کتابوں کا ادب

Fri, 30 Apr , 2021
44 days ago

ادب انسان کو دنیا وآخرت میں کامیابی اوربارگاہِ الٰہی میں سرخروئی اور بلندمقام تک پہنچاتا ہے ۔ ادب ہی انسان کوممتاز بناتا ہے۔علم بہت سے طریقوں سے حاصل کیاجاسکتا ہے،ان میں ایک طریقہ مطالعۂ کتب بھی ہے۔کتاب کامطالعہ کرنے والا مصنف کی صحبت میں ہوتا ہے۔کتاب کاادب کرنے والامصنف کاادب کرنے والا ہوتا ہے،ان سے فیض پائے گا۔کتاب کے آداب میں سے چند یہ ہیں:

1:باوضو مطالعہ :

شمس الدین امام سرخسی رحمۃُ اللہِ علیہ ہمیشہ باوضو کتب کا تکرار کرتے تھے۔ایک مرتبہ پیٹ خراب ہونے کی وجہ سے 17بار وضو کرناپڑا لیکن بغیر تکرار نہ کیا ۔ ( راہِ علم،(تعلیم المتعلم طریق التعلم)،(ّبتغیر) صفحہ 33،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ،کراچی)

2:بغیر ٹیک لگائے پڑھنا :

حافظ ملت مولاناعبدالعزیز محدث مراد آبادی رحمۃُ اللہِ علیہ قیام گاہ میں ہوتے یادرس گاہ میں کبھی کوئی کتاب لیٹ کر یا ٹیک لگاکر نہ پڑھتے بلکہ تکیہ یاڈیسک پر رکھ لیتے۔ (شان حافظِ ملت،صفحہ 6،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی )

3: چلنے میں کتاب کاادب :

آپ رحمۃُ اللہِ علیہ قیام گاہ سے مدرسہ یامدرسے سے قیام گاہ کبھی کوئی کتاب لے جانی ہوتی توداہنے ہاتھ میں کے کرسینے سے لگا لیتے کسی طالب علم کودیکھتے کہ کتاب ہاتھ میں لٹکا کرچل رہا ہے تو فرماتے : "کتاب جب سینے سے لگائی جائے گی تو سینے میں اترے گی اور جب کتاب کوسینے سے دور رکھاجائے گاتو کتاب بھی سینے سے دور ہوگی۔" (ایضاً)

4:کتاب پر کوئی چیز نہ رکھی جائے:

محدثِ اعظم پاکستان مولانا سرداراحمد قادری رحمۃُ اللہِ علیہ کے شاگرد نے ایک مرتبہ بخاری شریف پرگلاب رکھا تو آپ نے فرمایا: ’’پھول اگرچہ بڑی نازک چیز ہے،بہرحال بخاری شریف سے افضل نہیں‘‘۔(فیضان محدث اعظم پاکستان،صفحہ 20،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

5:قبلہ رو مطالعہ:

دو طالب علم تعلیم کے لیے گئے،دونوں ایک درجہ میں تھے،جب علم کی تکمیل کی توایک فقیہ بن چکے تھے اور دوسرا کورے کا کوراتھا۔دونوں کے اندازِ مطالعہ اوررہن سہن کے بارے میں تحقیق کی گئی توپتہ چلاکہ جوفقیہ بن کرلوٹے وہ قبلہ رو بیٹھا کرتے۔جبکہ جو کورے کا کورا لوٹے وہ قبلہ کوپیٹھ کرکے بیٹھا کرتے تھے۔ (راہِ علم،(بتغیر)صفحہ 83،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

6: حفظِ مراتب :

کتابوں کواوپر نیچے رکھنا ہوتو ترتیب کچھ یوں ہونی چاہیے،سب سے اوپر قرآن حکیم،اس کے نیچے تفاسیر،پھر کتبِ حدیث،پھر کتبِ فقہ،پھر دیگر کتبِ صرف ونحو وغیرہ۔ (نماز کے احکام،صفحہ124،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

کتابوں کاادب بہت ضروری ہے،ہمارے اسلاف کتابوں کابہت زیادہ ادب کیاکرتے تھے۔یہاں تک کہ سادہ کاغذ کابھی ادب کیاکرتے تھے؛کیونکہ اس پرقرآن وحدیث اوردیگر اسلامی باتیں بھی لکھی جاتی ہیں۔

اللہ عزّوجلّ سے دعا ہے کہ ہمیں کتابوں کاادب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم