امیرالمؤمنین حضرت سیِّدنا عُمر بن عبدُالعزیزرحمۃ اللہ علیہ کی کنیت ابوحَفص،نام عمربن عبدالعزیزہے، آپ کی والدہ حضرت سیِّدنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی پوتی سیّدتنا اُمِّ عاصم بنتِ عاصم تھیں۔(الثقات لابن حبان،2/354 ملخصاً)آپ عابدو زاہد،بُردبَار، عاجِزی واِنکِساری کے پیکر، خوفِ خداسے لَبْریز، عَدْل وانصاف قائم کرنے، بھلائی اور نیکیوں کو محبوب رکھنے، نیکی کا حکم دینے اوربرائی سے مَنْع کرنے والے تھے۔ آپ کا شمار اُن خُلَفا میں ہوتا ہے جو خلیفہ ہونے کے باوجود شان و شوکت اور عیش وعِشْرت کی زندگی سے دور رہے۔ (ماخوذ از طبقات ابن سعد، 5/260) آپ نےصرف 29 ماہ کےعرصے میں دنیا کےایک بڑے حصے میں خوشحالی کاایسااِسلامی اِنقلاب برپاکیاجس کی مثال صَدْیاں گزر جانے کے بعد بھی نہیں ملتی، آپ نے عَہْدِ خُلفائے راشِدین کی یاد تازہ کردی۔آپ کو عمُرِثانی بھی کہا جاتا ہے۔ (الثقات لابن حبان، 2/354،مرقاۃ المفاتیح،9/245،تحت الحدیث:5375- 5376) آپ رحمۃ اللہ علیہ خلیفہ منتخَب ہوئے تو اس وقت مُعاشَرے کی حالت بہت بری تھی،اُمَراء نے لوگوں کی جائیداوں پر ناحق قبضے کئے ہوئے تھے،دین سے بے راہ روی عام تھی، شراب نوشی عام ہونے کے علاوہ بہت سی ممنُوعاتِ شرعیہ مَملکتِ اسلامیہ میں رائج ہوچکی تھیں۔ آپ نےدینی،حکومتی اورمُعاشرتی شعبہ جات میں اِصلاح کے لئے انقلابی کوششیں فرمائیں۔ دعوتِ دین آپ نے دینِ اسلام کی دعوت عام کرنے کے لئے تِبَّت، چین اور دُوردراز مَمالک میں وُفود روانہ کئےاور وہاں کے حکمرانوں کو دعوتِ اِسلام پیش کی جس کے اثر سے مشرق و مغرب میں کئی بادشاہوں اور راجاؤں نے اسلام قبول کیا۔(مجددین اسلام نمبر، ص59ملخصاً) عدل و انصاف آپ رحمۃ اللہ علیہ نےمجبوروں، مظلوموں اور مَحْروموں کوان کی وہ جائیدادیں واپس دلائیں جنہیں شاہی خاندان کے افراد، حُکومتی اَہلکاروں اور دیگر اُمَرا نے اپنے تَصَرُّف میں لے رکھا تھا۔ (سیدناعمربن عبدالعزیز کی 425حکایات، ص162ملخصاً) تدوینِ حدیث آپ نے نبیِّ اکرم،رحمتِ دوعالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی احادیثِ مبارکہ مِٹ جانے کے خوف سے ان کوجمع کرنے کا اہتمام فرمایا۔(سنن دارمی، 1/137، حدیث:488ملخصاً) غیر شرعی اُمور کا خاتمہ شراب نوشی کے خاتِمہ کے لئے مختلف تدبیریں فرمائیں مثلاً شرابیوں کو سخت سزائیں دیں اورذِمّیوں کو بھی حکم فرمایاکہ وہ ہمارے شہروں میں ہرگز شراب نہ لائیں۔ (طبقات الکبریٰ،5/283 ملخصاً) غیر مسلموں کے مذہبی تَہْوارکے موقع پر مسلمانوں کوتحفے تحائف(Gifts)بھیجنے سے روکا۔ (طبقات الکبریٰ، 5/291) آپ رحمۃ اللہ علیہ کو صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان سے اس قدر مَحبّت تھی کہ امیرالمؤمنین حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ اور حضرت سیّدنا امیرمُعاویہ رضی اللہ عنہما کی شان میں نازیبا الفاظ بکنے والوں کوسختی سے منع فرمایا ۔( تاریخ الخلفاء، ص195، الاستیعاب، 3/475) نیز یزید کو امیرُالمومنین کہنے والے کو بھی کوڑے لگوائے۔(سیراعلام النبلاء، 5/84ملخصاً) فلاح عامہ آپ نے ایک لنگر خانہ قائم کیا جس میں فُقراو مساکین اورمسافروں کو کھانا پیش کیا جاتا تھا۔(تاریخ دمشق، 45/218)اسی طرح مُسافروں کے لئے سرائے خانے اور ان کی سُوارِیوں کے لئے اَصْطَبل تعمیر کروائے، نابیناؤں، فالج زدہ، یتیموں اور معذوروں کی خدمت کے لئے غلام اور اَخراجات عطا فرمائے اور بچوں کے وظائف بھی مُقرّر فرمائے۔ (سیدناعمربن عبدالعزیز کی425 حکایات، ص447تا452 ملخصاً) مَعاشی انقلاب آپ کے عدل وانصاف اورحُسنِ انتظام سےایسا انقلاب (Revolution) آیاکہ زکوٰۃ لینے والے دینے والے بن گئے اورزکوٰۃ دینےوالوں کو فُقراتلاش کرنے سے بھی نہیں ملتے تھے۔ (سیرۃ ابن عبدالحکم ،ص59)