12 ربیع ُالآخر , 1441 ہجری

: : :
(PST)

اسلام کے 5 ارکان میں ایک رکن حج بھی ہے جس کی ہر مومن اور مسلمان کو دِلی خواہش ہوتی ہے۔اس سال امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ، نگرانِ شوریٰ ،چند اراکینِ شوریٰ اور کئی اسلامی بھائیوں پر مشتمل چل مدینہ کا قافلہ حجِ بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنےحرمین طیّبین زاد ہمااللہ شرفاً وَّ تعظیماً پہنچا ۔

امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے چل مدینہ قافلہ کے اسلامی بھائیوں کے نام ایک پیغام جاری کیا جس میں آپ نے فرمایا! ”چل مدینہ سے مشرف میرے مدنی بیٹے اور مدنی بیٹیوں کی خدمتوں میں اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ! ابھی کل ہی کی بات ہے جیسے میں مطاف کی طرف جارہا تھا، حسرتیں مچل رہی تھیں آرزوئیں گدگدارہی تھیں، اورگویا رواں رواں کیف و مستی میں جھوم رہا تھا کہ وہ مدینہ کا سفر تھا۔ ہائے یہ حسن رضا آئے میرے پاس ابھی میں نے ان سے پوچھا کہ کہاں جارہے ہو؟تواِنہوں نے کہا کہ” مدینہ“ یہ بھی ظاہر ہے شوق والی بات ہے مدینے کے لیے تیار ہیں اس وقت جانے کے لئے، اس کو کیا پتا مدینہ چھوڑ آئے ، اب میں بیرون ملک جارہا ہوں میرا سفر اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ دین کے لئے ہے اپنے ذاتی کام کے لئے نہیں جارہا، کامیابی کی دعا کا ملتجی ہوں، کہ میں اپنے مقصد میں کامیاب ہوں اور آپ سب کے لئے بھی دعا کرتا ہوں کہ آپ سب کو اللہ بے حساب بخشے آپ سب کے صدقے میری بھی بے حساب مغفرت ہوجائے، میرے مدنی بیٹوں اور مدنی بیٹیوں آنے کے بعد خدا جانے اپنے مدنی کاموں میں اضافہ کیا یا کیا کیا، یا تھکن اتار رہے ہیں، مدنی انعامات پر عمل میں کہاں تک پہنچے کوئی مجھے کارکردگی کوئی اطلاع نہیں ہے، یہ چل مدینہ والے ہوتے ہیں ایک طرح سے یوں لگتا ہے جیسے میرے خاندان کے لوگ ہیں یہ، تو اب یہ کہ 12مدنی کام کی دھوم دھام مچانی ہے ، مدنی انعامات پر عمل بڑھانا ہے اور روزانہ غور و فکر کے ذریعے رسالہ پُر کرکے جمع بھی کرواتے رہنا ہے۔ قافلوں میں جو سفر کرسکیں مدنی بیٹے سفر ظاہر ہے سب کے سب سفر کے اہل تو تھے سب سفر کریں اور ہر مہینے کریں، جو بارہ ماہ ابھی تک نہیں کر پائے وہ بھی اس کے لئے کوئی ذہن بنائیں، اورعلاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت اس کی بھی ترکیب فرمائیں اور خوب مدنی کام بڑھائے۔ ایک مدنی کام لفظ مدنی کام خیر اس کے لئےاصطلاح نہیں ہے مگر ایک کام اور میں آپ کو دے رہا ہوں وہ بھی قبول کرلیں ہوسکے تو خاص کر جن کے گھر میں بچے ہیں روزانہ درس تو دینا ہوتا ہے گھر میں وہ تو جاری رکھیں اگر دے رہے ہیں تو ،نہیں دے رہے ہیں تو شروع کریں لیکن بچوں کو یا تو سوتے وقت یا کسی مناسب وقت پر گھر کے جتنے بچے ہیں ان کو جمع کریں اور فیضانِ سنت ہے ،نیکی کی دعوت ہے غیبت کی تباہ کاریاں ہیں ان اپنی کتابوں سے کوئی نہ کوئی ایمان افروز حکایت منتخب کرکے یہ سنادیا کریں، کرامات ، یا کوئی ایسی حکایتیں سنائیں گے نا تو بچوں کو اس میں دلچسپی بھی ہوتی ہے اور یہ پھر اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّآپ سے مطالبہ کریں گے کہ ہم کو وہ قصہ سناؤ، یا یہ بچے آج کل اسٹوری کہتے ہوں گے تو چلو اسٹوری سناؤ، یہ ان کو اسٹوری کا عادی بنائیں اسلامی اسٹوریز ٹھیک ہے نا تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس میں بزرگوں کے بارے میں، کراماتوں کے بارے میں اور اس طرح بزرگوں کے تقویٰ پرہیزگاری، خوفِ خدا عشقِ مصطفی جلا جلالہ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے  تعلق سے ذہن بنتا چلا جائے گا، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے خوشخبری دیں کہ آپ نے کیا کیا کیا ہے۔ بے حساب مغفرت کی دعا کیجیئے گا میرے لئے۔“

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد