9 ربیع ُالآخر , 1442 ہجری

: : :
(PST)

تحریر: مولانا انصار احمد مصباحی صاحب

نُوْرُ الْاِيْضَاحِ کوآپ میں سے اکثر لوگوں نے حرفاً حرفاً پڑھا ہوگا۔ بر صغیر کے سارے مدارس نظامیہ میں داخل نصاب ہے۔ سچ پوچھیں تو فقہ حنفی میں اس سے مختصر اور جامع کتاب نہیں لکھی گئی۔ اس کے مشمولات طلبہ کو آگے کی فقہی مطولات میں روح کا کام کرتے ہیں۔ نور الایضاح کی اختصار اور جامعیت کی خوبی اسے دوسری کتابوں سے ممتاز کرتی ہے۔

کتاب کا پورا نام نُوْرُ الْاِيْضَاحِ وَ نَجَاةُ الْاَرْوَاحِ ہے۔ مصنف ہیں شیخ ابو الاخلاص حسن بن عمارشرنبلالی حنفی مصری رحمۃ اللہ علیہ (م ١٠٧٩ھ )۔ مصنف نے یہ کتاب اپنے بعض محبین کے لئے لکھی، جب ضرورت محسوس کیا کہ کئی مقامات وضاحت طلب ہیں، کہیں کہیں عبارت مبہم ہوگئی ہے، توضیح و تشریح کی ضرورت ہے، تو خود ہی اس کی مختصر شرح مَرَاقِی الْفَلَّاحِ بِاِمْدَادِ الْفَتَّاحِ کے نام سے لکھ دی۔

آج میری توجہ کی چیز کتاب ہے نہ ہی اس کی شرح بلکہ جس چیز نے مجھے اس مشہور کتاب کا تجزیہ لکھنے پر مجبور کیا، وہ اس کا حاشیہ ہے۔

دعوت اسلامی کے”مکتبۃالمدینہ“ نے، نُوْرُ الْاِيْضَاحِ اور مَرَاقِی الْفَلَّاحِ کو النورُ و الضياءُ من افاداتِ الامام احمد رضا نام کے حاشیے کے ساتھ شائع کیا ہے۔ نام سے آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ حاشیے شیخ الاسلام حضور اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمة اللہ علیہ کے افادات پر مشتمل ہیں،لیکن آپ کو کہیں پر بھی افادات کا گمان نہیں ہوگا، بلکہ مستقل اور مکمل حاشیہ ہی لگتا ہے۔ یہ یقیناً دعوت اسلامی کی مجلس المدینۃ العلمیہ کے علما کی محنت شاقہ کا نتیجہ ہے۔ جَدُّ الْمُمْتَار کے بعد رضویات میں دعوت اسلامی کا یہ نمایاں کام کہا جا سکتا ہے۔

ترتیب یہ ہے کہ صفحے میں پہلے نور الایضاح کی عبارت ہے، نیچے مراقی کی شرح اور پھر امام احمد رضا بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے افادات۔ افادات عام فہم اور سلیس عبارتوں میں لکھے گئے ہیں، جن کا سر چشمہ فتاوی رضویہ شریف ، جَدُّ الْمُمْتَار اور حضرت امام کی دوسری کتب فقہ پر لکھی گئیں حواشی و تعلیقات ہیں۔ امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی عادت کریمہ تھی، دوران مطالعہ کتابوں میں حاشیہ بھی لکھ دیا کرتے۔ ماہر رضویات پروفیسر مسعود احمد مجددی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، ”راقم کے کتب خانے میں صرف علم حدیث کے متعلق امام احمد رضا علیہ الرحمہ کے ٢١ مخطوطات موجود ہیں“۔ (جامع الاحادیث، مقدمہ ، ٦٥) حضرت امام نے فقہ میں تین سو کے قریب کتابیں تصنیف فرمائیں، فقہ حنفی کی ہدایہ، کتاب الخراج، فتح القدیر، بدائع و الصنائع، فواتح الرحموت، الجوہرہ، البحر الرائق، مجمع الانہر، فتاوی ہندیہ، فتاوی حدیثیہ، فتاوی خیریہ وغیرہ ٣٥ کتابوں پر حواشی و تعلیقات ہیں۔

زیر نظر حاشیہ آپ کے گراں قدر افادات پر مشتمل ہے۔ ملک العلماء رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتےتھے، ”اعلی حضرت کے افادات بھی افادات ہوتے ہیں“۔ (مقدمہ صیح البہاری)

نور الایضاح ویسے تو میں آج مسلسل آٹھ سالوں سے پڑھا رہا ہوں، لیکن جو لطف مندرجہ شرح اور امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کے افادات کے ساتھ پڑھنے میں آیا، اس کی چاشنی میرا ذوق مطالعہ کبھی فراموش نہیں کر پائیگا۔ اس دور میں کتابوں کی عمدہ اور معیاری اشاعت ہی کمال ہے، فقہ کی کسی کتاب کو فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کے افادات کے ساتھ شائع کرنا سونے پہ سہاگا ہے۔ نور الایضاح کے مصنف کے حالات بہت مختصر ہے، اس کمی کے علاوہ ساری باتیں قابل تعریف ہیں۔

کتاب نُوْرُ الْاِيْضَاحِ مع مَرَاقِی الْفَلَّاحِ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے:

https://arabicdawateislami.net/bookslibrary/1043/