہکارامام زین العابدین کے صاحبزادے ۔۔۔۔۔امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ ۔۔۔۔

امام اعظم کے استاد

سَیِّدنا امام اعظم علیہ الرحمۃعلم دین کے حُصول کے باوُجود امام اعظم علیہ رَحمۃُاللہ المُعَظَّم جیسے علم کے بیکراں سَمُنْدر نے بھی علومِ طریقت، حضرت امامِ جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی صحبتِ بابَرَکت و مجالس سے حاصل کئے۔امامِ اعظم علیہ رَحمۃُاللہ المُعَظَّم نے فرمایا! اگر میری زندگی میں یہ دوسال (جو میں نے امام جعفر صادق علیہ الرحمۃ کی خدمت میں گزارے) نہ ہوتے تونعمان(علیہ الرحمۃ) ہلاک ہوگیا ہوتا۔(آداب مرشد کامل ص171 مکتبۃ المدینہ )

((الألوسي، محمود شكري، مختصر التحفة الاثني عشرية، ص 8 ، ألّف أصله باللغة الفارسية شاه عبد العزيز غلام حكيم الدهلوي، نقله من الفارسية إلى العربية: (سنة 1227 هـ) الشيخ الحافظ غلام محمد بن محيي الدين بن عمر الأسلمي، حققه وعلق حواشيه: محب الدين الخطيب، دارالنشر: المطبعة السلفية، القاهرة، الطبعة: 1373 هـ .

اور دیکھئے : القنوجي البخاري، أبو الطيب السيد محمد صديق خان بن السيد حسن خان (متوفاى1307هـ الحطة في ذكر الصحاح الستة ، ج 1 ص 264 ، ناشر : دار الكتب التعليمية - بيروت ، الطبعة : الأولى 1405/ 1985م ).

امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ بھی تابعی ہیں

امام جعفر صادق ہیں،آپ امام زین العابدین کے فرزند ہیں، تابعی ہیں،(مراۃ المناجیح جلد4 ص577)

امام زینُ العابدین ابوالحسن علی اوسط ہاشمی قرشی:

سجادِ اُمّت، حضرت سیّدنا امام زینُ العابدین ابوالحسن علی اوسط ہاشمی قرشی علیہ رحمۃ اللہ القَوی شعبان 38ھ کو مدینۂ منورہ میں پیدا ہوئے اور محرمُ الحرام 94ھ میں وصال فرمایا۔ آپ کا مزار جنتُ البقیع میں حضرت سیّدنا امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پہلو میں ہے۔ آپ عظیمُ المناقب تابعی، محدث، فقیہ، عابد، سخی، صاحبِ زہد و تقویٰ، جلیلُ القدر، عالی مرتبت اور سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ کے چوتھے شیخِ طریقت ہیں۔ (وفیات الاعیان،ج 2،ص127، شرح شجرۂ قادریہ، ص51،54)

امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان بزبان امام زینُ العابدین رضی اللہ عنہ

اہلِ بیت کی خدمت اور حضرت امیر معاویہ سے محبت: شہادتِ امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بعد امام زینُ العابدین رضی اللہ تعالٰی عنہ جب یزید کے پاس سے لوٹ کر مدینَۂ مُنَوَّرہ پہنچے تو حضرت سیّدنا مِسْوَر بن مَخْرَمَہ رضی اللہ تعالٰی عنہما ان کے پاس گئے اور کہا: اگر میرے لائق کوئی خدمت ہو تو ضرور حکم دیں۔ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ جب بھی حضرتِ سیِّدُنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا تذکرہ کرتے ان کے لئے دعائے رحمت ضرور کرتے تھے۔(سیر اعلام النبلاء،ج 4،ص480ملتقطاً)

امام زینُ العابدین رضی اللہ عنہ کو زین العابدین کہنے کی وجہ

آپ کی ولادت38سن ہجری کو مدینۂ منورہ میں ہوئی۔آپ کا نامعلیرکھا گیا اور کثرتِ عبادت کے سبب سجّاد اور زینُ العابِدِین (یعنی عبادت گزاروں کی زِینت) کے لقب سے مشہور ہوئے۔ آپ کی کنیت ابوالحسن ہے۔ (الاعلام،ج4، ص277 ملتقطا)

نبی ﷺ کے سید البشر ہونے کے ساتھ نورانیت ہونے پر دلیل بزبان امام زینُ العابدین

حضرت سیّدناامام زینُ العابدین رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:میں آدم علیہ السَّلام کی تخلیق سے چودہ ہزار سال پہلے اللہ عَزَّوَجَل َّکے ہاں نور تھا۔(مواھب لدنیہ،ج1،ص39)

امام زینُ العابدین رضی اللہ عنہ کے زبانی شخین کریمین رضی اللہ عنھما کا مقام

امام احمد مسند ذی الیدین رضی اللہ تعالی عنہ میں ابن ابی حازم سے راوی : قال جاء رجل الی علی بن الحسین رضی اللہ تعالی عنہما فقال ماکان منزلۃ ابی بکر وعمر من النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال منزلتھما الساعۃ وھما ضجیعاہ ۱؂ یعنی ایک شخص نے حضر ت امام زین العابدین رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت انور میں حاضر ہوکر عرض کی حضور سیدعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ابو بکر وعمر کا مرتبہ کیا تھا فرمایا جو مرتبہ ان کا اب ہے کہ حضور کے پہلو میں آرام کررہے ہیں ۔( مسند احمد بن حنبل حدیث ذی الیدین رضی اللہ تعالی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۷۷)(فتاوی رضویہ جلد 28ص 99)

امام علی اَوسط کو زَیْنُ الْعَابِدِیْن اور سَجَّاد کہنے کی وجہ

سُوال:حضرتِ سَیِّدُنا امام علی اَوسط رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کو زَیْنُ الْعَابِدِیْناور سَجَّادکیوں کہتے ہیں؟

جواب: زَیْنُ الْعَابِدِیْن کے معنیٰ عبادت گزاروں کی زینتہے ، چونکہ حضرتِ سَیِّدُنا امام علی اَوسط رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ بہت زیادہ عبادت گزار تھے اس لیے لوگوں نے انہیں زَیْنُ الْعَابِدِیْن کا لقب دیا ۔(1) اسی طرح آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ بہت زیادہ نوافل پڑھتے تھے اور ظاہر ہے نوافل میں سجدے ہوتے ہیں تو یوں سجدوں کی کثرت کی وجہ سے لوگوں نے انہیں سَجَّاد یعنی بہت زیادہ سجدے کرنے والا کہنا شروع کر دیا۔(2) آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کا نامِ نامی علیتھا اور پہچان کے لیےعلی اَوْسَطکہا جاتا تھا یعنی بیچ والے علی کیونکہ امامِ حسین رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کے ایک بیٹے علی اکبر یعنی بڑے علی تھے اور ایک علی اصغر یعنی چھوٹے علی تھے جبکہ امام زَیْنُ الْعَابِدِیْنرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ بیچ والے تھے اس لیے آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کو علی اَوْسَط کہا جاتا ہے۔

امام زینُ العابدین رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی عمر مُبارَک

سُوال:حضرتِ سَیِّدُناامام زینُ العابدین رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ واقعۂ کربلا کے بعد کتنا عرصہ حیات رہے؟

جواب:کَربلا کا واقعہ61 سنِ ہجری میں ہوا اور حضرتِ سَیِّدُناامام زینُ العابدین رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے 94 سنِ ہجری میں وِصال فرمایا یعنی آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کا وصال واقعۂ کربلا کے 33سال بعد ہوا۔ شرح شجرۂ قادریہ میں آپ کی عمر 58 سال لکھی ہے یعنی 58 بَرس کی عمر میں آپ کا اِنتقالِ باکمال ہوا۔

اللہ پاک کی ان پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مَغْفِرَت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم(طبقات ابن سعد، علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب، ۵/ ۱۷۱، رقم:۷۵۵۔)

اپنی زندگی میں دو مرتبہ اپنا سارا مال راہ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں خیرات

حضرت سَیِّدُنا امام زَین العابدین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی زندگی میں دو مرتبہ اپنا سارا مال راہ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں خیرات کیا اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بہت سے مساکینِ مدینہ کے گھروں میں ایسے پوشیدہ طریقوں سے رقم بھیجا کرتے تھے کہ انہیں خبر ہی نہیں ہوتی تھی کہ یہ رقم کہاں سے آتی ہے؟ جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا وصال ہو گیاتو ان غریبوں کو پتا چلاکہ یہ حضرت امام زین العابدین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی سخاوت تھی۔(سیر اعلام النبلاء ، ج۵، ص336 )

امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کا خصوصی علم :

امام غزالی اپنی زندگی کی آخری کتا ب "منھاج العابدین " جو کہ عظیم ترین تصوف کی اور مختصر کتاب ہے تو اس کی وجہ بیان کرنے کے ضمن میں فرماتے ہیں۔

جب ہم نے اس راہ کو اتنا مشکل پایا تو اسے پار کرنے کے لیے گہرا غوروخوض کیا اور دیکھاکہ بندہ اس میں کن چیزوں کامحتاج ہوتاہےمثلاً : قوت وطاقت، آلات اورعلم و عمل کی تدبیروغیرہ تواس امیدکے ساتھ کہ بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی توفیق سے سلامتی کے ساتھ اس راہ کو پار کر جائے اور اس کی ہلاکت خیز گھاٹیوں میں گر کر ہلاک ہونے والوں کےساتھ ہلاک نہ ہو، لہٰذاہم نےاس راہ پرچلنےاوراسےپارکرنےکےمتعلق چند کتابیں لکھیں جیسے : اِحْیَاءُ عُلُوْمِ الدِّیْن، اَسْرَارُالْمُعَامَلَات، اَلْغَایَۃُ الْقَصْوٰیاوراَلْقُرْبَۃُ اِلَی اللہ وغیرہ، یہ کتابیں باریک علمی نکات پرمشتمل ہیں جس کی وجہ سے عام لوگوں کی سمجھ سےبالاترہیں اوراسی کم فہمی کی وجہ سےلوگ ان میں عیب لگانےلگےاورجو باتیں پسند نہ آئیں ان میں سرگرمی دکھانے لگے، بھلا ربُّ الْعٰلَمِیْن جَلَّ جَلَالُہٗ کے کلام سے بڑھ کر بھی کوئی کلام فصیح وبلیغ ہو سکتا ہے، کہنے والوں نے تو اس کے بارےمیں بھی کہہ دیا کہیہ تو اگلوں کی داستانیں ہیں ۔ (1) کیا تم نے حضرت سیِّدُنا امام زین العابدین علی بن حسین بن علی عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا یہ فرمان نہیں سنا :

اِنِّیْ لَاَکْتُمُ مِنْ عِلْمِیْ جَوَاہِرَہٗ کَیْلَا یَرٰی ذَاکَ ذُوْ جَھْلٍ فَیَفْتَتِنَا

وَ قَدْ تَقدَّمَ فِیْ ھٰذَا اَبُوْ حَسَنٍ اِلَی الْحُسَیْنِ وَوَصّٰی قَبْلَہُ الْحَسَنَا

یَارُبَّ جَوْہَرِ عِلْمٍ لَوْ اَبُوْحُ بِہٖ لَقِیْلَ لِیْ اَنْتَ مِمَّنْ یَّعْبُدُ الْوَثَنَا

وَلَاسْتَحَلَّ رِجَالٌ مُّسْلِمُوْنَ دَمِیْ یَرَوْنَ اَقْبَحَ مَا یَاْتُوْنَہٗ حَسَنَا

ترجمہ : میں اپنے علمی جواہر پوشیدہ رکھتا ہوں تاکہ جہلا انہیں دیکھ کر فتنے میں مبتلا نہ ہوں ۔ (۲) اس کے متعلق اس سے پہلے حضرت سیِّدُنا ابوحسن علیُ المرتضٰیکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم بھی حسنین کریمین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ مَا کو وصیت کر گئے کہ(۳) میرے ایسے کئی پوشیدہ علوم ہیں جنہیں میں ظاہر کر دوں تو مجھے کہا جائے گا تو توبتوں کی پوجا کرنے والا ہے اور(۴) مسلمان میرے خون کو حلال سمجھ بیٹھیں گے(یعنی مجھے قتل کر دیں گے) اور اس برے کام کو اچھا سمجھیں گے ۔

مگر اب حالات کااربابِ دین سے تقاضا ہے کہ وہ ساری خلق خدا کو نظر رحمت سے دیکھیں اور بحث ومباحثہ ترک کردیں ۔ میں نے اُس کی بارگاہ میں التجاکی جس کے قبضہ میں تمام مخلوق اور ہر معاملہ ہے کہ وہ مجھے ایسی کتاب لکھنے کی توفیق عطا فرمائے جس پر سب کااتفاق ہو اور اسے پڑھ کر لوگ فائدہ اٹھائیں پس اس نے میری التجا قبول فرما ئی کیونکہ جب کوئی بے چین ومُضْطَر اسے پکارے تو وہ اس کی پکار سنتا ہے، اس نے اپنے فضل سے مجھ پر اس تصنیف کے راز آشکار فرمائے اور ایک ایسی منفرد ترتیب الہام فرمائی جوعلومِ دینیہ کے حقائق پر مشتمل میری سابقہ کتب میں نہیں تھی، یہ میری وہ تصنیف ہے جس کی تعریف میں خود کرتا ہوں ۔ توفیق دینے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی ہے ۔(منھاج العابدین ص 13-14 مکتبہ المدینہ)

اہلِ سنّت کی علامت

سوال: امام زین العابدین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کس چیز کو اَہلِ سنّت کی علامت قرار دیا؟

جواب: امام زین العابدین حضرت سَیِّدُنا ابوالحسن علی بن حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے ارشاد فرمایا : رسولِ پاک ، صاحبِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر کثرت سے درود پڑھنا اہلِ سنّت کی علامت ہے ۔(القول البدیع ، الباب الاول ، قول علی زین العابدین علامة ۔ ۔ ۔ الخ ، ص۱۳۱ ، رقم : ۵


پردے کی اہمیت

Tue, 24 Aug , 2021
4 years ago

٭اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مسلمان مردوں اور عورتوں کو نگاہ نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے (پ۱۸،النور:۳۱)Xبے پردگی سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ناراض ہوتا ہے اور بے پردگی تباہی وبربادی کا سبب بنتی ہے(نور العرفان،پ۱۸،النور،ص۵۲۲،تحت الایۃ:۳۱ماخوذا)4احاديث مبارکہ: حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ خَلادرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا بیٹا جنگ میں شہید ہو گیاتو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کیلئے چہرے پرنِقاب ڈالے باپردہ بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں حاضِر ہوئیں ، اِس پر کسی نے حیرت سے کہا :اِس وقْت بھی آپ نے مُنہ پر نِقاب ڈال رکھا ہے؟ کہنے لگیں : میں نے بیٹاضَرور کھویا ہے، حیا نہیں کھوئی۔ (سُنَنُ اَبِی دَاود،کتاب الجھاد،باب فضل قتال الخ،۳ /۹،حدیث :۲۴۸۸) ٭ معراج کی رات سروَرِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جو بعض عورَتوں کے عذابات کے ہولناک مَناظرمُلاحَظہ فرمائے، اُن میں یہ بھی تھا کہ ایک عورت بالوں سے لٹکی ہوئی تھی اور اُس کا دماغ کھول رہا تھا۔سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں عرض کی گئی کہ یہ عورت اپنے بالوں کو غیر مردوں سے نہیں چُھپاتی تھی۔ (اَلزَّوَاجِر، الکبیرۃ الثمانون بعد المائتین،۲/۹۷) ٭نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے اِستفسار فرمایا:”عورت کے لیے کون سی چیزسب سے بہتر ہے “سبھی خاموش رہے ،حضرت سیّدنا علی المرتضی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے گھر آئے اور خاتونِ جنّت حضرت سیِّدہ فاطمۃ الزہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے یہی سوال پوچھا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے ارشاد فرمایا:”(عورتوں کے لیےسب سے بہتر یہ ہے کہ )مرد انہیں نہ دیکھیں اور نہ عورتیں غیر مردوں کو دیکھیں ۔“جب واپس آکرآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے یہ جواب بارگاہِ رسالت میں پیش کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے ۔(مسند البزار،ماروی علی بن زید الخ،۲/۱۵۹،حدیث:۵۲۶) ٭سرکارِ دو عالم،نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :جب قیامت کا دن ہوگاتوایک مُنادی ندا کریگا۔اے اَہلِ مَجمع! اپنے سر جُھکاؤ آنکھیں بند کر لو ،تاکہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شہزادی حضرت فاطِمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا صِراط سے گزریں۔ (اَ لْجامِعُ الصَّغِیر،حرف الھمزۃ، ص۵۷، حدیث:۸۲۲ ) ایک وسوسے کا علاج :حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :جن احادیث میں عورتوں کا باہر نکلنا آتا ہے وہ یا تو پردہ فرض ہونے سے پہلے تھایا کسی ضرورت کی وجہ سے پردہ کے ساتھ تھا۔ان احادیث کو بغیر سوچے سمجھے بے پردگی کیلئے آڑ بنانا محض نادانی ہے۔(اسلامی زندگی ،ص۱۰)پردے کے 10فوائد: ٭ پردہ عزت کا محافظ ہے ٭پردے کی برکت سے دل کو پاکیزگی اور تقویٰ جیسی نعمتیں حاصل ہوتی ہیں ٭پردے سے حیا وغیرت جیسے اوصاف پیدا ہوتے ہیں ٭پردہ عفت و پاکدامنی کی نشانی ہے ۔٭پر دے کی برکت سے شیطانی وسوسے دور ہوتے ہیں جس کی وجہ سے تہمت ،بہتان اور بدگمانی سے حفاظت رہتی ہے ٭پردہ حیا پیدا کرنے کا ذریعہ ہے اور حیا ایمان کا ایک شعبہ ہے ٭پردہ ایک ایسے قلعے کی طرح ہے جس میں ہر ایک کو داخلے کی اجازت نہیں ہوتی ٭پردہ دراصل پرہیزگاری کی علامت ہے٭ پردے کی برکت سےمعاشرے کو بدکاری کی آفت سے نجات ملتی ہے ٭پردے کی برکت سے عبادت میں لذت حاصل ہوتی ہے ۔4سائنسی فوائد:٭حجاب پہننے سے منہ اور ناک کے ذریعے لگنے والی بیماریوں مثلاً ڈسٹ الرجی فلواور دیگروائرل ڈیزیززوغیرہ سے خواتین کو تحفظ حاصل ہو جاتا ہے۔٭ پردہ کرنے سے جِلد کے کینسر سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ ٭سر کو ڈھانپ کر رہنے والے افراد پیشانی کے امراض کا شکار کم ہوتے ہیں۔ ٭ برقعہ پہننے والی خواتین کی نہ صرف جلدچہرہ ناک منہ اوربالوں کو تحفظ حاصل ہوتا ہے بلکہ وہ مضرِ صحت آلودگیوں وائرس اورنظامِ تنفس نیز اس سے متعلقہ دیگر اعضا کے امراض سے بھی محفوظ رہتی ہیں ۔بے پر دگی کے3 دنیوی نقصانات : ٭بے پر دگی سے بدنگاہی میں اضافہ ہوتا ہے اور بدنگاہی حافظے کی کمزوری اور محتاجی وتنگدستی کا سب سے بڑا سبب ہے ٭بے پر دگی جھگڑوں اور بعض اوقات قتل و غارت کا سبب بن جاتی ہے ٭بے پر دگی کی وجہ سے انسان بدکاری جیسے بدترین گنا ہ میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔بے پردگی کے 2اخروی نقصانات: ٭جس نے نامحرم سے آنکھ کی حفاظت نہ کی اس کی آنکھ میں آ گ کی سلائی پھیری جائے گی (بحرالدموع،ص۱۷۲) ٭ جو کوئی اپنی آنکھوں کو حرام نظر سے پُر کرے گا اللہ عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے روز اُس کی آنکھوں کو آ گ سے بھردے گا ۔(مکاشفۃ القلوب،الباب الاول فی بیان الخوف،ص۱۰) مزید معلومات کے لیےشیخِ طریقت امیرِ اہل سنّت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس قادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی کتاب”پردے کے بارے میں سوال جواب“ کا مطالعہ فرمائیے۔

سنّتوں بھری زِنْدَگی گزارنے کے لئے دعوتِ اِسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہو جائیے۔


تذکرۂ داداجی میاں صاحب

Fri, 20 Aug , 2021
4 years ago

تذکرۂ داداجی میاں صاحب

حضرت سیدمبارک شاہ محدثِ الوری رحمۃ اللہ علیہ بنام

الورکے پہلے محدث

حضرت علامہ سید مبارک شاہ محدثِ الوری رحمۃ اللہ علیہ دسویں سن ہجری کے عظیم عالم،محدث،فقیہ ،شیخ طریقت اور صاحب ِکرامت ولی اللہ تھے ،اہل الور(صوبہ راجستھان ،ہند)کو آپ سے علم وعرفان حاصل ہوا،چونکہ بادشاہانِ وقت آپ کے عقیدت مندتھے اس لیے آپ کی برکت سے انہوں نے اس علاقے پر توجہ دی، جس کی وجہ سے اس خطے نے بہت ترقی کی،اس مضمون میں محدث الوری کا ذکرخیرکیا جاتاہے ۔

پیدائش

حضرت علامہ سیدمبارک شاہ محدثِ الوری المعروف داداجی میاں صاحب کی پیدائش ایک سادات گھرانے میں تقریباً 897ھ مطابق 1491ء میں ہوئی ،آپ کے والدِگرامی حضرت علامہ ابوالمبارک حنفی رحمۃ اللہ علیہ خاندانِ سادات کے چشم و چراغ تھے ۔(1)

دہلی سے راجستھان کی جانب ہجرت

داداجی میاں صاحب کی رہائش دہلی میں تھی ،اس زمانے میں بادشاہانِ ہند کا دارالحکومت دہلی تھا اوراللہ والے دربارِ شاہی سے عموماً دور رہتے ہیں، آپ نے وہاں سے ہجرت کرکے دہلی سے جنوب مغرب کی جانب راجستھان(2) جانے کا فیصلہ کیا۔ جب آپ جے پور(3) کے جنگل قلعہ آمیر(4) میں پہنچے تو جے پورکے راجہ نے آپ کا استقبال کیا اوراپنے ہاں رُکنے کی درخواست کی، آپ نے درخواست قبول کرلی ،اس نے آپ کی خدمت میں تحفے تحائف پیش کئے مگرآپ نے قبول نہ فرمائے ،پھراس نے اپنا مسئلہ بیان کیا کہ بادشاہِ وقت مجھ سے ناراض ہے آپ سفارش کردیں ،آپ نے سفارش کرنے سے بھی انکارکردیا اورجے پورسے الورتشریف لے آئے ۔ (5)

الورکی صورت حال

الور(6) اس زمانے میں علاقۂ میوات(7) کا مرکزی مقام تھا ،خان ِخاناں عبدالرحیم،ترسون محمدعادل اورحسن خان میواتی وغیرہ یہاں کے والی میوات تھے۔(8)انھوں نے اپنے اپنے دورِحکومت میں الورمیں کافی ترقیاتی کام کروائے، مساجد اور مزاراتِ بزرگانِ دین تعمیرکروائےگئے، الور کے مشہور قلعے کی تعمیربھی حسن خان میواتی نے کروائی، الور شہر کے جنوب میں کوہِ اراولی پربت (کالاپہاڑ)ہے ،الورشہراس سے جانبِ شمال میدانی علاقے پر مشتمل ہے ، یہ پہاڑی سلسلہ اگرچہ خشک ہے مگراس میں جابجاچشمے نکلتے اورموسم برسات میں آبشاریں(9) بہتی ہیں جس کی وجہ سے اس کے بہت سے مقامات سرسبزوشاداب ہونے کی وجہ سے قابلِ دیدہیں ،برسات کے موسم میں اس کی دلکشی میں اضافہ ہوجاتاتھا،داداجی میاں حضرت سید مبارک شاہ محدثِ الوری کو یہ مقام پسندآیا اورآپ الورکے باہر کوہ اراولی پربت کے دامن میں قیام پذیرہوئے اورعبادت میں مصروف ہوگئے ۔ (10)

بادشاہ ِہند سلیم سوری کی عقیدت

داداجی میاں صاحب کے قیام الورکے ایام میں بادشاہِ ہند سلیم سوری(11) الورآیا ،مسلم ہوں یا غیرمسلم سب حضرت سیدمبارک شاہ الوری رحمۃ اللہ علیہ کی بزرگی کے قائل تھے ،بادشاہ کو بھی آپ سے بہت عقیدت ہوگئی ، وہ آپ کی خدمت میں حاضرہوتا اوراپنے ہاتھ سے جوتے سیدھے کرنا اپنے لیے سعادت سمجھتا ۔(12)جیساکہ مرقع الورمیں ہے :سلیم شاہ کے دل میں ان کی ولایت کا عقیدہ آیا اورسب سے زیادہ ان پر اعتقادلایا ،حتی کہ روزانہ خدمتِ شیخ میں جاتاتھا اورآپ کے قدموں میں سرجھکاتاتھا ،کئی بارجوتاآپ کا بادشاہ نے خودصاف کیا اورغلاموں کی طرح بے تکلف کام خدمت ِگاری کی ۔(13) یہی وجہ ہے کہ افغان قوم کے ہاں آپ بہت مقبول اوراثرورسوخ رکھتے تھے ۔(14)

یادگارواقعہ

963ھ مطابق1556ء میں مشہورولی اللہ حضرت شیخ محمدسلیم(15) فتح پوری چشتی(16) افغانوں کے ہاتھوں آزمائش میں مبتلا ہوئے ،واقعہ کچھ یوں ہے کہ جب سوری سلطنت کے افغانوں کوسلطنت مغلیہ سے شکست کا منہ دیکھنا پڑا تو انہوں نےحضرت شیخ محمدسلیم چشتی رحمۃ اللہ علیہ کوفتح پورسیکری (17)سے اس غلط فہمی میں پکڑکر رن تھمبور قلعے (18) میں قید کرلیا کہ ان کے پاس مال ودولت کاخزانہ ہوگا، جب داداجی میاں صاحب کو معلوم ہواتو آپ بُساور(موجودہ نام بُھساور(Bhusawar)نزدبھرتپور،راجستھان)کے راستے سے رن تھمبورقلعے پہنچے اورافغانوں سے آپ کو آزادکروایا۔(19)

حج بیت اللہ کی سعادت

داداجی میاں صاحب نے دوحج کئے ،چنانچہ مرقع الورمیں ہے :شیخ مبارک صاحب نے دوبارحج بیت اللہ کا شرف پایا۔ (20)

مشہورمؤرخ ملاعبدالقادرآپ کی خدمت میں

مشہورمؤرخ ملا عبدالقادربدایونی نے دوبارشیخ مبارک کی زیارت کی ،پہلی مرتبہ یہ اپنے والدملاملوک شاہ حنفی بدایونی صاحب کے ہمراہ 963ھ مطابق1556ء میں زیارت سے مشرف ہوااوردوسری مرتبہ 987ھ مطابق 1579ء میں زیارت کی ۔چنانچہ منتخب التواریخ میں ہے :میری سولہ سال عمرتھی (21)،اپنے والدکے ساتھ بساورمیں ان کی ملازمت میں حاضرہواتھا ،بعدازاں جب 987ھ میں اکبراجمیرسے فتح پورکے راستہ سے ہوکرآتاتھا تومیں دوبارہ ان کی خدمت میں حاضرہواتھا۔(22)

کثیرالفیض مؤثرشخصیت

داداجی میاں صاحب کے الورمیں مقیم ہونے سے خوب اسلام پھیلا،غیرمسلم جوق درجوق اسلام میں داخل ہوئے، لوگوں کو ظاہری وباطنی اور دینی ودنیاوی فوائدحاصل ہونے لگے ،چونکہ آپ بہترین عالمِ دین ،صاحبِ کرامت ولی اللہ اور کثیرالفیض تھے اس لیے لوگوں کا آپ کی طرف بہت رجوع تھا۔ (23) آپ صاحبِ کمال بزرگ تھے،آپ کی ذات میں سخاوت اور ایثارپسندی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی،مخلوقِ خدا پر کثیر مال خرچ کیا کرتے تھے،حاجت مندوں کی مددکرتے اورامراءبھی خالی ہاتھ نہ جاتے ۔(24)

شیخ مبارک اوراکبربادشاہ

داداجی میاں صاحب کی ولایت اوراثرپذیری کی خبریں اکبربادشاہ تک بھی پہنچی، اسے ان سے ملنے کا شوق پیداہوا۔ 987ھ مطابق 1579ء کوبادشاہ ایک مہم کے لیے اس علاقے کی طرف آیا ،اس کا گزر الورسے ہواتو اس نے آپ کی زیارت کا قصد(ارادہ)کیا، پیغام دینے والے نے سیدمبارک شاہ صاحب کو اطلاع دی ،آپ نے فرمایا کہ بادشاہ کس طرح آنا چاہتاہے؟بتایا گیا ہاتھی پر بیٹھ کر ،آپ ایسے مکان میں تھے جس کا دروازہ اتنا چھوٹاتھا کہ ہاتھی سوارتوکیا ،گھڑسواربھی داخل نہیں ہوسکتاتھا ،بحرحال آپ نے بادشاہ کوآنے کی اجازت دی ،آپ کی کرامت سے وہ دروازہ اتنا کشادہ ہوگیا کہ بادشاہ ہاتھی پر سوارہوکر اس مکان میں حاضرہوا،ملاقات ہوئی ، جب وہ واپس جانے لگاتو دروازہ اپنی اصلی حالت میں آگیا، آپ نے فرمایا: فقیروں کا امتحان لینے آیا ہے ،اب خود بھی کچھ کرکے دِکھا،بادشاہ مکان کی دیوارتوڑکر باہرآیا ،پھراس نے آپ کی بہترین رہائش اوروسیع وعریض مسجداورپختہ باؤنڈری تعمیرکروادی ۔(25) یہ وہی مقام ہے جو محلہ دائرہ کہلاتاہے۔ بادشاہ اس کرامت سے مزید متاثرہوا،اس نے دوگاؤں جو سلیم شاہ سوری نے آپ کے آستانے کے اخراجات کے لیے وقف کئےتھے وہ بحال کردئیے اورمزیدسات سوبیگہ زمین پر مشتمل الورکاچنبیلی باغ بھی پیش کیا۔(26)

وفات ومدفن

داداجی میاں صاحب حضرت سیدمبارک شاہ محدثِ الوری رحمۃ اللہ علیہ کاوصال 22محرم 987ھ مطابق 21مارچ 1579ء کو نوے (90)سال کی عمرمیں الورمیں ہوا۔ تدفین الورشہرسے باہر ہوئی،بعدمیں مرقدپر عالیشان مزار تعمیرکروایاگیا ۔(27)

عرس ومحفل

خلیفۂ اعلیٰ حضرت، امام المحدثین حضر ت علامہ مفتی سید دیدارعلی شاہ الوری (28) کے چچاجان صوفی کامل، مرشد دوراں، عالم باعمل حضرت سیدنثارعلی شاہ رضوی مشہدی قادری چشتی صابری رحمۃ اللہ علیہ (29)آپ کے مزارپر مراقبہ کرتے اورہرسال عرس کروایا کرتے تھے ،عرس کی ایک نشست میں علمائے اہل سنت کے بیانات ہوتے تھے ۔(30)

اللہ پاک کی داداجی میاں حضرت سید مبارک شاہ محدثِ الوری پر رحمت ہو اورانکے صدقے ہماری مغفرت ہو۔

حواشی ومراجع

(1)مستفاد، منتخب التواریخ فارسی،563 ، روشن تحریریں ،130 ،نزھۃ الخواطر،4/251۔مقام ولادت معلوم نہ ہوسکا۔

(2)راجستھان کے لغوی معنی  راجاؤں کی جگہ ہے۔ تقسیمِ ہند سے پہلے اسے راجپوتانہ بھی کہا جاتا تھا۔ راجستھان بھارت کی ایک شمالی ریاست ہے۔ یہ بلحاظ رقبہ بھارت کی سب سے بڑی ریاست ہے ۔ راجستھان بھارت کے شمالِ مغربی حصےمیں واقع ہے ،اس کی زیادہ ترسرزمین بنجر اور بے آب و گیاہ(بغیرپانی ودرخت ) صحرائے تھار پر مشتمل ہے۔ راجستھان کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر جے پور ہے۔ دیگر اہم شہروں میں الور،جودھ پور، اودے پور ، کوٹہ، بیکانیر اور سوائی مادھوپور ہیں۔راجستھان کو ایک عظیم شرف یہ حاصل ہے کے اس کے شہراجمیرشریف میں سلطان الہند،خواجہ غریب نواز،معین الدین حضرت خواجہ سیدحسن سنجری اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کا مزارپرانوارہے ، جس کی زیارت کرنے کے لیے ہند بلکہ دنیا بھرسے سالانہ کروڑوں لوگ آتے اورآپ کے فیوض وبرکات سے مالامال ہوتے ہیں ، راجستھان میں دنیا کے قدیم ترین پہاڑی سلسلوں میں مشہور سلسلہ کوہ اراولی پربت(کالاپہاڑ) بھی ہے۔ ان کے علاوہ بھرت پور، راجستھان میں پرندوں کے لئے مشہور یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ میں شامل کیولاڈیو نیشنل پارک ہے اور تین نیشنل ٹائیگر ریزور ٭ سوائی مادھوپور میں رنتھمبور نیشنل پارک، ٭الورمیں سرسکا ٹائیگر ریزرو اور ٭کوٹہ میں مکندر ہل ٹائیگر ریزرو ہیں ۔

(3)جے پور جسے گلابی شہرکے نام سے بھی جانا جاتا ہے، بھارت میں راجستھان ریاست کا دار الحکومت ہے۔جے پور سیاحوں کے لیے بے پناہ کشش رکھتا ہے۔ 2008ء میں اسے ایشیا کا ساتواں بڑا سیاحتی مرکز قرار دیا گیا تھا۔

(4)آمیر قلعہ  ہند کی ریاست راجستھان کے آمیر شہر میں واقع ہے۔ اس کا کل رَقبہ 4 کلومْربع میٹر پر محیط ہے۔ آمیر قلعہ مغل راجپوت تعمیر کا ایک عمدہ شاہکار ہے،جو راجستھان کے دار الحکومت جے پور سے 12 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

(5)روشن تحریریں ،128۔

(6)الور(Alwar)ہند کے صوبے راجستھان کا ایک اہم شہرہے کوہ ِاراولی پربت کے دامن میں میدانی علاقے پر مشتمل ہے ، جو دہلی سے 150 کلومیڑکے فاصلے پر جانب جنوبِ مشرق ہے ۔ ( اردودائرہ معارف اسلامیہ ،3/203،میوقوم اورمیوات ،94،95)

(7)مختلف ادوارمیں میوات کے علاقے کا حدودواربعہ بدلتارہا ہے اس وقت علاقۂ میوات جسے کہا جاتاہے اس کی تفصیل یہ ہے:٭ریاست راجستھان: الور، لچھمن گڑھ، تجارہ، رام گڑھ،کشن گڑھ،گوبندگڑھ،کٹھومرکا کچھ حصہ، بھرت پور،کامس،پہاری اورنگرکا کچھ حصہ٭ریاستِ ہریانہ:سہنہ بلاک، نوح،فیروزپور،جھرکا،بلب گڑھ کا مغربی حصہ٭ریاست اْترپردیش: چھانہ ضلع متھرا کے مغربی دیہات۔ )میوقوم اورمیوات ،34 وغیرہ)

(8) 1372ء تا 1527ء خان زادہ راجپوت خاندان نے ریاست میوات پر حکومت کی اور اس وقت میوات ایک آزاد ریاست تھی۔ یہاں کے بادشاہ کو والی میوات کہا جاتا تھا۔

(9)جب پانی کے بہاؤ کے راستے میں نرم و سخت چٹانوں کی افقی(زمین سے آسمان کی جانب) تہیں یکے بعد دیگرے واقع ہوں، چٹانوں کی موٹائی زیادہ ہو اور نرم چٹانیں کٹ جائیں اور سخت چٹانیں اپنی جگہ باقی رہیں تو پانی ایک چادر کی شکل میں بلندی سے گرتا ہے، اسے آبشار (Waterfalls )یا جھرنا کہا جاتا ہے۔

(10)روشن تحریریں ،128،129۔

(11)سلیم شاہ کا اصل نام اسلام خان سوری تھا،یہ بانی سوری سلطنتِ شیرشاہ سوری کا دوسرابیٹااورسلطنتِ سوری کا دوسراحکمران تھا ،اس کا انتقال 961 ھ مطابق 1554ء میں ہوا۔

(12)تذکرہ اولیائے راجستھان ،2/39۔

(13)مرقع الور،49۔

(14)تذکرہ صوفیائے میوات ،292۔

(15)یہ واقعہ کس شخصیت کے بارے میں ہے ؟منتخب التورایخ فارسی میں ایک لائن میں شیخ اسلام فتح پوری اوردوسری لائن میں نام شیخ اسلیم لکھا ہے ،(منتخب التواریخ فارسی،۵۷۳،مرکزتحقیقات ،رایانہ ای قائمیہ اصفحان،ایران)البتہ منتخب التواریخ کے سب سے پہلےترجمے (جومولانا احتشام الدین مراد آبادی نے کیا ہے جسے مطبع نولکشور، لکھنؤ سے 1889ء میں شائع کیا گیا)میں شیخ سلیم فتحپوری لکھا ہے۔(منتخب التواریخ ،۴۴۶) یہی درست معلوم ہوتاہے ۔کیونکہ شیخ سلیم فتحپوری چشتی اورشیخ سیدمبارک شاہ الوری کا ایک ہی زمانہ ہے نیز اس زمانے میں شیخ اسلام فتح پوری نام سے کوئی مشہورشخصیت کا تذکرہ نہیں ملا۔

(16)شیخ الہند حضرت سیدنا شیخ محمدسلیم چشتی فاروقی کی ولا دت 884 ھ مطابق 1480ءمیں سرائے علاء الدین زندہ پیرمحل دہلی ہند میں ہوئی۔آپ نے 29 رمضان المبارک979ھ مطابق 14فروری 1572ءکو وصال فرمایا،آپ کاعالی شان روضہ فتح پور سیکری(ضلع آگرہ، یوپی) ہندمیں ہے۔آپ اکابراولیائےہندسے ہیں۔(تحفۃ الابرار،ص251،اخبار الاخیارمترجم، ص566، خزینۃ الاصفیاء، 2/363،361)

(17)فتح پور سیکری بھارت کے صوبہ اْتر پردیش میں واقع ایک شہر ہے۔ یہ آگرہ شہرسے 35 کلو میٹر دورواقع ہے۔ اس کی تعمیر مغل شہنشاہِ اکبر نے 1570ء میں شروع کی اور شہر 1571ء سے 1585ء تک مغل سلطنت کا دار الحکومت رہا۔ شہر کی باقیات میں سے مسجد اور محل عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیے جا چکے ہیں اور سیاحت کے لیے مشہور ہیں۔

(18)تاریخی رَن تھمبور قلعہ جنوبِ مشرقی راجستھان کے سوائی مادھو پور ضلع میں واقع ہے ، یہ کوٹہ کے شمال مشرق میں تقریبا 110 کلومیٹر اور جے پور سے 140 کلومیٹر جنوبِ مشرق میں ہے ، سوائی مادھو پورشہراس قلعے سے 11کلومیٹرکے فاصلے پرموجودہے ،جس میں ائیرپورٹ بھی ہے ۔اس قلعے کے آس پاس کے علاقے کو 1980ء میں حکومت ہند نے رَن تھمبور نیشنل پارک  کا نام دیاگیا ہے جس کا احاطہ 282 کلومیٹر ہے ۔ اس کا نام تاریخی رَن تھمبور قلعے کے نام پر رکھا گیا ہے ، جو پارک میں واقع ہے۔جہاں جنگلی جانورچیتے،ریچھ اورنیل گائے وغیرہ کثرت سے پائے جاتے ہیں۔اس تفریحی مقام میں لوگ ملک بھرسے آتے ہیں ۔

(19) مرقع الور ،49،50۔

(20)مرقع الور،57۔

(21)ملاعبدالقادر بدایونی کی پیدائش 947ھ مطابق 1541ء کی ہے ،اس اعتبارسے یہ سال963ھ ہے۔

(22) منتخب التواریخ مترجم ،446۔

(23)روشن تحریریں ،128 ۔

(24) تذکرہ اولیائے راجستھان ،2/39۔

(25) تذکرہ صوفیائے میوات ،294۔ روشن تحریریں صفحہ 129میں یہ واقعہ شاہ جہاں کی طرف منسوب کیا ہے مگریہ بات درست نہیں ،دیگرتمام کتب میں اکبربادشاہ کانام لکھا ہے ۔

(26) تذکرہ صوفیائے میوات ،295۔

(27)نزھۃ الخواطر،4/251،روشن تحریریں ،130۔

(28) امامُ الْمُحدِّثین حضرت مولانا سیِّد محمد دِیدار علی شاہ مَشْہدی نقشبندی قادِری مُحدِّث اَلْوَری رحمۃ اللہ علیہ ، جَیِّد عالِم، اُستاذُالعُلَما اورمفتیِ اسلام تھے۔ آپ اکابرینِ اہل سنّت سے تھے۔ 1273ھ مطابق 1856 ءکو اَلْوَر (راجِسْتھان) ہِند میں پیدا ہوئے اور لاہور میں 22رجب 1345ھ مطابق 26جنوری 1927ءمیں وِصال فرمایا۔ دارُالعُلُوم حِزْبُ الْاَحْناف لاہوراور فتاویٰ دِیداریہ آپ کی یادگار ہیں۔ آپ کا مزارِ مُبارَک اَندرونِ دہلی گیٹ محمدی محلّہ ،اندرون لاہور میں ہے۔(فتاویٰ دیداریہ، ص2)

(29)صوفی کامل،مرشدِدوراں،عالمِ باعمل حضرت سیدنثارعلی شاہ قادری چشتی صابری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت تقریباً 1840ء میں قصبہ موج پور( لچھمن گڑھ،راجستھان)میں ہوئی اور6شوال 1328ھ مطابق 11اکتوبر 1910ء کوالورمیں وصال فرمایا ،آپ عالمِ باعمل، سلسلہ قادریہ چشتیہ کے شیخِ طریقت اورالورکی مؤثرشخصیت تھے ۔(روشن تحریریں،۱۳۲تا۱۳۹)

(30)سیدی ابوالبرکات ،118۔



[1]…… معجم کبیر،حسن بن حسن بن علی عن ابیہ،۳/۸۲ ،حدیث:۲۷۲۹ ۔


مولاناسردارعلی خان عزومیاں  رحمۃ اللہ علیہ

سرپرستِ اعلیٰ اول ادارۂ تحقیقاتِ امام احمدرضا انٹرنیشنل کراچی (1) شیخ الحدیث حضرت مفتی تقدس علی خان صاحب (2) کے برادرِ اصغر شیخ الحدیث مفتی اعجاز ولی خان صاحب (3) کے حالاتِ زندگی جمع کرنے کے دوران معلومات ہوئیں کہ مفتی اعجاز ولی خان صاحب کے ایک استاذ مولانا الحاج سردارعلی خان عزومیاں صاحب بھی ہیں جن کی تدفین ملتان شریف میں ہوئی ،راقم کو کچھ تنظیمی کاموں کے لئےدودن کراچی سے ملتان جانا تھااس لئے وہاں کے احباب مولانا حافظ محمد افضل مدنی صاحب اورحافظ ریحان احمدعطاری صاحب (مؤلف کتاب فیضان اعلیٰ حضرت،ناشرشبیربرادرز لاہور )سے ان کےخاندان سےرابطہ اور مزارکو تلاش کرنے کا کہا۔ راقم بذریعہ عادل کوچ 18شوال 1442ھ مطابق 30مئی 2021ء ملتان پہنچا، بعدِعصر طے ہواکہ ہمیں مزارشریف واقع شاہ شمس قبرستان (قدیم خانیوال روڈ) جانا ہے۔بتایا گیا برادرِ اسلامی محمدکاشف عطاری صاحب ملتان میں موجودخانوادۂ اعلیٰ حضرت سے رابطے میں ہیں ،مولانا سردارعلی خان صاحب کے پوتے جودت علی خان صاحب خودقبرستان آئیں گے،بعدِعصر حاجی ندیم احمدعطاری صاحب کی گاڑی پر ہم قبرستان پہنچے ، تھوڑی دیربعدجودت علی خان صاحب بھی اپنے صاحبزادے سردارعلی خان ثانی صاحب کے ہمراہ تشریف لے آئے ، مولانا سردارعلی خان عزومیاں اورخانوادہ اعلیٰ حضرت کے چنداورافراد کی قبورشاہ شمس قبرستان برلب سڑک پر واقع ہیں، وہاں جاکر فاتحہ خوانی کی، اس کے بعد کا شف صاحب کے والدین کی قبورپر فاتحہ کرنےکے بعد برادرِ اسلامی محمداویس عطاری صاحب کی دکان پر آئے، وہاں جودت علی خان صاحب سے کچھ حالات معلوم کئے نیز حافظ ریحان صاحب نے بتایا کہ میری کتاب فیضانِ اعلیٰ حضرت میں دو مقامات پر مولاناسردارعلی خان صاحب کا تذکرہ موجودہے، ان اور دیگرتمام معلومات کی روشنی میں یہ مضمون تیارکیا گیاہے :

اعلیٰ حضرت سے رشتہ

مولانا الحاج سردار علی خان عزومیاں رشتے میں اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ(4) کے پوتے ہیں۔ اس کی تفصیل ملاحظہ فرمائیے: اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے پڑدادا حافظ کاظم علی خان صاحب (5) کے تین بیٹے ٭امام العلماءمولانا رضا علی خاں(6) ٭رئیس الحکماء حکیم تقی علی خان (7)٭جعفرعلی خان اورچاربیٹیاں تھیں، ان میں سے ایک بیٹی زینت موتی بیگم تھیں جن کا نکاح محمدحیات خان یوسف زئی سے ہوا، ان کے دوبیٹے نعمت (عرف بزرگ) علی خان اورکوچک خان تھے،نعمت (عرف بزرگ ) علی خان کے ایک بیٹے حاجی وارث علی خان تھے جن کی شادی اعلیٰ حضرت کی ہمشیرہ حجاب بیگم سے ہوئی۔(8) حجاب بیگم مولانا سردارعلی خان صاحب کی دادی صاحبہ ہیں ،(9) یوں اعلیٰ حضرت رشتے میں مولانا سردارعلی خان صاحب کے داداہوئے۔

مفتی تقدس علی خان صاحب سے رشتہ

مذکورہ حاجی وارث علی خان صاحب کے دوبیٹے ٭حاجی واجدعلی خان ٭حاجی شاہدعلی خان اور تین بیٹیاں ٭کنیز خدیجہ زوجہ علی احمدخان٭کنیزعائشہ زوجۂ حجۃ الاسلام علامہ حامدرضاخان٭کنیز فاطمہ زوجہ مولانا سردارولی خان (مفتی تقدس علی خان صاحب کی والدہ)تھیں۔یوں مفسرِ ہند مولانا ابراہیم رضا خان جیلانی میاں(10)، مولانا حماد رضا خان نعمانی میاں (11) اور مفتی تقدس علی خان صاحب ،مولانا سردارعلی خان عزومیاں کے پھوپھی زادبھائی ہیں اورحجۃ الاسلام علامہ حامدرضا خان صاحب(12) آپ کے پھوپھا ہیں ۔حاجی وارث علی خان صاحب کےبیٹے حاجی واجدعلی خان صاحب کی شادی مستجاب بیگم سے ہوئی، ان کی ایک بیٹی کنیز رسول زوجہ مظفرحسین بدایونی اور تین بیٹے ٭مولانا سردارعلی خان عزومیاں ٭ماجدعلی خان ٭اورحاجی ساجدعلی خان تھے۔

پیدائش

مولانا الحاج سردارعلی خان عزومیاں کی ولادت بریلی میں تخمیناً1320ھ مطابق1902ء کو ہوئی ۔ملک العلما مولانا ظفرالدین محدث بہاری رحمۃ اللہ علیہ (13) نے آپ کے بچپن کے دوواقعات تحریرکئے گئے ہیں : (1)مولوی سردار علی خان صاحب عرف عزومیاں کی اوائلِ عمری میں ایک شب عشاء کی نماز کے وقت دروازہ سے کسی نے اُن کی نسبت پوچھا ’’ وہ بچہ اچھا ہے ؟‘‘مکان میں سے کسی نے جا کر دیکھا تو کوئی نہ تھا دوسری شب پھر آواز آئی ’’وہ بچہ اچھا ہے ؟‘‘ یونہی تیسری شب پھرآواز آئی ’’وہ بچہ اچھا ہے؟ ‘‘۔ اب فکر لاحق ہوئی اور لو گ وقت ِمقر رہ پر چھپ کر جا بجا کھڑے ہو گئے، سب نے آواز بدستور سنی مگر آواز دینے والا نظر نہ آیا۔ بالآخر چار پانچ روزیونہی گزر جانے کے بعد عزو میاں کی دادی صاحبہ (حجاب بیگم)نے جو سیدی اعلیٰ حضرت کی بڑی ہمشیرہ تھیں ارشادفرمایا کہ ’’امَّن میاں‘‘کو بلاؤ۔ (اعلیٰ حضرت کی والدہ انہیں اَمّن میاں کے نام سے پکارا کرتی تھیں) چنانچہ اعلیٰ حضرت حسبِ طلب وہاں پہنچے اور بہن کی کرسی کے برابر والی کرسی پر صحن میں بیٹھ گئے اور آواز کا انتظار کرنے لگے ، آواز آنے کا وقت گزرے ہوئے کچھ دیر ہوئی اور آواز نہ آئی تو اعلیٰ حضرت نے ارشاد فرمایا : بنو میا ں کو شبہ ہوا ہو گا کہاں آواز آئی؟ انہوں نے کہا ’’ نہیں ایسا نہیں ،کئی دن سے سب لوگ برابر سن رہے ہیں ‘‘ فرمایا :خیر میں بیٹھا ہوں اورپھر باتیں کرنے لگے ۔ غرض نصف گھنٹے سے زائد قیام فرمایا مگر آواز نہ آئی ،آخرِ کا ر کاشانۂ اقدس تشریف لے گئے ،ابھی قریب پھاٹک کے تھے کہ آپ کے جاتے ہی آواز آئی ’’وہ بچہ اچھا ہے؟‘‘ اعلیٰ حضرت واپس تشریف لے آئے اور صبح نمازِ فجر پڑھ کر ایک تعویذ لکھ کر عزومیاں کے گلے میں ڈلوادیا اور فرمایا ’’ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اب آواز نہ آئے گی‘‘۔چنانچہ اس روزکے بعد سے آج تک وہ آواز نہیں سنی گئی ۔ (14)

(2) رمضان المبارک کا مہینہ ہے سحری کے وقت عزومیاں بیدار ہوتے ہیں، دیکھتے ہیں کہ جس برتن میں دودھ رکھا تھا ، ایک بلی منہ ڈالے ہوئے پی رہی ہے، انہوں نے لکڑی اٹھا کر ایک ایسی ضرب لگائی کہ وہ فوراً مر گئی، حضرت مخدومہ محترمہ دادی صاحبہ (حجاب بیگم)یہ کیفیت دیکھ کر ان پر بہت ناراض ہوئیں اور زعفران خادمہ سے فرمایا کہ اس بلی کو باہر پھینک دے، وہ پیش مسجد (سامنے کے حصے میں )افتادہ (ناکارہ)زمین پر بیری کے درخت کے نیچے ڈال دیتی ہے، اب نمازِ فجر کے وقت دادی صاحبہ ملاحظہ فرماتی ہیں کہ وہی بلی عزو میاں کی چار پائی کے پاس مردہ پڑی ہے اور اگلے دنوں پاؤں غائب ہیں، غرض فورا ًاعلیٰ حضرت کو مسجد سےبلایا گیا ،حضور تشریف لائے اور فرمایا اس کو نظر بد تھی، اسی لیے بلی کےدونوں ہاتھ قلم کردیئے گئے اور عزو میاں کو سوتا ہوا دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ اس کے ا ٹھنے سے پہلے اس بلی کو فوراً چھپا دیا جائے چنانچہ بتعجیل(جلدی سے) اسی جگہ دفن کرادیا اورحضور نے ایک تعویذ ارقام (تحریر)فرما کر عزومیاں کے گلے میں ڈلوا دیا۔(15)

تعلیم وتربیت

آپ نے ابتدائی تعلیم گھر میں حاصل کی پھر دارالعلوم منظراسلام (16) میں داخلہ لے لیا ۔ابتدائی تعلیم میں زیادہ دلچسپی نہیں تھی ،پھر اعلیٰ حضرت کی شفقت ونظرکرم سے کُتُب بینی کا ایسا شوق پید ہواکہ اپنے ساتھیوں سے سبقت لے گئے چنانچہ آپ خود بیان کرتے ہیں: مدرسے کے اوقات میں مولوی صاحب طلبہ کو درس دے رہے ہوتے ،مگر میرے کان بالکل ان کی تقریر سے نا آشنا رہتے تھے ،میں نہ کبھی کتاب کا مطالعہ کر تا، نہ کبھی سبق یاد کرتا، فقط مدرسہ کے وقت کتاب ہاتھ میں لیتا اور پھر کتاب سے کوئی غرض مطلب نہیں ہوتی، اور اسی وجہ سے ڈر کے مارے اعلیٰ حضرت کے سامنے نہ آتا ، نمازوں کے اوقات میں جب نماز قائم ہو جاتی تو اخیر میں آکر شریک ہو جاتا اور سب سے پہلے ہی پڑھ کرمسجد سے نکل جاتا ۔

ایک روز نمازِ عشاء کے لئے یہ سوچ کر جاتا ہوں کہ پہلے ہی پڑھ کر چلا آؤں گا۔ بیرونی درجہ کی شمالی فصیل کے در میں بیٹھا ہی تھا کہ دفعتاً حضور (اعلیٰ حضرت) اندرونی درجہ سے نکل کر میرے قریب آکر کھڑے ہو گئے، اب قدم نہ آگے بڑھتا ہے نہ پیچھے ہٹتا ہے ۔اعلیٰ حضرت دریافت فرماتے ہیں کیا پڑھتے ہو ؟عرض کی’’ہدایہ آخرین و عقائدِ نسفی‘‘ حضور کو یہ سن کر بہت مسرت ہوئی ، ما شآء اللہ فرماتے ہوئے دست ِشفقت میرے سر پر پھیرا ، جس سے بالکل کایا پلٹ گئی ۔ مجھے کتب بینی کا شوق پیدا ہو جاتا ہے کہ کتاب ہاتھ سے چھوڑنے کو جی نہیں چاہتا ، ذہن بھی ایسا رَسا(تیز) ہو گیا کہ اپنے ہم سبقوں میں ممتا ز ہو گیا ،بلکہ جس شب کا یہ واقعہ ہے اس کی صبح ہی کو جس وقت درجے میں جا کر بیٹھتا ہوں اور سبق شروع ہوتا ہے تو میرے استاد حضرت مولانا رحم الہٰی صاحب(17) مجھ میں فرق محسو س فرماتے ہیں۔ ان کی حیرت و استعجاب (حیرانی) پر میں نے سارا واقعہ بیان کر دیا کہ جس وقت سے حضور سید ی اعلیٰ حضرت نے میرے سر پر ہاتھ رکھا ہے میں خود اپنے آپ میں یہ تبدیلی محسوس کر رہا ہوں۔(18) آپ نے اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان، حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان، حضرت مولانا رحم الہیٰ منگلوری ،حضرت علامہ مولانا ظہورالحسین فاروقی نقشبندی (19) اورمولانا حسنین رضا خان(20) رحمۃ اللہ علیہم سے شاگردی کا شرف پایا۔

فراغت اوردستاربندی

آپ دارالعلوم منظراسلام بریلی شریف سےغالباً 1340ھ مطابق 1922ء کو فارغ التحصیل ہوئے ۔دستاربندی دارالعلوم منظراسلام کے اٹھارہویں سالانہ جلسے (بتاریخ 22تا24شعبان1340ھ مطابق 21تا23،اپریل 1922ء،جمعہ تااتوار بمقام خانقاہ رضویہ محلہ سوداگران) میں جیدعلماومشائخ کی موجودگی میں ہوئی۔(21)

سلسلۂ قادریہ میں بیعت وخلافت

مولانا سردارعلی خان عزومیاں نے سیدی اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان صاحب سے بیعت کا شرف حاصل کیا۔ آپ کو اعلیٰ حضرت سے بہت عقیدت تھی، آپ کا معمول تھا کہ دارالعلوم منظراسلام میں تدریس کے لئے کتب کا مطالعہ اعلیٰ حضرت کے مزارکے اس حصے میں کیا کرتے تھے جس جانب اعلیٰ حضرت کاچہرہ مبارک ہے یعنی جانبِ قبلہ اور اگر کوئی الجھن واقع ہوتی ہے تواعلیٰ حضرت کی نظر ِ کرم سے فوراً حل ہو جاتی تھی۔ (22)صاحبزادۂ اعلیٰ حضرت ،حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان صاحب نے آپ کو سلسلہ قادریہ رضویہ کی خلافت واجازت سے نوازا۔(23)

دینی خدمات

مولانا سردار علی خان عزومیاں نے دارالعلوم منظراسلام بریلی شریف سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد اسی میں تدریس کا آغازفرمایا، اولاً درجۂ اوّل اوردوم کے طلبہ کو درس دیا کرتے تھے۔(24) پھر دیگرکتابیں بھی پڑھانے لگے ،مفتی اعجاز ولی خان صاحب نے آپ سے تفسیر جلالین پڑھی۔(25) دارالعلوم منظراسلام میں تدریس کا سلسلہ شوال 1340ھ مطابق جون 1922ءتا شعبان1366ھ مطابق جون 1947ء تک 26سال جاری رہا، پاکستان بننے کے بعدمولانا سردار علی خان عزومیاں نےاپنی فیملی کے ہمراہ پاکستان ہجرت کی اورملتان کے علاقے جمال پورہ میں رہائش اختیارفرمالی ،یہاں انھوں نے ایک جائے نمازقائم فرمائی اوراپنی وفات تک تقریباً 7سال اس میں امامت وخطابت اورمحلے کے بچوں کو قراٰن مجید پڑھانے کاسلسلہ جاری رکھا ،آپ رات کا اکثرحصہ عبادت میں گزاراکرتے تھے۔

شادی واولاد

مولانا سردار علی خان عزومیاں کا نکاح مسنون اپنے چچا حاجی شاہدعلی خان کی بیٹی کنیز زہرہ عزوصاحبہ سے تقریباً 1345ھ مطابق1927ء کو ہوا،عزوصاحبہ کی والدہ مصطفائی بیگم اعلیٰ حضرت کی سب سے بڑی بیٹی تھیں جن کا انتقال اعلیٰ حضرت کی حیات میں ہی ہوگیا تھا ۔(26) یوں عزوصاحبہ اعلیٰ حضرت کی سگی نواسی تھیں، عزوصاحبہ کی ولادت تخمیناً 1325ھ مطابق 1907ء کوبریلی میں ہوئی اور آپ نے ملتان میں6جمادی الاولیٰ 1406ھ مطابق 17جنوری 1986ء کو 81سال کی عمرمیں وصال فرمایا ۔ مولانا سردارعلی خان صاحب کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں :

(1)افتخارعلی خان:ان کی پیدائش تقریباً 1354ھ مطابق 1936ء کو بریلی میں اور وفات 16صفر1416ھ مطابق 15جولائی 1995ء کو ملتان میں ہوئی ،شاہ شمس قبرستان میں والدصاحب کے قدموں میں مدفون ہوئے، افتخارعلی خان صاحب کی چاربیٹیاں اورتین بیٹے تھے۔ افتخارعلی خان صاحب کی بیٹیاں ٭زوجہ سید نوید احمد(ان کےدوبیٹے سیدجنید احمد، سید حماد احمد اورایک بیٹی ہیں) ٭زوجہ محمودعلی خان(انکی دوبیٹیاں ہیں) ٭بنت افتخار(انکی ایک بیٹی اورایک بیٹےہیں) اور٭زوجہ شاہ رخ سہیل(ان کے دوبیٹے اورایک بیٹی ہیں)ہیں۔ جبکہ افتخارعلی خان صاحب کےبیٹے ٭ذوالفقارعلی خان(ان کی دوبیٹیاں ہیں) ٭وجاہت علی خان(ان کے بیٹے شیزر علی خان ہیں) اور ٭جودت علی خان ہیں۔ جودت علی خان صاحب کے تین بیٹے سردار علی خان ،شرحبیل علی خان اورشہروزعلی خان ہیں ۔

(2)مختارعلی خان:ان کی پیدائش تقریباً 1360ھ مطابق 1941ءمیں ہوئی اورآپ نےاسلام آباد میں21 ربیع الآخر 1427 ھ مطابق 20مئی 2006ء کو وفات پائی اورگلشن کالونی ٹیکسلا (ضلع راولپنڈی )میں تدفین ہوئی ۔ آپ کی شادی مولانا حمادرضا خان نعمانی میاں کی بیٹی عترت بیگم سے ہوئی، عترت بیگم کی پیدائش1365ھ مطابق 1946ء کو بریلی میں ہوئی اوروصال22ربیع الاول 1426ھ مطابق یکم مئی 2005ء کو ملتان میں ہوا،شاہ شمس قبرستان میں تدفین ہوئی۔ان کے ایک بیٹےفوادعلی خان صاحب اورتین بیٹیاں سطوت عاطف،صباحت مرزا اورشازیہ ارشدہیں،فوادعلی خان صاحب کے ایک بیٹے مصطفی علی خان ہیں۔ (3)سرشارعلی خان سجادبریلوی: ان کی پیدائش تقریباً 1363ھ مطابق 1944ء کو بریلی میں اور وفات1423ھ مطابق2002 ء کو ملتان میں ہوئی ،انھوں نے شادی نہیں کی ۔ (4)انیس بیگم :ان کی پیدائش 1346ھ مطابق 1928ء کو بریلی شریف میں ہوئی ،یہ 1366ھ مطابق 1947ءکو دوران ہجرت 19سال کی عمرمیں وفات پاگئیں۔ (5)زاہدہ بیگم:ان کی چھ بیٹیاں اورتین بیٹے ،وسیم،ندیم اورکلیم ہیں ۔ (6)نجمہ بیگم: ان کی شادی محمدفاروق صدیقی صاحب سے ہوئی ، ان کےایک بیٹے جوادصدیقی اورایک بیٹی کنول ناز ہیں، جوادصدیقی صاحب کی ایک بیٹی کنیز فاطمہ اورتین بیٹےمحمدطلحہ صدیقی ،محمدبلال صدیقی اورمحمدفاروق صدیقی ہیں ۔جبکہ کنول ناز صاحبہ کی بیٹی خدیجہ کاشف شیروانی ہیں۔(27) اللہ پاک مولانا سردارعلی خان عزومیاں کے سارےگھرانے کو سلامت رکھے، انہیں اور ہم سب کو اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے نقشِ قدم پر چلنے کی سعادت نصیب فرمائے ۔

وفات ومدفن

آپ نے صفرالمظفر 1374ھ مطابق اکتوبر1954ءکو مدینۃ الاولیا ملتان میں وصال فرمایا ،تدفین شاہ شمس قبرستان برلب سٹرک میں ہوئی ،آپ کی قبرایک چاردیواری میں ہے،اس چاردیواری میں جانب جنوب تین قبورہیں مولانا سردارعلی خان صاحب کی قبردرمیان میں ہے جبکہ جانبِ مشرق آپ کی اہلیہ کنیززہرہ بیگم عزوصاحبہ اورجانبِ مغرب عترت بیگم (زوجہ مختارعلی خان وبنت مولانا حمادرضا خان) کی قبرہے، قدموں کی جانب مولانا سردارعلی خان عزومیاں کی ہمشیرہ کنیزرسول اور بیٹے افتخارعلی خان مدفون ہیں ۔

حواشی ومراجع

(1)ادارۂ تحقیقاتِ امام احمدرضا انٹرنیشنل کراچی کومولانا سیدمحمدریاست علی قادری نوری صاحب نے 1400ھ مطابق1980ء میں قائم فرمایا ، جس کا مقصدتعلیماتِ رضا کا فروغ ہے۔ اس کی 40سالہ کارکردگی کےلئے دیکھئے:کتاب ’’ادارۂ تحقیقاتِ امام احمدرضا کی چالیس سالہ خدمات کا جائزہ۔‘‘

(2)تِلْمیذِ اعلیٰ حضرت، مفتی تَقدُّس علی خان رَضَوی رحمۃ اللہ علیہ عالِمِ باعمل، شیخُ الحدیث،خلیفۂ حجۃ الاسلام،شیخ طریقت ،سابق مہتمم دارالعلوم منظراسلام بریلی ،سابق شیخ الجامعہ جامعہ راشدیہ پیرجوگوٹھ سندھ اور استاذُ العلماء ہیں۔ رجب المرجب 1325ھ مطابق اگست 1907ءکو بریلی شریف ہند میں پیدا ہوئے اور 03رجب 1408ھ /22فروری 1988ءکو کراچی میں وصال فرمایا اور پیرجو گوٹھ ضلع خیرپور میرس سندھ کے قبرستان میں تدفین ہوئی ۔ (مفتیِ اعظم اور ان کے خلفاء، ص 268، 273)

(3)تلمیذِ اعلیٰ حضرت مفتی محمد اعجاز ولی خان قادری رَضَوی، شیخ الحدیث، استاذُ العلماء،جید مدرس درسِ نظامی ، فقیہِ عصر، مصنّف، مترجم، واعِظ اور مجازِ طریقت تھے۔11ربیع الآخر 1332ھ مطابق 20مارچ 1914ء کو بریلی شریف ہند میں پیدا ہوئے اور لاہور میں 24 شوال 1393ھ مطابق 20نومبر1973ءکو وصال فرمایا، مزار مبارک میانی صاحب قبرستان لاہور میں ہے۔( تذکرہ اکابرِ اہلِ سنت، ص 63-65)

(4)اعلیٰ حضرت، مجدِّدِدین و ملّت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت10شوال 1272ھ /6جون 1856ءکو بریلی شریف(یو۔پی) ہند میں ہوئی، یہیں 25 صفر 1340 ھ مطابق28،اکتوبر1921ءکو وصال فرمایا۔ مزار جائے پیدائش میں مرجعِ خاص وعام ہے۔آپ حافظ قرآن، پچاس سے زیادہ جدیدوقدیم علوم کے ماہر،فقیہِ اسلام، محدثِ وقت، مصلحِ اُمَّت، نعت گوشاعر، سلسلۂ قادریہ کے عظیم شیخ طریقت، تقریباً ایک ہزارکتب کے مصنف، مرجعِ علمائے عرب وعجم، استاذالفقہاومحدثین،شیخ الاسلام والمسلمین، مجتہد فی المسائل اور چودہویں صدی کی مؤثر ترین شخصیت کے مالک تھے۔ کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن،فتاویٰ رضویہ (33جلدیں)، جد الممتارعلی ردالمحتار(7 جلدیں،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی) اور حدائقِ بخشش آپ کی مشہور تصانیف ہیں۔ (حیاتِ اعلیٰ حضرت، 1/58، 3/295،مکتبۃ المدینہ،تاریخِ مشائخِ قادریہ رضویہ برکاتیہ،282، 301)

(5)حافظ کاظم علی خان ،دربارِاودھ کی طرف سے بدایون کے تحصیل دار(سٹی مجسٹریٹ)تھے ،دوسوفوجیوں کی بٹالین آپ کی خدمت میں رہتی تھی ،آپ کو آٹھ گاؤں معافی جاگیرمیں ملےتھے ، مال ومنصب کے باوجودآپ کا میلان دین کی جانب تھا،آپ حافظِ قرآن اورحضرت علامہ شاہ نورالحق قادری رازقی فرنگی محلی (متوفی 1237ھ مطابق1882ء)کے مریدوخلیفہ تھے ،ہرسال بارہ ربیع الاول کو محفلِ میلادکیا کرتے تھے جوخانوادۂ رضویہ میں اب بھی ہوتی ہے۔(تجلیاتِ تاج الشریعہ ،83،84)

(6)جدِّ اعلیٰ حضرت، امام العلماء مفتی رضا علی خان صاحب عالمِ دین، اسلامی شاعر، مفتیِ اسلام، استاذالعلماء، علامہ فضل رحمن گنج مرادآبادی کے مرید، شیخِ طریقت اورصاحبِ کرامت ولی کامل تھے۔1224ھ/1809ء کو بریلی شریف کے صاحبِ حیثیت دینی گھرانے میں پیدا ہوئے اور 2جمادی الاولیٰ1286ھ/10اگست 1869 ءکویہیں وصال فرمایا، مزار قبرستان بہاری پورنزدپولیس لائن سٹی اسٹیشن بریلی شریف (یوپی، ہند) میں ہے۔ (معارفِ رئیس اتقیا،ص17)

(7) رئیس الحکماء حکیم تقی علی خان صاحب مولانا رضا علی خان صاحب کے حقیقی بھائی تھے، یہ بہت بہادر ، قومی ہیکل، فنِ طِب میں خاص مہارت رکھتے تھے،یہ حکیم محمد اجمل خان دہلوی کےشاگردتھے، ان کی شادی حکیم اجمل صاحب کے منجھلے بھائی حکیم محمد واصل خان صاحب کی بیٹی سے ہوئی، یہ ریاست جے پور کے شاہی طبیب تھے ، ا ن کے4 بیٹے تھے:(1)مہدی علی خان(2)حکیم ہادی علی خان(3) فتح علی خان(4)فدا علی خان، ان میں سے حکیم ہادی علی خان مفتی تقدس علی خان کے داداہیں۔ ( حیات اعلیٰ حضرت ،مکتبۃ رضویہ کراچی،15)

(8)حیاتِ اعلیٰ حضرت،14تا17۔

(9) فیضانِ اعلیٰ حضرت،ص435۔

(10)مُفسرِ اعظم حضرتِ مولانا محمد ابراہیم رضا خان رضوی جیلانی میاں رحمۃ اللہ علیہ حجۃ الاسلام علامہ حامدرضا خان صاحب کے بڑے صاحبزادے ہیں، آپ کی ولادت 10ربیع الآخر1325ھ/23مئی1907ء کو بریلی شریف (یوپی) ہند میں ہوئی۔ آپ عالمِ دین، مصنف، سجادہ نشین آستانہ عالیہ قادریہ رضویہ بریلی شریف، مہتمم دار العلوم منظرِ اسلام اور شیخ الحدیث تھے۔11 صَفَرُالْمُظَفَّر 1385ھ مطابق 11جون 1965ء کو وصال فرمایا، آپ کا مزار مبارک بریلی شریف (یوپی) ہند میں روضۂ اعلیٰ حضرت کے دائیں جانب مرجعِ خلائق ہے۔ (تجلیاتِ تاج الشریعہ، ص93،مفتی اعظم اوران کے خلفاء، ص110، تذکرۂ جمیل ، 204)

(11)مولانا حمادرضا خان نعمانی میاں حجۃ الاسلام کے چھوٹے فرزندہیں ،آپ کی ولادت 1334ھ/1915ء کو بریلی شریف میں ہوئی ، اعلیٰ حضرت کی زیارت سے مشرف ہوئے ،اعلیٰ حضرت نے اپنے ایک مکتوب میں آپ کو ’’چھوٹانبیرہ ‘‘تحریرفرمایاہے ،آپ نے علمِ دین حجۃ الاسلام سے حاصل کیا ،1357ھ/1937ءکوآپ کی شادی بریلی کے ایک سادات گھرانے میں ہوئی ،3بیٹے اور4بیٹیاں ہیں ،آپ نے پاکستان ہجرت فرمائی اور 1375ھ/1956ءکو کراچی میں وصال فرمایا۔ تدفین فردوس قبرستان کراچی میں ہوئی۔ (تجلیات تاج الشریعہ، ص94 ، ضیائے طیبہ ویب سائٹ)

(12) شہزادۂ اعلیٰ حضرت،حجۃ الاسلام مفتی حامد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ علامۂ دہر، مفتیِ اسلام ،نعت گوشاعر،اردو،ہندی ،فارسی اورعربی زبانوں میں عبوررکھنے والےعالمِ دین ، ظاہری وباطنی حسن سےمالامال ،شیخِ طریقت ،جانشینِ اعلیٰ حضرت اوراکابرین اہل سنت سے تھے۔ بریلی شریف میں ربیعُ الاول1292ھ/اپریل1875ء میں پیداہوئے اور17جمادی الاولیٰ 1362ھ /22مئی 1943ءمیں وصال فرمایا ، مزار شریف خانقاہِ رضویہ بریلی شریف ہند میں ہے، تصانیف میں فتاویٰ حامدیہ مشہورہے۔( فتاویٰ حامدیہ،ص48،79)

(13)مَلِکُ العُلَماء حضرت مولانا مفتی سیّدمحمد ظفَرُ الدّین رضوی محدِّث بِہاری رحمۃ اللہ علیہ عالمِ باعمل، مناظرِ اہلِ سنّت، مفتیِ اسلام، ماہرِ علمِ توقیت، استاذُ العلما ءاور صاحبِ تصانیف ہیں، حیاتِ اعلیٰ حضرت اور صحیح البہاری کی تالیف آپ کا تاریخی کارنامہ ہے، 23 اکتوبر 1885 ء مطابق 14محرم 1303ھ میں پیدا ہوئے اور 19 جُمادی الاُخریٰ 1382ھ مطابق 17نومبر1962ءمیں وصال فرمایا، قبرستان شاہ گنج پٹنہ (بہار) ہند میں دفن کئے گئے۔ ( حیاتِ ملک العلما،ص 9،16،20،34 )

(14) فیضانِ اعلیٰ حضرت،ص435۔

(15)حیاتِ اعلیٰ حضرت از مولانا ظفر الدین بہار ی مکتبہ نبویہ لاہور ص 953 ۔

(16) دارالعلوم(مدرسہ اہل سنت وجماعت) منظر اسلام بریلی کی بنیاد اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری رحمۃ اللہ علیہ نے شہر بریلی(یوپی ہند) میں غالباً ماہ ِشعبان المعظم 1322ھ/ اکتوبر1904ء کو رکھی، اس مدرسے کے بانی اعلیٰ حضرت امام احمدرضا ،سربراہ حجۃ الاسلام مولانا حامدرضا قادری اورپہلے مہتمم برادرِاعلیٰ حضرت مولانا حسن رضا خان رحمۃ اللہ علیہم مقررہوئے ، ہر سال اس ادارے سے فارغ التحصیل ہونے والے حفاظِ قرآن، قراء اور علماء کی ایک بڑی تعداد ہے۔ (صدسالہ منظراسلام نمبرماہنامہ اعلیٰ حضرت بریلی،ماہ مئی 2001ء،قسط 1ص28،132)

(17)استاذُ العلما، حضرت مولانا رحم الٰہی منگلوری مظفر نگری قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت منگلور (ضلع مظفر نگر، یو پی) ہند میں ہوئی۔ آپ ماہرِ معقولات عالم دین، صدر مدرس، مجازِ طریقت اور دارلعلوم منظراسلام کےاولین( ابتدائی) اساتذہ میں سے ہیں ۔ آپ نے بحالتِ سفر آخر (غالباً28) صَفر 1363ھ /23فروری 1944ءکو وصال فرمایا۔( تذکرہ خلفائے اعلی حضرت، ص138 )

(18)حیاتِ اعلیٰ حضرت از مولانا ظفر الدین بہار ی مکتبہ نبویہ لاہور ص951۔

(19)شمسُ العلماء حضرت علّامہ ظہور الحسین فاروقی مجددی رامپوری علیہ رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1274ھ/1857 ءمیں ہوئی اور 12جُمادَی الاُخریٰ 1342ھ/20جنوری 1944ء کو رامپور (یوپی، ضلع لکھنؤ) ہند میں آپ نے وفات پائی۔ آپ علامہ عبدالحق خیرآبادی، علامہ مفتی ارشادحسین مجددی رامپوری کے شاگرداورعلامہ فضل رحمن گنج مرادآبادی سے بیعت وسندحدیث کی سعادت پانے والے ہیں ، علومِ عقلیہ و نقلیہ میں ماہرترین،استاذالعلما، صدر مدرس دارُالعلوم منظراسلام بریلی شریف،مہتمم ِثانی ارشادالعلوم، بشمول مفتیِ اعظم ہند سینکڑوں علما کے استاذ اور کئی دَرسی کتب کے مُحَشِّی ہیں۔مدرسہ عالیہ رامپورمیں بیس سال تدریس فرمائی ،یہاں کے اکثرمدرسین آپ کے شاگرد تھے ،اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ آپ پرکامل اعتمادفرماتےتھے ،اہم وضاحت : بعض کتابوں میں آپ کا نام ظہورالحسن فاروقی رامپوری لکھا گیا ہے جو کہ درست نہیں ،علامہ ظہورالحسن رامپوری ایک اورعالم دین تھے جن کے آباواجدادکاتعلق بخارا پھر رامپور سے تھا اور یہ فاروقی نہیں تھے ۔ ( تذکرہ کاملان رامپور،184تا188،ممتاز علمائے فرنگی محل، ص417تا419)

(20)صاحبزادۂ استاذِ زمن،استاذُ العلما حضرتِ مولانا محمد حسنین رضا خان رضوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1310 ھ کو بریلی شریف (یوپی) ہند میں ہوئی۔ آپ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت کے بھتیجے، داماد، شاگرد و خلیفہ، جامع معقول و منقول، کئی کُتُب کے مصنف، مدرسِ دارالعلوم منظرِ اسلام، صاحبِ دیوان شاعر، بانیِ حسنی پریس و ماہنامہ الرضا و جماعت انصار الاسلام تھے۔ وصال5 صَفَرُالْمُظَفَّر 1401ھ میں فرمایا اور مزار بریلی شریف میں ہے۔ (تجلیات تاج الشریعہ، ص95، صدر العلما محدث بریلوی نمبر، ص77تا81)

(21) ماہنامہ اعلیٰ حضرت بریلی،صدسالہ منظراسلام نمبر1/ 242،243۔

(22)حیاتِ اعلیٰ حضرت از مولانا ظفر الدین بہار ی مکتبہ نبویہ لاہور ص951۔

(23)تذکرۂ جمیل ،183۔

(24) حیاتِ اعلیٰ حضرت از مولانا ظفر الدین بہار ی مکتبہ نبویہ لاہور ص951۔

(25)تذکرہ اکابر اہل سنت: محمد عبد‌الحکیم شرف قادری:ص63۔

(26)حیات اعلیٰ حضرت ،مکتبہ رضویہ ،ص18۔

(27)حیاتِ اعلیٰ حضرت ،مکتبہ رضویہ کراچی،۱۷،جودت علی خان صاحب سے انٹرویو۔


تحریر:مولاناراشدنورمدنی

بارش اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے اگر بارش نہ ہو تونظامِ کائنات میں فسادِعظیم پیداہوجائے ،اسی سے کروڑوں انسانوں کا رزق اور روزگاروابستہ ہے عام طورپرسائنس کی کتابوں میں طلباء کوفقط اتنابتایاجاتاہے کہ سمندرسے اُٹھنے والے بُخارات آسمان کی طرف اُٹھتے ہیں اوربادل میں جذب ہوکرزمین پربارش کی صورت میں برستے ہیں لیکن تفسیردُرِّمنثورمیں علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرّحمہ نے محدّثین ومفسّرین کے بارش سے متعلق جن تحقیقات کوجمع فرمایا اُن کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ بارش کے نزول کاسبب فقط سمندری پانی نہیں بلکہ جنّت کابابرکت پانی بھی ہے جس کے ذریعے اللہ پاک زمین میں مختلف اقسام کے پھل، سبزیاں، گھاس اور انسانوں وجانوروں کی خوراک پیدافرماتاہے جیساکہ قرآنِ پاک میں ارشادہوتاہے۔وَّاَنْزَلَ مِنَ السَّمَآء ِ مَآء ً فَاَخْرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّکُمْ٭ ترجمہ:اور(اللہ نے) آسمان سے پانی اتارا تو اُس (آسمانی پانی کے ذریعے زمین)سے کچھ پھل نکالے تمہارے کھانے کو۔(البقرہ آیت22)آئیے اب تفسیردُرِّمنثورجلداول میں موجود بارش سے متعلق ہمارے اسلاف کی تحقیقاتِ جلیلہ کامطالعہ کرتے ہیں تاکہ مغربی افکارسے متاثرہونے کی بجائے اسلامی وشرعی تحقیقات سے اپنے قلوب کی تسکین کاسامان کرسکیں۔امام حسن بصری علیہ الرّحمہ سے پوچھاگیاکہ بارش آسمان سے نازل ہوتی ہے یابادل سے۔؟فرمایا: بارش آسمان سے بادل پر نازل ہوتی ہے بادل توفقط نشانی ہے۔سیدناوہب علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: میں نہیں جانتاکہ بارش آسمان سے بادل میں نازل ہوتی ہے یا اللہ تعالیٰ بادل میں بارش پیدا فرماتا ہے پھر وہ نیچے برساتاہے۔سیدناکعب علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: بادل بارش کیلئے چھاننی ہے اگربادل نہ ہوتاتوپانی ایک جگہ گِرتا اور اس کوخراب کردیتااوربیج آسمان سے اُترتاہے۔ سیدناخالدبن معدان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بارش ایک پانی ہے جوعرش کے نیچے سے نکلتا ہے پِھر پہ درپہ ہرآسمان پر اُترتا ہے حتّٰی کہ پہلے آسمان میں جمع ہوجاتاہے اورجس جگہ جمع ہوتاہے اُسے ا َلاِیرَم کہاجاتاہے پِھرکالے بادل آتے ہیں اور آسمان میں داخل ہوکراُس بارش کوپیتے ہیں پِھراللہ پاک جہاں چاہتا ہے اُنہیں لے جاتاہے۔ حضرت عکرمہ علیہ الرّحمہ فرماتے ہیں: پانی ساتویں آسمان سے نازل ہوتاہے پِھر اِس سے ایک قطرہ بادل پر اُونٹ کی طرح گرتاہے۔سیدناخالدبن یزید رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ بادل سے ہونے والی بارش میں آسمانی پانی اور سمندر سے اُٹھنے والے بُخارات ہوتے ہیں جوبادل اُٹھا کرلاتے ہیں پَس کڑک اور آسمانی بجلی اِس کومیٹھاکرتے ہیں لہٰذا جوپانی سمندروں سے ہوتاہے اُس سے پودے نہیں اُگتے بلکہ آسمان سے اُترنے والے پانی کے سبب زمین میں پودے اُگتے ہیں۔سیدناعکرمہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ آسمان سے اُترنے والاپانی ضائع نہیں ہوتابلکہ اِس کے ذریعے زمین میں گھاس اُگتی ہے یاسمندرمیں موتی بنتاہے۔ سیدناعبداللہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ بارش کے ذریعے صدف کے مُنہ میں موتی پیدا فرماتاہے اِس طرح کہ جب بارش برستی ہے تودریاؤں میں صدف اپنے مُنہ کھول لیتے ہیں جوقطرہ ان کے مُنہ میں گِرتاہے وہ موتی بن جاتاہے پس بڑاموتی بڑے قطرے سے اورچھوٹاموتی چھوٹے قطرے کے باعث ہوتاہے۔امام شافعی علیہ الرّحمہ کتاب الاُم میں سیدنامُطلب بن حنطب رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیّدِعالم ﷺ نے ارشادفرمایا: دن اوررات میں کوئی وقت ایسانہیں جب بارش نہ برس رہی ہواللہ تعالیٰ جہاں چاہتاہے اِسکوپھیردیتاہے۔ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آسمان سے جب بارش نازل ہوتی ہے تواس کے ساتھ بیج بھی نازل ہوتاہے اگرتُم چمڑے کادسترخوان بچھاؤ تواسے دیکھ لواور بارش کی آمیزش جنّت سے ہے، جنّت کی آمیزش زیادہ ہوتی ہے توبرکت زیادہ ہوتی ہے اگرچہ بارش کم ہواورجب جنّت کی آمیزش کم ہوتی ہے توبرکت کم ہوتی ہے اگرچہ بارش زیادہ ہو۔امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ کوئی سال دوسر ے سال سے بارش کے اعتبار سے زیادہ نہیں ہوتا لیکن اللہ عزّوجل جہاں چاہتاہے اسے پھیردیتاہے اور بارش کے قطروں کے ساتھ آسمان سے فرشتے اُترتے ہیں جوتین باتیں لکھتے ہیں 1 ) بارش کامقام 2 ) بارش کیوجہ سے لوگوں کومِلنے والارزق 3 )اوراس بارش سے زمین میں کیاپیداہوگا۔ (ماخوذازتفسیردُرِّمنثورمترجم جلد1صفحہ100مکتبہ ضیاء القرآن)

الحاصل: ان تمام روایات میں اس طرح مطابقت دی جاسکتی ہے کہ عرشِ اعظم  کے نیچے سے پانی نکلتا ہے اورساتوں آسمانوں سے ہوتاہوا آسمانِ دُنیا (یعنی پہلے آسمان)سے بادلوں میں گرتاہے اوربادل اس آسمانی پانی اوردریاؤں سے اُٹھنے والے بخارات  کواپنے اندرجذب کرکے جہاں اللہ تعالیٰ چاہتاہے وہاں برساتےہیں۔