تلمیذ ِاعلیٰ حضرت مفتی تقدس علی
خان رحمۃ
اللہ علیہ
خاندانِ اعلیٰ حضرت کے عظیم
فرد،یادگارِ اسلاف ،شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا مفتی تقدس علی خان صاحب، اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان(1) رحمۃ اللہ علیہ کے مرید و شاگرد اور حجۃا لاسلام
علامہ مفتی حامدرضا خان (2) رحمۃ اللہ علیہ کے داماد و خلیفہ تھے ،والدکی جانب سے یہ رشتے میں اعلیٰ
حضرت کے بھتیجے اور والدہ کی جانب سے نواسے تھے،انھوں نے ساری زندگی علمِ دین کی اشاعت،دارالعلوم منظرِاسلام بریلی
شریف ہند(3) اورجامعہ راشدیہ پیرجوگوٹھ سندھ پاکستان (4) کی آبیاری وترقی کے وقف کئے رکھی،پاک
وہندکے سینکڑوں علمانے آپ سےشرفِ تلمذحاصل کیااورچاردانگ عالم میں دینِ اسلام کی
سربلندی کے لئے کوشاں ہوئے۔آپ کے حالاتِ زندگی میں سمجھنے، سیکھنے اورعمل کرنے کے
کئی پہلو موجودہیں،آئیے آپ بھی ان کے حالات کا مطالعہ کیجئےاور ان سے حاصل ہونے
والے دروس کو اپنی عملی زندگی میں نافذکیجئے:
اعلیٰ حضرت
سےوالدکی جانب سے رشتہ
خاندانِ اعلیٰ
حضرت امام احمدرضا کا تعلق افغانستان(5) کے صوبےقندھار (6) کے پٹھان قبیلے بڑھیچ سے ہے،اس قبیلے کے ایک فردشجاعت جنگ
بہادر سعیداللہ خان(7) مغلیہ دورمیں لاہور(8) اورپھردہلی(9) آئے اورکئی حکومتی عہدوں پر فائز رہے ،ان کے بیٹے سعادت
یارخان(10) اورپوتے محمداعظم خان(11) تھے ، اللہ پاک نےانہیں ایک بیٹے حافظ کاظم علی خان اور چار بیٹیوں سے نوازا، حافظ کاظم علی خان، دربار
اودھ کی طرف سے بدایون کے تحصیل دار (سٹی مجسٹریٹ) تھے، دوسو فوجیوں کی بٹالین آپ کی خدمت میں رہتی تھی،آپ کو
آٹھ گاؤں معافی جاگیر میں ملےتھے، مال ومنصب کے باوجود آپ کا میلان دین کی جانب
تھا،آپ حافظِ قرآن اورحضرت علامہ شاہ
نورالحق قادری رازقی فرنگی محلی (12)کے مرید و خلیفہ تھے ،ہرسال بارہ ربیع الاول کو محفلِ
میلادکیا کرتےتھے جوخانوادہ رضویہ میں اب بھی ہوتی ہے۔(13) آپ کے تین بیٹے (1)امام العلماء مولانا رضا علی خاں (2)رئیس الحکماء حکیم تقی علی خان (3)جعفرعلی خان اورچاربیٹیاں تھیں۔ امام العلماء
مولانا رضا علی خاں(14) اعلیٰ حضرت کے دادا تھے اور رئیس الحکماء حکیم تقی علی خان
مفتی تقدس علی خان صاحب کے پڑدادا ہیں ۔ (15)حکیم تقی علی خان صاحب بہت بہادر ، قومی ہیکل، فنِ طِبّ میں
خاص مہارت رکھتے تھے،یہ حکیم محمد اجمل خان دہلوی
(16) کےشاگردتھے، ان کی شادی حکیم اجمل صاحب کے منجھلے بھائی
حکیم محمد واصل خان صاحب(17) کی بیٹی سے ہوئی، یہ ریاست جے پور کے شاہی طبیب تھے، انہیں
ریاست کی طرف سے اتنی جائیداد ملی جس کی سالانہ آمدن 3 لاکھ تھی، ا ن کے4 بیٹے تھے:(1)مہدی علی خان(2)حکیم ہادی علی خان(3) فتح علی خان(4) فدا علی خان،ان میں سے حکیم ہادی علی خان
مفتی تقدس علی خان کے داداہیں،(18) حکیم ہادی علی خان کی شادی ریاست ٹونک کے عبدالعلیم خان
صاحب کی بیٹی سے ہوئی جن سے 3 بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئی:(1)ہدایت علی خان (2)مولاناسردار ولی خان (3)محبوب علی خان۔ان میں سےمولانا سردارولی خان
صاحب مفتی تقدس علی خاں صاحب کے والدمحترم
ہیں ۔ (19)
مولانا سردارولی خان صاحب کی پیدائش1302ھ مطابق 1885ء کو
بریلی شریف میں ہوئی،انھوں
نےطویل عمرپائی اور 1970ء
/1390 ھ کو پیرجوگوٹھ میں انتقال فرمایا۔مفتی صاحب کے ایک مکتوب میں
ہے:میرے والدصاحب کو اعلیٰ حضرت قبلہ سےخلافت نہیں تھی،وہ(سراج العارفین
مولانا سیّدابوالحسین احمد)
نوری میاں(20) سے
بیعت تھے۔(21)
والدہ کی
جانب سے رشتہ
اعلیٰ حضرت کے پڑداداحافظ کاظم علی
خان صاحب کے دوبیٹے اورچاربیٹیاں تھیں،ان
میں سے ایک بیٹی زینت موتی بیگم تھیں جن
کا نکاح محمدحیات خان یوسف زئی سے ہوا،ان کے دوبیٹے نعمت (عرف بزرگ) علی خان اورکوچک خان تھے، نعمت (عرف بزرگ ) علی خان کے ایک بیٹے حاجی وارث علی خان تھے جن کی شادی
اعلیٰ حضرت کی ہمشیرہ حجاب بیگم سے ہوئی۔ حجاب بیگم مفتی تقدس علی خان صاحب کی
نانی صاحبہ ہیں، یوں اعلیٰ حضرت رشتے میں مفتی صاحب کے نانا ہوئے۔(22) حاجی وارث علی خان صاحب کے دوبیٹے
اورتین بیٹیاں تھیں،ایک بیٹی کنیزفاطمہ کا
نکاح مولاناسردارولی خان صاحب سے ہوا،ان
کے چاربیٹے (1)مفتی تقدس علی
خان(2)مفتی اعجازولی
خان(3)عبدالعلی خان(4)مقدس علی خان
اور 2بیٹیاں تھیں۔(23) مفتی صاحب کی والدہ محترمہ کنیز فاطمہ
کی پیدائش1297ھ/ 1880ء کو بریلی میں ہوئی اور وصال 1377ھ /1957ء کو پیرجوگوٹھ میں ہوا۔(24) مفتی تقدس علی خان صاحب کی والدہ کی بہن(یعنی خالہ) کنیزعائشہ کا نکاح حجۃ الاسلام علامہ حامدرضا خان صاحب سے ہوا،یوں حجۃ الاسلام آپ کےخالواوررشتے کےماموں ہیں،انہیں
کی بیٹی کنیز صغریٰ بیگم سے آپ کا نکاح ہوا،اس لئے حجۃ الاسلام آپ کے سسربھی تھے ۔(25) حجۃ الاسلام کے بیٹے مفسرِاعظم ہند مولانا ابراہیم رضا خان(26) اور مولانا حماد رضا خان نعمانی میاں (27) آپ کے برادرِ نسبتی تھے، اس لئے آپ خاندان رضوی میں پھوپھا صاحب
کے لقب سے مشہور تھے۔(28) بقول
خوشترِملّت حضرت مولانا محمدابراہیم خوشترصدیقی رضوی: آپ (مفتی تقدس علی
خان)حسب نسب
کے اعتبارسے کاظمی اوربیعت کے اعتبارسے رضوی اوراجازت وخلافت کے اعتبارسے حامدی
ہیں ۔(29)
پیدائش
مفتی تقدس علی خان صاحب کی ولادت رجب المرجب 1325ھ/اگست 1907ءکو آستانہ عالیہ قادریہ رضویہ محلہ سوداگران بریلی شریف (یوپی، ہند)میں ہوئی،(30) شہنشاہِ
سخن حضرت مولانا حسن رضا خان صاحب(31) نے آپ کا تاریخی نام ’’تقدس علی خان‘‘رکھا۔(32) آپ اپنے بھائیوں
میں سب سے بڑے ہیں ۔(33)
تعلیم
وتربیت
آپ نے پانچ سال کی عمرمیں 1330ھ/1912ء کو ناظرہ قرآن مکمل کیا۔(34) ٭ابتدائی کتب درسِ نظامی دارالعلوم
منظراسلام بریلی شریف(35) کے مدرس حضرت مولانا محمدخلیل الرحمٰن بہاری (36) سے پڑھیں ۔(37)٭درسِ نظامی کی متوسط کتب صاحبزادہ ٔ شہنشاہِ
سخن اور داماد وخلیفۂ اعلیٰ حضرت علامہ حسنین رضا خان(38) اور مولانا عبدالمنان خان شہباز گڑھی(39) سےپڑھیں۔ شرح جامی(40) کا خطبہ اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان
صاحب سے پڑھنے کی سعادت پائی۔ مفتی
تقدس علی خان صاحب فرماتے ہیں : ’’میری عمر12یا 13سال کی تھی ،جب میں نے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سے شرح جامی کا درس لیا۔اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی عام نشست ایک مسہری تھی،جس پر آپ جلوہ فرماتے تھے۔ اس کے
سامنے کرسیاں بچھی ہوتی تھیں جس پر لوگ آکربیٹھتے تھے۔ادب واحترام کا یہ عالم تھا
کہ اعلیٰ حضرت کی مسہری پر کوئی نہیں بیٹھتاتھا۔‘‘(41) ٭آپ کے
منتہی کتب کے اساتذہ صدرالمدرسین علامہ
ظہورالحسین رامپوری (42) اور ان کے وصال کے بعد ان کے صاحبزادے علامہ نورالحسین رامپوری(43)، استاذالعلماءمولانا عبدالعزیز خان محدث بجنوری(44) [مفتی
تقدس علی خان صاحب نےعلامہ عبدالعزیزصاحب کا ذکراپنے ایک مکتوب میں ان الفاظ
سےکیاہے: مولانا عبدالعزیز خان صاحب نے
دارالعلوم منظراسلام میں تقریبا بیس سال پڑھایا،اعلیٰ حضرت قبلہ سے انہیں خلافت
حاصل تھی،جامع مسجدبریلی میں خطیب وامام رہے، پھر مدرسہ مظہرِاسلام مسجدبی بی جی
بریلی میں اعلیٰ کتابیں پڑھاتے رہے اور منظرِاسلام میں بھی حدیث پڑھاتے رہے،انہیں
بدرالطریقہ لقب سے یادکیا جاتاہے ، شام
کوروزانہ مثنوی شریف کا درس ان کا معمول تھا،اپنے وطن مولوف میں وصال فرمایا۔(45)] شیخ الحدیث علامہ رحم الہی منگلور ی(46) اورصدرالشریعہ مفتی امجدعلی اعظمی رحمۃ اللہ علیہم ہیں۔(47) مفتی تقدس علی خان صاحب نے اپنے ان
دونوں آخرالذکر اساتذہ کا ذکراپنے مکتوب
میں اس طرح کیا ہے: مولانا رحم الہیٰ اور صدرالشریعہ مولانا امجدعلی[مدرسے کے
صدرمدرس ہونےکے] اُمیدوار ہوئے، اعلیٰ حضرت [ان میں سے]کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح
نہیں دیتےتھے،لہٰذا لکھا کہ ایک میرادل، دوسرا میرا جگر ہے اور دونوں میری آنکھیں
ہیں، ایک ماہ ایک کو مدرّسِ اول لکھا جائے اور دوسرے ماہ دوسرے کو مدرّس اول لکھا
جائے اور تنخواہیں دونوں کی برابررکھی جائیں ۔(48) ٭مفتی تقدس علی
خان صاحب نے دورۂ حدیث حجۃ الاسلام علامہ حامدرضا خان سے کیا ،انہیں سے
ردالمحتارکا مقدمہ پڑھا اورفتاویٰ نویسی کی مشق بھی کرتے رہے ۔آپ کی صلاحیت،اطاعت
،حجۃ الاسلام سے محبت اورحجۃ الاسلام کی شفقت وکرم نوازی کا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ زمانہ طالب علمی میں ہی آپ حجۃ
الاسلام کے نائب مشہورہوگئے۔آپ سفر و حضرمیں حجۃ الاسلام کے رفیق وخادم اور اعزا میں
سب سے قریب تھے۔(49) ٭۱۳۴۵ھ /1927ء کوتقریبابیس سال کی
عمرمیں آپ نے دارالعلوم منظراسلام بریلی
سے درسِ نظامی سے فارغ التحصیل ہوکر سندِ فراغت حاصل کی ۔(50)
سلسلہ
قادریہ کی خلافت
٭
مفتی تقدس علی خان سات سال کی عمرمیں 1332ھ/1914ء کو اعلیٰ حضرت
سےسلسلہ قادریہ رضویہ میں بیعت
ہوئے، چنانچہ آپ کے ایک مکتوب میں ہے :مجھے اعلیٰ حضرت قبلہ سے 1332ھ میں ارادت
حاصل ہوئی ۔ان کا دستخط شدہ شجرہ میرےپاس محفوظ ہے۔(51) بعدمیں شرح جامی
کا خطبہ پڑھ کرشرفِ تلمذبھی حاصل کیا ، جب اعلیٰ حضرت کا وصال ہوا تو آپ پندرہ سال
کے تھے،خاندان کے دیگرافراد کے ساتھ مل کرتجہیز وتکفین میں شریک ہوئے۔ بعض کتب میں
آپ کو خلیفۂ اعلیٰ حضرت لکھا گیاہے لیکن یہ بات درست نہیں ، آپ مریدوتلمیذِاعلیٰ
حضرت ضرورہیں مگر خلیفہ اعلیٰ حضرت نہیں ،صاحبِ فوز المقال فی خلفائے پیر سیال
حاجی مریداحمدچشتی صاحب(52) نےخلفائے اعلیٰ حضرت پر کام کے دوران مفتی تقدس علی خان صاحب کو کئی مکتوب بھیجے ،ان
کی معلومات میں جوجوخلفائے اعلیٰ حضرت تھے ان کے نام مفتی صاحب کوروانہ کئے،اس
فہرست میں آپ کا نام100نمبرمیں تحریرتھا،آپ نے جن ناموں کے بارے میں فرمایا کہ
مندرجہ ذیل افرادکو (اعلیٰ حضرت قبلہ سے)خلافت نہیں ملی ،اس میں اپنا نام بھی شامل
فرمایا۔(53) ٭حجۃ الاسلام علامہ حامدرضا خان صاحب نےآپ کو خاندانِ قادریہ کے اوراد و وظائف
کی اجازت دے کر خلافت سے نوازا۔ اپنے ہاتھوں سے مصافحہ فرماتے ہوئے’’حدیثِ مصافحہ
‘‘سنائی جوکہ سات واسطوں سے حضورسیّدِکائنات صلی اللہ علیہ
والہ وسلم تک پہنچتی ہے، آپ کو حجۃ الاسلام سے کتنا قرب تھا ،علامہ
محمدابراہیم خوشترصدیقی قادری رضوی صاحب(54) تحریر فرماتے ہیں:
(مفتی صاحب)حضرت حجۃ الاسلام کے سفروحضرمیں ساتھی،معاملات میں امین،دینی اوردنیوی
ذمہ داریوں میں شریک و معین رہے، آپ فرزندنسبتی (داماد)تھے، مگر زندگی بھرحقِ
فرزندی اداکرتے رہے۔ جامعہ منظراسلام کے انتظام و انصرام میں اور سلسلہ حامدیہ
رضویہ کی ترویج واشاعت میں آپ حضرت حجۃ الاسلام کے مازون ومجاز اورخلیفہ ٔ برحق
تھے۔(55) مزیدفرماتے
ہیں:(فارغت کے بعد)اگرچہ آپ نائب مہتمم تھے مگردارالعلوم(منظراسلام )،عرس قادری
وغیرہ کا ساراہتمام آپ سے متعلق تھا۔(56) حجۃ الاسلام کے علاوہ آپ کو قطب مدینہ ،شیخ العرب والعجم
مولانا ضیاءالدین احمدمدنی صاحب سے بھی خلافت حاصل ہے، قطبِ مدینہ رحمۃاللہ علیہ آپ کا
ذکرخیرکرتے ہوئے فرمایا کرتے : (مفتی تقدس علیٰ خان )سادہ لوح،بے تکلف،بس دین کی
خدمت سے غرض رکھنے والے عالِم ہیں ۔ (57)مفتیِ اعظم ہند
مفتی محمدمصطفیٰ رضا خان(58) نے بھی آپ
کو خلافت سے نوازا،اسی محبت وعقیدت کی بناء پرمفتی تقدس علی رضوی صاحب نے مکاشفۃ
القلوب مترجم کا انتساب مفتیِ اعظم کے نام
کیا،چنانچہ آپ تحریرفرماتےہیں :مُعنون باسمِ گرامی،آقائے نعمت حضرت مفتیِ اعظم ہند
محمدمصطفیٰ رضاخاں دامت برکاتہم القدسیہ سجادہ نشین آستانہ عالیہ بریلی شریف ،جن کی عمدہ تربیت
وشفقت سے ہیچمدان فقیراس درجہ پرفائزہوا،فقیرتقدس علی خان بریلوی۔(59)
شادی واولاد
آپ کی شادی حجۃ الاسلام علامہ حامدرضا خان صاحب کی بیٹی کنیز صغریٰ بیگم سے ہوئی،آپ کے چاربیٹے تھے: (1)مصدق علی خان(2)حاجی محمد
اختر حامد خان[1364ھ تا 1384ھ،بیس سال کی عمر میں وصال فرماگئے] (3)اعزاز ولی خان (4)منورعلی خان (1365ھ تا1367ھ) اورچاربیٹیاں تھیں:(1)حلیمہ بی بی(1362ھ تا1364ھ) (2)کنیز ریحانہ (3)کنیز عذرہ(4) کنیز فاطمہ۔تمام اولادکا انتقال بچپن یا
لڑکپن میں ہوا۔آپ کی زوجہ محترمہ کاوصال 1388ھ/1969 ء کو کراچی میں ہوا،تدفین فردوس کالونی کراچی کے قبرستان
میں اپنے بھائی مولانا حماد رضا خان نعمانی میاں کی قبرکے پہلومیں ہوئی۔(60) اتنی صبر آزما زندگی کے باوجودآپ کے چہرے پرہمیشہ تبسم
دیکھا گیا ،آپ اِنَّ اللہَ مَعَ الصَّاْبِرِیْن کی جاگتی تصویرو تفسیرتھے ۔(61) حضرت مولاناحکیم مفتی قاری محبوب رضا خان صاحب(62) آپ
کے بارے میں تحریرفرماتے ہیں :(مفتی تقدس علی خان صاحب )صبروقناعت اورتوکل علی
اللہ کا ایک ایسانمونہ تھے کہ ان کو دیکھ کر اسلاف کی یادتازہ ہوجاتی تھی،بڑے سے
بڑےغم کو ہنس کر برداشت کرتے تھے ،ان کے
چہرے پرایک مخصوص تبسم جوہروقت رہتا تھا،
محبت کا ایک نورتھا جوہروقت جھلکتا تھا اور غمزدہ دلوں کے لئے وجہِ تسکین تھا۔(63) شرفِ ملّت حضرت علامہ عبدالحکیم شرف قادری صاحب(64) تحریرفرماتے
ہیں: باوجودیکہ بیوی، بچے، بھائی اور والدصاحب سب وصال فرماگئے اور آپ تنِ تنہارہ
گئےتھے،لیکن ہروقت ہشاش بشاش رہتے،بلکہ ان کی خدمت میں حاضرہونے والاغم وآلام کو بھول کردل شاداورخوش وقت ہوجاتا،چہرے پر وہ ملاحت
اوردلکشی کہ صرف بچوں کے چہرے پرہی دیکھی جاسکتی ہے ۔ کوئی تکلیف ہوتی توفرماتے
:آبِ زم زم مل جائے تو مجھے افاقہ ہوجائےگا۔ (65) آخری
عمرمیں آپ کئی بیماریوں میں مبتلا ہوئے، اس کے باوجود صابر و شاکر رہے چنانچہ
ذیقعدہ 1395ھ/نومبر1975ء میں آپ کو نمونیہ ہوگیا، صفر1396ھ /فروری 1976ء میں آپ کوضعیفِ
نفس کاعارضہ ہوا،اوائل 1406ھ/نومبر1981ء میں بہت بیمارہوگئے اس لئے مفتی اعظم ہند کی وفات پر بریلی
شریف نہ جاسکے،1986ء/1407ھ کے ایک مکتوب میں ہے: بلڈپریشراورشوگرکا مریض ہوں آنکھوں
میں موتیااتررہا ہے ،خداکرم کرے ۔ (66)
بریلی
شریف کا دورِ تدریس ونظامت
فراغت
کے بعدآپ نے دارالعلوم منظراسلام میں تدریس کا آغاز کیا جبکہ نائب مہتمم کے عہدے پر تو آپ زمانہ طالبِ علمی میں
ہی فائزہوگئے تھے (67)مکاشفۃ
القلوب مترجم میں ہے :جس طرح شیخ
الحدیث کانامِ نامی (تقدس علی خان)تاریخی
ہے اسی طرح آپ کی شخصیت اورآپ کا کرداربھی تاریخی ہے ،اعلیٰ حضرت سے فنِ نحوکی
کتاب شرح جامی کا خطبہ پڑھنے کا فیضان تھا کہ دیگرمدارس کے منتہی طلبہ بھی آپ سے
آخرشرح جامی یا ا س کا خطبہ پڑھا کرتے تھے، حضرت کے اس درس کا مادہ استخراج
’’تدریس تقدس علی‘‘ 1348ھ استخراج کیاگیا ہے۔(68) آپ اپنے تدریس کے ابتدائی ایام کے بارےمیں دوواقعات بیان
فرمائے ہیں : (1)میں دیگراساتذہ کے مقابلے میں جونیئرتھا
مگرہرکتاب کے لئے اچھی طرح تیاری کرکے پڑھانے بیٹھتاتھا،کلاس کے طلبہ کی تعداد
70سے 80 ہوتی تھی ،نظم وضبط مثالی تھا
،طلبہ کاپیاں لے کراہم باتیں نوٹ کرتے ،ایک شخص نے ایک طالبِ علم کو میرے خلاف
تیارکیا ،وہ بے جااورغلط سوالات کرکے مجھے پریشان کرنے کی کوشش کرتا،ایک دن حجۃ
الاسلام علامہ حامدرضا خان صاحب میرے درجے میں آکر بیٹھ گئے،اس طالب علم نے مجھ سے
سوالات کئے،میں جوابات دیتاگیا ،ایک سوال میں مَیں نے ٹوکا تووہ مجھ سے بحث کرنے
لگا،اس پر حجۃ الاسلام نے اس سے فرمایا کہ تمہارا تو سوال ہی درست نہیں ہے ،اِس پر
اُس نے معافی مانگی ،وہ تین سال مدرسے میں رہا مگرکتاب پڑھنےکی صلاحیت نہ
پاسکا،بالاخرمدرسہ چھوڑکرچلاگیا ۔(69) (2)ایک مرتبہ شرح تہذیب(70) کا ایک مقام سمجھ نہ آتا تھا، شرح دیکھی مگرویسے کا
ویسارہا،طلبہ پڑھنے کے لئے آبیٹھے اورمطالعہ کی عبارت بھی پڑھ لی ،اس وقت میں نے
اپنے استاذ کا تصورکرکے مددچاہی،پھرپڑھانا شروع کیا ،آخرمَیں نے دیکھاکہ سبق بالکل
صحیح پڑھا چکا تھا ۔(71) تدریس کا یہ سلسلہ حجۃ الاسلام علامہ حامدرضا خان صاحب کی
وفات ( 17جمادی الاولیٰ 1362ھ /22مئی 1943ء)تک جاری رہا پھر آپ منظراسلام کے تیسرے مہتمم اور ناظم ہوگئے۔(72) اس دورمیں ہونے والے
اعلیٰ حضرت اورحجۃ الاسلام کے اعراس اورمشاہروں کا اہتمام کرنا بھی آپ کے ذمے
ہوتاتھا۔(73) نظامت
کے دوران تدریس کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ تقریباً
پچیس سال پر محیط یہ دورِتدریس ونظامت
غالباً محرم الحرام 1371ھ/ اکتوبر 1951ءکو فیملی سمیت آپ
کے پاکستان ہجرت فرمانےپراختتام پذیرہوا۔(74) آپ کے دورِ نظامت کے بارے میں مفتی یورپ مفتی عبدالواجدنیّرقادری صاحب(75) تحریرفرماتے ہیں :آپ کے(9سالہ ) دورِ نظامت میں مدرسہ کے اندر(تعمیراتی طورپر)کوئی
قابل ذکراضافہ تو نہیں ہواالبتہ آپ نے نہایت حوصلہ مندی اورجرأت کے ساتھ مدرسہ کو
اس معیارسے گرنے نہیں دیا۔آپ نے حسبِ سابق اہتمام کے علاوہ درس وتدریس کا شغل جاری
رکھا،آپ کے دورِ نظامت میں دارالعلوم کی آمدنی نسبتاً محدود ہوتی گئی،جس
کااثراگرچہ دارالعلوم کے اخراجات پر پڑا اور بعض مدرسین مستعفی ہوئے پھربھی
دارالعلوم اپنی پرانی آن بان اور شان کے ساتھ چلتارہا ۔ (76)
بریلی
شریف کےدورِ تدریس میں تلامذہ
بریلی
شریف کے دورِ تدریس میں جن علمائے کرام نے آپ سے تلمذ کا شرف حاصل کیا، ان میں سے
چند یہ ہیں: (1)محدثِ اعظم
پاکستان مولاناسرداراحمدچشی قادری(77) (2)مولانا ابرہیم
خوشترقادری(78) (3)مفتی رجب علی
نانپوری رضوی(79) (4)مولانا مفتی
اشفاق حسین نعیمی(80) (5)مفتی اعجاز ولی
خان رضوی(81) (6)رئیس التحریر علامہ
ارشدالقادری(82) (7)مصنفِ کتبِ
کثیرہ علامہ عبدالمصطفی اعظمی(83) (8)مولانا مفتی سیدمحمدافضل حسین رضوی
مونگیری (84) (9)بلبلِ سندھ مولاناقاضی دوست محمد
صدیقی(85) (10)مفتی
عبدالحمیدقادری نواب شاہ۔(86)
حیدرآباددکن
اورالہ آبادمیں خدمات
بریلی شریف کے پچیس
سالہ دورِ تدریس کے دوران آپ جامعہ نظامیہ حیدرآباددکن(87) اورالہٰ آبادیونیورسٹی کے ممتحن بھی رہے اور الہ
آباد یونیورسٹی میں آپ نے علوم شرقیہ (88) کے
امتحانات کا سلسلہ بھی شروع فرمایا۔ جامعہ نظامیہ حیدرآباد دکن کے بارے میں آپ
فرماتے ہیں کہ جب میں نے باقاعدہ امتحانات کا سلسلہ شروع کیا تو اگلے سال مختلف
مدارس کے تین ہزارطلبہ امتحان دینے حیدرآباددکن آئے،جمعہ کا دن تھا ،نمازجمعہ کے لئے
ایک بڑے باغ میں اہتمام کیا گیا ،حاکمِ وقت (نظام
حیدرآباد دکن،نواب میر)عثمان
علی خان (89) وہاں آئے،
لوگوں کی بھیڑدیکھ کر پوچھا کہ خلافِ معمول بھیڑکیوں ہے ؟ بتایا گیا طلبہ امتحان
دینے آئے ہیں ،پوچھا کہاں ٹھہرے ہیں ؟بتایاگیا مختلف مقامات پر،(یہ سن کر)نظام ِ
دکن نے اس وقت ایک یونیورسٹی اورہاسٹل کی تعمیرکا حکم دیا۔ اسطرح حیدرآباد دکن یونیورسٹی
وجودمیں آئی۔(90) حیدرآباد
دکن کے علماسے مفتی تقدس علی خان صاحب کا
گہراتعلق رہاجس کی تائیدآپ کے مکتوبات سے ہوتی ہےجیساکہ آپ
تحریرفرماتے ہیں: اعلیٰ حضرت قبلہ کو جناب محمد عمر صاحب قادری حیدرآبادی
(91) سے
تعلق تھا،جوبادشاہ حسینی قادری کے والد تھے جو کہ مکہ مسجدحیدرآبادمیں سرکاری خطیب
تھے،ویسے وہاں مشائخ میں وحید پاشا حسینی (92) اور مولانا عبدالقدیر
صاحب صدیقی (93) (اعلیٰ حضرت سے)بہت متاثرتھے ،(اسی طرح )مفتی محمدرحیم
الدین صاحب(94) (شیخ الاسلام،امام) مولانا(محمد) انواراللہ(فاروقی) صاحب(95) کے شاگردتھے،اعلیٰ حضرت قبلہ سے بہت متاثرتھے، انھوں نے
اعلیٰ حضرت کی کتب کی اشاعت کی بہت کوشش کی ،مگرسقوط حیدرآبادکی وجہ سے کامیاب نہ
ہوسکے۔ (96)
پاکستان
میں ہجرت اورکراچی میں گزارے گئے ایام
مفتی تقدس علی خان صاحب
نے خاندانی وملکی حالات
کی وجہ سے تخمیناً محرم الحرام 1371ھ/ اکتوبر 1951ءکو فیملی
سمیت پاکستان ہجرت فرمائی اوردارالعلوم
امجدیہ عالمگیرروڈکراچی(97) رہائش پذیرہوئے ، (98) اس دوران مختصر مدت کے لئے مختلف مضامین کی کتابوں کی تیاری
سےمتعلق کمیٹی میں خدمت سرانجام دی،(99) ان دِنوں آپ کی ملاقات اپنے پرانے دوست مفتی اعظم سندھ
مفتی محمدصاحبدادخان جمالی صاحب (100) سے ہوئی جواس زمانےمیں سندھ مدرسۃ الاسلام کراچی (101) میں
شیخ الفقہ اوراسلامیات کے استاذ کےعہدےپرکام کررہے تھے ،مفتی جمالی صاحب نے آپ کو بتایا کہ سندھ
کا ایک عظیم خاندان پیرپگاراتحریک آزادی میں مجاہدانہ اورگوریلاسرگرمیوں کےپاداش
میں فرنگیوں کے ستم کا خصوصی نشانہ بناہے،اِن کے لاکھوں مریدین سفاکانہ طورپر شہید
کردئیے گئے ،ان کی درگاہ،حویلیوں اور فصلوں کو بموں کے ذریعے مسمارکردیاگیا
ہے،مجاہدِاعظم شہیدآزادی حضرت سیّدصبغۃ اللہ شاہ راشدی ثانی ،سوریہ بادشاہ (102) کوشہیدکرکے ان کی میّت
کو نامعلوم مقام پردفن کیا گیا ہے اوران کے دوصاحبزادوں (سیدسکندرعلی مردان شاہ
اور سید نادر علی شاہ) کوجلاوطن کرکے دیارِ غیر(لندن)میں رکھا گیا ہے ،اب جب کہ
پاکستان بن چکا ہے اورپیرانِ پگاراکی گدی بحال ہونے والی ہے ،اس لئے میرامشورہ
اورتاکیدی گزارش ہے کہ آپ مع اہل وعیال پیرجوگوٹھ(103) چلے جائیں کیونکہ اس
وقت آپ جیسی باعلم،پُرعزم اورتجربہ کارشخصیت کی وہاں پر اشدضرورت ہے ۔یہ سن کر
مفتی تقدس علی خان صاحب نے پیرجوگوٹھ میں
رہائش اختیارکرنے کا فیصلہ کرلیا ۔(104)
پیرجوگوٹھ
میں قیام اورتدریس کاآغاز
مفتی تقدس علی خان صاحب
نے تخمیناً ربیع الاخر1371ھ/جنوری 1952ء کو اپنی فیملی کے ساتھ پیرجوگوٹھ کا سفرکیا اور وہاں مقیم
ہوگئے،یہاں آتے ہی حکیم فقیراللہ جتوئی اورحاجی صالح علی میمن کے تعاون سے شہرمیں
مدرسہ قادریہ قائم فرمایا،شہرکےچھوٹے بڑے لوگ اس میں علم دین حاصل کرنے لگے۔کچھ ہی
دنوں بعدرأس الافاضل حضرت مولانا محمدصالح مہرقادری (105) اوردیگرحضرات
کی کوششوں سے پیرصاحب پگاراکی گدی بحال ہوئی۔
(106) 8جمادی الاولیٰ 1371ھ/4فروری 1952ء کو حرجماعت کے خلفانے پیرسیدسکندرعلی
مردان شاہ ثانی چھٹ دھنی (107)
کی بطور پیرپگارا ہفتم تاج پوشی کی،
یوں آپ حروں کے ساتویں روحانی پیشوا قرارپائے۔10شعبان 1371ھ/5مئی 1952ء کو درگاہ قادریہ
راشدیہ پیرجوگوٹھ میں جامعہ راشدیہ کاافتتاح ہوا۔ (108) مفتی تقدس علی خان صاحب
نے مولانا محمدصالح مہرقادری صاحب کے اصراراوراحباب کے فیصلے سے مدرسہ قادریہ
کوجامعہ راشدیہ میں منتقل کردیا ۔(109) جامعہ راشدیہ میں طلبہ کی تعدادبڑھنے لگی تومفتی تقدس علی
خان صاحب کی معاونت کے لئے مولانا عبدالصمدمیتلوصاحب(110) کو
لاڑکانہ سے بلایا گیا ،اساتذہ کرام کی مزیدکمی پوری کرنے کے لئے مفتی تقدس علی خان
صاحب کی کوشش سے مفتی اعظم سندھ مفتی صاحبدادخان جمالی صاحب کا بطورمدرس
تقررہوا،مفتی تقدس علی خان صاحب فرماتے ہیں :محترم مفتی (صاحبدادخان
جمالی)صاحب کے مشورےسے مَیں جامعہ راشدیہ
آیااورمیرے مشورے سے مفتی صاحب کو جامعہ راشدیہ لایا گیا۔(111) ان حضرت کی کوششوں سے
جامعہ راشدیہ ترقی کی منزلیں طے کرنے لگا۔(112) مفتی تقدس علی خان صاحب کوشیخ الجامعہ بنایاگیا،یہاں آپ نے37سال تدریس کے
فرائض سرانجام دئیے اورایک عالَم کو علم دین سے سیراب فرمایا ۔(113)
پیرجوگوٹھ
کےدورِ تدریس میں تلامذہ
مفتی
تقدس علی خان صاحب جامعہ راشدیہ کی نشاۃ ثانیہ (9شعبان
1371ھ/4مئی 1952ء)سے لے کراپنی وفات (3رجب 1408ھ/21فروری1988ء) تک یہاں تدریس میں مصروف رہے ، کم وبیش 37سالوں میں سینکڑوں علمانے آپ سے درسِ نظامی پڑھنےکی سعادت
حاصل کی، یہ علمامختلف مساجدمیں امامت وخطابت ،مدارس بالخصوص جامعہ راشدیہ کی
مختلف شاخوں میں تدریس کرکے دین متین کی خدمت میں مصروف ہیں ۔ آپ کے اس دور کے
مشہور تلامذہ یہ ہیں :(1)سلطان الواعظین مفتی عبدالرحیم سکندری شاہ
پورچاکر(114) (2)شیخ الحدیث مفتی محمدرحیم کھوسہ سکندری مہتمم جامعہ راشدیہ(115) (3) رأس الافاضل مولانا محمدصالح قادری جامعہ
راشدیہ (116) (4)مفتی درمحمد سکندری سانگھڑ(117) (5)مولاناسیدغوث محمدشاہ جیلانی دوڑضلع نواب شاہ(118)(6)استاذالعلماءمفتی غلام قادر سکندری جامعہ
راشدیہ(7)استاذالعلماء مولاناصوفی علی شیرسکندری
تلوبھانڈو(8)شارحِ بخاری مولانا
عبدالرزاق سکندری سانگھڑ (9)مناظرِ
اسلام مولانامحمدقاسم
مصطفائی میرپورماتھیلو۔(119)
مفتی تقدس
علی علیہ الرحمہ اورپیرپگاراصاحب کا آپسی تعلق
1371ھ/ 1952ء میں مفتی تقدس علی خان صاحب کو پیرپگاراصاحب کا
اتالیق اوراستاذمقررکیا گیا،اس لئے آپ پیرجوگوٹھ میں ’’استاذسائیں ‘‘کے لقب سے
مشہور تھے۔(120)
آپ نے پیرصاحب کی ان کے مزاج کے مطابق حکمت و دانائی سےتربیت فرمائی،آپ کی کوششوں
سے پیرصاحب کے اسلامی عقیدے میں مضبوطی آئی،پیرصاحب نے آپ کی حکمت عملی کی برکت سے
داڑھی بھی رکھ لی، جب مفتی صاحب اورپیرصاحب کےباہمی تعلقات میں اضافہ ہوتا گیا تو پیر صاحب نے مفتی صاحب
سے عہد لیا کہ آپ ہمیں چھوڑکرنہیں جائیں گے۔(121) مفتی صاحب نے یہ
عہدزندگی بھر نبھایا،آپ کوکراچی اوردیگرمقامات سے اپنے پاس آنے کی پُرکشش
دعوتیں بھی آئیں لیکن آپ نے منع
فرمادیااوراپنی زندگی اس آستانے اورجامعہ
راشدیہ کے استحکام کےلئے وقف
کردی۔پیرپگاراآپ کی بات کواہمیت دیتے،دینی رہنمائی لیتے، ذہن میں پیداہونے والے
سوالات پوچھتے اور آپ حکمت بھرے جوابات دیتے، ایک واقعہ ملاحظہ کیجئے: پیرپگارا صاحب
کےپاس ہرطبقہ ہائے زندگی کے لوگ آتےتھے ،ایک مرتبہ لوگوں میں سے ایک شخص نے اس طرح
گفتگوکی جیسے وہ اپنے آپ کو اللہ کا ولی
ہونے کاتاثردے رہا تھا ،وہاں مفتی صاحب بھی تشریف فرماتھے ، پیرصاحب نےآپ سے پوچھا
کہ کیایہ شخص ولی ہےیا نہیں ؟مفتی صاحب نےفی الفورجواب دیا کہ پیرصاحب!مجھ سمیت
جوبھی آپ کےپاس آتاہے وہ ولی نہیں ہے،ولی وہ ہے جس کے پاس آپ جائیں ۔ آپ کے کہنے
کامطلب یہ تھا کہ جو صاحب ِ غرض ہوکر آپ
کے پاس آئے وہ ولی کیسے ہوسکتاہے ؟اسطرح پیرصاحب آپ سے گاہے بگاہے استفادہ کرتے
رہتےتھے ، پیرصاحب نے ایک مرتبہ (غالباً شکریہ
اداکرنے کے اندازمیں)آپ سے کہا:مفتی صاحب !آپ ایک پیرکی تعلیم کا اہتمام کرکے ہزاروں
لاکھوں لوگوں کی تعلیم سے فارغ ہوسکتے ہیں ۔چونکہ مفتی صاحب پیرصاحب کےبہت قریب تھے،اس لئے جن لوگوں کو
پیرصاحب سے کوئی حاجت ہوتی یا جامعہ راشدیہ کےاساتذہ نے پیرصاحب سےبات کرنا ہوتی
،کسی مسئلے کوحل کروانا ہوتا تو وہ آپ سے کہتے ،مفتی صاحب پیرصاحب کے مزاج شناس
تھے ، جب آپ پیرصاحب کےپاس جاتےتو پہلے دلچسپ باتیں کرتے، جب دیکھتے کہ پیرصاحب کا
موڈ اچھا ہوگیا ہے تو آپ لوگوں کی حاجات پیرصاحب سے بیان کرتے، پیرصاحب فوراً مان جاتے اور اپنے متعلقہ ذمہ داران کو ان حاجات کو پوراکرنے کاحکم دے دیتے۔
اسی وجہ سے جامعہ راشدیہ کے اساتذہ آپ کو ’’حل المشکلات ‘‘کہتے تھے۔(122)
مفتی تقدس
علی خان اورحرجماعت
پیرانِ پگاراکے مریدوں پرمشتمل حُر جماعت ہے جوبارہ چونکیوں پرمشتمل ہے ہرچونکی کا نگران خلیفہ ہوتاہے جسے مکھ
کہاجاتاہے۔ حرجماعت کی سترہ رکنی کونسل (مرکزی
مجلس شوریٰ)ہے جس کے سولہ مکُھ یعنی خلیفے
ہیں اور ایک چیف خلیفہ ہیں۔ کونسل جو فیصلہ کرتی ہے وہ حتمی تصور کیا جاتا ہے، پیر کا انتخاب بھی یہی کونسل
کرتی ہے ، اب بھی پیر پیرپگاراکے خلفاء اور درگاہ کی فیصلہ کمیٹی
حُروں کے معاملات نمٹاتی اور فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بناتی ہے،مفتی تقدس علی
خان صاحب کےحرجماعت، کونسل اوردرگاہ کی فیصلہ کمیٹی سے خوشگوارتعلقات تھے،یہ لوگ
مفتی صاحب کی بہت عزت کرتے اوران کی کہی ہوئی بات کوردنہیں کرتےتھے ،اس کی
تائیدمفتی اعظم پاکستان مفتی محمد صاحبداد جمالی صاحب کے ایک مکتوب سے بھی ہوتی ہے جس میں انھوں نے مفتی تقدس علی خان کو لکھا کہ
کونسل اوردرگاہ کی فیصلہ کمیٹی سے فرمادیں کہ وہ جامعہ راشدیہ کے مہتمم،جامع
مسجددرگاہ شریف کےامام اورحرجماعت کےشرعی فیصلہ جات کے اعزازی ذمہ
دارمولانامحمدصالح مہرقادری صاحب کی
تنخواہ بڑھائیں کہ وہ کثیرالعیال ہیں
اورشرم ومصالح وقت کی وجہ سےوہ خود تقاضا نہیں کررہےہیں ۔(123)
پیرجو
گوٹھ میں دیگر خدمات
مفتی تقدس علی خان صاحب نے پیرجوگوٹھ کی مدینہ مسجدعیدگاہ
میں پچیس سال تک امامت وخطابت فرمائی،اس کے بعدآپ نےاپنی جیب خاص سے پیرجوگوٹھ
بازارمیں جگہ خریدکر جامع مسجدرضا تعمیرکروائی، مسجدکے ساتھ دکانیں بھی تعمیر کروائیں تاکہ ان کے کرائے سے مسجدکا
خرچ چلتارہے۔ مسجد کی تعمیرکے بعد پھر عمربھراسی میں امامت وخطابت کی ذمہ داری نبھاتے رہے ۔ اب بھی یہ مسجدموجودہے اوراس کی تعمیرجدید ہوئی ہے۔
(124)
خاندانی
وقار اوراستغنا
مفتی تقدس علی خان صاحب میں خاندانی وقار،شرافت ،عزتِ
نفس اوردنیاوی مال ودولت سے استغنابدرجہ
اتم موجودتھا ٭جامعہ راشدیہ میں دیگراساتذہ کےمشاہرےآپ کےمشورے سےطے ہوتے تھےمگرآپ
نے کبھی بھی اپنے مشاہرےمیں صراحتاًیااشارۃً اضافے کا مطالبہ نہ فرمایا۔ ٭پیرصاحب کی جانب سے آپ کو قیمتی تحائف آتے
مگرآپ فرمایا کرتے کہ میں فقیرآدمی ہوں مجھےان تحائف کی ضرورت نہیں ۔٭ایک دفعہ پیرصاحب نے ایک بھینس بطورِتحفہ بھیجوائی،آپ
نےفرمایاکہ میں بھینس رکھ کرکیا کرونگا،پھریہ کہتے ہوئے پیرصاحب کو واپس کردی
کہ آپ نے مجھے بھینس عنایت فرمائی ، میں نے قبول کرلی ،اب اسے واپس
لےلیجئے۔٭جامعہ کی طرف سے ایک سیر(تقریباایک لیٹر) دودھ آتاتھا ،آپ فرمایا کرتے
تھے اتنا دودھ ہمارے گھرکےلئے کافی ہے مزیدکی حاجت نہیں ،زندگی بھرایک سیردودھ
لینے کا ہی سلسلہ جاری رہا۔(125)
لوگوں سے گھل مل
کررہنے والی شخصیت
مفتی تقدس علی خان صاحب ایک صاحبِ حیثیت علمی خاندان کے چشم وچراغ تھے،علم وتقویٰ کے کوہِ گراں
تھے، ہزاروں لوگ آپ کے شاگرد،مریداور مُحِبّ تھے ،اس کے باوجودآپ عام لوگو ں میں
گھل مل کررہتےتھے،آپ کی دینی عظمت اورعلمیت کو فقیرانہ انداز نے ڈھانپ رکھا تھا
،لوگ آپ کے پاس آتے،آپ ان کےمقام ومرتبہ کےمطابق گفتگو فرماتے ،چھوٹوں پر نہایت
شفقت کرتےتھے ، آپ نے مخاطَب کو کبھی اپنے
بڑا ہونے کا احساس نہیں ہونے دیا،آپ پیر جوگوٹھ کے لوگوں سے محبت کرتے اورلوگ بھی
آپ کے گرویدہ تھے،مفتی صاحب ان کے دُکھ دردمیں شریک ہوتے ، جولوگ آپ کے گھر
تعویذات اورروحانی علاج کےلئے آتے، آپ ان کی ہرطرح دلجوئی فرماتے ، آپ لوگوں کی
مالی مددبھی کردیا کرتے تھے، پیرجوگوٹھ میں آپ کے مریدبھی تھے،آپ نے وصیت کی کہ
مرنے کے بعد مجھے پیرجوگوٹھ میں ہی دفن
کیا جائے ،مجھے یہاں سے جدائی
گوارانہیں۔مفتی صاحب کی محفل کی کشش اور
روحانیت کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ حاضری دینے والا ہمیشہ متمنی رہتا کہ زیادہ
سے زیادہ آپ کی صحبت سے فائدہ اٹھائے، جامعہ راشدیہ کے اساتذہ اگرچہ دورانِ تدریس آپ کے ساتھ چارپانچ گھنٹے
گزارچکے ہوتے تھے لیکن اس کے باوجودشام کو آپ کے پاس پہنچ جاتے اور آپس میں بات
چیت ہوتی ، آپ جس محفل میں ہوتے جانِ محفل
ہوتے، اعلام و اسماء میں نئے نئے معنی
پیدا کرنا، علمی معنویت کے ساتھ مزاح
کا رنگ پیدا کرناآپ کا طرۂ امتیاز تھا۔(126)
تحمل مزاج
اوربلندی ہمتی کے واقعات
مفتی صاحب تحمل مزاج اورعالی ہمت تھے ،کسی کی طرف سے تکلیف پہنچ جاتی ،طبیعت کے
خلاف کوئی کام یا بات ہوجاتی تو برداشت کرلیتے ،چند واقعات ملاحظہ کیجئے :
(1)ایک مرتبہ آپ ایک شادی
میں شریک تھے،مہمانوں کی کثرت کی وجہ سے اہل خانہ مہمانوں کوکھانا کھلانے میں
تاخیر کا شکارہوگئے، سہ پہرتین بجے تک کھانا نہ کھلایا جاسکا،لیکن مفتی صاحب نے
میزبانوں کو کچھ نہ کہابلکہ مجلسِ علمامیں خوشی طبعی کرکے سب کے دل خوش کرتے رہے ۔(127)
(2)ایک مرتبہ جب آپ پیرجو گوٹھ سے کراچی تشریف لائے ہوئے تھے،آپ کے ایک عزیز محمد حنیف والا (ایڈوکیٹ ) کی والدہ کے
گھرآپ کی دعوت تھی،مکان چوتھی منزل پر تھا، سیڑھیاں چڑھتےچڑھتے آپ کی سانس اُکھڑ گئی ، آپ جلال میں نہ آئے بلکہ مسکرا کر فرمایا۔’’یہ
دعوت ہے یا عداوت‘‘۔(128)
(3)رمضان
1407ھ/مئی 1987ءمیں آپ
بیمارہوگئے ،کراچی میں ہی آپ کا ہرنیا
کا آپریشن ہوا،ادارۂ
تحقیقاتِ امام احمدرضا کے ذمہ داران آپ کی عیادت کے لئے ہسپتال گئے،آپ
کو آگاہ کیا کہ الحمدللہ ادارےکے دفترکے لوازمات پورے ہوچکے ہیں،آپ ادارے کے
سرپرستِ اعلیٰ ہیں ، دفتر کاافتتاح آپ ہی فرمائیں،آپ نے فرمایا کہ ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کےبعد مجھے لے جائیے
گا، دودن کےبعدآپ کو ڈسچارج کردیاگیا،
ڈاکٹرپروفیسرمجیداللہ قادری صاحب(129) اورمولاناحاجی شفیع
محمدقادری حامدی صاحب (130) گاڑی لےکرپہنچے، مفتی صاحب ان کےساتھ پرنس روڈ پر واقع آفس تشریف لے آئے ،دفترچونکہ پرنشیمن بلڈنگ (اسٹری
چن روڈ بالمقابل سندھ مسلم آرٹس کالج) کےتیسرے فلورپر تھا ،لفٹ بھی نہیں تھی اس لئے
ذمہ داران نے ایک کرسی کا انتظام کیا ہواتھا تاکہ تین چارآدمی مل کر مفتی صاحب کو
اٹھا کر دفتر تک پہنچادیں گے، اسی لئے مفتی صاحب سے کرسی پر بیٹھنے کے لئے کہا گیا
مگرمفتی صاحب نےکہا کہ میں سڑھیوں پرچڑھ جاؤں گا،احباب نے عرض کیا حضورآپ کا
ہرنیئے کا آپریشن ہواہے ،زخم کچاہے ،سڑھیاں چڑھنے سے تکلیف میں کہیں اضافہ نہ
ہوجائے،آپ مسکرائے اورفرمایا کہ میں چڑھ جاؤں گا،مزیدفرمایا کہ دفتربھی تو اعلیٰ
حضرت کا ہے ،دیکھنے والوں نے دیکھا کہ مفتی صاحب نےکچھ پڑھا ،ہاتھ پیچھے
باندھ لئے اورسڑھیاں چڑھنے لگے ،دیکھتے ہی
دیکھتے آپ تیسرے فلورپر پہنچ گئے ،کمال یہ تھا کہ نہ سانس پھولی،نہ تھکاوٹ کا
اظہارکیااورزخم میں تکلیف کی بھی کوئی
شکایت نہ کی، آپ نے دفترکا افتتاح فرمایا،
دعادی،آپ کے رفقا آپ کی ہمت پر حیران بھی ہوئے اورآئندہ کے لئے انہیں کام کاحوصلہ
بھی ملا ،ادارہ ترقی کے زینےپڑھتاگیا ،الحمدللہ برسوں سےیہ انٹرنیشنل سطح پرشہرت حاصل کرچکا ہے ۔(131)
(4) ڈاکٹرپروفیسرمولانا
مسعوداحمدمجددی صاحب (132) تحریرفرماتے ہیں:
حضرت علامہ مفتی تقدس علی خان رحمہ اللہ علیہ سے پہلی ملاقات کی تقر یب یہ ہوئی کہ
1973ء کے لگ بھگ فقیر
کو امام احمد رضا رحمہ اللہ علیہ کے آثارِ علمیہ پر مشتمل
حضرت علامہ محمد ظفر الدین بہاری۔(133) رحمہ اللہ علیہ کی تالیف ’’المجمل المعدد لِتالیفات المجدد‘‘ (134) کی سخت ضر ورت
تھی، معلوم ہوا کہ ایک مطبوعہ پرانا نسخہ حضرت علامہ صاحب کے پاس ہے ۔ فقیر نے خط
لکھا، چند روز کے بعد غریب خانے پرایک سادہ لباس بزرگ تشریف لائے ، ایک گھنٹے مکان
تلاش کرتے رہے، پسینہ پسینہ ہوگئے، ان بزرگ نے جب اپنا تعارف کروایا تو معلوم ہوا
کہ یہی بزرگ حضرت علامہ تقدس علی خان تھے، فقیر نادم و شرمسار ہوا کہ حضرت علامہ
کتاب لے کر خود غریب خانے پر تشریف لائے اور فقیر کو سرفراز فرمایا، یہ تھی ان کی بے مثال
شفقت اور علم پروری۔(135)
(5)شرفِ ملّت
علامہ عبدالحکیم شرف قادری صاحب تحریرفرماتے ہیں : راولپنڈی میں ایک ملاقات کے
موقع پر(مفتی تقدس علی خان صاحب)نے فرمایا، ہمارا خیال تھا کہ المحجتہ المؤتمنہ(136) اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی آخری تصنیف ہے، لیکن ر دِّ
مرزائیت میں اعلیٰ حضرت کا ایک رسالہ الجراز
الدّیانی (137) دیکھنے سے اندازہ
ہوا کہ وہ آخری رسالہ ہے، لیکن افسوس کہ میں مدینہ منورہ سے اپنے ساتھ لا نہیں
سکا، پھر بر یلی شریف تشریف لے گئے
اور واپسی پر وہ رسالہ راقم کو دے گئےاور
فرمایا کہ صرف یہ رسالہ حاصل کرنے کے لئے مجھے پیلی بھیت جانا پڑا، ایسے عظیم انسان اور سراپا شفقت و محبت پھر کہاں
ملیں گے۔
(6) بلندہمت اتنے تھے کہ کبرسنی(طویل عمری) کے
باوجود کئی طویل سفراکیلے کرلیا کرتے تھے اورفرمایاکرتے تھے کہ فرشتے میرے ساتھ
چلاکرتے ہیں ۔ (138)
(7) مفتی صاحب کے آخری سفرمکہ ومدینہ
اورسفربغداد (ربیع الاول ،ربیع الاخر1408ھ/نومبر1987ء)سے پانچ چھ ماہ قبل آپ کا
غدودکاآپریشن ہوا،سفرمیں غدودکی تکلیف تونہ ہوئی مگرآپ کمزوری محسوس فرماتے
تھے،مگرآپ کی عالی ہمتی کہ کبھی یہ نہ فرمایا کہ میں تھک گیا ہوں ،رفیقِ سفرجس
مزارکی حاضری کا کہتے ،آپ تیار ہوجاتے۔(139)
مفتی صاحب
کا حلیہ اورکچھ عادات
آپ ہردلعزیز شخصیت کے مالک تھے ،کئی خوبیوں کے جامع تھے
،قاری محبوب رضا خان صاحب نے چندسطروں میں آپ کا تعارف کچھ یوں بیان کیا ہے : دہرے
بدن کا چھوٹا قد، گھنی داڑ ھی، بڑا سر ، گول گردن، جلدی جلدی معصومانہ انداز میں
گفتگو فرماتے، مسکراتا ہوا چہرہ ،گندمی
رنگ، نیچی نظریں، نہایت ذہین، روشن آنکھیں، قوی الحافظہ ، متین ، حلیم الطبع،
چھوٹوں پر شفیق، دوستوں کے رفیق، بزرگوں کی خدمت میں نہایت متواضع، منکسر المزاج ،
اخلاقِ مجسم، دوستوں کی محفل میں بذلہ سنج ،عادتاً مرنجامرنج ، پُروقار، بُرد بار،
سادہ لوح، عفوودرگزر کے عادی، بہترین
انسان، ان کو فراموش نہیں کیا جاسکتا، میں نے ایک مرتبہ اُن کی بذلہ سنجی سے متاثر
ہو کر عرض کیا۔تو بھولنے کی چیز نہیں ہے
یہ یاد رکھ!
دل
سے ترا خیال بھلایا نہ جائے گا
مسکرا کرفرمانے لگے ، آپ دوستوں سے یہی اُمید ہے،
مسلک(اعلیٰ حضرت) میں نہایت پختہ ،اورادو
وَظائف کے شاغل، نہایت متبع سنت، حجۃ الاسلام حضرت مولانا الشاہ حامد رضا خان صاحب علیہ الرحمہ کے نہایت معتمد علیہ
، منظر اسلام کے مشہور مہتمم، نہایت عمدہ
منتظم، بزرگوں کی یادگار، سراپا عجز و انکساری، غریب نواز و غمگسار، نہایت
ملنسار، یاروں کے یار، عقل تیز طرار، نرم
گفتار،پختہ کردار، میدان تدریسی کے شہسوار، حضرت سادگی کا مجسمہ تھے۔(140)
علامہ محمدصدیق ہزاروی صاحب(141) تحریرفرماتے
ہیں :بظاہران کا قدچھوٹاتھا لیکن قد آورشخصیت تھی کہ بڑے بڑے سر و قد اِن کے سامنے
سرنیاز خم کردیتے تھے،علم وفضل،زہدوتقویٰ اورخوش خلقی ،ملنساری ،سادہ مزاج اورسادگی پسند جیسی صفات عالیہ سے ان کی
زندگی مزین تھی۔ (142) مفتی صاحب بہت نرم مزاج مگردوربین عالم ومفتی تھے ،آپ فتویٰ
نویسی میں حتی الامکان احتیاط برتتےاورکبھی جلدبازی نہ کرتے ۔(143)
پروفیسرڈاکٹرمسعود احمد صاحب تحریرفرماتےہیں : آپ کے فضائل وخصائل کیا بیان کیے جائیں، آپ بلند
پایۂ مفسر، محدث اور فقیہ تھے، شہرت و ناموری اور صلہ و ستائش سے بے نیاز، دین کی خدمت
میں سرشار، سادہ گفتار، سادہ لباس، شگفتہ مزاج ،سراپا شفقت وکرم، علم
دوست، محبت نواز ،بے نفس ، بے تکلف، سراپا اخلاص ، مرنجاں مرنج، صاف دل، صاف گو، کن
کن خوبیوں کا ذکر کیا جائے؟ وہ صفات ِ حسنہ کا ایک حسین گلدستہ تھے، ان کی صحبت میں
بیٹھنے والا کبھی نہ اکتاتا، خوش رہتے اور
خوش رکھتے، مصائب کو خندہ پیشانی سے سنہا کوئی اُن سے سیکھے۔(144)
آپ کا لباس بھی سادہ ہوتاتھا،محقق
ومصنف سید محمد عبداللہ قادری(واہ
کینٹ،ضلع راولپنڈی) (145) تحریر فرماتے ہیں : راقم السطور کو بھی حضرت مفتی تقدس علی خان قادری رحمہ اللہ
علیہ کی زیارت و ملاقات کاشرف نصیب ہوا، ایک بار جامعہ نظامیہ(رضویہ) اندرون
لوہاری دروازہ لاہور(146) میں حضرت شیخ الحدیث علامہ محمد عبدالحکیم شرف قادری علیہ الرحمہ کے ہاں ملاقات ہوئی تھی،
مکتبہ قادریہ(147) کے کمرہ برآمدہ میں مفتی صاحب چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے، وہیں سلام و دعا ہوئی آپ نے خانوں والی
دھوتی اور ململ کا کرتا پہنا ہوا تھا، درمیانہ قدچہرے پر موزوں داڑھی گندمی گوں رنگ۔(148)
تصنیف
وتالیف
مفتی تقدس علی خان صاحب کی زیادہ توجہ درس وتدریس کی جانب
تھی اس کے باوجود آپ نے تصوف کی اہم کتاب
مکاشفۃ القلوب(149) کا
بامحاورہ اورسہل ترجمہ کیا ،جسے دعوتِ اسلامی کے ادارۂ تصنیف
وتالیف المدینۃ العلمیہ (اسلامک ریسرچ سینٹر)کراچی نے تخریج اورحواشی کےساتھ جمادی
الاخریٰ 1436ھ/اپریل 2015ء کوخوبصورت انداز، بہترین کاغذاوراعلیٰ میعارکی پرنٹنگ کے
ساتھ شائع کیا ہے،اس اشاعت کی قبولیت عامہ کا اندازہ اس بات سےلگایا جاسکتا ہے کہ 2015ءسےاب تک چارایڈیشنزمیں سترہ ہزار(17000)کی تعدادمیں پرنٹ ہوچکی ہے ، دیگرکئی مطابع نے بھی اسے شائع کیا ہے ۔مفتی صاحب نے کچھ کتابوں پر تقاریظ وتصدیقات تحریرفرمائیں۔آپ کی بعض تصانیف ہندوستان میں رہ گئیں یا ضائع
ہوگئیں۔
تحریکوں
میں حصہ
مفتی تقدس
علی خان دیگرخوبیوں کے ساتھ ساتھ دردِ امت سے مالامال تھے ،جب بھی کسی اہم تحریک
کا آغازہوا،مفتی صاحب نے اس میں اپنا حصہ ضرورشامل کیا ٭تحریک
پاکستان کے سلسلے میں اہل سنت کی اہم جماعت آل انڈیا سُنّی کانفرنس (150) نے ہند بھرمیں اپنے اجلاسات کا آغازکیا ،مفتی صاحب بھی ان
میں شریک ہوتے تھے ،مثلا مرادآباد میں
19،20شعبان1358ھ/3، 4،اکتوبر1939ء
کوہونے
والی کانفرس میں آپ شریک ہوئے،اس میں حجۃ الاسلام علامہ حامدرضا خان صاحب اورخلیفہ
اعلیٰ حضرت علامہ پیرسیدفتح علی شاہ نقوی قادری صاحب(151) نے
دوقومی نظریہ کی اہمیت وافادیت پر بیانات
فرمائے۔ (152) اسی کانفرنس میں آپ کی ملاقات مفتی اعظم سندھ مفتی
صاحبدادخان جمالی صاحب سے ہوئی تھی۔
٭آل
انڈیا کانفرنس کاعدیم النظیراجلاس جمادی
الاولیٰ 1365ھ
/اپریل1946 ء کو اترپردیش
کے شہربنارس میں ہوا جس میں تقریباً پانچ سومشائخ عظام،سات ہزارعلمائے اعلام اور دو
لاکھ سے زائدسنی عوام نے شرکت کی ،(153) اس
اجلاس میں مفتی تقدس علی خان صاحب بھی اپنے رفقاکے ساتھ بھرپوراندازمیں شریک
ہوئے،اس میں پاکستان کے حق میں ایک تاریخ فتویٰ بعنوان’’آل انڈیا سنی کانفرنس کے
مشاہیرعلماء ومشائخین کا متفقہ فیصلہ ‘‘شائع ہوا۔ اس میں مفتی صاحب کانام گیارہویں
نمبرپر یوں درج ہے ٭(مولانا)تقدس علی خاں رضوی مہتمم دارالعلوم
منظراسلام بریلی۔(154) وہ علمائے کرام جنہوں نے آل انڈیا کانفرنس میں شامل ہوکر
تحریک پاکستان میں حصہ لیا۔ ان کی فہرست
مفسرِقرآن علامہ محمد جلال
الدین قادری صاحب (155) نے مرتب کی، ساتھ حوالہ بھی نقل فرمایا ،اس میں مفتی تقدس
علی خان صاحب کا نام دبدبہ سکندری(156) 29مارچ
1946ء کے حوالے سے درج کیا ۔(157)
٭بریلی
شریف اورمضافات میں تحریکی پروگرام ہوتےرہے،یہاں تک کہ آپ نے بریلی شریف میں
پاکستان کے حق میں جلوس بھی نکالا۔(158) اس
تاریخی واقعہ کومفتی صاحب نے اپنے ایک خط
میں یوں تحریرفرمایا ہے:حضرت مفتی اعظم ہند (مفتی محمدمصطفی رضا خان ) قدس سرہ العزیز غالباً 1946ء کے الیکشن میں جس
میں کانگریس اورمسلم لیگ کا سخت مقابلہ تھا اور یہ فیصلہ ہونا تھا کہ پاکستان بنے
یا نہیں ؟ اس میں اول ووٹ حضرت کا ہوا ، امیدوار عزیز احمد خان ایڈووکیٹ تھے ،
عزیز احمد خان مسلم لیگ کی طرف سے تھے اور ووٹ ڈالنے کے بعد حضرت کو جلوس کی شکل
میں مسلم لیگ کےرضا کار ’’مفتی اعظم پاکستان‘‘کے نعروں کے ساتھ آستانہ شریف پر
واپس لائے‘‘۔(159)
٭پاکستان آنے کے بعدتحریک ختم نبوت میں علمائے اہل سنت کے
شابہ بشانہ کام کیا ٭ 8،9ربیع الاخر1390ھ/ 13، 14جون
1970ء کوسنی کانفرنس ٹوبہ دارالسلام (پنجاب)میں مفتی صاحب نے
پیرصاحب پگارہ کی نمائندگی کی اور ان کا پیغام پڑھ کرسنایا ٭کل پاکستان سنی
کانفرنس14،15، ذیقعد1398ھ/ ملتان16،17،اکتوبر1978ءمیں آپ نے پہلے اجلاس کی صدارت
فرمائی ٭زندگی بھرجمعیت علماء پاکستان پیرجوگوٹھ کے صدررہے،1390 ھ/1960ء میں ہونے والے بنیادی جمہوریت کے
انتخابات میں کامیاب ہوئےاورچھ سال تک یونین کمیٹی کے چیئرمین رہ کرقوم و وطن کی
خدمت کی۔(160)
اسفارحرمین
طیبین
مفتی تقدس علی خان صاحب نے تین حج اورکثیرعمرےکرنےکی سعادت
حاصل کی،چنانچہ آپ کے3جمادی
الاولی 1406 ھ / 14جنوری 1986ءکےلکھے گئےمکتوب میں ہے :اب ان شاء
اللہ بشرط زندگی پندرھواں پھیراہوگا۔ (161) کچھ تفصیل ملاحظہ فرمائیے :
٭آپ نےپہلاحج تو اس
وقت کیا جب آپ ہندوستان میں رہائش پذیرتھے،آپ کا یہ سفر1368ھ/1945ءمیں
بحری جہازکے ذریعے ہوا،اس سفرکی اہم بات یہ ہے کہ بریلی شریف کےمحمد افضل خان صاحب
اپنی زوجہ کےساتھ آپ کےساتھ حرمین طیبین جاناچاہتے تھے،اس زمانےمیں ویزے کے بغیرہی
سفرہوتےتھے،مسئلہ یہ تھا کہ جس سفینے میں مفتی صاحب کوسفرکرناتھااس میں کوئی نشست
خالی نہیں تھی،اس فیملی کا بہت زیادہ اصرارتھاکہ مفتی صاحب کے ساتھ ہی سفرکرنا
ہے،مفتی صاحب نے کہاکہ واقعی آپ کا پختہ ارادہ ہے تو انھوں نے اپنے پختگیٔ ارادہ
کوظاہرکرنےکے لیے کہاکہ اگرہمیں نشست نہ
ملی تو ہم سمندرمیں چھلانگ لگادیں گے ،ہمیں اپنے ساتھ لے جانا آپ کی ذمہ داری ہے
۔مفتی صاحب نےیہ سن کرارشادفرمایاکہ ٹھیک ہے آپ میرے ساتھ سفرکی تیاری کریں ،جب آپ
ان کےہمراہ بندرگاہ پہنچے توآپ نے جہازی کمپنی کے ذمہ دار افسر کو ان دونوں کانام
لکھ کردیااورکہاکہ اسےاپنی جیب میں رکھ لیں،جب مفتی صاحب جہازمیں سوارہوگئے
اورسیٹی بج گئی تو اچانک اعلان ہواکہ محمد
افضل خان اورانکی بیوی جہازمیں سوارہوجائیں ،یہ دونوں سوارہوگئے ۔اصل میں ہوا یوں
کہ آخری وقت میں پتاچلاکہ دومسافرجنہوں نے نشست بک کروائی ہوئی تھی وہ کسی وجہ سے
وقت پرنہیں پہنچے اورانکی نشستیں خالی تھیں۔مفتی صاحب حج کرکے واپس آگئے
مگرمحمدافضل خان صاحب مدینہ منورہ میں رہائش پذیرہوگئے ،ان کا انتقال مدینہ شریف
میں ہی ہوااورجنت البقیع میں تدفین ہوئی۔جب آپ حج سے واپس آئے تودارالعلوم منظراسلام
بریلی شریف میں جلسۂ تہنیت منعقدکیا گیا
،اس دورمیں خوشترملت علامہ محمدابراہیم خوشتررضوی صاحب دارالعلوم کےطالب علم
تھے،انھوں نے یہ قطعہ پڑھا:
جھولیاں نعمت ِ دارین سےبھرکراپنی۔۔۔۔۔۔۔۔پھروطن کومیرے
مخدوم ومکرم آئے
شادومسرورہیں کس
درجہ وہ اللہ اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔کتنے انعام خدا جانے وہاں سے پائے
ہوئی تاریخ یہ خوشترزسرکیف دوام۔۔۔۔۔۔۔۔’’دل کوپُرنورتجلی سے بنا کر لائے‘‘
1945ء
٭دوسراحج آپ نے پاکستان ہجرت کے بعد1388ھ/1969ءکو کیا،اس سفرکی
اہم بات یہ ہے کہ اس میں علامہ محمدابراہیم
خوشتررضوی صاحب اپنی فیملی سمیت موریشس سے حج کرنے آئے ہوئےتھےانہیں مفتی صاحب کی معیت میں ہی حج کرنے کی سعادت
حاصل ہوئی۔ ٭تیسرا حج آپ نے 1392ھ/1968 ءمیں کرنےکی سعادت پائی۔ ٭1395ھ /1975ء
سے آپ ہرسال مسلسل ماہ رمضان میں عمرہ
وزیارت مدینہ کےلیے حرمین طیبین کاسفرفرمایا کرتے تھے ،ماہ رمضان وہاں گزارکرعیدکےبعدواپس
آتے تھے،یہاں تک کہ آپ نے وصال فرمایا۔(162)
حرمین
طیبین میں آپ کے معمولات
حرمین طیبین کی حاضری کسی بھی عاشق صادق کی معراج ہوتی ہے ، وہ اپنے نیک اعمال میں
اضافہ کرتااورخوشنودی خداومصطفی میں مستعدہوجاتاہے ،یہی کیفیت مفتی صاحب کی ہوتی
تھی ٭آپ یہاں حاضرہوکرذکروفکر،تلاوت قرآن،صلوۃ وسلام کی کثرت فرماتے ٭اپنے
خاندان،مریدوں،خدام واحباب کےلیے فردا فردا دعافرماتے ، ملک و بیرون جب بھی کوئی
آپ کو دعایا بارگاہ رسالت میں سلام کے لیے عرض کرتاہے تو آپ اس کا نام اپنی ڈائری میں نوٹ فرمالیتے ،ہرشہروالوں کا
نام الگ صفحے پر ہوتا،جب آپ مدینہ شریف میں بارگاہِ رسالت میں حاضرہوتے تو اس
ڈائری سے دیکھ کرایک ایک کانام لے کر نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ
میں سلام عرض کرتے اوراس کے لیےدعافرماتے ٭حرمین طیبین میں ملاقات کرنےوالوں پر خصوصی شفقت فرماتے٭مدینہ شریف میں حاجی حنیف اللہ والاکے
ہاں شارع رومیہ میں قیام فرماتےکیونکہ ان
کا گھرقطب مدینہ ،شیخ العرب والعجم علامہ ضیا ء الدین احمدمدنی رحمۃ اللہ علیہ کے
آستانےکے قریب تھا،روزانہ شام کو قطب مدینہ کے ہاں ہونے والی محفل نعت میں شرکت
فرماتے اورشام کاکھانا وہیں تناول فرماتے ،ماہ رمضان میں قطب مدینہ کے انتہائی اصرارپرسحری وافطاری آستانےپرکرتے ،جب
قطب مدینہ وصال فرماگئے تو جانشین قطب مدینہ ،حضرت مولانا حافظ فضل الرحمن مدنی
صاحب (163) کی موجودگی میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا ۔ اَب
حاجی حنیف
اللہ والا کا مکان اورقطب مدینہ کا آستانہ
جیدتعمیرکی وجہ سے مسجدنبوی میں شامل ہوگیا ہے ۔
اسفارعراق
مفتی صاحب
نےبغدادشریف،نجف اشرف،کربلامعلیٰ وغیرہ میں صحابہ عظام واولیاکرام کےمزارات
پرحاضری کےلیے دومرتبہ سفرکیا۔٭آپ کا پہلا سفرِ عراق
(غالبامحرم )1367ھ/دسمبر1947ءمیں ہوا،
اس کا انتظام نظام حیدرآباد دکن میرعثمان علی خان نے کیا ،آپ نے بغدادشریف ،نجف
اشرف اورکربلا معلیٰ میں حاضری کا شرف حاصل کیا ، آپ ہندوستان سے عراق روانہ
ہوئے،بغدادشریف پہنچ کر نقیب الاشراف(164) کےمہمان ہوئے ،اس وقت
سقوط حیدرآباد دکن نہیں ہواتھا،چنانچہ مفتی صاحب نے نقیب الاشراف سے درخواست کی کہ
جب آپ دربارغوث الاعظم میں جانب قدم حاضرہوکر ختم قرآن شریف کرتے ہیں تو
دعافرمائیےکہ حیدرآباددکن پاکستان میں شامل ہوجائے،نقیب الاشراف نے حامی
بھرلی،مگریہ دعاکرنابھول گئے،دوبارہ اورپھرسہ باردعاکی درخواست کی تو فرمانے لگے
:مولانا،میں بھُلادیاجاتاہو۔اس لیے دعانہ ہوسکی اور17ستمبر1948ءکوسقوطِ حیدرآبادہوگیا۔(165)
٭آپ کا دوسراسفرزندگی کے آخری
سال میں (غالباربیع الاول کے آخریا ربیع الاخرکےابتدامیں ) 1408ھ/نومبر 1987ء
کوجدہ سے بغدادشریف ہوا،دربارِغوثُ الاعظم
میں نقیب الاشراف حضرت شیخ سیّدیوسف بن عبداللہ جیلانی رحمۃ اللہ علیہ(166) نےآپ کا استقبال
کیا، خصوصی کمرہ عنایت فرمایا، دربارکےخادم
بابافقیرمحمدصاحب کوایک دینار دیتے ہوئے
کھاناکھلانے کی تاکیدکی،مفتی صاحب نےخادم کوبتایاکہ یہ میری چالیس سال کےبعددوسری
حاضرہے،خادم صاحب نےکہاکہ گویا آپ الوداع
کہنے آئے ہیں ۔آپ نے یہاں دیگر مزارات پربھی حاضری شرف حاصل کیا۔(167)
اہلسنت کے
اداروں کےساتھ تعاون
آپ
مسلک اعلیٰ حضرت کے سچے اورپکے داعی تھے
،جہاں کہیں آپ کے علم میں کوئی ادارہ یا انجمن بلکہ کوئی فردبھی آتاتو آپ اس کے
ساتھ بھرپورتعاون
فرماتے ،اس تعاون کی صورت نہ صرف علمی
اورمالی ہوتی بلکہ حتی الامکان بنفس نفیس اس میں حصہ لیتے ،مثلا کسی کو کتاب کی ضرورت ہوتی اوروہ آپ کے پاس ہوتی تو اسے بھیج دیتے
،کسی اورکے پاس ہوتی اور آپ کے علم میں
ہوتاتو اس سےلے کرروانہ کردیتے،بعض اوقات تو اس کتاب کے لیے سفربھی فرماتے ،اسی طرح آپ اداروں کے ساتھ بھی بھرپورتعاون فرماتے ،آپ نے ادارہ تحقیقات امام احمدرضا
کراچی اورمرکزی مجلس رضا لاہور کے ساتھ جو تعاون فرمایا اس کا مختصرذکر کیا جاتاہے
:
(1)ادارہ تحقیقات امام احمدرضا کا قیام1400ھ/ 1980ء کوکراچی میں ہوا،مفتی تقدس علی خان بانیان ادارہ میں سے ہیں ،
آپ نے تن من دھن سے اسکی معاونت فرمائی ،1406ھ/ 1986ء میں یہ ادارہ رجسٹرہوااوراس کی مجلس عاملہ بنائی گئی ،آپ اس کے اول سرپرست اعلیٰ
منتخب ہوئے اورتادم ِوصال اس عہدے پرفائزرہے۔ادارہ رجسٹرہونےکے بعداس کے دفترکی
ضرورت تھی،مفتی صاحب نےاراکین مجلس عاملہ کا حوصلہ بڑھایا،حضرت حاجی شفیع
محمدقادری صاحب کے گھرآفس کا تذکرہ ہواتو
آ پ نے فرمایاکہ یہ مسئلہ حل ہوجائے گا
اوراپنی جیب سے سوروپے کانوٹ نکال کر مولانا سیدریاست علی
قادری صاحب (168) کے ہاتھ میں رکھ دیا اورفرمایاکہ آفس کے لیے جگہ تلاش
کرو،الحمدللہ جلدہی جگہ مل گئی اورمفتی صاحب نے11رمضان
1407ھ/ 10مئی 1987ء کو
اپنے ہاتھوں سے اس کا افتتاح فرمایا۔ادارہ میں آپ کی خدمات تادم وصال جاری رہیں
،آپ کا دورِ خدمت 1980 ءتا 1988ءتک ہے ۔مفتی صاحب نے ادارہ کی
سالانہ ساتویں کانفرنس( 24،اکتوبر1987ء)کی صدارت بھی فرمائی ۔(169)
(2)مرکزی مجلس رضا لاہورکا قیام1388ھ/ 1968ء کو حکیم اہل سنت حضرت
حکیم محمدموسیٰ امرتسری (170) نے
اپنے چند رفقاکےساتھ لاہورمیں کیا ، جس کا بنیادی مقصد امام احمد رضا، فکر رضا کا
تعارف اور مسلکِ اعلیٰ حضرت کو عام کرنا تھا۔ مفتی
تقدس علی خان صاحب اس مجلس کے بھی سرپرست اورمالی معاون تھے
اوراس حیثیت سے چودہ پندرہ سال یوم رضا کے موقع پر ہونے والے جلسے کی صدارت فرمانے
کے لیے لاہورتشریف لےجاتے رہے اگرچہ آخری عمرمیں آپ بہت کمزورہوگئے تھے پھربھی یوم
رضا میں شرکت ضرورفرماتے تھےچنانچہ16محرم1406ھ/
یکم اکتوبر1985ء
کے اپنے مکتوب میں اس طرح ذکر فرماتے ہیں
:اب میں بتقاضہ ٔ عمربہت کمزورہوگیا ہوں ۔چلنے پھرنے میں دشواری ہوتی ہے اور نگاہ
بھی کمزورہوگئی ہے پھربھی 20صفرکویوم
رضا(لاہور) میں شرکت کا ارادہ ہے ۔ (171) مصنف
ومحقق سید محمد عبداللہ قادری(واہ
کینٹ،ضلع راولپنڈی)تحریرفرماتے ہیں : مرکز ی مجلس رضا نے 1968ء تا 1999 بڑا زور دار کام کیا، بہت سی کتب بھی شائع کیں، جن سے تعلیمات امام احمد رضا کو
روشناس کروایا۔ بہت سی نایاب اور غیر مطبوعہ کتب کے مسودات بغرض اشاعت مفتی تقدس
علی خان بریلوی قادری بریلی شریف جا
کر خود لاتے تھے۔ 22 فروری 1988ء کو حضرت مفتی تقدس علی خان علیہ الرحمہ کی رحلت
کے بعد، مرکزی مجلس رضا رجسٹرڈ لاہور کے بانی اور مجلس کے دیگر متعلقین ایک عظیم
نعمت سے محروم ہوگئے، مفتی تقدس علی خان، مرکزی مجلس رضا رجسٹرڈ کو علمی و دینی مشوروں سے نوازتے اور ہر
قسم کا مالی تعاون بھی کرتے تھے۔مرکزی
مجلس رضا کے تحت مسجدرضا چاہ میرں
لاہورتعمیرکی گئی اس کا افتتاح بھی مفتی تقدس علی خان صاحب نےاپنےہاتھوں سےکیا۔
افتتاحی تقریب کے بعد نماز ظہر حضرت مفتی تقد س علی خان صاحب نے پڑھائی۔(172)
سلسلہ
قادریہ رضویہ کی اشاعت
مفتی تقدس علی خان صاحب کا اصل میدان
درس وتدریس تھا ،اس کے ساتھ
ساتھ آپ شیخ طریقت ، اورادووَظائف کے پابنداورپیرکامل بھی تھے
،کئی لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر توبہ وبیعت کی سعادت حاصل کی ،روحانی فیوض وبرکات سے
مالامال ہوئے ، آپ نے کئی حضرات کو سلسلہ قادریہ رضویہ حامدیہ کی خلافت سے بھی
نوازا،مثلا (1)استاذالعلما مولانامحمد اطہرعلی نعیمی (173) (2)مولانا شمس الحسن
شمس بریلوی (174) (3)مولانا سیدریاست علی قادری (175) (4)صاحبزادہ وجاہت رسول قادری (176) (5)الحاج شفیع محمدقادری حامدی (177) (6)مولانا ابوالقاسم ضیائی (178) (7)مولانا محمدعباس مدنی (179)وغیرہ۔ (180)
وفات
ومدفن
آخری تقریب جس میں آپ نے شرکت کی وہ
جمادی الاخریٰ1408ھ میں مصلحِ اُمّت قاری مصلح الدین
صدیقی (181) رحمۃ اللہ علیہ کا عرس تھا ،اس میں بنفس نفیس تشریف لائے
،آپ بہت کمزورہوچکے تھے ،احباب سے اس طرح گفتگوکی جیسے وصیت کررہے ہیں، جن لوگوں
کے پاس آپ نے کچھ امانتیں رکھی ہوئیں تھیں ان کاذکرفرمایا، اس کے بعد پیرجوگوٹھ
تشریف لے گئے اور وہاں بیمارہوگئے ،3رجب 1408ھ /22فروری 1988ءکو آپ کی طبیعت زیادہ خراب ہوگئی، اس
لیے بغرض علاج کراچی تشریف لے آئے، اپنی ہمشیرہ کے گھر نرسری میں قیام فرمایا، حاجی
شفیع محمد حامدی، حاجی حنیف اللہ والااورحاجی عبدالغفارپردیسی (182) صاحب آپ کو سول ہسپتال لے گئے ،آپ کو اسڑیچرپرلٹاکر دل وارڈ
میں منتقل کردیا گیا،آپ نے چوتھے کلمے کاورد شروع کردیا اور قریب موجوداحباب کو
بھی پڑھنے کافرمایا،مسلسل یہ ورد جاری رہا ،پھرآپ کی سانس اکھڑنے لگی،دوپہرپونے
بارہ بجے آپ کو آبِ زم زم اورکھجوردی گئی،بارہ بجے آپ کے خادم و شاگردحافظ امتیاز(183) صاحب نے سورۂ یسین کی تلاوت شروع کی
،12بج کر10 منٹ پر جیسے ہی
سورہ یسین شریف مکمل ہوئی آپ کاوصال ہوگیا۔وفات کی خبرچاردانگ عالم میں عام ہوگئی
،آپ کی جسدمبارک کو نرسری لایا گیا جہاں احباب نے غسل وکفن دیا ، آپ کا نمازجنازہ آرام باغ مسجدکےباہر مفتی اعظم پاکستان مفتی وقارالدین قادری(184) نےپڑھایا ،نمازجنازہ میں لوگوں کی کثر ت تھی ، آپ کی تدفین
آپ کی وصیت کے مطابق پیرجوگوٹھ میں ہونی تھی اس لیےآپ کا جسدمبارک المصطفی ایمبولینس میں رکھا گیا ،احباب بسوں میں تھے ،یہ قافلہ
صبح پیرجوگوٹھ پہنچ گیا ،شہرمیں کاروبار اوردکانیں بند ہوگئیں ،لوگ نمازجنازہ کے
لیے امنڈپڑے، صبح دس بجےاستاذالعلما مفتی محمد رحیم کھوسہ سکندری صاحب نے
نمازجنازہ پڑھائی۔ (185) ڈاکٹرپروفیسرمجیداللہ قادری صاحب تحریرفرماتے ہیں: فقیرنے
اپنی آنکھوں سےدیکھا کہ 24گھنٹے گزرنے کے باوجودآپ کےجسم مبارک
پر تازگی رہی،اورچہرہ مبارک چمکتارہااورمسکراتارہا۔(186) تدفین پیرجوگوٹھ قبرستان میں اپنے
والد،بیٹےاور بیٹیوں کی قبورسے متصل کی گئی ،ہرسال 3رجب کو آپ کا عرس ہوتا ہے ۔(187)
حواشی ومراجع
(1) اعلیٰ حضرت ،مجدددین وملت، امام احمد رضا
خان رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت10شوال 1272ھ /6جون 1856ءکو بریلی شریف (یو پی) ہند میں
ہوئی، یہیں 25 صفر 1340 ھ /28،اکتوبر1921ءکو
وصال فرمایا۔ مزار جائے پیدائش میں مرجع خاص وعام ہے۔آپ حافظ قرآن، پچاس سے زیادہ
جدیدوقدیم علوم کے ماہر،فقیہ اسلام ،محدث وقت ،مصلح امت، نعت گوشاعر، سلسلہ قادریہ
کے عظیم شیخ طریقت، تقریبا ایک ہزارکتب کے مصنف، مرجع علمائے عرب وعجم،استاذالفقہاومحدثین
،شیخ الاسلام والمسلمین ،مجتہدفی المسائل اور چودہویں صدی کی مؤثر ترین شخصیت کے
مالک تھے۔ کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن،فتاویٰ رضویہ (33جلدیں)،
جد الممتارعلی ردالمحتار (7 جلدیں،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی) اور
حدائق بخشش آپ کی مشہور تصانیف ہیں۔(حیاتِ اعلیٰ حضرت، 1/58، 3/295،مکتبۃ المدینہ،تاریخِ مشائخِ قادریہ رضویہ
برکاتیہ،282، 301)
(2) شہزادۂ اعلیٰ حضرت،حُجّۃُ الاسلام مفتی
حامد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ علامۂ دہر، مفتی اسلام ،نعت گوشاعر،اردو،ہندی ،فارسی
اورعربی زبانوں میں عبوررکھنے والےعالم دین ، ظاہری وباطنی حسن سےمالامال ،شیخ
طریقت ،جانشینِ اعلیٰ
حضرت اوراکابرین اہل سنت سے تھے ۔ بریلی
شریف میں ربیعُ الاول1292ھ/اپریل1875ء
میں پیداہوئے اور17جمادی الاولیٰ 1362ھ
/22مئی
1943ءمیں
وصال فرمایا ، مزار شریف خانقاہِ رضویہ بریلی شریف ہند میں ہے، تصانیف میں فتاویٰ
حامدیہ مشہورہے۔(فتاویٰ
حامدیہ،ص48،79)
(3)اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری رحمۃ اللہ علیہ نے شہر بریلی(یوپی ہند) میں غالباماہ
شعبان المعظم
1322ھ/ اکتوبر1904ء
میں دارالعلوم(مدرسہ اہل سنت وجماعت) منظر اسلام بریلی کی بنیاد رکھی، اس مدرسے کے
بانی اعلیٰ حضرت امام احمدرضا ،سربراہ حجۃ الاسلام مولانا حامدرضا قادری اورپہلے
مہتمم برادراعلیٰ حضرت مولانا حسن رضا خان رحمۃ اللہ علیہم مقررہوئے ، ہر سال اس
ادارے سے فارغ التحصیل ہونے والے حفاظ قرآن، قراء اور علماء کی ایک بڑی تعداد ہے۔(صدسالہ منظراسلام نمبرماہنامہ اعلیٰ
حضرت بریلی،ماہ مئی 2001ء،قسط 1ص28،132)
(4) جامعہ راشدیہ پیرجوگوٹھ ضلع خیرپورمیرس
میں واقع ہے ،یہ اہل سنت وجماعت کا شمالی
سندھ کابڑادینی مدرسہ ہے ، سلسلہ قادریہ
راشدیہ کےعظیم بزرگ حضرت سیدمحمدراشدشاہ روزہ دھنی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کا آغازتخمینا1195ھ/1781ء
میں کیا ، 9شعبان
1371ھ/4مئی
1952ء
کواس کی نشاۃ ثانیہ ہوئی،اس کے پہلے شیخ الجامعہ مفتی تقدس علی خان،شیخ الحدیث
مفتی صاحبدادخان صاحب اور مہتمم رائس الافاضل حضرت مولانا محمدصالح مہرقادری رحمۃ اللہ علیہم مقررہوئے،اس سےہزاروں علما
فارغ التحصیل ہوچکےہیں ،اوراسکی ذیلی شاخیں تین سوسےزائدہیں جس میں سے دوسودرسِ
نظامی اورسوحفظ قرآن کی ہیں۔(انوارعلمائے اہل سنت سندھ،735 ،146،369)
(5)افغانستان وسط ایشیا اور جنوبی
ایشیا میں
واقع ایک زمین
بند ملک ہے
یہ پاکستان سے جنوب مشرق میں واقع ہے۔اسکو یکم ربیع الآخر1121ھ/ 10جون1709ء
کو احمدشاہ بابادرانی ابدالی نے قائم
کیا،افغانستان چاروں طرف سے خشکی سے گھرا ہوا ہے جس کا کوئی ساحلِ سمندر نہیں۔ اس کی سمندری
تجارت پاکستان کے ذریعے ہوتی ہے۔ زیادہ علاقہ
پہاڑی ہے جو زیادہ تر کوہ
ہندوکش پر
مشتمل ہے۔ افغانستان میں پانی کی شدید کمی ہے اگرچہ چار دریا ہیں جن کے نام دریائے
آمو، دریائے کابل، دریائے ہلمند اور دریائےھریرود ہیں،اس کا رقبہ 652230 مربع
کلومیٹر
ہے ۔اسلامی جموریہ افغانستان کادارالحکومت کابل ہے،اکثرآبادی
پشتواوردری(فارسی)زبان بولتی ہے، 2020ء میں اس کی آبادی ساڑھے تین
کروڑسےزیادتھی۔اس کے34صوبے ہیں ۔معاشرتی سسٹم قبائلی ہے
،تقریبا60
فیصدپشتون،20
فیصدتاجک،10
فیصدہزارہ اوربقیہ 10 فیصد دیگرقبائل
ہیں ۔ افغانستان کے %99 لوگ مسلمان ہیں جن میں سنی مسلمانوں کی
اکثریت ہے۔
(6)قندھارجنوبی افغانستان کا ایک شہر اور صوبہ قندھار کا دار
الحکومت ہے، در یائے ارغنداب کے کنار ے واقع اس شہر کی آبادی تقریبا تین لاکھ 16
ہزار ہے۔ یہ افغانستان کا دوسرا سب سے بڑا شہر اور ایک اہم تجارتی مرکز ہے۔ بین
الاقوامی ہوائی
اڈے اور شاہراہوں کے وسیع جال کے ذریعے یہ شہر دنیا بھر سے منسلک ہے۔ پشاور کے بعد یہ پشتون عوام کا سب سے بڑا مرکز ہے۔
(7)شجاعت جنگ بہادرسعیداللہ خان افغانستان سے ہندمیں آئے،شاہ دہلی
محمدشاہ ان کی صلاحیتوں سےبہت متاثرہوااورانہیں لاہور کا شیش محل بطور جاگیردیا،پھردہلی
میں بلاکرریاست رامپورمیں جاگیر دی،آخری عمرمیں آپ بریلی شریف میں مستقل رہائش پذیرہوگئے، یہیں انتقال ہوااور
شہزادہ کا تکیہ محلہ معماران بریلی میں تدفین ہوئی۔)تجلیات تاج
الشریعہ، (82
(8)لاہورایک قدیم وتاریخی شہرہےمغلیہ
عہدمیں لاہورکے اردگردفصیل اورتیرہ دروازے بنائےگئے، 372ھ/982ء
کویہ ملتان سلطنت کا حصہ تھا،اب یہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کا دار الحکومت اور پاکستان
کادوسرا بڑا شہر ہے۔ یہ پاکستان کا ثقافتی، تعلیمی اور
تاریخی مرکز ہے،اسےپاکستان کا دل اور باغوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ یہ شہر دریائے
راوی کے
کنارے واقع ہے۔ اس شہر کی آبادی تقریباایک کروڑ 11لاکھ
ہے۔
(9)دہلی یا دلی بھارت کے شمال میں واقع ہے۔ دہلی شہربھارت کا ممبئی کے بعد
دوسرااوردنیابھرکا تیسراسب سے بڑاشہری علاقہ ہے ، اس کی آبادی اڑھائی کروڑسے
زائدہے ، اس کا رقبہ 1،484 مربع کلومیٹر (573 مربع میل) ہےدریائے
جمنا کے
کنارے یہ شہر چھٹی
صدی قبل مسیح سے
آباد ہے۔1338ھ/ 1920ء کی دہائی میں قدیم شہر کے جنوب
میں ایک نیا شہر "نئی
دہلی"
بسایا گیا جوکہ موجودہ
بھارت کا دارالحکومت ہے ، فی زمانہ دہلی بھارت کا اہم ثقافتی، سیاسی و تجارتی
مرکز سمجھا جاتا ہے۔
(10) سعادت یارخان دربارِ دہلی میں وزیرمالیات مقرر ہوئے،انہوں نے
دہلی میں بازارسعادت گنج اورنہرسعادت خاں قائم کی ،انکی وفات وتدفین کےبارےمیں
معلومات نہ ہوسکیں۔(تجلیات تاج الشریعہ،82)
(11)محمداعظم خان بریلی تشریف لے آئے ،یہ حکومت کے عہدہ وزارت پر
فائزتھےپھر وزرات کے عہدے سے علیحدہ ہوکرزہد و عبادات پر مصروف ہوگئے ،شہزادہ کا
تکیہ محلہ معماران بریلی میں مقیم ہوئے ،یہیں آپ کا مزارہے آپ کا شماربریلی کے
باکرامت اولیائے کرام میں ہوتاہے ۔(امام احمدرضا
خان قادری ،ازعلامہ بدرالدین رضوی ،92)
(12)حضرت شاہ نورالحق قادری رزاقی فرنگی محلی،بحرالعلوم
علامہ عبدالعلی لکھنوی کےشاگرد،والدگرامی ملااحمدانوارالحق فرنگی محلی کے مرید و خلیفہ
اورمدرس درسِ نظامی تھے، 23ربیع الاول1237ھ/17 دسمبر1821ءوصال فرمایا۔آپ عاجزی وانکساری میں مشہور تھے۔ )تذکرہ علمائےہند،452 (
(13)تجلیات
تاج الشریعہ،83۔
(14)جدِّ
اعلیٰ حضرت ،امام العلماءمفتی رضا علی خان صاحب عالم دین،اسلامی شاعر،مفتی
اسلام،استاذالعلماء،علامہ فضل رحمن گنج مرادآبادی کے مرید، شیخِ طریقت اورصاحبِ
کرامت ولی کامل تھے۔1224ھ/1809ء کو بریلی شریف کے صاحبِ حیثیت
دینی گھرانے میں
پیداہوئے اور 2جمادی الاولیٰ1286ھ/10،اگست 1869 ءکویہیں وصال فرمایا، مزار قبرستان بہاری پورنزدپولیس
لائن سٹی اسٹیشن بریلی شریف (یوپی، ہند) میں ہے۔ (معارف رئیس اتقیا،ص17)
(15)رئیس الحکماء حکیم تقی علی خان صاحب مفتی تقدس علی خان اورمفتی
اعجازولی خاں رحمۃ اللہ علیہما کے پڑداداہیں ۔
(16)حکیم
محمداجمل خان کی پیدائش 1284ھ/1864ءکو دہلی میں ہوئی ،آپ بھائیوں میں سب
سے چھوٹےتھے ،طب کےساتھ دیگراسلامی علوم پربھی نظرتھی،صاحب دیوان شاعربھی تھے،حافظ
اورپھرشیداتخلص رکھا، اولیائے کرام اورتصوف کے محب تھے، تحریک خلافت میں حصہ لیا
اورجیل بھی گئے ،زنانہ مدرسہ طیبہ شفاخانہ دہلی آپ نے ہی بنایا ،تقریبا سات سال
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے چانسلر رہے، 25جمادی
الاخریٰ 1346ھ/20دسمبر1927ء کو انتقال ہوا۔(مسیح الملک حکیم
اجمل خاں،18تا21،289،540)
(17) حکیم
محمدواصل خان ثانی، مشہوردہلوی حکیم خاندان کے اہم فردتھے ،آپ مشہورحکیم محمودخاں
کے منجھلے بیٹےاورحکیم اجمل کے بڑے بھائی تھے،پیدائش1277ھ/
1861ء کوہوئی ،اپنے بڑے بھائی حکیم عبدالمجید خان کے ساتھ
مل کر1883ءمیں علم طب کی ترویج کے لیے مدرسہ طیبہ دہلی کا آغازکیا ،بڑے بھائی کے
انتقال(وفات:1901ء) کے
وفات کے بعد خاندان مطب اوراس درسگاہ کی ترقی میں تادم وفات مصروف رہے ،درس گاہ کے
اخراجات کے لیے ایک دواسازادارہ بنایا جو بعدمیں ہندوستانی دواخانہ کے نام سے
مشہورہوا،تقریبا 4سال یہ خدمات سرانجام دے کر صرف43سال کی عمرمیں1322ھ/
1904ء کو انتقال کرگئے ،تدفین درگاہِ
سیدحسن رسول نمانئی دہلی میں بڑے بھائی کی قبرکے قریب ہوئی۔(مسیح الملک حکیم
اجمل خاں،17،18)
(18)مفتی تقدس علی خان کا تذکرہ جن کتابوں میں ہے ان میں سے اکثر میں
اعلیٰ حضرت کے دادامولانا رضا علی خان کوحکیم ہادی علی خان کاوالدلکھا گیا ہے جوکہ
درست نہیں ،مفتی تقدس علی خان صاحب کے دادا حکیم ہادی علی خان ،امام العلما مولانا رضا علی خان صاحب کے بھائی رئیس الحکماءحکیم تقی علی خان کے بیٹے ہیں ۔
(19)حیات اعلیٰ حضرت ،مکتبۃ رضویہ کراچی،13تا18۔
(20)سِراجُ العَارِفِین حضرت مولانا سیّد ابوالْحُسَین احمد نُوری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ عالِمِ دین،شیخِ طریقت اورصاحِبِ تصانیف ہیں۔1255ھ /1840
ءمیں پیدا ہوئے اور 11رجب 1324ھ /31اگست 1906ءمیں وِصال فرمایا۔ مزارِ پُراَنوار مارہرہ
شریف (ضلع ایٹہ یو پی)
ہِند میں ہے۔ ”سِرَاجُ الْعَوَارِفِ فِیْ الْوَصَایَا وَالْمَعَارِفِ“ آپ کی اہم کتاب ہے۔(تذکرۂ نوری، ص 146،275،218)
(21)حیات مفتی تقدس علی خان ،تحریک اہل سنت کراچی،5 ، ماہنامہ معارف رضا
کراچی،جولائی 2013ء،ص57۔
(22)مفتی تقدس علی خان کا تذکرہ جن کتابوں میں ہے ان میں یہ لکھا گیا
ہے کہ ’’آپ(یعنی مفتی تقدس علی خان صاحب) کی نانی صاحبہ کی بہن اعلیٰ حضرت علیہ
الرحمہ کی زوجہ محترمہ تھیں۔‘‘یہ
درست نہیں ہے ، درست یہ کہ مفتی تقدس علی خان صاحب کی نانی حجاب بیگم اعلیٰ حضرت کی بہن تھیں ،دیکھئے :
حیات اعلیٰ حضرت ،مکتبۃ رضویہ کراچی، 17 ۔
(23)حیات اعلیٰ حضرت ،مکتبۃ رضویہ کراچی،16،17۔
(24)حیات مفتی تقدس
علی خان ،تحریک اہل سنت کراچی،5 ۔
(25)حیات اعلیٰ
حضرت ،مکتبۃ رضویہ کراچی، 17،18۔
(26)
مُفسرِ اعظم حضرتِ مولانا محمد ابراہیم رضا خان رضوی جیلانی میاں رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت10ربیع
الاخر1325ھ/ 23مئی 1907ء کو بریلی شریف (یوپی) ہند میں ہوئی۔ آپ عالمِ
دین، مصنف، مہتمم دار العلوم منظرِ اسلام اور شیخ الحدیث تھے۔11 صفرالمظفر 1385ھ/11جون 1965ء
کو وصال فرمایا، آپ کا مزار مبارک بریلی شریف (یوپی) ہند میں روضۂ اعلیٰ حضرت کے
دائیں جانب ہے۔ (تجلیات تاج الشریعہ،ص93، تذکرہ جمیل ،205)
(27)مولانا
حمادرضا خان نعمانی میاں حجۃ الاسلام کے دوسرے فرزندہیں ،آپ کی ولادت 1334ھ/1915ء
کو بریلی شریف میں ہوئی ، اعلیٰ
حضرت کی زیارت سے مشرف ہوئے ،اعلیٰ حضرت نے اپنے ایک مکتوب میں آپ کو ’’چھوٹانبیرہ
‘‘تحریرفرمایاہے ،آپ نے علم دین حجۃ الاسلام سے حاصل کیا ،1357ھ/1937ءکوآپ کی شادی
بریلی کے ایک سادات گھرانے میں ہوئی ،3بیٹے اور4بیٹیاں ہیں ،آپ
نے پاکستان ہجرت فرمائی اور1375ھ/1956ءکو کراچی میں وصال فرمایا تدفین فردوس قبرستان کراچی میں
ہوئی۔(تجلیات تاج
الشریعہ،ص94 )
(28)حیات مفتی تقدس علی خان ،7۔
(29)ذکرجمیل،237۔
(30) حسن اتفاق آپ
کی ولادت سے چنددن پہلے10ربیع الاخر1325ھ/23مئی1907ء کو حجۃ الاسلام علامہ رضا خان صاحب کے ہاں کئی
بچیوں کی پیدائش کے بعدعلامہ ابراہیم رضا جیلانی میاں کی ولادت ہوئی ،جس سےخاندان بھرمیں خوشی کی لہردوڑگئی۔(تذکرہ جمیل ، 204)۔
(31) صاحبِ ذوقِ
نعت، استاذِ زمن ،شہنشاہ سخن حضرت مولانا
حسن رضا خان، اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان کےمنجھلے بھائی، قادِرُالکلام شاعر ، کئی
کتب کے مصنف اور دارُالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف کےمہتممِ اوّل ہیں،22ربیع الاول 1276ھ/19،اکتوبر1859ءکو محلہ سوداگران بریلی میں
پیدا ہوئے، 3شوال 1326ھ/29،اکتوبر1908ءکوبریلی شریف میں
وصال فرمایا، مزارمبارک قبرستان بہاری پور نزد پولیس لائن سٹی اسٹیشن بریلی شریف (یوپی،
ہند) میں ہے۔ (ماہنامہ سنی دنیابریلی،صفر1408ھ/اگست1994ء،ص205تا208)
(32)ایک کتاب میں
لکھاہے کہ یہ نام(اعلیٰ حضرت کے بھتیجے) مولانا حسنین رضا خان صاحب(پیدائش: 1310 ھ)
نے رکھا مگریہ بات درست نہیں کیونکہ اس وقت ان کی عمرپندرہ سال تھی ، مولاناحسن رضا خان (وفات3شوال 1326ھ)بھی
حیات تھے ، مفتی تقدس علی خان صاحب کا نام
مولانا حسن رضا خان صاحب نے رکھا ہوگا،اس کی تائیدمفتی تقدس علی خان صاحب کے ایک
مکتوب سے بھی ہوتی ہے چنانچہ آپ علامہ حسن رضا خان صاحب کا تذکرہ کرتےہوئے
تحریرفرماتے ہیں :میری پیدائش 1325ھ کی
ہے،میراتاریخ نام ’تقدس علی خاں‘(1325ھ)انہیں کا استخراج کردہ ہے۔ (ماہنامہ معارف رضا کراچی،جولائی 2013ء،ص51 )
(33)حیات مفتی تقدس علی خان ،5
(34)حیات مفتی تقدس علی خان ،7۔
(35)مفتی تقدس علی خان صاحب کی تمام تعلیم
دارالعلوم منظراسلام بریلی شریف میں ہوئی،بعض حضرات نے لکھا ہے کہ آپ نے مدرسہ
عالیہ رام پور میں بھی تعلیم حاصل کی مگریہ بات درست معلوم نہیں ہوتی ، کیونکہ آپ
کے رامپوری اساتذہ یعنی علامہ ظہورالحسین
صاحب آپ کےزمانہ طالب علمی میں دارالعلوم منظراسلام کے مدرس تھے ان کا وصال 22جُمادَی
الاُخریٰ 1342ھ/30جنوری
1924ء کو ہواتو حجۃ الاسلام علامہ حامدرضا
خان صاحب نے تاریخ وصلہ کےعنوان سے منظوم تعزیت رقم فرمائی (تذکرہ جمیل ،28،64) اس
کے بعدان کے بیٹے علامہ نورالحسین
رامپوری صاحب دارالعلوم منظراسلام بریلی
کے مدرس مقررہوئے۔الحاصل مفتی تقدس علی خان صاحب نے ان دونوں مدرسین سے
بریلی شریف میں رہتے ہوئے تعلیم حاصل کی ۔واللہ اعلم بالصواب۔
(36)واعظ
دلپزیرحضرت علامہ مولانا محمدخلیل الرحمٰن بہاری کا تعلق ہندکےصوبہ بہارسے ہے ،جب
اعلی حضرت امام احمدرضاخان صاحب مدرسہ حنفیہ پٹنہ کےسالانہ اجلاس(15تا17رجب 1317ھ/19تا21نومبر1899ء) میں تشریف
لائے تو اِنہوں نے جیسے ہی اعلیٰ حضرت کی زیارت کی تو بہت متاثرہوئے ،اجلاس کے
اختتام پر بریلی شریف حاضر ہوئے ،اعلیٰ حضرت سے بیعت کی اورپھر خلافت سے نوازے
گئے، آپ استاذدرس نظامی مدرسہ عربیہ متیال
مٹھ مدراس (نیانام ،چینائی،ریاست تمل ناڈو،ہند)،جیدعالم دین،بہترین واعظ، مجاز طریقت
، جماعت رضائے مصطفیٰ اورجماعت انصارالاسلام کے ہمدردورکن تھے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،415تا417)
(37)حیات مفتی تقدس علی خان ،۵۔
(38)شہزادۂ
استاذِ زمن، استاذُ العلما حضرتِ مولانا محمد حسنین رضا خان رضوی رحمۃ اللہ علیہ کی
ولادت 1310 ھ/1893 ء
کو بریلی شریف (یوپی) ہند میں ہوئی۔ آپ اعلیٰ حضرت امام
احمدرضاخان صاحب کے بھتیجے، داماد، شاگرد
و خلیفہ، جامع معقول و منقول،ذہین و فطین ومحنتی، کئی کُتُب کے مصنف، مدرسِ دار العلوم
منظرِ اسلام، صاحبِ دیوان شاعر، بانیِ حسنی پریس و ماہنامہ الرضا و جماعت انصار الاسلام
تھے۔ وصال5 صَفَر 1401ھ /14ستمبر1980ء میں فرمایا اور مزار بریلی شریف میں
ہے۔ (تجلیات تاج
الشریعہ، ص95، صدر العلما محدث بریلوی نمبر، ص77تا81)
(39)
صاحبِ حق استاذالعلماعلامہ عبد المنان شہبازگڑھی،1895ء/ 1313ھ کو شہباز گڑھ ضلع مردان کے علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اپنے علاقے کے
علماسے علوم عقلیہ ونقلیہ سے فارغت کے بعد مدرسہ اندرکوٹ میرٹھ (یوپی ہند)سے دورہ
حدیث کیا ،مدرسہ نصرۃ الاسلام سے تدریس کا آغازکیا ،پھر دارالعلوم منظراسلام میں
پڑھایا ،پھرپاکستان میں آکر دار العلوم حزب الاحناف لاہورمیں تدریس کی، پھراپنےگاؤں
میں آخرزندگی تک سلسلہ تدریس جاری رکھا اورمسجدبہران خیل کے امام وخطیب مقررہوئے۔ (
تعارف علماء اہل سنت ص 210)مفتی
تقدس علی خان صاحب کےبعض تذکروں میں آپ کی
منتہی کتب کے اساتذہ میں علامہ عبدالمنان خان صاحب کا نام بھی لکھاگیا ہے لیکن یہ بات درست معلوم نہیں
ہوتی کیونکہ علامہ عبدالمنان صاحب کی
فراغت کا سال 1341ھ /1923ءہے
اورمنظراسلام میں آپ کی تدریس غالبا 1342ھ/1924ءکے
بعدشروع ہوئی،قرین قیاس یہی ہے کہ آپ علامہ تقدس صاحب کے متوسط کتب کے استاذہیں،واللہ اعلم۔
(40)شرح جامی
،مشہورعاشق رسول علامہ عبدالرحمن جامی رحمۃ اللہ علیہ (پیدائش:23شعبان817ھ۔وفات:18محرم898ھ)کی کتاب ہے جس
کا اصل نام الفوائدالضیائیہ ہے جوکہ علامہ ابن حاجب عثمان بن عمردوینی
(پیدائش:اواخر570ھ۔ وفات:16شوال 646ھ) کی علم
النحومیں کتاب الکافیہ کی شرح ہے ، یہ بہت اعلیٰ ،مشہور،معروف شرح ہے ،یہ کئی
شروحات کافیہ کا خلاصہ ہے ،اس میں نحوی
مباحث کو عقلیت کا رنگ دیا گیا تاہم ٹھوس استعداد پیداکرنے کے لیے بہت عمدہ کتاب
ہے۔یہ اب بھی درسِ نظامی کےچوتھے سال (درجہ رابعہ)میں پڑھائی جاتی ہے۔ دعوتِ
اسلامی کےادارۂ تصنیف وتالیف المدینۃ العلمیہ(اسلامک ریسرچ سینٹر)کےعالم دین، استاذالعلماء
علامہ عبدالواحدعطاری مدنی صاحب نےشرح جامی کا عربی حاشیہ بنام الفرح النامی
تحریرفرمایا ہے جسے مکتبۃ المدینہ نے بہت خوبصورت اندازمیں شائع کیا ہے ۔
(41)سیدی ابوالبرکات ،75۔
(42)شمسُ العلماء حضرت علّامہ ظہور الحسین
فاروقی مجددی رامپوری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1274ھ/1857ء
میں ہوئی اور وصال 12جُمادَی
الاُخریٰ 1342ھ/20جنوری
1924ء کو رامپور (یوپی، ضلع لکھنؤ) ہند میں ہوا۔ آپ علومِ عقلیہ
و نقلیہ میں ماہر،مدرس مدرسہ عالیہ رامپورو صدر مدرس دارُالعلوم منظراسلام
بریلی ، بشمول مفتیِ اعظم ہند سینکڑوں
علما کے استاذ اور کئی دَرسی کتب کے مُحَشِّی ہیں۔ (
تذکرہ کاملان رامپور،184تا186)
(43)علامہ
نورالحسین رامپوری اپنےوالدصاحب علامہ
ظہورالحسین رامپوری کے علمی جانشین،مدرس درسِ نظامی،استاذالعلماء اورکئی کتب کے
مصنف ہیں۔(تذکرہ کاملان رامپور،186)،
(44)بدرالطریقہ حضرت مولانا حافظ عبد العزیز خان محدث بجنوری رضوی رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ کی ولادت
بجنور(یوپی،ہند)میں ہوئی، آپ عالم، مدرس،صوفی باصفا اور خلیفہ اعلیٰ حضرت تھے،پہلے
مدرسہ جامع مسجدپیلی بھیت کے مدرس مقررہوئے،پھر جامعہ منظر ِاسلام بریلی میں
تقریباً 20 سال تدریس کی،اس دوران مدرسہ مظہراسلام مسجدبی بی جی بریلی میں بھی
پڑھایا ،8جمادی الاولیٰ 1369ھ/26فروری1950ء میں بریلی شریف میں وصال فرمایا ۔تدفین انجمن اسلامیہ
بریلی قبرستان میں ہوئی۔(تذکرہ خلفائے
اعلی حضرت، ص181)
(45)ماہنامہ معارف رضا کراچی،جولائی 2013ء،ص54،تجلیات خلفائے اعلیٰ
حضرت ،185)
(46)استاذُ العلما، حضرت مولانا رحم الٰہی منگلوری مظفر نگری قادری
رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت منگلور (ضلع
مظفر نگر، یو پی) ہند میں ہوئی۔ آپ ماہرِ
معقولات عالم دین، صدر مدرس، مجازِ طریقت اور دارالعلوم منظراسلام کےاولین(
ابتدائی) اساتذہ میں سے ہیں ۔ آپ نے بحالتِ سفر آخر (غالباً28) صَفر 1363ھ /23فروری 1944ءکو وصال فرمایا۔ (تذکرہ خلفائے
اعلی حضرت، ص138)
(47)صاحب ِ بہارِ شریعت صدرُالشّریعہ
حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی
اعظمی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی ولادت 1300ھ/1883ء کو مدینۃ العُلَماء گھوسی (ضلع
مؤ،یوپی)ہند میں ہوئی اور 2
ذیقعدہ1376ھ/31مئی 1957ء کووصال فرمایا،مزارمبارک گھوسی میں ہے۔ آپ جیّدعالم، بہترین مفتی ،مثالی مدرّس،متقی
وپرہیزگار ،استاذالعُلَماء،مصنفِ کتب
وفتاویٰ ، مؤثرشخصیت کے مالک اوراکابرینِ اہلِ سنّت سے تھے۔اسلامی معلومات کا انسائیکلوپیڈیا
بہارِ شریعت آپ کی ہی تصنیف ہے۔ (تذکرہ صدرالشریعہ،5، 41وغیرہ) (48)ماہنامہ
معارف رضا کراچی،جولائی 2013ء، ص56)
(49)جہان
مفتی اعظم ہند ،1060۔
(50)انوارعلمائے
اہل سنت سندھ،145۔
( 51)ماہنامہ معارف
رضا کراچی،جولائی 2013ء،ص56)
(52)حاجی
مریداحمدچشتی صاحب کی پیدائش ذوالحجہ1371ھ/ ستمبر1952ء کو چک
جانی(تحصیل پنڈدادنخان ضلع جہلم)میں ہوئی اور قریبی علاقے پنڈی سیدپورمیں 10ذیعقدہ1435ھ/ 6ستمبر2014ء کو وصال
فرمایا،آپ اسکول ٹیچر،پابندصوم و صلوۃ،مصنف کتب کثیرہ اورشیخ الاسلام خواجہ
قمرالدین سیالوی صاحب کے مریدتھے،آپ کی تصانیف میں خیابان
رضا،فوزالمقال(نوجلدیں)وغیرہ ہیں۔ (فوزالمقال، 3/874)
(53) ماہنامہ معارف
رضا کراچی،جولائی 2013ء،ص58،تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت ،186۔
(54)عالمی مبلغِ اسلام علّامہ محمد ابراہیم خَوشْتر صِدّیقی
رضوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت1348ھ/1930ء کو بنڈیل (ضلع چوبیس پرگنہ،مغربی
بنگال) ہند میں ہوئی۔آپ حافظ قرآن، تَلمیذِ محدّثِ اعظم
پاکستان، خلیفۂ حجۃُ الاسلام و قُطبِ مدینہ، مُصنّف و شاعر، بہترین
مدرّس، باعمل مبلغ، بانی سنّی رضوی سوسائٹی انٹرنیشنل اور امام و خطیب جامع مسجد پورٹ لوئس ماریشس تھے۔تصانیف
میں ”تذکِرَۂ جمِیل“ اہم ہے۔5جُمادَی الاُخریٰ
1423ھ/24،اگست2002ء کو ماریشس میں وِصال فرمایا، مَزارمُبارک سنّی رضوی جا مع مسجد عیدگاہ
پورٹ لوئس ماریشس میں ہے۔(ماہنامہ اعلیٰ حضرت بریلی شریف، رجب 1435ہجری،ص 56،57،مفتیِ اعظم اور ان کے خلفاء، ص 125تا 129)
(55)ذکرجمیل،278۔
(56)ذکرجمیل،238۔
(57) قُطْبِ مدینہ،شیخُ العَرَبِ والعَجَم، حضرت
مولانا ضیاء الدین احمدقادری مدنیرحمۃ
اللہ علیہکی ولادت1294ھ / 1877ء کلاس والاضلع سیالکوٹ میں ہوئی
اوروصال 4
ذوالحجہ 1401ھ/2 اکتوبر 1981ءکو مدینہ منورہ میں
ہوا۔ تدفین جنت البقیع میں کی گئی ۔آپ عالم ِباعمل ،ولیِ کامل ، حسنِ اخلاق کے
پیکراوردنیا بھرکے علماومشائخ کے مرجع تھے ۔آپ نے تقریبا75سال مدینۂِ منوّرہ میں
قیام کرنے کی سعادت حاصل کی، اپنے مکان ِعالی شان پرروزانہ محفل میلادکا
انعقادفرماتے تھے۔امیراہل سنت علامہ محمدالیاس عطارقادری صاحب آپ کے مریدہیں ۔ (سیدی قطب مدینہ،17،11،8،7)
(58)شہزادۂِ اعلیٰ حضرت، مفتیِ اعظم
ہند، حضرت علّامہ مولانا مفتی محمدمصطفےٰ رضا خان نوری رضوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 22ذوالحجہ 1310ھ مطابق 7جولائی 1893ء کورضا نگر محلّہ سوداگران بریلی (یوپی،ہند)
میں ہوئی۔ آپ فاضل دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف، جملہ علوم و فنون کے ماہر، جید
عالِم، مصنفِ کتب، مفتی و شاعرِ اسلام، شہرۂ آفاق شیخِ طریقت، مرجعِ علما و مشائخ و عوامِ اہلِ سنّت تھے۔ 35سے زائد تصانیف و تالیفات میں سامانِ بخشش اور المکرمۃ النبویۃ فی الفتاوی المصطفویۃ المعروف فتاویٰ مفتی اعظم
(یہ چھ جلدوں پرمشتمل ہے اس میں پانچ سوفتاویٰ اور22 رسائل ہیں )مشہور ہیں۔ 14 محرّمُ الحرام
1402ھ /13نومبر1981ءمیں وصال فرمایا اور بریلی شریف میں
والدِ گرامی امام احمد رضا خان رحمۃ
اللہ علیہ کے پہلو میں
دفن ہوئے۔(جہانِ مفتی اعظم، ص64تا130)
(59)مکاشفۃ القلوب
اردو،بزم تقدس کراچی، 688۔
(60)حیات
مفتی تقدس علی خان ،6۔
(61)تذکرہ اراکین ادارہ تحقیقات امام
احمدرضا ،113۔
(62)حضرت
مولاناحکیم مفتی قاری محبوب رضا خان رضوی صاحب،کی پیدائش20محرم1335ھ/ 16نومبر1916ءکو بریلی شریف
میں ہوئی اوروصال کراچی میں 2جمادی الاخریٰ 1412ھ/9دسمبر1991ءکو ہوا،عالیشان
مزارمیوہ شاہ قبرستان میں ہے ،آپ فاضل دارالعلوم منظراسلام،شاگردصدرالشریعہ،حازق
طبیب،بانی مدرسہ حنفیہ رضویہ کراچی،مدرس ومفتی دارلعلوم امجدیہ کراچی،مبلغ
اسلام،خلیفہ مفتی اعظم ہند،مفتی امام وخطیب جامع مسجدمصلح الدین گارڈن اورصاحب
تصنیف تھے۔(انوارعلمائےاہل سنت سندھ، 887 تا 889)
(63)حیات مفتی تقدس علی خان ،14۔
(64)شرفِ ملت حضرت علّامہ محمد عبد الحکیم شرف قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت23شعبان 1363ھ 13/ اگست 1944ء مزار پور (ضلع ہوشیار پور پنچاب) ہند میں ہوئی۔ آپ استاذالعلماء، شیخ الحدیث و التفسیر جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ، مصنف و مترجم کتب، پیرِ طریقت اور اکابرینِ اہلِ سنّت سے تھے۔ 18شعبان 1428ھ/یکم ستمبر2007ء کو وصال فرمایا، مزار مبارک جوڈیشنل کالونی لالہ زار فیز-2 لاہور پاکستان میں ہے۔آپ کاترجمہ قرآن
’’انوارالفرقان فی ترجمۃ معانی القرآن ‘‘یادگارہے۔راقم کوکئی مرتبہ آپ کی بارگاہ
میں حاضری کاشرف حاصل ہوا۔(شرفِ ملت نمبر لاہور، ص 126)
(65)عظمتوں کے پاسباں،384،385۔
(66)ماہنامہ معارف رضا کراچی،جولائی 2013ء،ص،50،52،57۔
(67)مفتی اعظم اورانکے خلفاء،269۔
(68)مکاشفۃ القلوب
اردو،بزم تقدس کراچی، 18۔
(69)حیات مفتی تقدس علی خان ،8۔
(70)شرح تہذیب ،علامہ امام سعدالدین
مسعودبن عمرتفتازانی رحمۃ اللہ علیہ(پیدائش:صفر712ھ،وفات:792ھ) کی علم منطق کی کتاب ’’تہذیب المنطق والکلام ‘‘کی شرح ہے ،جسے درسِ نظامی کے
تیسرےسال(درجہ ثالثہ )میں پڑھایا جاتاہے ، شارح کانام علامہ عبداللہ بن حسین یزدی اصفہانی ہے ،شارح کا انتقال 1015ھ میں ہوا۔(شرح
التہذیب،ص8تا10) دعوتِ اسلامی
کےادارۂ تصنیف وتالیف
المدینۃ العلمیہ(اسلامک ریسرچ سینٹر)کےرکن ،استاذالعلماء علامہ کامران احمد عطاری
مدنی صاحب نےشرح تہذیب کا عربی حاشیہ
بنام فرح التقریب تحریرفرمایا ہے جسے
مکتبۃ المدینہ نے بہت خوبصورت اندازمیں شائع کیا ہے ۔
(71)مکاشفۃ القلوب
اردو،بزم تقدس کراچی، 19۔
(72)دارالعلوم منظراسلام بریلی شریف کے پہلے مہتمم شہنشاہ سخن حضرت مولانا حسن رضا
خان(دورِ نظامت ،1322ھ تا1326ھ) دوسرے مہتمم حجۃ الاسلام مولانا
حامدرضا خان (دورِنظامت :1326ھ تا1362ھ)تھے۔ (صدسالہ
منظراسلام نمبرماہنامہ اعلیٰ حضرت بریلی،ماہ مئی 2001ء،قسط 1ص 132تا135) ۔
(73)مفتی اعظم اورانکے خلفاء،269۔
(74)ایک کتاب میں
آپ کے ہجرت کا سال1368ھ/ 1948ء لکھا ہے مگرآپ
کے حالات زندگی اس کی تائیدنہیں کرتے ۔
(75)مفتی
عبدالواجدنیّرقادری صاحب کی پیدائش 5ذیقعدہ1352 ھ/ 19فروری 1934ء میں اپنے
نانیہالی گاؤں ’’دوگھرا جالے‘‘ ضلع در بھنگہ
بہار ہندمیں ہوئی اور13ذیعدہ1439ھ/26
جولائی 2018کو ایمسٹرڈیم ہالینڈ یورپ میں وصال فرمایا۔آپ شہزادگان اعلیٰ حضرت حجۃ
الاسلام اورمفتی اعظم ہندکے تلمیذومریدوخلیفہ،جیدمفتی اسلام،صاحب
ِدیوان شاعر،بہترین مدرس ومقرر،پچاس سے زائدکتب کے مصنف،16
مساجد،مدارس اوراداروں کے بانی یا سرپرست،ہالینڈکے قاضی القضاۃ اور مفتیٔ
اعظم تھے ۔آپ کی کتاب فتاویٰ یورپ کو بہت
شہرت حاصل ہوئی۔
(76)صدسالہ منظراسلام نمبرماہنامہ اعلیٰ حضرت بریلی،ماہ مئی 2001ء،قسط 1ص تا135۔
(77) محدثِ اعظم پاکستان حضرت علّامہ مولانا
محمد سردار احمد قادری چشتی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1323ھ/1906ء
میں ضلع گورداسپور (موضع دیال گڑھ مشرقی پنجاب) ہند میں ہوئی اور یکم شعبان 1382ھ/28دسمبر1962ء کو وصال فرمایا،آپ کا مزار مبارک فیصل آباد پنجاب،پاکستان میں ہے۔آپ استاذالعلماء،
محدثِ جلیل، شیخِ طریقت، بانیِ سنّی رضوی جامع مسجد و جامعہ رضویہ مظہرِ اسلام
سردارآباد اور اکابرینِ اہلِ سنّت میں سے تھے۔(حیاتِ محدثِ اعظم، ص334،27)
(78)ان کا ذکرہوچکا ۔
(79)
بلبل ہندمفتی رجب علی نانپاری قادری کی ولادت13جمادی
الاولیٰ 1341ھ/ یکم
جنوری1923ء کو ضلع بہرائچ کے قصبہ نانپارہ میں اور وفات 3ذوالحجہ
1418ھ/یکم اپریل 1998ء کو کانپورمیں ہوئی،آپ کو مدرسہ عزیز
العلوم نانپارہ کے قریب دفن کیاگیا ،جس پرمزاربنایاگیاہے۔آپ فاضل دارالعلوم
منظراسلام ،بانی مدرسہ عزیزالعلوم نانپارہ،صاحبِ دیوان صوفی شاعر،بہترین واعظ
،مریدبدرالطریقہ علامہ علامہ عبدالعزیزخاں ،خلیفہ مفتی اعظم ہنداورشیخ طریقت
تھے،ریاض عقیدت آپ کا شعری مجموعہ مطبوع ہے۔
(80)مفتی
اعظم راجستھان الشاہ مفتی محمد اشفاق حسین نعیمی کی ولادت18ربیع الاخر1340ھ/ 19دسمبر
1921ءکوموضع شیونولی (ضلع امروہہ،یوپی)ہند
میں ہوئی اور9ذی
الحجہ 1434ھ/15اکتوبر 2013 ء کو وصال
فرمایا،مزارمبارک چوکھا شریف (ضلع جودھپور راجستھان)ہندمیں ہے۔آپ فاضل مدرسہ اجمل العلوم سنبھل(نزد مرادآباد،یوپی)،مریدوخلیفہ
اجمل العلما، صدرالمدرسین دارالعلوم اسحاقیہ جودھپوراورراجستھان کی کئی
مساجدومدارس نیزاداروں کےبانی یا سرپرست تھے،آپ کو مفتی اعظم ہند اورقطب مدینہ سے
بھی خلافت حاصل تھی ۔
(81)تلمیذِ اعلیٰ حضرت،بردارِ مفتی تقدس
علی خان ،حضرت مولانا مفتی محمد اعجاز ولی خان قادری رَضَوی رحمۃ اللہ علیہ شیخ
الحدیث، استاذُ العلماء، مدرس، فقیہِ عصر، مصنّف، مترجم، واعِظ اور مجازِ طریقت
تھے۔ 11 ربیع الثانی 1332ھ/20 مارچ 1914ء میں بریلی شریف میں پیدا ہوئے اور
لاہور میں 24 شوال 1393ھ/ 20 نومبر 1973ء میں
وِصال فرمایا، مزار مبارک میانی صاحب قبرستان میں ہے۔(تذکرہ اکابرِ اہلِ سنت، ص 63-65)
(82)رئیس القلم، ملک التحریر حضرت علامہ
غلام رشید ارشد القادری مصباحی علیہ رحمۃ
اللہ الوَالی کی پیدائش 09 شعبان1343ھ / 5 مارچ 1925ء میں سید پور (ضلع بَلیا یوپی ہند) میں
ہوئی اور 15صفر
1423ھ/ 29 اپریل 2002ء کو وصال فرمایا، مزار دارالعلوم فیض العلوم جمشید پور(جھار کھنڈ، ہند) میں
ہے۔ آپ مریدِصدر الشریعہ، شاگردِ
حافظِ ملت، خلیفۂ مفتیِ اعظم ہند، استاذ العلماء،
مناظرِ اہل
سنت، مفکرِ اسلام، ملک و بیرونِ ملک کئی
تنظیمات و مدارس کے بانی، مصنفِ کتب اور اکابر علمائے
اہل سنت سے تھے۔(رئیس
القلم علامہ ارشد القادری، ص1تا36،سیرتِ صدرالشریعہ، ص251)
(83)خلیفۂ حجۃُ الاسلام،شیخُ الحدیث حضرت
علّامہ عبدالمصطفےٰ اعظمی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ 1333ھ/1915ء
میں ہند کے قصبہ گھوسی ضلع مؤ میں پیدا ہوئے اور وِصال 5رمضان
1406ھ/14مئی1986ء
کو فرمایا۔ آپ تلمیذِ صدرُالشریعہ و محدثِ اعظم پاکستان، عالمِ باعمل، بہترین واعظ
و مدرس، استاذالعلماء، مجازِ طریقت اور کثیر کُتب کے مصنف ہیں۔ سیرتِ مصطفیٰ اور
عجائبُ القرآن آپ کی مشہور کُتب ہیں۔
(جنتی زیور،ص28،30، سیرتِ صدرُالشریعہ، ص235، 233)
(84)بحرالعلوم حضرت علّامہ مفتی سیّد محمد افضل
حسین مونگیری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1337ھ/1919ء
کو بوانا (ضلع مونگیر صوبہ بہار) ہند میں ہوئی اور 21 رجب 1402ھ/15مئی1982ء
کو سکھر سندھ میں وصال فرمایا۔ آپ فاضل دار العلوم منظر اسلام بریلی شریف، استاذُالعلماء،
شیخ الحدیث، ماہرِ علم توقیت و منطق و حساب، خلیفہ مفتیِ اعظم ہند، مصنّفِ کتب اور
اکابرینِ اہلِ سنّت سے تھے۔آپ کی 40 کتب میں زبدۃ التوقیت، عمدۃ الفرائض بھی ہیں۔
(تجلیات تاج
الشریعہ، ص122، مفتیِ اعظم ہند اور ان کے خلفاء، ص193، 198)۔
(85) بلبل سندھ حضرت مولاناقاضی دوست محمد
صدیقی1336ھ/1918ء کوموضع گوٹھ ترائی (تحصیل گڑھی
یاسین،ضلع شکارپور)کے علمی صدیقی
قاضی خاندان میں ہوئی اور یکم رجب المرجب 1407ھ/2،مارچ 1987ء کو کندھ کوٹ میں وفات
پائی اوردرگاہ شریف مخدوم محمد عثمان قریشی ( لاڑکانہ ، سندھ )میں دفن کئے گئے۔ آپ
فیض یافتہ دارالعلوم منظراسلام بریلی شریف ،فارغ التحصیل جامعہ رضویہ مظہر اسلام
فیصل آباد، سلسلہ قادریہ راشدیہ میں مرید، رسالہ گلدستہ عشق کے مصنف اورمسلک اعلیٰ
حضرت کے سحرالبیان خطیب تھے ،آپ حاضر
جوابی ، فن خطابت ، خوش الحانی ، طرز بیانی ، گوہر روانی اور فصیح لسانی میں کامل
قوت و حافظہ سے مالامال تھے۔ (انوارِ
علماِ اہلسنت سندھ صفحہ 246)
(86)شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا مفتی عبدالحمیدقادری رحمۃ
اللہ علیہ کی ولادت 1319ھ /1901ءکو قصبہ آنولہ
(ضلع بریلی یوپی) ہند میں ہوئی اور وصال 2ربیعُ الآخر1393ھ/5مئی1973ء کو نواب شاہ
(سندھ) پاکستان میں ہوا، آپ حافظِ قراٰن، جید عالمِ دین، فاضل دارالعلوم منظراسلام
بریلی شریف، اچھے مقرر و مدرس اور امام و خطیب جامع مسجد نواب شاہ تھے۔(تذکرہ اکابرِ اہلِ
سنّت پاکستان، ص215)
(87)جامعہ
نظامیہ ( حیدرآباددکن،ریاست تلنگانہ،ہند) درس نظامی کا منفرد و معتبر اور
قدیم و عظیم ادارہ ہے،اس کا قیام شیخ الاسلام والمسلمین،
امام حافظ محمد انواراللہ چشتی فاروقی
صاحب نے1292ھ/
1876ء میں رکھا ،یہ اپنے قیام سے اب تک
ترقی کی منزلیں طے کررہا ہے ،تقریباتمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے
ہزاروں لوگ اس سے مستفیض ہوچکے ہیں ، جہاں سے ہزاروں علماء،حفاظ، محدثین، مفسرین، محققین، مفکرین
پیدا ہوئے اور جنہوں نے ساری دنیا میں دین اسلام کی تعلیمات کی نشر و اشاعت اور
تبلیغ دین میں اپنی زندگیاں وقف کردیں۔جامعہ کی دیگرشاخوں کی تعداد263ہے
،جامعہ اوراس کی شاخوں میں طلبہ کی تعدادتقریبا50 ہزارہے۔اس کے کئی ذیلی ادارے ہیں ،مثلا کلیۃ
البنات(گرلزکالج)،مجلس اشاعت العلوم وغیرہ۔
(88)وہ علوم جو مشرقی یعنی ایشیائی ممالک میں مروج ہیں مثلاً عربی،فارسی یا اردو وغیرہ
زبانوں میں جن ایشیائی علوم کا ذکر ہے وہ علوم شرقیہ کہلاتے ہیں ۔
(89)نظام المُلک نواب میر عثمان علی خان
صدیقی (پیدائش:6 اپریل 1886ء،وفات:24 فروری 1967ء)، حیدرآباد
دکن ریاست کے آخری
بادشاہ تھے۔نظام ایک مؤثر منتظم اور ایک رعایا پرور بادشاہ کے طور پر جانے جاتے
تھے۔ان کا دورِ حکمرانی 1911 ء تا 17ستمبر
1948ء
کوسقوطِ حیدرآباد تک 37سالوں پر محیط ہے ،ان کے زمانے میں
حیدرآبادشہرکی ازسرنوتعمیرہوئی،عثمانیہ جنرل ہاسپٹل اورعثمانیہ یونیورسٹی قائم ہوئی،
انھوں نے کئی اہم عمارتیں، جیسے، حیدرآباد ہائی کورٹ،
آصفیہ لائبریری، عثمانیہ جنرل ہاسپٹل، نظام کالج وغیرہ کی تعمیر کی، نظام کے بجٹ کا تقریبا 11
فیصد حصہ تعلیمی اداروں پر خرچ کیا جاتاتھا، انکی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے
لگایاجاسکتاہے کہ تقریبا 10 ملین افراد نے انکی نماز جنازہ میں شرکت کی۔
(90)حیات مفتی تقدس علی خان ،8۔
(91)مفسّرِقراٰن حضرت ِ علامہ سیّدمحمد عمر خلیق حسینی قادری حنبلی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1282 ھ/1865ء کو محلہ قاضی پورہ (حیدرآباددکن ) ہندمیں
علمی سادات خاندان میں ہوئی اوروصال20
صفر 1330
ھ/9فروری1912ء کو فرمایا،مزار قادری چمن،مضافاتِ محلہ فلک نما حیدرآباد دکن ہندمیں ہے۔آپ
بہترین واعظ ،مفسر ،قاری،مصنف ،شاعر،اُستاذالعُلَماء اورشیخِ طریقت تھے۔اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی وفات پر منظوم عربی قصیدہ
قلمبندفرمایا۔ (مرقع
انوار،ص929،تذکرہ
علمائے اہلسنت ص186)
(92) ان کے حالات نہ مل سکے۔
(93)بحر العلوم،مفسرِقرآن حضرت مولانامحمد عبد القدیر حسرت صدیقی کی ولادت 27رجب 1288ھ /12اکتوبر1871ء اور وفات 18شوال 1388ھ/8جنوری1969ء کو حیدرآباد دکن (تلیگانہ ،ہند)میں ہوئی ، آخری آرامگاہ ’’صدیق گلشن‘‘
بہادر پورہ میں ہے۔آپ علوم جدیدہ وقدیمہ کے ماہر،علوم کے سمندر،خوف خداکے
پیکراورمجازطریقت تھے ۔تصانیف میں تفسیرصدیقی(6جلدیں)اہل علم میں معروف ہے۔ آپ عثمانیہ یونیورسٹی میں حدیث کے
پروفیسراورشعبہ دینیات کے سربراہ تھے ،جامعہ نظامیہ کے اعزازی ناظم بھی رہے ۔
(94)مفتی
حیدرآباددکن حضرت علامہ مفتی محمدرحیم الدین صاحب کی ولادت 7ربیع الآ خر 1311ھ/18،اکتوبر1893ء
اوروفات 1389ھ مطابق 1970ء میں ہوئی،آپ فاضل جامعہ نظامیہ ،فقیہ ومحدث،استاذالعلما،مرید وخلیفہ شیخ
الاسلام علامہ انواراللہ فاروقی،رکن مجلس منتظمہ جامعہ نظامیہ ومجلس علمائے دکن ،
شیخ الجامعہ اور معتمد جامعہ اورحکومت آصفیہ کے محکمہ دینیہ ’’صدارت
العالیہ‘‘ کے مفتی تھے ۔آپ کے فتاوٰی کا
مجموعہ’’ فتاوی صدارت العالیہ ‘‘مطبوع
ہے ۔
(95)شیخُ
الاسلام حضرت علّامہ محمد انوارُاللہ فاروقی رحمۃ اللہ علیہ جیّد عالمِ دین،
سلسلۂ چِشتیہ صابریہ کے شیخِ طریقت، صاحبِ تصنیف، بانیِ جامعہ نِظامیہ حیدرآباد
دکن اور عالمی شہرت یافتہ بزرگ تھے۔ انواراحمدی،افادۃُ الافہام اورمقاصدُ الاسلام
آپ کی مشہور کُتُب ہیں،اسلامی ریاست حیدرآباد دکن میں آپ صدرُالصّدور اور وزیرِ
مذہبی اُمور کے مَنصب پر بھی فائز رہے۔ریاست کی جانب سے آپ کو نواب فضیلت
جنگ بہادرکا لقب دیا گیا ،آپ کی پیدائش 1264ھ/1848ء کوناندیڑ (مہاراشٹر) ہند میں ہوئی اور 29
جمادی الاولیٰ 1336ھ/12مارچ1918ء کو حیدرآباد دکن میں وفات پائی، مزار جامعہ نظامیہ میں مرجعِ اَنام ہے۔ (مرقعِ انوار، ص25، 27)
(96)
ماہنامہ معارف رضا کراچی،جولائی 2013ء،ص54۔
(97)مفتی ظفرعلی نعمانی صاحب(پیدائش:1330ھ/1921ء،وفات:20رمضان1424ھ/16نومبر2003ء) نے1367ھ
مطابق 1948ء
کو گاڑی کھاتہ فیروزاسٹریٹ آرام باغ کراچی کے ایک کرائے کے مکان میں دارالعلوم
امجدیہ کاآغازکیا ،جب وہ جگہ تنگ ہوگئی تو عالمگیرروڈپر جگہ حاصل کی گئی
اورپھرآہستہ آہستہ اس کی تعمیرہوتی رہی ،حتی کہ اب عالیشان عمارت بن چکی ہے،یہ کراچی
کے تمام مدارس اہل سنت کی اصل اور ماں ہے۔ اسی لیے اسے ام المدارس کے لقب سے یاد
کیا جاتا ہے۔ (انوارعلمائے
اہل سنت سندھ،295تا298)
(98)انوارعلمائے اہل سنت سندھ،146۔
(99)حیات
مفتی تقدس علی خان ،9۔
(100)مفتی
تقدس علی خان صاحب فرماتے ہیں کہ مفتی صاحبدادخان جمالی مرحوم سےمیری ملاقات
اوردوستی مرادآبادسنی کانفرنس ( یہ
کانفرنس مدرسہ اہل سنت[دارالعلوم نعیمیہ] مرادآبادکے سالانہ جلسہ کے موقعہ پر19،20شعبان1358ھ/3، 4،اکتوبر1939ء
کوہوئی،تاریخ آل انڈیا سنی کانفرنس ،58)میں ہوئی جس میں آپ سندھ سے علمائے اہل سنت
کا ایک وفدلے کرشریک ہوئے تھے۔ (
مکاشفۃ القلوب اردو،بزم تقدس کراچی، 20)
(101)سندھ مدرسۃ الاسلام یکم ستمبر
1885ء میں قائم کیا گیا،اس کے بانی حسن علی آفندی (پیدائش: 1830ء وفات: 30اگست
1895ء)ہیں ،اس میں دنیاوی تعلیم دی جاتی تھی،ابتدائی اسلامی تعلیم کاسلسلہ بھی
تھا،بانیِ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح نے بھی اس میں تعلیم حاصل کی ، 21 جون
1943ء میں اسے کالج کادرجہ دیا گیا ،قیام پاکستان سے لے کر1371ھ/
1952ءتک
مفتی صاحبدادخان صاحب اس میں بطورِشیخ الفقہ اوراستاذِ اسلامیات خدمت سرانجام دیتےرہے۔
(102)امام انقلاب
حضرت سیّدصبغۃ اللہ شاہ راشدی ثانی کی ولادت13صفر1327ھ/ 1908ءکو پیرجوگوٹھ
میں ہوئی اورآپ کو 14ربیع الاول 1362ھ/20مارچ 1943ھ کو شہید کیا
گیا ،آپ درگاہِ قادریہ راشدیہ کے چھٹے سجادہ نشین تھے۔ (انوارعلمائے
اہلسنت سندھ،1042،1049)
(103) پیرجوگوٹھ (سابق نام کنگری)پاکستان کے صوبہ سندھ کے
خیرپورمیرس شہرسےجانب
شمال مغرب 16کلومیٹرفاصلے
پرواقع ایک تاریخی قصبہ ہے، اس کے محلے،سالار،میمن،ڈینل اورہندو وغیرہ ہیں ،اس کی شہرت کی وجہ سلسلہ قادریہ
راشدیہ کے عظیم درگاہ اورجامعہ راشدیہ ہے،
جہاں قطب الاقطاب حضرت پیر سید محمد راشد روزہ دھنی کا مزارمبارک ہے۔
(104) مکاشفۃ القلوب
اردو،بزم تقدس کراچی،20۔
(105)رأس الافاضل حضرت مولانا محمدصالح
مہرقادری کی ولادت احمد فقیر مہر گوٹھ ضلع گھوٹکی میں1331ھ/1913ءکو
ہوئی اورآپ کا وصال 6ذیقعد1396ھ/30،اکتوبر1972ءکوپیرجوگوٹھ
میں ہوا،مزارمقامی قبرستان میں ہے۔آپ عالم
دین ،مجاہدحرجماعت، خوددار طبیعت کے مالک، مسجددرگاہ راشدیہ کے امام وخطیب،جامعہ
راشدیہ کے مدرس ومہتمم اورتاریخ ساز شخصیت تھے،آپ امام انقلاب حضرت سیّدصبغۃ اللہ شاہ راشدی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ
تحریک آزادی میں شریک ہوئے اورپیرجوگوٹھ کی گدی بحال کرنےمیں بھرپورکرداراداکیا۔(انوارِعلمائےاہل سنت سندھ،839تا842)
(106)انوارعلمائے
اہل سنت سندھ،839۔
(107)پیر پگارا ہفتم حضرت سیدسکندرعلی مردان شاہ ثانی چھٹ دھنی حُر قبیلہ کے روحانی پیشواتھے۔ 7
جمادی الاخری1347ھ مطابق 22نومبر 1928ء ، پیر
جو گوٹھ ضلع خیرپور میرس سندھ میں
پیدا ہوئے اور 16 صفر المظفر 1433ھ/ 10
جنوری 2012ء کو لندن کے ہسپتال میں وفات پائی۔ پیر جو گوٹھ
خیرپورسندھ میں اپنے بزرگوں کی پہلو میں مدفون ہوئے۔سندھ حکومت نے جمعرات کو ان کی
تدفین کے موقع پر عام تعطیل کا اعلان کیا،آپ
سلسلہ قادریہ راشدیہ کے ساتویں سجادہ نشین تھے ، احمد فقیر
مہر گوٹھ (گھوٹکی) کے ایک بزرگ اور حافظ امام بخش باقرانی والے نے ابتدائی اسلامی
تعلیم دی،والدصاحب کی شہادت کے بعد علی گڑھ یونیورسٹی اورپھرانگلینڈمیں دنیاوی
تعلیم پائی ،آزادی کےبعدشیخ الحدیث مفتی تقدس علی خان صاحب اتالیق مقررہوئے ،ان سے
دینی تعلیم کا سلسلہ ہوا۔
(108)انوارعلمائے اہل سنت سندھ، 369۔
(109) مکاشفۃ القلوب
اردو،بزم تقدس کراچی،20۔
(110)استاذالعلماحضرت
مولاناعبدالصمدمیتلوکی ولادت گوٹھ بڈوواہن(تحصیل ڈوکری،ضلع لاڑکانہ )میں تقریبا1336ھ/
1918ء
کو ہوئی اوروصال ۴ربیع الاول 1393ھ/اپریل 1973ء
کو سول ہسپتال لاڑکانہ میں فرمایا،آپ جیدعالم دین،صرف ونحو،فن ترکیب،فارسی
اورکتابت میں ماہرتھے۔23سال جامعہ راشدیہ میں پڑھایا،کچھ سال
دیگرمدارس میں پڑھانے کی سعادت بھی پائی،کثیرطلبہ یادگارہیں، آپ سلسلہ نقشبندیہ
میں بیعت تھے ۔(انوارعلمائے اہل سنت سندھ۔471تا473)
(111)سوانح حیات مفتی محمدصاحبدادجمالی ،ص23،غیرمطبوعہ۔
(112)حیات مفتی تقدس علی خان ،10،11۔
(113)انوارعلمائے
اہل سنت سندھ،147۔
(114)سلطان الواعظین مفتی عبد الرحیم
سکندری کی ولادت 27رمضان 1365ھ/ یکم
ستمبر 1944ء کو گوٹھ سیبانو خان شر(تعلقہ ٹھری میر واہ، ضلع
خیرپور میرس)سندھ
میں ہوئی اور11 رجب المرجب 1429ھ / 29
مارچ 2018ء لیاقت نیشنل ہسپتال کراچی میں کلمہ ٔشہادت پڑھ کر وصال
فرمایا۔آپ محرم 1377ھ/
اگست 1957 ء میں جامعہ راشدیہ پیر جو گوٹھ میں داخل ہوئےاور27 رجب 1386ھ /11نومبر 1966ء کو فارغ التحصیل ہوئے۔آپ نے یکم محرم 1387
ھ /11،اپریل
1967ء
میں مدرسہ صبغۃ الہدیٰ شاہ پورچاکر(ضلع نواب شاہ)سندھ قائم فرمایا اور چالیس سال
سے یہاں درس و تدریس، وعظ و نصیحت، تصنیف و تالیف اورفتویٰ
نویسی میں مصروف رہے،اس مدرسے کی
خدمات کی وجہ سے 2011 ء میں مدرسہ صبغۃ
الہدیٰ کا جامعہ ازہر مصر کے ساتھ الحاق ہوا۔آپ کے سندھی زبان کے بہترین واعظ بھی
تھے۔
(115)شیخ الحدیث مفتی محمد رحیم کھوسہ
سکندری قادری 4ذوالحجہ1359ھ/ 3جنوری1941ء کو گوٹھ
قادرپوربیلو تحصیل ٹھل ضلع جیکب آباد میں پیداہوئے ،آپ
نے جامعہ راشدیہ میں داخلہ لیا اور1960ھ/1379 ء میں فارغ التحصیل ہوئے،آپ جامعہ
راشدیہ کے پرنسپل وشیخ الحدیث،خطیب جامع مسجددرگاہ شریف ،چیف اڈیٹرماہنامہ
الراشد،شاہ عبدالطیف یونیورسٹی کے اعزازی رکن،صوبائی نائب ناظم تنظیم المدارس،سابق
صدرجمیعت علمائے سکندریہ اورنوکتب کے مصنف ومؤلف ہیں ،آپ نے کنزالایمان کا سندھی
میں ترجمہ بھی کیا ہے ۔
(116) حضرت مولانا محمدصالح مہرقادری صاحب کا تعارف حاشیہ 105میں ہے۔
(117)مفتی درمحمدسکندری کی ولادت1357ھ/1939ءکو گوٹھ
وروائی(نزداسلام کوٹ ضلع تھرپارکر،سندھ)میں اور وفات 12محرم 1442ھ /17 ،اپریل2001ءکوہوئی، قبرستان گوٹھ وروائی میں دفن کئے گئے ۔مفتی صاحب
انتہائی ذہین ومحنتی،عربی،فارسی اورسندھی میں ماہر،فاضل جامعہ راشدیہ،جیدعالم دین
ومفتی،مدرس ومہتمم مدرسہ صبغۃ
الا سلام سانگھڑ تھے،ملفوظات
شریف روضے دھنی کی دوسری جلد کاسندھی ترجمہ یادگارہے ۔(انوارعلمائے اہل سنت سندھ ،254،256)
(118)حضرت مولاناسیدغوث محمدشاہ جیلانی قادری کی ولادت گوٹھ
پرھیار(نزددوڑ،ضلع نوابشاہ)میں ہوئی اور9رجب1403ھ /30 اپریل 1983ءکووصال
فرمایا،تدفین قبرستان جیلانی محلہ دوڑ(ضلع نوبشاہ)میں ہوئی،آپ حسن ظاہری باطنی سے
مالامال،فاضل جامعہ راشدیہ،مریدپیرپگاراہفتم، امام وخطیب جامع مسجدفاروق اعظم
وجامع مسجدطیبہ لیاقت آبادکراچی،اہم رہنماجمیعت علماءپاکستان، صدر جمیعت
علماءسکندریہ،فعال ومتحرک سنی رہنمااورکئی خوبیوں کے جامع تھے ۔(انوارعلمائے اہل سنت سندھ ،648،650)
(119)انوارعلمائے
اہل سنت سندھ،147،6 تا9علمائے کرام کاتعارف معلوم نہ ہوسکا۔
(120)حیات مفتی تقدس علی خان ،11۔
(121)حیات
مفتی تقدس علی خان ،11۔
(122)حیات
مفتی تقدس علی خان ،11،12۔
(123)حیات
مفتی محمدصاحبدادجمالی ،111،غیرمطبوعہ۔
(124)حیات
مفتی تقدس علی خان ،15، انوارعلمائے اہل سنت سندھ،147۔
(125)حیات
مفتی تقدس علی خان ،11۔
(126)حیات مفتی تقدس علی خان ،13۔
(127) انوارعلمائے اہل سنت سندھ،149۔
(128)حیات مفتی تقدس علی خان ،13۔
(129) ڈاکٹرپروفیسرمجیداللہ
قادری صاحب کی پیدائش10شعبان1374ھ/ 3،اپریل 1955ء کو ملیرگوٹھ کے
مذہبی کانپوری گھرانے میں ہوئی،بچپن والدصاحب کے ساتھ عرب شریف میں گزارا،قطب
مدینہ علامہ ضیاء الدین احمدمدنی کی زیارت وصحبت بھی حاصل ہوئی، وطن آکرباقاعدہ
تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا،آپ شروع سے ہی محنتی اورذہن ہیں،1972ء میں ایم ایس سی
اعلیٰ نمبروں میں پاس کرکے گولڈ میڈل حاصل کیا ، یکم جنوری 1978ءمیں جامعہ کراچی
میں لیکچرارہوئے اوراس وقت شعبہ پڑولیم ٹیکنالوجی کے صدرہیں،آپ مفتی اعظم ہند کے
مرید اورسلسلہ قادریہ رضویہ حامدیہ کے شیخ طریقت ہیں ،1982ء میں ادارہ تحقیقات امام احمدرضا سےوابستگی ہوئی
عرصہ درازتک اس کے جنرل سیکریٹری رہے ،ابھی ادارے کے صدرہیں ،آپ کئی کتب کے
مصنف ہیں ،اللہ پاک آپ کا سایہ عوام اہلسنت پرطویل فرمائے۔ (تذکرہ اراکین
ادارہ تحقیقات امام احمدرضا ،72تا74)
(130)حاجی شفیع محمدقادری حامدی صاحب کی ولادت17ذوالحجہ1344ھ/ 28جون 1926ء کو
چتوڑگڑھ(راجستھان)ہند میں ہوئی،6رجب1376ھ/6فروری 1957ء کو حجۃ الاسلام علامہ حامدرضا خان صاحب سےبیعت کاشرف
پایا،ابتدائی تعلیم کے بعد تجارت میں مصروف ہوگئے،آپ والدین کے ہمراہ 1949ء میں پاکستان تشریف لےآئے،یہاں آپ نے المکتبۃ کے نام سےایک
اشاعتی ادارہ بنایا جس سے تقریباسوکتب شائع کروائیں ،آپ ادارہ تحقیقات امام
احمدرضا کے بانیان اورمالی طورمعاونت کرنے والوں سے تھے ،کافی عرصہ نائب صدربھی رہے،آپ ادارہ میں ریڑھ
کی ہڈی کی مانندتھے،آپ کو مفتی تقدس علی خان صاحب نے1407ھ /1987ء کے حج میں سلسلہ
قادریہ رضویہ حامدیہ کی خلافت عطافرمائی،(شفیع صاحب نے1993 ء میں
پروفیسرمجیداللہ قادری صاحب کو اس سلسلے کی خلافت عطافرمائی)آپ مفتی صاحب کو ہرسال عرس حامدیہ کے موقع پر گھربلاتےاوربااہتمام عرس حامدی
مناتےتھے،آپ کو کراچی میں میزبان ِ خاندان اعلیٰ حضرت کاشرف حاصل رہتاتھا،آپ نے مسلک اعلیٰ حضرت کے
مطابق زندگی گزارکویکم ذیقعد1425ھ /12جنوری 2005ءکووصال فرمایا،علامہ شاہ تراب الحق قادری قبلہ نے
نمازجنازہ پرھائی،فردوس کالونی میں اپنےمرشدزادے، صاحبزادۂ حجۃ الاسلام
مولاناحمادرضا نعمانی میاں کے سرہانےکی
جانب دفن کئے گئے۔میرے
اس مضمون کا اہم ماخذ’’حیات ِ مفتی تقدس علی خان صاحب‘‘(ناشر:تحریک اتحاداہل سنت
پاکستان)غالبا انہیں کی تحریرکردہ کتاب ہے۔(تذکرہ اراکین ادارہ تحقیقات امام
احمدرضا ،158تا162) (131)تذکرہ اراکین ادارہ تحقیقات امام احمدرضا ،40،41 ۔
(132)ماہر
رضویات حضرت علامہ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد مجددی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت یکم جمادی الاخریٰ 1349ھ مطابق 24،اکتوبر1930ء کو دہلی ہندمیں ہوئی اور23ربیع الاخر1429ھ /29،اپریل 2008ء کو کراچی میں وصال فرمایا ،تدفین
احاطہ ِ خانوادۂ مجددیہ ماڈل کالونی قبرستان،ملیرکراچی میں ہوئی ۔آپ عالم
دین،سلسلہ نقشبندیہ مظہریہ کے مرشدکریم،جدیدوقدیم علوم سے مالامال،عالم باعمل
،مصنف کتب کثیرہ اوراکابرین اہلسنت سے تھے،اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ
علیہ کی خدمات پر آپ کی 40سے
زائدکتب ورسائل اورمقالات یادگارہیں ،امام ربانی حضرت مجددالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کےحالات وخدمات اورمقامات
پر مشتمل مقالات کاعظیم انسائیکلوپیڈیا’’جہان
امام ربانی‘‘ (12جلدیں)آپ
کی زیرسرپرستی شائع ہوا۔ آپ نہایت ملنسار،
اعلی اخلاق کے مالک اور محبت و شفقت فرمانے والے بزرگ
تھے۔(پروفیسرڈاکٹرمحمدمسعوداحمد حیات ،علمی اورادبی خدمات،77تا108)راقم زمانہ ٔطالب علمی میں آپ کی خدمت میں
حاضرا،بہت شفقت اورحوصلہ افزائی فرمائی نیزدعاؤں سے نوازا۔
(133)مَلِکُ العُلَماء حضرت مولانا مفتی سیّدمحمد ظفَرُ الدّین
رضوی محدِّث بِہاری رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ عالمِ باعمل، مناظرِ
اہلِ سنّت مفتیِ اسلام، ماہرِ علمِ توقیت،
استاذُ العلما ءاور صاحبِ تصانیف ہیں، حیاتِ اعلیٰ حضرت اور صَحِیْحُ
الْبِہَارِی کی تالیف آپ کا تاریخی کارنامہ ہے،14 محرم 1303ھ/23 اکتوبر 1885 ء میں پیدا ہوئے اور 19 جُمادی
الاُخریٰ 1382ھ/17نومبر962 1ءمیں وصال فرمایا،
قبرستان شاہ گنج پٹنہ (بہار) ہند میں دفن کئے گئے۔(حیاتِ ملک العلما،ص
9،16،20،34 )
(134)المجمل المعدد
لتالیفات المجدد ،ملک
العلماء علامہ ظفرالدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ کی تالیف ہے، آپ نے اعلیٰ حضرت کی
وفات سے13سال پہلے 1327ھ/1909ء
کومرتب فرمایا ،اس کتاب میں اعلیٰ حضرت کی ساڑھے تین سوتصانیف کاذکرہے ،اس کا
پہلاایڈیشن مطبع حنفیہ پٹنہ سے اسی سال شائع ہوا،اسی کے دوایڈیشن مرکزی مجلس رضا
لاہورنےبھی شائع کئے ۔ 1363ھ/1944ء
میں ملک العلما نےبریلی شریف میں رہ کرتین ماہ کام کیا اورالمجمل المعددمیں ترمیم
واضافہ کیا اوراعلی حضرت کی 760تصانیف کا ذکرکیا مگریہ ایڈیشن شائع نہ
ہوسکا ۔
(135) انوارعلمائے اہل سنت سندھ،149۔
(136) المحجتہ
المؤتمنہ اعلیٰ حضرت کی تاریخی تصنیف ہے،اس کا مکمل نام المجحتہ المؤتمنہ فی آیتہ الممتحنتہ ہے جو فتاویٰ رضویہ کی جلد14پرصفحہ 419تا544میں موجودہے
،یہ دوفتاویٰ پر مشتمل ہے ،اس میں غیرمسلموں سے موالات وترک موالات ،معاملات
وترک معاملات وغیرہ پرمدلل تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔یہ تصنیف صفر1339ھ/اکتوبر 1920ء میں اُس وقت
لکھی گئی ،جب بعض مسلمانوں نے ہندوؤں اوربرطانوی حکومت کےساتھ تعلقات کے سلسلے
میں توازن کھودیا تھا،وہ ایک طرف برطانوی
حکومت سے پورے طورپررشتۂ تعلقات منقطع کرناچاہتے تھے اوردوسروں طرف ہندوؤں کےساتھ
قریبی تعلقات قائم کرنےکے خواہاں تھے ۔(فاضل بریلوی اورترک موالات،ص59،عقیدت پر مبنی
اسلام اورسیاست،316)
(137)اس کا مکمل نام
’’ الجراز الدیانی علی المرتد القادیانی‘‘ ہے یہ فتاوی رضویہ کی جلد15پرصفحہ611تا628 میں ہے ،یہ
اعلیٰ حضرت نےاپنی وفات کےتقریباڈیڑھ
مہینہ پہلے تحریرفرمایا ،سوال کی تاریخ 3محرم الحرام 1340ھ درج ہے ۔
(138)عظمتوں
کے پاسباں، 385۔
(139) حیات
مفتی تقدس علی خاں ،21۔
(140)حیات
مفتی تقدس علی خان ،14۔
(141)شیخ الحدیث حضرت علامہ محمدصدیق ہزاروی
سعیدی صاحب کی ولادت29شوال1366ھ/
15ستمبر1947ء کوموضع چہڑھ (نزدچٹہ بٹہ،ضلع
مانسہرہ،ہزارہ،K.P.K)میں ہوئی، آپ
فاضل جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور،مریدغزالی دوراں علامہ کاظمی ،سابق مدرس (1975ء تا2007) جامعہ نظامیہ رضویہ، موجودمدرس جامعہ
ہجویریہ لاہور،1970ء سےخطیب جامع
مسجدخراسیاں،سابقہ ممبراسلامی نطریاتی کونسل ،مصنف ومترجم کتب کثیرہ
اوراستاذالعلماہیں ،حال ہی میں ان کا فتاوی قاضی خان(5 جلدیں )مکتبہ
اعلیٰ حضرت لاہورنے شانداراندازمیں شائع کیاہے ۔( فتاوی قاضی
خان،1/57،58)
(142)انوارعلمائے اہل سنت سندھ،147۔
(143)تذکرہ اراکین
ادارہ تحقیقات ِ امام احمدرضا ،120۔
(144)مجلہ امام احمدرضاکانفرنس1988ء،ص64۔
(145)محقق
ومصنف سید محمد عبداللہ قادری کا تعلق منڈی بہاؤالدین (چک 15شمالی،ڈاکخانہ چک5)کے ایک علمی گھرانے سے ہے عرصہ درازبسلسلہ
ٔملازمت واہ کینٹ(ضلع راولپنڈی) میں رہے
۔
(146)جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور لوہاری گیٹ کے اندرونی حصے میں ایک دینی
درس گاہ ہے۔ اس کا افتتاح شوال المکرم
1376ھ /مئی 1956 ء کو محدث اعظم پاکستان علامہ محمدسرداراحمدچشتی قادری صاحب نے قدیم تاریخی مسجد خراسیاں اندرون لوہاری دروازہ
میں فرمایا، ان کے شاگرد استاذالعلماء شیخ الحدیث علامہ
غلام رسول رضوی نے1381ھ/ 1962 ء تک اس کی
نگرانی اور آبیاری کی۔اس کے بعدعلامہ غلام رسول رضوی صاحب نے اسے اپنے ذہین اور محنتی تلمیذ استاذ العلماء حضرت علامہ
مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی صاحب کے سپردکیا ۔آپ نے 2003 ء تک نہ صرف اس ادارے کو
ترقی و عروج کی منازل سے آشنا کیا بلکہ جامعہ نظامیہ رضویہ شیخوپورہ کی فلک بوس
عمارتوں کی صورت میں امت مسلمہ کو مژدہ جانفرا بھی سنایا۔ جامعہ نظامیہ رضویہ
شیخوپورہ تین کنال سے زیادہ جگہ پرمشتمل ہے اس میں 115کمر ے،5ہال،لائبریری وغیرہ
تعمیرہوچکے ہیں ،حفظ وتجویداوردرسِ نظامی
کے تقریبا 12سوسے زائدطلبہ
مصروف تعلیم ہیں ۔
(147) مکتبہ قادریہ لاہورایک اشاعتی ادارہ ہے اس کے بانی شرف ملت
شیخ الحدیث علامہ محمدعبدالحکیم شرف قادری رحمۃ اللہ علیہ ہیں، اب ان کےبیٹے حافظ قاری
نثاراحمدقادری صاحب اس کے مہتمم ہیں ،پہلے یہ جامعہ نظامیہ رضویہ اندرون لوہاری
گیٹ میں شرف ملت کے کمرے میں تھا ،پھرداتادربارمارکیٹ میں منتقل ہوگیا
،راقم کو دونوں جگہوں میں شرف ملت کی
زیارت کے لیے حاضرہونے کا شرف حاصل ہے ۔
(148) ماہنامہ معارف
رضا کراچی،مارچ 2012ء،ص46۔
(149)مکاشفۃ القلوب تصوف پر مشتمل کتاب ہے
جو امام غزالی کی کتاب المکاشفۃ الکبریٰ کا اختصارہے مزید چندکتابوں مثلا منیۃ المصلی، زہرالریاض وغیرہ سے مواد بھی
شامل کیا گیا ہے ،یہ پندونصائح،ترغیب وترہیب کے حوالے سے پُراثرکتاب ہے ،(پیش لفظ
مکاشفۃ القلوب،18،مطبوعہ
مکتبۃالمدینہ)راقم کا تجربہ ہے کہ اگرکوئی اس کا بالاستیعاب مطالعہ کرے تو اس کا
دل نرم،مذموم دنیا کی محبت سے بیزاراوراشک بارہوجائے گا،ان شاء اللہ ۔
(150)آل
انڈیا سنی کانفرنس،قیام پاکستان سے پہلے اہل
سنت وجماعت
کی ایک سیاسی
جماعت تھی
جس کے زیرِ اہتمام کئی اجتماعات منعقد کیے گئے۔20تا23شعبان1343ھ/ 16 تا 19 مارچ 1925کو مراد آباد میں
پہلی آل انڈیا سنی کانفرنس کا انعقاد کیا گیااور آل انڈیا مسلم لیگ
کے مطالبۂ پاکستان کی مکمل حمایت کی گئی۔ قیامِ پاکستان کے بعد اس پارٹی کا نام جمعیت علمائے پاکستان رکھ
دیا گیا ۔(مزیددیکھئے علامہ جلال الدین قادردی صاحب کی کتاب ’’تاریخ آل انڈیا سنی
کانفرنس 1925ءتا 1947ء‘‘)
(151) سیِّدُ السادات
حضرت مولانا پیر سیِّد فتح علی شاہ نقوی
قادِری رحمۃ اللہ علیہ ، عالِمِ دین، واعِظ،
شاعِر اور صاحِبِ تصنیف تھے، 1296ھ/1879 ءمیں پیدا ہوئے اور 9رجب 1378ھ/19جنوری1959 ء کو وِصال فرمایا،
آپ کا مزار جامِع مسجد سیِّد فتح علی شاہ سے متصل محلّہ کھراسیاں جیرامپور ،کھروٹہ
سیداں( ضلع سیالکوٹ، پنجاب) میں ہے۔(تذکرہ اکابرینِ اَہْلِ سنّت، ص 367 )
(152)انوارعلمائے اہل سنت سندھ،148،تاریخ آل
انڈیاسنی کانفرنس،58۔
(153)تاریخ آل انڈیا سنی کانفرنس ،225۔
(154)تاریخ آل انڈیا سنی کانفرنس ،208،282۔
(155) مفسر قرآن ، محقق اہلسنت علامہ محمد جلال الدین قادری موضع چوہدو(تحصیل
کھاریاں ،ضلع گجرات) میں یکم جمادی الاخریٰ 1357ھ/ 29 جولائی 1938ء کو پیدا ہوئےاور2محرم
الحرام 1429/بمطابق 12جنوری 2008 ء کو وصال فرمایا،مزار جامعہ اسلامیہ کھاریاں
(ضلع گجرات )کے پہلومیں ہے ،آپ عالم باعمل، تلمیذومرید محدث اعظم پاکستان،خلیفہ
مفتی اعظم ہند،مؤرخ اورمحقق اہلسنت، مفسرقرآن اوربانی جامعہ اسلامیہ کھاریاں ہیں ،14تصانیف میں اہم
ترین تفسیراحکام القرآن ہے جو سات جلدوں پرمشتمل ہے۔(ماہنامہ احکام
القرآن،کھاریاں، صفر1429ھ،ص13،26)
(156)ہفت روزہ
’’دبدبہ سکندری‘‘ 1283 ھ /1866ء میں جاری ہوااور 1364ھ/1945ء تک کامیابی
کے ساتھ قریب ایک صدی جاری رہا ۔ اس نے حمایتِ
دین کی غرض سے مخلصانہ خدمت انجام دی، جماعت رضائے مصطفی کی روداد اور ارکان کی داعیانہ
سرگرمیوں کی پل پل کی رپورٹ دبدبۂ سکندری میں شائع ہوتی تھی اس کے مدیر دوستِ اعلیٰ
حضرت مولانا شاہ محمد فاروق حسن خاں صابرؔی صاحب اورنائب مدیران کے بیٹے مولانافضل
حسن خاں صاحب تھے۔
(157)تاریخ آل انڈیا سنی کانفرنس ،407۔
(158)حیات مفتی تقدس علی خان ،9۔
(159)ماہنامہ ضیائے حرم ، لاہور ، اگست 1997ء ص 67،68۔
(160)مفتی
اعظم اوران کے خلفا،270۔
(161) ماہنامہ معارف رضا کراچی،جولائی 2013ء،ص57۔
(162)حیات مفتی تقدس علی خان ،15،16،مفتی اعظم اوران کے خلفا،271،ذکرجمیل،9۔
(163)صاحبزادۂ
قطب مدینہ، حضرت مولانا حافظ فضل الرحمن قادری مدنی صاحب کی ولادت ربیع الاخر 1344ھ/دسمبر1925ء کو محلہ باب السلام زقاق الزرندی مدینہ منورہ میں ہوئی اور 27شوال 1423ھ/30دسمبر2002ھ کو وصال فرمایا۔ تدفین جنۃ البقیع میں ہوئی۔ آپ عالمِ
دین، بہترین حافظ وقاری، شیخ طریقت اورجانشین قطب مدینہ تھے۔ امیر اہل سنت علامہ محمدالیاس عطارقادری صاحب کو آپ سے سلاسل کثیرہ کی خلافت حاصل ہے۔(سیدی ضیا ء
الدین احمد القادری، 2/406تا 417،انوارِ قطبِ مدینہ، ص 576، تعارف امیر اہل
سنت،ص73)
(164)دربارغوث الاعظم حضرت شیخ سیدعبدالقادر
جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے جوبھی سجادہ نشین ہیں انھیں نقیب الاشراف
کہاجاتاہے ۔
(165)حیات مفتی تقدس علی خان ،18۔
(166)نقیب
الاشراف شیخ سید یوسف بن عبداللہ جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت یکم محرم1325ھ/
14فروری1907ء
میں ہوئی اور18ربیع الاخر1417ھ/2 ستمبر 1996 کو بغداد شریف
عراق میں وصال فرمایا ۔خانقاہِ قادریہ کے دوسرے حجرہ میں آپ کودفن کیاگیا،آپ بلند
قامت اورخوبصورت و دلکش شخصیت کے مالک تھے۔دینی
ودنیوی دونوں علوم کےجامع اوروزارت خارجہ
عراق کے اہم رکن تھے1371ھ/ 1952ء میں آپ خانقاہِ قادریہ کے نقیب اور متولی مقرر ہوئے،قادریہ
لائبریری کو وسعت دی اورکتب کی تعداد65ہزارتک لے گئے، حضرت نقیب الاشراف نے اپنی حیات مبارکہ کے 44 سال خانقاہ عالیہ اور مسجد قادریہ کی تعمیر و ترقی نیز سلسلۂ
عالیہ کی ترویج و اشاعت میں صَرف فرمائے۔(نوائے وقت،30،اگست
، 2019)،
حیات مفتی تقدس علی خان، صفحہ 20پر
نقیب الاشراف کا نام سیدابراہیم بن عبداللہ لکھا گیا ہے جبکہ درست سیدیوسف بن
عبداللہ ہے ۔
(167)حیات مفتی تقدس علی خان ،20۔
(168)بانی ادارہ مولاناسید ریاست علی قادری
صاحب کی پیدائش22صفر1351ھ/27جون 1932ء کو محلہ شاہ آباد بریلی
شریف کے
علمی خانوادے میں ہوئی اور3جنوری 1992ء/18رجب
1412ھ
میں اسلام آباد میں وفات پائی،آپ اہل سنت کے متحرک رہنما،کئی کتب کے مصنف، اردو،
فارسی، عربی ، انگلش، جرمنی وغیرہ زبانوں کے ماہر، محکمہ ٹیلی فون پاکستان کے
آفیسر،مسجد الحسین اسلام آباد کے خطیب،مرید مفتی اعظم ہند اورعظیم الشان ادارے
تحقیقات امام احمد رضاکے بانی وصدرتھے،آپ نے اسے ادارے کے ذریعے کتب کی اشاعت اورامام احمدکانفرنس کاآغازفرمایا،آپ کی خدمات
قابل تحسین ہیں ۔ مفتی تقدس علی خان صاحب نے آپ کو 10 صفر 1408ھ مطابق28فروری 1988ءکو خلافت عطافرمائی۔ ( انوار علمائے
اہل سنت سندھ،ص269،تذکرہ اراکین ادارہ تحقیقات امام احمدرضا ،57)
(169)تذکرہ اراکین
ادارہ تحقیقات ِ امام احمدرضا ،8،115،116۔
(170)حکیم
اہل سنت حکیم محمدموسیٰ امرتسری کی ولادت 28 صفر 1346ھ/27 اگست 1927ءامرتسرمشرقی پنجاب ہند میں ہوئی اور 8
شعبان 1420ھ/17 نومبر 1999ءکووفات
پائی، مقابر چشتیاں، قبرستان نتھے شاہ، جواردربار میاں میر قادری(لاہورکینٹ) میں
مدفون ہیں،آپ طبیب حازق،دینی ودنیاوی تعلیم کے جامع، صاحب تصنیف ،درد امت سے
سرشار،سلسلہ چشتیہ صابریہ میں مرید اور قطب مدینہ کے خلیفہ تھے۔آپ نے زندگی
بھرطبابت کی ،آپ کامطب 55ریلوے روڈ لاہورمیں تھا، یہ مریضوں کےلیے مقام دوااور
معرفت وعلم کے طالبوں کے لیے سرچشمہ علم
وحکمت تھا، آپ کی دس ہزارسےزائدکتب پرمشتمل شاندار لائبریری بھی اہل علم کے یہاں آنےکا سبب بنتی تھی،حکیم صاحب
مفتی تقدس علی خان صاحب کےمداح ومعترف تھے ، آپ نے 1388ھ/1968ء میں
’’مرکزی مجلس رضا‘‘ کی بنیاد رکھ دی۔(حکیم
محمدموسیٰ امرتسری،ایک ادارہ ایک تحریک،13،25،41،26 )
(171) ماہنامہ معارف
رضا کراچی،جولائی 2013ء،ص56۔
(172) مخلصاماہنامہ معارف رضا کراچی،مارچ 2012ء،ص45۔
(173)صاحبزادۂ تاج
العلماء حضرت مولانا محمداطہرعلی نعیمی صاحب کی ولادت 27شعبان 1345ھ/2مارچ
1927ءکو مرادآباد (یوپی) ہند میں ہوئی،جامعہ نعیمیہ مرادآباد سے28رجب1366ھ/17جون1947ء
کو فارغ التحصیل ہوئے،پاکستان آکرجرنل پوسٹ آفس (GPO) میں ملازمت اختیارکرلی،1393ھ/1973 ء میں جامعہ نعیمیہ کراچی کےٹرسٹی بنے،آپ اسلامی نظریاتی کونسل کے
رکن اور رویت ہلال کمیٹی کےچیئرمین بھی رہے،آپ شیخ المشائخ سیدعلی حسین اشرفی
کچھوچھوی کے مرید،صدرالافاضل ،پیرسیدطاہرعلاؤ الدین گیلانی اورمفتی تقدس علی خان
صاحب کے خلیفہ تھے ،آپ کئی عربی کتابوں
کے مترجم ہیں ، عرصہ درازسےفی سبیل اللہ جامع مسجدآرام باغ میں خطابت بھی فرمارہے
ہیں ۔(تاج
العلمامفتی محمدعمرنعیمی حیات وخدمات،24،انٹرویوسے ماخوذ)
(174)ادیب شہیرحضرت مولانا شمس الحسن شمس صدیقی
بریلوی صاحب کی ولادت محلہ ذخیرہ
نیاشہربریلی(یوپی)ہند میں 1337ھ /1919ء کو ہوئی،آپ فاضل دارالعلوم منظراسلام بریلی
شریف،منشی وادیب کامل(الہ آبادبورڈ)، صدرمدرس
شعبہ ٔ فارسی منظراسلام، استاذاسلامیہ
کالج بریلی،اسکول ٹیچرگورنمنٹ اسکول ائیرپورٹ کراچی،اردو،فارسی اورعربی نعت
گوشاعر،کئی کتب کےمصنف ومترجم اور صدارتی ایوارڈیافتہ تھے،آپ کاوصال3ذیقعدہ1417ھ/12مارچ1997ء
کوکراچی میں ہوا۔سخی حسن قبرستان میں تدفین ہوئی۔ (تذکرہ اراکین
ِ ادارۂ تحقیقات امام احمدرضا،124تا130)
(175) مولانا
سیدریاست علی قادری صاحب کا تعارف حاشیہ نمبر168میں دیکھئے۔
(176) صاحبزادہ وجاہت رسول قادری صاحب کی پیدائش1358ھ/ 1939ء کو بنارس (یوپی،ہند)میں ہوئی،آپ
خلیفہ اعلیٰ حضرت مولاناہدایت رسول قادری لکھنوی صاحب کے پوتے ہیں ،ابتدائی تعلیم
گھر میں حاصل کرکے1365ھ/1946ء میں مدرسہ
حمیدیہ بنارس میں داخلہ لیا،ایک سال بعد والدین کےساتھ راجشاہی بنگلادیش میں ہجرت کرگئے،وہاں
ایم اے معاشیات کیا1384ھ/1964ء میں کراچی
منتقل ہوگئے ،درس نظامی کی بعض کتب اوربخاری شریف کے ابتدائی اسبا ق
استاذالعلماءعلامہ نصراللہ خان افغانی صاحب سے پڑھے ،روزگارلیےملازمت اختیارکی، آپ
ادارہ تحقیقات امام احمدرضا کےبانی اراکین سے ہیں ،1986ءمیں رکن مجلس
عاملہ منتخب ہوئے،اگلے سال نائب صدراور1992ءمیں صدربنائے
گئے،آپ مفتی اعظم ہندکےمرید اورمفتی تقدس علی خان صاحب کےخلیفہ تھے، مفتی صاحب نے آپ کو 10صفر1408ھ/28فروری 1988ءکو خلافت عطافرمائی،30جمادی الاولیٰ 1441ھ/27جنوری 2020ء کو کراچی میں فوت ہوئے،نمازجنازہ مرکز دعوت اسلامی ڈیفنس جامع مسجد فیضان
جیلان کلفٹن کےباہر علامہ سید شاہ عبد الحق قادری(امیر جما عت
اہلسنّت کراچی) نے پڑھائی۔تدفین نیوقبرستان،فیز8ڈیفنس میں کی
گئی۔ (ماہنامہ معارف رضا2020ء ،وجاہت رسول
نمبر، ص7،8)
(177) ان کا تعارف
حاشیہ نمبر۔۔۔میں دیکھئے۔
(178) مولانا
ابوالقاسم ضیائی صاحب کا تعلق کراچی سے ہے ،آپ فارغ التحصیل عالم دین ہیں ،آپ
نےکافی عرصہ قطب مدینہ علامہ ضیاءالدین احمدمدنی صاحب کی صحبت میں گزاراہے ۔
(179) مولانا محمدعباس مدنی صاحب کی معلومات نہ مل سکیں ۔
(180)حیات مفتی تقدس علی خان ،23۔
(181) مصلحِ اہلِ سنّت،حضرت
مولانا قاری مُصلح الدّین صدیقی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت11 ربیع الاول 1336ھ/27 دسمبر
1918ء کو قندھار شریف (ضلع نانڈیر، حیدر آباد دَکّن) ہند
میں ہوئی۔ 7جُمادَی الاُخریٰ1403ھ/23 مارچ 1983 ءکو وِصال
فرمایا، مَزار مُبارک مُصلح الدّین گارڈن باب المدینہ کراچی پاکستان میں ہے۔آپ عالمِ
باعمل، خوش الحان قاری، اُستاذالعلماء اور شیخِ طریقت تھے۔ (حیاتِ حافظِ ملّت،ص139تا142)
امیراہل سنت علامہ محمدالیاس عطارقادری صاحب کو انکی کثیرصحبت ورہنمائی حاصل ہوئی
،ان سے ابتدائی صرف ونحوکے اسباق بھی پڑھے۔
(182) حاجی
عبدالغفارپردیسی صاحب کراچی شہرکی
مشہورمذہبی شخصیت اوربرکاتی فاؤنڈیشن کےچیئر مین ہیں ۔
(183) حافظ
امتیازصاحب کے بارے میں معلومات نہ مل سکیں ۔
(184) مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد وقار
الدین قادری رضوی کی ولادت14صفر 1333ھ/ یکم
جنوری 1915ء کو پیلی بھیت (ہند) میں ہوئی اورکراچی
میں 20 ربیعُ الاول 1413 ھ /19 ستمبر 1993 ءکو وِصال فرمایا، آپ کا مزار دارالعلو
م امجدیہ عالمگیرروڈ کراچی میں ہے۔ آپ فاضل دارُالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف، مریدِ
حجۃُ الاسلام، خلیفۂ مفتیِ اعظم ہند، جید عالم و مدرس، مفتیِ اسلام اور شیخُ
الحدیث ہیں۔ وقارُالفتاویٰ (3 جلدیں) آپ کے فتاویٰ کا
مجموعہ ہے۔ امیرِ اہلِ سنّت علّامہ محمد الیاس عطّار قادری صاحب 22سال
تک آپ کی صحبت سے فیض یاب رہے حتی کہ مفتی صاحب نے آپ کو خلافت سے بھی نوازا۔(وقارالفتاویٰ،1/1، 38، شوقِ علم دین، ص25)
(185)حیات مفتی تقدس علی خان ،22،21۔ نماز جنازہ کی تکرار مطلقًا ناجائز
ونامشروع ہے، مگر جب کوئی ایسا شخص جسے جنازہ پڑھانے کا حق حاصل نہیں،ولی
کی اجازت کے بغیر نماز جنازہ پڑھا دے اور کسی ولی نے نماز جنازہ ادا نہ کی ہو
تو میت کا ولی دوبارہ نماز ادا کرسکتاہےکیونکہ یہ اس کا حق
ہے اور دوسرے جنازے میں فقط وہی افراد شریک ہوں گے جو پہلے
جنازے میں شریک نہ تھے۔ بہار شریعت جلد 1 صفحہ 838 میں ہے کہ ولی کے سوا کسی ایسے نے نماز
پڑھائی جو ولی پر مقدم نہ ہو اورولی نے اُسے اجازت بھی نہ دی تھی تو ا گر ولی نماز
میں شریک نہ ہوا تو نماز(جنازہ) کا اعادہ کر سکتا ہے۔
(186)تذکرہ اراکین
ادارہ تحقیقات امام احمدرضا ،113۔
(187)حیات مفتی تقدس علی خان ،22 ۔
18 ذوالحج کو خلیفہ سوم، دامادِ رسولﷺ حضرت عثمان
غنی رضی
اللہ عنہ کا یومِ شہادت ہے۔ آپ کا نام عثمان، کنیت ابو عمر
اور لقب ذوالنورین تھا۔ سلسلہ نسب پانچویں پشت میں نبی کریم ﷺ سے جا کر ملتا ہے ( عثمان بن عفان بن ابوالعاص بن امیہ بن عبد شمس
بن عبد مناف) ۔ آپ کی نانی جان’’ام حکیم البیضاء‘‘
جناب عبدالمطلب کی بیٹی تھیں جو حضورﷺ کے والد ماجد حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی سگی بہن تھیں۔ اس رشتہ کے لحاظ سے آپ کی والدہ
حضورﷺ کی پھوپھی کی بیٹی تھیں۔
پیدائش و قبولِ
اسلام: آپ کی ولادت
عام الفیل کے چھ سال بعد ہوئی۔آپ ان خوش قسمت لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے ابتداء میں
اسلام قبول کیا۔ ابن اسحاق کے قول کے مطابق آپ نے حضرت ابوبکر صدیق کی دعوت پر اسلام
قبول کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ، حضرت
علی المرتضیٰ رضی
اللہ عنہ اور حضرت زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ کے بعد مردوں میں چوتھے آپ ہیں جو مشرف بہ اسلام
ہوئے۔
نکاح:آپ سخاوت، محاسنِ اخلاق، حلم و وقار،
تقوی وطہارت اور حسنِ معاشرت میں اعلیٰ مقام پر فائز تھے۔تاریخِ انسانیت میں ایک منفرد
مقام اللہ تعالی نے حضرت
عثمان غنی کو عطا فرمایا کہ سوائے آپ کے کسی نبی کی دو بیٹیاں کسی امتی کے نکاح میں
یکے بعد دیگرے نہیں آئیں۔ غزوہ بدر کے فوراً بعد جب حضورﷺ کی پیاری صاحبزادی اور حضرت
عثمان غنی کی اہلیہ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا وصال ہو گیا تو حضرت عثمان ان کی جدائی میں
بہت غمگین رہا کرتے تھے۔ حضورﷺ نے اپنی دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح آپ
کے ساتھ کر دیا۔
خدماتِ دینیہ: آپ امت مسلمہ
کے عظیم محسن ہیں۔ ہجرت کے بعد مسلمانوں کیلئے پینے کے پانی کی سخت تکلیف تھی۔ آپ
نے ایک یہودی سے منہ مانگی قیمت ادا کر کے صاف شفاف پانی کاکنواں خرید کر مسلمانوں
کیلئے وقف کر دیا۔ اس موقع پر آپ کو زبانِ رسالتِ مآبﷺ سے جنت الفروس کی خوشخبری
ملی۔ مسجد نبوی شریف کی توسیع کیلئے پچیس ہزار درہم کی ملحقہ زمین خرید کر وقف کر دی۔
غزوہ تبوک کے موقع پر مدینہ طیبہ میں مسلمان تنگدستی کا شکار تھے۔ حضورﷺ نے صحابہ کرام
کو بڑھ چڑھ کر مالی تعاون کی تلقین فرمائی تو حضرت عثمان غنی نے تین سو اونٹ مع ساز
و سامان کے پیش کئے۔ اس موقع پر حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’آج کے بعد کوئی عمل عثمان
کو نقصان نہیں دے گا‘‘ تفسیر خازن اور تفسیر معالم التنزیل کی روایات کے مطابق آپ
نے ایک ہزار اونٹ مع ساز و سامان حضورﷺ کی خدمت میں پیش کئے۔ اسی غزوہ کے موقع پر آپ
نے ایک ہزار نقد دینار پیش کئے تو نبی کریم ﷺ نے ہاتھ اٹھا کر تین دفعہ دعا کی ’’اے
اللہ میں عثمان سے
راضی ہوں تو بھی راضی ہو جا‘‘۔ دورصدیقی میں جب قحط سالی کی صورت پیدا ہوئی تو آپ
نے ایک ہزار اونٹوں پر آنے والا غلہ محتاجوں میں تقسیم فرمادیا حالانکہ تاجر کئی گنا
زیادہ قیمت پر خریدنے کیلئے تیارتھے۔
غزوہ بدر کے موقع پر آپ کی اہلیہ حضرت رقیہ سخت
بیمار تھیں۔ ان کی تیمار داری کی وجہ سے آپ شریک نہ ہو سکے لیکن حضورﷺ نے آپ کو بدری
صحابہ میں شمار کرتے ہوئے مال غنیمت میں سے حصہ عطا فرمایا۔ اسی طرح بیعت رضوان کے
موقع پر مقام حدیبیہ میں حضورﷺ نے دوران بیعت اپنے ایک ہاتھ کو حضرت عثمان کا ہاتھ
قرار دیا۔آپ کا شمار ان دس جلیل القدر صحابہ کرام میں ہوتا ہے جنہیں نبی کریمﷺ نے
دنیا میں جنت کی بشارت دے دی تھی۔
فتوحات:
آپ نے پوری امت کو ایک قرأتِ قرآن پر جمع کیا۔ حضرت عمر کے دورِ خلافت میں شروع
ہونے والے فتوحات کے سلسلے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ آپ کے دور میں طرابلس، شام،
افریقہ، جزیرہ قبرص، جزیرہ روڈس، قسطنطنیہ، آرمینیا، خراسان، طبرستان اور کئی ایک
مزید علاقے فتح ہوئے۔ آپ نے مدینہ پاک میں نہری نظام کو مضبوط کیا۔ سیلاب سے بچاؤ
کیلئے ڈیم تعمیر کئے۔ کنویں کھدوائے۔ آپ حد درجہ شرم و حیا کرنے والے تھے۔ ترمذی اور
ابن ماجہ میں حضرت مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ آنے والے
وقت کے فتنوں کا ذکر فرمارہے تھے۔ ایک شخص سر پر کپڑا ڈالے ہوئے پاس سے گزرا تو آپ
نے اس کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ’’فتنوں کے دور میں یہ شخص راہ ہدایت پر ہوگا‘‘
حضرت مرہ فرماتے ہیں کہ میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ حضرت عثمان غنی تھے۔ حضرت مرہ
فرماتے ہیں کہ میں نے پھر پوچھا: یا رسول اللہ:کیا یہ شخص اس وقت راہ ہدایت پر ہو گا تو آپ نے
فرمایا’’ہاں یہی‘‘۔ ترمذی شریف میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ حضورﷺ نے حضرت عثمان کی طرف اشارہ
کر کے فرمایا کہ فتنوں کے دور میں اس شخص کوشہید کر دیا جائے گا‘‘حضرت عمر نے قاتلانہ
حملے میں زخمی ہو نے کے بعد اور اپنی شہادت سے پہلے خلیفہ کے انتخاب کیلئے چھ افراد
کی کمیٹی بنائی تھی۔ ان میں حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عبدالرحمان
بن عوف اورحضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم شامل تھے۔ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد تین دنوں میں گفت و شنید اور افہام
و تفہیم کے بعد حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کوخلیفہ
سوم منتخب کیا گیا۔
آپ نے تقریباًبارہ سال تک امورِ خلافت
سر انجام دیئے۔ آخری دور میں ایک یہودی النسل عبداللہ بن سبا نے کوفہ، بصرہ اور مصر کے فسادی
گروہوں کو جمع کیا اور اسلام کے خلاف ایک گہری سازش کی۔ آپ پر طرح طرح کے الزامات
کی بوچھاڑ کی گئی۔ آپ نے ہر سوال کا معقول جواب دیا۔
وصال: ذوالحج کے مہینہ
میں اکثر صحابہ کرام حج کی ادائیگی کیلئے مکہ شریف چلے گئے تھے۔ سازشیوں کو موقع مل
گیا اور آپ کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔ کئی دنوں تک آپ اور آپ کے اہل خانہ کو بھوکا
پیاسا رکھا گیا۔ ساتھیوں نے مقابلے کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا کہ’’میں اپنے نبی
کے شہر مدینے کو خون سے رنگین نہیں کرنا چاہتا‘‘ آپ نے تمام مصائب و آلام کے باوجود
حضورﷺ کی وصیت کے مطابق خلعت خلافت نہیں اتاری۔ اس طرح بروز جمعۃ المبارک بمطابق
18 ذو الحج 35 ہجری میں قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے انتہائی درد ناک انداز میں آپ کو
شہید کر دیا گیا۔ آپ کی قبر مبارک مسجد نبوی شریف کے پاس جنت البقیع میں ہے۔
اللہ پاک ان کی قبر
پر کروڑ کروڑ رحمتیں نازل فرمائے ۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
بریل لینگویج کا موجدکون؟
از:محمد گل فراز مدنی (اسلامک ریسرچ سینٹر دعوتِ اسلامی)
ایک زمانے تک تحریر کو پڑھنا صرف آنکھ والوں کا ہی کام
تھااور نابینا افراد کےلئے کوئی ایسا طرز تحریر نہ تھا جس کی بدولت وہ تحریر کو
پڑھ سکیں۔پھروہ وقت آیا کہ نابینا افراد
کے لئے بھی ایک خاص قسم کے طرز تحریر سے پڑھنا اور لکھنا ممکن ہوا جسے بریل کا نام
دیا گیا۔بریل ایک ایسے طرز تحریر کا نام ہے جو ابھرے ہوئے چھ(6)نقطوں(Dots)پر مشتمل ہوتا
ہےاور جس کی مدد سے نابینا افراد بآسانی پڑھ اور لکھ سکتے ہیں چونکہ اس طرز تحریر
کو فرانس کے ایک نابینا شخص لوئی بریل (Louis Braille)نے طویل اور
صبر آزما لیکن کامیاب جدوجہد کے بعد 1835ء میں دنیا کے سامنے پیش کیا ۔اسی لئے اس
کے نام پر اس طرز تحریر کو بریل سے موسوم کیا جاتا ہے۔جس طرح مسلم سائنسدانوں اور
مفکرین کی دیگر بہت ساری ایجادات کو یہودونصاری
نے مغربی مفکرین وسائنسدانوں کے کھاتے میں ڈال دیااور اُن کی ایجاد کا سہرا بجائے
مسلمانوں کے سرسجانے کے اپنوں کے سرباندھ دیا یوں ہی عام طور پر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ بریل پہلی بار1835ء میں وجود میں آئی
لیکن حقیقت میں
اس کی ایجاد کا سہراحنبلی عالم دین علامہ
زین الدین آمدی رَحْمَۃُ
اللہِ عَلَیْہکے سر ہے ۔چنانچہ مشہور مصری ادیب احمد زکی پاشا کہتے ہیں:”سب سے پہلے جنہوں نے
بریل طرز تحریر کی طرف سبقت کی وہ زین الدین آمدی ہیں،آپ نے ساتویں صدی ہجری (سن عیسوی کے مطابق چودہویں صدی)میں اسے
ایجاد کیاجبکہ بریل فرانسیسی نےانیسویں صدی عیسوی میں اسے لوگوں کے سامنے پیش
کیا۔“(المجلد السادس من ”مجلۃ المقتبس“،بحث احمد زکی باشا)معلوم
ہوا کہ یہ طرز تحریر ایک مسلمان عالم دین کی ایجاد ہےاور موجودہ بریل اس کی ہی
ترقی یافتہ شکل ہےلہٰذا یہاں موجد کا کچھ تعارف پیش کیا جاتا ہےتاکہ بریل کے بارے
میں جاننے والے اس کے موجد کے بارے میں بھی آگاہی حاصل کریں ۔
زین الدین آمدی
زین الدین کنیت اورنام علی بن احمد بن یوسف بن خضر ہے۔
آبائی تعلق چونکہ دیاربکر کے علاقے آمد سے تھا اسی نسبت کی وجہ سے انہیں آمدی کہتے
ہیں۔عمر کا اکثر حصہ بغداد میں گزرا اور وہیں وفات پائی۔خیر الدین زرکلی کہتے
ہیں:”یہی وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ابھرے ہوئے حروف کے ذریعے پڑھنے کا طریقہ ایجاد کیا۔“یہ حنبلیوں
کے بہت بڑے عالم،مصلح اورسچے کردار کے حامل بزرگ تھے۔چھوٹی عمر میں نابینا ہوگئے
تھے۔بہت ذہین اور تیز دماغ کے حامل تھے ۔ خوابوں کی تعبیر وں کے ماہر اورفارسی
،ترکی ،رومی وغیرہ کئی زبانوں کے جاننے والے تھے۔کتب کی تجارت کو اپنا پیشہ بنایا
اور کثیر کتابوں کو جمع کیا۔آپ چونکہ نابینا تھے اس لئے جو بھی کتاب خریدتے کاغذ
لپیٹ کر اس سے ایک یا چند حروف بنالیتےجن سے بحساب جمل اس کی قیمت ظاہر کرتے۔پھر
کاغذ کو آپ کتاب کے سرورق پر چپکادیتے اور اگر کتاب کی قیمت بھول جاتے تو اسے
چھوکر معلوم کرلیتے۔آپ بہت سی کتابوں کے
مصنف ہیں جن میں سے ”جَوَاہِرُالتَّبْصِیْر فِی عِلْمِ التَّعْبِیْر“بھی ہے۔ (الدرر الکامنۃ،۳/۲۱،الاعلام للزرکلی،۴/۲۵۷)
بریل میں دعوت
اسلامی کے رسائل:
پاکستان مىں انگرىزى کے علاوہ عربى اور اُردو برىل بھى رائج
ہے۔قرآن وسنت کی عالمگیر تحریک دعوت اسلامی جہاں دیگر شعبہ جات میں عام مسلمانوں کی رہنمائی کررہی ہے وہیں اس شعبہ
میں بھی اپنی خدمات پیش کررہی ہے ۔چنانچہ دعوتِ
اسلامی کی ”مجلس اسپیشل افراد“ کے تحت نابینا اسلامی بھائیوں کے لیے چار رسائل:(1)انمول
ہیرے(2)بڈھا پجاری (3)غسل کا طریقہ اور (4) پراسرار خزانہ بریل(Braille) میں شائع کئے جاچکے ہیں جبکہ مزید
رسائل پر کام جاری ہے، اسی طرح مدنی قاعدہ بھی بریل میں شائع ہوچکا
ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ بولتا رسالہ کی صورت میں مکتبۃ المدینہ کے کئی رسائل آڈیو (Audio)میں موجود ہیں جن کو سن کر نابینا اسلامی بھائی بآسانی علم
دین حاصل کرسکتے ہیں۔
مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ،دامادِ رسول، اِمَامُ الْاَسْخِیَاء، پیکرِ شرم و حیا حضرت
سیدنا عثمانِ غنی رضی
اللہ عنہ کی عظمت و شان پر مشتمل 40 فرامینِ مصطفیٰ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مجموعہ
بنام
اَربعیْنِ عثمانی
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ
رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنط
اَمَّا بَعْدُ!
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمط
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمط
اللہ پاک کے آخری نبی صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک فرامین پڑھنا، سننا، یاد کرنا، انہیں
دوسروں تک پہنچانا اور ممکنہ صورت میں ان پر عمل کرنا ایک مسلمان کے لئے دنیا و
آخرت میں فلاح و نجات کا باعث ہے۔فرمانِ
مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے: نَضَّرَ اللَّہُ اِمْرَأً سَمِعَ
مِنَّا حَدِیْثًا فَحَفِظَہٗ حَتّٰی یُبَلِّغَہٗ یعنی اللہ پاک اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی حدیث
سنی اور اسے یاد کر لیا یہاں تک کہ اسے (دوسروں
تک) پہنچا دیا۔(ابوداؤد،3/450،حدیث:3660)
بالخصوص 40 حدیثیں یاد کرنے یا انہیں کسی بھی طرح مسلمانوں تک پہنچانے کی فضیلت کئی حدیثوں میں بیان
کی گئی ہے۔ اس بارے میں 2 فرامینِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملاحظہ فرمائیے:
(1)مَنْ حَفِظَ عَلٰی اُمَّتِيْ اَرْبَعِيْنَ
حَدِيْثًا يَنْفَعُهُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَ بِهَا قِيْلَ لَهٗ اَدْخِلْ مِنْ اَيِّ اَبْوَابِ الْجَنَّةِ شِئْتَ یعنی جس شخص نے میری امت تک 40 ایسی حدیثیں پہنچائیں جن
سے اللہ پاک نے میری امت کو فائدہ
پہنچایا تو (قیامت کے دن)اس شخص سے کہا جائے گا:جنت
کے جس دروازے سے چاہو داخل ہوجاؤ۔ (حلیۃ
الاولیا،4/210،حدیث:5280)
(2)مَا مِنْ مُسْلِم ٍيَحْفَظُ عَلٰى
اُمَّتِىْ اَرْبَعِيْنَ حَدِيْثًا يُعَلِّمُهُمْ بِهَا اَمْرَ دِيْنِهِمْ اِلَّا جِيْءَ
بِهٖ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقِيْلَ لَهٗ: اِشْفَعْ لِمَنْ شِئْتَ یعنی جو بھی
مسلمان میری امت تک 40 ایسی حدیثیں پہنچائے جن کے ذریعے انہیں دین کے احکام
سکھائے تو قیامت کے دن اسے لاکر کہا جائے
گا:تم جس کی چاہو شفاعت کرلو۔(جامع بیان العلم و فضلہ،ص63)
اس مفہوم کی احادیث کے پیشِ نظر ہر دور میں اہلِ علم مختلف عنوانات
پر 40 احادیثِ مبارکہ کے گلدستے سجا کر مسلمانوں تک پہنچاتے رہے۔ ان خوش نصیبوں کی صف میں خود کو شامل کرانے اور
احادیث میں بیان کردہ فضائل پانے کے لئے راقمُ
الحروف نے مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ حضرت سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب پر مشتمل ’’اربعینِ عثمانی‘‘مرتب کی ہے۔
اس مجموعے میں فرامینِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اعراب لگانے
اور بزرگانِ دین کی کتابوں سے شرح حدیث ذکر کرنے کی مقدور بھر کوشش کی
گئی ہے۔
تمام اسلامی بھائیوں سے گزارش ہے کہ اس تالیف کاخود
مطالعہ فرمائیں ، دوسرے مسلمانوں تک پہنچائیں اور اگر اس میں کسی بھی قسم کی شرعی،
فنی، اعرابی یا ادبی غلطی پائیں تو راقم کو اس فون نمبر (03002505936) پرضرور مطلع فرمائیں تاکہ اگلی بار کام کے موقع پر درست
کیا جاسکے۔
(1) لِكُلِّ نَبِيٍّ رَفِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَرَفِيقِي فِيهَا عُثْمَانُ بْنُ
عَفَّانَ یعنی جنت میں ہر نبی کا کوئی(خاص) ساتھی ہوتاہے اور میرے(خصوصی) جنتی ساتھی عثمان ہیں ۔ (ابن ماجہ،1 /78، حدیث:109)
شرح: اس حدیث میں حضرت سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے لئے رفاقتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کی جو خوش خبری بیان کی گئی وہ مُطْلَق ہے اور دنیا و آخرت دونوں کو شامل ہے۔یہ فرمانِ عالی
شان صحابۂ كرام علیہم الرضوان میں سے کسی اور کے لئے رَفاقت
کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر نبی علیہ السلام کے لئے کوئی خاص رفیق ہوتا ہے جبکہ رحمتِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کئی خاص رُفقاء ہیں۔حضرت سیدنا عثمانِ غنی رضی
اللہ عنہ
کو خصوصاً ذکر کرنے میں آپ کے بلند و بالا مقام و مرتبے کے طرف اشارہ ہے۔(مرقاۃ المفاتیح،10/432)
(2) حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کے ہمراہ موجود تھا کہ ایک شخص نے حاضر ہوکر ہاتھ ملانے
کا شرف حاصل کیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا
مبارک ہاتھ نہ کھینچا یہاں تک کہ اس شخص نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور پھر عرض گزار
ہوا:یارسول اللہ!عثمان آرہے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اِمْرُؤٌ مِّنْ اَهْلِ الْجَنَّةِ یعنی وہ ایک جنتی
آدمی ہیں۔ (معجم
اوسط،1/99،حدیث:300)
(3) عُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ یعنی عثمان
جنتی ہیں۔(ابوداؤد،4/279،حدیث:4649)
شرح:یعنی سب سے پہلے جانے والوں کے ساتھ جنت میں داخل ہوں گے۔(فیض القدیر،4/399)
(4) حضرت سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک باغ میں تشریف لے گئے اور مجھے باغ کے دروازے کی حفاظت کا حکم فرمایا۔ایک صاحب نے دروازے پر آکر حاضری کی اجازت طلب کی۔ارشاد فرمایا:انہیں آنے کی اجازت دو اور جنت کی خوش خبری بھی سنادو،یہ آنے والے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ اس کے بعد ایک اور صاحب نے اجازت طلب کی،ان سے متعلق بھی یہی ارشاد ہوا کہ انہیں اجازت دو اور جنت کی بشارت سناؤ،یہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے ۔ اس کے بعد تیسرے صاحب نے حاضری کی اجازت مانگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ تَوَقُّفْ کرنے کے بعد ارشاد فرمایا: اِئْذَنْ لَّهٗ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوٰى سَتُصِيبُهٗ یعنی انہیں آنے کی اجازت دو اور جنت کی خوش خبری بھی سناؤ ایک مصیبت کے ساتھ جو عنقریب انہیں پہنچے گی۔جب میں نے حضرتِ عثمان رضی اللہ عنہ کو یہ فرمانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سنایا تو انہوں نے(جنت کی خوشخبری پر) حمدِ خداوندی بجا لانے کے بعد فرمایا: (اس مصیبت پر صبر کرنے کے معاملے میں)اللہ مددگار ہے۔ (بخاری،2/529، حدیث: 3695،3693،لمعات التنقیح،9/648)
شرح :حضرت عثمانِ
غنی ( رضی اللہ عنہ )نے دونوں چیزوں پر خدا کا شکر کیا مگر بلا و فتنہ پر اللہ سے مدد مانگی کہ مجھے صبر
کی توفیق ملے۔(مراٰۃ المناجیح، 8/410)
(5) مَنْ جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَلَهُ
الْجَنَّةُ یعنی جو تنگی والے لشکر(غزوۂ
تبوک)کے لئے تیاری کا سامان مہیا کرے تو اس کے لئے جنت ہے۔ (یہ
فرمانِ عالیشان سن کر) حضرت
سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے
لشکر کے لئے سامان پیش کیا۔ (بخاری،2/529)
(6) حضرت
سيدنا عبدالله بن حوالہ رضی اللہ عنہ كا بيان ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے(غیبی خبر دیتے ہوئے )ارشاد فرمایا: ذَاتَ يَوْمٍ تَهْجُمُوْنَ
عَلٰى رَجُلٍ مُعْتَجِرٍ بِبُرْدَةٍ يُبَايِعُ النَّاسَ مِنْ اَهْلِ الْجَنَّةِ یعنی
ایک
دن تم لوگ ایک ایسے جنتی شخص کے پاس داخل ہوگے جو سر پر چادر اوڑھے ہوئے لوگوں سے بیعت لے رہا
ہوگا۔پھر جب (خلافتِ عثمانی کے آغاز کے موقع پر)میں
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو وہ سر پر دھاری دار چادر اوڑھے ہوئے لوگوں سے بیعت لے رہے تھے۔ (مستدرک،6 /77، حديث:4589)
(7) رحمتِ عالَم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم سے پوچھا گیا:کیا جنت میں بجلی کی چمک ہو گی؟ارشاد فرمایا: نَعَمْ وَالَّذِيْ نَفْسِيْ
بِيَدِهٖ اِنَّ عُثْمَانَ لَيَتَحَوَّلُ مِنْ مَنْزلٍ اِلٰى مَنْزِلٍ فَتَبْرُقُ لَهُ
الْجَنَّةُ یعنی ہاں،اس
ذاتِ پاک کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے!جب عثمان (جنت میں )ایک جگہ سے
دوسری جگہ منتقل ہوں گے تو جنت ان کے لئے بجلی کی طرح چمکے گی۔ (مستدرک،6/78،حديث:4590)
(8) الله
کے آخری نبی صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رُومہ
نامی کنواں خرید کر مسلمانوں پر صدقہ کرنے کی ترغیب دلائی تو حضرت سیدنا عثمانِ
غنی رضی اللہ عنہ نے 400 دینارکے بدلے اس کنویں کو
خریدا اور مسلمانوں پر صدقہ کردیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کو
اس بات کی خبر ملی تو آپ نے دعا فرمائی:اَللّٰهُمَّ اَوْجِبْ لَهُ الْجَنَّةَ یعنی
اے اللہ !عثمان کے لئے جنت کو لازم فرمادے۔(الطبقات الکبری،1/392)
(9) شہزادیٔ رسول حضرت
سيده امِ كلثوم رضی الله عنہا نے بارگاہِ
رسالت میں حاضر ہوکر سوال کیا:یارسول اللہ! کیا فاطمہ کے شوہر (علی
المرتضیٰ)میرے شوہر (عثمانِ غنی)سے افضل ہیں؟سرکارِ دوعالَم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے کچھ دیر
خاموش رہنے کے بعد ارشاد فرمایا: زَوْجُكِ يُحِبُّهُ اللهُ وَرَسُوْلُهٗ وَيُحِبُّ اللهَ وَرَسُوْلَهٗ وَاَزِيْدُكِ
لَوْ قَدْ دَخَلْتِ الْجَنَّةَ فَرَاَيْتِ
مَنْزِلَہٗ لَمْ تَريٰ اَحَدًا مِّنَ اَصْحَابِيْ يَعْلُوْهُ فِيْ مَنْزِلَتِهٖ یعنی تمہارے
شوہر سے اللہ و رسول محبت فرماتے ہیں اور وہ اللہ و رسول سے محبت کرتے ہیں۔ایک بات مزید بتادوں،اگر تم جنت میں جاکر اپنے
شوہر کا ٹھکانہ دیکھو تو میرے صحابہ میں سے کسی کا ٹھکانہ ان سے بلند و بالا نہیں
دیکھو گی۔ (مجمع الزوائد، 9/100، حدیث:14532)
(10) لَيَدْخُلَنَّ بِشَفَاعَةِ عُثْمَانَ
سَبْعُوْنَ اَلْفًا كُلُّهُمْ قَدْ اِسْتَوْجَبُواالنَّارَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ
یعنی عثمان کی شفاعت کی بدولت 70 ہزار ایسے افراد جن پر دوزخ لازم ہوچکی
ہوگی وہ بلاحساب و کتاب جنت میں داخل ہوں گے۔ (کنزالعمال،6
/269، جزء:11،
حدیث:32806)
شرح:ان 70 ہزار
افراد کا دوزخ میں داخلہ لازم ہوچکا ہوگا لیکن حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے اِکرام(عزت و تعظیم) کے لئے اللہ
پاک ان لوگوں سے متعلق آپ کی شفاعت قبول فرمائے گا۔(التنویر،9/217)
(11)اَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ یعنی ميری امت میں سے سب سےسچے حیادار عثمان ہیں۔(ابن ماجہ،1/102،حديث:154)
شرح:حضرت
سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ اللہ پاک اور اس کی مخلوق سے بہت حیا فرمانے والے تھے یہاں تک کہ اپنی بیویوں سے اور
تنہائی میں بھی شرم و حیا فرماتے تھے۔آپ کی اس شرم و حیا کی بدولت اللہ پاک کے
فرشتے بھی آپ سے حیا کرتے تھے۔حدیثِ پاک میں فرمایا گیا ہے:اِنَّ الْحَيَاءَ مِنْ الْاِيمَانِ یعنی حیا ایمان سے ہے(بخاری،1/19،حدیث:24) تو گویا کہ مذکورہ بالا
حدیث میں یہ فرمایا گیا کہ سب سے زیادہ ایمان والے عثمان ہیں۔ایک دوسری حدیث میں
فرمایا گیا:اَلْحَيَاءُ لَا يَاْتِيْ اِلَّا بِخَيْرٍیعنی
شرم و حیا صرف بھلائی ہی لاتی ہے۔(بخاری،4/131،حدیث:6117)تو گویا کہ اوپر والی حدیث میں یہ فرمایا گیا کہ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ سے صرف خیر و بھلائی ہی ظاہر ہوتی ہے یا پھر آپ
صرف خیر و بھلائی کا ہی ارتکاب فرماتے ہیں۔(فیض القدیر،1/588)
(12)مَرَّ بِيْ
عُثْمَانُ وَعِنْدِيْ مَلَكٌ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ فَقَالَ شَهِيْدٌ
يَقْتُلُهٗ قَوْمُهٗ اِنَّا لَنَسْتَحْيِيْ
مِنْهُ یعنی عثمان میرے پاس سے گزرے تو فرشتوں میں سے ایک فرشتہ میرے پاس موجود تھا۔اس فرشتے نے کہا:یہ شہید
ہیں جنہیں ان کی قوم قتل کرے گی ،بے شک ہم (فرشتے) ان سے حیا کرتے ہیں ۔(معجم كبير، 5/159، حدیث:4939)
(13)ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی
اللہ عنہا کا بیان ہے کہ اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے حجرے میں
اس طرح آرام فرمارہےتھے کہ مبارک
رانیں یا پنڈلیاں کھلی ہوئی تھیں۔(اس دوران )حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے
حاضری کی اجازت مانگی تو انہیں اسی حالت میں اجازت د ی اور (ان سے)گفتگو
فرمائی،پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حاضری کا اِذن طلب کیا تو انہیں بھی اسی حالت میں
اجازت دی اور (ان سے)گفتگو فرمائی۔ اس کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے
حاضری کی اجازت چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم اٹھ کر بیٹھ گئے اور لباس مبارک کو درست فرمایا۔حضرت
عثمان رضی اللہ عنہ خدمتِ
اقدس میں حاضر ہوکر بات چیت کرتے رہے۔جب آپ چلے گئے تو میں نے عرض کی:حضراتِ ابوبکر و عمر آئے تو آپ
نے کچھ تکلف نہیں فرمایا لیکن حضرت عثمان
کی آمد پر آپ اٹھ بیٹھے اور لباس کو درست
فرمایا(اس کا کیا سبب ہے؟)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اَلَا اَسْتَحِيْ
مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحِيْ مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ یعنی کیا میں اس مرد سے حیا نہ
کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔(مسلم،ص1004،حدیث:6209)
شرح :شیخِ محقق شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :سرکارِ دوعالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے حیا کرنے سے مراد ان کی تعظیم و توقیر
کرنا ہے۔(لمعات التنقیح،9/636)
امام ابنِ حجر ہیتمی مکی شافعی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اس حدیثِ پاک میں حضرت
عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی ایک عظیم فضیلت کا بیان ہے اور
اس سے یہ بھی ظاہر ہے کہ فرشتوں کے نزدیک آپ کی کس قدر عظمت و منزلت ہے نیز یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ
شرم و حیاء ایک اچھی صفت ہے جو فرشتوں کی صفات میں سے ہے۔(فتح الالٰہ، 10/578)
امام بدرالدین محمود بن احمد عینی رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا:حضرت
عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ سركارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے داماد ہونے کی وجہ سے بھی اس بات کے زیادہ حقدار تھے کہ آپ سے حیا
کی جائے کیونکہ انسان اپنے سسر کی نسبت
داماد سے زیادہ حیا کرتا ہے۔(عمدۃ
القاری،11/426)
(14) ام المومنین
حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت عثمانِ غنی رضی
اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے مبارک بستر پرحضرت عائشہ صدیقہ کی چادر اوڑھ کر لیٹے ہوئے تھے کہ حضرت ابوبکر رضی
اللہ عنہ نے حاضری کی اجازت چاہی۔سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی حال میں انہیں اجازت دی اور وہ اپنی ضرورت پوری کرکے چلے گئے۔اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے
حاضری کا اذن مانگا تو انہیں اسی حال میں اجازت عطا فرمائی اور وہ بھی اپنی ضرورت
مکمل کرکے چلےگئے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ پھر میں نے حاضری کا اذن مانگا تو رحمتِ
عالم صلی للہ علیہ وآلہ وسلم اٹھ بیٹھے اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی
اللہ عنہا سے ارشاد فرمایا: اِجْمَعِي
عَلَيْكِ ثِيَابَكِ یعنی اپنا لباس درست
کرلو۔میں حاضرِ خدمت ہوکر اپنی ضرورت پوری کرکے چلا گیا تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عرض
گزار ہوئیں: یا رسول اللہ!کیا وجہ ہے کہ آپ نے حضرات ِابوبکر و عمر کے لئے اس طرح
اہتمام نہیں فرمایا جیسے حضرت عثمان کے لئے فرمایا۔سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ
وَاِِنِّيْ خَشِيْتُ اِنْ اَذِنْتُ لَهٗ عَلیٰ تِلْكَ الْحَالِ اَنْ لَّا يَبْلُغَ
اِلَيَّ فِي حَاجَتِهٖ یعنی عثمان
ایک شرمیلے مرد ہیں۔مجھے یہ اندیشہ تھا کہ اگر میں نے انہیں اسی حالت میں آنے کی
اجازت دی تو وہ مجھ سے اپنی ضرورت بیان
نہیں کرسکیں گے۔ (مسلم، ص1004، حدیث: 6209)
شرح:یعنی اگر ہم ان کے سامنے اسی بے تکلفی سے لیٹے رہے تو وہ
اتنے شرمیلے ہیں کہ یہاں نہ بیٹھ سکیں گے ،نہ مجھ سے بات کرسکیں
گے، نہ وہ عرض پوری کرسکیں گے جس کے لئے وہ
یہاں آئے تھے۔(مراٰۃ المناجیح،8/393)
(15) عُثْمَانُ رَجُلٌ ذُوْ حَيَاءٍ سَاَلْتُ رَبِّيْ اَنْ لَّا يُوْقِفَه ٗ لِلْحِسَابِ فَشَفَّعَنِيْ یعنی عثمان ایک
شرمیلے مردہیں۔میں نے اپنے رب سے دعا کی کہ انہیں حساب لینے کے لئے کھڑا نہ کرے
تو اس نے میری شفاعت قبول فرمالی۔ (تاریخ دمشق،39/97)
(16)عُثْمَانُ
اَحْیَا اُمَّتِيْ وَاَكْرَمُهَا یعنی عثمان میری امت میں سے سب سے
زیادہ باحیا اور سخی ہیں۔ (حلیۃ
الاولیاء،1/93،حدیث:157)
شرح:امت سے مراد وہ افراد ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری حیات میں
موجود تھے یا پھر قیامت تک دنیا میں آنے والے مسلمان مراد ہیں۔ (التنویر،7/204)
امام محمد عبدالرؤف مُناوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :شرم و
حیا ایک ایسا وصف ہے جس سے دیگر خوبیاں جنم لیتی ہیں۔منقول ہے کہ نبی کریم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کرنے کے بعد حضرت عثمانِ غنی رضی
اللہ عنہ
نے اپنا سیدھا ہاتھ کبھی شرم گاہ پر نہیں لگایا،اسلام لانے کے بعد سے آپ ہر جمعہ
کوایک غلام آزاد فرماتے ،آپ کے آزاد کردہ غلاموں کی مجموعی تعداد تقریباً
2400ہے۔آپ نے اسلام لانے سے پہلے اور بعد کبھی چوری یا زنا کا اِرتکاب نہ کیااور سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم
کی حیاتِ ظاہری میں حفظِ قراٰن کا اعزاز پایا۔ (فیض
القدیر،4/399)
(17)اَلسَّخَاءُ شَجَرَةٌ فِى الْجَنَّةِ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ غُصْنٌ مِّنْ
اَغْصَانِهَا یعنی سخاوت
ایک جنّتی درخت ہےاورعثمان بن عفان اُس کی شاخوں میں سے ایک شاخ ہیں۔ (کنز العمال،جز :11، 6/273،حدیث: 32849)
(18)حضرت
سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کا
بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَنْ يَّبْتَاعُ مِرْبَدَ بَنِيْ فُلَان ٍغَفَرَ اللهُ لَهٗ یعنی جو فلاں لوگوں کی مِرْبدَ
(وہ زمین جس میں کھجوریں سکھائی جاتی ہیں)خرید لے ،اللہ پاک اس کی مغفرت فرمائے۔ میں نے وہ زمین
20 ہزار یا 25 ہزار میں خرید لی۔جب میں نے بارگاہِ رسالت میں
حاضر ہوکر اس بات کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اِجْعَلْهُ فِيْ مَسْجِدِنَا وَاَجْرُهٗ لَكَ یعنی اس زمین کو ہماری مسجد میں شامل کردو،اس کا ثواب تمہیں ملے گا۔(نسائی،ص518، حدیث :3179)
(19)سركارِ نامدار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں کو غزوۂ تبوک کے لئے(راہِ خدا میں ) خرچ کرنے کی ترغیب دلارہے تھے کہ حضرت سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوکر عرض گزار ہوئے: یارسول اللہ! ایک سو اونٹ تمام ضروری سامان کے ہمراہ اللہ کی راہ میں
دینے کی میں ذمہ داری لیتا ہوں۔حضورِ اقدس
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو دوبارہ ترغیب دلائی تو آپ نے 200اونٹ اور تیسری بار ترغیب دلانے پر
300 اونٹ تمام ضروری سامان سمیت پیش کرنے کی نیت فرمائی۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرماتے ہوئے منبر شریف سے نیچے تشریف لے
آئے: مَا عَلٰى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ
هَذِهٖ مَا عَلٰى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذِهٖ یعنی اس کے بعد عثمان جو کچھ کرے اس پر مُؤَاخذہ نہیں،اس کے بعد عثمان جو کچھ کرے اس پر مُؤَاخذہ نہیں۔ (ترمذی، 5/391، حديث:3720)
شرح:یعنی یہ نیکی کرنے کے بعد ان کے کسی عمل پر
انہیں گناہ نہیں ملے گا،مراد یہ ہے کہ ان
کا یہ عمل ان کی تمام خطاؤں کے لئے کفارہ بن گیا ہے۔یہ فرمانِ عالیشان ایسے ہی ہے جیسے اہلِ بدر سے متعلق فرمایا گیا: لَعَلَّ اللَّهَ اِطَّلَعَ عَلٰى اَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اِعْمَلُوْا مَا
شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْیعنی بے شک
اللہ پاک نے اہلِ بدر کی طرف خصوصی توجہ كركے ارشاد فرمایا:تم جو چاہے کرو،تحقیق میں نے
تمہیں بخش دیا ہے۔(مسلم،ص1040،حدیث:6401،لمعات
التنقیح،9/638)
حضورِ انور(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
) نے تین بار چندہ کی اپیل کی ۔ہر بار میں حضرت عثمان (رضی اللہ
عنہ)نے سو، دو سو، تین سو اونٹ کا مع سامان کے اعلان کیا ، کسی کو
بولنے کا موقع ہی نہ دیا،چھ سو اونٹ مع سامان کا بھی اعلان کیا اور ایک ہزار
اشرفیوں کا بھی جیساکہ دوسری روایات میں ہے۔خیال رہے کہ یہ تو ان کا اعلان تھا مگر
حاضر کرنے کے وقت 950 اونٹ، پچاس گھوڑے اور ایک ہزار اشرفیاں پیش کیں، پھر
بعد میں دس ہزار اشرفیاں اور پیش کیں ۔
(مراٰۃ المناجیح،8/395)
(20) غزوۂ تبوک کے موقع پر حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ایک
ہزار دینار(سونے کی اشرفیاں)اپنی آستین میں لائے اور پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں ڈال دیں۔سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان اشرفیوں کو الٹ پلٹ کر ملاحظہ
فرمانے لگے اور پھر دو مرتبہ ارشاد فرمایا: مَاضَرَّ عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ یعنی آج کے بعد عثمان جو بھی کریں ان کا کوئی عمل انہیں نقصان نہ دے گا۔ (ترمذی، 5/392، حديث:3721)
شرح:اس فرمان عالی میں حضرت عثمان غنی (رضی اللہ عنہ)کو تین بشارتیں دی گئیں: ایک یہ کہ
ان کے سارے گذشتہ گناہ اور خطائیں معاف ہوگئیں ،ان کا آج کا یہ عمل ان کا کفارہ بن گیا۔دوسرے یہ(کہ) آئندہ وہ
گناہوں سے محفوظ رہیں گے۔ تیسرے یہ کہ ان کا خاتمہ ایمان پر ہوگا۔ (مراٰۃ المناجیح،8/396)
(21)حضرت سيدنا ابومسعود رضی الله عنہ كا بيان ہے:ہم ایک جہاد کے موقع پر نبی کریم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ موجود تھے کہ
لوگوں کو کھانے پینے کے سامان کی کمی کا سامنا ہوا یہاں تک کہ میں نے مسلمانوں کے
چہرے پر غم جبکہ منافقین کے چہرے پر خوشی
کے آثار دیکھے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ معاملہ ملاحظہ کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: وَاللهِ لاَ تَغِيْبُ الشَّمْسُ حَتّٰى يَاتِيَكُمُ اللهُ بِرِزْقٍ یعنی اللہ پاک کی قسم!سورج غروب ہونے سے پہلے اللہ کریم تمہیں رزق عطا فرمادے گا۔(یہ سن کر) حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کو یقین ہوگیا کہ اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم اس خبر
کو پورا کردیں گے،چنانچہ آپ نے کھانے کے سامنے سے لدے ہوئے 14اونٹ خریدے اور
ان میں سے 9 بارگاہِ رسالت میں پہنچادیے۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ان کے بارے
میں دریافت کیا تو عرض کیا گیا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں یہ تحفہ بھیجا ہے۔ اس موقع پر مسلمانوں کے چہرے پر خوشی جبکہ منافقین کے
چہرے پر غم کے آثار نمایاں ہوئے اور میں نے سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے دونوں مبارک ہاتھ اس طرح اٹھارکھے ہیں
کہ بغلوں کی سفیدی دیکھی جاسکتی ہے اور حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے لئے ایسی دعا فرمارہے
ہیں کہ اس سے پہلے اور اس کے بعد میں نے آپ کو کسی کے لئے ایسی دعا کرتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ (معجم
اوسط،5/258، حدیث:7255)
(22) حضرت سيدنا ابوہريره رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں(پردے کے احکام نازل ہونے سے پہلے) شہزادیٔ رسول ،زوجۂ عثمانِ غنی حضرت سیدہ رقیہ رضی
اللہ عنہا کے پاس گیا تو
ان کے ہاتھ میں کنگھی تھی۔ فرمانے لگیں:ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے
تشریف لے گئے۔ میں نے سرِ انور میں کنگھی کی ،(اس
دوران)آپ نے مجھ سے دریافت فرمایا: كَيْفَ
تَجِدِيْنَ اَبَا عَبْدِ اللهتم ابو
عبداللہ (یعنی عثمانِ غنی)کو کیسا پاتی ہو؟میں نے عرض کی:اچھا پاتی ہوں۔ارشاد فرمایا: اَكْرِمِيْهِ فَاِنَّهٗ مِنْ اَشْبَهِ اَصْحَابِيْ بِيْ خُلُقاً یعنی ان کی عزت کرو کیونکہ وہ میرے ان صحابہ میں سے ہیں جن کی سیرت میری سیرت سے مُشابہ (یعنی ملتی جلتی)ہے۔ (مستدرك،8/414، حديث:7027 )
(23) حضرت
سيدنا عثمانِ غنی رضی
ا للہ عنہ اپنی زوجہ ،شہزادیٔ رسول حضرت رقیہ رضی
اللہ عنہاکے
ہمراہ جب ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے تو کچھ عرصے تک ان دونوں کی کوئی خبر نہ آئی
۔رحمتِ عالم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر سے باہر تشریف لاکر ان کے بارے میں کسی خبر سے متعلق دریافت فرماتے
تھے۔ایک دن ایک عورت نے آکر ان کی خبر پہنچائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے
ارشاد فرمایا: اِنَّ عُثْمَانَ اَوَّلُ مَنْ هَاجَرَ اِلَى اللهِ بِاَهْلِهٖ بَعْدَ لُوْطٍ یعنی
حضرت لوط علیہ السلام کے
بعد عثمان وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اپنی اہلیہ کے ہمراہ اللہ پاک کی طرف ہجرت کی۔(معجم
كبير،1/90،حدیث:143)
شرح:اسلام
کے ابتدائی دور میں جب مشرکین کے مظالم دن بدن بڑھنے لگے تو رحمتِ عالَم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کا حکم دیا اور ارشاد فرمایا:حبشہ میں ایک ایسا بادشاہ
موجود ہے جس کے یہاں کسی پر ظلم نہیں کیا جاتا ۔اگر تم وہاں چلے جاؤ تو اللہ پاک
تمہارے لئے کشادگی فرمادے گا۔اس فرمانِ عالیشان پر مسلمانوں نے دو مرتبہ حبشہ کی
طرف ہجرت کی جس میں سے پہلی ہجرت اعلانِ نبوت کے 5ویں سال رجب کے مہینے میں ہوئی
۔پہلی بار ہجرت کرنے والے مسلمانوں کی تعداد ایک قول کے مطابق 15 تھی جن میں سے
11مرد اور 4عورتیں تھیں۔یہ حضرات پیدل سمندر تک گئے اور پھر وہاں سے آدھے دینار پر
کشتی کرائے پر لے کر حبشہ پہنچے۔اس ہجرت
کے لئے پہل کرنے والے حضرت عثمانِ غنی اور آپ کی زوجہ حضرت رقیہ رضی
اللہ عنہما
تھے۔اس ہجرت کے بعد کچھ عرصے تک ان حضرات
کی کوئی خیر خبر موصول نہ ہوئی یہاں تک کہ ایک عورت نے حاضر ہوکر بارگاہِ رسالت
میں عرض کیا:میں نے ان دونوں کو اس حال میں دیکھا ہے کہ حضرت عثمان رضی
اللہ عنہ
اپنی زوجہ کو سواری پر بٹھا کر کہیں لے
جارہے تھے۔(فتح
الباری،8/161)
(24) حضرت سيدنا عبدالله بن عمر رضی
اللہ عنہما کا
بیان ہے:حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے غزوۂ بدر
سے غیر حاضری کا سبب یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
صاحبزادی ان کی زوجیت میں تھیں اور وہ بیمار تھیں۔نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے
ان سے ارشاد فرمایا: اِنَّ لَكَ اَجْرَ رَجُلٍ مِّمَّنْ شَهِدَ
بَدْرًا وَسَهْمَهٗ یعنی تمہیں غزوۂ بدر میں شریک ہونے والوں کے برابر ثواب بھی ملے گا اور مالِ غنیمت میں سے حصہ بھی۔ (بخاری،2/352،حديث:3130)
شرح:حضورِ اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت رقیہ (رضی اللہ عنہا) حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ
تعالی عنہ کی زوجیت میں تھیں اور غزوۂ بدر کے موقع پر سخت علیل
اور جاں بلب تھیں حتی کہ اسی اثناء میں وصال فرماگئیں۔ان کی تیمار داری
کے لئے حضرت عثمان کو حکم ہوا کہ گھر ہی رہو،تم کو غزوے میں شرکت کا ثواب بھی ملے
گااور مالِ غنیمت سے حصہ بھی۔حضورِ اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
جب بدر سے مدینۂ طیبہ واپس ہوئے تو وہ دفن بھی ہوچکی تھیں،فتح کی بشارت لے کر
جب زید بن حارثہ رضی
اللہ تعالی عنہ
مدینۂ طیبہ پہنچے تو دفنائی جارہی تھیں۔جس صبح کو ان کا وصال ہوا اسی دن حضورِ
اقدس صلی
اللہ تعالی علیہ وسلممدینۂ طیبہ پہنچے۔(نزہۃ القاری،4/233)
(25) غزوۂ بدر کے دن رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور ارشاد
فرمایا: اِنَّ عُثْمَانَ اِنْطَلَقَ فِيْ حَاجَةِ اللَّهِ
وَحَاجَةِ رَسُولِ اللَّهِ وَاِنِّيْ اُبَايِعُ لَهٗ یعنی عثمان
اللہ کے کام اور اس کے رسول کے کام کے لئے
گئے ہیں،ان کی طرف سے میں بیعت کرتا ہوں۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے مالِ غنیمت میں ان کے لئے حصہ مقرر فرمایا اور ان کے
علاوہ کسی اور غیر حاضر شخص کا حصہ مقرر نہیں فرمایا۔ (ابوداؤد،3/98،حديث:2726)
شرح:یہ فرمانِ عالی بدر کی غنیمت تقسیم فرماتے وقت کا
ہے۔خیال رہے کہ جنابِ رقیہ(رضی اللہ
عنہا) کی تیمارداری حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت تھی
مگر اس کو اﷲ رسول کا کام فرمایا گیا۔معلوم ہوا کہ حضور کی فرمانبرداری رب تعالی کی
اطاعت ہے۔(اس موقع پر) حضور ِانور(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا بایاں(Left) ہاتھ اٹھایا اور فرمایا کہ یہ عثمان کا ہاتھ ہے اور
اپنے داہنے(Right) ہاتھ کو فرمایا کہ یہ ہمارا ہاتھ ہے اور خود ہی
حضرت عثمان(رضی اللہ عنہ) کی طرف سے بیعت کی۔ اس بیعتِ عثمان کا واقعہ دوبار ہوا:ایک تو غزوۂ بدر میں، دوسرے بیعتُ
الرضوان میں مقامِ حدیبیہ میں، یہ ہے حضرت
عثمان کی شان رضی اللہ عنہ۔
دستِ حبیبِ خدا جو کہ یَدُ اﷲ تھا
ہاتھ بنا آپ کا ،آپ وہ ذی شان ہیں
(مراٰۃ المناجیح،5/601)
(26) مَا زَوَّجْتُ عُثْمَانَ اُمَّ كُلْثُوْمٍ اِلَّا
بِوَحْيٍ مِّنَ السَّماءِ یعنی میں نے
عثمان کا ام کلثوم سے نکاح آسمان سے آنے والی وحی(یعنی اللہ پاک کے حکم)کی وجہ سے کیا ہے۔(معجم اوسط،4/77،حدیث:5269)
(27) يَا عُثْمَانُ هَذَا جِبْرِيلُ أَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ قَدْ زَوَّجَكَ
أُمَّ كُلْثُومٍ بِمِثْلِ صَدَاقِ رُقَيَّةَ
عَلَى مِثْلِ صُحْبَتِهَایعنی اے
عثمان!یہ جبریل ہیں جنہوں نے مجھے یہ خبر دی ہے کہ اللہ
پاک نے تمہارا نکاح رقیہ کے مہر جتنے مہر پر امِ
کلثوم سے فرمادیا ہے اور ان کے ساتھ بھی ویسا ہی حسنِ سلوک لازم ہوگا ۔(ابن ماجہ،1/79،حدیث:110)
شرح:ظاہر یہ ہے کہ خود اللہ پاک نے یہ نکاح فرمادیا جیسا کہ ازواجِ مطہرات کا معاملہ ہے
،مثلاً ام المؤمنین حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے بارے میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ
مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا ترجمۂ
کنزالعرفان: پھر جب زید نے اس سے حاجت پوری کرلی تو ہم نے آپ کا اس کے ساتھ نکاح
کردیا۔(پ22،احزاب:37،حاشیۃ سندی علی ابن ماجہ،1/79)
(28) حضرت سيدنا
عثمانِ غنی رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی دوسری
شہزادی(حضرت امِ کلثوم رضی اللہ
عنہا ) کو میرے نکاح میں دیتے وقت ارشاد فرمایا:لَوْ اَنَّ عِنْدِيْ عَشْرًا لَزَوَّجْتُكَهُنَّ وَاحِدَةً بَعْدَ وَاحِدَةٍ
فَاِنِّيْ عَنْكَ لَرَا ض ٍ یعنی ا گر میری دس بیٹیاں بھی ہوتیں تو میں یکے بعد دیگرے وہ سب تمہارے نکاح میں دے
دیتا کیونکہ میں تم سے راضی ہوں۔ (معجم اوسط،4/322،حدیث:6116)
(29)حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں موجود رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کی شہزادی(حضرت امِ کلثوم رضی اللہ عنہا)کے وصال کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابۂ کرام علیہم الرضوان سے
ارشاد فرمایا:زَوِّجُوْا عُثْمَانَ لَوْ كَانَ لِيْ ثَالِثَةٌ لَزَوَّجْتُهٗ
وَ مَا زَوَّجْتُهٗ اِلَّا بِالْوَحْيِ مِنَ اللهِ عَزَّوَجَلَّ یعنی عثمان کا نکاح کرواؤ۔اگر میری کوئی تیسری (غیر شادی شدہ)بیٹی موجود ہوتی تو میں (اس سے)عثمان کا نکاح کروادیتا اور میں نے عثمان کا (اپنی 2 بیٹیوں سے)نکاح صرف اللہ پاک کے حکم سے کروایا تھا۔ (معجم کبیر،17/184،حدیث:490)
(30) ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی
اللہ عنہا
کا بیان ہے :(مجھے
وہ وقت یاد ہے جب)اللہ
کے محبوب صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی مبارک پیٹھ کے ساتھ مجھ سے ٹیک لگاکر تشریف
فرماتھے اورحضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ حاضرِ خدمت تھے۔ جبریلِ امین علیہ
السلام
آپ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم
پر قرآن نازل کررہے تھے اور آپ حضرت عثمان سے ارشاد فرمارہے تھے: اُكْتُبْ يَا عُثَيْم یعنی اے عثمان! لکھو۔ اللہ پاک نے آپ کو یہ مقام و مرتبہ اس لئے عطا فرمایا کیونکہ آپ اللہ اور
اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یہاں عزت والے تھے۔(مسند
احمد،10/101،حدیث:26190)
شرح :سرکارِ مدینہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حضرت سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کو’’
يَا عُثَيْم ‘‘ کہہ کر
پکارنا محبت اور شفقت کے طور پر تھا۔اس
روایت سے بارگاہِ رسالت میں آپ کا مقام و مرتبہ ظاہر ہوتا ہے اور یہ بھی پتہ چلتا
ہے کہ آپ کاتِبینِ
وحی میں سے ہیں۔(زرقانی علی المواہب،4/541)
(31) اَللّٰهُمَّ قَدْ رَضِيْتُ
عَنْ عُثْمَانَ فَارْضَ عَنَهْ یعنی اے
اللہ!میں عثمان سے راضی ہوں،تُو بھی اس سے راضی ہوجا۔(تاریخِ دمشق،39/53)
(32) الله كے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بار صحابۂ کرام علیہم الرضوان سے ارشاد فرمایا: لِيَنْهَضْ كُلُّ رَجُلٍ مِّنْكُمْ اِلٰى كُفْوِهٖ یعنی تم میں سے ہر شخص اٹھ کر اپنے ہم پَلَّہ کے پاس چلا جائے۔یہ فرماکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھ کرحضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور ا نہیں گلے لگاکر ارشاد فرمایا: اَنْتَ وَلِيِّيْ فِي الدُّنْيَاوَالْآخِرَةِ یعنی تم دنیا وآخرت میں میرےدوست ہو۔ (مستدرک،6/75، حديث:4586)
(33)اِنِّيْ سَاَلْتُ عُثْمَانَ حَاجَةً سِرًّا فَقَضَاهَا سِرًّا
فَسَاَلْتُ اللهَ اَنْ لَّا يُحَاسِبَ عُثْمَانَ یعنی میں نے پوشیدہ طور پر عثمان سے ایک ضرورت کا ذکر کیا تو انہوں نے
خفیہ طور پر اسے پورا کردیا ، اس پر میں نے اللہ پاک سے دعا فرمائی کہ وہ عثمان سے
حساب و کتاب نہ لے۔ (مرقاۃ
المفاتیح،10/432،الریاض النضرہ،2/31)
(34) يَا
عُثْمَانُ اِنَّهٗ لَعَلَّ اللَّهَ يُقَمِّصُكَ قَمِيصًا فَاِنْ اَرَادُوْكَ عَلٰى
خَلْعِهٖ
فَلَا تَخْلَعْهُ لَهُمْ یعنی اے عثمان!
اللّٰہ پاک تمہیں ایک قمیص پہنائے گا، اگر لوگ
تم سے وہ قمیص اُتارنا چاہیں تو تم ان کی وجہ سے اُسے مت
اتارنا۔ (ترمذی،5/394،حدیث:3725)
شرح:یعنی اللّٰہ تعالٰی آپ کو خِلافت عطا فرمائے
گا۔ لوگ تم کو معزول کرنا چاہیں گے، تم ان کے کہنے سے خلافت سے دَسْت بَرْدَار نہ
ہونا کیونکہ تم حق پر ہوگے وہ باطل پر۔(مراٰۃ المناجیح،8/402)جب باغیوں نے حضرت سیدنا عثمانِ
غنی رضی اللہ
عنہ کے گھر
کا محاصرہ کیا اور آپ سے خلافت سے دست برداری کا مطالبہ کیا تو اسی فرمانِ عالی
شان کے پیشِ نظر آپ نے دست برداری سے انکار فرمادیا۔(مرقاۃ المفاتیح،10/442)
یعنی عثمان صاحبِ قمیصِ ہُدیٰ
حُلّہ
پوشِ شہادت پہ لاکھوں سلام
(حدائقِ بخشش،ص312)
(35)سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مرضِ
وصال میں ارشاد فرمایا: وَدِدْتُ اَنَّ عِنْدِيْ بَعْضَ اَصْحَابِيْ یعنی میں چاہتا ہے کہ میرے صحابہ میں سے کوئی میرے پاس
ہو۔حاضرین نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلانے کے بارے میں پوچھا تو آپ خاموش رہے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے متعلق دریافت کیا تو
بھی آپ نے سُکوت فرمایا۔تیسری بار عرض کی گئی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو آپ
کے پاس بُلالائیں ۔ارشاد فرمایا:ہاں۔چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حاضرِ خدمت ہوکر خدمتِ اقدس میں تنہا بیٹھ گئے۔ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ گفتگو
فرمائی جسے سن کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔جب(خلافت کے آخری دنوں میں) باغیوں نے آپ
رضی اللہ عنہ کے مکانِ عالیشان کا
محاصرہ کرلیا تو آپ نے ارشاد فرمایا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے ایک
عہد لیا تھا اور میں اس پر صبر کروں گا۔(ابن
ماجہ،1 /80، حدیث:113)
شرح:یعنی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے) مجھ سے یہ عہد
لیا تھا کہ اگر لوگ تمہیں خلافت سے دست
بردار کرانے کی کوشش کریں تو ان کی بات مت
ماننا یا پھر یہ وصیت فرمائی تھی کہ میں صبر کروں اور (محاصرہ کرنے والوں سے)لڑائی نہ
کروں۔ (لمعات التنقیح،9/644)
(36) حضرت
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے
کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک فتنے کا ذکر کرتے ہوئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے
متعلق ارشاد فرمایا: يُقْتَلُ فِيهَا هَذَا
مَظْلُومًا یعنی اس فتنے کے دوران انہیں مظلومیت کی
حالت میں شہید کردیا جائے گا۔(ترمذی،5/395،حدیث:3728)
(37) حضرت
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:تم میرے بعد اختلاف
اور فتنہ دیکھو گے۔ایک شخص نے عرض کی:یا رسول اللہ!آپ ہمیں اس وقت کیا کرنے کا حکم
دیتے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:عَلَيْكُمْ بِالْاَمِيْرِ وَاَصْحَابِهٖیعنی (مسلمانوں کے)امیر
اور ان کے رفقاء
کو لازم پکڑ لینا۔(مشکوٰۃ
المصابیح،2/426،حدیث:6082)
شرح: یعنی اس وقت حضرت عثمان(رضی اللہ عنہ) خلیفۂ برحق
ہوں گے، ان کے ساتھی حق پر ہوں گے۔ تم سب کو امان عثمان کے دامن میں ملے گی۔(مراٰۃ المناجیح، 8/408)
(38) حضرت
سيدنا مُرَّہ بن کعب رضی اللہ عنہ
کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ فتنوں کا ذکر فرمایا
اور ان فتنوں کو بہت قریب بتایا ۔اتنے میں
ایک صاحب چادر اوڑھے ہوئے وہاں سے گزرے۔سرکارِ مدینہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:هٰذَا يَوْمَئِذٍ عَلَى الْهُدىٰیعنی اس دن یہ شخص ہدايت
پر ہوگا۔میں نے اٹھ کر دیکھاتو وہ صاحب حضرت عثمان بن عفان رضی
اللہ عنہ تھے۔میں نے ان کا چہرہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کے سامنے کرکے پوچھا:آپ ان کے بارے میں فرمارہے ہیں؟ ارشاد فرمایا:نَعَمْ یعنی ہاں۔ (ترمذی، 5/393، حديث:3724)
شرح :یہاں فتنوں سے مراد وہ جنگ و جِدال ہیں جو حضور ِ انور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے (وصالِ ظاہری کے)بعد مسلمانوں میں ہونے والے تھے۔(مراٰۃ
المناجیح،8/401)
(39) سرکارِ دوعالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضراتِ ابوبکر و عمر و عثمان
رضی اللہ عنہم کے
ہمراہ اُحُد پہاڑ پر قدم رَنجہ فرمایا تو پہاڑ ہلنے
لگا۔ سرکارِ مدینہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مبارک پاؤں سے ٹھوکر مار کر پہاڑ سے ارشاد
فرمایا:اُثْبُتْ اُحُدُ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ
نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَ شَهِيدَانِ یعنی
اےاُحُد!ساکن ہوجا!تجھ پرایک نبی،ایک صدیق اور دوشہید موجودہیں۔(بخاری،2/524،حدیث: 3675،ابوداؤد، 4/280، حدیث:4651 )
شرح: یہ حضرات یا تو احد پہاڑ اور وہاں پر شہداء کے مزارات کی
زیارت کرنے تشریف لے گئے تھے یا ویسے ہی سیر و سیاحت کے لیے چڑھے تھے،پہاڑ خوشی
میں وَجد کرنے اور ہلنے لگا کہ آج مجھ پر ایسے قدم آئے۔معلوم ہوا کہ اللہ کے مقبول
بندے ولی ساری خَلْقَت کے محبوب
ہوتے ہیں، ان کی تشریف آوری سے سب خوشیاں مناتے ہیں، انہیں پتھر اور پہاڑ بھی
جانتے ہیں۔یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور(صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب کے انجام سے خبردار
ہیں کہ فرمایا :ان میں سے دو صحابہ شہید ہو کر وفات پا جائیں گے۔ (مِراٰۃ المناجیح، ج8،ص408 )
امام ابنِ مُلَقِّن رحمة الله عليه فرماتے ہیں: اس حدیث سے ان حضرات کی فضیلت ظاہر ہے۔(التوضیح لشرح الجامع الصحیح،20/272)
شِہَابُ الْمِلَّۃِ وَ الدِّین اما م
احمد بن محمد خَفَاجی مصری حنفی رحمۃاللہ علیہ
لکھتے ہیں:اُحُد پہاڑ کا ہلنا
یا تو اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہیبت اور اللہ پاک کے خوف کے سبب تھا یا پھر اتفاق سے ان حضرات کی تشریف آوری کے وقت زلزلہ آگیا تھا جس کی وجہ سے پہاڑ ہلنے لگا۔سرکارِ
دوعالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہاڑ کو ساکن رہنے اور حرکت نہ کرنے کا حکم فرمایا ۔اللہ پاک نے پہاڑ
میں سمجھ بوجھ اور زندگی پیدا فرمائی تھی کیونکہ
پہاڑ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم سنا بھی اور اس کی تعمیل بھی کی۔(نسیم الریاض،4/36)
امام ابن
حجر مکی ہیتمی شافعی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں :اُحُد پہاڑ کا ہلنا فخر کی وجہ سے تھا (کہ مجھ پر کن عظیم ہستیوں کے قدم پڑے ہیں)۔(فتح الالہ،10/584)
ایک
ٹھوکر میں اُحُد کا زَلزلہ جاتا رہا
رکھتی
ہیں کتنا وقار اللہ اکبر ایڑیاں
(حدائقِ
بخشش،ص87)
(40) رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
خدمت میں ایک جنازہ لایا گیا لیکن آپ نے اس کی نمازِ جنازہ ادا نہیں فرمائی۔صحابۂ
کرام علیہم الرضوان نے عرض کی :یا رسول اللہ!ہم نے اس سے پہلے
نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی کی نمازِ جنازہ ترک فرمائی ہو۔ ارشاد فرمایا:اِنَّهٗ كَانَ يُبْغِضُ عُثْمَانَ فَاَبْغَضَهُ اللَّهُ یعنی یہ شخص عثمانِ غنی سے دشمنی رکھتا تھا تو اللہ پاک بھی اس سے دشمنی رکھتا ہے۔
(ترمذی، 5/396، حدیث:3729)
شرح:حضورِ اقدس صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کا میت
پر نمازِ جنازہ ادا کرنا میت کےلئے دعا اور شفاعت پر مشتمل ہوتا ہے اور وہ شخص (اپنے
اس گناہ کے باعث)اس
سعادت سے محروم رہا،اللہ پاک کی پناہ۔اس حدیث شریف میں یہ ذکر نہیں ہے کہ سرکارِ
مدینہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسروں کو بھی اس شخص کی نمازِ جنازہ پڑھنے سے
منع فرمادیا،ممکن ہے کہ آپ نے خود اس کی نمازِ جنازہ نہ پڑھی ہو اور دوسرے حضرات نے پڑھ لی ہو جیسا کہ ایک مقروض شخص کے بارے میں منقول ہے۔(نسیم الریاض،4/525)
اللہ
کریم’’اربعینِ عثمانی‘‘کو قبول فرمائے ، اسے مُؤَلِّف اور اس کے والدین
و اہلِ خانہ کے لئے مغفرت کا سبب بنائے ۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
رُک
جائیں مرے کام حسنؔ ہو نہیں سکتا
فیضان
مددگار ہے عثمانِ غنی کا
(ذوقِ
نعت،ص81)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ70سے زائد علوم وفنون میں
مہارت رکھتے تھے۔بہت ساری کتب علوم حدیث آپ کے زیر مطالعہ رہی تھیں ۔حدیث کی
تخریج،صحت،ضعف اور وضع پر گہری نظرتھی اور آپ کے سامنے علوم حدیث کی بے شمار جہتیں
تھیں۔ان ہی جہتوں میں سےحدیث کی تخریج اور اس کے اصول بھی ہیں۔ حدیث کی تخریج فن علم حدیث کا ایک اہم ترین حصہ ہےاور ہم محدثین کرام کی بڑی
تعداد کو اس فن کا اہتمام کرتے ہوئے
دیکھتے ہیں۔منقول ہے کہ امام ابوعبداللہحاکم (وفات405ہجری)،امام ابونعیم احمد بن
عبداللہ اصفہانی (وفات 430ہجری)،امام احمد بن حسین بیہقی(وفات458ہجری)،خطیب بغدادی (وفات 463 ہجری) رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِمْاس فن تخریج میں پیش رو تھے۔
امام ابن حجر عسقلانی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ(وفات852ہجری)کی کتاب ”تلخيص الحبير فی احاديث الرافعي
الكبير“ اور امام جمال الدین زیلعی(وفات762ہجری) رَحْمَۃُ
اللہِ عَلَیْہ کی کتاب ”نصب الرایہ فی تخریج احادیث الہدایہ“فن
تخریج کی دو اہم اور بڑی کتابیں ہیں۔”اصول فن تخریج“ کی بات کریں تو اس فن کے موجد اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان
رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہقرار پاتے ہیں۔اسی بات کو استاذ جامعۃ الکرم برطانیہ
علامہ ابو المحاسن محمد نوید جمیل القادری
نے”امام احمد رضا کی خدمات علوم حدیث کا تحقیقی اور تنقیدی جائزہ “کے پیش لفظ میں
بیان کیا ہے۔یہ صرف دعویٰ ہی نہیں بلکہ اس پردلائل بھی موجود ہیں۔
فن اصول تخریج کے موجد:
فن اصولِ تخریج میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی کتاب ”الروض البہیج فی آداب التخریج “ایک منفرد اور بے نظیر کتاب ہے۔مولوی رحمن علی خلیفہ
حاجی امداداللہ مہاجر مکی علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب ”تذکرۂ علمائے ہند“ میں جب امام
احمد رضا علیہ الرحمہ کی اس کتاب کا ذکر کیا تو ان الفاظ سے کیا:”اگر پیش ازیں
کتابے درین فن نافتہ شود پس مصنف را موجد تصینف ہذا می تواں گفت“ترجمہ: اگر اس سے
پہلےاس فن میں کسی نے کتاب نہ لکھی ہوتو مصنف (اعلیٰ حضرت)کو اس فن کا موجد کہا جاسکتا ہے۔(تذکرۂ علمائےہند،ص17،امام احمد رضا خان کی خدمات علوم حدیث کا تحقیقی اور
تنقیدی جائزہ،پیش لفظ،ص14)بعد
والوں میں فن اصول تخریج کے حوالے سے
نمایاں طور پر دو شخصیتوں کانام اور ان کی کتابوں کا ذکر آتا ہے:
(1) علامہ شیخ سید احمد بن محمد حسنی ادریسی غمازی مغربی اور ان کی کتاب ”حصول التفریج
باصول التخریج“ ہے اور(2)ڈاکٹر محمود طحان
اور ان کی کتاب”اصول التخریج ودراسات الاسانید“
یہ دونوں حضرات اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ
الرحمہ کے بعد کےہیں ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں حضرات اپنی اپنی کتاب کو فن اصول تخریج میں پہلی کتاب گردانتے ہیں
اور خود کو اس فن کا موجد قرار دیتے ہیں۔اسی بات کومحقق علامہ ابو المحاسن محمد نوید جمیل القادری بیان کرکے لکھتے ہیں:دونوں حضرات کے تصور میں یہ
دعویٰ خالی از دلیل نہیں بلکہ استقصاءِ
تام،تلاش وجستجو،تفتیش کے بعد بحث وفحص سے بھی اس فن اصول تخریج کےلئے کتاب تو کُجا کسی کتاب کا نام تک نہیں ملتا۔سید غمازی
صاحب کی عبارت میں تو اس فن کے اصول کے اشارات تک نہ ملنے کی تحقیق ہے۔اب دونوں
حضرات کی عبارات ملاحظہ فرمایئے:
ڈاکٹر محمود طحان کی عبارت:
رہی بات”اصول تخریج“کی تو میرے علم میں نہیں ہےکہ کسی
شخص نے ان ابحاث کا ذکر کیا ہویا اس فن میں کوئی تصنیف موجود ہو، نہ زمانہ قدیم
میں اور نہ ہی زمانہ حال میں ۔( اصول التخریج ودراسات الاسانید،صفحہ5)
سید غمازی کی عبارت:
اس فن اصول تخریج کی اصل اور بنیادوں کو کوئی شخص نہیں
پہنچا اور نہ کوئی اس طرف متنبہ ہوا کہ اس فن میں کچھ تالیف کرے اور اس کی فصلوں
کو ترتیب دے۔میرے علم میں نہیں کسی نے اس
فن میں کوئی مستقل تصنیف کی ہواور نہ مجھے
کسی ایسے شخص کے بارے میں علم ہے جس نے اس فن کے اصول کو علیحدہ سے جمع کیا ہوبلکہ
اس کے قواعد کی طرف اشارہ بھی نہیں ملتا۔( حصول التفریج باصول
التخریج ،صفحہ11)(امام احمد رضا
خان کی خدمات علوم حدیث کا تحقیقی اور تنقیدی جائزہ،پیش لفظ،ص15تا16 مع تصرف)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان
علیہ الرحمہ ہی اس فن اصول تخریج کے موجد ہیں کیونکہ آپ کی تصنیف ”الروض البہیج فی آداب
التخریج “ان دونوں حضرات کی تصانیف
سے پہلے کی ہے۔
فن اصول تخریج میں مہارت:
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی فن اصول تخریج سے واقفیت اور
مہارت کا اندازہ آپ اس بات سے لگاسکتے ہیں
کہ علامہ ابن عابدین شامی (وفات
1252ہجری)علیہ الرحمہ نے اپنی شہرہ
آفاق کتاب”رد المحتار “ کے باب الاذان میں ایک حدیث پاک ذکر فرمائی اور اس کے بعد
فرمایا:قَدْ
اَخْرَجَ السُّيُوطِيیعنی اس حدیث
پاک کی تخریج امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے فرمائی۔اعلیٰ حضرت امام احمد
رضا خان علیہ الرحمہ نے اس پر تنبیہ کرتے ہوئے ”جد الممتار علی رد المحتار“ میں
فرمایا:لفظ ”
اَخْرَجَ“غیرمحل میں ہےکیونکہ یہ محدثین
کے ہاں روایت کے معنیٰ میں ہے جس کے ساتھ سند ہوتی ہے۔یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ سند کے
ساتھ روایت ذکر نہیں کرتے لہٰذااولیٰ یہی
تھا کہ علامہ شامی علیہ الرحمہ” اَخْرَجَ“کی
جگہ ”نَقَلَ“یا ”ذَکَرَ“یا
”اَوْرَدَ“یا اس سے ملتے جلتے الفاظ ذکر کرتے۔(جد الممتار،جلد3،ص72مکتبۃ المدینہ)
تخریج اور فن اصول تخریج سے آگاہی
رکھنے والے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کتابوں اور ان کے مصنفین اور مؤلفین کے
بارے میں آگاہی رکھےتاکہ حوالہ دینے میں غلطی نہ کربیٹھے۔اس میدان میں بھی اعلیٰ
حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ اپنی مثال آپ تھے۔چنانچہ امام طحطاوی علیہ الرحمہ نے
درمختار کے حاشیہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کی ایک روایت نقل کرتے ہوئے فرمایاکہ بزار اور
طیالسی نے بھی اسے روایت کیا اور طبرانی نے بھی حلیۃ الاولیاء میں حضرت ابن مسعود رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کے ذکر میں اسے بیان کیا،یہ بات المقاصد الحسنہ
میں ہے۔اس حاشیہ پر اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں:علامہ شامی علیہ
الرحمہ نے بھی (رد
المحتارمیں )اسی
طرح” المقاصد الحسنہ“کے حوالے سے بلاتبصرہ نقل فرمایا حالانکہ حلیۃ الاولیاء حافظ
ابو نعیم کی تصنیف ہے ،حافظ ابو قاسم سلیمان طبرانی اس کے مؤلف نہیں ہیں۔ (تعلیقات رضا،ص162کرماں
والا بک شاپ لاہور)
حوالہ جات کے رموز اوراشارات سے واقفیت:
تخریج اور فن اصول تخریج جاننے والے کو عبارت کے حوالے
کے لئے استعمال ہونے والے رموزاور اشارات سے واقف ہونا بہت اہم اور ضروری ہے۔اس حوالے سے بھی اعلیٰ حضرت امام احمد
رضا خان علیہ الرحمہ بے مثال ہیں۔صاحب
قنیہ ایک مسئلہ ذکر کرتے ہوئے ”کص“،”مت“ اور ”قع“کے حوالے
دیتے ہیں۔اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ ان رموز کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”کص“سے مراد رکن الائمہ صباغی ہیں، ”مت“سے مراد مجد الائمہ ترجمانی ہیں اور ”قع“
سے مراد قاضی عبد الجبار ہیں۔(جد
الممتار،جلد3، ص53 مکتبۃ المدینہ)
مدارج کتب سے واقفیت:
فنِ اصول تخریج سے واقفیت رکھنے والے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ مدارج کتب کو جانتا ہو یعنی یہ جانتا ہو کہ فلاں کتاب کس درجہ کی ہے اور اس کا
کیا مرتبہ ہے۔کتب فقہ میں ہے تو کیا وہ
متن ہے ،شرح ہے یا فتاوی میں سے ہے اور کتب حدیث میں سے ہے تو
کیا وہ صحاح میں سے یا سنن میں سے یا پھر مسانید وغیرہ میں سے ہے۔ان میں سے پہلے
کسے فوقیت حاصل ہےاور پھر کسے۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ اس حوالے سے بھی اپنی الگ
پہچان رکھتے ہیں چنانچہ آپ خودفرماتے ہیں:میرے نزدیک فقہ میں (کُتبِ)متون،شرح اور فتاوی کا حال وہی ہے جو حدیث میں (کُتبِ)صحاح
،سنن اور مسانید کا حال ہے۔(فتاوی رضویہ،4/208تا211)یعنی جس طرح کتب احادیث میں پہلا درجہ صحاح پھر سنن کا
اور پھر مسانید کا ہے یونہی کتب فقہ میں پہلا درجہ کُتبِ متون پھر کُتب شروح اور
پھر کتب فتاوی کا ہے۔اسی مقام پر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے متون ،شروح اور
فتاوی کی بہت سی کتابیں گنوائی یوں ہی
صحاح ،سنن اور مسانید کی بہت سی کتابوں کا
تذکرہ بھی کیا ہے۔ساتھ یہ بھی بیان فرمایا کہ کون سی کتب متون شامل ہیں اور کون سی
نہیں،کن کتب کا درجہ شرح کا ہے اور کن کا فتاوی کا۔کون سی کتب ضعیف ہیں اور کون سی
مستند ، صحاح میں کون سی کتب شامل ہیں اور
کون سی نہیں اور اسی طریقے سے کتب سنن اور مسانید کا تذکرہ فرمایا ۔اتنا کچھ ذکر
کرنے کے بعد بھی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:اس سے متعلق پوری بحث کا جسے
شوق ہو وہ میرا رسالہ ”مدارج طبقات الحدیث“ملاحظہ کرے۔ (فتاوی رضویہ، 4/208)
لغت
میں حاشیہ سے مراد وہ شرح یا یادداشت ہے جو
کسی کتاب کے متن سے باہر لکھی جائے۔آزاد دائرہ معارف میں ہے:”حاشیہ متن میں موجود
کسی لفظ یا الفاظ کے معنیٰ،ترجمے،مختصر تشریح اور وضاحت کو کہتے ہیں۔“ درحقیقت حاشیہ سے مراد وہ افکار ہیں جنہیں
مؤلف،مصنف یا محقق متن سے علیحدہ صفحے کی ایک طرف تحریر کرتا ہے۔اسےہامش ، تعلیق
اور انگریزی میں فٹ نوٹ(Footnote) سے تعبیر کرتے ہیں۔ حاشیہ کا مقصد مشکل اور پیچیدہ امور کی تشریح
کرنا، کسی نظریہ ،سوچ اور عقیدے کی وضاحت اور اس کی مزید تفصیل بیان کرنا،کسی آیت
قرآنی یا حدیث نبوی کی تخریج کرنا،کسی شخصیت ،جگہ اورفن کا تعارف کروانا،کسی رائے
کی تحقیق یا کسی رائے پر تبصرہ کرناوغیرہ ہے۔
حاشیہ نگاری کی ابتدا:
علامہ شمس بریلوی علیہ
الرحمہ حاشیہ نگاری کی ابتدا کے متعلق لکھتے ہیں:تلاش سے پتا چلتا ہے کہ حاشیہ
نگاری کا آغاز ساتویں صدی ہجری میں ہوااور سب سے پہلے محشی یا حاشیہ نگار نجم
العلما علی بن محمد بن احمد بن علی ہیں۔آپ نے ہدایہ کے مشکل مقامات پر فوائد کے
نام سے حاشیہ لکھا ہے۔آپ نے 667ہجری میں وفات پائی۔اس لئے حاشیہ نگاری کی ابتدا ہم
ساتویں صدی ہجری کو قرار دے سکتے ہیں۔(امام
احمد رضا کی حاشیہ نگاری،جلد دوم،ص27)
حاشیہ نگاری کی
اہمیت وضروت:
محشی اپنے نقطہ نظر
سے جس جملہ،کلمہ یا جس لفظ کی تشریح اورتوضیح ضروری خیال کرتا ہے اس کو حاشیہ کے
لئے منتخب کرتا ہے۔کہیں کسی معنیٰ کی وضاحت مقصود ہوتی ہے،کہیں توضیح کے بجائے وہ
مصنف یا مؤلف سے اختلاف کرتا ہےاور اس اختلا ف کو وہ مصنف کے معاصرین،دیگر مصنفین،مصنف
کے پیشواؤں کے بیان کے حوالوں سے مستدل کرتا ہے۔کبھی اختلاف پردلیل پیش کرتا ہے اور ان تمام چیزوں سے قاری کے ذہن
میں بہت سی مفید معلومات آتی ہیں ۔اشکالات
اور اعتراضات دفع ہوتے ہیں،مزید شرح اور وضاحت حاصل ہوتی ہے،کتاب کو سمجھنے میں
آسانی ہوتی ہے۔کبھی مصنف یا مؤلف کوئی نکتہ بیان کرتا ہےجسے سمجھنا قاری کے لئے
مشکل ہوتا ہے محشی اس کی وضاحت کرکے قاری کے لئے آسانی پیدا کرتا ہے۔کبھی محشی
اجمال کی تفصیل اور کسی بات پر تنبیہ کرتاہے۔کبھی مصنف کوئی ایک صورت بیان کرتا
ہےتو محشی اس کی دیگر صورتیں بیان کرکے قاری کو اس بارے میں مکمل آگاہی دیتا
ہے۔کبھی مصنف کوئی ایسی بات بیان کرتا ہے جس سے عقیدے پر ضرب پڑ رہی ہوتی ہےیا
کوئی بدمذہب اسے دلیل بنا سکتا ہے محشی وہاں عقیدہ اہل سنت کی وضاحت کرتا ہےاور ہونے والے اعتراض کو رفع
کرتا ہے۔
حاشیہ کے
اندراج کے طریقے:
آج کل حواشی کے اندراج کے لئے عام طور پر تین طریقے استعمال کیے جاتے ہیں:
پہلا طریقہ:ہر صفحے کے حواشی اسی صفحے پرنچلے حصے میں درج کئے جاتے ہیں۔ایک صفحے پر جتنے حواشی ہوتے
ہیں ان کے نمبرلگادیئے جاتے ہے مثلاً ایک صفحے پر چھ حواشی ہوں تو ایک سے لے کر چھ
تک نمبرلگادیئے جاتے ہے اور یہ حواشی اسی صفحہ سے شروع ہو کر اسی صفحہ پر ختم ہو
جاتے ہیں یاکبھی اس سے اگلے ایک دو صفحات تک بھی چلے جاتے ہیں۔
دوسرا طریقہ:ہرکتاب،باب یا فصل کےلئے مسلسل نمبر لگائے جاتے
ہیں اور کتاب ،باب یا فصل کےاختتام پر تمام حواشی اکھٹے درج کئے جاتے ہیں۔
تیسرا طریقہ:پوری کتاب کے حواشی کے لئے مسلسل نمبر لگائے
جاتے ہیں اور کتاب کے آخر میں سارے حواشی اکھٹے کردیئے جاتے ہیں۔
حاشیہ میں درج
ہونے والے امور:
محققین اور اہل علم
حضرات حاشیہ میں جن امور کا ذکر کرتے ہیں ان میں سے چند یہ ہیں:
1۔قرآنی آیات کے
حوالے،شان نزول اور تفسیربیان کرنا۔2۔احادیث،آثار
صحابہ ،تابعین ،تبع تابعین وغیرہ بزرگان ِ دین کے اقوال کی تخریج اور ان میں وارد
ہونے والے مشکل الفاظ کی وضاحت اوراصول حدیث کی روشنی میں روایت کی فنی حیثیت کو
بیان کرنا۔3۔ شخصیات کا تعارف خواہ معروف ہوں یا غیر معروف۔ 4۔ممالک، شہروں، قصبوں
اور مقامات کا تعارف۔5۔حادثات،واقعات اور ادوار کو بیان کرنا۔6۔اشعار کی
وضاحت،شعروں کےاوزان اور بحور کو بیان کرنا،شعرا کے نام اور قصائد کا پس منظر
لکھنا۔7۔ضرب الامثال اور محاوروں کی وضاحت کرنا۔8۔عبارات ، اقتباسات ،روایات کی
تحقیق کرکے اصل مصادر کی جانب راہنمائی کرنا۔9۔متن کتاب میں ذکر کردہ مسائل کے
دلائل، ان کی وضاحت اور شرح کےلئے مثالیں دینا۔10۔مصنف یا مؤلف کی رائے سے اختلاف
کرنا اور اس پر دلائل دینا۔11۔کسی غلطی کی نشان دہی اور درست بات کو ذکر کرنا۔
12۔کتاب کے نسخوں میں
اختلاف ہو تو اسے بیان کرنا اور درست کی نشان دہی کرنا۔13۔مشکل الفاط کے معانی
بیان کرنا۔14۔کسی عبارت اور اقتباس کا ترجمہ کرنا۔15۔کسی مذہب یا عقیدے کی وضاحت
کرنا۔16۔متن کی عبارت کے ربط کو بیان کرنا۔17۔مصنف یا مؤلف نے جس بات کی طرف اشارہ
کیا ہےاس کی وضاحت وصراحت کرنا۔18۔مصنف یا مؤلف نے کسی کتاب کا حوالہ دیا ہےاس
کتاب کا تعارف بیان کرنا۔19۔کسی کتاب کے
مستند یا غیر مستند ہونے کو بیان کرنا۔20۔کسی بات کا خلاصہ یا اختصار کرنا۔
حاشیہ،تعلیق
اور شرح میں فرق:
شرح میں متن(Text) کے اکثر مقامات کی وضاحت ہوتی ہے۔حاشیہ میں ان ہی مقامات کو زیر غور لایاجاتا ہے
جہاں حواشی کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے ہر لفظ یا مقام کی وضاحت نہیں کی جاتی۔اسی
لیے کہا جاتا ہے:” اَلْحَاشِیَۃُ مَاتُوْضِحُ الْمَتَنَ بَعْضَہُ یعنی حاشیہ اُسے کہتے ہیں جو متن کے بعض حصے کی توضیح
کرے۔“حواشی اگر کم ہوں تو اسے تعلیق سے بھی تعبیر کرتے ہیں اور کبھی حواشی کو بھی
تعلیقات کہہ دیتے ہیں۔علامہ شمس بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:کسی کتاب کی شرح وہ
کسی متن سے متعلق ہوتو توضیح ومطالب اورتصریح کے لئے اصل متن سے زیادہ ضخامت اور
حجم کی خواہاں ہوتی ہے۔شرح اور تعلیق کا خاص فرق یہ ہے کہ شرح میں متن کی کسی سطر
کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاتا تمام وکمال متن کی تصریح وتوضیح کی جاتی ہے اور
تعلیقات میں یہ ضروری نہیں۔تعلیقات نگار متن کے جس جزو کی چاہتا ہے تعلیقات کے ذریعے
وضاحت کرتا ہے اس پر یہ پابندی نہیں کہ شرح کی طرح تمام متن کی وضاحت کرے۔تعلیقات
نگار متن کے جس قدر حصہ پر چاہتا ہے تعلیقات لکھتا ہے۔حاشیہ اگرچہ شرح کی طرح
لازمہ ہر سطر نہیں ہوتا لیکن شرح سے زیادہ دقت نظر کا طالب وخواہاں ہے۔محشی اپنے
نقطہ نظر سے جس جملہ،جس کلمہ یا جس لفظ کو تصریح وتوضیح کےلئے ضروری خیال کرتا ہے
اس کو حاشیہ کے لئے منتخب کرتا ہے۔(امام
احمد رضا کی حاشیہ نگاری،ص34تا39ملخصاً)
از:محمد گل فراز مدنی
(اسلامک ریسرچ سینٹر دعوتِ اسلامی)
عالمِ اسلام کی عبقری اور نابغۂ روزگار شخصیت امام عشق و محبت ، امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے شجرِ اسلام کو اپنے لہو سے جس طرح سیراب کیا اور اس کی آبیاری میں جس جانکاہی کا مظاہرہ فرمایا ہے اس کے اَنمِنٹ نقوش پوری دنیا میں دیکھے جارہے ہیں۔بر صغیر کے طبقۂ علما کے سرخیل امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تمام عمر ایوانِ جہل و ظلمت میں قندیلِ ربانی روشن کرتے رہے۔ آپ نے فقہ و فتاویٰ ، تفسیر و کلام اور سیر و تاریخ کے دامن میں اپنے علم و فن کے جو نقوش ثبت کئے ہیں وہ آج بھی آبدار موتی کی طرح چمک دمک رہے ہیں اور ان سے عالَمِ انسانیت فیضیاب ہورہا ہے۔
ایک طرف اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی اپنی ذاتی خدمات اسلامی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھنے کے قابل ہیں تو دوسری طرف ان کے سو (100)سے زیادہ تربیت یافتہ خلفا اور ہزاروں تلامذہ کی خدماتِ دینی بھی بر صغیر کی تاریخ کا ایک انمول حصہ ہے۔ امامِ اہلِ سنت نے برصغیر میں بالخصوص تقدیسِ الٰہی، تحفظِ ختمِ نبوت اور تعظیمِ نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمات کا جو بیڑا اٹھایاتھا ان کے تلامذہ اور خلفا نے اس کو چار چاند لگانے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔
اعلیٰ حضرت نے شعبہ ہائے زندگی کے ہر میدان کا مردِ مجاہد تیار کرکے قوم کو عطا کیا۔ حجۃ الاسلام، صدرالشریعہ، صدرالافاضل، محدثِ اعظم ہند، مفتیِ اعظم ہند، ملک العلماء، مبلغِ اسلام، شیر بیشۂ اہلسنت جیسے برجِ فضل و کمال کے درخشندہ ماہ ونجوم آپ ہی کی آغوشِ تربیت میں پروان چڑھے ہیں۔ آپ کے متعدد خلفا نے مختلف جہتوں میں کام کیا ۔ مثلاً فقہی، معاشرتی اور معاشی مسائل،تحریک جدو جہد آزادی، تبلیغِ اسلام، روحانی اور طریقت کے افکار، ردِ مذاہبِ باطل ادیان وغیرہا۔ آپ کے خلفا پاکستان، ہند، بنگال، افریقہ اور بلادِ عرب میں پھیلے ہوئے ہیں جنہوں نے پاک و ہند اور بیرونی دنیا کے گوشہ گوشہ میں اسلام کا پیغام پہنچایا اور مسلکِ اہل سنت و جماعت کی اشاعت کرتے ہوئے ملت اسلامیہ کو مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا سچا فدائی و پرستار بنایا۔
یہاں بڑی جانفشانی اور خوب محنت کے بعد 134 خلفائے اعلیٰ حضرت کا مختصر اور جامع تذکرہ جمع کیا گیا ہے۔ حالات لکھتے وقت حتی الامکان یہ کوشش کی گئی ہے کہ ہر خلیفۂ اعلیٰ حضرت کا لقب، کنیت ملے تو اس کا ذکر، نسبت، مکمل نام، پیدائش اور وفات کی تاریخ، ان کی لکھی ہوئی کتاب، ان کا قائم کردہ ادارہ ہو تو اس کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ البتہ بعض خلفا کے متعلق ممکنہ تلاش و بسیار کے باجود زیادہ معلومات نہ مل سکیں ، اس لئے ان کے متعلق جتنی معلومات میسر آئیں وہ رقم کردی گئی ہیں۔
دعا ہے کہ اللہ پاک اس کاوش کو اپنی بارگاہِ عالی میں قبول فرمائے اور ہمیں مسلکِ اعلیٰ پر دوام نصیب فرمائے۔ آمین
آ
(1) عاشقِ اعلیٰ حضرت مولانا سیِّد آصف علی کانپوری علیہ رحمۃ اللہ القَوی ، عالمِ باعمل اور مجازِ طریقت تھے، کانپور محلہ فیل خانہ قدیم میں 1295ہجری میں پیدا ہوئے اور 14شوال 1360ہجری میں کانپور (یوپی) ہند میں ہی وِصال فرمایا۔ (تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص283-288)
الف
(2 ) عالمِ باعمل حضرت سیدابراہیم بن عبدالقادرحنفی مدنی کی ولادت مدینہ شریف میں ہوئی۔ آپ عالمِ باعمل تھے۔ فاضلِ اَجل، عابد و زاہد اور بڑ ے پرہیز گار تھے ۔ تحصیلِ علم کے لیے6 ماہ بریلی میں اعلیٰ حضرت کے پاس بھی رہے۔ (تذکرہ ٔخلفائے اعلیٰ حضرت ص 79،تاریخ الدولۃ المکیہ ص 117،ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت 214) (3)مُفسّر اعظم حضرتِ مولانا ابراہیم رضا خان رضوی جیلانی میاں رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت1325 ھ کو بریلی شریف (یوپی) ہند میں ہوئی۔ آپ عالمِ دین، مصنف، مہتمم دار العلوم منظرِ اسلام اور شیخ الحدیث تھے۔ 11 صَفَرُالْمُظَفَّر 1385ھ کو وصال فرمایا، آپ کا مزار مبارک بریلی شریف (یوپی) ہند میں روضۂِ اعلیٰ حضرت کے دائیں جانب مرجعِ خلائق ہے۔ (تجلیات تاجُ الشریعہ، ص93، مفتی اعظم اورانکے خلفاء، ص110)
(4)مفتیِ اعظم پاکستان، سیّدُ المحدّثین حضرت علامہ ابوالبرکات سیّد احمد قادری رضوی اشرفی علیہ رحمۃ اللہ القَوی ، استاذُ العُلَماء، شیخ الحدیث، مناظرِ اسلام، بانی و امیر مرکزی دارُالعلوم حِزبُ الاحناف اور اکابرینِ اہلِ سنّت سے تھے۔ 1319 ہجری کو محلہ نواب پور اَلْوَر (راجستھان) ہند میں پیدا ہوئے اور لاہور میں 20شوّال 1398ہجری میں وِصال فرمایا، مزار مبارک دارُالعلوم حِزب الاحناف داتا دربار مارکیٹ لاہور میں ہے۔(تاریخِ مشائخِ قادریہ رضویہ برکاتیہ، ص314-318)
(5)مفسّرقراٰن حضرت علامہ سَیِّد ابوالحسنات محمد احمد قادِرِی اَشْرَفی علیہ رحمۃ اللہ القَوی 1314ھ اَلْوَر (راجستھان) ہند میں پیدا ہوئے اور2شعبان 1380ھ میں پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں وفات پائی، مزارِ داتا گنج بخش سیّد علی ہَجْویری کے قُرب میں دفن ہونے کا شرف پایا۔ آپ حافظ، قاری، عالمِ باعمل، بہترین واعِظ، مسلمانوں کے مُتَحَرِّک راہنما اور کئی کتب کے مُصَنِّف تھے۔ تصانیف میں تفسیرُالحَسَنات (8جلدیں) آپ کا خوبصورت کارنامہ ہے۔ ( تذکرہ اکابراہلسنت، ص442، تفسیرالحسنات، 1/46)
(6)مدرسِ حرم، عالمِ باعمل حضرت سیّدنا شیخ سیّد ابوبکر بن سالم البار مکّی عَلَوی شافعی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت1301 ھ کومکّۂ مکرمہ کے ایک علمی گھرانے میں ہوئی اور 2 صَفَرُالْمُظَفَّر 1384ھ کو وصال فرمایا، جنّت المعلیٰ میں مدفون ہوئے۔ آپ قاضیِ شہر، فقیہِ شافعی، استاذُ العُلَما، مصنف اور شیخِ طریقت تھے۔(الدلیل المشیر، ص 21، سالنامہ معارف رضا 1999ء، ص200)
(7)شہزادۂ شیخ المشائخ،حضرت مولاناسیّد ابوالمحمود احمد اشرف اشرفی کی ولادت 1286 ھ کچھوچھہ شریف (ضلع امبیڈ کر نگر،یوپی) ہند میں ہوئی۔آپ عالمِ باعمل،شیخِ طریقت، مناظرِ اسلام اورسلطان الواعظین تھے۔ 15ربیع الآخر 1347ھ کو وصال فرمایا۔مزار کچھوچھہ شریف میں ہے۔(حیات مخدوم الاولیا، ص439تا449)
(8)اُستاذُالعُلَماء مولانا اَحمد بخش صادِق تونْسَوِی رَضَوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی عالِمِ باعمل، شاعِر، صاحبِ تصنیف، مُدرِّس و مُہْتَمِمْ مدرسہ محمودیہ تونسہ شریف اور بانیِ جامِع مسجد احمد بخش (بلاک12، ڈیرہ غازی خان پنجاب) تھے۔ 1262ھ میں پیدا ہوئے اور 2 رجب 1364ھ میں وصال فرمایا۔ مزار مذکورہ جامِع مسجد سے مُتّصِل ہے۔ (تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص124)
(9)مدرسِ حرم، قاضیِ مکّۂِ مکرّمہ حضرت سیّدنا شیخ احمد بن عبدُاللہ ناضرین شافعی مکّی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت1299ھ میں مکّۂ مکرّمہ میں ہوئی اور 13 صَفَرُالْمُظَفَّر 1370 ھ کو وصال فرمایا، جنّۃُ المَعلٰیمیں دفن کئے گئے۔ آپ بہترین مدرس، علومِ قدیم و جدید کے جامع، صاحبِ تقویٰ و ورع، فقہِ شافعی کے فقیہ اور باعمل عالمِ دین تھے۔ (الدلیل المشیر، ص 46 تا51)
(10)شیخ الاسلام، حضرت امام احمد بن محمد حضراوی مكّى شاذلی قادری رحمۃ اللّٰہ علیہ حافظُ القراٰن، عالمِ باعمل، شاعرومؤرِّخِ اسلام، فقیہِ شافعی، کاتب و مصنّف کتب اور استاذُ العُلَماء تھے۔ 1252ھ کو مصر کے شہر اِسکَنْدَریہ میں پیدا ہوئے، حصولِ علم کے بعد زندگی بھر مکّۂ مکرَّمہ میں رہے اور یہیں 21ذوالقعدہ 1327ھ میں وصال فرمایا۔ تصنیف شدہ کتب میں نَفَحَاتُ الرّضی والقُبُول فِي فَضَائل الْمَدِيْنَةِ وزِيَارَةِ الرَّسُوْل بھی یادگار ہے۔(مختصر نشر النور والزھر، ص 84۔ سالنامه معارف رضا 1999، ص203)
(11)امین الفقہاء حضرت مولانا احمدحسن خان قادری رضوی حیدرآبادی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1292ھ کو حیدرآباد دکن ہندمیں ہوئی۔ آپ جیّدعالمِ دین ،بہترین واعظ،سلسلہ قادریہ کے شیخِ طریقت تھے۔ آپ کا وصال29 ربیع الآخر 1395ھ کو حیدرآباد دکن میں ہی ہوا۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت 557تا561)
(12)تاجُ الْفُیُوض حضرت مولانا احمد حسین امروہی نقشبندی قادِری علیہ رحمۃ اللہ القَوی عالِمِ باعمل، شیخِ طریقت، شاعِر، کئی کُتُب کے مصنف اور مُتَرْجِم تھے۔ 1289ھ میں پیدا ہوئے اور 27رجب 1361ھ میں وِصال فرمایا۔ تدفین والِدِ گِرامی کے پہلو اَمروہہ ضلع مُرادآباد (یوپی) ہند میں ہوئی۔ (تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت،ص126،تذکرہ مشائخِ قادریہ، ص264)
(13)استاذُ العُلَما، حضرت مولانا سیّد احمد عالَم قادری رجہتی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت موضع بچروکھی نزد رجہت (ضلع نوادہ، بہار) ہند میں ہوئی اور 12 صَفَرُالْمُظَفَّر 1377ھ کو وصال فرمایا، بسرام پور، تھانہ امام گنج (ضلع گیا، بہار) ہند میں آسودۂ خاک ہیں۔ آپ جیّد عالِم، مدرس اور قادرُ الکلام واعظ تھے۔ (ماہنامہ اعلیٰ حضرت،اپریل 2002ء صد سالہ منظرِ اسلام نمبر قسط:2، ص167)
(14)مبلغِ اسلام،حضرت مولانا شاہ احمد مختار صدیقی قادری رحمۃ اللہ علیہ عالمِ باعمل،واعظِ خوش بیان، استاذُ العلماء، ہمدردِمِلّت اور بلند پایہ مُصنف تھے ،آپ کی کوشش سےکئی غیرمسلم دائرہِ اسلام میں داخل ہوئے۔1294ھ میں میرٹھ (یوپی، ہند) میں پیدا ہوئے اور14 جمادی الاولیٰ1357ھ کودَمّن پرتگیز (ہند) میں وصال فرمایا۔(ماہانہ معارف رضا جون 2012ء، ص29)
(15) قاضی مکہ شیخ اَسْعدبن احمددھان مکی حَنَفِی کی ولادت 1280 ھ مکہ شریف میں ہوئی اور 1341 ھ کووِصال فرمایا، مکہِ مکرمہ میں دَفْن کئے گئے ۔آپ کثیرعُلُوْم کے جامِع ،بہترین کاتِب، مُدَرِّسِ حَرَم،امِام نمازِ تراویح ، حَسَنَۃُ الزَمان، زاہد ومتقی، رُکْنِ مَجْلسِ تعزیراتِ شَرْعِیہ ، صدرہیئۃِمجلسِ تَدْقیِقْاتِ اُمُوْرِ الْمُطَوِّفِیْن (معلمین سے معاملات کی چھان بین کرنے والے ادارے کےصدر) اور مُقَرِّظُ الدَوْلۃ المکیۃ وحُسام الحَرَمَیْن تھے۔(مختصر نشر النور والزھر ص129، امام احمدرضا محدث بریلوی اورعلماء مکہ مکرمہ ص201تا205)
(16)مُحَافِظِ کُتُبِ حَرَم،عالمِ جَلیل حضرت شیخ سیداسماعیل بن سیدخلیل حنفی قادری آفندی مکی کی ولادت اندازاً 1270 ھ کو مکہ شریف میں ہوئی اوروصال 1329 ھ کواستبول میں فرمایا۔آپ جَیِّدومُحتاط عالمِ دین،بڑے ذَہین وفَطین،وَجیہ صورت اور حُسنِ اَخلاق کے پیکر تھے ۔(الاجازات المتینہ ص32تا35،تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت ص36 تا53،تاریخ الدولۃ المکیہ ص104)
(17)امام العُلَماء حضرت مولانا حافظ امام الدین کوٹلوی قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہکی ولادت کوٹلی لوہاراں مغربی)ضلع سیالکوٹ) میں ہوئی اور19 صفَر المُظفّر 1381 ھ کو وصال فرمایا،تدفین قبرستان عیدگاہ شریف راولپنڈی میں ہوئی۔ آپ عالم باعمل ،اچھے واعظ ،مصنفِ کتب ،قادرالکلام شاعراورمجازِطریقت تھے ۔ نصرۃ الحق آپکے کلام کا مجموعہ ہے ۔ (تذکرہ فقیۂ اعظم،ص 30 ،33)
(18) صاحبِ بہارِ شریعت صدرُالشّریعہ حضرت علامہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی ولادت 1300ھ کو مدینۃ العُلَماءگھوسی (ضلع مؤ،یوپی)ہند میں ہوئی اور 2 ذوالقعدہ1376ھ کووصال فرمایا،مزارمبارک گھوسی میں ہے۔ آپ جیّدعالم ومدرّس،متقی وپرہیزگار،مصنف کتب ،استاذالعُلَماء،مصنفِ کتب وفتاویٰ ، مؤثرشخصیت کے مالک اوراکابرینِ اہلِ سنّت سے تھے۔اسلامی معلومات کا انسائکلوپیڈیا بہارِ شریعت آپ کی ہی تصنیف ہے۔(تذکرہ صدرالشریعہ،5، 41وغیرہ)
(19)صاحبِ باغِ فردوس حضرت مولانا سیّد ایّوب علی رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی ، فارسی و ریاضی میں ماہر، مُدَرِّس، شاعر، مصنف، بانیٔ رضوی کتب خانہ اوراعلیٰ حضرت کے پیش کار(منیجر) تھے۔ 1295ھ بریلی شریف( یوپی ،ہند) میں پیدا ہوئے، جمعۃُالوداع 26رمضان 1390ھ کو وصال فرمایا، مزار مبارک میانی قبرستان لاہور میں ہے۔ (ماہنامہ معارف رضا، نومبر 2001ء، ص19،21)
ب
(20) فاضلِ مکہ،حضرت مولانا بکررفیع مکی کو اعلیٰ حضرت نے3صفر1324ھ کو مکہِ مکرمہ میں خِلافت سے نوازا۔ (الاجازات المتینۃ،ص44)
(21) برہانِ ملت حضرت مولانا مفتی برہان الحق جبل پوری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1310ھ کو جبل پور(سی پی) ہند میں ہوئی اور وصال26ربیع الاول 1405ھ کو فرمایا ۔مزارمبارک عیدگاہ کلاں رانی تال جبل پورمیں ہے ۔آپ فاضل دارالعلوم منطرِاسلام،مفتیِ اسلام،عُلومِ عقلیہ ونقلیہ کے ماہر،نعت گوشاعر،بہترین واعظ،متحرک راہنما،شیخِ طریقت اوردرگاہِ قادریہ سلامیہ کے سجادہ نشین تھے ۔تصنیف کردہ 26کتب ورسائل میں ’’جذبات برہان‘‘بھی ہے جو آپ کا نعتیہ دیوان ہے۔ (برہان ملت کی حیات وخدمات،16،17،63 )
(22) زینتُ القُرّاء حضرت مولانا حافظ قاری بشیر الدّین قادری نقشبندی جبل پوری علیہ رحمۃ اللہ القَوی ، مدرّس، شیخِ طریقت اور اچھے قاری تھے،ولادت 1285ہجری میں اور وصال 2 شوال 1326ہجری میں ہوا۔ مزار مبارک عیدگاہ کلاں جبل پور (مدھیہ پردیش) ہند میں ہے۔(تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت،ص431-434)
ج
(23) مُدَرِّسِ حَرَم حضرتِ سَیِّدُناشیخ جمال بن امیربن حسین مالکی قادری کی ولادت 1285 ھ کومکہ شریف میں ہوئی۔ وفات 1349ھ کوفرمائی ،مکہ شریف میں دفن کئے گئے۔آپ امام مالکی،مُصَنِّفِ کُتُب،جَسْٹس شرعی عدالت،رُکْنِ مجلس اَعلیٰ محکمہ تعلیم اور مُقَرِّظُ الدولۃ المکیۃ وحُسام الحرمین تھے، آپ کی کتب میں ’’الثمرات الجنیۃ فی الاسئلۃ النحویۃ‘‘ مشہور ہے۔ (مختصر نشر النوروالزھر،ص 163،اما م احمد رضا محدث بریلوی اور علماء مکہ مکرمہ، ص 149تا151)
(24)مداحُ الحبیب مولانا صوفی شاہ محمد جمیل الرحمٰن خان قادری رضوی کی ولادت بریلی شریف ( یوپی) ہند میں ہوئی۔ 1343 ھ کو وصال فرمایا،تدفین قبرستان بہاری پور(سول لائن سٹی اسٹیشن) بریلی شریف(یوپی) ہندمیں مَزَار مولانا حسن رضا خان کے پہلو میں ہوئی۔ آپ خوش الحان نعت خوان، واعِظ خُوش بَیاں،عالمِ باعمل اورصاحبِ دِیوان شاعر تھے۔ (تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت،ص132،134۔برکات قادریت ص 15تا18 ،بریلی سے مدینہ ص 2)
ح
(25) شہزادۂِ اعلیٰ حضرت،حُجّۃُ الاسلام مفتی حامد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ عالم دین،ظاہری وباطنی حسن سےمالامال اور جانشینِ اعلیٰ حضرت تھے۔ بریلی شریف میں ربیعُ الاول1292ھ میں پیداہوئے اور17جمادی الاولیٰ 1362ھ میں وصال فرمایا اور مزار شریف خانقاہِ رضویہ بریلی شریف ہند میں ہے، تصانیف میں فتاویٰ حامدیہ مشہور ہے۔ (فتاویٰ حامدیہ،ص48،79)
(26) مُحسنِ ملّت حضرتِ علّامہ مولانا حامد علی فاروقی رضوی رائے پوری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادتِ باسعادت قاضی پور چندہا (الٰہ آباد یوپی) ہند میں 1306ھ میں ہوئی۔ 26 محرّمُ الحرام 1388ھ کو وصال فرمایا، رائے پور کے مشہور ولیُ اللہ حضرت فاتح شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے قرب میں آپ کی تدفین ہوئی۔ آپ فاضل منظرِ اسلام بریلی شریف، مناظر و خطیبِ اسلام، ملّی قائد اور قومی راہنما تھے، آپ نے کئی فتاویٰ بھی لکھے، آپ کا 1924ء میں قائم کردہ ”مدرسہ و ادارہ اصلاحُ المسلمین و دارُالیتامیٰ چھتیس گڑھ ہند“ آج بھی قوم و ملت کی آبیاری کررہا ہے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص562تا573)
(27)مقرب شاہ جی میاں حضرت مولانا حکیم حبیب الرحمٰن خان رضوی پیلی بھیتی کی ولادت 1288ھ پیلی بھیت (یوپی) ہند میں ہوئی۔ 1362ھ کو وِصال فرمایا، ان کی تدفین ان کے اپنےذاتی باغ میں ہوئی ۔ آپ عالم شہیر،مُدَرِّس جلیل، استاذالعُلَماء،مقبولِ عوام وعلما اوربانیٔ مدرسہ آستانہ عالیہ شیریہ ہیں۔(تذکرۂ خلفائے اعلی حضرت، ص135۔تذکرہ محدثِ سورتی، ص242)
(28) ہمدردِ ملّت حضرت مولانا حافظ حبیب اللہ قادری میرٹھی علیہ رحمۃ اللہ القَوی ، عالمِ باعمل، واعظِ خوش بیان، عربی وفارسی کےمدرِس اور بانیِ مسلم دَارُ الیَتَامٰی وَالمَسَاکِیْن مِیرَٹھ ہیں۔ 1304ہجری میں پیدا ہوئے اور 26شوال 1367 ہجری میں وِصال فرمایا۔ مزار مبارک قبرستان شاہ ولایت محلہ خیر نگر میرٹھ (یوپی) ہند میں ہے۔ (تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 227-233)
(29) صاحبِ ذوقِ نعت، استاذِ زَمَن مولانا حسن رضا خان علیہ رحمۃ الحنَّان برادرِ اکبراعلیٰ حضرت، قادِرُالکلام شاعر ،کئی کتب کےمصنف اور دارُالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف کےمہتممِ اوّل ہیں، 1276ھ کو محلہ سوداگران بریلی میں پیدا ہوئے، 22ر مضان 1326ھ کو وہیں وصال فرمایا، مزارمبارک قبرستان بہاری پور نزد پولیس لائن سٹی اسٹیشن بریلی شریف (یوپی، ہند) میں ہے۔آپ حضرت شاہ ابوالحسین نوری کے مریدوخلیفہ تھے، اعلیٰ حضرت نے بھی آپ کو خلافت سے نوازا۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت ،ص79،78،تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت ،91)
(30)خلیفۂِ اعلیٰ حضرت، سیّدُنا شیخ حسن بن عبدُالرّحمٰن عُجَیْمی حنفی مکی رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ عالمِ کبیر،فاضلِ جلیل اور عُجَیْمیخاندان کے علمی وارث تھے،1289ھ میں ولادت ہوئی اورجمادی الاولیٰ1361ھ میں وصال فرمایا،جنت المعلیٰ مکۂِ مکرمہ میں دفن کیے گئے۔( مکۂ مکرمہ کے عُجَیْمی علما، ص95 ۔ الاجازت المتینۃ، ص64)
(31) شہزادۂ استاذِ زمن، استاذُ العُلَما حضرتِ مولانا حسنین رضا خان رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1310 ھ کو بریلی شریف (یوپی) ہند میں ہوئی۔ آپ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت کے بھتیجے، داماد، شاگرد و خلیفہ، جامع معقول و منقول، کئی کُتُب کے مصنف، مدرسِ دار العلوم منظرِ اسلام، صاحبِ دیوان شاعر، بانیِ حسنی پریس و ماہنامہ الرضا و جماعت انصار الاسلام تھے۔ وصال5 صَفَرُالْمُظَفَّر 1401ھ میں فرمایا اور مزار بریلی شریف میں ہے۔ (تجلیات تاج الشریعہ، ص95، صدر العلما محدث بریلوی نمبر، ص77تا81)
(32) مفسرقرآن حضرت مولاناحشمت علی فائق قادری رضوی کی ولادت 1882ء بریلی شریف میں ہوئی اوریہیں 1962ء کو وصال فرمایا۔ قبرستان باقر گنج بریلی شریف میں دَفْن کئے گئے۔آپ فاضل منظراسلام،واعِظ اور شاعر تھے۔ آپ نے بالُخُصوص بچوں، عورتوں اور دینی طَلَبَہ کے لیے کُتُب تحریر فرمائیں۔ آپ کی تفسیر جواہرالایقان المعروف تفسیررضوی پانچ جلدوں پرمشتمل ہے۔ (جہان مفتی اعظم ہند،1072)
(33) شیر بیشۂ سنّت، عبیدالرّضا مولانا ابو الفتح حشمت علی خان رضوی لکھنوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی 1319ھ کولکھنو(یوپی) ہند میں پیدا ہوئے۔ آپ حافظُ القراٰن، فاضل دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف، مناظرِ اہلِ سنّت، مفتیِ اسلام، مصنف، مدرس، شاعر، شیخِ طریقت اور بہترین واعظ تھے۔ چالیس تصانیف میں ”الصوارم الہندیہ“ اور ”فتاویٰ شیربیشۂ سنّت“ زیادہ مشہور ہیں۔ وصال8 محرَّمُ الحرام 1380ھ میں فرمایا، مزار مبارک بھورے خاں پیلی بھیت (یوپی) ہند میں ہے۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 304تا316)
(34) اِمامِ تراویح فی الحَرَم سیّدحسین بن صدیق دَحْلان حسنی مکی شافعی کی ولادت 1294 ھ کو مکہ شریف میں ہوئی۔ وفات 1340 ھ کو انڈونیشیا میں ہوئی اور یہیں دفن کئے گئے۔ آپ خوش الحان قاری، مبلغ اسلام، سیاحِ مَمالِکِ اِسلامیہ، اَدیب وشاعر، جیدعالم اوراُستاذالعُلَما تھے ۔(نشرالنورص 179،امام احمدرضا محدث بریلوی اورعلمائے مکہ مکرمہ ص303)
(35) منظورِنظر اعلیٰ حضرت شیخ سیدحسین بن عبد القادر حَنَفِیْ مَدَنی کی وِلادت اوروِصال مدینہ شریف میں ہوا۔تدفین جَنَّۃُ الْبَقِیْع میں کی گئی۔آپ مدرس مسجدنبوی،جامِع عُلُوم جَدیدہ وقَدیمہ بالخُصُوص جَفَر ،نُجُوم، ہیئت ، اوفاق، اور تکسیرمیں ماہر، متقی وقانِع اورباحیا تھے۔ تحصیلِ علم کے لیے 14 ماہ بریلی میں اعلیٰ حضرت کے پاس بھی رہے۔( تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت ص58تا60،تاریخ الدولۃ المکیہ ص66،117،ملفوظات اعلیٰ حضرت, 211تا214)
(36)حضرت مولانا سَیِّدحسین علی رضوی اجمیری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کتاب ”دربارِچشت اجمیر“ کے مصنف،انجمن تبلیغِ مُحِبِّ مِشَن ہند اجمیر کے بانی اور روضہ ِٔخواجہ غریب نواز کے مجاور تھے۔ وصال 22شعبان1387 ھ میں ہوا اور اناساگرھاٹی اجمیر (راجستھان) ہند میں دفن کیے گئے۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، 448تا462)
خ
(37) اُستاذالعُلَماحضرت مولانا خلیل الرحمٰن بہاری قادری رضوی ،جیدعالم دین ، واعظ خوش بیان،مدرس مدرسہ عربیہ متیال مٹھ مدراس(ریاست تامل ناڈو) اورمجازطریقت تھے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،ص415تا417)
د
(38) امامُ الْمُحدِّثین حضرت مولانا سیِّد دِیدارعلی شاہ مَشْہدی نقشبندی قادِری مُحدِّث اَلْوَری علیہ رحمۃ اللہ القَویجَیِّد عالِم، اُستاذُالعُلَماء، مفتیِ اسلام تھے۔ آپ اَکابِرِینِ اَہلِ سنّت سے تھے۔ 1273ھ کو اَلْوَر (راجِسْتھان) ہِند میں پیدا ہوئے اور لاہور میں 22رجب 1345ھ میں وِصال فرمایا۔ دارُالعُلُوم حِزْبُ الْاَحْناف اور فتاویٰ دِیداریہ آپ کی یادگار ہیں۔ آپ کا مزار مُبارَک اَندرونِ دہلی گیٹ محمدی محلّہ لاہور میں ہے۔ (فتاویٰ دیداریہ، ص2)
ر
(39)استاذُ العُلَماء، حضرت مولانا رحم الٰہی منگلوری مظفر نگری قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت منگلور (ضلع مظفر نگر، یو پی)ہند میں ہوئی۔ آپ ماہرِ معقولات عالم، صدر مدرس اور مجازِ طریقت تھے۔ آپ نے بحالتِ سفر (غالباً28) صَفَرُالْمُظَفَّر 1363ھ کو وصال فرمایا۔ (تذکرہ خلفائے اعلی حضرت، ص138)
(40)استاذُالعُلَماء حضرت علامہ مفتی رحیم بخش آروی رَضَوی،جیِّد مُدَرِّس،مُنَاظِر،واعظ،مجازِ طریقت اور بانیٔ مدرسہ فیضُ الغُرَبَا (آرہ بہارہند)تھے۔ 8شعبان 1344ھ میں وفات پائی ،مولا باغ قبرستان آرہ (ضلع شاہ آبادبہار) ہند میں تدفین ہوئی۔ (تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص137)
(41)بڑے مولانا حضرت علامہ مفتی رحیم بخش باتھوی رَضَوی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہ القوی عالمِ باعمل، عارف باللہ،فاضل منظرِاسلام، استاذُ العلماء اور شیخ طریقت ہیں،19 جُمادی الاُخریٰ 1379ھ میں وصال فرمایا، مزارمبارک جنوبی قبرستان موضع باتھ اصلی ضلع سیتامڑھی صوبہ بہارہند میں ہے۔(تذکرہ علماء اہل سنت سیتامڑھی،157تا159،فقیہ اسلام ،266)
س
(42)استاذالعلماحضرتِ سیّدنا شیخ سیّد سالم بن سیدعیدروس بن عبدالرحمٰن البار، مکی علوی شافعی علیہ رحمۃ اللہ القَوی مکۂِ مکرمہ کے جَیِّدعالِمِ دین ،مُدَرِّس،شیخِ طریقت ، 11صفر1324ھ کو مکہِ مکرمہ میں اعلیٰ حضرت سے خلافت پانے والے، حرمِ پاک کےدومُدَرِّسِیْن شیخ سیدعیدروس البار،مکی (1299تا1367 ھ ) اور خلیفہِ اعلیٰ حضرت شیخ سید ابوبکرالبار،مکی (1301تا1384ھ) کے والدِگرامی تھے۔آپ نے 1327ھ کو مکۂِ مکرمہ میں وفات پائی۔ (الاجازات المتینۃ ،46،خلفائے اعلیٰ حضرت ،61)
(43) واعِظِ خُوش بَیاں حضرت مولانا سرفراز احمد قادری رضوی کی ولادت غالباً محلہ مکہڑی کھوہ مرزاپور(یوپی) ہندمیں ہوئی اوریہیں وِصال فرمایا۔آپ فاضل مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت، عالمِ دین،واعِظ اور مَجازِ طریقت تھے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 317)
(44) تِلمیذِاعلیٰ حضرت مولانامفتی نواب سلطان احمدخان قادری رضوی کی ولادت ذوالحجہ 1279ھ کو بریلی کے خاندان نواب حافظ الملک رحمت خان بہادر میں ہوئی ،آپ فاضل منظراسلام ،علم الفرائض میں وحیدالعصراورحضرت ابوالحسین نوری کے مرید اوراعلیٰ حضرت کے خلیفہ تھے ،فتاویٰ رضویہ کی پہلی چارجلدیں آپ نے ترتیب دیں ۔(مکتوبات امام احمدرضا خان بریلوی،حاشیہ ،ص153،تذکرہ علمائے ہندوستان ،183)
(45) مفکرِ اسلام، پروفیسر حضرت علّامہ سیّد سلیمان اشرف بہاری علیہ رحمۃ اللہ الوَالی کی ولادتِ باسعادت 1295ھ میں مِیر داد، ضلع پٹنہ، بہار ہند میں ہوئی اور وصال 5ربیعُ الاوّل 1358ھ کو فرمایا۔ تدفین علی گڑھ اسلامی یونیورسٹی کے اندر شیروانیوں والے قبرستان میں ہوئی۔ آپ کی کئی کتب مثلاً النّور، الرّشاد وغیرہ یادگار ہیں۔(تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص144، سیدی ضیاء الدین احمد القادری، 2/266-268 )
ش
(46) امینُ الفتویٰ مفتی شفیع احمدبیسلپوری مُدَرِّس،واعِظ،مفتیٔ اسلام اورخلیفۂ اعلیٰ حضرت ہیں،شعبان1301ھ بیسل پور (پیلی بھیت،یوپی) ہند میں پیدا ہوئے، عین عالمِ جوانی میں محض 37 سال کی مختصر عمر میں24 رمضان جمعۃُ الوداع 1338ھ کو وصال فرمایا، مزارمبارک بیسل پورمیں ہے۔ (مجالسِ علماء، ص75۔ تذکرہ محدث سورتی،ص288)
(47)استاذالعُلَماء حضرت علامہ مفتی شمس الدین احمد باسنوی قادری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1274ھ کو کمہاری نزدباسنی ، ناگور راجستھان میں ہوئی ،آپ عالمِ باعمل ،جیّدمدرس ،مفتی اسلام ،خطیب احمدشہیدمسجدکمہاری ،عاشقِ کتب اورشیخِ طریقت تھے۔ 27رجب 1357ھ کو جائے پیدائش میں وصال فرمایا،تدفین مزارِحضرت بالاپیرحسن سے جانب مغرب ہوئی ۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، 463تا470)
(48)شمس العلماء، حضرت مولانا مفتی قاضی ابوالمَعالی شمس الدّین احمد جعفری رضوی جونپوریعلیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1322ھ محلہ میرمست جونپور (یوپی) ہند میں ہوئی۔ آپ فاضل دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف، جیّد مدرس، صاحبِ قانونِ شریعت اور شیخِ طریقت تھے۔ یکم محرّمُ الحرام1401ھ کو وصال فرمایا، آپ کو احاطۂِ مزارِ حضرت قطب الدّین بینادل قلندر، جونپور (یوپی) ہند میں دفن کیا گیا۔ (قانون شریعت ،19تا21،تذکرہ خلفائےاعلیٰ حضرت ،198)
(49)استاذُالعلماء، مفتیِ اسلام حضرت علّامہ ابوالسعادات شہابُ الدّین احمد کویا ازہر شالیاتی ملیباری شافعی قادری کی ولادتِ باسعادت 1302ھ قریہ چالیم ملیبار کیرالا (جنوبی ہند) میں ہوئی اور یہیں 27 محرمُ الحرام 1374ھ کو وصال فرمایا، آپ جیّدعالِم، مدرس، شیخِ طریقت، مفتیِ اسلام، مرجعِ عوام و علما اور عِلْم و عمل کے جامع تھے۔ آپ ”دارالافتاء الازہریہ“ کے بانی ہیں اور ”الفتاوی الازہریہ فی احکام الشرعیہ“ آپکے فتاویٰ کا مجموعہ ہے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص574تا578)
ص
(50)مفتیِ اَعظم مکہ ، عالمِ اَجل حضرت شیخ صالح کمال حَنَفِی قادری کی ولادت63 12 ھ کومکہ شریف میں ہوئی اوریہیں 1332ھ کو وِصال فرمایا ،مکہ شریف کے قبرستان اَلْمَعْلٰی میں دَفْن کئے گئے۔آپ علامہِ دَہْر،حافِظ وقاری، مُدَرِّسِ مسجدِحَرَم، قاضیِ جَدَّہ، شیخُ الخُطَباوَالْاَئِمہ،اُستاذُالْعُلَما اورمکہ شریف کی مُؤَثِّر شخصیت تھے۔ آپ نے اعلیٰ حضرت کی 4 کتب فتاویٰ الحَرَمَین برجف ندوۃ المین ،الدَوْلَۃُ الْمَکِّیۃ،حُسام الحَرَمین، کِفْلُ الْفَقِیْہِ الْفَاہِمْ پر تَقارِیْظ بھی تحریر فرمائی تھیں۔( اما م احمد رضا محدث بریلوی اور علماء مکہ مکرمہ، ص 305)
ض
(51) قُطْبِ مدینہ،شیخُ العَرَبِ والعَجَم، حضرت مولانا ضیاء الدین احمدقادری مدنیرحمۃ اللہ تعالٰی علیہکی ولادت1294ھ کلاس والاضلع سیالکوٹ میں ہوئی اوروصال 4ذوالحجہ 1401ھ کو مدینہ منورہ میں ہوا۔ تدفین جنۃ البقیع میں کی گئی ۔آپ عالم باعمل ،ولیِ کامل ،حسنِ اخلاق کے پیکراوردنیا بھرکے علماومشائخ کے مرجع تھے ۔آپ نے تقریبا75سال مدینۂِ منوّرہ میں قیام کرنے کی سعادت حاصل کی ،اپنے مکان عالی شان پرروزانہ محفل میلادکا انعقادفرماتے تھے۔ (سیدی قطب مدینہ،17،11،8،7)
(52) استاذُالعلماء، مولانا ابوالمساکین ضیاء الدّین ہمدم قادری پیلی بھیتی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادتِ باسعادت شوّال 1290ھ تلہر (ضلع شاہ جہانپور،یوپی) ہند میں ہوئی اور 28 محرمُ الحرام1364ھ کو وصال فرمایا، پیلی بھیت (یوپی) ہند میں بہشتیوں والی مسجد سے متصل آسودۂ خاک ہیں۔ آپ جیّدمدرس، مصنف، صاحبِ دیوان شاعر، شیخِ طریقت اور پیلی بھیت کی مؤثّر شخصیت تھے۔(تذکرہ محدثِ سورتی، ص274تا275)
ظ
(53)مَلِکُ العُلَماء حضرت مولانا مفتی سیّدظفَرُ الدّین رضوی محدِّث بِہاری عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہ القوی عالمِ باعمل، مناظرِ اہلِ سنّت، مفتیِ اسلام، ماہرِ علمِ توقیت، استاذُ العلما ءاور صاحبِ تصانیف ہیں، حیاتِ اعلیٰ حضرت اور صَحِیْحُ الْبِہَارِی کی تالیف آپ کا تاریخی کارنامہ ہے، 1303ھ میں پیدا ہوئے اور 19 جُمادی الاُخریٰ 1382ھ میں وصال فرمایا، قبرستان شاہ گنج پٹنہ (بہار) ہند میں دفن کئے گئے۔(حیاتِ ملک العلما،ص 9،16،20،34 )
(54) قطبِ میواڑ حضرت مولانا مفتی ظہیر الحسن اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1302ھ کو محلہ اورنگ آباد اعظم گڑھ (یوپی) ہند میں ہوئی اور 12ربیعُ الاوّل 1382ھ کو وصال فرمایا، مزار مبارک مسجد سے متصل احاطۂِ اولیا برھم پول اودھے پور (راجستھان) ہند میں ہے۔ آپ جَیِّد مفتیِ اسلام، مدرّس مدرسہ اسلامیہ اودھے پور، عالمِ باعمل اور شیخِ طریقت تھے۔ (سالنامہ یاد گارِ رضا 2007ء، ص143-151)
ع
(55)مفتیِ مالکیہ حضرت سیّدُنا شیخ عابد بن حسین مالکی قادری علیہ رحمۃ اللہ القَوی، عالمِ باعمل، مدرّسِ حرم اور کئی کُتُب کےمصنّف ہیں۔ 1275ہجری میں مکۂ مکرمہ زَادَھَا اللہُ شَرفًاوَّ تَعْظِیمًا کے ایک علمی خاندان میں پیدا ہوئے اور 22شوال 1341 ہجری میں یہیں وِصال فرمایا۔(مختصر نشر النور والزھر، ص 181۔امام احمد رضا محدثِ بریلوی اور علماء مکہ مکرمہ، ص 129-136)
(56)سلطان الواعِظِیْن حضرت علامہ مولانا عبدُالاَحد مُحَدِّث پیلی بھیتی علیہ رحمۃ اللہ القَوی مجازِ طریقت، استاذُالعُلَماء اور واعِظِ خوش بیاں تھے۔ 1298ھ میں پیلی بَھیت (یوپی) ہند میں پیدا ہوئے اور یہیں 13شعبان 1352ھ میں وصال فرمایا، گَنْج مرادآباد(ضلع اناؤ) ہند میں دربارِ مولانا فضل رحمٰن گنج مرادآبادی کے قرب میں دفن کیے گئے۔(تذکرہ محدث سورتی،209تا218)
(57) مُحبّ اعلیٰ حضرت الحاج سیدعبدالرزاق رضوی ہندکی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر کٹنی کی صاحب ثروت شخصیت اورمَجازِطریقت تھے، مَزارِاعلیٰ حضرت تعمیرکمیٹی کے رُکْن بنائے گئے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،ص446تا447)
(58)امامِ تراویح و مدرّسِ مسجدِ حرام حضرت سیّدنا شیخ عبدُالرحمن بن احمد دھان مکی حنفی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ حافظُ القراٰن، عالمِ باعمل، ماہرِ فلکیات، استاذُ العُلَماء، مقبولِ عوام وخواص اور مقرِّظِ الدّولۃُ المَکّیۃ وحُسّامُ الحَرَمَین ہیں۔ مکّۂ مکرَّمہ میں 1283ھ کو پیدا ہوئے اور 12 ذوالقعدۃ الحرام 1337ھ کو وصال فرمایا، قبرستان المعلیٰ میں دھان خاندان کے احاطے میں دفن کئے گئے۔ (مختصر نشر النور والزھر، ص241۔ امام احمد رضا محدث بریلوی اور علماء مکۂ مکرمہ، ص205تا211)
(59) مسندالعصر، حضرت شیخ سیِّدعبدالرحمن بن سید عبد الحی کَتَّانی حسنی مالکی کی ولادت1338ھ کو ہوئی ، اعلیٰ حضرت نے27ذوالحجہ 1323ھ کو مکہ مکرمہ میں ان کے والداورانہیں خلافت سے نوازا ۔شرف ملت حضرت علامہ عبدالحکیم شرف قادری صاحب نے ان سے اجازت پائی ، کتاب نيل الأماني بفهرسة مسند العصر عبد الرحمن میں ان کے مشائخ میں اعلیٰ حضرت کا نام بھی درج ہے ۔(الاجازت المتینہ،ص41،تذکرہ سنوسی مشائخ ،109،215)
(60)مخدومِ ملّت حضرت مولاناسیّد عبدالرحمٰن رضوی گیاوی بہاری علیہ رحمۃ اللہ البارِی عالمِ دین،فتاویٰ نویس، مدرس اورشیخِ طریقت تھے ،آپ کی ولادت 1294ھ کو بیتھوشریف(ضلع گیاصوبہ بہار) ہند میں ہوئی، خانقاہ رحمانیہ کیری شریف(ضلع بانکا،صوبہ بہار) ہند میں13ذوالحجہ 1392ھ کووصال فرمایا ،مزار مبارک یہیں ہے۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضر ت ،418تا 421)
(64)عمیدالعلماء، حضرت مولانا عبدالرحمٰن جے پوری رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت مؤ ناتھ بھنجن (ضلع مؤ،یوپی) ہند میں ہوئی اور 12 جمادی الاخریٰ 1370 ھ کو وصال فرمایا۔ تدفین تکیہ آدم شاہ (آگرہ روڈ،جے پور،راجستھان)ہند میں ہوئی۔ آپ عالمِ باعمل ،مدرس،بانی دارالعلوم بحرالعلوم مؤ ناتھ بھنجن، شیخِ طریقت اورولی کامل تھے۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 475تا479)
(62)حضرت مفتی حافظ سیّد عبدالرّشید عظیم آبادی علیہ رحمۃ اللہ القَوی ، مدرسہ منظرِ اسلام بریلی شریف کے اوّلین طالبِ علم، ملک العلماء علامہ سیّد ظفر الدّین بِہاری کے زندگی بھر کے رفیق، جیّد عالِم، مُناظرِ اسلام اور کئی مدارِس خُصوصاً جامعہ اسلامیہ شمسُ الھدیٰ پٹنہ کے مدرِّس تھے۔ 1290ہجری میں موضع موہلی (پٹنہ) میں پیدا ہوئے اور 24شوال 1357ہجری میں وِصال فرمایا، مزار مبارک موضع کوپا عظیم آباد پٹنہ (یوپی) ہند میں ہے۔(جہانِ ملک العلماء، ص 863-959-965)
(63)عالمِ جَلیل حضرت مولاناعبدالجبارقادری رضوی ڈھاکہ (بنگلادیش )میں پیداہوئے اوریہیں وِصال فرمایا ۔فاضل مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت،مُریدوخلیفہ اعلیٰ حضرت اور اچھے عالم دین تھے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،ص2تا669)
(64)شیخِ طریقت، حضرت صاحِبزادہ مولانا عبدالحکیم خان شاہجہانپوری قادِری علیہ رحمۃ اللہ القَوی عالِمِ باعمل،صُوفی، مُصَنِّف اوریادگارِ اَسلاف تھے۔ مَوضَع کرلان نزد شاہجہانپور ضلع میرٹھ میں پیدا ہوئے اور یکم رجب 1388ھ کو الٰہ آباد (یو پی) ہِند میں وِصال فرمایا۔ (تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص188تا194، تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص11)
(65)اُستاذالعُلَما،حضرت مولانا مفتی عبد الحق پنجابی محدث پیلی بھیتی کی ولادت محلہ پنجابیاں پیلی بھیت ( یوپی) ہند میں ہوئی۔یہیں75 سال کی عمر میں 1361 ھ کووِصال فرمایا۔ آپ فاضل مدرستہ الحدیث پیلی بھیت،ذَہین وفَطین عالمِ دین، اوراد و وظائف کے پابند،بہترین مُدَرِّس اورپیلی بھیت کے چاروں مَدارِس مَدْرَسہ الحدیث ،مَدْرَسہ حافظیہ ،مَدْرَسہ رحمانیہ اور مَدْرَسہ آستانہ شیریہ میں تدریسی خدمات سَراَنْجام دینے والے تھے۔ (تذکرہ خلفائے اعلی حضرت ،ص180۔تذکرہ محدثِ سورتی، ص252)
(66)استاذالعُلَماء حضرت مولانا عبد الحَیّ قادری پیلی بھیتی کی ولادت تقریباً 1299ھ پیلی بھیت (یوپی) ہند میں ہوئی اور وصال 24ربیع الآخر1359ھ کوہوا۔تدفین قبرستان محلہ منیرخان پیلی بھیت میں ہوئی۔آپ ذہین وفطین عالمِ دین، جامع علوم وفنون ،مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت کے سینئرمدرس،محدثِ سورتی کے بھتیجے اور علمی جانشین تھے۔(تذکرہ محدثِ سورتی، ص253)
(67)عالمِ جلیل، حضرت شیخ سیِّد عبد الحی کَتَّانی حسنی مالکی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1305ھ فاس مغرب (یعنی مراکش) میں ہوئی۔ 12 رجب 1382ھ کو وصال فرمایا۔ نیس(Nice) فرانس کے قبرستان میں دفن کئے گئے۔ آپ مُحَدِّث عرب وعجم، عالمِ باعمل، کئی کتب کے مصنف اورخلیفۂ اعلیٰ حضرت تھے۔ آپ کی کتاب”فِہْرِسُ الفہارس“ علمائے سِیَر(علمائے سیرت)میں معروف ہے۔ (نظامِ حکومتِ نبویہ مترجم، ص 27، الاعلام للزرکلی، 6/187)
(68)مجازِطریقت حضرت الحاج عبدالسّتّاراسماعیل کاٹھیاواڑی رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی رنگون (برما)کی صاحب ثروت اوردینی حمیت سے مالامال شخصیت کے مالک اور جماعتِ رضائے مصطفیٰ کے عمائدین میں سے تھے۔رنگون پھرافریقہ میں مسلک حق اہلِ سنّت کی خوب اشاعت کی ،آپ کا وصال غالباً 19شوال 1354ھ کو افریقہ میں ہوا۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،515تا516،تذکرہ مشاہیرالفقیہ ،115)
(69)حضرت مولانا عبدالستارصدیقی دہلوی مکی حنفی چشتی قادری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت مکہ مکرمہ میں1286 کو ہوئی اوریہیں11رجب 1355ھ کو وصال فرمایا۔آپ حافظِ قراٰن، فاضل مدرسہ صولتیہ، مدرس مسجدِحرام ،امام تراویح فی الحرم ، محدِّثِ وقت،مؤرخ ،مجازِطریقت اورکئی کتب کے مصنف تھے۔ آپ کی 35کتب میں فيض الملك المتعاليآپ کی مشہورکتاب ہے۔انھوں نے 18ذوالحجہ 1323ھ کو اعلیٰ حضرت سے اجازتِ حدیث حاصل کی۔ ( فيض الملك المتعالی،9/1 تا47، نثرالجواہروالدرر،708/1۔710)
(70)ناصِرُ الاسلام حضرت مولانا سیّد عبدالسَّلام باندوی قادری علیہ رحمۃ اللہ البارِی ، عالمِ دین، قومی راہنما، خطیب، مصنّف، شاعر، پیرِ طریقت اور بانیِ انجمنِ امانت الاسلام تھے، 1323ہجری کو باندہ (یوپی،ہند) میں پیدا ہوئے اور 6 شوال 1387 ہجری میں وِصال فرمایا۔ مزارِ مبارک پا پوش قبرستان ناظم آباد کراچی میں ہے۔(تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 315۔ انوارِ علمائے اہلِ سنت سندھ، ص 479-483)
(71)عیدُالاسلام،حضرت مولانامفتی حافظ عبدالسلام رضوی جبل پوری رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ کی ولادت1283 ھ میں جبل پور (ایم پی ، ہند) میں ہوئی ،تعلیم والدِگرامی سے حاصل کی، اعلیٰ حضرت کے مریدو خلیفہ ہیں ،جبل پور میں دارُالافتاء عیدُالاسلام قائم کیا۔ 14 جمادی الاولیٰ 1371ھ کو جبل پورمیں وصال فرمایا، مزار شریف مشہورہے۔(برہان ملت کی حیات وخدمات، ص 28تا37)
(72)استاذالعُلَماء،حضرت مولانا حافظ عبد العزیز خان محدث بجنوری رضوی رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ کی ولادت بجنور (یوپی، ہند) میں ہوئی، آپ عالم، مدرس اور شیخِ طریقت تھے، جامعہ منظر اسلام بریلی میں طویل عرصہ تدریس کی،8جمادی الاولیٰ 1369ھ میں بریلی شریف میں وصال فرمایا ۔تدفین انجمن اسلامیہ بریلی قبرستان میں ہوئی۔(تذکرہ خلفائے اعلی حضرت، ص181)
(73)مُبلّغِ اسلام، حضرت مولانا شاہ عبدالعلیم صِدّیقی مِیرَٹھیرحمۃ اللہ علیہ دینی دنیاوی عُلوم کے جامِع، كئی زبانوں کے ماہر، درجن سے زائدکتب کے مصنف ،شُعْلہ بیان خطیب،متعد اداروں کے بانی اور تعلیماتِ اسلام میں گہری نظررکھنے والے عالمِ دین تھے، انہوں نے دنیا کے کئی مَمَالِک کاسفرکیا، ان کی کوشِشوں سے صاحبِ اِقتدارحضرات سمیت تقریباً پچاس ہزار(50,000)غیرمسلم دائرہِ اسلام میں داخل ہوئے ۔آپ 1310ھ کو میرٹھ(یوپی) ہند میں پیدا ہوئے اور وصال 22ذوالحجۃ الحرام 1374ھ کو مدینۂ منوّرہ میں ہوا، تدفین جنت البقیع میں کی گئی۔ (تذکرہ اکابرِ اہلِ سنت،ص236تا242)
(74)عالمِ باعمل علاّمہ قاضی حافظ عبد الغفورقادری رضوی رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ ،قاضی اعوان خاندان کے چشم وچراغ،فاضل دارالعلوم منظراسلام بریلی، استاذُ العُلَماء، آرمی خطیب (فیروزپورچھاؤنی) اور صاحبِ تصنیف ہیں، 1293ھ میں پیدا ہوئے اور 15رجب المرجب 1371 ھ میں وصال فرمایا، تدفین قبرستان پنجہ شریف (نزد مٹھا ٹوانہ ضلع خوشاب، پنجاب) پاکستان میں ہوئی، آپ کے دو رسائل تحفۃ العلماء اور عمدۃ البیان مطبوع ہیں۔(تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، 366، عقیدۂ ختم النبوۃ، 13/507، 541 )
(75) حافظُ المسائل حضرت علّامہ عبدالکریم نقشبندی رضوی چتوڑی محدّث بھیروگڑھی رحمۃ اللہ علیہ، جیدعالمِ دین، واعظ، مدرس، مصنف، شیخِ طریقت اور فعّال عالمِ دین تھے۔ پیدائش چتوڑگڑھ میواڑ (راجستھان) ہند میں ہوئی اور وصال 15 صَفَرُالْمُظَفَّر (غالباً 1342ھ) کو بھیروگڑھ (ضلع اجین، ایم پی) ہند میں ہوا۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص490تا500، ماہنامہ معارفِ رضا دسمبر 2014ء، ص20)
(76)رئیس مکہ مکرّمہ حضرت شیخ عبدالقادرکُرْدِی آفندی مکی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1275ھ کواَرْبِیل (کردستان) عراق میں ہوئی۔ عالمِ دین، مکۂ مکرمہ کے مُجاوِر، مُتَرْجِم، مصنف اور خلیفۂِ اعلیٰ حضرت تھے۔ 9رجب 1365ھ کو طائف میں وفات پائی اوروہیں دفن کئے گئے۔ (اجازات المتینہ، ص ،31،69، تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 67)
(77)شَیخُ الخُطَباء و الاَئِمّہ، امام الحرم حضرت سیّدنا شیخ عبدُاللہ ابو الخیر مِرداد مکّی حنفی قادری رحمۃ اللہ علیہکی ولادت 1285ھ کو مکّہ شریف میں ہوئی اور شہادت طائف میں (غالباً یکم صفر) 1343ھ کو ہوئی۔ آپ جیّد عالمِ دین، حنفی فقیہ، مؤرّخ، مصنف، مدرس اور مکّہ شریف کی مؤثر شخصیت تھے۔ علمائے مکّہ کے حالات و کرامات پر مشتمل ضخیم کتاب ”نشر النّور والزھر“ آپ کی یادگار ہے۔ (مختصر نشر النور والزھر، ص31، اما م احمد رضا محدث بریلوی اور علماءِ مکّۂ مکرمہ، ص21،89)
(78) سیاحِ مَمَالِکِ اِسلامیہ حضرت شیخ سیّدعبداللہ بن صدقہ دَحْلان حسنی مکی شافعی کی ولادت91 12 ھ کومکہ شریف میں ہوئی اور وِصال 10صفر1363ھ کوقاروت (Garut) صوبہ جاوا مغربی انڈو نیشا میں فرمائی۔آپ امام الحرم،ماہرعلم فلکیات، فقیہ اسلام، مقبول خاص وعام،کئی مَساجد،مَدارِس اور تنظیمات کے بانی تھے ۔(سالنامہ معارف رضا 1999ء، ص198)
(79) شہزادہ رئیس مکہ شیخ عبداللہ فرید مکی کُرْدِی رئیسِ مکہِ مکرمہ حضرت شیخ عبدالقادرکُرْدِی آفندی مکی کے فرزند ارجمند تھے ،ان کو اعلیٰ حضرت نے 9صفرالمظفر1324ھ کو خلافت سے نواز ا۔ (اجازات المتینہ، ص ،31،69)
(80)شیخ الواعظین، حضرت مولانا مفتی عبداللہ کوٹلوی نقشبندی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت کوٹلی لوہاراں غربی (سیالکوٹ) پاکستان میں 1281ھ کو ہوئی اور یہیں 13 صَفَرُالْمُظَفَّر 1342ھ کو وصال فرمایا، عبداللہ شاہ قبرستان میں تدفین ہوئی، آپ عالمِ باعمل، واعظِ خوش بیان، صاحبِ دیوان شاعر اور مصنّف تھے، شعری مجموعہ ”انواع احمدی“ مطبوع ہے۔(اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی اور علمائے کوٹلی لوہاراں، ص13،تذکرہ اکابرِ اہلِ سنّت، ص83)
(81) استاذالعلماحضرت مولاناعلامہ قاضی حافظ عبدالواحد رضوی کی ولادت 1302ھ کوعلاقہ امازئی گڑھی کپورہ ضلع مردان (خیبرپختون خواہ )پاکستان کے علمی گھرانے میں ہوئی اوریہیں 14ربیع الاول1381ھ کووصال فرمایا،تدفین گھڑی امازئی کے سنڈاسرقبرستان میں ہوئی۔آپ فاضل دارالعلوم منظراسلام بریلی شریف ،عالم باعمل ،زاہدوعبادت گزار، امام و خطیب جامع مسجدمیاں گان اوربانی مدرسہ تعلیم الاسلام ہیں۔ (حیات خلیفہ اعلیٰ حضرت مولوی عبدالواحد الرضوی، ص،24، 63، 42، 44)
(82)مجاہدِدین وملت حضرت مولاناقاضی عبدالوحید فردوسی رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولا د ت 1289 ھ عظیم آبادپٹنہ بہار ہندمیں ہوئی ،آپ متحرک عالمِ دین، صاحبِ ثروت ،بہترین واعظ ،نعت گوشاعر ،مفکروراہنماتھے ، آپ نے مجلسِ عالی حمایت سنّتِ محمدی بنائی ،پریس بنام مطبعِ اعوانِ اہلسنت وجماعت (مطبع حنفیہ )کا آغازکیا ،دینی رسالہ تحفہ ٔ حنفیہ (مخزنِ تحقیق) جاری کیا اور مدرسہ اہلسنت وجماعت (مدرسہ حنفیہ) قائم فرمایا۔آپ کاوصال 19 ربیع الاول 1326ھ کو ہوااور درگاہِ حضرت پیرجگ جوت جٹھلی شریف پٹنہ (بہار)ہندمیں دفن کئے گئے۔( سالنامہ معارف رضا2005 ء ، 251،تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت ص191،تذکرہ علمائے اہلسنت ص153)
(83)تِلمیذِ اعلیٰ حضرت مولاناعزیز الحسن خان رضوی پھپھوندی کی ولادت با سعادت قصبہ پھپھوند ( ضلع اٹاوہ) ہند میں ہوئی اور1362 ھ کو وِصال فرمایا، تدفین قصبہ پھپھوند شریف (Phaphund،ضلع اوریا،اترپردیش) ہند میں ہوئی۔آپ فاضل دارالعلوم منظراسلام ، علم وعمل کے جامع اورپیکراخلاص وتقوی تھے۔(تذکرہ خلفائے اعلی حضرت،ص183۔تذکرہ علمائے اہلِ سنت، ص183، تذکرہ محدث سورتی ص 256)
(84) خلیفہ وتِلمیذِ اعلیٰ حضرت، حضرت مولاناحکیم مفتی سید عزیز غوث بریلوی قادری رضوی کی ولادت با سعادت بریلی شریف (یوپی)ہند میں ہوئی۔ 1363ھ کو وِصال فرمایااور بریلی شریف (یوپی)ہندمیں آسودۂ خاک ہوئے۔آپ اولین فاضلِ دارالعلوم منظر اسلام، مفتی اسلام اورجَیِّدعالمِ دین تھے۔(جہان مفتیٔ اعظم ص1075،تذکرۂ علمائے اہل سنت ص 183،ماہنامہ اعلیٰ حضرت صدسالہ منظراسلام نمبرقسط1،مئی 2001 ص243 )
(85)عالم جلیل،حضرت سید علوی بن حسن الکاف حضرمی علوی خاندن کے چشم چراغ تھے۔ ( الاجازت المتینۃ، ص46 )
(86)محدِّثُ الحرمین حضرت شیخ عمر بن حَمدان مَحْرَسی مالکی علیہ رحمۃ اللہ القَوی، 1291ہجری میں مَحْرَس (وِلایت صَفَاقُس)تیونس میں پیدا ہوئے اور 9 شوال 1368ہجری کو مدینۂ منورہ میں وِصال فرمایا۔ محدّثِ کبیر، تقریباً 35 اکابرین سے سندِ حدیث لینے والے، حرم شریف اور مسجدِ نبوی کے مدرّس اور متعدد اکابرینِ اَہلِ سنّت کے اُستاذ ہیں۔ آپ نے کم و بیش44 سال حرمین شریفین میں درسِ حدیث دینے کی سعادت پائی۔(الدليل المشير ص 318۔امام احمد رضا محدثِ بریلوی اور علماء مکہ مکرمہ، ص 161۔ دمشق کے غلایینی علما، ص 26)
(87)حضرت صوفی عنایت حسین قادری رضوی مُریدو خلیفہ اعلیٰ حضرت اوربریلی شریف (یوپی)ہندکے رہنے والے تھے۔(مکتوبات امام احمدرضا خان بریلوی،حاشیہ،ص107)
(88)حامیِ سنّت حضرت الحاج عیسیٰ محمدخان گجراتی رضوی دھوراجی علیہ رحمۃ اللہ القَوی (ضلع راجکوٹ،ریاست گجرات) ہندکی صاحبِثروت شخصیت،مجازِطریقت،مسائلِ فقہیہ پر عبوررکھنے والے ،بہترین واعظ ، مدرسہ مسکینیہ دھوراجی اور جماعتِ رضائے مصطفیٰ کے عمائدین میں شامل تھے۔آپ کا وصال جمادی الاولیٰ 1363ھ دھوراجی گجرات ہند میں ہوا۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، 513 تا514 ،مشاہیرالفقیہ ،183)
(89)حضرت مولانا عبدالسلام اعظمی گھوسوی کا تعلق مدینۃ العلماگھوسی (ضلع اعظم گڑھ،یوپی)سےہے، آپ صدرالشریعہ مفتی امجدعلی اعظمی کے چچازادبھائی واستاذمولانا محمدصدیق اعظمی اورعلامہ وصی احمدمحدث سورتی کے شاگرد تھے ، آپ کو 1330ھ /1912ءاپنے استاذعلامہ صدیق صاحب کی وفات کے بعدمخدوم الاولیاء حضرت سید شاہ علی حسین اشرفی کچھوچھوی نے مدرسہ لطیفیہ اشرفیہ مصباح العلوم مبارک پورکا صدرمدرس بنایا،اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان نے انہیں 1336ھ کو خلافت عطافرمائی،آپ کا وصال 12صفرالمظفر 1336ھ ہوا۔(حیات مخدوم الاولیا ،290،تذکرہ محدث سورتی،269، دبدبہ سکندری رامپور شمارہ نمبر 17 جلد54 دسمبر 1917)
غ
(90)خلیفۂِ اعلیٰ حضرت مولاناحکیم غلام احمدشوق فریدی نقشبندی جماعتی رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1284ھ محلہ سرائے کبیرسنبھل(نزدمرادآباد،یوپی)ہند میں ہوئی اور وصال23ربیع الاول 1362ھ کومرادآبادمیں ہو ا ،مزارشاہ باقی قبرستان میں درگاہ حضرت مظہراللہ شاہ صفی سے متصل جانبِ شمال مغرب ہے،آپ عالمِ دین ،حاذق طبیب ،صاحبِ دیوان شاعر،قومی راہنما،سجادہ نشین درگاہ شیخ کبیرکلہ رواں، تیس سے زائدکتابوں کےمصنف اورصدرالافاضل کے خالہ زاد بھائی تھے۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت 330تا339، تذکرہ خلفائے امیر ملت،ص116،121)
(91) فقیہ دوراں، حضرتِ علّامہ مولانا قاضی ابوالمُظفّر غلام جان ہزاروی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فاضل دارالعلوم مظہرِ اسلام بریلی شریف، بہترین مدرس، مفتیِ اسلام اور صاحبِ تصنیف ہیں۔ آپ کی ولادت 1316ھ اوگرہ مدنی صحرا (مانسہرہ، پاکستان) میں ہوئی اور وصال 25 محرمُ الحرام 1379ھ کو فرمایا، آپ لاہور میں غازی عِلْم دین شہید کے مزار کے جنوبی جانب محوِ استراحت ہیں۔ ”فتاویٰ غلامیہ“ آپ کے فتاویٰ کا مجموعہ ہے۔(حیات فقیہ زماں،تذکرہ اکابرِ اہلِ سنت، ص299تا300)
(92)شیخُ الاصفیاء حضرت مولانا سیّد غلام علی اجمیری چشتی رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی عالمِ باعمل، عاشقِ سلطانُ الہند، مُحِبِّ اعلیٰ حضرت،حسنِ اخلاق کے پیکر اور خادمِ درگاہِ اجمیر شریف تھے 15ربیعُ الاوّل 1374ھ کو وصال فرمایا، مزارِ خواجہ غریب نواز سے متصل قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔(تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 471تا474)
(93) استاذالعلماء حضرت مولانا سیّد غِیاث الدّین حسن شریفی چشتی رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادتِ باسعادت1304ھ کو قصبہ رجہت (ضلع گیا، صوبہ بہار) ہند میں ہوئی۔ آپ فاضل دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف، مدرس، مصنف، واعظ اور شیخِ کامل تھے۔ اردو، فارسی اور عربی تصانیف میں ”غِیِاث الطالبین“ اہم ہے۔ آپ نے 13 محرّمُ الحرام 1385ھ میں وصال فرمایا، مزارِ مبارک خانقاہِ کبیریہ شہسرام (ضلع آرہ، صوبہ بہار) ہند کے احاطۂ قبرستان میں ہے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص364تا373،ماہنامہ معارفِ رضا، اگست2007ء، ص30تا35)
ف
(94)سیِّدُ السادات حضرت مولانا پیر سیِّد فتح علی شاہ نقوی قادِری علیہ رحمۃ اللہ القَوی، عالِمِ دین، واعِظ، شاعِر اورصاحِبِ تصنیف تھے، 1296ھ میں پیدا ہوئے اور 9رجب 1377ھ کو وِصال فرمایا، آپ کا مزار جامِع مسجدسیِّد فتح علی شاہ سے مُتَّصِل محلّہ کھراسیاں جیرامپور کھروٹہ سیداں ضلع ضیاکوٹ (سیالکوٹ، پنجاب پاکستان) میں ہے۔(تذکرہ اکابرینِ اَہْلِ سنّت، ص 367)
ق
(95)تلمیذِ اعلیٰ حضرت، امام السالکین حضرت علّامہ سیّد ابوالفیض قلندر علی گیلانی سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 1312ھ میں کوٹلی لوہاراں شرقی (ضلع سیالکوٹ) پاکستان میں ہوئی۔ آپ جیّد عالمِ دین، فاضلِ دارُالعلوم منظرِ اسلام بریلی، بہترین خطیب، صاحبِ تصنیف اور صاحبِ کرامت شیخِ طریقت تھے۔ 27 صَفَرُالْمُظَفَّر 1377ھ کو وصال فرمایا، مزارمبارک ہنجروال (ملتان روڈ) لاہور میں ہے۔(تذکرہ مشائخ سہروردیہ قلندریہ ص234تا289، تذکرہ علمائے اہلسنت وجماعت لاہور، ص302)
ک
(96) عاشِق اعلیٰ حضرت حاجی کِفایت اللہ خان قادری رضوی کی ولادت بریلی شریف میں تقریبا1300 ھ میں ہوئی اور وصال 1359ھ کے بعدہوا۔آپ اعلیٰ حضرت کے خادمِ خاص ،متقی وپرہیزگار،محبوب خلیفہ اورمُجاوِرِخانقاہ رضویہ تھے۔ خانقاہ رضویہ میں تعویذات دینے کی ذمہ داری ان کے سپردتھی۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،ص141تا149)
ل
(97)ناصرِ ملّت حضرت مولانا محمد لعل خان قادری رضوی رحمۃ اللّٰہ علیہ خادمِ سنّت، مصنّفِ کُتب اور عالی ہمت ہستی کےمالک تھے۔ پیدائش 1283ھ ویلور (مدراس،تامل ناڈو) ہند میں ہوئی۔ 15ذوالقعدۃ الحرام 1339ھ کو وصال فرمایا اور کلکتہ (ہند) میں آسودۂ خاک ہوئے۔(تذکرہ خلفائے اعلی حضرت، ص317،321۔ تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 554)
م
(98) اما م وخطیب مسجدِنَبَوِیْ سیّدمامون بَری مدنی حنفی قادری کا تعلق افریقی ملک تُوْنُسْ کے سیِّدبَری قبیلے سے ہے۔ آپ جیدعالم، مفتیٔ اَحناف مدینہ منورہ، اُستاذ العُلَماء اور بہترین خطیب تھے۔(تاریخ الدولۃ المکیۃ ص 82،188،تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 76تا79،علمائے عرب کے خطوط ص45 )
(99)اَدِیْبِ جَلیل،حضرت شیخ مامون عبدالوہاب اَرْزَنْجانی مدنی قادری کی ولادت چودہویں صدی کے شروع میں اَرْزَنْجان (مشرقی اناطولیہ) ترکی میں ہوئی۔ وصال 1375ھ میں فرمایا۔آپ بہترین عالم دین،جامع علوم جدیدہ وقدیمہ ، روحانی اسکالر، صحافی،بانی اخبارالمدینۃ المنورہ(عربی و ترکی) ومجلہ (میگزین) المناھج دمشق اورکئی کُتُب کے مُصَنِّف تھے۔ ( علمائے عرب کے خطوط ص38تا40 ،الاجازت المتینۃ، 36،38 )
(100) واعِظِ اسلام حضرت مولانامحمداسماعیل پشاوری قادری رضوی عالِم ،واعِظ اورمجَازِطریقت تھے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، 664)
(101) صوفی باصفا ثنا خوانِ مصطفیٰ ،حضرت مولانا حافظ محمد اسماعیل فخری چشتی رضوی کی ولادت ریاست محمود آباد(ضلع سیتا پور، یوپی ) ہندغالباً 1300 ھ میں ہوئی۔یہیں 1371 ھ میں وِصال فرمایا اور دَفْن کئے گئے۔فاضل مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت ،بانی مدرسہ نظامیہ محمودآباد،اُستاذالعُلَمااوررِقت وسوز کے مالک تھے۔ (تذکرہ خلفائے اعلی حضرت، ص211۔تذکرہ علمائے اہلِ سنت ،ص62،تذکرہ محدث سورتی،ص258 )
(102) حضرت پروفیسرالحاج محمد الیاس برنی چشتی قادِری فاروقی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت برن (بلندشہر،یوپی) ہند میں1307ھ کو ہوئی اوریہیں 22رجب 1378ھ کووصال ہوا۔آپ نے دنیاوی علوم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، لکھنؤ اور علمِ حدیث پیلی بھیت سے حاصل کیا،آپ صدرشعبہ ِٔمعاشیات وناظم شعبہ دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ حیدرآباددکن، نعت گو شاعر،مصنّفِ کتب اورماہرِمعاشیات تھے۔ 33کتب میں سے قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ اورعلم المعیشت مشہور ہوئیں۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت ،ص658تا661،سالنامہ معارف رضا1984ء،ص250)
(103) ابو حنیفہ صغیر، امین الفتویٰ حضرت سیّدنا شیخ سیّد ابو الحسین محمد بن عبدالرحمن مرزوقی مکی حنفی رحمۃ اللہ علیہکی ولادت 1284 ھ کومکہ مکرّمہ میں ہوئی۔ آپ حافظُ القراٰن، فقیہِ حنفی، عہدِعثمانی میں مکّہ شریف کے قاضی، تراویح کے امام اور عہدِ ہاشمی میں وزارتِ تعلیم کے بڑے عہدے پر فائز رہے۔ 25 صَفَرُالْمُظَفَّر 1365ھ کو وصال فرمایا اور جنّۃُ المعلٰی مکّۂ مکرّمہ میں تدفین ہوئی۔ (تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص80تا83،حسام الحرمین، ص79)
(104)فاضل نوجوان حضرت سیّدمحمدبن عثمان دحلان مکیرحمۃ اللہ علیہ کو اعلیٰ حضرت نے مکہ شریف سے مدینہ منورہ سفرشروع کرتے وقت24صفر1324ھ کو اجازت وخلافت عطافرمائی ۔( الاجازات المتینۃ ص 65، ملفوظات اعلیٰ حضرت 215)
(105) ہمدردِ مِلّت، حضرت مولانا حافظ سیّد محمد حسین میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1290ھ بریلی شریف (یوپی) ہند میں ہوئی ۔آپ حافظ القراٰن، صاحبِ ثروت عالمِ دین اور دین کا درد رکھنے والے راہنما تھے۔ آپ نے میرٹھ میں دینی کُتُب شائع کرنے کیلئے طلسمی پریس اور یتیموں کے لئے مسلم دارالیتامٰی والمساکین قائم فرمایا اور جب پاکستان آئے تو گُلبہار میں عظیم الشان جامع مسجد غوثیہ کی بنیاد رکھی۔ آپ نے 14 ربیع الاوّل 1384ھ میں وصال فرمایا، تدفین قبرستان پاپوش نگر کراچی میں ہوئی۔(تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص213،سالنامہ معارفِ رضا 2008ء، ص236-238)
(106) برادرِ اعلیٰ حضرت مفتی محمد رضا خان نوری رضوی رحمۃ اللہ علیہ علمُ الفَرائض (وراثت کےعلم) کے ماہر تھے۔1293ھ میں پیداہوئے اور21شعبان 1358ھ میں وصال فرمایا،مزار قبرستان بِہَاری پور نزد پولیس لائن سٹی اسٹیشن بریلی شریف (یوپی، ہند) میں ہے۔ (معارف رئیس الاتقیاء،32،تجلیات تاج الشریعہ،89،تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت ،91)
(107) شیخ الدلائل حضرت شیخ سیِد محمد سعید بن محمد مالکی قادری مغربی مدنی ادریسی کی ولادت با سعادت اندازاً1270ھ مدینہ شریف یا مراکش میں ہوئی۔1330ھ کے بعدکسی سال وِصال فرمایا ۔آپ جیدعالم ،مُدَرِّس مسجدِ نَبَوِیْ شریف ،شیخِ طریقت، مُقَرِّظُ الدولۃ المکیۃ اورحُسام الحرمین،اورمَرْجَع خلَائق شخصیت تھے۔(تاریخ الدولۃ المکیۃ ص120 ، الاجازات المتینۃ ص 54، ملفوظات اعلیٰ حضرت 921)
(108) فقیہِ اعظم حضرت علامہ محمد شریف محدث کوٹلوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1277ھ میں کوٹلی لوہاراں ( سیالکوٹ) پاکستان میں ہوئی۔ 6ربیع الآخر1370 ھ کو وصال فرمایا، آپ کا مزار مبارک کوٹلی لوہاراں غربی محلہ نکھوال ( سیالکوٹ) پاکستان میں جامع مسجد شریفی سے متصل ہے۔ آپ عالمِ باعمل،شیخِ طریقت، مفتیِ اسلام، استاذ العُلَماء، واعظِ خوش بیان، رئیس التحریر ہفتہ روزہ اخبار الفقیہ ، مناظرِ اسلام، شاعروادیب اور صاحبِ تصنیف تھے۔ (تذکرہ فقیۂ اعظم،ص97-100)
(109)مفتیِ مالِکِیَّہ شیخ محمدعلی بن حسین مالِکِی مکی علیہ رحمۃ اللہ القَوی مُدَرِّسِ حَرَم، مصنفِ کتبِ کثیرہ اور امامُ النَّحْو ہیں، 1287ھ میں مکہشریف میں پیدا ہوئے اور طائف میں 28شعبان 1367ھ کو وصال فرمایا۔حضرت سیّدُناعبد اللّٰہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کے مزار کے قریب دفن ہونے کی سعادت پائی۔(مختصرنشرالنوروالزھر، ص181،اما م احمد رضا محدث بریلوی اور علماء مکہ مکرمہ، ص 136تا 149)
(110)مفتی محمد عمرالدّین ہزاروی، مفتیِ اسلام، مُصَنِّف، نامور علمائے اسلام میں سے ہیں۔ طویل عرصہ بمبئی میں خدمتِ دین میں مصروف رہے۔ وصال 14شعبان 1349ھ میں فرمایا، مزار شریف کوٹ نجیبُ اللّٰہ (ضلع مانسہرہ) خیبر پختون خواہ پاکستان میں ہے۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،622تا627)
(111)عالمِ باعمل حضرت علّامہ محمد عمر بن ابوبکر کھتری رَضَوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی ولادت 1291ھ کو پور بندر (صوبہ گجرات) ہند میں ہوئی اور وصال 5 ذوالقعدۃ الحرام 1384ھ کو ہوا۔ مزار پور بندر (گجرات) ہند میں ہے۔ (تجلیاتِ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 532،533)
(112)پابندِسنت حضرت مولاناسیدمحمدعمرظہیرالدین اِلٰہ آبادی قادری رضوی کی ولادت غالباً موضع خلیل پورپرگنہ نواب گنج ضلع الہ آباد(یوپی) ہندمیں ہوئی اوریہیں وصال فرمایا۔آپ فاضل مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت ،عالمِ باعمل اور مجازِطریقت تھے۔ (تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت،ص13 ،تذکرہ محدث سورتی ،ص 269)
(113)جامع جمال وافتخار مولاناسیدمحمدعمرمطوف بن سید ابوبکررشیدی مکی،عالم دین ، عالی ہمت، جامع اور حُجاج کو حج و طواف کرانے پر مَعْمُوْر تھے۔ اعلیٰ حضرت نے دوسرے حج کے موقع پر ان کے گھرقیام فرمایا اور انہیں 11صفر 1324ھ کو خلافت اوراجازت عطافرمائیں۔ (الاجازات المتینہ، ص ،9،55،تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت،112تا116)
(114) شیخِ طریقت حضرت مولانا قاضی محمدقاسم میاں رضوی ،عالمِ دین ،مَجازِطریقت،حامیِ سنت اورامام جامع مسجد گونڈل پوربندر(کاٹھیاواڑ گجرات)ہند تھے۔(خطوط مشاہیربنام احمدرضا ،ص314)
(115) مُحدِّثِ اَعظم ہند حضرت مولانا سیِّد محمد کچھوچھوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی عالِمِ کامل، مُفسِّرقراٰن، واعِظِ دِلنشین، صاحِبِ دِیوان شاعِر اور اکابرینِ اَہلِ سنّت سے تھے۔1311ھ میں پیدا ہوئے اور 16رجب 1381ھ میں وِصال فرمایا۔ مزارمُبارَک کچھوچھہ شریف (ضلع امبیڈکر نگر، یوپی) ہِند میں ہے۔ 25 تصانیف میں سے ترجمۂ قراٰن ”مَعارِفُ القراٰن“ کو سب سے زیادہ شُہرت حاصل ہوئی۔ (تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،ص 219تا224)
(116) عالِمِ ربّانی حضرت مولانا مفتی قاضی ابوالفخرمحمد نور قادِری رَضَوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی عالِمِ باعمل، شاعِر، مُصَنِّف، اُردو اور عربی زبان کے ماہر تھے۔ 13رَجَبُ الْمُرَجَّب1307ھ میں پیدا ہوئے اور صفرالمظفریاربیع الاول 1333ھ میں وصال ہوا۔ آپ کا مزار پنجاب (پاکستان) کے شہر چکوال سے مُتّصِل مَوْضَع اوڈھروال کے قبرستان میں ہے۔ آپ نے 15 کُتُب تالیف فرمائیں۔ (تذکرہ علمائے اَہْلِ سنّت ضلع چکوال، ص 45،47،118)
(117) شہزادۂ اعلیٰ حضرت، مفتیِ اعظم ہند، حضرت علّامہ مولانا مفتی محمدمصطفےٰ رضا خان نوری رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1310ھ رضا نگر محلّہ سوداگران بریلی (یوپی،ہند) میں ہوئی۔ آپ فاضل دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف، جملہ علوم و فنون کے ماہر، جید عالِم، مصنفِ کتب، مفتی و شاعرِ اسلام، شہرۂ آفاق شیخِ طریقت، مرجعِ علما و مشائخ اور عوامِ اہلِ سنّت تھے۔ 35سے زائد تصانیف و تالیفات میں سامانِ بخشش اور فتاویٰ مصطفویہ مشہور ہیں۔ 14 محرّمُ الحرام 1402ھ میں وصال فرمایا اور بریلی شریف میں والدِ گرامی امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن کے پہلو میں دفن ہوئے۔ (جہانِ مفتی اعظم، ص64تا130)
(118) اُستاذالعُلَماحضرت مولانامحمدیوسف افغانی مہاجر مکی، جید عالم، مدرس مدرسہ صولتیہ مکۂ معظمہ اور صاحبِ فَضائل و مَنَاقِب تھے۔ 24 صفر 1324ھ کو اعلیٰ حضرت سے خلافت کی سعادت پائی۔ ( الاجازت المتینۃ، ص47،تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت، 117 )
(119) خلیفۂِ مفتیِ اعظم الور،شیخِ طریقت حضرت مولانا مفتی سیّدمحمودالحسن زیدی الوری نقشبندی رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی جیّدعالمِ دین ،فاضل دارالعلوم مُعینیہ عثمانیہ اجمیرشریف،مدرس مدرسہ اسلامیہ اودے پور،صدرانجمن خادم الاسلام الور اور جانشین درگاہِ سیّدارشادعلی مجددی الوری علیہ رحمۃ اللہ القَوی تھے۔آپ کا وصال 16جمادی الاولیٰ 1365ھ کو الورمیں ہوااورتدفین بیرون لادیددروازہ کےمتصل ہوئی۔ ( تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت501تا504 ،مشاہیرالفقیہ ،190،191)
(120) عالمِ باعمل حضرت علّامہ محمود جان خان قادری جام جودھ پوری پشاوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادت 1255ھ کو پشاور پاکستان میں ہوئی اور 3 صَفَرُالْمُظَفَّر 1370ھ کو وصال فرمایا، مزار مبارک جام جودھ پور (ضلع جام نگر،گجرات) ہند میں ہے۔ آپ عالمِ دین، خطیبِ اہلِ سنّت، شاعرِ اسلام اور جام جودھ پور کی ہر دلعزیز شخصیت تھے۔ منظوم حیاتِ اعلیٰ حضرت ”ذکرِ رضا“ آپ کی یادگار ہے۔ (شخصیاتِ اسلام، ص 136تا138)
(121) جامع علوم و فُنون حضرت مولانا حافظ مشتاق اَحمد صِدّیقی کانپوری علیہ رحمۃ اللہ القَوی ، استاذُ العُلَماء، واعِظ، شیخ الحدیث والتفسیرتھے۔ 1295ہجری میں سہارن پور (یوپی) ہند میں پیدا ہوئے اور کانپور ہند میں یکم شوال 1360ہجری کو وِصال فرمایا۔ آپ کو بساطیوں والے قبرستان پنجابی محلہ کانپور(یوپی) ہندمیں والدِ گرامی علامہ احمد حسن کانپوری کے مزار سے متصل دفن کیا گیا۔(تذکرہ محدثِ سورتی، ص289-290)
(122) حضرت شیخ سید مصطفیٰ خلیل آفندی مکی ،حَسَب نَسَب کے اِعتبارسے اعلیٰ ،عقل وذَہانت کے مالک،صِدق وَفا سے مُتَّصِفْ اوربرادرمُحافِظِ کُتُبِ حَرَم سیداسماعیل تھے ۔آپکا وِصال1229 ھ میں ہوا ۔(الاجازات المتینہ ص 8،14،30،تذکرۂ خلفائے اعلیٰ حضرت ص119)
(123) بدرِمُنیر حضرت مولانا منیرالدین بنگالی رضوی ،عالم دین ،مَجازِطریقت اورصاحبِ کَرامت بُزُرْگ تھے ۔آپ متحدہ بنگال ہند کے رہنے والے تھے۔حصول علمِ دین کے بعد11 سال بریلی شریف میں رہے ۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،ص 555)
(124) عاشِق رضا حضرت میرمؤمن علی مؤمن جنیدی رضوی حافِظِ قرآن ،بہترین نعت خواں ،صاحبِ دِیوان شاعر اور بانیِ مدرسۃ العلوم مسلمانان تاجپور (ناگپور، مہاراشٹرہند) تھے۔ آپ کا دِیوان ’’تحفۂ مؤمن ‘‘شائع شدہ ہے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت،ص 664)
ن
(125) مفتیِ آگرہ حضرت علامہ مولانا حافظ نِثار احمدکانْپوری رضویرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادت 1297ھ کانپور (یوپی) ہند میں ہوئی۔ غالباً 16ذوالحجہ 1349ھ کو حج سے واپسی پر جَدّہ شریف میں وصال فرمایا اور جنّت البقیع میں دَفْن ہوئے۔خوش اِلحان حافظ وقاری، عالمِ باعمل،سِحْربَیاں خَطیب ،حاضِردماغ مُناظِر اور قومی رَاہنُماتھے۔(تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، ص349-تذکرہ محدثِ سورتی،ص292)
(126) خطیب العُلَماءحضرت مولانانذیراحمدخُجندی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1305ھ کو میرٹھ(یوپی )ہند میں ہوئی اور وصال 6 شعبان 1368ھ کو مدینۂِ منوّرہ میں ہو۱۔ تدفین جنۃ البقیع میں کی گئی۔آپ عالمِ باعمل ،خوش الحان قاری،امام جامع مسجدخیرالدین بمبئی،بہترین قلمکار، مجاہدِتحریک آزادی اورقادرالکلام شاعرتھے۔ (جب جب تذکرہ ٔ خجندی ہوا، 15،84 ،193 )
(127) صدرُالاَفاضِل حضرت علامہ حافظ سیّد نعیم الدّین مُرادآبادی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہکی ولادت 1300ھ مُرادآباد(ہند) میں ہوئی اور آپ نے 18ذوالحجہ 1367ھ کو وفات پائی۔دینی عُلوم کے ماہِر، شیخُ الحدیث، مُفَسِّرِقراٰن، مُناظِرِ ذيشان، مُفتیٔ اسلام ،درجن سے زائد کُتُب کے مصنف،قومی رَاہنما وقائد،شیخِ طریقت، اسلامی شاعر،بانیِ جامعہ نعیمیہ مُرادآباد، اُستاذُالعُلَماءاوراکابرینِ اہلِ سنّت میں سے تھے۔کُتُب میں تفسیرِخزائنُ العِرفان مشہور ہے۔(حیات صدرالافاضل،ص9تا19)
(128)سیدالسادات حضرت مولاناعلامہ سیدنوراحمدچاٹگامی رضوی 1279ھ کو چاٹگام میں پیداہوئے اوریہیں 1345ھ میں وصال فرمایا۔فاضل مدرسہ فرنگی محل لکھنؤ،مُریدوخلیفہ اعلیٰ حضرت اوربہترین واعِظ تھے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، 665تا668)
(129) فخرالاماثل حضرت مولانا نورالحسن لکھنوی،ہندکے شہرلکھنوکے رہنے والے تھے ۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت 353)
(130) قُطْبِ وقت حضرت مولانا سیّدنُورُ الحَسَن نَگِینْوِی نقشبندی قادِری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہکی ولادت 1315ھ کو مَحَلّہ سادات،نگینہ شریف ضلع بَجْنَور (اُترپردیش) ہند میں ہوئی اور 22 ذوالحجہ1393ھ کو وصال فرمایا،مزار مواز والہ (نزدموچھ ضلع میانوالی،پنجاب)پاکستان میں ہے۔آپ عالمِ باعمل،شیخِ طریقت اور ولیِ کامل تھے۔(مقاماتِ نور، ص62،204-فیضانِ اعلی حضرت، ص680)
ہ
(131) سلطانُ الواعظین مولانا سیّد ہدایت رسول لکھنوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی واعظ، شیخِ طریقت، شاعر، مصنف اورتلمیذوخلیفۂ اعلیٰ حضرت تھے، تصانیف میں ”فیوضِ ہدایت“ مطبوعہ ہے،غالباً1276 ھ مصطفےٰ آباد(رام پور،یوپی،ہند) میں پیدا ہوئے، 23 رمضان المبارک 1332ھ کو یہیں وصال فرمایا۔ (تذکرۂ خلفائے اعلی حضرت، ص353،363)
ی
(132) استاذُالحُفّاظ، حضرت مولانا حافظ یعقوب علی خان پیلی بھیتی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادتِ باسعادت پیلی بھیت (یوپی) ہند میں ہوئی اور 27 محرمُ الحرام1357ھ کو وصال فرمایااوریہیں پاکھڑ(یاموٹاپاکر)والی پُرانی جامع مسجد (محلہ بھورے خاں) سے متصل باغ میں دفن کیے گئے۔ آپ فاضل مدرَسۃ الحدیث پیلی بھیت ،حافظ القران ،مدرس مدرسۃ الحدیث ومدرسہ احمدیہ جامع مسجد، ولیُّ اللہ اور استاذُالحُفَاظ تھے۔(تجلیات امام احمدرضا ، ص53تا55،161، تذکرہ محدثِ سورتی، ص 269)
(133) حکیمِ اہلِ سنت حضرت مولاناحکیم یعقوب علی خان رامپوری قادری کی ولادت ایک علمی گھرانے میں غالباً 1260 ھ کو قصبہ بلاسپورتحصیل وضلع رامپور (یوپی)ہند میں ہوئی۔آپ فاضل دارالعلوم منظراسلام، جیدعالم ،بہترین واعظ، عالم باعمل اورحاذِق طبیب تھے۔(تذکرہ کاملان رام پور ص 454،تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت ،341تا350)
(134)زینتُ القُرّاء، حضرت مولانا قاری حافظ یقین الدّین رضوی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہ القوی حافظ القراٰن، فاضل دارالعلوم منظرِ اسلام،شیخ طریقت اور صاحبِ تصنیف تھے، آستانۂ رضویہ کی مسجد میں نمازِ تراویح پڑھاتے تھے،25سال مسجد پٹھان محلہ ضلع بالاسور(اڑیسہ) ہندمیں خدمات سرانجام دیں ۔یہیں 2 جُمادی الاُخریٰ 1353ھ کو وصال فرمایا۔مزاراحاطۂِ قدمِ رسول قبرستان میں ہے۔( تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت 534تا540)
قرآنِ کریم کی کل انیس(19) آیات ہیں
جن میں انبیاءِ کرام علیہم الصلاۃ والسلام کی بشریت کا بیان ہے۔
ان انیس (19) آیات میں سے پندرہ (15)
وہ آیات ہیں جن میں کفار ومشرکین نے
انبیاء کو اپنے جیسا بشر کہا ہے۔ اور قرآن نے انکے اقوال کو حکایت کیا ہے۔ جبکہ(4)
آیات ایسی ہیں جن میں انبیاء کرام علیہم السلام نے اپنے آپ کو بشر کہا ہے۔ آئیے
پہلے ان انیس (19) آیات پر ایک نظر ڈالتے
ہیں پھر انکی تفسیر وتشریح بھی مستند علماء کی زبانی سنیں گے۔ یہاں چند امور ہیں:
پہلا امر:
کفار ومشرکین کی یہ عادت تھی کہ وہ انبیاءِ کرام علیہ السلام کو اپنے جیسا
بشرِ محض کہتے تھے اوراسکے ساتھ کوئی وصف یا امتیازی قید نہیں لگاتے تھے جیسا کہ
مندرجہ ذیل آیات ملاحظہ فرمائیں۔
آیات بالترتیب یہ ہیں:
(١)..﴿وَمَا
قَدَرُوا اللہَ حَقَّ قَدْرِہٖۤ اِذْ قَالُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللہُ عَلٰی بَشَرٍ
مِّنۡ شَیۡءٍ﴾
[الأنعام:91]
(٢)..﴿فَقَالَ
الْمَلَاُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَوْمِہٖ مَا نَرٰىکَ اِلَّا بَشَرًا
مِّثْلَنَا وَمَا نَرٰىکَ اتَّبَعَکَ اِلَّا الَّذِیۡنَ ہُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ
الرَّاۡیِۚ وَ مَا نَرٰی لَکُمْ عَلَیۡنَا مِنۡ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّکُمْ
کٰذِبِیۡنَ ﴿۲۷﴾﴾ [هود:27]
(٣)..﴿قَالُوۡۤا
اِنْ اَنۡتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَاؕ تُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ تَصُدُّوۡنَا عَمَّا
کَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاۡتُوۡنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیۡنٍ﴾
[إبراهيم:10]
(٤)..﴿قَالَ
لَمْ اَکُنۡ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَہٗ مِنۡ صَلْصٰلٍ مِّنْ حَمَاٍ
مَّسْنُوۡنٍ ﴿۳۳﴾﴾ [الحجر:33] (یہ شیطان کا قول
حکایت کیا گیا ہے)
(٥)..﴿وَاَسَرُّوا
النَّجْوَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ہَلْ ہٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ﴾ [الأنبياء:3]
(٦)..﴿فَقَالَ
الْمَلَؤُا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَوْمِہٖ مَا ہٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ
مِّثْلُکُمْ ۙ یُرِیۡدُ اَنۡ یَّتَفَضَّلَ عَلَیۡکُمْ﴾
[المؤمنون:24]
(٧,٨)..﴿وَقَالَ
الْمَلَاُ مِنۡ قَوْمِہِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَکَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ
الْاٰخِرَۃِ وَ اَتْرَفْنٰہُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ۙ مَا ہٰذَاۤ اِلَّا
بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ ۙ یَاۡکُلُ مِمَّا تَاۡکُلُوۡنَ مِنْہُ وَ یَشْرَبُ مِمَّا
تَشْرَبُوۡنَ ﴿ۙ۳۳﴾ وَلَئِنْ اَطَعْتُمۡ بَشَرًا مِّثْلَکُمْ ۙ اِنَّکُمْ اِذًا
لَّخٰسِرُوۡنَ ﴿ۙ۳۴﴾﴾ [المؤمنون:33،34]
(٩)..﴿فَقَالُوۡۤا
اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیۡنِ مِثْلِنَا﴾ [المؤمنون:47]
(10)..﴿قَالُوۡۤا
اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیۡنَ ﴿۱۵۳﴾ مَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَاۚفَاۡتِ بِاٰیَۃٍ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ
الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۱۵۴﴾﴾ [الشعراء:153، 154]
(11)..﴿وَمَاۤ
اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ اِنۡ نَّظُنُّکَ لَمِنَ الْکٰذِبِیۡنَ ﴿۱۸۶﴾﴾
[الشعراء:186]
(12)..﴿قَالُوۡا
مَاۤ اَنۡتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا ۙ وَ مَاۤ اَنۡزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنۡ
شَیۡءٍ ۙ اِنْ اَنۡتُمْ اِلَّا تَکْذِبُوۡنَ ﴿۱۵﴾﴾ [يس:15]
(13)..﴿کَذَّبَتْ
ثَمُوۡدُ بِالنُّذُرِ ﴿۲۳﴾ فَقَالُوۡۤا
اَبَشَرًا مِّنَّا وٰحِدًا نَّتَّبِعُہٗۤ ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیۡ ضَلٰلٍ وَّ
سُعُرٍ ﴿۲۴﴾﴾
[القمر:23، 24]
(14)..﴿فَقَالُوۡۤا
اَبَشَرٌ یَّہۡدُوۡنَنَا۫ فَکَفَرُوۡا وَ تَوَلَّوۡا﴾ [التغابن:6]
(15)..﴿فَقَالَ
اِنْ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُ ﴿ۙ۲۴﴾ اِنْ ہٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ ﴿۲۵﴾﴾ [المدثر:24،
25]
قارئینِ کرام آپ نے ان آیات میں
دیکھ لیا ہو گا کہ
(۱)۔۔کفار ومشرکین نے اللہ کے حبیب کو اپنے جیسا بشر کہا ہے۔ جیسا کہ
بَشَرٌ مِّثْلُنَا وغیرہ کے بار بار تکرار سے صاف ظاہر
ہے۔
(2)۔۔آیات کے سیاق وسباق سے صاف ظاہر ہے کہ بار بار بشر بشر کی تکرار سے نبی
کی تحقیر یا اسکا عجز بیان کرنا مقصود ہے جیسا کہ اَبَشَرٌ
یَّہۡدُوۡنَنَا اور اِنْ ہٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ
الْبَشَرِوغیرہ کلمات سے صاف ظاہر ہے۔
(3)۔۔لفظ بشر کو بغیر کسی ایسے وصف یا قید کے بیان کیا گیا ہے جس سے انبیاء کی بشریت عام لوگوں کی بشریتِ محضہ سے
ممتاز ہو جائے۔ بلکہ وصف یا قید لگا کرممتاز کرنا تو دور کی بات مثلیت کا دعوی کیا
گیا ہے۔
کفار کی اس روش کے برخلاف آئیے اب قرآنِ کریم کا اسلوب دیکھتے ہیں۔ مندرجہ
ذیل چار(4) مقامات ملاحظہ فرمائیں:
(1)..﴿قَالَتْ
لَہُمْ رُسُلُہُمْ اِنۡ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ وَلٰکِنَّ اللہَ
یَمُنُّ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖؕ وَمَا کَانَ لَنَاۤ اَنۡ
نَّاۡتِیَکُمۡ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللہِ﴾ [إبراهيم:11]
(2)..﴿قُلْ
سُبْحَانَ رَبِّیۡ ہَلْ کُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا﴾ [الإسراء:93]
(3)..﴿قُلْ
اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوۡحٰۤی اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰـہُکُمْ
اِلٰہٌ وّٰحِدٌ﴾
[الكهف:110]
(4)..﴿قُلْ
اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوۡحٰۤی اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰـہُکُمْ
اِلٰہٌ وّٰحِدٌ﴾
[فصلت:6]
پہلی آیت میں رسلِ عظام نے اپنی بشریت ﴿بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ ﴾ سےبیان کرنے کے فورا
بعد کلمہ ﴿ وَلٰکِنَّ ﴾ سے اس وہم کا استدراک کیا ہے جو
آج کل کے بیمار دلوں میں رچ بس گیا ہے کہ انبیاء تو فقط ہماری طرح بشر ہیں وبس۔
اور نبوت ورسالت جیسے عظیم مراتب دکھائی نہیں دیتے۔
فمن کان فی ہذہ اعمی فہو فی الآخرہ اعمی واضل سبیلا
حاشیہ: ادنی طالب علم بھی جانتا ہے کہ نحو میر میں ہے(لکن ّحرفِ استدراک ہے)
اور اسکے حاشیہ میں ہے: (استدراک کا معنی ہے گزشتہ کلام سے پیدا ہونے والے وہم کو
دور کرنا)۔
دوسری آیت میں بشر کے فورا بعد رسولا کے
اضافے سے گمراہ گروں کا رستہ بند کر دیا گیا ہے۔کہ میں بشر تو ہوں لیکن تمہاری طرح
بشرِ محض نہیں بلکہ اللہ کا رسول بھی ہوں۔ فمن لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہ من نور
جبکہ تیسری اور چوتھی آیات میں یوحی الی کے وصف اور قید سے مماثلتِ محضہ کا
دعوی کرنیوالوں کو آئینہ دکھا کرقیامت تلک کے لئے فرق واضح کر دیا گیا ہے۔
فبای حدیث بعدہ یومنون
مذکورہ بالا چاروں آیات میں آپ نے اچھی طرح ملاحظہ فرمالیا کہ کسطرح قرآنِ
کریم نے بشریتِ انبیاء کو وصفِ رسالت اور
وحیِ الہی کے ساتھ بیان فرمایا اسی طرح کلمہ مبارکہ½أشهد أنّ
محمدا عبده ورسوله¼ میں عبدہ کے فورا بعد رسولہ کے
اضافہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبدیت کو عام لوگوں کی عبدیت سے ممتاز کردیا
ہے۔ لہذا جو انبیاء کی بشریت بیان کرے تو اسکے لئے ضروری ہے کہ کسی ایسے وصف یا
قید کا اضافہ کردے جس سے بشریتِ محضہ کاوہم ختم ہو اور کفار کے طریقہ سے اجتناب
حاصل ہو۔ مثال کے طور پر یہ الفاظ استعمال کرے:
افضل البشر، سید البشر، خیر البشر، عبداللہ ورسولہ وغیرہ۔
اب آئیے انبیاءِ کرام کی بشریت بیان کرنے کے سلسلے میں علماء ومفسرین کا روح
پر ور انداز ملاحظہ کرتے ہیں۔
تفسیرِ قشیری میں ہے:
﴿ قُلْ
اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ ﴾...إلخ [الكهف:110]: أَخْبِرْ أَنَّكَ
لهم من حيث الصورة والجنسية مُشاكِلٌ، والفَرْقُ بينكَ وبينهم تخصيصُ الله سبحانه
إياكَ بالرسالة، وتَرْكه إياهم في الجهالة. انتهى
یعنی: اللہ نے فرمایا کہ اے نبی لوگوں کو خبر دو کہ تم صورت وجنس کے اعتبار سے
تو لوگوں کی طرح ہو جبکہ تمہارے اور انکے درمیان فرق یہ ہے کہ اللہ نے تمہیں رسالت
کے ساتھ خاص فرمایا اور انہیں جہالت میں چھوڑ دیا۔
دیکھئے کس طرح صورت وجنس میں مماثلت بیان کرنے کے بعد عام لوگوں اور نبی کے
درمیان فرق کو بھی واضح فرما دیا۔ بس یہی وہ انداز ہے جو بد مذہب گمراہ گروں میں
مفقود اور پاک طینت علماء کرام میں محبوب ومودود ہے۔فسبحان اللہ عما یصفون
آئیے اب مزید آگے چلتے ہیں۔ تفسیر روح المعانی میں ہے:
قوله
تعالى: ﴿قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوۡحٰۤی اِلَیَّ اَنَّمَاۤ
اِلٰـہُکُمْ اِلٰہٌ وّٰحِدٌ﴾ إشارة إلى جهة مشاركته صلى الله عليه
وسلم للناس وجهة امتيازه ولولا تلك المشاركة ما حصلت الإفاضة ولولا ذلك الامتياز
ما حصلت الاستفاضة. وقد أشار مولانا جلال الدين القونوي الرومي قدس سره إلى ذلك.
انتهى
یعنی: اللہ تعالی کا فرمانِ عالیشان ﴿قُلْ
اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوۡحٰۤی اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰـہُکُمْ
اِلٰہٌ وّٰحِدٌ﴾ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لوگوں سے جہتِ مشارکت اور جہتِ امتیاز کی طرف اشارہ ہے۔
اگر یہ مشارکت نہ ہوتی تو لوگوں کو فیض حاصل نہ ہوتا اور اگر یہ امتیاز نہ ہوتا
کوئی فیض طلب نہ کرتا۔اسی طرف مولانا روم قدس سرہ نے اشارہ فرمایاہے۔ انتہی۔
دیکھئے کس قدر اچھوتے انداز میں جہتِ مماثلت بیان کرنے کے ساتھ ساتھ جہتِ
امتیاز بیان کرکے دیانتِ علمی کا ثبوت دیا ہے۔
مزید آگے بڑھتے ہیں۔ تفسیر ملا علی قاری میں ہے:
﴿قُلْ
اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ﴾ لا أدعي الإحاطة بما هنالك, ﴿یُوۡحٰۤی
اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰـہُکُمْ اِلٰہٌ وّٰحِدٌ﴾ وإنما
تميّزتُ عنكم بنحو ذلك. وقال الأستاذ: معناه أَخبِر أنك مثلهم من حيث الصورة والجنسية
ومباينهم من حيث السيرة والخصوصية فإنه سبحانه خصه بالنبوة والرسالة وتركَ غيرَه
في بيداء الجهالة والضلالة. ويقال إني وأنتم في الصورة أَكْفاء ووجه اختصاصي عنكم
إيحاء. انتهى (أنوار القرآن وأسرار الفرقان للقاري)
یعنی میں کلماتِ رب کے احاطے کا دعوی نہیں کرتا۔ مجھے وحی
آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے ۔ بس اسی وحی ونبوت کی وجہ سے میں تم سےممتاز
ہوں۔ استادنے فرمایا اس آیت کا معنی ہے کہ اے نبی تم لوگوں کو خبر دے دو کہ تم
صورت وجنس کی حیثیت سے تو لوگوں کی طرح ہو لیکن سیرت وخصوصیت میں ان سے جدا ہو
کیونکہ اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ورسالت کے ساتھ خاص
فرمایااور دوسروں کو جہالت وضلالت کے میدان میں چھوڑ دیا۔ اور (اس آیت کی تفسیر
میں یہ بھی )کہا گیا ہے کہ: میں اور تم صورتا تو ایک جیسے ہیں لیکن میری وجہِ
خصوصیت وحیِ الہی ہے۔
دیکھئے صورت وجنسیت میں مماثلت ومشابہت بیان کرنے کے ساتھ
ساتھ کسطرح عام لوگوں سےنبوی فرق کو اہتمام کے ساتھ واضح کیا گیا ہے۔ اللہ سب کو
ہدایت دے۔
مزید آگے چلتے ہیں۔ حجۃ الاسلام
امام غزالی فرماتے ہیں:
النبي
إذا شارك الناس في البشرية والإنسانية في الصورة فقد باينهم من حيث المعنى؛ إذ
بشريته فوق بشرية الناس لاستعداد بشريته لقبول الوحي. ﴿قُلْ
اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ﴾ أشار إلى طرف من المشابهة من حيث الصورة ﴿یُوۡحٰۤی
اِلَیَّ﴾
أشار إلى طرف المباينة من حيث المعنى. انتهى (معارج القدس للإمام الغزالي)
یعنی
حضور صلی اللہ علیہ وسلم بشریت وانسانیت میں تو صورتا
لوگوں سے مشارکت رکھتے ہیں لیکن معنًا ان سے مختلف ہیں۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی بشریت لوگوں کی بشریت پر فوقیت رکھتی ہے اسلئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم
کی بشریت میں قبولِ وحی کی استعداد وصلاحیت ہے۔﴿قُلْ
اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ﴾ سے صورتا مشابہت کی طرف اشارہ فرمایا اور ﴿یُوۡحٰۤی
اِلَیَّ﴾سے من حیث المعنی جدا اور مختلف ہونے کی طرف اشارہ فرمایا۔
امام غزالی نے بھی نبی کی بشریت کو دیگر لوگوں کی بشریت سے
مغایر ومبائن بلکہ اعلی قرار دیا ہے۔ فالآن حصحص الحق۔
تفسیرِ سلمی میں ہے:
قال
ابن عطاء في قوله: ﴿اِنَّمَاۤ
اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ﴾ [فصلت:6] في ظاهر الأحكام ومحلّ الاتّباع, أُمثّل لكم
سُبل الشريعة وأحكام الدين وأَكملُكم بوحي من ربكم أنه إله واحد فمن صدّقني واتبع سنّتي فقد وصل إلى الرضوان ومن خالفني
وأعرض عني فقد أعرض عن طريقة الحق فأنا
بشر مثلكم في الظاهر ولست مثلكم في الحقيقة ألا تراه صلى الله عليه وسلم يقول:
((إني لست كأحدكم إني أبيت عند ربي فيُطعمني ويَسقيني)) رواه الترمذي. انتهى (تفسير
السلمي)
یعنی ابن عطاء نے اللہ کے اس فرمان ﴿اِنَّمَاۤ
اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ﴾کے بارے میں کہا کہ میں ظاہر احکام اور محل اتباع میں تمہاری مثل ہوں۔ تمہارے لئے شریعت کے راستے اور دین کے احکام بیان کرتا ہوں اور تم میں
سب سے زیادہ کامل ہوں کہ تمہارے رب کی طرف سے مجھے وحی آئی ہے کہ وہ واحد معبود
ہے۔ تو جس نے میری تصدیق کی اور میری سنت کی اتباع کی تو اس نے رضا ئے الہی کو پا
لیا اور جس نے مجھ سے اعراض کیا تو اس نے راہِ حق سے روگردانی کی۔ میں ظاہرا
تمہاری طرح بشر ہوں اور حقیقت میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں اپنے رب کے پاس
رات گزارتا ہوں وہ مجھ کھلاتا پلاتا ہے۔رواہ الترمذی
یہاں بھی حضور علیہ السلام کی بشریت کو دیگر لوگوں کی بشریت
سے ممتاز کرکے بیان کیا گیا ہے۔ قد تبین الرشد من الغی۔
ایک قدم اور آگے چلتے ہیں۔ تفسیرِ
مظہری میں ہے:
﴿قُلْ
اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوۡحٰۤی اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰـہُکُمْ
اِلٰہٌ وّٰحِدٌ﴾
[الكهف:110] قلت فيه سد لباب الفتنة افتتن بها النصارى حين رأوا عيسى يبرئ الأكمه
والأبرص ويحيى الموتى وقد أعطى الله تعالى لنبيّنا صلى الله عليه وسلم من المعجزات
أضعاف ما أعطى عيسى عليه السلام فأمره بإقرار العبوديّة وتوحيد الباري لا شريك له.
انتهى (تفسير المظهرى)
یعنی میں کہتا ہوں کہ اس آیت میں اس فتنے کا سد باب ہے جس
میں نصاری مبتلا ہوگئے تھے جب انھوں نے عیسی علیہ السلام کو کوڑی اور برص والے کو
تندرست کرتے اور مردوں کو زندہ کرتے دیکھا۔ اور اللہ تعالی نے ہمارے نبی صلی اللہ
علیہ وسلم کو عیسی علیہ السلام سے کئی گنا زیادہ معجزات عطا فرمائے ہیں۔ پھر آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کوتوحید وبندگی کے اقرار کا حکم دیا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالی نے اقرارِ بشریت کروایا اسکی حکمت قاضی
ثناء اللہ صاحب یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ اسلئے تاکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے کثیر
معجزات دیکھ کرکوئی آپکی الوہیت کا گمان
نہ کرلے جسطرح نصاری نے حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں گمان کر لیا تھا۔ یہ
اقرار اس لئے نہیں کروایا تھا کہ کوئی مماثلتِ محضہ اور ہمسری کا دعوی کرے۔ فالی
اللہ المشتکی
نیز فتح الباری میں ہے:
وَلَعَلَّ
السِّرَّ فِي قَوْله ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ
مِّثْلُکُمْ﴾
امْتِثَالُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: ﴿ قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا
بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ﴾ أي في إِجراء الأحكام على الظاهر الذي يَستوي فيه
جميع المكلَّفين فأُمر أَنْ يَحكُمَ بمِثْلِ ما أُمروا أَنْ يَحْكُمُوا بِهِ
لِيَتِمَّ الاقتِداءُ به وَتَطِيبَ نُفوسُ العِبَادِ للانقِياد إلى الأحكام
الظّاهرة من غير نَظَرٍ إلى الباطن. انتهى (فتح
الباري لابن حجر)
شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول میں کہ ’’میں تمہاری
طرح بشر ہوں‘‘ اللہ کے حکم ’’کہو کہ میں تمہاری طرح بشر ہوں‘‘ کا امتثال اور اسکی
بجا آوری ہے۔ یعنی میں ظاہری احکام کے
اجرا ء میں تمہاری طرح ہوں کہ جس میں سب مکلفین برابر ہیں۔ لہذا آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کو ایسا ہی حکم دیا گیاجیسا لوگوں کو حکم دیا گیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی اقتداء ہواور بندوں کے نفوس احکامِ ظاہرہ کی بجا آوری کے لئےراغب ہوں
باطن کی طرف نظر کئے بغیر۔
اور شفا شریف میں ہے:
وقال
تعالى ﴿قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوۡحٰۤی اِلَیَّ﴾
الآية فمحمد صلى الله عليه وسلم وسائر الأنبياء من البشر أُرسلوا إلى البشر ولولا
ذلك لما أطاق الناس مقاومتهم والقبول عنهم ومخاطبتهم قال الله تعالى ﴿وَلَوْ
جَعَلْنٰہُ مَلَکًا لَّجَعَلْنٰہُ رَجُلًا﴾ [الأنعام:9]
أي لَما كان إلاّ في صورة البشر الذين يمكنكم مخالطتهم إذ لا يطيقون مقاومة
المَلَك ومخاطبته ورؤيته إذا كان على صورته، وقال تعالى ﴿قُلۡ لَّوْ کَانَ فِی
الۡاَرْضِ مَلٰٓئِکَۃٌ یَّمْشُوۡنَ مُطْمَئِنِّیۡنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیۡہِمۡ مِّنَ
السَّمَآءِ مَلَکًا رَّسُوۡلًا﴾ [الإسرا:95] أي لا يمكن في سنة الله
إرسال الملَك إلا لمن هو من جنسه أو من خصه الله تعالى واصطفاه وفواه على مقاومته
كالأنبياء والرسل فالأنبياء والرسل عليهم السلام وسائط بين الله تعالى وبين خلقه
يبلغونهم أوامره ونواهيه ووعده ووعيده ويعرّفونهم بما لم يَعلموه مِن أمره وخلقِه
وجلالِه وسلطانه وجبروته وملكوته, فظواهرهم وأجسادهم وبِنْيتهم متصفة
بأوصاف البشر طارئ عليها ما يطرأ على البشر من الأعراض والأسقام والموت والفناء
ونعوت الإنسانية, وأرواحهم وبواطنهم متصفة بأعلى من أوصاف البشر متعلقة
بالملإ الأعلى متشبهة بصفات الملائكة سليمة من التغير والآفات لا يلحقها غالبا عجز
البشرية ولا ضعف الإنسانية إذ لو كانت بواطنهم خالصة للبشريّة كظواهرهم لما أطاقوا
الأخذ عن الملائكة ورؤيتَهم ومخاطبتَهم ومُخالّتَهم كما لا يطيقه غيرهم من البشر,
ولو كانت أجسادهم وظواهرهم متّسمة بنعوت الملائكة وبخلاف صفات البشر لما أطاق
البشر ومن أُرسلوا إليه مخالطتهم كما تقدم من قول الله تعالى. فجُعلوا من
جهة الأجسام والظواهر مع البشر ومن جهة الأرواح والبواطن مع الملائكة، كما قال صلى
الله عليه وسلم ((لو كنتُ متخذا من أمتي خليلا لاتخذتُ أبا بكر خليلا ولكن أُخوّة
الإسلام لكن صاحبكم خليل الرحمن)) وكما قال ((تنام عيناي ولا ينام قلبي)) وقال
((إني لست كهيئتكم إني أظلّ يطعمني ربي ويسقيني)) فبواطنهم منزّهة عن الآفات
مطهّرة عن النقائص والاعتلالات. انتهى. (الشفا بتعريف حقوق المصطفى)
ہمارے نبی اور باقی دیگر انبیاء
بشر تھے اور بشر کی طرف بھیجے گئے تھے اگر انبیاء بشر نہ ہوتے تو لوگوں میں انکے
ساتھ کھڑے ہونے اور ان سے لینے اور ان سے کلام کرنے کی طاقت نہ ہوتی۔اللہ تعالی نے
فرمایا ’’اور اگرہم نبی کو فرشتہ کرتے جب بھی اسے مرد ہی بناتے‘‘ کنز الایمان۔ یعنی صورتِ بشر پر ہی ہوتے تاکہ لوگوں کے لئےان سے میل جول
آسان ہو کیونکہ لوگ فرشتے کو اسکی صورت میں دیکھنے اور اس سے کلام کرنے کی طاقت
نہیں رکھتے۔ اور اللہ تعالی نے فرمایا: تم فرماؤ اگر زمین میں فرشتے ہوتے چین سے چلتے تو ان پر ہم رسول بھی فرشتہ
اتارتے۔کنز الایمان۔ یعنی اللہ کی سنت جاریہ میں فرشتے کو بھیجنا ممکن نہیں مگر
اسکے لئے جو اسی کی جنس سے ہو۔ یا اسکے لئے جسے اللہ نے خاص کرلیا ہو اور چن لیا
ہو اورفرشتے کو اسکا ساتھ دینے کے لئے مقرر کر لیا ہوجیسے کہ انبیاء ورسل۔ لہذا
انبیاء ورسل اللہ اور مخلوق کے درمیان وسائط ہیں۔کہ وہ اللہ کے اوامر ونواہی اور
وعدہ وعید کو ان تک پہنچاتے ہیں۔اور جو وہ نہیں جانتے وہ انہیں بتاتے ہیں یعنی
اسکا امر، خلق، جلال، سلطنت اور اسکی جبروتیت وملکوتیت۔پس انکے ظواہر اور اجساد
واجسام اوصافِ بشر سے متصف ہوتے ہیں اور ان پر بشر کے سے اعراض ، اسقام، موت وفناء
اور صفاتِ انسانیہ طاری ہوتی ہیں۔ اور انکی ارواح وباطن اوصافِ بشر سےزیادہ اعلی
صفات کے ساتھ متصف ہوتے اور ملأِ اعلی کے ساتھ متعلق، صفاتِ ملائکہ سے مشابہہ،
تغیر وآفات سے محفوظ، عجز بشریت وضعفِ انسانیت سےاکثر پاک ہوتے ہیں۔کیونکہ اگر
انکے بواطن انکے ظواہر کی طرح خالص بشری ہوتے تو وہ دیگر بشر کی طرح ملائکہ سے لینے انہیں دیکھنے ان
سے گفتگو کرنے اور ان سے میل جول کی طاقت نہ رکھتے۔ اور اگر انکے اجساد
وظواہرصفاتِ بشر کے بجائے صفاتِ ملائکہ سے متصف ہوتے تو لوگ ان سے استفادہ و
مخالطت نہ کرپاتے۔ جیسا کہ گزر گیا۔
لہذا اجسام وظواہر کے اعتبار سے
بشر کی طرح بنائے گئے اور ارواح وبواطن کے اعتبار سے ملائکہ کی طرح بنائے گئے۔
جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگر میں اپنی امت میں کسی کو اپنا دوست
بناتا توابو بکر کو بناتا لیکن وہ اسلامی بھائی ہیں لیکن تمہارا صاحب اللہ کا خلیل
ہے۔ اور ارشاد فرمایا: میری آنکھیں سوتی ہیں دل نہیں سوتا۔ اور فرمایا: میں تمہاری
طرح نہیں ہوں مجھے میرا رب کھلاتا پلاتا ہے۔ پس ان کے بواطن آفات سے پاک اور
نقائص وعلل سے صاف ہوتے ہیں۔انتہی
ناظرین آپ قاضی عیاض مالکی کے
مندرجہ بالا کلمات کو بار بار پڑھیں اور گمراہوں کے دعوائے مماثلت ومساوات پربار
بار افسوس کریں۔
شیخ عبد الحق محدث
دہلوی فرماتے ہیں:
واضح رہے کہ یہاں ایک ادب او رقاعدہ ہے جسے بعض اصفیا اور اہل تحقیق نے بیان
کیا ہے اور اس کا جان لینا اور اس پر عمل پیرا ہونا مشکلات سے نکلنے کا حل اور
سلامت رہنے کا سبب ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر کسی مقام پر اﷲ رب العزت جل وعلا کی طرف
سے کوئی خطاب،عتاب،رعب ودبدبہ کا اظہار یا بے نیازی کا وقوع ہو مثلاً آپ ہدایت
نہیں دے سکتے،آپ کے اعمال ختم ہوجائیں گے،آپ کے لئے کوئی شیئ نہیں،آپ حیات دنیوی
کی زینت چاہتے ہیں،اوراس کی مثل دیگر مقامات،یا کسی جگہ نبی کی طرف
سےعبدیت،انکساری،محتاجی و عاجزی اور مسکینی کا ذکر آئے مثلاً میں تمھاری طرح بشر
ہوں،مجھے اسی طرح غصہ آتا ہے جیسے عبد کو آتا ہے اور میں نہیں جانتا اس دیوار کے
ادھر کیا ہے،میں نہیں جانتا میرے ساتھ اور تمھارے ساتھ کیا کیا جائے گا،اور اس کی
مثل دیگر مقامات،ہم امتیوں اورغلاموں کو جائز نہیں کہ ان معاملات میں مداخلت
کریں،ان میں اشتراک کریں اور اسے کھیل بنائیں،بلکہ ہمیں پاس ادب کرتے ہوئے خاموشی
وسکوت اور توقف کرنا لازم ہے ، مالک کا حق ہے کہ وہ اپنے بندے سے جو چاہے فرمائے،
اس پر اپنی بلندی اور غلبہ کا اظہار کرے،بندے کا بھی یہ حق کہ وہ اپنے مالک کے
سامنے بندگی اور عاجزی کا اظہار کرے ،دوسرے کی کیا مجال کہ وہ اس میں دخل اندازی
کرے اور حد ادب سے باہر نکلنے کی کوشش کرے،اس مقام پر بہت سے کمزور اور جاہل لوگوں
کے پاؤں پھسل جاتے ہیں جس سے وہ تباہ و برباد ہوجاتے ہیں، اﷲ تعالٰی محفوظ رکھنے والا اور مدد کرنے والا ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ (مدارج النبوۃ 1/83, باب سوم, وصل در ازالہ
شبہات از بعضے آیات مبهمات وموهمات, ط: نوریہ رضویہ سکھر, باكستان)
دوسرا امر:
ما قبل آیات اور انکے ضمن میں گزرنے والی ابحاث سے یہ امر روزِ روشن کی طرح
واضح ہو گیا ہے کہ کفار کا یہ وطیرہ تھا کہ وہ بات بات پر یہ کہتے تھے کہ انبیاء
ہماری طرح ہی بشر ہیں اور انہیں ہم پر
کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔ اور کہتے تھے کہ: ﴿اَبَشَرٌ
یَّہۡدُوۡنَنَا﴾
[التغابن:6] کیا ایک بشر ہمیں ہدایت دے گا۔
چنانچہ تفسیر البحر المحیط میں اس آیت کے تحت ہے کہ: ½أنهم يقولون
نحن متساوُون في البشرية، فأنى يكون لهؤلاء تمييز علينا بحيث يصيرون هُداةً لنا؟¼
انتهى
یعنی کفار یہ کہتے تھے کہ ہم اور انبیاء بشریت میں برابر ہیں۔ تو انہیں ہم پر
کیسے برتری حاصل ہوگئی کہ ہمارے ہادی بنیں۔انتہی۔
تو کفار کے رد میں آیات بشریت نازل ہوئیں جن میں وحیِ الہی، رسالت اور اللہ
کےفضل واحسان کے ذکر سے انبیاء کا امتیاز ظاہر کیا گیا ہے جیسا کہ ماقبل گزرا۔لہذا ثابت ہوا کہ وہ
تساوی، مثلیت اور برابری جسکے رد میں آیاتِ قرآنیہ نازل ہوئیں اسی تساوی اور
برابری کو آج کے بعض فرقِ ضالہ پورے زور وشور کے ساتھ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔اور
علماء اسلام وقرآن کریم کے اسلوب سے روگردانی کرتےہوئے کفار کی بولی بول رہے ہیں۔سچ
فرمایا اللہ تعالی نے: ﴿یُضِلُّ بِہٖ
کَثِیۡرًاۙ وَّیَہۡدِیۡ بِہٖ کَثِیۡرًا﴾ [البقرة:١٢٦]. نسأل الله العفو
والعافية۔
امام راغب اصفہانی فرماتے ہیں:
½وخُصّ
في القرآن كل موضع اعتُبر من الإنسان جُثّته وظاهرُه بلفظ البشر، نحو: ﴿الَّذِیۡ
خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا﴾ [الفرقان:54]، و﴿اِنِّیۡ
خٰلِقٌۢ بـَشَرًا مِّنۡ طِیۡنٍ﴾ [ص:71]، ولما أراد الكفار الغَضَّ من
الأنبياء اعتبروا ذلك فقالوا: ﴿اِنْ ہٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ﴾
[المدثر:25]، و﴿اَبَشَرًا مِّنَّا وٰحِدًا نَّتَّبِعُہٗۤ﴾
[القمر:24]، ﴿مَاۤ
اَنۡتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا﴾ [يس:15]، ﴿اَنُؤْمِنُ
لِبَشَرَیۡنِ مِثْلِنَا﴾ [المؤمنون:47]، ﴿فَقَالُوۡۤا
اَبَشَرٌ یَّہۡدُوۡنَنَا﴾ [التغابن:6]، وعلى هذا قال: ﴿اِنَّمَاۤ
اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ﴾ [الكهف:110]، تنبيها أن الناس يتساوَون
في البشرية، وإنما يتفاضلون بما يختصون به من المعارف الجليلة والأعمال الجميلة،
ولذلك قال بعده: ﴿یُوۡحٰۤی اِلَیَّ﴾ [الكهف:110]، تنبيها أني بذلك
تميّزتُ عنكم¼. انتهى (المفردات للراغب)
ترجمہ: قرآن میں ہر وہ مقام جہاں انسان کا جثہ اور اسکا
ظاہری جسم مراد ہے اسےلفظ بشر کے ساتھ خاص کیا گیا ہے۔ جیسے کہ ﴿الَّذِیۡ
خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا﴾ [الفرقان:54] اور و﴿اِنِّیۡ
خٰلِقٌۢ بـَشَرًا مِّنۡ طِیۡنٍ﴾ [ص:71]. لہذا جب کفار نے انبیاء کرام علیہم السلام سے صرفِ نظر کی
تو انھوں نےاسی ظاہری جسم وجثہ کا اعتبار کیا اور کہا: ﴿اِنْ
ہٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ﴾ [المدثر:25]، اور﴿اَبَشَرًا
مِّنَّا وٰحِدًا نَّتَّبِعُہٗۤ﴾ [القمر:24]، ﴿مَاۤ
اَنۡتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا﴾ [يس:15]، ﴿اَنُؤْمِنُ
لِبَشَرَیۡنِ مِثْلِنَا﴾ [المؤمنون:47]، ﴿فَقَالُوۡۤا
اَبَشَرٌ یَّہۡدُوۡنَنَا﴾ [التغابن:6]
اسی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿اِنَّمَاۤ
اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ﴾ [الكهف:110] تاکہ اس بات کی
تنبیہ ہو کہ تمام لوگ بشریت میں برابر ہیں۔بس فضیلت انہی
معارفِ جلیلہ اور اعمالِ جمیلہ کے سبب ہوتی ہے جنکے ساتھ انہیں خاص کیا جاتا
ہے۔اسی لئے اسکے بعد فرمایا: ﴿یُوۡحٰۤی اِلَیَّ﴾
[الكهف:110]۔
اس بات پرتنبیہ کے لئے کہ میں انہی امور کی وجہ سے تم سے ممتاز اور جدا ہوں۔
مذکورہ بالا اقتباس سے معلوم ہوا کہ کفار کی یہ عادت تھی کہ وہ انبیاءِ کرام
کے ظاہری جسم وجثہ پرنظر رکھتے ہوئے انہیں اپنے جیسا بشرِ محض گمان کرتے تھے اور
وہ درجات وکمالات جو اللہ کریم نے انہیں اپنے فضل وکرم سے عطا کئے تھے جیسے نبوت
ورسالت، معرفت وشریعت، نور وہدایت وغیرہ ان سے صرفِ نظر کرتے تھے۔جسکی وجہ سے وہ
گمراہ ہوگئے۔لہذا ضروری ہے کہ بشریتِ محضہ کے قول سے بچا جائے کیونکہ یہ کفار کا
قول ہے جس طرح کفارومنافقین کے قول راعنا سے بچا جاتا ہے۔
تیسرا امر:
مؤمن اور مشرک دونوں بشر ہیں لہذا
چاہئے کہ دونوں برابر ہوں لیکن قرآن فرماتا ہے: ﴿وَلَعَبْدٌ
مُّؤْمِنٌ خَیۡرٌ مِّنۡ مُّشْرِکٍ﴾ [البقرة:221], اور رب کی شان دیکھئے
کہ نبی سے فرماتا ہے کہ: ﴿قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا
بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ﴾ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات سے فرماتا ہے
کہ:
﴿یٰنِسَآءَ
النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ﴾ [الأحزاب:32]
اے نبی کی بیبیو تم
دوسری عورتوں کی طرح نہیں ہو, فاعتبروا يا أولي الأبصار.
چوتھا امر:
انبیاءِ کرام کا اپنے آپ کو اوروں کی مثل بشر کہنا تواضع اور انکساری کے سبب
تھا لہذاکسی اورشخص کے لئے یہ روا نہیں کہ وہ خود یہ الفاظ استعمال کرے۔
چنانچہ علامہ ابن جوزی فرماتے ہیں:
قوله تعالى: ﴿قُلْ
اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ﴾ قال ابن عباس: علَّم الله
تعالى رسوله التواضع لئلا يُزهَى على خلقه، فأمره أن يُقِرَّ على نفسه بأنه آدمي
كغيره، إِلا أنه أُكرم بالوحي. انتهى (زاد المسير)
ابنِ عباس نے فرمایا: اللہ تعالی نے اپنے رسول کو تواضع کی تعلیم دی تاکہ اسکی
مخلوق پر بڑائی نہ جتائیں۔ لہذا رسول کو حکم دیا کہ وہ اقرار کریں کہ وہ بھی آدمی
ہیں دیگر کی طرح سوائے یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ساتھ تکریم دی گئی
ہے۔
اور تفسیرِ بغوی میں ہے:
علم الله رسوله
التواضع لئلا يَزهُو على خلقه، فأمره أن يُقرّ فيقول: إني آدمي مثلكم، إلا أني
خصصتُ بالوحي وأكرمني الله به. انتهى (تفسير البغوي)
اسکا مفہوم بھی ما قبل کی مثل ہے۔
اور تفسیرِ قرطبی میں ہے کہ:
أَي لستُ بمَلَك
بل أنا من بني آدم. قال الحَسن: علَّمه الله تعالى التواضُع. انتهى (تفسير
القرطبي)
یعنی میں فرشتہ نہیں بلکہ اولادِ آدم میں سے ہوں۔ حسن نے کہا کہ اللہ نے آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کو تواضع کی تعلیم دی۔
حکایت:
امام شعرانی فرماتے ہیں کہ:
وكان (الشيخ محمد
أبو المواهب الشاذلي) رضي الله عنه يقول: قلتُ: مرة في مجلس
محمد بشر لا
كالبشر بل هو ياقوت بين الحجر
فرأيتُ
النبيّ صلى الله عليه وسلم، فقال لي: قد غفر الله لك، ولكل من قالها معك، وكان رضي
الله عنه لم يزل يقولها في كل مجلس إلى أن مات. انتهى, (الطبقات
الكبرى)
یعنی شیخ محمد ابو المواہب شاذلی رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ میں نے ایک
مرتبہ کسی مجلس میں یہ شعر پڑھا:
محمد بشر لا
كالبشر بل هو ياقوت بين الحجر
ترجمہ: محمد صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہیں لیکن کسی بشر کی طرح نہیں، بلکہ اس
طرح ہیں جیسے یاقوت پتھروں کے درمیان۔
تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے مجھ سے فرمایا: اللہ نے
تجھے بخش دیا اورہر اس شخص کو بھی جس نے یہ کلمہ تمہارے ساتھ کہا۔اسکے بعد شیخ
مذکور جب تک بقید حیات رہے ہر مجلس میں یہ شعر کہا کرتے تھے۔
کسی نے کیا خوب کہا:
لا يمكن الثناء
كما كان حقُّه بعد از خدا بزرگ توئی قصه مختصر
نوٹ: (۱)۔۔اعلی حضرت امامِ اہلسنت فرماتے ہیں کہ:
جو مُطْلَقاً حضور سے بشریت کی نفی کرے وہ کافر ہے،قال تعالی: ﴿قُلْ
سُبْحَانَ رَبِّیۡ ہَلْ کُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا﴾
[اسراء:93]
تم فرماؤ:میرا رب پاک ہے میں تو صرف اللہ کا بھیجا ہوا ایک آدمی ہوں۔
(2)۔۔تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ:
اور حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو بشر کہنے میں راہِ
سلامت یہ ہے کہ نہ تو آپ کی بشریت کا مُطْلَقاً انکار کیا جائے اور نہ ہی کسی
امتیازی وصف کے بغیر آپ کی بشریت کا ذکر کیا جائے بلکہ جب حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بشریت کا ذکر کیا
جائے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو افضل البشر یا سیّد البشر کہا جائے یا یوں کہا جائے کہ
آپ کی ظاہری صورت بشری ہے اور باطنی حقیقت بشریَّت سے اعلیٰ ہے۔
انسان جب مادیت
بھری زندگی،اس کی کثافتوں اور الجھنوں سے
تنگ آجاتا ہے………
اوراس کا دل عیش ونشاط سے بھرجاتا ہے……… توآخر کاروہ روحانیت،ذہنی سکون اوردل کے آرام کی تلاش وجستجومیں نکل کھڑا ہوتا ہے ……… روحانیت کیا ہے ؟………اس کی ضرورت واہمیت
کیا ہے؟………اورانسان کو اس کی تلاش کیوں ہے؟………آئیے !ان سوالات کے جوابات ڈھونڈتے ہیں۔
لفظ ”روحانیت“روح سے بنا ہے اور
روح کے معنی ہیں راحت ، سکون اور قرار لہٰذا
روحانیت کا مطلب بنے گا ایسا عمل جس سے سکون حاصل کیا جائے………اللہ تعالیٰ نے
جس طرح مادے کے ذریعے انسان کا ظاہری وجودبنایا ہے اسی طرح روح کے ذریعے ایک باطنی
وجود بھی تخلیق کیا ہے ……… انسان کا ظاہری وجود ہاتھ، پاؤں، چہرہ، جسم ، دل، گردے پھیپڑے اور دیگر اعضا پر مبنی ہے
جبکہ باطنی وجودایمان،نور،عقل،معرفت،غوروفکر،
جذبات ، احساسات، خوشی ، غمی، بے چینی اور سکون جیسی کیفیا ت پر مشتمل ہے………دنیا کے مذاہب
میں ہمیں روحانیت یعنی سکون حاصل کرنے کے جدا جدا طریقے نظر آتے ہیں جیسے کوئی یوگا کرتا ہے………کوئی مراقبہ
کرتا ہے………کوئی جنگلات وویرانوں میں پناہ ڈھونڈتا ہے ………کوئی غاروں کو اپنی آماجگاہ بناتا ہے………
کوئی پُرفضا مقامات کو مسکن بناتا ہے………اور کوئی دنیا کے شوروغل سے دُور سُنسان جگہوں کا متلاشی ہے الغرض مقصد سب کا
ایک ہے کہ اپنی روح کو سکون وچین پہنچایا
جائے ………مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر ایسا کرنے سے کامل
سکون حاصل نہیں ہوتا ………ان سب کے برعکس ہم جب اسلام کے تصور روحانیت پر
غور کرتے ہیں تو ہمیں ایک کامل تسکین دینے والا نظام نظر آتا ہے ۔چنانچہ،
اسلام میں روحانیت کامطلب اپنے خالق ومالک کا قرب ہے ……… پہلے
بتایا جاچکا کہ انسان کے دو پہلو ہیں ایک مادی اور دوسرا روحانی ………مادی پہلو کا تعلق دنیا سے اور روحانی پہلو کا تعلق اللہ پاک سے ہے………انسان کے روحانی اور مادی پہلو ایک دوسرے کے ساتھ
جنگ میں ہیں……… اگر انسان نے خدا
کی قربت حاصل کرنی ہے تو اسے اپنے مادی پہلو کو کچلنا ہو گا……… پس اگر انسان اپنے مادی پہلو کو کچلنے میں کامیاب
ہو گیا تو وہ قرب الٰہی کو پا لے گا……… اور اگر وہ ا پنے مادی پہلو کو کچلنے میں
ناکام رہا تو راہِ خدا سے بھٹک جائے گا………پھر یہ کہ جوبندہ
رب کریم کے جتنا قریب ہوتا ہے وہ اتنی ہی
بڑی روحانی شخصیت کا مالک بن جاتا ہے ………ہمارے پیارے دین میں قرب الٰہی پانے کا مدار قرآن پاک اور سنت نبوی پر عمل کرنے میں ہے ……… کیونکہ اب پوری انسانیت کے پاس دینی وآسمانی علوم
کا سرچشمہ صرف قرآن کریم ہے اوران علوم کی کامل تشریح وتوضیح حضور خاتم الانبیاء ﷺ کا قول وعمل ہے………آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
” تَرَكْتُ فِيْكُمْ
أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوْا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا كِتَابَ اللهِ وَسُنَّةَ نَبِیِّہٖترجمہ:میں نے تم میں دو چیزیں
چھوڑیں ہیں جب تک انہیں تھامے رکھو گے گمراہ نہیں ہوگے ،اللہ تعالیٰ کی کتاب اور
اس کے رسول کی سنت۔“ (موطاامام
مالک،حدیث:1594)
ایک مشہور حدیث قدسی ہے جس میں
قربِِ الہٰی یعنی اسلامی روحانیت پانے کا راز کھول کر بیان کیا گیا ہے اسے یہاں بیان کرنا فائدے سے خالی نہ
ہوگا۔حضور اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:میرا بندہ فرائض کی
ادائیگی کے ذریعے جتنا میراقرب حاصل کرتا ہے اس کی مثل کسی دوسرے عمل سے حاصل نہیں
کرتا(ایک روایت میں یوں ہے: میرابندہ
کسی ایسی شئے سے میراقرب نہیں پاتاجوفرض کواداکرنے سے زیادہ پسندہو) اورمیرا بندہ نوافل(کی کثرت)سے میرے قریب ہوتارہتاہے یہاں تک کہ میں اس کو
اپنا محبوب بنالیتا ہوں اورجب میں اسے محبوب بنالیتاہوں تو میں اس کاکان بن جاتا ہوں جس کے ذریعے وہ سنتا
ہے اور میں اس کی آنکھ ہوجاتا ہوں جس سے
وہ دیکھتا ہے اور میں اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اورمیں اس کا
پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے ۔اگروہ مجھ سے مانگے تو میں اسے ضروردیتا ہوں
اور اگر وہ مجھ سے پناہ طلب کرے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں ۔‘‘(صحیح بخاری ،حدیث:6502)
حضرت امام ابوعبداللہ محمدبن
عمر المعروف امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ (وفات :606ھ) نے اس حدیث پاک کامعنی ومقصدیہ بیان
فرمایاہے کہ جب بندہ اپنے آپ کواللہ ربُّ العزت کے عشق ومحبت والی آگ میں
جلاکرفناکردیتاہے………نفسانیت وانانیت والازنگ اورمیل
کچیل دور ہو جاتا ہے………اورانوارِالہٰیہ سے اس کابدن
منورہوجاتاہے تووہ اللہ تعالیٰ کے انوارہی سے دیکھتا ہے………انہی
کی بدولت سنتاہے ………اس کابولناانہی انوارکے ذریعے
ہے ………اس کا چلنا ،پھرنااورپکڑنا،مارناانہی
سے ہوتاہے ………امام رازی کے الفاظ یہ ہیں: ’’اِذَاصَارَ نُوْرُ جَلَالِ اللّٰہِ لَہٗ سَمْعًا سَمِعَ ال ْقَرِیْبَ
وَالْبَعِیْدَ وَاِذَاصَارَنُوْرُجَلَالِ اللّٰہِ لَہٗ بَصَرًارَأَی الْقَرِیْبَ
وَالْبَعِیْدَ وَاِذَا صَارَذَالِکَ النُّوْرُیَدًالَہٗ قَدَرَعَلَی التَّصَرُّفِ
فِی الصَّعْبِ وَالسَّہْلِ وَالْقَرِیْبِ وَالْبَعِیْدِترجمہ:اللہ پاک کانورِجلال جب
بندۂ محبوب کے کان بن جاتاہے تووہ ہر آوازکوسن سکتاہے نزدیک ہویادور اور آنکھیں
نورِجلال سے منورہوجاتی ہیں تودورونزدیک کا فرق ختم ہوجاتاہے یعنی ہرگوشۂ کائنات
پیش نظرہوتاہے اورجب وہی نوربندہ کے ہاتھوں میں جلوہ گر ہوتا ہے توقریب وبعید اور
مشکل وآسان میں اسے تصرف کی قدرت حاصل ہوجاتی ہے۔‘‘( تفسیرکبیر، 7/436)
سچی بات ہے کہ اللہ رب العزت پر
ایمان رکھنے والا بندہ جتنا زیادہ اپنے رب کو یاد کرتا ہے………اس
کے قریب ہونے کی کوشش کرتا ہے اتنا زیادہ
روحانیت وسکون حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوۡبُہُمۡ
بِذِکْرِ اللہِ ؕاَلَا بِذِکْرِ اللہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوۡبُ (پ13،الرعد:28)ترجمہ:وہ جو ایمان
لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔(کنزالایمان)
اور اللہ تعالیٰ کی یاد یعنی
ذکر الٰہی کی اعلی ترین قسم نماز ہے ۔جیسا
کہ فرمان الٰہی ہے:وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ
لِذِکْرِیۡ (پ16،طٰہٰ:20)ترجمہ: اور میری یاد
کے لئے نماز قائم رکھ۔(کنزالایمان)
روحانیت کوتفصیل کے ساتھ سمجھنے کے لیے ہمیں روحانیت کے درج ذیل تین پہلووں کو سمجھنا ہوگا:
پہلا پہلو :اپنی ذات کی معرفت ۔دوسرا پہلو:اللہ
تعالیٰ کی معرفت۔تیسرا پہلو:شخصیت کی تعمیر۔
پہلے اور دوسرے پہلو کا تعلق علم کے ساتھ ہے جبکہ تیسرے پہلو کا تعلق عمل کے
ساتھ ہے………معلوم ہوا کہ پہلے دونوں معرفتوں کا حصول ہو اور پھران معرفتوں کے نتائج
کو عملی شکل میں ڈھال کرانسان اپنی شخصیت
کی تعمیر کرے ……… لہذا انسان سب سے پہلے خود کوسمجھنے اور پہچاننے کی کوشش کرے تاکہ اُسے اپنے جذبات ، احساسات، خواہشات ، رغبتوں ، رحجانات ،
شخصی کمزوریوں اور اچھائیوں کا پتا چل سکے……… پھر وہ جس قدر جانتا چلا جاتا ہے اُسی قدر اپنی ذات اور باطنی وجود
کی معرفت وپہچان حاصل کرتا جاتا ہے………حضرت
یحیٰ بن معاذ رازی فرماتے ہیں : مَنْ عَرَفَ نَفْسَہُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہُ ترجمہ:جس نے خود کو پہچان لیا اُس نے
اپنے رب تعالیٰ کو پہچان لیا۔(صواعق محرقہ،2/379)اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو اپنی ذات میں
پائی جانے والی ناتوانی وکمزوری اور کمی وکوتاہی کو پہچان لیتا ہے وہ یہ بھی جان لیتا ہے کہ اس کا کوئی رب
اور پالنے والا ہے جو کمال سے متصف ہے ،وہ ہر عیب سے پاک ہے اوراس کے سارے کام
درست ہیں۔
اپنی ذات کو سمجھنے اور پہچاننے کے
بعدروحانیت کا دوسرامرحلہ رب تعالیٰ کی
معرفت ہے………اسلام اس مرحلے پر سب سے پہلا
یہ درس دیتا ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی
ذات پر ایمان لائے ………پھراس کی صفات کا اقرار
کرے اور صفات کے ذریعے ہی بندے کو رب
تعالیٰ کی ایک حد تک معرفت حاصل ہوتی ہے………واضح
رہے کہ روحانیت کا یہ دوسرا پہلو ایک لحاظ سے پہلے پہلو سے جُڑا ہوا ہے………ان دونوں علمی پہلوؤں کے بعدبندہ روحانیت کے تیسرے پہلو کی طرف متوجہ ہوجائے ………اور
وہ ہے شخصیت کی تعمیرو تہذیب………جب انسان نے اپنی ذات اور باطنی وجود کوپہچان کررب
تعالیٰ کی یک گونہ معرفت حاصل کرلی اور زندگی کا مقصد واضح کرلیا تو اب
ایک ایسی شخصیت کو تعمیر کرنا ضروری ہوجاتا ہے جو ایسی تمام خرابیوں، بُرائیوں اوربداعمالیوں سے پاک ہو جن
کی وجہ سے بندہ بارگاہِ الٰہی میں درجہ
قبولیت پر فائز ہونے سے محروم رہ جاتا ہے
۔
اسلام نے اس مرحلے پربندے کے لیے عبادات و
اخلاقیات کا ایک سلسلہ رکھا ہے جس مِیں علم و عمل ساتھ ساتھ چلتے ہیں………ایک طرف عبادات جیسے نماز روزہ اور زکوٰۃ و حج کے ذریعے شخصیت کورب تعالیٰ سے جوڑا جاتا ہے تو دوسری جانب اخلاقیات اور حقوق العباد کی ادائیگی کے ذریعے مخلوق سے
اچھے تعلق کی بنیاد رکھی جاتی ہے……… الغرض
ان تین پہلووں کے لحاظ سے روحانیت کا مطلب یہ ہوا کہ بندہ پہلے اپنے ظاہروباطن کو
پہچانے………پھر رب تعالیٰ کی معرفت حاصل
کرے ………اورپھراس معرفت کی بنیاد پر
اپنی شخصیت کاتزکیہ وتصفیہ کرے ………یعنی اپنی شخصیت کو نکھارنے ، سنوارنے اور اُس کی
تعمیر کرنے کے لیے خود کو گناہوں اور بُرائیوں سے بچائے……… رب کریم کی اطاعت کرے ………اور حضوراکرم ﷺ کے اتباع میں
لگ جائے۔
اگر ہم صحابہ کرام ،تابعین عظام اور
اولیائے امت کی زندگیوں کا جائزہ لیں تو واضح طور پر دیکھا اور محسوس کیا جاسکتا ہے کہ ان نفوس قدسیہ کی زندگیاں
روحانیت کے مذکورہ تینوں پہلوؤں کے گرد گھومتی نظر آئیں گی………یہ حضرات ساری عمرخود شناسی
،خدا شناسی اور تزکیہ نفس میں بسر کردیتے ہیں……… اسلامی تصوف کی بھی یہی
تعلیمات ہیں ………کہا جاسکتا ہے
کہ تصوف وطریقت روحانیت کے حصول کا ایک مکمل نصاب(Complete
Course)ہے
………تصوف کی اصطلاح میں جس شخصیت
کو مرشد(شیخ/پیر/رہبر /استاد)کہتے ہیں وہ اپنے مریدوں اورشاگردوں کو سب سے پہلے اپنے اندر جھانکنے کادرس دیتا……… تاکہ سب سے پہلے باطن میں پائی جانے والی
خرابیوں سے آگاہی ہو………دل میں پائی جانی والی
خواہشات،رغبتوں،میلانات وجذبات سے واقفیت حاصل ہو………اور
بندہ اپنی ذات میں پائی جانے والی کوتاہیوں اور کمزوریوں کا اعتراف کرلے……… اوریوں روحانیت کا پہلا مرحلہ طے ہوجائے ………پھرکامل مرشد رب کریم کی ذات وصفات ، اُس کے کمالات اور
اُس ذاتِ وحدہ لاشریک سے تعلق رکھنے والے عقائد ونظریات کی تعلیم دیتا ہے ………اور بتدرج اپنے مرید کو رب
تعالیٰ کی شانوں سے آگاہ کرتا ہے تاکہ روحانیت کا دوسرا مرحلہ ذاتِ باری کی معرفت
کا حصول طے ہوسکے ……… اور بندہ قربِ
الٰہی کی منزلوں پر فائز ہوتا چلا جائے………اس کے بعد پیرومرشد انسان کی شخصیت کی تعمیر کی طرف متوجہ ہوتا ہے……… اور اسے نفس کُشی کے
طریقے سکھاتا……… ظاہروباطن کی
صفائی وپاکیزگی پر زور دیتا ہے ………اسلامی تعلیمات وشرعی احکامات پر عمل کے لیے ابھارتا ہے………خلق
خدا پر شفقت ونرمی کا درس دیتا ہے……… انسانیت
کی خدمت اوراُس کی فلاح وصلاح کی ضرورت سمجھاتا ہے………وہ اپنے مرید کے سامنے عاجزی وانکساری کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے………الغرض اسلامی روحانیت ( یعنی قرب الٰہی)پانے کے لیے کسی کامل مرشد کا مل جانا خدا تعالیٰ کی بڑی زبردست نعمت ہے۔
قرآن وسنت روحانیت کے مذکورہ تینوں پہلوؤں کو جابجا بیان کرتے نظر آتے ہیں………دعوتِ
توحید اور اقرار نبوت کے بعد حضرات انبیاء
کرام بھی انسانوں کو ان تینوں پہلوؤں سے روشناس کراتے رہے……… اور بندوں کو بتاتے رہے کہ معرفت نفس،معرفت الٰہی اور تزکیہ
نفس کرنے والے لوگ ہی دنیا وآخرت میں
کامیابی سے ہم کنار ہوتے ہیں ………اور جو اس سے غفلت برتتے ہیں وہ دنیا میں تباہی اور
آخرت میں عذابِِ الٰہی کا شکار ہوجاتے ہیں ………محسن
انسانیت ، نبی رحمت ﷺ نے بھی اپنی امت کو یہ تعلیم دی ………اور
انہیں رب تعالیٰ تک پہنچانے والا سیدھا راستہ بتایا……… پس جولوگ اس شاہراہِ صراط مستقیم پر گامز ن ہوگئے وہ کامیاب
کہلائے……… قرآن پاک نے ان کے گُن گائے………زبانِ رسالت نے اُن کی سرخروئی
پر مہرتصدیق ثبت فرمائی………خلق
خدا نے اُن کی عظمتوں کا اعتراف کیا………دنیاو آخرت میں انہیں بشارتیں
دی گئیں ………اورکسی
کو صحابی،کسی کو تابعی اور کسی کو ولی اللہ کہا گیا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللہِ لَاخَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ
یَحْزَنُوۡنَ ﴿ۚۖ۶۲﴾الَّذِیۡنَ
اٰمَنُوۡا وَکَانُوۡا یَتَّقُوۡنَ ﴿ؕ۶۳﴾لَہُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی
الۡاٰخِرَۃِ ؕ لَا تَبْدِیۡلَ لِکَلِمٰتِ اللہِ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ
الْعَظِیۡمُ ﴿ؕ۶۴﴾ترجمہ :سن لو بیشک اللہ
کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے نہ کچھ غم وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے ہیں
انہیں خوشخبری ہے دنیا کی زندگی میں اور
آخرت میں اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں یہی بڑی کامیابی ہے ۔(کنزالایمان)
آگے چل کر بندوں کو روحانیت کے حصول……… اور قرب الٰہی پانے کے طریقوں……… اور راستوں سے آگاہ کرنے کے لیے یہ سلسلہ اُمت کے صوفیااور
اولیاکے ہاتھوں میں دیاگیا ………اور آج تک یہ مردانِ خدا اِس ذمہ داری کو بحسن وخوبی نبھا رہے ہیں ……… خلاصۂ کلام یہ ہے کہ بندہ نفسانیت،انانیت اور خواہشات کے بتوں کو پاش پاش کردے ……… عبادت،ریاضت اورفکرآخرت سے خودکو مزین کرے……… تقوی وپرہیزگاری کی سواری پر سوارہوجائے……… قربِِ الٰہی کی منزلوں تک
پہنچانے والے اعمال مسلسل بجالائے اور اولیاء کرام وعلماء عظام کا ہمنشین بن جائے
تو ایک وقت آئے گا جب وہ روحانیت سے سرفراز ہوجائے گا………ارشادِ ربانی
ہے:
وَالَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمْ
سُبُلَنَا ؕ وَ اِنَّ اللہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیۡنَ ﴿٪۶۹﴾(پ21،العنکبوت:69)ترجمہ :اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھادیں گے اور
بیشک اللہ نیکوں کے ساتھ ہے۔(کنزالایمان)
رب کریم ہمیں نیک اعمال کی توفیق دے کراپنے قرب سے نوازے اوراپنے
نیک بندوں کی صحبت ورفاقت عطا فرماکر روحانیت سے مالا مال کردے ۔ امین بجاہ طٰہٰ ویٰسین ﷺ
محمد آصف اقبال مدنی
کراچی،پاکستان
پیارے اسلامی بھائیو!دنیا دارُ العمل ہے، اس میں جو اعمال کریں گے
قیامت کے دن ان کا بدلہ ملےگا، نیک اعمال پر ثواب اور بُرے اعمال پر عذاب ہوگا، اپنی
زندگی نیک اعمال میں گزارنے والے خوش جبکہ غفلت یا کفر و شرک میں گزارنے والے
پریشان ہوں گے،وہاں ایک چھوٹی نیکی کی بڑی قدر ہوگی مگر کوئی کسی کو دینے کےلئے
تیار نہ ہوگا، بعض لوگ غفلت اور گناہوں میں زندگی گزارنے کی وجہ سے جبکہ بعض لوگ
کفر و شرک میں زندگی بسر کرنے کی وجہ سے حسرت کریں گے۔ آہ! آہ! اس وقت سوائے حسرت
کے کچھ ہاتھ نہ آئےگا، ان حسرت کرنے والوں میں سے بعض یہ تمنا کریں گے کہ کاش
فلاں کام یا فلاں نیکی کی ہوتی، یا فلاں کام نہ کیا ہوتا، بعض تو واپس دنیا میں
بھیجے جانے کی تمنا کریں گے، لیکن دوبارہ دنیا میں کسی کا آنا نہیں ہوسکے گا، ہماری
کامیابی اور ناکامی انہی اعمال پر منحصر ہوں گے جو ہم نے دنیا میں کئے تھے۔ قراٰنِ
کریم نے مختلف مقامات پر لوگوں کی حسرتوں کو مختلف انداز میں بیان فرمایا ہے، آئیے
ذیل میں ان میں سے چند آیات تفسیر کے ساتھ پڑھتے ہیں:
(1)وَلَوْ تَرٰۤی اِذْ وُقِفُوْا عَلَی النَّارِ
فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُکَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَنَکُوْنَ
مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ(۲۷) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اور اگر آپ دیکھیں جب انہیں آگ پر کھڑا کیا جائے گا پھر یہ کہیں گے اے کاش
کہ ہمیں واپس بھیج دیا جائے اور ہم اپنے رب کی آیتیں نہ جھٹلائیں اور مسلمان ہوجائیں۔(پ7،الانعام:27)
تفسیر صِراطُ الجنان
میں ہے:اس آیت کا خلاصہ ہےکہ اگر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کافروں کی حالت دیکھیں
جب انہیں آگ پر کھڑا کیا جائے گا تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بڑی
خوفناک حالت دیکھیں گے اور اس وقت کافر کہیں گے کہ اے کاش کہ کسی طرح ہمیں واپس دنیا
میں بھیج دیا جائے اور ہم اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی آیتیں نہ جھٹلائیں اور مسلمان ہوجائیں تاکہ اس ہولناک
عذاب سے بچ سکیں۔(صراط الجنان،3/89)
(2) وَیَوْمَ یَعَضُّ
الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا(۲۷) ترجَمۂ کنزُ العرفان: اور جس دن ظالم اپنے ہاتھ چبا ئے
گا، کہے گا: اے کاش کہ میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا۔ (پ19، الفرقان:27)
تفسیر صراط الجنان
میں ہے : ارشاد
فرمایا کہ وہ وقت یاد کریں جس دن ظالم
حسرت و ندامت کی وجہ سے اپنے ہاتھوں پر
کاٹے گا اورکہے گا : اے کاش کہ میں نے
رسول کے ساتھ جنت و نجات کاراستہ اختیار کیا ہوتا، ان کی پیروی کیا کرتا اور ان کی
ہدایت کو قبول کیا ہوتا۔یہ حال اگرچہ کفار کے لئے عام ہے مگر عقبہ بن ابی معیط سے
اس کا خاص تعلق ہے۔ اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ عقبہ بن ابی معیط اُبی بن خلف
کا گہرا دوست تھا، حضورسیّد المرسَلین صلَّی اللہ تعالی ٰ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم
کے ارشاد فرمانے سے اُس نے لَا ٓاِلٰہَ
اِلَّا اللہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ کی شہادت دی اور اس کے بعد اُبی بن خلف کے زور
ڈالنے سے پھر مُرتَد ہوگیا، سرکارِ دو عالَم صلَّی اللہ تعالی ٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اسے قتل ہوجانے
کی خبر دی، چنانچہ وہ بدر میں مارا گیا۔
اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ قیامت
کے دن اس کو انتہا درجہ کی حسرت و ندامت ہوگی اوراس حسرت میں وہ اپنے ہاتھوں کو کاٹنے لگے گا۔ (صراط الجنان،7/18)
(3) یٰوَیْلَتٰى
لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا(۲۸) لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْؕ-وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ
لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا(۲۹) ترجَمۂ کنزُ العرفان: ہائے میری بربادی! اے کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ بیشک اس نے میرے پاس نصیحت آجانے کے بعد مجھے اس
سے بہکا دیا اور شیطان انسان کو مصیبت کے وقت بے مدد چھوڑ دینے والا ہے ۔
(پ19، الفرقان:28،
29 )
تفسیرِ صراط الجنان
میں ہے: اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے دن کافر کہے
گا:ہائے میری بربادی! اے کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتاجس نے مجھے
گمراہ کر دیا۔ بیشک اس نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے پاس نصیحت آجانے کے بعد مجھے اس نصیحت یعنی قرآن
اور ایمان سے بہکا دیا اور شیطان کی فطرت ہی یہ ہے کہ وہ انسان کو مصیبت کے وقت بے
یارو مددگار چھوڑ دیتا ہے اور جب انسا ن پربلاو عذاب نازل ہوتا ہے تو اس وقت اس سے
علیحدگی اختیار کرلیتا ہے ۔(صراط الجنان،7/19)
(4)یوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ
یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَاَطَعْنَا الرَّسُوْلَا(۶۶) ترجَمۂ کنزُالعرفان: جس دن ان کے چہرے آگ میں باربارالٹے جائیں گے توکہتے ہوں
گے: ہائے!اے کاش! ہم نے اللہ کا حکم مانا ہوتا اور رسول کا حکم مانا ہوتا۔ (پ22، الاحزاب:66)
تفسیرِ صراط الجنان میں ہے : اس
سے پہلی آیت میں بیان ہو اکہ جہنم کی آگ
میں کافروں کا کوئی حمایتی اور مددگار نہ ہو گا اور ا س آیت
میں ان کے عذاب کی کیفیت بیان کی جا رہی
ہے کہ جس دن کافروں کے چہرے جہنم کی آگ میں بار بار الٹ پلٹ کئے جائیں گے اورآگ
میں جلنے کے باعث ان کے چہرے کی رنگت تبدیل ہورہی ہو گی تو اس وقت وہ انتہائی حسرت
کے ساتھ یہ کہہ رہے ہوں گے کہ ہائے! اے کاش! ہم نے دنیا میں اللہ تعالیٰ اور ا س کے رسول علیہ السّلام کا حکم مانا ہوتا
تو آج ہم عذاب میں گرفتار نہ ہوتے۔ خیال رہے کہ جہنم میں کافروں کے پورے جسم پرعذاب ہوگا اور یہاں آیت میں چہرے کو خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ
چہرہ انسان کے جسم کاسب سے مکرم اورمُعَظَّم عُضْو ہوتا ہے اورجب ان کاچہرہ آگ میں باربارالٹ رہا ہوگا تو یہ ان کے لیے بہت زیادہ
ذلت اوررسوائی کاباعث ہوگا۔ (صراط الجنان،8/99)
(5)حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ
وَبَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ(۳۸) ترجَمۂ کنزُالعرفان: یہاں تک
کہ جب وہ کافر ہمارے پاس آئے گا تو(اپنے ساتھی شیطان سے )کہے گا: اے کاش! میرے اور
تیرے درمیان مشرق و مغرب کے برابر دوری ہوجائے تو (تُو) کتنا ہی برا ساتھی ہے۔(پ25،الزخرف:38)
تفسیر صراط الجنان میں ہے: یعنی قرآن سے منہ پھیرنے
والے کفار، شیطان کے ساتھی ہوں گے یہاں تک کہ جب قیامت کے دن ان میں سے ہر ایک
اپنے ساتھی شیطان کے ساتھ ہمارے پاس آئے گا تووہ شیطان کو مُخاطَب کر کے کہے
گا:اے میرے ساتھی! اے کاش! میرے اور تیرے درمیان اتنی دوری ہو جائے جتنی مشرق و
مغرب کے درمیان دوری ہے کہ جس طرح وہ اکٹھے نہیں ہو سکتے اور نہ ہی ایک دوسرے کے
قریب ہو سکتے ہیں اسی طرح ہم بھی اکٹھے نہ ہوں اور نہ ہی ایک دوسرے کے قریب ہوں اورتو
میرا کتنا ہی برا ساتھی ہے۔(صراط الجنان،9/131، 132)
(6)وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ فَیَقُوْلُ
یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْۚ(۲۵) وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَهْۚ(۲۶)
یٰلَیْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِیَةَۚ(۲۷) مَاۤ اَغْنٰى عَنِّیْ مَالِیَهْۚ(۲۸) هَلَكَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَهْۚ(۲۹) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اور رہا وہ جسے اس کانامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا
جائے گا تو وہ کہے گا: اے کاش کہ مجھے میرا نامہ اعمال نہ دیا جاتا۔ اور میں نہ
جانتا کہ میرا حساب کیا ہے۔اے کاش کہ دنیا کی موت ہی (میرا کام) تمام کردینے والی
ہوجاتی۔(پ29، الحاقہ:25تا29)
تفسیر صراط الجنان
میں ہے: سعادت مندوں کا
حال بیان کرنے کے بعد اب بد بختوں کا حال
بیان کیاجا رہا ہے ، چنانچہ اس آیت اور ا س کے بعد والی چار آیات کا خلاصہ یہ ہے
کہ جس کا نامۂ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ جب اپنے نامۂ اعمال کو
دیکھے گا اور اس میں اپنے برے اعمال لکھے ہوئے پائے گا تو شرمندہ و رُسوا ہو کر
کہے گا: اے کاش کہ مجھے میرا نامۂ اعمال نہ دیا جاتا اور میں نہ جانتا کہ میرا
حساب کیا ہے۔ اے کاش کہ دنیا کی موت ہی ہمیشہ کیلئے میری زندگی ختم کردیتی اور
مجھے حساب کیلئے نہ اُٹھایا جاتا اور اپنا اعمال نامہ پڑھتے وقت مجھے یہ ذلت و
رسوائی پیش نہ آتی۔(صراط الجنان،10/326، 327)
(7)اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا
یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ وَیَقُوْلُ الْكٰفِرُ
یٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ تُرٰبًا۠ (۴۰) ترجَمۂ کنزُالعرفان: بیشک
ہم تمہیں ایک قریب آئے ہوئے عذاب سے ڈراچکے جس دن آدمی وہ دیکھے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور کافر کہے گا: اے کاش کہ میں کسی
طرح مٹی ہوجاتا۔(پ30، النباء:40)
تفسیر صراط الجنان
میں ہے: ارشاد فرمایا کہ اے کفارِ مکہ ! ہم دنیا میں تمہیں اپنی آیات کے ذریعے قیامت کے دن کے عذاب سے ڈرا چکے ہیں جو کہ قریب آ گیا ہے اور یہ عذاب اس دن ہو گا
جس دن ہر شخص اپنے تمام اچھے برے اعمال اپنے نامۂ اعمال میں لکھے ہوئے دیکھے گا اور کافر کہے گا: اے کاش کہ
میں کسی طرح مٹی ہوجاتا تاکہ عذاب سے
محفوظ رہتا۔کافر یہ تمنا کب کرے گا اس کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن
عمر رضی اللہُ عنہما فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن جب جانوروں اور چوپایوں کو اٹھایا جائے گا اور انہیں ایک
دوسرے سے بدلہ دلایا جائے گا یہاں تک کہ
اگر سینگ والے نے بے سینگ والے کو مارا ہوگا تو اُسے بھی بدلہ دلایا جائے گا، اس
کے بعد وہ سب خاک کردیئے جائیں گے ،یہ دیکھ
کر کافر تمناکرے گا کہ کاش! میں بھی ان کی
طرح خاک کردیا جاتا ۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ جب مومنین پر اللہ تعالیٰ انعام
فرمائے گا تو ان نعامات کو دیکھ کر کافر تمنا کرے گا کہ کاش !وہ دنیا میں خاک ہوتا یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت
کے معاملے میں عاجزی اورتواضع کرنے
والاہوتا متکبر اورسرکش نہ ہوتا ۔ایک قول یہ بھی ہے کہ کافر سے مراد ابلیس ہے جس
نے حضرت آدم علیہ الصّلوٰۃ و السّلام پر یہ اعتراض کیا
تھا کہ وہ مٹی سے پیدا کئے گئے اور اپنے آگ سے پیدا کئے جانے پر فخر کیا تھا۔ جب
وہ قیامت کے دن حضرت آدم علیہ الصّلوٰۃ و السّلام اور اُن کی ایماندار اولاد کے ثواب کو دیکھے گا اوراپنے
آپ کو عذاب کی شدت میں مبتلا پائے گا تو
کہے گا: کاش! میں مٹی ہوتا یعنی حضرت آدم علیہ الصّلوٰۃ و السّلام کی طرح مٹی سے پیدا
کیا ہوا ہوتا۔(صراط الجنان، 10/520)
(8)وَجِایْٓءَ یَوْمَىٕذٍۭ بِجَهَنَّمَ یَوْمَىٕذٍ یَّتَذَكَّرُ
الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰىؕ(۲۳) یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ
لِحَیَاتِیْۚ(۲۴) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اور اس دن جہنم لائی جائے گی، اس دن آدمی سوچے گا اور اب اس کے لئے سوچنے
کا وقت کہاں؟ وہ کہے گا: اے کاش کہ میں نے اپنی زندگی میں (کوئی نیکی) آگے بھیجی
ہوتی۔(پ30، الفجر:23، 24)
تفسیر ِصراط الجنان میں دوسری
آیت کے تحت لکھا ہے کہ قیامت کے دن آدمی کہے گا کہ اے کاش! میں نے اپنی زندگی
میں کوئی نیکی آگے بھیجی ہوتی۔یہاں زندگی سے مراد یا دنیوی زندگی ہے یا اُخروی
زندگی، پہلی صورت میں آیت کا مطلب یہ ہے کہ کاش میں دُنْیَوی زندگی میں کچھ
نیکیاں کما کر آگے بھیج دیتا۔ دوسری صورت میں مطلب یہ ہے کہ کاش میں نے اس دائمی
زندگی کے لئے کچھ بھیج دیا ہو تا، ساری عمر فانی زندگی کے لئے کمائی کی اور خدا کو
یاد نہ کیا۔ کفار کے لئے یہ پچھتانا بھی عذاب ہو گا، دنیا میں نیکو کار مومن کا
نادم ہونا درجات کی ترقی کا سبب ہے اورگنہگار مومن کا پچھتانا توبہ ہے مگر کافر کا
قیامت میں پچھتانا محض عذاب ہے۔(صراط الجنان،10/673)
پنجہ شریف (1) نزدمٹھہ ٹوانہ (2) ضلع خوشاب(3) کاملک اعوان (4) قاضی خاندان عرصہ درازسے دین متین کی خدمت میں مصروف ہے، انیس
صدی عیسوی میں اس کے سربراہ حضرت مولانا حافظ
قاضی محمد عبدالحکیم قادری صاحب تھے جو اپنےوقت کے بہترین حافظ قرآن
،جیدعالم دین،حسن ظاہری وباطنی کے پیکر اورعلم وعمل کے جامع تھے ، اللہ پاک نےانہیں بیٹے کی نعمت سے نوازا، اکلوتاہونے کی وجہ سے ماں باپ اس بچے سے بہت محبت کرتے تھے،انھوں نے اس کی
تربیت اس اندازمیں کی کہ یہ بچپن سے حصولِ علم میں مگن رہتا تھا، ابتدائی عمرمیں
ہی حفظ قرآن کی سعادت پائی،اب یہ حافظ صاحب کے معززلقب سے پکارا جانے لگا،حافظ
صاحب نے درسِ نظامی کی ابتدائی کتب اپنے والدگرامی سے پڑھیں،ان کا شوق علم اتنا بڑھا کہ انھوں نے دیگرشہروں میں
جاکر نامورعلماسےپڑھنے کا فیصلہ کیا،ایک دن اپنےوالد گرامی کی خدمت میں
حاضرہوکربصداحترام بیرون شہرجانے کی اجازت
مانگی ،والدگرامی چونکہ علم کی گہرائی کوجانتے تھے اورسفرکے فوائدسے بھی واقف تھے چنانچہ انھوں نےاپنے اکلوتے اورفرمانبرداربیٹے
کو اجازت دے دی۔
حافظ صاحب نے
مختلف شہروں میں حاضرہوکرخوب علم دین حاصل کیا ، دوران تعلیم
ان کے ذہن میں عقیدہ ومعمولات اہل سنت کے بارے میں کچھ اشکا ل پیداہوگئے،کچھ عرصہ کےبعدگھرلوٹے
تووالدمحترم کی خدمت میں ان اشکال کو بیان کیا،انھوں نےجواب دیا مگران کی تشفی نہ
ہوئی ،آپ کےوالد مولانا محمدعبدالحکیم قادری صاحب اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃاللہ
علیہ(5) کے
بارے میں جانتے تھے کہ یہ اِس وقت علماومشائخ اہل سنت کی قیادت فرمارہےہیں اوردرجہ
مجددیت پر فائز ہیں ، عقیدہ
ومعمولات اہل سنت کی ترویج واشاعت کے سبب نہ صرف ہند بلکہ عالم اسلام میں مشہورہیں
۔ چنانچہ دونوں باپ بیٹانےباہم طے کیا کہ
ہم اعلیٰ حضرت سے ملاقات وزیارت کے لیے بریلی شریف (6) کاسفرکرتے
ہیں ۔ یہ اپنےگاؤں پنجہ شریف (نزدمٹھہ ٹوانہ ضلع خوشاب)سے 1328ھ مطابق 1910ء میں عازم بریلی ہوئے ،تقریبا 926کلومیٹرسفرکی
صوبتیں برداشت کرتے ہوئے بریلی شریف پہنچے۔حسن اتفاق سے اعلیٰ حضرت اس وقت
دارالعلوم منظراسلام (7) کے
طلبہ کو درس دےرہےتھے اورموضوع بھی وہی تھاجس کی وجہ سے ان باپ بیٹے نے سفرکیا
تھا،اعلیٰ حضرت جیسے جیسے گفتگوفرماتے گئے ، اشکال دورہوتے گئے ،درس کے اختتام تک حافظ صاحب نےفیصلہ کرلیاکہ میں مرید بنوں گا تو اعلیٰ حضرت
کا بنوں گا،بعددرس ان دونوں کی اعلیٰ حضرت سےملاقات ہوئی ،اعلیٰ حضرت علماوطلبہ
سےبہت محبت کرتے تھے،جب آپ کو معلوم ہواکہ یہ شمال مغربی پنجاب سے سفرکرکےبریلی
پہنچے ہیں تو اعلیٰ حضرت نے مزید ان کا اکرام فرمایا،بعدمصافحہ اعلیٰ حضرت نے
پوچھا:مولانا! کیسےتشریف لائے ،برجستہ عرض کیاحضور!بیعت کرناچاہتاہوں ،فرمایا،کیاپڑھےہوئےہو؟حافظ صاحب نے جوابااپنی تعلیم کی تفصیلات بیان کیں،اعلیٰ
حضرت نے حوصلہ افزائی فرمائی اورمزیدپڑھنےکےلیے دارالعلوم منظراسلام میں داخلہ
لینے کا حکم ارشادفرمایا۔(8) یہ دوسال وہاں رہے(9)
اوراعلیٰ حضرت سے خوب استفادہ کیاحتی کہ اعلیٰ حضرت نےانہیں سلسلہ قادریہ رضویہ میں خلافت سے بھی
نوازدیا ۔(10) شوقِ علم سے سرشاران عالم دین کا اسم گرامی
حضرت مولاناباباجی قاضی حافظ محمدعبدالغفورقادری رضوی ہے ۔ان کے بارے میں اب تک جومعلومات حاصل ہوسکی
،وہ بیان کی جاتی ہیں :
قاضی خاندن کا تعارف:قاضی
خاندان کا تعلق وادی سون سکیسر(11) کے
گاؤں چِٹّہ (12) سے ہے ،ان کےآباواجدادوہاں سے
مٹھہ ٹوانہ میں منتقل ہوئے ، قاضی خاندان کے
جدامجدحافظ عطامحمدصاحب کی لائق گاشت زمین مٹھہ ٹوانہ (ضلع خوشاب) سے تقریبا چھ
سات کلومیٹرکےفاصلے پر پہاڑکے
دامن میں تھی جس میں یہ کھیتی باڑی کیاکرتے تھے ، یہ اپنے بیلوں کے ہمراہ زمین پر جاتے آتے تلاوت قرآن میں مصروف رہتے تھے ،مشہوریہ ہے روزانہ ایک ختم قرآن کی سعادت پایا
کرتے تھے ،ان کے تین بیٹے اورایک بیٹی تھی:
(1)بڑے بیٹے قاضی
فیروزدین تھے ، جوچک 58ضلع سرگودھا میں زمین داری کیا کرتےتھے،ان
کا ایک بیٹاقاضی شعیب الدین تھا،جو جوانی
میں فوت ہوا۔
(2) دوسرے بیٹے مولانا حافظ قاضی عبدالحکیم
قادری تھے ،(13) جوکہ علامہ عبدالغفورقادری کے والدگرامی ہیں۔
(3)تیسرےبیٹے قاضی مظفردین تھے ،یہ عالم دین
تھے اورآرمی میں خطیب رہے ،ان کے بیٹےمولانا قاضی ضیاء الدین صاحب بھی عالم دین
اورآرمی میں خطیب تھے ،ان دونوں باپ بیٹا کا انتقال مٹھہ ٹوانہ میں ہوا،مولانا
قاضی ضیاء الدین صاحب کے بیٹےمولانا قاضی عبدالقیوم صاحب ہیں ، ابھی یہ چندسال کے تھے کہ والدصاحب کا انتقال ہوگیا ،باباجی
علامہ عبدالغفورصاحب نےانہیں مٹھہ ٹوانہ سے پنجہ شریف میں بُلالیا ، انکی پرورش مٹھہ ٹوانہ میں ہوئی ،انھوں نے باباجی سے
ہی علم دین حاصل کیا ، باباجی کےانتقال کےبعد یہ جامع مسجدابھاروالی کے امام وخطیب
مقررہوئے ، 1410ھ /1990ءمیں آپ کا وصال پنجہ شریف میں ہوا،آبائی
قبرستان میں تدفین ہوئی ۔مولاناقاضی عبدالقیوم قادری صاحب کے بیٹے مولانا قاضی زین العابدین قادری صاحب تھے جوجامعہ محمدیہ نوریہ رضویہ بھکھی شریف(14) کے فارغ التحصیل تھے ۔ان کاوصال یکم رمضان1434ھ/9جولائی 2013ء میں پنجہ شریف میں ہوا،والدکے
قبرکےقریب تدفین ہوئی ۔
(4)ایک بیٹی تھیں جن کا نکا ح قاضی شیرمحمدقادری بن قاضی پیرمحمدقادری صاحب
سے ہوا ،ان کے بیٹے عارف باللہ حضرت قاضی
محمددین قادری (15) تھے جو کہ علامہ عبدالغفورصاحب کے
شاگرداوربیٹی کے سسرتھے ۔ (16)
پیدائش: خلیفۂ اعلیٰ
حضرت ،عالم باعمل حضرت علامہ قاضی باباجی حافظ محمدعبدالغفورقادری رضوی رحمۃ اللہ
علیہ کی ولا د ت باسعادت 1293ھ
مطابق 1886ء پنجہ شریف
(نزدمٹھہ ٹواناضلع خوشاب پنجاب)پاکستان میں ہوئی۔(17)
والدین کا تذکرہ :آپ
کے والدگرامی حضرت مولانا حافظ قاری قاضی عبدالحکیم قادری صاحب کی ولادت 1856ء /1272ءمیں ہوئی اور1941ء /1360ءمیں 85سال کی عمرمیں وصال فرمایا،پنجہ
شریف قبرستان میں تدفین ہوئی ،آپ جیدعالم
دین ،مضبوط حافظ قرآن اورآرمی میں خطیب تھے ،فوج سے سبکدوش کے ہونے کے بعدکھیتی
باڑی کیا کرتے تھے ،آپ عالم باعمل اورقصیدۂ غوثیہ کے عامل تھے ۔ ابتدائی عمرمیں
بوجوہ مٹھہ ٹوانہ سے اپنے ایک رشتہ دارقاضی شیرمحمدقادری کے ہمراہ پنچہ شریف منتقل ہوگئے تھے۔ (18) آپ کی والدہ
محترمہ حضرت فیض بی صالحہ خاتون تھیں ،جو مٹھہ ٹوانہ کےعالم دین حضرت
مولانا قاضی شیخ احمدصاحب کی بیٹی اور اس
زمانے میں مٹھہ ٹوانہ کی واحدجامع
مسجدقاضایاں والی کے امام وخطیب
مولاناقاضی فضل احمد صاحب کی بہن تھیں ۔(19)
تعلیم وتربیت:آپ کی ابتدائی تعلیم وتربیت والدگرامی حضرت
مولاناقاضی قاری حافظ محمدعبدالحکیم قادری صاحب کے ہاں ہوئی، مزیدتعلیم مختلف شہروں میں حاصل کی ،دوران
تعلیم آپ کے ذہن میں عقیدہ ومعمولات اہل سنت کے بارے میں کچھ اشکا ل پیداہوگئے۔ آپ
کے والدگرامی 1328ھ / 1910ء میں آپ کو بریلی شریف (یوپی ہند) اعلیٰ حضرت
امام احمدرضا کی بارگاہ میں لے گئے ۔آپ کی صحبت وزیارت کی برکت سے سارے شکوک
وشبہات دورہوگئے اوراعلیٰ حضرت کے علم وتقویٰ سے اس قدرمتاثرہوئے کہ سلسلہ عالیہ
قادریہ میں آپ کے دست اقدس پر بیعت کرلی ،مزیدعلم دین کے حصول کے لیے دارالعلوم (مدرسہ
اہل سنت وجماعت)منظراسلام بریلی شریف میں داخلہ لے لیا۔(20)
بریلی شریف میں آپ کا قیام : 1328ھ/1910ء سے 1330ھ/1912ء دوسال علامہ عبدالغفورقادری صاحب نے بریلی شریف میں
گزارا،اس وقت کے دارالعلوم کے اساتذہ ،اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان ، حجۃ الاسلام
حامدرضا خان(21) ، صدرالشریعہ
مفتی امجدعلی اعظمی (22) ،مفتی اعظم ہندمولانا مصطفی رضا خان (23) اورعلامہ
سیدبشیراحمدشاہ علی گڑھی (24) رحمۃا
للہ علیہم سے استفادہ کرنے کی سعادت پائی ۔(25)اس دوران
دارالعلوم منظراسلام کےتین سالانہ جلسے ہوئے ،قرین قیاس یہی ہے کہ آپ نےان تینوں میں شرکت کی ہوگی،دارالعلوم
منظراسلام کا نواں سالانہ جلسہ بتاریخ 27،28،29ذیقعدہ1330ھ مطابق8، 9،10نومبر1912ءبروزجمعہ ،ہفتہ اوراتواربریلی شریف کی مرکزی جامع مسجد بی بی جی صاحبہ(محلہ
بہاری پور،بریلی) (26) میں
منعقدہوا،غالبااس میں آپ کی دستاربندی ہوئی اوریوں فاضل دارالعلوم منظراسلام بریلی شریف کا
شرف پایا ۔(27) 1328ھ تا1330ھ تک جو طلبہ پڑھتے تھے ان میں محدث اعظم بہارحضرت
مولانااحسان علی محدث مظفرپوری(28) حضر ت مولانا محمدطاہر رضوی(29) ،حضرت مولاناعبدالرشیدرضوی(30) اورمولانا عبدالرحیم رضوی(31)وغیرہ شامل ہیں۔(32)
سلسلہ قادریہ کی خلافت :آپ کے
والدگرامی علامہ قاضی عبدالحکیم قادری صاحب کے شیخ طریقت حضرت سیدنا پیرعبدالرحمن
قادری ملتانی (33) رحمۃا للہ علیہ کے اشارہ غیبی پر اعلیٰ حضرت
امام احمدرضا نے آپ کو سلسلہ قادریہ رضویہ کی خلافت عطافرمائی۔6ذیقعدۃ
الحرام 1330ھ / 17،اکتوبر1912ء
کوسندتکمیل کےساتھ سند اجازت دی گئی ، اعلیٰ حضرت نے آپ کے نام کے ساتھ یہ القابات
تحریر فرمائے:برادریقینی،صالح سعید،مفلح رشید،فاضل حمید،حسن الشمائل، محمودالخصائل،
راغب الی اللہ ،الغفورالشکور قاری حافظ مولوی محمد عبد الغفور ابن مولوی حافظ قاری
محمدعبدالحکیم شاہ پوری نوربالنور المعنوی،الصوری ۔ان القابات سے آپ کی شخصیت کی
عکاسی ہوتی ہے۔(34)
اسنادکی معلومات :ماہررضویت
پروفیسرڈاکٹرمسعوداحمدمجددی صاحب (35) تحریرفرماتے ہیں : امام احمدرضا کے تلامذہ
اورخلفاء پاک وہند کے گوشے گوشے میں پھیلے ہوئے ہیں، 1990ء
سکھرسندھ میں قیام کےدوران محترم مولانا حافظ محمدرفیق
صاحب قادری(36) زیدعنایتہ
(مہتمم جامعہ انوارمصطفی سکھر)نے فرمایاکہ ایک دستاویزاِن کے
علم میں بھی ہے جوان کے استادگرامی مولانا عبدالغفورعلیہ الرحمہ کے گھرانے میں
محفوظ ہے ۔تلاش کرکےمہیاکرنے کا وعدہ فرمایا،پھر24جون
1992ءکو یہ وعدہ
پوراہوااورموصوف کے صاحبزادے برادرم مفتی محمدعارف سعیدی(37) زیدمجدہ
اورمکرمی مفتی محمدابراہیم قادری(38) زیدعنایتہ دستاویزلےکرغریب خانے پر
تشریف لائےاوراس کے عکس عنایت فرمائے ۔ دستاویزکےمطالعہ کے بعدمعلوم ہواکہ یہ
دوسندیں ہیں جن کاتعلق پاکستان کےمولانامحمدعبدالغفورشاہ پوری سے ہے۔ایک سندتکمیل
ہےاوردوسری سندخلافت واجازت ہے۔اس سندکے ساتھ تیسری سندحدیث ہےجو مولوی
بشیراحمدصاحب نے عنایت کی آخرمیں حجۃ الاسلام مولاناحامدرضا خاں صاحب نے ان الفاظ
کےساتھ دستخظ فرمائے ہیں :واناذالک من الشاہدین ۔،یہ
اسناد،ادارہ تحقیقات امام احمدرضا (39)
نے اپنے سالنامہ معارف رضا،شمارہ 1413ھ/1992ء میں
شائع کردیا ہے ۔ (40)
شادی واولاد:آپ کی شادی اپنی فیملی کی ایک نیک
خاتون سَیدبی بی سے ہوئی ،انھوں نے بعدشادی آپ سے ہی علم دین حاصل کی ، تصوف کی
تعلیم پائی ، مکمل ترجمہ قرآن کنزالایمان اورتفسیرخزائن العرفان باباجی سے پڑھا
،عالمہ فاضلہ اورصالحہ خاتون تھیں ۔(41) اللہ پاک نے آپ کوچاندسی بیٹی خدیجہ بی
بی عطافرمائی ، جس کی آپ نے بہترین تربیت فرمائی ،انھوں نےاپنےوالدووالدہ سےعلم
دین حاصل کیا ،اپنےوالدین کی طرح یہ بھی نہایت عبادت گزار،نیک اورزہدوتقویٰ میں
باکمال تھیں ،یہ خواتین کو تعویذات دیا کرتی ،بیمارخواتین اوران کے بچوں کو دم کیا
کرتی تھیں ،یہ مستجاب الدعوات تھیں ،ان کی خدمت میں
عورتوں کا بہت رجوع تھا ،دوردراز سے
خواتین آتی ،دعائیں کرواتیں ،دم کرواتی ،تعویذلیتی اوردل کی مرادیں پاتی تھیں ،باباجی
علامہ عبدالغفورقادری صاحب نے ان کی شادی
اپنے پھوپھی زادبھائی اورشاگردعارف باللہ حافظ قاضی محمددین قادری صاحب (42) کے صاحبزادے امام وخطیب جامع مسجدرحمانیہ (پنجہ
شریف )حضرت
مولانا قاضی عبدالرحمن قادری صاحب (43)
سے کی ۔جامعہ مسجدرحمانیہ کے موجودہ امام وخطیب قاضی الحاج حبیب الرحمن صاحب آپ کے
بیٹےا ورجانشین ہیں ۔(44)اس
مضمون میں قاضی حبیب الرحمن صاحب نے بہت مددفرمائی ،اللہ پاک انہیں
بہترجزاعطارفرمائے۔
ذریعہ آمدن :علامہ عبدالغفورقادری صاحب
جیدعالم دین ہونے کے ساتھ بہت بڑے زمینداربھی تھے ،پنجہ شریف میں آپ کے پاس 33،ایکڑ،تھل (45) میں ایک سوایکڑ،بارانی علاقے میں 15
،ایکڑ اور ساہیوال (46) میں
35،ایکڑزمین تھی ،پنجہ شریف کی زمین آپ خود کاشت
کرتے تھے اوربقیہ زمینیں آپ نے مزارعت پر
دی ہوئی تھیں، مزارع حضرات کو آپ کی طرف سے سخت تاکیدتھی کہ دیگرلوگوں کی زمینوں
سے ایک فٹ فاصلہ رکھ کرفصل گاشت کی جائے ،آپ کے تقوےکا یہ عالم تھاکہ اگرآپ کوشک
گزرتاہے کہ کہیں مزارع نے اس بات کو پیش نظرنہیں رکھا تو اس خوف سے کہ کہیں کسی کے
کچھ دانے ہماری طرف نہ آگئے ہوں ،آپ وہ پوری آمدن راہ خدامیں خرچ کردیا کرتے تھے ۔(47)
دینی خدمات: کچھ عرصہ کے لیےفوج میں
بطورخطیب ملازم ہوگئے ،فیروزپورچھاؤنی(48) میں امامت وخطابت میں مصروف رہے ۔(49) کچھ عرصہ یہ
خدمت سرانجام دینے کے بعد آپ وہاں سے سبکدوش ہوکر اپنے گاؤں پنجہ شریف تشریف لے آئے ،آپ نے اپنے محلہ خوشحالی
والا(پنجہ شریف ضلع خوشاب)کی اُبھاروالی مسجد (جسے ان کے والدعلامہ عبدالحکیم قادری نے بنایا تھااس )میں
امامت وخطابت شروع فرمائی اوراپنی بیٹھک
میں مدرسہ قائم فرمایا ۔جس میں حفظ قرآن اوردرس نظامی کی کتب پڑھانے کا سلسلہ تھا
، خیرخواہی امت کے جذبے کے تحت تعویذات بھی دیا کرتے تھے مگریہ سب خدمات فی سبیل
اللہ تھیں ۔(50)
تصنیف وتالیف:دین اسلام
کا ترویج واشاعت کاایک اہم ذریعہ کتب کی تصنیف وتالیف بھی ہے ،علامہ
عبدالغفورقادری صاحب بھی حالات حاضرسےآگاہ تھے اوراس وقت کی ضرورت کے مطابق تصنیف
وتالیف میں مصروف رہے،فتنہ قادیانیت کےرد میں آپ کے دورسائل تحفۃ العلماء فی
تردیدمرزا المعروف لیاقت مرزا (51) اور عمدۃ البیان فی جواب سوالات اہل القادیان(52) ہیں ،یہ دونوں رسائل حضرت علامہ مفتی
محمدامین قادری عطاری(53) رحمۃ اللہ علیہ نےعلمائے اہل سنت کے کتب ورسائل کےمجموعہ ’’عقیدہ
ختم النبوۃ ‘‘ (54) کی تیرہویں جلد میں
شائع کئے ہیں ،مزیدتصانیف
سے آگاہی نہ ہوسکی ۔
کتب خانہ :علامہ
عبدالغفورقادری صاحب کوچارپانچ زبانوں پر عبورحاصل تھا ،عربی تکلم میں تو آپ
ماہرتھے ،آپ کے کتب خانے میں کثیرکتب تھی ،جوآپ کی وفات کےبعدجامعہ محمدیہ نوریہ رضویہ بھکھی شریف(55) میں منتقل کردی گئیں ۔(56)
تحریک پاکستان میں حصہ:آپ نےتحریک پاکستان میں بھرپورحصہ لیا ، عوام وعلماء سب کو اس کی اہمیت سے
آگاہ کیا ،آپ کی ان کوششوں سے پنجاب میں تحریک پاکستان کےلیے رائے عامہ ہموارہوئی ،آپ نےمجاہدملت حضرت
مولانامحمدعبدالستار خان نیازی(57) کے قافلے کی سرپرستی فرمائی ،23تا25صفرالمظفر 1365ھ27تا29جنوری 1946ء کو آپ اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے
پچیسویں عرس کےموقع پر بریلی شریف تشریف
لے گئے جہاں پاکستان کےحق میں قراردادمنظورہوئی،اس قرار داد کی ترتیب وتدوین کمیٹی میں آپ شامل تھے
۔بریلی شریف میں آپ کو’’مولانا پنچابی‘‘ کے لقب سے یادکیا جاتاتھا
۔ (58)
علمائے اہل سنت کا آپ کا اکرام کرنا:آپ کے علمااہل
سنت سے گہرے تعلقات تھے ، محدث اعظم پاکستان مولانا علامہ سرداراحمدچشتی قادری(59) رحمۃا للہ علیہ دارالعلوم منظراسلام بریلی شریف سےفارغ
التحصیل ہیں ،یوں محدث اعظم آپ
کےاستاذبھائی ہیں ،چونکہ علامہ عبدالغفورقادری صاحب کی فراغت محدث اعظم سے پہلے
ہوئی اس لیے محدث اعظم آپ کی تعظیم کیا کرتے تھے ،یہیں وجہ ہے کہ حافط الحدیث
مولاناسیدمحمدجلال الدین قادری بھکھی شریف(60) اوراستاذالعلمامولانا محمدنوازصاحب(61) بھی
آپ کابہت اکرام فرمایاکرتے تھے ۔ (62)
ولی کامل اورتقویٰ وپرہیزگاری :علامہ
عبدالغفورقادری صاحب مدرس ہونے کے ساتھ ساتھ باکرامت ولی اورشیخ طریقت بھی تھے،رزق
حرام بلکہ مشتبہات سے مکمل اجتناب فرماتے ،اپنے گھرکے غذائی ضروریات کو پوراکرنے
کے لیے گاؤں کی قریبی زمین میں خود کھیتی باڑی کرتے اورسبزیاں اگاتے تھے ،
دوردورسے مخلوق خداآپ کی بارگاہ میں حاضرہوتی اورعلم وروحانیت سے سیراب ہوتی۔تجلیات خلفائےاعلیٰ حضرت میں ہے : آپ عابدشب بیداراورزہدوورع میں منفردالمثال تھے،اخلاق
وخلوص،نیازمندی،عزیمت،حسن سلوک،قناعت پروری ،ایثار و قربانی،جذبہ ٔبندگی،کفایت شعاری اورفضل وکمال کے اوصاف
حمیدہ سے متصف تھے۔عشق رسول کی جودولت دہلیزمرشدسے ملی تھی،اس سے ہمہ وقت
سرشاررہاکرتے تھے ۔آپ جماعت اہل سنت کے عظیم مبلغ اورمسلک اعلیٰ حضرت کے بہترین
داعی تھے ۔کبھی بھی کسی مسئلہ شرعیہ میں مخالفین کی پرواہ نہیں کی ۔(63)
ماہ رمضان کے روزوں سے محبت :ماہ رمضان کے روزوں سے محبت کا عالم یہ تھا کہ
زندگی کے آخری تین سال بڑھاپے کی وجہ سے آپ کمزورہوگئے ،ان سالوں میں ماہ رمضان گرمیوں
میں تھا،پنجہ شریف میں روزے رکھنا مشکل ہوگیا،چنانچہ آپ نے روزے
رکھنے کےلیے اپنے شاگرداورمنہ بولے بیٹے حضرت مولانا حافظ حاجی دوست محمداعوان
صاحب(64)، کے پاس کھجولا (ضلع چکوال) (65)تشریف
لے جاتے،کیونکہ وہاں کا موسم قدرے ٹھنڈاہوتاتھا ۔ ایک مہینہ آپ وہیں قیام فرماتے
اورنمازعیدکے بعد واپس آیا کرتے تھے ۔(66)
تلامذہ وشاگرد:آپ
سے کئی علمانے استفادہ کیا ،درس نظامی کی کتب پڑھیں ،مثلا ولی کامل حضرت مولاناصوفی قاضی محمددین قادری اوران کےبیٹے
حضرت مولانا قاضی عبدالرحمن قادری امام
وخطیب جامع مسجدرحمانیہ پنجہ شریف(67)، استاذالحفاظ، مردکامل،حضرت باواجی حافظ
غلام احمد سَلَوئی والے چکوال(68) ،سیاح حرمین باباجی سیدطاہرحسین شاہ
جوہرآباد ضلع خوشاب(69)رفیق ملت حضرت مولانا حافظ محمدرفیق صاحب
قادری سکھرسندھ(70)،حضرت مولاناحاجی غلام محمداعوان موضع بِٹّہ ضلع
خوشاب(71)
اورمولانا
حافظ حاجی غوث محمداعوان موضع کھجولاضلع چکوال(72) آپ کے مشہور
تلامذہ میں سے ہیں۔ (73)
وفات ومدفن: علامہ عبدالغفورقادری صاحب نےغالبا 15رجب المرجب 1371
ھ / 9مارچ1952 ءکو وصال فرمایا۔(74) قبرستان پنجہ شریف کی ایک احاطہ میں خاندان کے دیگرافراد کے ساتھ آپ کی
قبرشریف ہے۔یہ احاطہ مستطیل شکل میں ہے ،اس میں تقریبا 15قبورہیں
،مشرقی جانب لکڑی کا دروازہ ہے ،چاروں طرف 3 سے 4فٹ سرخ اینٹوں کی دیوارہے،اس
احاطے کی لمبائی تقریباپچاس ساٹھ فٹ
اورچوڑائی پندرہ سولہ فٹ ہے۔بابا جی علامہ
عبدالغفورصاحب کی قبراس احاطے کے شمال مغربی دیواروں کے ساتھ ہے۔مغربی
دیواراورباباجی کی قبرکے درمیان صرف حضرت مولانا عبدالقیوم قادری صاحب کی قبرہے ۔قدموں کی جانب حضرت مولانا محمدزین العابدین قادری صاحب کی
قبرہے۔ راقم ربیع الاول 1447ھ /جنوری 2016ء کو برادران اسلامی حاجی غلام عباس عطاری ،محمدنثارعطاری اورمحمدنویدعطاری کے ہمراہ پنجہ شریف حاضرہوا ،محترم غلام جیلانی
صاحب (ٹیچرپرائمری اسکول پنجہ )نے اپنے اسٹوڈنٹس کے ساتھ استقبال کیا ،باباجی علامہ عبدالغفورقادری کے
خاندان کے لوگوں سے ملاقات ہوئی ،ان سے معلومات لیں ،باباجی کی مسجدکی زیارت کی اورپھر آپ کے مزارشریف پر حاضرہوکرفاتحہ کی
سعادت پائی۔آپ کے لوح مزارپر یہ اشعاردرج ہیں
،جسے ترجمے (75) کے
ساتھ ملاحظہ کیجئے:
|
پرز حسرت ہمیں گرئیم غمگیں |
|
حسرت سے پُر، غمگین یہی کہتا ہوں |
|
کہ ازما کرد رحلت عالم دیں |
|
کہ ہم سے اِک عالمِ دین رِحلت فرما گئے |
|
زما عبدالغفور اکنوں نہاں شد |
|
عبدالغفور اب
ہم سے پوشیدہ ہوگئے |
|
بییں ظلمت کہ گم شد ما ہ پرویں |
|
یہ ظلمت دیکھ جس میں ماہِ پروین کھو گئے |
|
خلیق و حاجی و قاریٔ قرآں |
|
خلیق و حاجی اور قاریٔ قرآن |
|
شدہ مدفون بذیر خاک مسکیں |
|
زیرِ خاک مدفون ومکین ہوگئے |
|
اگر صالح وفائش رابہ پرسی |
|
صالح اگر اُن کا سنِ وفات پوچھتے
ہو |
|
’’تو حق بخش بہ آن باد‘‘ اندریں بیں |
|
’’تو حق بخش بہ آن باد‘‘ میں دیکھ لے 1371 ھ |
حواشی ومراجع:
(1) پنجہ شریف مٹھہ ٹوانہ سےجانب جنوب مغرب 6کلومیٹرفاصلے پر موجودایک قصبہ ہے،جس کی آبادی تقریبادس
ہزارہے ،اس میں کل پانچ مساجدہیں جن میں سے تین جامع مساجدہیں (1)جامع مسجدرحمانیہ(2)جامع مسجدشرقی ابھاروالی(3)جامع مسجداُترا بھان اَڈے والی
،ایک پرائمری اسکول ہے ۔
(2) مٹھہ ٹوانہ ایک قدیم قصبہ اورضلع خوشاب کی ایک یونین کونسل ہے، جو خوشاب شہر سے جانب مغرب 24 کلومیٹر فاصلے پرواقع ہے۔مٹھہ ٹوانہ ریلوے اسٹیشن تو میانوالی
روڈپر قائم ہے مگرمٹھہ ٹوانہ کی آبادی ریلوے اسٹیشن سے جانب جنوب تقریبا ساڑھےپانچ
کلومیٹرکے فاصلے پر ہے جسے مٹھہ ٹوانہ روڈ
کے ذریعے آپس میں ملایا گیا ہے ۔اس شہرکی بنیاد1580ء میں رکھی گئی ۔ 1857ء میں اسے ضلع لیہ سے الگ کر کے اس وقت کے ضلع شاہ پور میں شامل کیا گیا ۔ مٹھہ
ٹوانہ میں اس وقت بھی کئی قدیمی اور تاریخی عمارات موجود ہیں ۔اسے’’ تھل
داکِنارہ‘‘ بھی کہاجاتاہے،اس کی آبادی تقریبا28ہزارہے۔ (نگرنگرپنجاب،379)
(3) خوشاب پاکستان کے ضلع پنجاب میں شمال
کی جانب ایک قدیم ترین شہرہے ،اس کا آغاز پندرہ
سو(1500)قبل مسیح
ہوا،یہ دریائے جہلم کے مغربی کنارے سےڈیڑھ
میل دور واقع ہے ، پہلی مرتبہ 1583ءمیں اس کے گرد فصیل بنائی گئی ،جس میں کئی دروازے تھے
،سیلابوں کی وجہ سے یہ فصیل کئی مرتبہ
تباہ ہوئی ، 1866ءمیں اس کی تعمیرجدیدکروائی گئی، اس باردیوار شہر میں چار بڑے
دروازے، مشرق کی جانب کابلی گیٹ، مغرب کی جانب لاہوری گیٹ،شمال کی جانب جہلمی گیٹ
اور جنوب کی جانب ملتانی گیٹ تعمیر کیے گئے،1700ءمیں خوشاب جہلم کمشنری کے تحت تھا
اور اس کا صدر مقام شاہ پورتھا۔ 1849ء کو اسے شاہ پورسے جداکرکے ضلع لیہ کا حصہ بنا دیا گیا
،1853ءمیں اسے ٹاؤن کمیٹی کا درجہ ملا، بعد
ازاں اسے میونسپل کمیٹی بنا دیا گیا،دوبارہ یہ ضلع
شاہ پورکا حصہ بنادیاگیا ،1867ء میں خوشاب کو تحصیل کا درجہ دیا گیا،1940ء میں شاہ پورضلع ختم کرکے
سرگودھا ضلع بنایا گیا، 1947ء میں قیام پاکستان کے وقت خوشاب ضلع سرگو دھا کی
تحصیل تھااور 1983ءمیں خوشاب کو الگ ضلع کا درجہ دے دیا گیا،اس وقت اس کی چارتحصیلیں ہیں (1)تحصیل خوشاب (2)تحصیل قائدآباد (3)تحصیل نوشہرہ (وادی سون سکیسر) اور (4)تحصیل نور پور تھل ۔تحصیل خوشاب اور قائد آباد میدانی ، تحصیل
نوشہرہ پہاڑی اور تحصیل نور پور تھل صحرائی علاقہ ہے۔1998ء میں اس ضلع کی آبادی تقریبا9لاکھ 58ہزارکے قریب تھی۔ اس کا رقبہ 6ہزار5سو11(6511)مربع کلومیٹر ہے۔ خوشاب بزرگوں کی سر زمین ہے ، سب سے زیادہ
مشہور مزارات میں خاندان غوثیہ کے دوبھائیوں سیداحمدشاہ جیلانی اورسیدمحمودشاہ
جیلانی کا درباربادشاہاں اور دربارسخی شاہ سیدمعروف قادری رحمۃ اللہ علیہم شامل ہیں، خوشاب کی سب سے اہم
سوغات ڈھوڈا ہے۔ یہ ایک مٹھائی ہے
جو یہاں نسل در نسل تیار کی جاتی ہے اور اپنے ذائقہ میں بے مثال ہے۔(نگرنگرپنجاب،373تا376)
(4) ملک اعوان ،علوی عربی النسل ہیں ،یہ زراعت پیشہ قبیلہ اوراسلحہ کے استعمال میں
مہارت رکھتاہے ،جسامت کے لحاظ سے تنومند،مضبوط اورچوڑے شانوں والے،درمیانے قدکے
مالک،ملنساراورخوش اخلاق ہوتے ہیں ، اس
خاندان کے جدامجدحضرت عون قطب شاہ علوی ،امیرالمؤمنین حضرت علی المرتضی رضی اللہ
عنہ کے بیٹے حضرت سیدنا محمدبن حنفیہ رحمۃ اللہ علیہ کے خاندان کے چشم چراغ تھے
،حضرت غوث الاعظم شیخ عبدالقادرجیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی ہمشیرہ کی شادی ان سے
ہوئی تھی یہ غوث پاک کے مرید تھے،انہی کے حکم سے ہند میں تبلیغ اسلام کے لیے آئے
،اپنے اعلیٰ مرتنے کی وجہ سے قطب کہلائے ،ان کی وفات بغدادمیں 1160ھ میں ہوئی ۔(اقوام پاکستان کا انسائیکلوپیڈیا ،799تا806)
(5) اعلیٰ حضرت ،مجدددین وملت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت10شوال 1272ھ /6جون 1856ءکو بریلی شریف(یو۔پی) ہند میں ہوئی، یہیں 25 صفر 1340 ھ /28،اکتوبر1921ءکو وصال فرمایا۔ مزار جائے
پیدائش میں مرجع خاص وعام ہے۔آپ حافظ قرآن، پچاس سے زیادہ جدیدوقدیم علوم کے
ماہر،تاجدارفقہاو محدثین، مصلح امت، نعت گوشاعر، سلسلہ قادریہ کے عظیم شیخ طریقت،
تقریبا ایک ہزارکتب کے مصنف، مرجع علمائے عرب وعجم اور چودہویں صدی کی مؤثر ترین
شخصیت کے مالک تھے۔ کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن،فتاویٰ رضویہ (33جلدیں)، جد الممتارعلی ردالمحتار(7 جلدیں،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی) اور حدائق بخشش آپ کی
مشہور تصانیف ہیں۔(حیاتِ اعلیٰ حضرت، 1/58، 3/295،مکتبۃ المدینہ،تاریخِ مشائخِ قادریہ رضویہ برکاتیہ،282، 301)
(6) بریلی Bareilly)):یہ بھارت کے صوبے
اترپردیش میں واقع ہے، دریائے گنگا کے کنارے یہ ایک خوبصورت شہر ہے۔ دریا کی خوشگوار فضاء نے
اس کے حسن میں موثر کردار ادا کیا ہے۔اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ
کی پیدائش ووفات یہیں ہوئی ،اس لیے یہ شہرآپ کی نسبت سےعالمگیرشہرت رکھتاہے۔
(7) اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری رحمۃ اللہ علیہ نے شہر بریلی(یوپی ہند) میں(غالباماہ شعبان
المعظم) 1322ھ/ اکتوبر1904ء میں دارالعلوم(مدرسہ اہل سنت وجماعت) منظر اسلام بریلی کی بنیاد رکھی، اس
مدرسے کے بانی اعلیٰ حضرت ،سربراہ حجۃ الاسلام مولانا حامدرضا قادری اورپہلے مہتمم
برادراعلیٰ حضرت مولانا حسن رضا خان مقررہوئے ، ہر سال اس ادارے سے فارغ التحصیل
ہونے والے حفاظ قرآن، قراء، عالم اور فاضل گریجویٹ طالب علموں کی ایک بڑی تعداد
ہے۔(صدسالہ منظراسلام نمبرماہنامہ اعلیٰ حضرت بریلی،ماہ مئی 2001ء،قسط 1ص28،132)
(8) عقیدہ ختم
النبوۃ،13/507۔
(9) ماہنامہ جہان
رضا فروری ،مارچ2016ء،ص51 ۔
(10) تذکرہ خلفائے
اعلیٰ حضرت ،367۔
(11) وادی سون
سکیسرضلع خوشاب کی ایک صحت افزا وادی
ہے،جوسلسلہ کوہ نمک کے پہاڑوںمیں دس
ہزارایکٹررقبے پرمشتمل ہے ، یہاں کے پہاڑ
ریتلی چٹانوں اور چونے کے پتھروں پر مشتمل ہیں ، یہاں کی زراعت کا دارومداربرسات
پر ہے،یہاں مارچ سے اکتوبر تک موسم انتہائی خوشگوار رہتا ہے ،سردیوں میں شدید سردی پڑتی ہے اور درجہ
حرارت نقطہ انجماد سے نیچے چلا جاتا ہے،اس میں کئی وادیاں اورچھوٹے بڑے گاؤں
اورقصبے ہیں ، اس کے بہترین مقامات میں سے کھبیکی جھیل ، اوچھالی جھیل، مائی والی ڈھیری،جاہلر جھیل ،کھڑومی جھیل ، سوڈھی جے والی، کنہٹی گارڈن اورچشمہ ڈیپ شریف ہیں۔
(12) چِٹہ (chitta)گاؤں وادی سون سکیسرکےمشہوراوچھالی جھیل کے کنارے واقع ہے، چٹہ کے سرسبز کھیت بہت خوب صورت منظر پیش کرتے
ہیں۔
(13) ان کا تذکرہ والدمحترم
کے عنوان سے آگےآرہا ہے۔
(14) حافظ
الحدیث حضرت علامہ مفتی سید محمد جلال الدین شاہ مشہدی رحمۃ اللہ
علیہ عصر حاضرکے عظیم محدث و مفسر، یگانہ روزگار
اورعظیم فقیہ تھے۔آپ نے یکم شوال المکرم 1359ھ / 2نومبر1941ء میں اپنے قصبہ
بھکھی شریف (منڈی بہاؤالدین) میں ایک دینی درسگاہ کی بنیاد رکھی جس کانام ’’جامعہ محمدیہ نوریہ رضویہ ‘‘
تجویز کیا گیا۔ قبلہ حافظ الحدیث نے
چالیس (40)سال تک یہاں مسند تدریس کو رونق بخشی اور کثیرعلمامشائخ اس
چشمہ علم وعمل سے سیراب ہوئے ۔
(15) ولی کامل
حضرت مولاناصوفی قاضی محمددین قادری رحمۃ
اللہ علیہ کی ولادت 1295ھ/1888ء پنجہ شریف (نزدمٹھہ ٹواناضلع خوشاب
پنجاب)پاکستان میں ہوئی اوریہیں یکم
محرم 1360ھ /29جنوری1941 ء کو وصال فرمایا،آپ کاخاندان سات(7) پشتوں سےقادریہ سلسلے سے منسلک ہے ،آپ کے والدگرامی صوفی قاضی
شیرمحمدقادری ولی کامل اورپیر طریقت تھے ، قاضی محمددین قادری ابھی تین چارسال کے
تھے کہ آپ کے والدکا انتقال ہوگیا چنانچہ بچپن سے ہی انہیں اپنے ماموں علامہ
عبدالحکیم قادری کی صحبت ملی ، درس نظامی کی کتب باباجی علامہ
عبدالغفورقادری صاحب سے پڑھیں ،بعدحصول علم دین اپنے گاؤں پنجہ شریف میں جامعہ مسجدرحمانیہ تعمیرکی اوراس میں امامت وخطابت
کیا کرتے تھے ،یہاں آپ حفظ قرآن کا درس بھی شروع فرمایا ،آپ تصوف کی طرف زیادہ
مائل تھے،سلسلہ قادریہ گیلانیہ میں
مریدوخلیفہ تھے ،مرجع العلماوعوام تھے ،پیری مریدی کو ذریعہ آمدن نہ بنایا بلکہ
کھیتی باڑی کرتے تھے،جو فرمایاکرتے تھے ہوجاتاتھا،آپ کی کرامات زبان زدعام ہیں ۔
قبرستان پنجہ شریف کی ایک چاردیواری میں خاندان کے دیگرافراد کے ساتھ آپ کا مزار
ہے۔ ان کے صحبت یافتہ درویش محمدشفیع قادری صاحب کی قبرپچاس سال کے بعدکھل گئی تو
لوگوں نےدیکھا تو ان کی میت صحیح ودرست تھی۔
(16) یہ تمام
معلومات نواسۂ علامہ عبدالغفورقادری ،حضرت مولانا قاضی حبیب الرحمن صاحب نے دی ہیں جواس وقت باباجی کے خاندان کےنمائند ے،خوش اخلا ق،خوش لباس اورملنسارشخصیت
کے مالک ہیں۔
(17) ماہنامہ جہان
رضا فروری ،مارچ2016ء،صفحہ51میں لکھا ہے کہ
آپ کی پیدائش 1872ء میں ہوئی ۔
(18) یہ معلومات
قاضی حبیب الرحمن صاحب (امام وخطیب جامع مسجدرحمانیہ پنجہ شریف)نے دی ہیں ۔
(19) یہ معلومات قاضی حبیب الرحمن
صاحب (امام وخطیب جامع مسجدرحمانیہ پنجہ شریف)نے دی ہیں ۔
(20) عقیدہ ختم
النبوۃ،13/507۔
(21) شہزادۂ اعلیٰ حضرت،حُجّۃُ الاسلام مفتی حامد رضا خان رحمۃ اللہ
علیہ علامہ دہر، مفتی اسلام ،نعت گوشاعر،اردو،ہندی ،فارسی
اورعربی زبانوں عبوررکھنے والےعالم دین ، ظاہری وباطنی حسن سےمالامال ،جانشینِ
اعلیٰ حضرت اوراکابرین اہل سنت سے تھے
۔بریلی شریف میں ربیعُ الاول1292ھ/1875ء میں پیداہوئے اور17جمادی الاولیٰ 1362ھ /22مئی 1943ءمیں وصال فرمایا اور مراز شریف خانقاہِ رضویہ بریلی شریف
ہند میں ہے، تصانیف میں فتاویٰ حامدیہ مشہورہے۔(فتاویٰ حامدیہ،ص48،79)
(22) صدرالشریعہ حضرت مولانا مفتی محمد امجد
علی اَعظمی رحمۃ اللہ علیہ 1300 ھ /1883ءکو اترپردیش ہند کے قصبے مدینۃُ العُلَماء گھوسی میں پیدا ہوئے اور2 ذوالقعدۃالحرام 1367ھ /6 ستمبر 1948ء کو وفات پائی۔ جائے پیدائش
میں مزار زیارت گاہِ خاص و عام ہے۔،آپ
جیدعالم دین ،استاذالعلما ،فقیہ اسلام
،مریدوخلیفہ اعلیٰ حضرت ،جامع معقول ومنقول اورعبقری شخصیت کے مالک تھے ،آپ کی کتب
میں بہارشریعت کو شہرت عامہ حاصل ہوئی ،جوعوام وخواص میں مقبول ومحبوب ہے ۔(تذکرۂ صدر الشریعہ،ص5،39 ، 41)،بہارِ شریعت کی
تخریج وتسہیل کی سعادت دعوتِ اسلامی کے ادارۂ تصنیف وتالیف المدینۃ العلمیہ ، اسلامک ریسرچ سینڑ
فیضان مدینہ کراچی کوحاصل ہوئی ،جس نے بہت خوبصورت اندازمیں چھ جلدوں میں شائع کیا
ہے۔
(23) شہزادۂ اعلیٰ حضرت، مفتیِ اعظم ہند، حضرت علّامہ مولانا مفتی محمدمصطفےٰ رضا
خان نوری رضوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1310ھ /1892ءرضا نگر محلّہ سوداگران بریلی (یوپی،ہند) میں ہوئی۔ آپ
فاضل دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف، جملہ علوم و فنون کے ماہر، جید عالِم دین،
مصنفِ کتب، مفتی و شاعرِ اسلام، شہرۂ آفاق شیخِ طریقت، مرجعِ علما و مشائخ اور
عوامِ اہلِ سنّت تھے۔ 35سے زائد تصانیف و تالیفات میں سامانِ بخشش اور فتاویٰ
مصطفویہ مشہور ہیں۔ 14 محرمُ الحرام 1402ھ/12نومبر1981ء میں وصال فرمایا اور بریلی شریف میں والدِ گرامی امام
احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن کے پہلو
میں دفن ہوئے۔(جہانِ مفتی اعظم، ص64تا130)
(24) جامع معقول ومنقول ،استاذالعلماحضرت علامہ سیدبشیراحمد شاہ علی گڑھی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت علی گڑھ(یوپی ہند)کے
سادات گھرانے میں ہوئی ،تمام درس نظامی مع دورہ حدیث شریف استاذالہندحضرت علامہ
لطف اللہ علی گڑھی سے پڑھا،زندگی کا ایک
حصہ اپنے استاذگرامی کے مدرسہ فیض عام کانپوراورجامعہ شمس العلوم بدایون میں تدریس
کرنے میں صرف کیا ، جب (غالباماہ شعبان المعظم) 1322ھ/ اکتوبر1904ء میں دارالعلوم(مدرسہ اہل سنت وجماعت) منظر اسلام بریلی
شریف کا آغازہواتو آپ اس میں صدرمدرس
بنائے گئے ،6ذیقعدۃ الحرام 1330ھ مطابق 17،اکتوبر1912ء میں جب علامہ عبدالغفورقادری صاحب کی سند حدیث دی گئی تو
اس پر علامہ سیدبشیراحمدشاہ صاحب کے ہی دستخط ہیں ، آپ کا وصال علی گڑھ میں ہوا۔(تذکرہ علمائے اہلسنت ، 72،73،استاذالہند،51)
(25) تذکرہ خلفائے اعلی حضرت،366،367۔
(26) مرکزی جامع مسجدبی بی جی صاحبہ ،بریلی شریف کےمحلہ بہاری پورمیں واقع ہے ،اس
میں دارالعلوم منظراسلام کے سالانہ جلسے ہوتے تھے،1356ھ/1937ء میں مفتی اعظم ہندمفتی
محمدمصطفی رضا خان قادری کی سرپرستی میں دارالعلوم مظہراسلام قائم ہوا،محدث اعظم پاکستان علامہ سرداراحمدقادری
چشتی صاحب اس کے منتظم اورشیخ الحدیث
مقررہوئے،اس دارالعلوم کی مستقل عمارت نہیں تھی ،مسجدکےحجروں اورصحن میں پڑھائی کا
سلسلہ ہوتاتھا۔( حیات محدث اعظم ،45)
(27) صدسالہ منظراسلام نمبرماہنامہ اعلیٰ حضرت بریلی،ماہ مئی 2001ء،قسط 1ص 235
(28) محدث بہارحضرت مولانا احسان علی مظفرپوری رحمۃ اللہ علیہ
کی ولادت 1316ھ کو فیض پور(ضلع
سیتامڑھی [سابقہ ضلع مظفرپور [بہارہند)میں ہوئی اوررمضان 1402ھ کو وفات پائی ،مزارفیض پورمیں ہے، جہاں ہرسال دس شوال
کوعرس ہوتاہے،آپ نے ابتدائی تعلیم 1326ھ میں مدرسہ نورالہدی
پوکھیراسے حاصل کی،1327ھ میں دارالعلوم منطراسلام میں داخل ہوئے ،بقیہ تمام تعلیم یہیں سے حاصل کرکے فارغ التحصیل
ہوئے اور یہیں مدرس ہوگئے،آپ نے تقریباپچاس سال تدریس فرمائی ،سینکڑوں علمانے آپ
سے استفادہ کیا ،آپ شیخ التفسیراورشیخ الحدیث کے عہدے پر بھی فائزرہے ۔آپ حجۃ
الاسلام علامہ حامدرضاقادری رضوی صاحب کے
مریدوخلیفہ تھے ۔(تذکرہ علمائے اہلسنت ،سیتامڑھی،1/50،فتاویٰ رضویہ ،7/297)
(29) ان کے حالات نہ مل سکے۔
(30) ان کے حالات نہ مل سکے۔
(31) ان کے حالات نہ مل سکے۔
(32) صدسالہ منظراسلام نمبرماہنامہ اعلیٰ حضرت بریلی،ماہ مئی 2001ء،قسط 1ص 255۔
(33) ان کے حالات نہ مل سکے ۔
(34) معارف رضا،شمارہ 1413ھ/1992ء،ص235۔نام میں جوعلاقائی نسبت ’’شاہ پوری‘‘ لکھی ہے اس کی وجہ یہ
ہے اس زمانے(1330ھ / 1912ء) میں موجود ہ ضلع خوشاب ، ضلع شاہ
پورکی تحصیل تھی۔مزیددیکھئے حاشیہ :3
(35) ماہر رضویات حضرت علامہ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد مجددی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت یکم جمادی الاخریٰ 1349ھ / 24،اکتوبر1930ء کو دہلی ہندمیں ہوئی اور23ربیع الاخر1429ھ /29،اپریل 2008ء کو کراچی میں وصال فرمایا ،تدفین احاطہ ِ خانوادۂ مجددیہ
ماڈل کالونی قبرستان،ملیرکراچی میں ہوئی ۔آپ عالم دین،سلسلہ نقشبندیہ مظہریہ کے
مرشدکریم،جدیدوقدیم علوم سے مالامال،عالم باعمل ،مصنف کتب کثیرہ اوراکابرین اہلسنت
سے تھے،اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات پر آپ کی 40سے زائدکتب ورسائل اورمقالات یادگارہیں ،امام ربانی حضرت
مجددالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کےحالات
وخدمت اورمقامات پر مشتمل مقالات کاعظیم انسائیکلوپیڈیا (12جلدیں)آپ کی زیرسرپرستی شائع ہوا۔ آپ نہایت ملنسار، اعلی
اخلاق کے مالک اور محبت و شفقت فرمانے والے بزرگ تھے۔(پروفیسرڈاکٹرمحمدمسعوداحمد حیات ،علمی اورادبی خدمات،77تا108)راقم زمانہ طالب علمی میں ایک مرتبہ انکی خدمت میں حاضرا،بہت شفقت فرمائی ،حوصلہ
افزائی فرمائی اوردعاؤں سے نوازا۔
(36) رفیق ملت حضرت ِ مولانا حافظ محمدرفیق رضوی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش1353ھ/ 1935ءکو بلی ماران دہلی ہند کے دینی گھرانے میں ہوئی اور27جمادی الاولی1425ھ/16،جولائی2004ء کو سکھرمیں انتقال فرمایا ،تدفین مدرسہ انوارمصطفی سکھرکے
ایک گوشے میں ہوئی،آپ حافظ قرآن،عالم باعمل ،علامہ عبدالغفوررضوی اورمحدث اعظم
پاکستان علامہ سرداراحمدرضوی رحمۃ اللہ علیہما کے شاگرد،(ثانی الذکرسے مرید بھی ہوئے )،استاذالحفاظ،جامعہ انوارمصطفی سکھرسمیت کئی
اداروں کے بانی اورسرپرست تھے ،خدمت عوام
بذریعہ تعویذات میں بھی مشہورتھے۔آپ کی تمام اولاددینی تعلیم سے آراستہ ہوئی۔آپ کو
کئی مشائخ مثلا پیرایرانی،پیرصاحب دیوال،مولانا محمدقاسم مشوری وغیرہ سے خلافت
حاصل تھی۔(انوارعلمائےاہل سنت سندھ،936تا939)
(37) حضرت
مولانا مفتی محمد عارف سعیدی صاحب کی
پیدائش ربیع الاول 1384ھ مطابق 10،اگست1964ء کو سکھرمیں ہوئی،ابتدائی اسلامی
تعلیم والدصاحب رفیق ملت حضرت ِ مولانا حافظ محمدرفیق رضوی صاحب حاصل کی
پھر جامعہ غوثیہ
رضویہ سکھرمیں داخلہ لیا ،1974ءمیں والدصاحب
نے جامعہ انوارمصطفی بنایا تو اس میں آگئے وہیں کتب درسِ نظامیہ علامہ مولانا محمد
بخش نظامی صاحب اور مفتی محمدابراہیم قادری صاحب سے پڑھیں ،1982
ء کو جامعہ اسلامیہ انوارالعلوم ملتان میں
غزالی دوراں علامہ سیداحمدسعیدکاظمی شاہ صاحب سے دورہ حدیث شریف پڑھا ،آپ سے ہی
بیعت کا شرف بھی پایا ،بعدحصول تعلیم
جامعہ انوارمصطفی میں کتب درس نظامی اوردورحدیث شریف پڑھانے کی سعادت پائی ،امامت
وخطابت کا سلسلہ بھی رہا ،ایک رسالہ بھی تصنیف کیا ۔آپ کو اپنے والدگرامی سمیت کئی مشائخ سے خلافت
حاصل ہے۔(بذریعہ واٹس ایپ مفتی صاحب سے معلومات لی گئیں۔)
(38) شیخ الحدیث والتفسیر،مفتی اہل سنت حضرت علامہ مفتی محمدابراہیم قادری صاحب کی پیدائش 12جولائی 1954ء/11ذیقعدہ1373ھ کو سوئی ضلع ڈیرہ بگٹی بلوچستان میں ہوئی ،آپ نے علم
دین،سوئی ،سکھر،بندیال شریف،واںبھچراں وغیرہ سے حاصل کیا اوردورہ حدیث دارالعلوم
امجدیہ کراچی سے کرنےکی سعادت پائی ،آپ برہان ملت ،خلیفہ اعلیٰ حضرت علامہ برہان الحق قادری جبل پوری رحمۃ اللہ
علیہ سےبیعت ہوئے اورخلیفہ مفتی اعظم ہند مفتی محمدحسین قادری
سکھروی رحمۃ اللہ علیہ اورمعمارملت حضرت منان رضامنانی میاں قادری صاحب سے خلافت
پائی ،آپ نے کئی مدارس میں تدریس فرمائی ،کئی جیدعلماآپ کے شاگردہیں، آجکل جامعہ
غوثیہ رضویہ کے شیخ الحدیث والتفسیراورمفتی ہیں ،آپ کثیرالفتاویٰ ہیں ،آپ کامجموعۂ فتاویٰ زیرطباعت ہے جو چارسےپانچ
جلدوں پر مشتمل ہوگا،آپ 2009ءتا2012ءتک اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کےرکن بھی رہے۔ (بذریعہ فون مفتی صاحب سے معلومات لی گئیں۔)
(39) ادارہ تحقیقات امام احمدرضا انٹرنیشنل کراچی کومولانا سیدمحمدریاست علی قادری
نوری صاحب نے 1400ھ/1980ء میں قائم فرمایا ،جس کا مقصدتعلیماتِ رضا کا فروغ ہے،1401ھ تا1440ھ تک اس کی40سالہ کارکردگی کا جائزہ لیاجائے توزبان پرادارےکےاراکین
ومعاونین کےحق میں دعاکے الفاظ جاری ہوجاتےہیں :٭1440ھ تک48،امام احمدرضا کانفرنسوں کا انعقادکروایاجاچکا ہے۔٭ سالنامہ معارفِ رضا کی 19جلدیں اور ماہنامہ معارف رضا کے 220 شمارے شائع
ہوچکے ہیں، ٭سالانہ مجلہ امام احمد رضاکے 32شماروں کی اشاعت ہوچکی ہے۔ ٭ اعلیٰ حضرت امام احمدرضا رحمۃ اللہ علیہ کی
35تصانیف، پی ایچ ڈی کے 21مقالات ،مسعود
ملت پروفیسرڈاکٹرمسعوداحمدصاحب کی 21کتب،صاحبزادہ علامہ وجاہت رسول قادری صاحب کی 21تصانیف اورپروفیسر
ڈاکٹرمجید اللہ قادری صاحب کے35مقالات شائع ہوچکے ہیں یوں شائع شدہ کتب و رسائل کی تعداد164 ہے۔٭دیگرکاموں میں پی
ایچ ڈی اور ایم فل مقالہ جات لکھوانا ،اعلیٰ حضرت پر لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی
کے لیے گولڈ میڈل اور سلور میڈل کا اجراء
کرنا ،تعلیمات رضا کو عام کرنے کے لیے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کااستعمال کرنا اور اخبارات و جرائد کے ذریعے
فروغ تعلیمات امام احمد رضا کو عام
کرنامزیدبراں ہے ۔ (مزیدتفصیل کےلیے دیکھئے:کتاب
’’ادارہ تحقیقات امام احمدرضا کی چالیس سالہ خدمات کا جائزہ۔‘‘)
(40) تذکرہ خلفائے اعلی حضرت،366،367،معارف
رضا،شمارہ 1413/1992،ص235۔
(41) یہ معلومات
قاضی حبیب الرحمن صاحب (امام وخطیب جامع مسجدرحمانیہ پنجہ شریف)نے دی ہیں ۔
(42) ان کے
مختصرحالات حاشیہ 15میں دیکھئے۔
(43) حضرت مولانا
قاضی عبدالرحمن قادری رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش1348ھ/ 1930ء کو پنجہ شریف
میں ہوئی اوریہیں4صفر1434ھ/ 18دسمبر2012ء میں وفات ہوئی ۔تدفین قبرستان پنجہ شریف میں
خاندانی چاردیواری کے اندرہوئی ۔ آپ
نےاپنےوالدقاضی محمددین قادری صاحب سے ناظرہ قرآن مجیدپڑھا ،ابھی آپ
تقریا10 سال کے تھے کہ والدگرامی کا انتقال ہوگیا ،اس کے بعد انہیں بابا جی علامہ
عبدالغفورقادری صاحب کی صحبت حاصل ہوئی ،ان سے علم دین حاصل کیا ،فراغت کے بعدآپ نے
جامع مسجدرحمانیہ کےامام وخطیب طورپر خدمت دین کا آغازکیا، اس میں قائم حفظ القرآن
کے مدرسے میں تدریس کی اور زمدگی بھریہ خدمت سرانجام دیتے رہے۔
(44) قاضی حبیب
الرحمن صاحب کی پیدائش1370ھ/ 1950 ء کوپنجہ شریف میں ہوئی ،آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے عربی کیا ،مطالعہ کا شوق رکھتے ہیں ،فقہ اورتفسیرکی
کتب زیرمطالعہ رہتی ہیں، سات سالہ جدہ میں ملازمت بھی کی ،کچھ عرصہ بزنس اورزمین
داری میں مصروف رہے ۔آپ کے دوصاحبزادے ہیں بڑے بیٹے قاضی ضیاء الرحمن اسلام آباد میں ملازمت اورچھوٹے صاحبزادے قاضی
تنزیل الرحمن بزنس کرتے ہیں ۔اللہ پاک ان
کے گھرانے کو سلامت رکھے۔
(45) تھل ریتلاعلاقہ ہے ،یہ دریائے جہلم اوردریائے سندھ
کے درمیان واقع ہےاس کی شروعات ضلع خوشاب کے صدرمقام جوہرآباد سے ہوتی ہیں اور قائد آباد سے نیچے پھر ضلع
میانوالی میں ہرنولی کے قریب سے شروع ہو جاتا ہے۔ خوشاب سے میانوالی کو ملانے والی
ریلوے لائن سے جنوب کی طرف سارا علاقہ تھل کے صحرا پرمشتمل ہے۔
(46) ساہیوال ،ضلع
سرگودھا کی تحصیل اورقصبہ ہے،یہ دریائے جہلم کے بائیں کنارے پرواقع ہے،اسے سولہویں
صدی میں بلوچ قبیلے نے قائم کیاجائے ،اس کی موجودہ آبادی
تقریبا40ہزارہے،مشہوردرگاہ آستانہ عالیہ چشتیہ سیال شریف اسی کے قریب واقع ہے ۔(نگرنگرپنجاب،367)
(47) یہ معلومات
قاضی حبیب الرحمن صاحب (امام وخطیب جامع مسجدرحمانیہ پنجہ شریف)نے دی ہیں ۔
(48) فیروزپورمشرقی
پنجاب(ہند)کا ایک شہرہے جوقصورشہرسےتقریبا27کلومیٹرفاصلے
پر ہے ، یہ دریائے ستلج کے کنارے واقع ہے
،اسے 1351ء میں تغلق پادشاہ سلطان فیروزشاہ تغلق نے
آبادکیا، اس میں فوج کا اڈا(Cantonment)بھی ہے اس لیے
یہ فیروز پورچھاؤنی کے نام سے مشہورہے۔
(49) ماہنامہ جہان
رضا فروری ،مارچ2016ء،صفحہ51میں لکھا ہے کہ
آپ بریلی شریف میں جانے سے پہلےفوج میں بطورخطیب بھرتی ہوئے۔
(50) یہ معلومات
قاضی حبیب الرحمن صاحب (امام وخطیب جامع مسجدرحمانیہ پنجہ شریف)نے دی ہیں ۔
(51) عقیدہ ختم
النبوۃ،13/509
(52) عقیدہ ختم
النبوۃ،13/541
(53) عالم باعمل حضرت مولانا مفتی محمدامین قادری عطاری رحمۃ
اللہ علیہ کی ولادت 22رجب1391ھ /7نومبر1971ء کو کھارادراولڈ سٹی کراچی کے ایک میمن گھرانے
میں ہوئی ،بچپن سےہی مرکزی انجمن اشاعت اسلام اورپھردعوت اسلامی میں شامل ہوئے،1985ء میں امیراہلسنت علامہ محمدالیاس عطارقادری صاحب کے ذریعے سلسلہ قادریہ رضویہ میں بیعت ہوئے ،1998ءمیں دارالعلوم
امجدیہ کراچی سے فارغ التحصیل ہوکرفتاویٰ نویسی میں مصروف ہوگئے،1999ء میں دارالافتاء دارالعلوم غوثیہ نزدپرانی
سبزی منڈی کراچی میں بطورمفتی ومدرس درس
نظامی خدمات سرانجام دینےلگے،آپ کااکثروقت فتویٰ نویسی ،تدریس درس نظامی ،واعظ
ونصیحت اورتصنیف وتالیف میں صرف ہوتاتھا،ردقادنیت پر علمائےاہل سنت کی کتب ورسائل
کو ایک مجموعے کی صورت میں جدیدکمپوزنگ اورنئے اندازطباعت کے ساتھ شائع کرنا آپ کا
یادگارکارنامہ ہے ۔صرف 36سال کی عمرمیں
آپ کا وصال 18ذیقعدہ1426ھ /20دسمبر2005ءکو کراچی میں ہوا۔(عقیدہ ختم
النبوۃ،جلد1،تعارف مؤلف،انوارعلمائےاہل سنت سندھ،116)
(54) کتاب ’’عقیدہ ختم
النبوۃ ‘‘سواصدی پر محیط علمائے اہل سنت پاک وہند کی ان کتب ورسائل کا مجموعہ ہے ،جو
ردقادیانیت کے موضوع پر ہیں ، عالم باعمل حضرت مولانا مفتی محمدامین قادری عطاری رحمۃ
اللہ علیہ نے ان کتب ورسائل کو جدیدطریقہ اشاعت کے مطابق شائع کرنےکا
بیڑااٹھایااورجنوری 2005ء میں اس کی
پہلی جلدشائع ہوئی ،اب تک اس مجموعہ کی 15جلدیں شائع
ہوچکی ہیں ،مزید5جلدوں کی اشاعت باقی ہے ،فی الحال بوجوہ مزیداشاعت کا سلسلہ رکا ہواہے ۔(عقیدہ ختم النبوۃ،1/9، انوارعلمائےاہل سنت سندھ،117)
(55) حافظ
الحدیث حضرت علامہ مفتی سید محمد جلال الدین شاہ مشہدی رحمۃ اللہ
علیہ عصر حاضرکے عظیم محدث و مفسر، یگانہ روزگار
اورعظیم فقیہ تھے۔آپ نے یکم شوال المکرم 1359ھ / 2نومبر1941ء میں اپنے قصبہ
بھکھی شریف (ضلع منڈی بہاؤالدین،پنجاب) میں ایک دینی درسگاہ کی بنیاد رکھی جس
کانام ’’جامعہ محمدیہ نوریہ رضویہ ‘‘
تجویز کیا گیا۔ قبلہ حافظ الحدیث نےیہاں
چالیس سال تک یہاں تدریس فرمائی ۔
(56) یہ معلومات
قاضی حبیب الرحمن صاحب (امام وخطیب جامع مسجدرحمانیہ پنجہ شریف)نے دی ہیں ۔
(57) مجاہدملت حضرت
مولانا محمدعبدالستارخان نیازی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 22ذیقعد1333ھ/یکم اکتوبر1915ء کو موضع اٹک
پنیالہ(تحصیل عیسیٰ خیل)ضلع میانوالی میں ہوئی،7صفر1422ھ/یکم مئی2001ء کو میانوالی
میں انتقال فرمایا،مزار’’مجاہدملت کمپلیکس‘‘ روکھڑی موڑمیانوالی میں ہے ۔آپ عالم دین،پرچوش مبلغ ،باہمت
رہبرورہنما،اخبارخلافت پاکستان کے مدیر ،مجلس اصلاح قوم ،دی پنجاب مسلم سٹوڈنٹس
فیڈریشن،آل پاکستان عوامی تحریک کے بانی،تحریک پاکستان کے متحرک کارکن،تحریک نفاذِ
شریعت،تحریک ختم نبوت،تحریک نفاذِ نظام مصطفیٰ میں بھرپورحصہ
لیا، قومی اسمبلی اورسینٹ کے رکن بھی رہے۔آپ کا شماراکابرین اہل سنت میں
ہوتاہے ۔آپ آستانہ عالیہ میبل شریف ضلع بھکر میں مریداورقطب مدینہ حضرت مولانا
ضیاء الدین احمدمدنی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ تھے۔آپ نے اٹھارہ سے زیادہ مقالات
وکتب ورسائل تحریرفرمائے۔(تحریک پاکستان میں
علماء ومشائخ کا کردار،427)
(58) ماہنامہ جہان
رضا فروری ،مارچ2016ء،ص 52۔البریلویۃ کا تحقیقی اورتنقیدی
جائزہ،294،سیرت صدرالشریعہ،72۔
(59) محدثِ اعظم
پاکستان حضرت علّامہ مولانا محمد سردار احمد قادری چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1323ھ/1905 میں ضلع گورداسپور (موضع دیال گڑھ
مشرقی پنجاب) ہند میں ہوئی اور یکم شعبان 1382ھ/28دسمبر1982ء کو وصال فرمایا،آپ کا مزار مبارک فیصل آباد پنجاب، پاکستان میں ہے۔آپ جامعہ
منظراسلام بریلی شریف کے فارغ
التحصیل،جامعہ مظہراسلام بریلی شریف کے
پہلے مہتمم، استاذالعلماء، محدثِ جلیل، شیخِ طریقت، بانیِ سنّی رضوی جامع مسجد و
جامعہ رضویہ مظہرِ اسلام فیصل آباد اور اکابرینِ اہلِ سنّت سے ہیں۔(حیاتِ محدثِ اعظم،
ص334،27)
(60) حافظُ الحدیث
حضرت مولانا پیر سیّد محمد جلالُ الدّین شاہ مشہدی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1333ھ/1915ء کو بھکھی
شریف ( ضلع منڈی بہاؤ الدّین،پنجاب)
پاکستان میں ہوئی اور یہیں 5ربیعُ الاوّل1406 ھ /18نومبر1985ءکو وصال فرمایا۔آپ حافظ ِ قراٰن ،فاضل جامعہ
مظہرالاسلام بریلی شریف،خلیفہ مفتی اعظم ہند، تلمیذ و خلیفہ محدث اعظم پاکستان،
مرید و خلیفہ پیر سیّد نور الحسن بخاری (کیلیانوالہ شریف)،بانی جامعہ محمدیہ نوریہ
رضویہ بھکھی شریف اور استاذُالعلماء ہیں۔(حیات محدث اعظم، ص357،نوائے وقت ،25نومبر2014ء)
(61) استاذالاستاذ،شیخ
الحدیث حضرت علامہ محمدنوازنقشبندی کیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1920ء /1338ء کو موضع بلو(نزدکولوتارڑضلع حافظ آباد،پنجاب ) میں ہوئی اوروصال 27شعبان/13،اکتوبر2004ء کو 84سال کی عمرمیں گوجرانوالہ میں ہوا،تدفین جامعہ مدینۃ العلم گوجرانوالہ کے ایک
گوشے میں ہوئی ، آپ محدث اعظم ،صدرالشریعہ ،مفتی اعظم ہندکے شاگرداورسراج السالکین
حضرت سیدنورالحسن بخاری کیلانی کے مریدتھے ، آپ جیدعالم دین ،جامع معقول ومنقول
،شیخ الجامعہ بھکھی شریف ،زینت
مسندتدریس،بانی جامعہ مدینۃ العلم گوجرانوالہ اور مجاز طریقت تھے۔(تذکرہ زینت مسندتدریس،99،133،137،182)
(62) یہ معلومات قاضی حبیب الرحمن
صاحب (امام وخطیب جامع مسجدرحمانیہ پنجہ شریف)نے دی ہیں ۔
(63) تجلیات خلفاء
اعلیٰ حضرت ،639 ۔
(64) استاذالحفاظ
،حضرت مولاناحافظ حاجی غوث محمداعوان رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 1322ھ / 1904ء کو پنجہ شریف کی ایک زمینداراعوان
گھرانے میں ہوئی اوریہیں12ذیقعدہ 1386ھ / 22فروری 1967ء کو وفات پائی ،مقامی قبرستان میں دفن
کیاگیا۔آپ نے قاضی محمددین قادری صاحب سےحفظ قرآن کی سعادت پائی ،باباجی علامہ
عبدالغفورقادری صاحب سےعلمی استفادہ کیا ،پھر حضرت باواجی سلوئی حافظ غلام محمد گولڑوی سے دینی کتب پڑھیں ،قریبی
گاؤں کھجولا( تحصیل چوآسیدن شاہ ضلع
چکوال)کے امام و خطیب مقررہوئے ،یہاں حفظ قرآن کا درس بنایااورساری زندگی تعلیم
وتعلم میں صرف فرمائی ،باواجی کی وفات کے بعد دہلی اورہند کے دیگرشہروں میں تحصیل
علم دین بھی کیا ، آپ کامیاب
مناظراورپختہ عالم دین تھے ،آپ کےشاگردکثیرہیں ،آپ قبلہ پیرمہرعلی شاہ صاحب کے
مریدتھے ،راقم نے یہ تمام معلومات آپ کے
اکلوتےبیٹے حافظ مقبول احمد اعوان صاحب(حال
مقیم راولپنڈی) سے بذریعہ فون حاصل کیں ،اللہ پاک انہیں جزاعطافرمائے۔
(65) کھجولاچوآسیدن
شاہ کا ایک مضافتی گاؤں ہے جو اس سےاڑھائی کلومیٹرکے فاصلے پرہے۔
(66) یہ تفصیلات مولانا حافظ دوست محمد اعوان صاحب کے بیٹے حافظ مقبول احمداعوان صاحب نےبذریعہ فون بتائیں۔
(67) ان مختصرحالات
حاشیہ نمبر15میں درج ہیں ۔
(68) استاذالحفاظ
مردکامل،حضرت باواجی سلوئی حافظ غلام محمد
گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت موضع عینو تحصیل و ضلع خوشاب کے حافظ میاں
محمداعوان گولڑوی کے گھر1305ھ/ 1888ء میں ہوئی اور
6محرم 1394ھ /9فروری 1974ء کو چواسیدن شاہ،ضلع چکوال میں وصال فرمایا ،تدفین رحمانیہ مسجد چواسیدن شاہ
میں ہوئی ،آپ جیدحافظ قرآن ،حسن ظاہری وباطنی سے مالامال ،مریدوخلیفہ قبلہ عالم
پیرمہرعلی شاہ،تلمیذمولانا عبدالغفورقادری تھے،آپ
نے اولاچک 70سرگودھا اورپھر سلوئی شریف میں حفظ القرآن کا مدرسہ بنایا ،زندگی بھراس مدرسے
میں تدریس فرمائی ،علاقے میں رفاعی کاموں میں بھی فعال کرداررہا مثلا گاؤں میں
ڈسپنسری،ڈاکخانہ اوراسکول آپ کی کوششوں سے
بنایاگیا،سلوئی میں آپ کی خدمات 47سال پرمحیط ہیں
،کثیرعلماومشائخ آپ کے تلامذہ ہیں ۔(مردکامل،25،57،58،31،33،تذکرہ علمائے اہل سنت ضلع چکوال، 69)ان کاتذکرہ
راقم نے بچپن سےہی اپنے والدگرامی الحاج محمدصادق چشتی مرحوم سےسناتھا،کیونکہ میرے
والد گرامی کے دوست اورپیربھائی حضرت مولانا حافظ محمدحسن چشتی صاحب (ساکن ڈھیری
،تحصیل پنڈدادنخان ضلع جہلم ) حضرت باواجی کے شاگردتھے ۔
(69) قدوۃ المشائخ
حضرت باباجی سیدطاہرحسین شاہ نقشبندی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت موضع الگوں
(ضلع فیروز پور،ہند)میں1321ھ/ 1904ء کو
سادات گھرانے میں ہوئی اور24جمادی الاخریٰ1425ھ/ 11،اگست 2004ء کو جوہرآبادضلع خوشاب میں وصال فرمایا،مزارشریف
یہیں ہے۔آپ شیرربانی میاں شیر محمد شرقپوری رحمۃ اللہ علیہ کےمرید تھے ،آپ کے ہی مدرسے میں علم دین حاصل
کیا، آپ نے تین سال پنجہ شریف میں رہ کر حفظ قرآن اورابتدائی فارسی وعربی کتب
پڑھیں ،کئی شہروں اورملکوں کی سیاحت فرمائی ،حضرت عبدالرزاق چشتی قادری آستانہ
بھوپال ہندنے خلافت عطافرمائی ، مستقل قیام ذوالحجہ 1411ھ/ جولائی 1991ء میں الاعوان ٹاؤن جوہرآبادمیں فرمایا،یہیں
مدرسہ ومسجدشیرربانی اورآستانہ کی
بنیادرکھی ،آپ ادارہ معین الاسلام بیربل شریف سرگودھا کے سرپرست بھی تھے ۔(تذکرہ فخرالسادات،25،29،30،جہاں رضا فروری مارچ2016ء،ص52)
(70) ان مختصرحالات
حاشیہ نمبر36میں درج ہیں ۔
(71) عالم باعمل حضرت مولانا حاجی غلام محمداعوان قادری رحمۃ اللہ
علیہ کی پیدائش1342ھ/ 1924ء کوموضع بِٹہ (ضلع خوشاب)کے ایک اعوان زمین دارگھرانے میں
ہوئی ،پرائمری کلاس تک پڑھنےکے بعد کاشت کاری شروع کردی،خوش قسمتی سے انہیں چودہ
سال کی عمرمیں حضرت پیر سخی سلطان اعظم قادری
سلطانی صاحب (آستانہ عالیہ قادریہ
سلطانیہ موسیٰ والی شریف ،نزدپپلاں ضلع میانوالی )سے بیعت کا شرف حاصل ہوا،یہ
نمازروزہ اورشریعت کے پابندہوگئے ،اس کے بعدجب ان کے بڑے بیٹے زمین سنبھالنے کے قابل ہوئے تو انھوں
نے تحصیل علم کے لیے سفرشروع فرمایا ، اسلامی کتب پڑھنےکے لیے باباجی علامہ عبدالغفورقادری صاحب کے پاس پنجہ
شریف میں تین سال رہے ،ان کی وفات کےبعدچھپڑشریف (وادی سون سکیسر)جاکر تعلیم مکمل
کی ، اس کےبعداپنےگاؤں میں آگئے ،مکی مسجدبنائی اوراسےآبادکیا،زمین داری کاسلسلہ بھی رہا ،99سال کی عمرمیں20جمادی الاولیٰ1441ھ/ 16جنوری 2020ء بروزجمعرات فوت ہوئے،تدفین بِٹہ قبرستان میں ہوئی ۔ ان کےدو بیٹے مولانا
حافظ محمدرمضان چشتی صاحب پاک آرمی اورمولانا محمدسلیم چشتی صاحب پاک نیوی میں
خطیب اعلیٰ ہیں یہ تمام معلومات ثانی
الذکرنےعطافرمائیں ،جس پر راقم ان کا شکرگزارہے۔
(72) ان کےمختصرحالات حاشیہ نمبر64میں درج ہیں ۔
(73) عقیدہ ختم
النبوۃ،13/507، تذکرہ خلفائے اعلی
حضرت ،366۔
(74) ماہنامہ جہان
رضا فروری ،مارچ2016ء،صفحہ 52میں لکھا ہے کہ
آپ کا وصال وسط رجب 1372ھ کو ہواجبکہ لوح
مزارپر مہینے کی صراحت تو نہیں البتہ سن 1371لکھا ہواہے۔
(75) ان اشعارکا ترجمہ محشی کتب درس نظامیہ ،
استاذالعلماعلامہ عبدالواحدعطاری مدنی
صاحب (المدینۃ العلمیہ ،اسلامک ریسرچ سینڑ
فیضان مدینہ کراچی)نے فرمایا ،اس پر راقم ان کا شکرگذارہے ۔
سفیرِ
عشق و محبت امیرِ اہلِ سنت محمد الیاس عطار قادری
تحریر:محمد عمر فیاض عطاری مدنی
اسلامک ریسرچ سینٹر ”دعوتِ اسلامی“
نسلِ انسانی کی طویل تاریخ اپنے سینے میں متعدد
ایسی شخصیات کو محفوظ کئے ہوئے ہے جن کے وجود سے عالم ِ انسانیت کو فلاح کی توفیق
حاصل ہوئی۔چرخِ اسلام پر ائمہ کرام،مفسرین، محدثین، فقہا اور صوفیا کی ایک کہکشاں منور ہے۔ ہر وجود محترم اور لائقِ تعظیم ہے۔ پندرہوں صدی ہجری
سرزمینِ بر صغیر پر ایسا ہی ایک وجود علم و عمل کی روشنیاں بکھیرتے دیکھ رہی ہے۔میری
مراد اِس صدی ہجری کی وہ پاک طینت و پاک سیرت شخصیت ہیں جنہیں دنیا شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی
حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ
الْعَالِیَہ کے
نام سے جانتی و پہچانتی ہے۔
آپ جماعتِ اہلِ سنّت کے ممتاز ترین صاحبِ علم و
بصیرت اور باقیاتِ صالحات میں سے ایک ہیں۔شیخِ کامل سنتوں کے عامل قبلہ امیرِ اہلِ
سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ زوال پذیر معاشرے اور انحطاط کی طرف اترتی ہوئی
امّتِ مسلمہ کی طرف بیداری کا پیغام بن کر
آئے۔ نظریات کا فساد،اعمال کا بگاڑ اور سیرت و کردار کا زوال روح فرسا تھا ،بے
یقینی اور بے عملی کا زہر سارے معاشرے کو متعفن کررہا تھا۔اللہ پاک کا کرم ہوا،مصطفیٰ کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم کی رحمت
ہوئی کہ خطہ پاکستان پر اس محسنِ ملّت کا ظہور ہوا۔
مختصر تعارف:آپ کا نام محمد الیاس،والد کا نام حاجی
عبدالرحمن قادری،کنیت ابو بلال،تخلص عطار اور مشہور القابات شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنت اور
بانیِ دعوتِ اسلامی ہیں جبکہ اہلِ محبت آپ کو باپا کہہ کر بھی بلاتے ہیں۔ آپ کی پیدائش 26 رمضان المبارک 1369 ہجری بمطابق 1950ء میں پاکستان کے مشہور شہر کراچی میں ہوئی۔آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ
الْعَالِیَہ دورِ شباب ہی میں علومِ دینیہ کے زیور سے
آراستہ ہوچکے تھے۔ آپ نے حصولِ علم کے ذرائع میں سے کتب بینی اورصحبت علما کو اختیار
کیا ۔اس سلسلے میں آپ نے سب سے زیادہ استفادہ مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مفتی
وقارالدین قادِری رَضَوی رحمۃ اللہ علیہ سے کیا اور مسلسل 22 سال ان کی صحبت بابرکت سے مستفیض ہوتے رہے حتی کہ انہوں
نے قبلہ امیرِاَہلِ سنّت کو اپنی خلافت واجازت سے بھی نوازا۔
علمی حیثیت:آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ذکاوتِ طبع، قوتِ اتقان اور وسعتِ مطالعہ میں اپنی مثال آپ ہیں۔ کثرتِ مطالعہ، بحث وتمحیص
اوراَکابر علمائےکرام سے تحقیق وتدقیق کی وجہ سے آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ مسائلِ
شرعیہ اورتصوّف واخلاق پر یدِ طولیٰ رکھتے ہیں، کئی سالوں سے مسلسل”مدنی مذاکرہ“ نامی
ہفتہ وار ایسی علمی نشست قائم فرماتے ہیں
جس میں شرکت کرنے والے ہر خاص و عام کو
شرعی، طبی، تاریخی اور تنظیمی معلومات کا خزانہ ہاتھ آتا ہے۔
تحریری خدمات:آپ ایک اچھے انشاپرداز اور صاحبِ اسلوب،کہنہ مشق
ادیب اور قابلِ اعتماد قلم کار ہیں۔آپ کی نثری خدمات متعدد کتب و رسائل پر مشتمل
ہیں جن میں اصلاحی موضوعات اور دینِ اسلام کے بنیادی مسائل کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ آپ کی تحریر کی خاصیت یہ
ہے کہ اس میں سلاست و روانی ، ایجاز و اختصار اور روحانی تاثیر پائی جاتی ہے۔ آپ کی تحریریں
اردو ادب کا وہ قیمتی خزانہ ہیں جن میں بیان کے جوش و زور اور شوکت وجلالت کے
نگار خانے آراستہ ہیں۔
شاعری:اللہ پاک نے آپ کو وہ زورِ قلم عطا فرمایا ہے کہ جہاں آپ کے
نثری شہہ پارے ادبی حیثیت کے حامل ہیں
وہیں آپ کی شاعری بھی آپ کی قادرالکلامی پر شاہد و عادل ہے۔حمد ہو یا
نعت، منقبت ہو یا صلاۃُ سلام،مثنویات ہوں یا شادی کا سہرہ، استغاثات ہوں، مناجات
ہوں یا رمضان کےالوداعی کلام ! ہر موضوع پر آپ نے قلم اٹھایا اور بہترین اشعار
لکھے۔ آپ کی لکھی نعتیں ”پکارو یا رسول اللہ
اور نور والا آیا ہے“ بچے بچے کو زبانی یاد ہوتی ہیں۔ہر جمعہ کو بیشتر مساجد کے اسپیکر آپ کے لکھے ہوئے صلاۃ و سلام ”تاجدارِ حرم اے شہنشاہِ دیں تم پہ ہر دم
کروڑوں درود و سلام“ اور ”زائر طیبہ روضے پہ جاکر تو سلام میرا رو رو کہ کہنا“ کی
صداؤں سے گونج رہے ہوتے ہیں۔ رمضان کا الوداعی جمعہ کیا آتا ہے گویا ہر مسجد سے آپ کے لکھےہوئے کلام ”قلبِ
عاشق ہے اب پارہ پارہ الوداع الوداع ماہ ِرمضاں“ کی آوازیں آرہی ہوتی ہیں۔آپ کا نعتیہ دیوان ”وسائلِ بخشش“
متعدد بار شائع ہوچکا ہے۔
اوصافِ حمیدہ:اللہ نے آپ کو اپنے اسلاف کا پَرتَو بنایا ہے۔ محبتِ الٰہی، عشقِ رسول،الفتِ صحابہ،علما سے پیار،مدینے
سے عقیدت، سنّت سے محبت اور ان کا احیاء، آخرت کی فکر، امّت کا درد، تبلیغِ قراٰن
و سنّت اور اصلاحِ امّت کا جذبہ، نیکیوں کی حرص، عاجزی و انکساری، صبر و استقلال، عفو
و درگزر، زہدوتقویٰ، اخلاص، حسنِ اخلاق،جود وسخا، دنیاسے بے رغبتی اور خیر خواہیِ
مسلمین آپ کے وہ اوصافِ حمیدہ ہیں جو آپ
کی طبیعت میں گویا رَچ بس چکے ہیں۔
شادی کے پُرمسرت موقع پر بہت سے لوگ غیر شرعی
معاملات میں پڑ جاتے ہیں حتیٰ کہ بعض دینی
سوجھ بوجھ رکھنے والوں کو یہ سوچ کہ ”زمانہ کیا کہے گا،شادی ایک بار ہی تو ہوتی
ہے“ غفلت میں مبتلا کردیتی ہےلیکن سنیئے اس ولیِ کامل کی شادی کے
بارے میں: آپ فرماتے ہیں میں نے اپنی شادی کا کارڈ سب سے پہلے مدینے میں رہنے والے
ایک صاحب کے ذریعے بارگاہِ رسالت صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم میں بھجوایا اور وقتِ نکاح یہ سوچ کر مجھ پر عجیب کیفیت طاری تھی کہ میں نے
بارگاہِ رسالت میں دعوت عرض کی ہے،اب دیکھئے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کب کرم فرماتے اور تشریف لاتے ہیں۔ اللہ اکبر کبیرا کیا شان ہے اس مردِ قلندر کی،سبحان اللہ۔
حق گوئی: ہر دور میں باطل نے حق کو زیر کرکے اپنا تسلط
قائم کرنے کی کوشش کی مگر حق اور اہل حق باطل اور اہلِ باطل کے مقابل سینہ سپر رہے اورہردور میں حق غالب رہا جبکہ باطل کو منہ کی کھانا پڑی۔اس دو ر میں بھی
موقع بموقع کئی بار باطل نے سر اٹھایا اور عَلمِ اسلام کو پست کرنے کی کوششیں کیں مگر امیرِ
اہلِ سنت دَامَتْ
بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے عَلمِ
حق کبھی سرنگوں نہ ہونے دیا اور اپنے شب و روز کو اہلِ سنّت کی ترویج و اشاعت اور
فاضلِ بریلوی امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے مشن کو فروغ دینے کے لئے وقف کرتے ہوئے عشق و مستی کا پیغام اس
جرأت وقوت سے دیا کہ بدعقیدگی کے
ایوانوں پر لرزہ طاری ہوگیا۔ جب اسلام
دشمن قوتوں نے بے مثل مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم کے گستاخانہ
خاکے بنائے تب اس مردِ مجاہد نے دنیا بھر
میں فیضانِ جمالِ مصطفیٰ کے نام سے مساجد بنانے کا اعلان کرکے ایسا انوکھا کارنامہ
انجام دیا کہ دشمن دانت پیستا رہ گیا ، الحمد للہ دنیا بھر میں فیضانِ جمالِ مصطفیٰ کے نام سے
کئی مساجد قائم کردی گئیں جہاں بندگانِ خداوند
اپنے رب کے حضور سجدہ ریزی کرتے ہیں۔
سنی وہی ہوتا ہے جس کے ایک ہاتھ میں اہلِ بیتِ
اطہار اور دوسرے ہاتھ میں صحابۂ کرام کا دامن ہو۔ اہلِ بیتِ اطہار نجات کی کشتی
اور صحابۂ کرام آسمان ہدایت کے روشن ستارے ہیں۔ سنی اہلِ بیت کی کشتی میں سوار ہوکر
نجومِ رسالت کی پیروی کرتے ہوئے اپنے ایمان
کو سلامت رکھتا ہے۔امیر اہلِ سنت میں بھی اہلِ
بیتِ اطہار اور صحابۂ کرام کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہے جس کی واضح مثال یہ کہ آپ
نے21 رمضان المبارک کو یومِ شہادت سیدنا مولا علیٰ المرتضیٰ شیرِ خدا کَرَّمَ اللہ تعالٰی وجہَہُ الکریم کے موقع
پر مولیٰ علی کے نام پر 2121 مساجد بنانے کا اعلان کیا،حُب علی کا
اظہار کرتے ہوئے براہِ راست مدنی مذاکرے میں آپ کا کہنا تھا کہ اگر تم میرے جسم کی
بوٹی بوٹی کردو تو وہ بھی کہے گی ”یاعلی ،یاعلی، یاعلی!“۔ یوم شہادتِ سیدہ
فاطمۃ الزہراء رضی
اللہ عنہا آیا تو آپ نے بڑی
شان و شوکت سے جلوسِ بیادِ فاطمہ رضی اللہ عنہا نکالا لیکن جب بعض لوگوں نے اصحابِ ذی
وقار بالخصوص حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی عدالت کو تقیہ اور کتمان کی چادر کی اوٹ
میں نشانہ بنانا شروع کیا تو اس مردِ مجاہد نے بھی چپ کی چادر اوڑھنا مناسب نہ سمجھا
اور فیضانِ امیرِ معاویہ کے نام سے 22سو مساجد بنانے کا اعلان کردیا جس پر سینکڑوں احباب نے مساجد بنانے کی نہ صرف نیت کی بلکہ تعمیراتی کام کا آغاز بھی
کردیا، اس اعلان سے بھی باطل کے ایوانوں میں سناٹا چھاگیا۔الغرض ہر موڑ
پر استقامت علیٰ الحق کا مظاہرہ کرتے ہوئے
عشق و محبت کے اس سفیر نے منہجِ اہلِ سنّت کے داعی ہونے کا مکمل ثبوت دیا اور احقاقِ حق کا حق ادا کردیا۔
آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ تنہا چلے تھے لیکن قوتِ عشق نے بہت جلد راستے ہموار کرلئے ،محبت کے زمزے پھوٹنے لگے، لوگوں کے دلوں میں عشقِ رسول کی قندیلیں روشن ہوتی گئیں اور ایک انقلاب برپا ہوگیا۔آج گلشنِ عطار ہرا بھرا نظر آتا ہے۔عرب ہو یا ایشیاء،افریقہ ہو یا امریکہ ،یورپ ہو یا آسٹریلیا جس سمت جائیے ہر سو عطار کا فیضان نگاہوں کی راحت کا سامان بنتا ہے۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے:
دنیا بھر میں
فضلِ رب سے چرچے ہیں عطار کے
بڑے بڑے گن گاتے
ہیں ان کے ستھرے کردار کے
نوٹ:رمضان المبارک کی 26 ویں تاریخ کو
امیر اہلِ سنت کا یومِ پیدائش ہے،اس عظیم
ہستی کے لئے دعائے عافیت و صحت کرنا مت
بھولئے گا۔
اللہ پاک پیاری دعوتِ اسلامی اور اس تحریک کے بانی، سیدی و
مرشدی و سندی شیخِ طریقت قبلہ امیرِ اَہلِ
سنّت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو حاسدین کے حسد،شریروں کی شرارت،بروں کی برائی
اوربد نظروں کی بد نظری سے بچائے اور آپ کا سایہ ہمارے سروں پر دراز فرمائے ۔اٰمین بجاہِ
طہٰ و یٰسین
Dawateislami