بخل نہایت ہی قبیح اور بری بیماری ہے، ہم سب کو اس بری صفت سے بچنا چاہئے، بخل کا سبب مال کی محبت ہے، یہ بہت پرانا مرض ہے، ہم اللہ عزوجل سے ایسے قبیح فعل سے پناہ مانگتے ہیں۔

بخل کے لغوی معنیٰ کنجوسی کے ہیں اور جہاں خرچ کرنا شرعاً، عادتاًیا مروتاً لازم ہو،ہاں خرچ نہ کرنا بخل کہلاتا ہے یا جس جگہ مال و اسباب میں خرچ کرنا ضروری ہو، وہاں خرچ نہ کرنا یہ بھی بخل ہے۔

قرآن پاک: اللہ عزوجل قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ترجمہ:اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچایا گیا تو وہی کامیاب ہیں۔(پارہ 28، سورہ حشر، آیت9) ترجمہ:اور جو بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی، ہرگز اسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھیں، بلکہ وہ ان کے لئے برا ہے، عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا کہ قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہے۔(پارہ 4، سورہ آل عمران، آیت نمبر 180)

صدر الافاضل حضرت علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ خزائن العرفان میں اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں:بخل کے معنیٰ میں اکثر علماء اس طرف گئے ہیں کہ واجب ادا نہ کرنا بخل ہے، اس لئے بخل پر شدید وعیدیں آئی ہیں، اس آیت میں بھی بخل کی مذمت پر ایک وعید آئی ہے۔

احادیث مبارکہ:بہت سی احادیث مبارکہ میں بھی بخل کی مذمت بیان ہوئی ہے۔

1۔حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:بخل سے بچو، کیونکہ اسی نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا، ان کو ایک دوسرے کا خون بہانے اور حرام چیزوں کو حلال ٹھہرانے پر آمادہ کیا۔(مسلم شریف، ص1129، الحدیث2578)

2۔ایک اور جگہ آقا صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:الولد مبخلۃ مجبنۃ مجھلۃاولاد بخل، بزدلی اور جہالت میں مبتلا کرنے والی ہے۔(سنن ابن ماجہ شریف،ص2696، حدیث3666)

3۔حدیث پاک میں ایک جگہ ارشاد فرمایا گیا ہے:کہ جس کو اللہ نے مال دیا اور اس نے زکوۃ ادا نہ کی، تو روزِ قیامت وہ مال سانپ بن کر اس کو طوق کی طرح لپٹے گا اور یہ کہہ کر ڈستا جائے گا کہ میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔(بخاری شریف)

4۔حضور پاک نے ارشاد فرمایا:بخل اور بدخلقی یہ دو خصلتیں ایماندار میں جمع نہیں ہوتیں۔ (ترمذی شریف)

5۔سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:لالچ سے بچتے رہو کیونکہ تم سے پہلی قومیں لالچ کی وجہ سے ہلاک ہوئیں، لالچ نے انہیں بخل پر آمادہ کیا تو وہ بخل کرنے لگے اور جب قطع رحمی کا خیال دلایا تو انہوں نے قطع رحمی کی اور جب گناہ کا حکم دیا تو وہ گناہ میں پڑ گئے۔(ابو داؤد، ص 185، ح 1698)

بخل بسا اوقات کئی گناہوں کا سبب بھی بن جاتا ہے، اس لئے ہر مسلمان کو اس سے بچنا لازم ہے، بخل کا علاج یہی ہے کہ وہ اپنی خواہشات اور امید کو کم کرے، کثرت سے موت کو یاد کرے، نیز ہم عصر لوگوں کی موت میں غوروفکر کرے، قبروں کی زیارت اور اس میں جو کیڑے مکوڑے ہیں، اس کی طرف غور و فکر کرے۔

اللہ عزوجل ہمیں اس بری صفت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

بخل سے بچنے کے لئے امیر اہلسنت کا رسالہبخل کی مذمت کا مطالعہ فرمائیے۔


تعریف:بخل کے لغوی معنیٰ کنجوسی کے ہیں اور جہاں خرچ کرنا شرعاً ،عادتا یا مروتاً لازم ہو وہاں خرچ نہ کرنا بخل کہلاتا ہے۔

آیت مبارکہ:

وَ لَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَيْرًا لَّهُمْ١ؕ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ١ؕ سَيُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ١ؕ وَ لِلّٰهِ مِيْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ (پارہ 4 ،سورۃ آل عمران، آیت 180) ترجمہ:اور جو بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی، ہرگز اسے لئےاچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لئے برا ہے، عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہو گا اور اللہ ہی وارث ہے آسمانوں اور زمین کا اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔

احادیث مبارکہ:

1۔حضرت سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللّہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:لالچ سے بچتے رہو کیونکہ تم سے پہلے لوگ وہ بخل کرنے لگے اور جب قطع رحمی کا خیال دلایا تو انہوں نے قطع رحمی کی اور جب گناہ کا حکم دیا تو وہ گناہ میں پڑ گئے۔(ابو داؤد، کتاب زکوٰۃ،ج 2، حصہ 185، ح 1698)

2۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:آدمی کی دو عادتیں بری ہیں،بخیلی جو رولانے والی ہے، بزدلی جو ذلیل کرنے والی ہے۔(ابو داؤد، کتاب جہاد، باب فی الجراۃ الجبن 18/3 ،ح 2511)

3۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:مالدار بخل کی کرنے کی وجہ سے بلا حساب جہنم میں داخل ہوں گے۔(فردوس الاخبار، باب السنن، ج 1،ص444،ح 3309)

4۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:کوئی بخیل جنت میں نہیں جائے گا۔(معجم الاوسط، باب العین من اسمہ علی ، ج 3 ، ص 125 ، ح 4066)

5۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:بخیل اللہ سے دور ہے، جنت سے اور آدمیوں سے دور، جبکہ جہنم کے قریب ہے۔(جامع ترمذی، کتاب البر و الصلۃ ، ج 3، ص 387، ح 1968)

خلاصہ:بخل ایک نہایت ہی قبیح اور مذموم فعل ہے،بخل کا پہلا سبب تنگ دستی کا خوف ہے،بخل کا دوسرا سبب مال سے محبت ہے، بخل کا تیسرا سبب نفسانی خواہشات کا غلبہ ہے، بخل کا چوتھا سبب بچوں کے روشن مستقبل کی خواہش ہے، بخل کا پانچواں سبب آخرت کے معاملے میں غفلت ہے، بخل کرنے والا انسانوں سے دور ہو جاتا ہے اور لوگ بھی اس سے دور رہنا پسند کرتے ہیں۔

اپنے دل کو سیدھا کر لے

تیرے معاملات بھی سیدھے ہو جائیں گے

بخیل شخص کسی کو پسند نہیں ہوتا اور بخل دل سے شروع ہوتا ہے، دل میں بخل کا خیال آتا ہے اور انسان بخیل بن جاتا ہے ۔


عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام گزشتہ روز پاکستان کے شہر گوجرانوالہ میں موجود مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتما ع کا انعقاد کیا گیا۔

مبلغِ دعوتِ اسلامی نے ابتداءً قراٰنِ پاک کی تلاوت اور نعتِ رسول مقبول ﷺ پڑھی جبکہ مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی یعفور رضا عطاری نے سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئے شرکائے اجتماع کی تربیت کی۔

اس کے علاوہ رکن شوریٰ نے دورانِ بیان اسلامی بھائیوں کو دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں میں شرکت کرنے کی ترغیب دلائی جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔

واضح رہے اس اجتماعِ پاک میں گوجرانوالہ کے کثیر عاشقانِ رسول سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اسلامی بھائیوں نے شرکت کی جن کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ (رپورٹ:محمد ابوبکر عطاری معاون رکن شوری حاجی یعفور رضا عطاری، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

دنیا کے فتنے بہت کثیر ہیں اور نہایت وسیع اور فراخ ہیں، ان فتنوں میں سب سے بڑا فتنہ مال کا ہے، جو زیادہ آزمائش کا باعث ہے، کیونکہ جس کے پاس مال ہو، وہ بھی آزمائش کا شکار ہوتا ہے، کیوں کہ اگر اس کا غلط استعمال کرے گا اور جہاں خرچ  کرنا ضروری ہو، وہاں خرچ نہ کیا جائے تو بخل جیسی بیماریوں میں مبتلا ہو جائیں اور کم مال ہو تو پھر بھی آزمائش کا شکار ہوتا ہے کہ کیسے گزارا ہو؟ اس لئے مال بہت بڑا فتنہ و فساد ہے۔

بخل کی تعریف:

بخل کی تعریف یہ ہے کہ جہاں شرعاً یا عرف اور عادت کے اعتبار سے خرچ کرنا واجب ہو، وہاں خرچ نہ کرنا بخل ہے، زکوة، صدقہ، فطر و غیرہ میں خرچ کرنا شرعاً واجب ہے اور دوست احباب، اور عزیز رشتہ داروں پر خرچ کرنا اور عرف و عادت کے اعتبار سے واجب ہے۔

بخل کی مذمت: قرآن مجید اور کثیر احادیث میں بخل کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے، چنانچہ حدیث مبارکہ میں ہے۔

1۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:کوئی بخیل جنت میں نہیں جائے گا۔(معجم الاوسط، باب العین، الحدیث 3044)

شرح:اس حدیث مبارکہ میں واضح طور پر فرمایا گیا ہے کہ بخیل یعنی جو کنجوس ہو، وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا، اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی گندی بیماری سے دور فرمائے۔

2۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:آدمی کی دو عادتیں بری ہیں،1بخیلی، جو رلانے والی ہے،2بزدلی، جو ذلیل کرنے والی ہے۔( ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب فی الجراة والجبن 18/3،الحدیث 2011)

شرح: اس حدیث مبارکہ میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی کی بری باتوں کی وضاحت کی تو دونوں کا تعلق مال سے ہی ہے، کیونکہ مال سے محبت کرنے والا ہی انسان بخیل ہوتا ہے اور اگر دوسرے معنوں میں دیکھا جائے تو راہِ خدا میں یا جس جگہ خرچ کرنا ضروری ہو، وہاں وہی خرچ نہیں کرتا جو بزدل ہوتا ہے، جس کا دل چھوٹا ہوتا ہے۔

3۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مالدار بخل کرنے کی وجہ سے بلا حساب جہنم میں داخل ہوں گے۔

شرح: سنا آپ نے! مال زیادہ ہونا بھی ایک آزمائش ہے، اگر ہم اس کا درست استعمال نہ کریں، کیسے واضح طور پر فرما دیا گیا کہ بخل کرنے والا بغیر حساب دیئے ہی جہنم میں داخل ہوگا۔(فردوس الاخبار، باب ایسن، ح3309)

4۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بخیل اللہ سے دور ہے، جنت سے اور آدمیوں سے دور ہے، جبکہ جہنم سے قریب ہے۔

شرح: اس حدیث پاک میں بھی واضح طور پر بتادیا گیا کہ بخیل انسان جنت سے دور ہوگا، نہ صرف جنت بلکہ وہ انسان تو اللہ تعالیٰ سے بھی دور ہو گا، ایسے انسان کا کیا حشر ہوگا، جس سے اس کا ربّ ہی دور ہو۔(ترمذی شریف، کتاب البر والصلۃ، الحدیث1948)

5۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور اس نے زکوة ادا نہ کی، روزِ قیامت وہ مال سانپ بن کر اس کو طوق کی طرح لپٹے گا اور یہ کہہ کر ڈستا جائے گا کہ میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔(بخاری، کتاب الزکوۃ، باب اثم مانع الزکاۃ474/1، الحدیث 1403)

شرح: اس حدیث مبارکہ میں بھی واضح طور پر بتایا گیا کہ مال کی زکوۃ ادا نہ کرنے سے کتنا دردناک عذاب ہوگا، مال کی زکوۃ ادا نہ کرنے کی وجہ بخل ہی ہے، جس انسان کو اپنے مال سے محبت ہوگی، وہی ایسے کرے گا، خدارا! ہوش کے ناخن لیں، چند پیسوں کے لئے کیوں اپنی آخرت خراب کر رہے ہیں، اگر یوں عذاب میں مبتلا ہو گئے تو تصور کریں، کیا بنے گا ہمارا؟ اس لئے توبہ کریں اور اگر پچھلے سالوں کی زکوۃ رہتی ہے تو سچے دل سے نیت کریں کہ وہ ضرور ادا کریں گے، ہمیں مال سے اس قدر محبت ہوگی کہ اگر کوئی ہمیں راہِ خدا میں خرچ کرنے کی ترغیب دلائے تو ہمارے دل پر بات اثر ہی نہیں کرتی۔

محترم قارئین! اگر اس مال کی محبت کی وجہ سے ہمیں بھی عذاب ملا تو ہمارا کیا بنے گا، یہاں تو تھوڑی سی گرمی برداشت نہیں ہوتی، اگر ہمیں جہنم میں ڈال دیا تو ہمارا کیا بنے گا؟ اپنے دل میں خوفِ خدا کو پیدا کریں، چند پیسوں کو ہم راہِ خدا میں خرچ نہیں کر پاتی، کبھی تصور کریں کہ وہ صحابہ کرام جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں سارے گھر کا سامان لے آئے تھے، اگر انہوں نے ہم سے پوچھ لیا، کیا آپ کو یعنی حضور کی امتی کو اپنے پیارے آقا، مولا صلی اللہ علیہ وسلم سے اتنی بھی محبت نہیں، جو اپنا مال راہِ خدا میں خرچ کر سکیں؟

اس لئے راہِ خدا میں خرچ کرنے کے فوائد کا مطالعہ کریں، تاکہ آپ کے ذہن میں کچھ مثبت سوچ پیدا ہو سکے، اس کے علاوہ اگر آپ موت کو بکثرت یاد کریں، تب بھی آپ کے دل سے مال کی محبت کم ہو سکتی ہے، یہ مال و دولت، یہ رشتہ داریاں، یہ ماں باپ، سب کچھ ہم نے یہاں پر ہی چھوڑ کر جانا ہے، قبر میں اگر کسی نے کام آنا ہے تو وہ ہیں ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم۔

اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے اور راہِ خدا میں خرچ کرنے کا جذبہ عطا فرمائے۔آمین


بخل کے معنیٰ :بخل کےلغوی معنیٰ کنجوسی کے ہیں، جہاں خرچ کرنا شرعاً، عادتاً یا مروتاً خرچ کرنا لازم ہو، وہاں خرچ نہ کرنا بخل کہلاتا ہے، جس جگہ مال اور اسباب خرچ کرنا ضروری ہو، وہاں خرچ نہ کرنا بھی بخل ہے۔

بخل ایک ایسا مذموم وصف ہے، جس کا تعلق انسان کے ظاہر و باطن دونوں سے جڑا ہوا ہے، جو بخیل ہوتا ہے، اس کا دشمن اس کے مال کا وارث بن جاتا ہے، بخیل کی غیبت، غیبت نہیں، بخیل کو دیکھنے سے دل سخت ہوتا ہے، بخیل اگرچہ نیک ہو، لوگوں کو اس سے نفرت و عداوت ہی ہوتی ہے، شیطان کو مؤمن بخیل لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہے، آئیے بخل کی مذمت پر 5 فرامینِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ملاحظہ ہوں۔

1۔ تین قسم کے لوگ ربّ تعالی کو ناپسند: اللہ تعالیٰ تین قسم کے لوگوں کو ناپسند فرماتا ہے، 1 ایک بوڑھا زانی، 2 احسان جتلانے والا بخیل، 3 متکبر فقیر۔(احیاء العلوم، جلد 3، صفحہ 760)

2۔گلے کا پھندا: مال خرچ کرنے والے اور بخیل کی مثال دو آدمیوں کی طرح ہے، جنہوں نے پورے سینے پر زرہ پہن رکھی ہے، مال خرچ کرنے والا جس قدر مال خرچ کرتا ہے، اسی قدر زرہ کشادہ ہوتی چلی جاتی ہے، حتیٰ کہ وہ اس کی انگلی کے پوروں کو بھی چھپا لیتی ہے اور بخیل جب مال خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ بلند ہوتی اور ہر گرہ اپنی جگہ تنگ ہوتی چلی جاتی ہے، یہاں تک کہ اس کے گلے کو بھی جکڑ لیتی ہے، وہ اسے ڈھیلا کرنا چاہتا ہے، لیکن وہ ڈھیلی نہیں ہوتی۔(احیاء العلوم،ج3،ص 760، حدیث نمبر 6)

3۔سخاوت کی ترغیب و بخل کی مذمت: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں سخیوں کے داتا،بے کسوں کے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:سخاوت اللہ پاک کے جود و کرم سے ہے، تم سخاوت کرو گے، اللہ پاک تم پر جود و کرم فرمائے، سنو اللہ پاک نے سخاوت کو پیدا فرمایا، پھر اسے ایک مرد کی شکل دی اور اس کی جڑ کو طوبی درخت کی جڑ میں راسخ کیا اور طوبی درخت کی ٹہنیوں کو سدرۃ المنتہی کی ٹہنیوں سے باندھ دیا اور پھر اس کی بعض شاخوں کو دنیا کی طرف جھکا دیا، تو جو آدمی اس کی کسی ٹہنی کو پکڑ لیتا ہے، اللہ عزوجل اسے جنت میں داخل فرما دیتا ہے، سنو! بے شک سخاوت ایمان سے ہے اور اہلِ ایمان جنت سے ہیں۔اور اللہ عزوجل نے بخل کو اپنے غضب سے پیدا کیا اور اس کی جڑ کو تھوہڑ کے درخت کی جڑ میں راسخ کیا اور اس کی بعض شاخوں کو زمین کی طرف جھکا دیا، تو جو شخص اسکی ٹہنی کو پکڑ لیتا ہے، اللہ اسے جہنم میں داخل فرما دیتاہے، سنو! بخل کفر (یعنی ناشکری) ہے اور ناشکری جہنم میں لے جانے والی ہے۔(احیاء العلوم ،جلد 3،ص763، ح15)

4۔ لالچ سے بڑھ کر بھی کوئی ظلم ہے؟ تم کہتے ہو لالچی کا عذر ظالم سے زیادہ قابلِ قبول ہے، لیکن اللہ عزوجل کے نزدیک لالچ سے بڑھ کر بھی کوئی ظالم ہے؟ اللہ عزوجل نے فرمایا:مجھے اپنے عزت، عظمت اور جلال کی قسم! لالچی اور بخیل جنت میں داخل نہیں ہوگا۔(احیاء العلوم، جلد 3، صفحہ 764، حدیث نمبر 24)

5۔جاہل سخی/عابد بخیل: جاہل سخی اللہ عزوجل کو عبادت گزار بخیل سے زیادہ محبوب ہے۔(احیاء العلوم، جلد 3، صفحہ 764، حدیث 20)


تمہید:بخل کے بارے میں بہت سی قرآنی آیات اور حدیث مبارکہ اور اس سے نجات پانے کا ذریعہ اور علاج بھی ذکر ہوں گے،سب سے پہلے بخل کی تعریف بیان کی جائے گی۔

بخل کی تعریف:حضرت سیدنا امام غزالی علیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک قوم نے بخل کی تعریف، واجب کی عدم ادائیگی سے کی ہے، لہذا ان کے نزدیک جو شخص خود پر واجب حقوق ادا کرے، وہ بخیل نہ کہلائے گا۔

دیگر علمائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:کہ بخیل وہ شخص ہے، جس پر ہر قسم کا عطیہ دینا گراں گزرتا ہے، مگر یہ بات قاصر ہے، کیونکہ اگر بخل سے ہر عطیہ کا گراں گزرنا مراد لے لیا جائے تو اس پر یہ اعتراض ہوگا کہ بہت بخیلوں پر رَتی بھر یا اس سے زیادہ عطیہ دینا گراں نہیں گزرتا تو یہ بات بخل میں رخنہ نہیں ڈالتی، اب بخل کے بارے میں قرآن کریم سے روشنی ڈالی جاتی ہے کہ:

القرآن:

قال اللہ تعالی: وَ لَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا۲۹ترجمہ کنزالایمان:اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ پورا کھول دے کہ تو بیٹھ رہے، ملامت کیا ہوا تھکا ہوا۔

الاحادیث:

1۔قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:کسی مؤمن بندے کے دل میں لالچ اور ایمان کبھی نہیں جمع ہو سکتے۔(الکامل فی ضعفا الرجل، عبدالغفور بن عبدالعزیز ابو الصباح الواسطی۔ ج2،ص21،ح1481)

2۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:اللہ نے ملامت کو پیدا فرمایا تو اسے بخل اور مال سے ڈھانپ دیا۔(المرجع السابق، ج3، ص183، ح7407)

3۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:بخل کے پندرہ حصے ہیں، ان میں سے نو حصے فارس (یعنی ایر ان) میں، جبکہ ایک حصہ دیگر لوگوں میں سے ہے۔(جامع الاحادیث للسیوطی، حرف الباء، ج4، س52، ح10119)

بخل سے نجات پانے کے بارے میں احادیث مبارکہ، الاحادیث:

4۔قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:جس نے زکوۃ ادا کی اور مہمان کی ضیافت کی اور ناگہانی آفت میں عطیہ دیا، وہ بخل سے آزاد ہے۔

5۔قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:لالچ سے بچتے رہو، کیونکہ بخل نے جب ایک قوم کو اکسایا تو انہوں نے اپنی زکوۃ روک لی اور جب مزید اکسایا تو انہوں نے رشتہ داریاں توڑ ڈالیں اور جب مزید اکسایا تو وہ خون ریزی کرنے لگے۔

خلاصہ کلام: اس پورے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو زیادہ کنجوسی اور لالچ سے بچنا چاہئے، بخل انسان کو ناکارہ وکمزور بنا دیتا ہے، ایسا انسان لالچی اور لاچار ہوجاتا ہے، اس کو اپنے اچھے برے کی تمیز نہیں رہتی، حدیث پاک میں بھی اس کے بارے میں مذمت ذکر کی گئی ہے، قرآن پاک میں بھی اس کے بارے میں ذکر بیان کیا گیا ہے۔

دعائے خیر:یااللہ عزوجل میری اس کاوش کو قبول فرما اور اسے میرے لئے، میرے والدین اور اساتذہ کرام کے لئے صدقہ جاریہ بنا۔آمین


بخل ایک نہایت ہی قبیح اور مذموم فعل ہے، نیز بخل بسا اوقات دیگر کئی گناہوں کا بھی سبب بن جاتا ہے، اس لئے ہر مسلمان کو اس سے بچنا لازم ہے۔

بخل کی تعریف:کنجوسی کے ہیں اور جہاں خرچ کرنا شرعاً، عادتاً اور مروتاً لازم ہو، وہاں خرچ نہ کرنا بخل کہلاتا ہے یا جس جگہ مال و اسباب خرچ کرنا ضروری ہو، وہاں خرچ نہ کرنا یہ بھی بخل کہلاتا ہے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات، صفحہ 128)

بخل کی تعریف یہ ہے کہ جہاں شرعاً یا عرف و عادت کے اعتبار سے خرچ کرنا واجب ہو، وہاں خرچ نہ کرنا بخل ہے، زکوۃ، صدقہ فطر وغیرہ میں خرچ کرنا شرعاً واجب ہے، اور دوست احباب، عزیز رشتہ داروں پر خرچ کرنا عرف وعادت کے اعتبار سے واجب ہے۔(احیاء العلوم الدین، کتاب ذم البخل وذم حب المال و بیان حدالسخاء و البخل وحقیقتھما3/320، ملخصاً)

بخل کی مذمت پر احادیث مبارکہ:

1۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:آدمی کی دو عادتیں بری ہیں،بخیلی جو رولانے والی ہے، بزدلی جو ذلیل کرنے والی ہے۔(ابو داؤد، کتاب جہاد، باب فی الجراۃ الجبن 18/3 ،ح 2511)

2۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:مالدار بخل کی کرنے کی وجہ سے بلا حساب جہنم میں داخل ہوں گے۔(فردوس الاخبار، باب السنن، ج 1،ص444،ح 3309)

3۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:بخیل اللہ سے دور ہے، جنت سے اور آدمیوں سے دور، جبکہ جہنم کے قریب ہے۔(جامع ترمذی، کتاب البر و الصلۃ ، ج 3، ص 387، ح 1968)

4۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:کوئی بخیل جنت میں نہیں جائے گا۔(معجم الاوسط، باب العین من اسمہ علی ، ج 3 ، ص 125 ، ح 4066)

5۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:بخل جہنم میں ایک درخت ہے، جو بخیل ہے اس نے اس کی ٹہنی پکڑ لی ہے، وہ ٹہنی اُسے جہنم میں داخل کئے بغیر نہ چھوڑے گی۔(شعب الایمان، الرابع والسبعون من شعب الایمان 7/435، الحدیث10877)

بخل کے اسباب اور ان کا علاج: بخل کے 5 اسباب اور ان کا علاج درج ذیل ہے:

٭بخل کا پہلا سبب تنگدستی کا خوف ہے، اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اس بات کو ہمیشہ ذہن میں رکھے کہ راہ خدا میں مال خرچ کرنے سے کمی نہیں آتی، بلکہ اضافہ ہوتا ہے۔

٭بخل کا دوسرا سبب مال سے محبت ہے، اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ قبر کی تنہائی کو یاد کرے کہ میرا یہ مال قبر میں میرے کسی کام نہ آئے گا، بلکہ میرے مرنے کے بعد ورثاء اسے بے دردی سے تصرف میں لائیں گے۔

٭بخل کا تیسرا سبب نفسانی خواہشات کا غلبہ ہے، اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ خواہشاتِ نفسانی کے نقصانات اور اس کے اخروی انجام کا بار بار مطالعہ کرے۔

٭بخل کا چوتھا سبب بچوں کے روشن مستقبل کی خواہش ہے اس کا علاج یہ ہے کہ اللہ عزوجل پر بھروسہ رکھنے میں اپنے اعتقاد و یقین کو مزید پختہ کرے کہ جس ربّ ذوالجلال نے میرا مستقبل بہتر بنایا ہے، وہی ربّ عزوجل میرے بچوں کے مستقبل کو بھی بہتر بنانے پر قادر ہے۔

٭بخل کا پانچواں سبب آخرت کے معاملے میں غفلت ہے، اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اس بات پر غور کریں کہ مرنے کے بعد جو مال و دولت میں نے راہِ خدا میں خرچ کی، وہ مجھے نفع دے سکتی ہے، لہذا اس فانی مال سے نفع اٹھانے کے لئے اسے نیکی کے کاموں میں خرچ کرنا ہی عقلمندی ہے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات، صفحہ 131، 132)

بخل سے بچنے کا درس: بخل کا علاج یوں بھی ممکن ہے کہ بخل کے اسباب پر غور کرکے انہیں دور کرنے کی کوشش کرے، جیسے بخل کا بہت بڑا سبب مال کی محبت ہے، مال سے محبت، نفسانی خواہش اور لمبی عمر تک زندہ رہنے کی امید کی وجہ سے ہوتی ہے، اس قناعت اور صبر کے ذریعے اور بکثرت موت کی یاد اور دنیا سے جانے والوں کے حالات پر غور کرکے دور کرے۔

یونہی بخل کی مذمت اور سخاوت کی فضیلت اور حبِ مال کی آفات پر مشتمل احادیث و روایات اور حکایات کا مطالعہ کر کے غوروفکر کرنا بھی اس مہلک مرض سے نجات حاصل کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوگا۔(کیمیائےسعادت، رکن سوم، اصل ششم، علاج بخل2/450،451، ملخصاً)


خوفِ خدا بھی رب عَزَّوَجَلَّ کی جانب سے بندوں کو عطا کی جانے والی بہت بڑی نعمت ہے، جس بندے کے اندر خوفِ خدا ہوتا ہے وہ شخص اللہ پاک کی نافرمانی سے ہر دم بچتا رہتا ہے اور اپنی زندگی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں گزارتا ہے۔ اس کے علاوہ اللہ پاک اپنے ان بندوں کو بہت زیادہ پسند کرتا ہے جو اس کے خوف سے آنسو بہائیں۔

شیخ طریقت، امیر اہلسنت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ بھی اپنے مریدین اور محبین کو ہر وقت خوف خدا کی ترغیب دلاتے رہتے ہیں۔ اسی سلسلے میں امیر اہلسنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نےعاشقان رسول کو اس ہفتے 21 صفحات کا رسالہ خوف خدا میں رونے کی فضیلت پڑھنے/ سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے/سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے بھی نوازا ہے۔

دعائے عطار

یارب المصطفٰے! جو کوئی 21 صفحات کا رسالہ خوف خدا میں رونے کی فضیلتپڑھ یا سن لے، اُس کو اپنے خوف سے اخلاص کے ساتھ رونے کی توفیق عطا فرما اور اُسے بے حساب بخش دے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتمِ النّبیِّین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

یہ رسالہ دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ سے ابھی مفت ڈاؤن لوڈ کیجئے

Download

رسالہ آڈیو میں سننے کے لئے کلک کریں

Audio Book


دعوت اسلامی کے شعبہ FRGFسیلاب زدگان کی امداد کرنے کے لئے سر توڑ کوششیں کررہی ہے اور متاثرین کی امداد ان مقامات پر بھی کی جارہی ہے جہاں زمینی راستے سے جانا ناممکن ہوگیاہے۔ ایسے مقامات پر امدادی سامان کو بحفاظت پہنچانے کے لئے پاک آرمی، پاک بحریہ اور پاک فضائیہ بھی FRGF کی مدد کررہی ہے۔ان کی مدد سے متاثرہ مقامات پر پکے ہوئے کھانے، خشک راشن اور نقد رقم ہیلی کاپٹر، کشتی اور جہازوں کے ذریعے پہنچایا جارہا ہے ۔ 3 ستمبر 2022ء کو پاک فضائیہ کے تعاون سے C-130جہاز سامان سے لوڈ ہوکر PAFکراچی Air base سے جیکب آباد Air base پہنچا جہاں سے پھر سندھ اور بلوچستان کے متاثرین میں تقسیم کیا گیا۔

امدادی کاموں کا جائزہ لینے کے لئے 6 ستمبر 2022ء کو رکن شوریٰ حاجی مولانا عبد الحبیب عطاری ، نگران شعبہ FRGF شفاعت عطاری کے ہمراہ PAFکراچی Air base پہنچے جہاں سے انہوں نے امدادی سامان سے بھرا C-130کا تیسرا جہاز لے کر جیک آباد Air base کی جانب روانہ ہوئے۔

رکن شوریٰ حاجی مولانا عبد الحبیب عطاری نے راستے میں اپنا ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سامان کو اپنی گاڑیوں کے ذریعے پہنچانے میں کافی پریشانی در پیش آرہی ہے مثلاً کچھ شرپسند عناصر روڈ پر بیٹھ کر ٹرکوں کو لوٹ رہے ہیں۔اس وجہ سے FGRFنے پاکستانی فورسز سے رابطہ کیا تاکہ سامان کو بحفاظت متاثرہ مقام تک پہنچایا جاسکے۔اب ہمارا سامان فورسز کے ٹرکوں میں یا جہازوں میں جائیگا تاکہ امدادی سامان ضرورت مندوں تک پہنچ سکے اور ڈونیشن کی رقم کو درست جگہ استعمال کیا جائے۔

رکن شوریٰ نے مزید کہا کہ ہم نے پاک فضائیہ سے درخواست بھی ہے کہ ائیر فورس روزانہ کی بنیاد پر C-130 ایک جہاز ہمیں فراہم کرے تاکہ ہم ضرورت مندوں کی بآسانی مدد کرسکیں۔

اسی طرح 7ستمبر 2022ء کودعوت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے نگران حاجی مولانا محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے بھی رکن شوریٰ حاجی مولانا عبد الحبیب عطاری کے ہمراہ PAFکراچی Air base کا دورہ کیا اور وہاں ہونے والے امدادی کاموں کا جائزہ لیا۔نگران شوریٰ نے امدادی کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے ائیر فورسز کے جوانوں اور Volunteerاسلامی بھائیوں سےملاقات کی اور ہمدری کا اظہار کیا۔

نگران شوریٰ نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امدادی کاموں میں کسی بھی طرح تعاون کرنے والے عاشقان رسول کے لئے دعائیں کیں۔

واضح رہے کہ 7 ستمبر 2022ء کوC-130 کا چوتھا جہازسامان لے کر PAFکراچی Air base سے جیکب آباد Air baseپہنچ چکا ہے۔


ایمان لغت میں تصدیق کرنے یعنی سچا ماننے کو کہتے ہیں اور اصطلاح شرع میں ایمان کے معنی یہ ہیں کہ سچے دل سے ان سب باتوں کی تصدیق کرے جو ضروریاتِ دین میں سے ہیں۔ (فرض علوم سیکھئے ص ١٣٧) ایمان والوں کو قرآنِ کریم میں بہت سی بشارتیں دی گئی ہیں جن میں سے 10 بشارتیں درج ذیل ہیں۔

1_ وَ بَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؔؕ (پارہ ١١ یونس ٢)

ترجمۂ کنز العرفان: ایمان والوں کو خوشخبری دو کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس سچ کا مقام ہے۔

مفسرین کرام نے قَدَمَ صِدْقٍ کے معنی بیان فرمائے ہیں، بہترین مقام، جنت میں بلند مرتبہ، نیک اعمال، نیک اعمال کا اَجر اور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شفاعت۔ (تفسیر صراط الجنان، یونس، تحت الآیة ٢)

2_ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ يَهْدِيْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِيْمَانِهِمْ١ۚ (پارہ ١١ یونس ٩)

ترجمۂ کنز العرفان: بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے اعمال کئے ان کا رب ان کے ایمان کے سبب ان کی رہنمائی فرمائے گا۔

سُبْحَانَ اللہ، کتنی پیاری فضیلت ہے کہ مومنین کی جنت کی طرف رہنمائی اللہ پاک کی جانب سے ہوگی۔ (تفسیر صراط الجنان، یونس، تحت الآیة ٩)

3_ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ (پارہ ١۵ الکھف ٣٠)

ترجمۂ کنز العرفان: بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے ہم ان کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اچھے عمل کرنے والے ہوں۔

4_ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ۱۰۷(پارہ ١٦ الکھف ١٠٧)

ترجمۂ کنز العرفان: بیشک جو لوگ ایمان لائے اور اچھے اعمال کئے ان کی مہمانی کیلئے فردوس کے باغات ہیں۔

5_ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا۹۶(پارہ ١٦ مریم ٩٦)

ترجمۂ کنز العرفان: بیشک وہ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے عنقریب رحمٰن ان کے لیے محبت پیدا کردے گا۔

تفسیر صراط الجنان میں ہے: ارشاد فرمایا کہ بیشک وہ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے عنقریب اللہ پاک انہیں اپنا محبوب بنا لے گا اور اپنے بندوں کے دلوں میں ان کی محبت ڈال دے گا۔ (تفسیر صراط الجنان، مریم، تحت الآیۃ : ۹۶)

6_ اِنَّ اللّٰهَ يُدْخِلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ؕ وَ لِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ۲۳(پارہ ١٧ الحج ٢٣)

ترجمۂ کنز العرفان: بیشک اللہ ایمان والوں کو اور نیک اعمال کرنے والوں کو ان باغوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ انہیں ان باغوں میں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور جنتوں میں ان کا لباس ریشم ہوگا۔

7_ اِنَّ اللّٰهَ يُدٰفِعُ عَنِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا١ؕ (پارہ ١٧ الحج ٣٨)

ترجمۂ کنز العرفان: بیشک اللہ مسلمانوں سے بلائیں دور کرتا ہے۔

علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کا سبب اگرچہ خاص ہے لیکن اعتبار الفاظ کے عموم کا ہے، اس لئے مسلمان اگرچہ بلاؤں اور مصیبتوں وغیرہ سے آزمائے جائیں بالآخر عزت،نصرت اور بڑی کامیابی مسلمانوں کے لئے ہے اور یہ مصیبتیں ان کے گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی کا ذریعہ ہیں۔ (صاوی، الحج، تحت الآیۃ: ۳۸، ۴ / ۱۳۴۰-۱۳۴۱)

8_ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُوْنٍ (پارہ ٢۴ حم السجدة ٨)

ترجمۂ کنز العرفان: بیشک ایمان لانے والوں اور اچھے اعمال کرنے والوں کیلئے بے انتہا ثواب ہے۔

9_ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ اُولٰٓىِٕكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِؕ۷ (پارہ ٣٠ البینة ٧)

ترجمۂ کنز العرفان: بیشک جو ایمان لائے اورانہوں نے اچھے کام کئے وہی تمام مخلوق میں سب سے بہتر ہیں۔

10_ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِيْرًا۴۷ (پارہ ٢٢ الاحزاب ۴٧)

ترجمۂ کنز العرفان: اور ایمان والوں کو خوشخبری دیدو کہ ان کے لیے اللہ کا بڑا فضل ہے۔

اللہ پاک ہمیں زندگی میں ایمان پر استتقامت اور مرتے وقت ایمان پر خاتمہ نصیب فرماکر ان بشارتوں سے مشرف فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم


اسلام دینِ کامل ہے ۔ یہ ایسا دین ہے کہ جو عقائد، عبادات، اخلاقیات، حلال و حرام ، نیز زندگی کے ہر معاملے میں ہماری راہنمائی کرتا ہے۔ ہم اللہ عزوجل کا جتنا شکر ادا کریں اتنا کم ہے کہ اس نے ہمیں ایک کامل دین پر چلنے کی توفیق عطا فرمائی۔ قرآن کریم میں جابجا ایمان والوں کے لیے بشارتیں دی گئی۔چنانچہ

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ يَهْدِيْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِيْمَانِهِمْ١ۚ ترجمئہ کنزالایمان : بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کا رب ان کے ایمان کے سبب انہیں راہ دے گا . (پارہ ١١، سورہ یونس،آیت ٩ )

سبحان اللہ! کتنی پیاری فضیلت ہے کہ مومنین کی جنت کی طرف راہنمائی اللہ عزوجل کی جانب سے ہو گی۔ (صراط الجنان، جلد ٤ ،صفحہ ٢٨٩)

2 :ارشاد فرمايا : اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ۲۹

ترجمہ کنزالایمان : وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے ان کو خوشی ہے اور اچھا انجام۔ (پارہ ١٣ ، سورة الرعد، آیت نمبر ٢٩)

بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ طوبی سے مراد راحت و نعمت اور شادمانی و خوشحالی کی بشارت ہے۔ (صراط الجنان، جلد ٥ ، صفحہ ١١٩ )

3 :ارشاد فرمایا: اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُوْنٍؕ۶

ترجمئہ کنزالایمان : مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ انہیں بےحد ثواب ہے ۔ (پارہ ٣٠ ، سورة التين، آیت نمبر ٦ )

ان کے لئے بے انتہا ثواب ہے اگرچہ بڑھاپے کی کمزوری کے باعث وہ جوانی کی طرح کثیر عبادات بجا نہ لا سکے۔ (صراط الجنان، جلد ١٠ ، صفحہ ٧٥٧ )

4 : ارشاد فرمايا: وَ مَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ يَهْدِ قَلْبَهٗ١ؕ ترجمئہ کنزالایمان : اور جو اللہ پر ایمان لائے اللہ اس کے دل کو ہدایت فرما دے گا ۔ ( پارہ ٢٨، سورة التغابن، آيت نمبر ١١ )

(یعنی ) اللہ عزوجل اس کے دل کو ہدایت دیدے گا کہ وہ اور زیادہ نیکیوں اور طاعتوں میں مشغول ہو۔ (صراط الجنان، جلد ١٠ ، صفحہ ١٨٦ )

5 : ارشاد فرمایا: فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِيْمٌ۵۰

ترجمئہ کنزالایمان: تو جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لئے بخشش ہے اور عزت کی روزی۔ (پارہ ١٧ ، سورة الحج ، آیت نمبر ٥٠ )

(یعنی) ان کے لئے گناہوں سے بخشش اور جنت میں عزت کی روزی ہے جو کبھی ختم نہ ہوگی۔ (صراط الجنان، جلد ٦، صفحہ ٤٦٣ )

6 : ارشاد فرمايا: وَ يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ يَزِيْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ ترجمئہ کنزالایمان: اور دعا قبول فرماتا ہے اُن کی جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور انھیں اپنے فضل سے اور انعام دیتا ہے. (پارہ ٢٥، سورة الشورى، آیت نمبر ٢٦ )

ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالٰی ان لوگوں کی دعا قبول فرماتا ہے اور اپنے فضل سے لوگوں کی طلب سے بڑھ کر انہیں عطا فرماتا ہے ۔ (صراط الجنان، جلد ٩ ، صفحہ ٦٢ )

7 : ارشاد فرمايا: اِنَّ اللّٰهَ يُدْخِلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ ترجمئہ کنزالایمان : بیشک اللہ داخل فرمائے گا انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے باغوں میں جن کے نیچے نہریں رواں ۔ (پارہ ٢٦، سورة محمد، آیت نمبر ١٢ )

اللہ عزوجل چونکہ ایمان والوں کا مددگار ہے اس لئے انہیں اس کا آخرت میں ثمرہ یہ ملے گا کہ اللہ تعالٰی ایمان لانے والوں اور اچھے اعمال کرنے والوں کو ان باغوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہیں ۔ (صراط الجنان، جلد ٩، صفحہ ٣٠٢ )

8 :ارشاد فرمایا: فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤى اَنْ يَّكُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِيْنَ۶۷

ترجمئہ کنزالایمان: تو وہ جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھا کام کیا قریب ہے کہ وہ راہ یاب ہو ۔ (پارہ ٢٠، سورة القصص، آیت نمبر٦٧ ) چنانچہ

ارشاد فرمایا جس شخص نے دنیا میں شرک سے توبہ کرلی اور اللہ تعالیٰ پر اور جو کچھ اس کی طرف سے نازل ہواہے اس پرایمان لے آیااوراس نے نیک کام کیے تو قریب ہے کہ وہ کامیاب ہونے والوں میں سے ہوگا۔ (صراط الجنان، جلد ٧، صفحہ ٣١٢ )

9 : ارشاد فرمايا: وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِي الصّٰلِحِيْنَ۹

ترجمئہ کنزالایمان: اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ضرور ہم انہیں نیکوں میں شامل کریں گے ۔ (پارہ ٢٠، سورة العنكبوت، آیت نمبر ٩ )

یہاں صالحین سے مراد اَنبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اوراولیاء ِعظام رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ ہیں . (صراط الجنان، جلد ٧ ، صفحہ ٣٥١ )

10 :ارشاد فرمايا: فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِيْ رَوْضَةٍ يُّحْبَرُوْنَ۰۰۱۵

ترجمئہ کنزالایمان: تو وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے باغ کی کیاری میں ان کی خاطر داری ہوگی۔ (پارہ ٢١، سورة الروم، آیت نمبر ١٥ )

اس آیت میں فرمایا گیا کہ جو لوگ ایمان لائے اورانہوں نے اچھے کام کئے توجنت کے باغات میں ان کا اِکرام کیا جائے گا جس سے وہ خوش ہوں گے ۔ (صراط الجنان، جلد ٧، صفحہ ٤٢٣ )

اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ ہمیں دین پر استقامت عطا فرمائے اور ہمیں ایمان کے ساتھ ،مدینے میں، شھادت کی موت نصیب فرمائے اور ایمان والوں کو ملنے والے انعامات میں سے ہمیں بھی حصہ عطا فرمائے۔ آمین بجاه الخاتم النبيين صلى الله عليہ وسلم


اولاً یہ جاننا ضروری ہے کہ ایمان اور اسلام میں کیا فرق ہے؟

ایمان امن سے بنا ہے، جس کے لغوی معنی امن دینا ہے، شرعی طور پر ایمان عقائد کا نام ہے، جن کے اختیار سے انسان دائمی عذاب سے بچ جاتا ہے، جیسے توحید، رسالت، جنت، دوزخ، حشر، نشر وغیرہ۔ (علم القرآن باب ایمان، ص 38)

اسلام کا لغوی معنیٰ اطاعت یعنی ماننا، تسلیم کرنا ہے، اسلام کا شرعی معنی رسول اللہ کو مان کر اللہ کی اطاعت کرنا، کلمہ شہادت پڑھنا، واجبات پر عمل کرنا اور ممنوعات کو ترک کرنا۔ (شرح صحیح مسلم، ص 265، کتاب الایمان)

دینِ اسلام کے علاوہ اور کوئی مذہب عند اللہ مقبول نہیں، بے دین کی ساری نیکیاں برباد، دیکھو اللہ کے اس فرمان میں:

اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ١۫ ترجمہ کنزالایمان:"بے شک اللہ کے یہاں اسلام ہی دین ہے۔"(آل عمران:19)

اسلام وہ پیارا مذہب ہے کہ اللہ نے اس کو قیامت تک کے لئے باقی رکھا، باقی تمام دین کو ختم کر دیا۔(مواعظِ نعیمیہ، ص251)

پیارے آقا، مدینے والے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جس شخص نے اللہ کو مان لیا اور اسلام کو دین مان لیا، اس نے اسلام کا ذائقہ چکھ لیا۔"

جان لیجئے! ایمان کی اصل تصدیق ہے، یعنی دل سے ماننا، جبکہ اسلام کی اصل اطاعت ہے۔

قرآن کریم میں کئی مقامات پر ربّ تعالیٰ نے یا ایھا الذین اٰمنو کہہ کر پکارا تو کہیں اے ایمان والوں! کہہ کر ایمان والوں کو خوشخبری سنائی تو کہیں اے ایمان والوں کہہ کر احکامات ارشاد فرمائے، کہیں کسی کام سے روک دیا، آئیے قرآن میں ایمان والوں کے لئے جو بشارتیں بیان ہوئی ہیں، وہ پڑھتے ہیں۔

فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِيْمٌ۰۵۰

"تو جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے، ان کے لئے بخشش ہے اور عزت کی روزی۔"(پ17،آیت نمبر5، سورۃ الحج)

وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَؒ۸۲

"اور جو ایمان لائے اچھے کام کرے، وہ جنت والے ہیں اور ہمیشہ اس میں رہیں گے۔"(پ1،سورۃ البقرہ:82)

وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا١ؕ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَۗۖ۵۸

"اور بے شک جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے، ضرور ہم انھیں جنت کے بالا خانوں پر جگہ دیں گے، جن کے نیچے بہتی ہوں گی ہمیشہ ان میں رہیں گے، عمل کرنے والوں کے لئے کیا ہی اچھا اجر ہے۔"

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ يُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَ يَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ۲۹

"اے ايمان والوں! اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو تمہیں حق و باطل میں فرق دینے والا نور عطا فرما دے گا اور تمہارے گناہ مٹادے گا اور تمہاری مغفرت فرما دے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔"(پارہ 9،آیت نمبر 29، سورہ الانفال)

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ۱۰۷

"بے شک جو لوگ ایمان لائے اور اچھے اعمال کئے، ان کی مہمانی کے لئے فردوس کے باغات ہیں۔"( پارہ 14، آیت 107، سورہ کہف)

لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَ يُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِيْمًاۙ۵

"تاکہ وہ ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو ان باغوں میں داخل فرما دے، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ہمیشہ ان میں رہیں گے اور اللہ ان کی برائیاں ان سے مٹا دے اور یہ اللہ کے یہاں بڑی کامیابی ہے ۔"(پ26، الفتح، آیت 5)

اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفَآىِٕزُوْنَ۠۲۰

"وہ جنہوں نے ایمان قبول کیا اور ہجرت کی اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا، اللہ کے نزدیک ان کا بہت بڑا درجہ ہے اور وہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔" (پارہ 10، آیت 20، سورہ التوبہ)

وَ بَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًا١ۙ قَالُوْا هٰذَا الَّذِيْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا١ؕ وَ لَهُمْ فِيْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١ۙۗ وَّ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۲۵ "ان لوگوں کو خوشخبری دو جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کئے کہ ان کے لئے ایسے باغات ہیں، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، جب انہیں ان باغوں سے کوئی پھل کھانے کو دیا جائے گا تو کہیں گے یہ تو وہی رزق ہے، جو ہمیں پہلے دیا گیا تھا، حالانکہ انہیں ملتا جلتا پھل دیا گیا تھا اور ان کے لئے ان باغوں میں پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور وہ ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔"(پارہ 1، آیت 25، سورۃ البقرہ)

يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ۰۰۱۱

"اللہ تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے، جنہیں علم دیا گیا اور اللہ تمہارے کاموں کو خوب جانتا ہے۔"(پارہ 28، آیت 11، سورۃ المجادلہ )

10۔ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَ افْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۷۷

"اے ایمان والو! رکوع اور سجدہ کرو، اپنے ربّ کی بندگی کرو اور بھلے کام کرو، اس امید پر کہ تمھیں چھٹکارا ہو۔"(پارہ 17، آیت 77، سورۃ الحج)

جس طرح ایمان والوں کے لئے اللہ نے بڑی اجر و نعمتیں رکھی ہیں، وہیں پر ایمان و اسلام کا انکار کرنے والے کے لئے بھی وعیدات سنائی ہیں، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں ایمان کی دولت سے نوازا۔

ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ ہمارا خاتمہ بھی ایمان و اسلام پر فرمائے۔آمین