سانحہ گل پلازہ کراچی پر رپورٹ:

یہ واقعہ 17 جنوری 2026 کی رات تقریباً 10:15 بجے ایم اے جناح روڈ کراچی کے اہم تجارتی مرکز گل پلازہ شاپنگ مال میں پیش آیا جس میں تقریباً 1200 دکانیں تھیں۔

آگ کا آغاز اور پھیلاؤ:

S.S.Pسٹی عارف عزیز کا کہنا تھا کہ اب کی رپورٹ کی مطابق شارٹ سرکٹ کی وجہ سے پلازہ میں آگ لگی جو جلد ہی ارد گرد موجود آسانی سے قابلِ احتراق چیزوں جیسے کپڑے، قالین اور پلاسٹک کی مصنوعات کے سبب بہت تیزی سے پھیل گئی۔ S.S.Pسٹی نے مزید کہا کہ گل پلازہ میں موجود میٹریل مثلاً آرٹیفیشل پلانٹس اور فلاور بھی آگ پھیلنے کا سبب بنے۔

جانی و مالی نقصان:

اب تک کی ملنے والی رپورٹ کے مطابق 61 سے زائد افراد آگ میں جھلس کر اور آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے شہید ہوگئے۔ اس کے علاوہ زخمی افراد کو ریسکیو کرکے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں انہیں ہنگامی طور پر علاج فراہم کیا جارہاہے۔ اس کے علاوہ درجنوں افراد ابھی بھی لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے اور ملنے والی باڈی کی شناخت کے لئے D.N.Aٹیسٹ کروائے جارہے ہیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق گل پلازہ کا مالی نقصان کھربو ں میں بتایا جارہا ہے۔

صدر تاجر ایسوسی ایشن گُل پلازہ تنویر قاسم نے انتہائی دُکھ کے ساتھ مدنی چینل سےگفتگو کرتے ہوئےبتایا کہ اس سانحے سے 12 ہزار خاندان متاثر ہوئے ہیں کیونکہ اس پلازہ میں 1200 کے آس پاس دُکانیں تھیں اور ہر دُکان میں 08 سے 10 مزدور کام کیا کرتے تھے۔ اِنَّا لِلہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْن

ریسکیو آپریشن:

ریسکیو، فائر فائٹرز اور متعلقہ حکام24 سے 36 گھنٹوں کے بعد آگ پر قابو پانے اور اُسے بجھانے میں کامیاب ہوئے جبکہ K.M.C اور ریسکیو 1122 زخمی اور انتقال کرجانے والے افراد کو نکالنے کے ساتھ ساتھ لاپتہ افراد کو ڈھونڈھنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ دعوتِ اسلامی کا فلاحی شعبہ فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن FGRF کے تحت ریسکیو اور سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں تک کھانے پینے کی اشیاء پہنچانے اور دیگر فلاحی کاموں میں پیش پیش ہے۔ FGRFکی ٹیم دُکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ تاجران اور مرحومین کے اہل خانہ اور سوگواروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور انہیں تسلی و حوصلہ دیتے ہوئے ان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔

متاثرہ مقام کا مختلف سیاسی و سماجی شخصیات کا دورہ:

سانحہ گل پلازہ کے بعد جائے وقوعہ پر مختلف حکومتی اراکین، سیاسی، سماجی و مذہبی شخصیات نے دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے نہ صرف جائے حادثہ کا جائزہ لیا بلکہ سانحہ میں شہید ہونے والوں کے سوگوار لواحقین سے تعزیت کی، تاجروں سے ملاقات کی اور اپنے پیاروں کی تلاش میں بے چینی سے منتظر افراد سے ہمدردی اور اظہارِ افسوس کیا۔

دورہ کرنے والی شخصیات میں دارالافتاء اہلِ سنت (دعوتِ اسلامی) کے مفتیانِ کرام مفتی محمد حسان عطاری مدنی مُدَّ ظِلُّہُ العالی اور مفتی محمد شفیق عطاری مدنی مُدَّ ظِلُّہُ العالی رکن شوریٰ مولانا حاجی عبد الحبیب عطاری، مبلغین دعوتِ اسلامی، FGRFکے ذمہ داران شامل تھےجنہوں نے مرحومین کے لئے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لئے صبر و استقامت کی دعا کرتے ہوئےشخصیات نےمتاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی اور انہیں دینی و اخلاقی تسلی دی۔

اس کے علاوہ خلیفۂ امیر اہلسنت مولانا حاجی عبید رضا عطاری مدنی مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے بھی متاثرہ مقام کا دورہ کیا۔خلیفۂ امیر اہلسنت نے گُل پلازہ کے احاطے میں متاثرہ تاجران سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے اس حادثے میں شہید ہونے والے مرحومین کے لواحقین سے تعزیت کی اور انہیں صبر کی تلقین کرتے ہوئے بارگاہِ رب العزت میں دعائیں کیں۔خلیفۂ امیر اہلسنت نے ایسے افرادجن کے پیارے لاپتہ ہیں ان سے بھی ملاقات کرتے ہوئے اظہار افسوس کیا اور دعاکی۔ متاثرہ مقام کا دورہ کرتے ہوئے جانشین امیر اہلسنت کی FGRFکی طرف سے گل پلازہ کے قریب قائم ریلیف کیمپ پر تشریف آوری ہوئی جہاں انہوں نے ذمہ داران کی حوصلہ افزائی کی اور امدادی کاموں کا جائزہ لیا۔

Liveٹرانسمیشن:

سانحہ گل پلازہ کے حوالے سے 19 جنوری 2026ء کی رات مدنی چینل پر ایک ٹرانسمیشن بنام ”سانحہ گُل پلازہ“نشر کی گئی جسے رکن شوریٰ مولانا حاجی عبد الحبیب عطاری نے ہوسٹ کیا۔ ٹرانسمیشن میں امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کا پیغام بھی شامل کیا گیا جس میں امیر اہلسنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے سانحہ میں انتقال کرجانے والے مرحومین کے لواحقین سے تعزیت کی اور دعائے مغفرت کرتے ہوئے متاثرہ تاجران سے دُکھ اور ہمدردی کا اظہار کیا۔اس کے علاوہ نگران شوریٰ مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے بھی ٹرانسمیشن میں گفتگو کرتے ہوئے گہرے دُکھ کا اظہار کیا۔

شب روز دعوتِ اسلامی کی ٹیم کی جانب سے اظہار ہمدردی اور دعا:

اللہ رب العزت سانحہ گل پلازہ میں وفات پاجانے والے مسلمانوں کی مغفرت فرمائےاور زخمیوں کو جلد از جلد صحت و تندرستی اور مالی نقصان اٹھانے والوں کو نعم البدل عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

جانشین امیر اہلسنت کے وزٹ کی ویڈیو دیکھنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے:

https://www.facebook.com/reel/1190581266387342


شعبہ مدنی کورس (اسلامی بہنیں) دعوتِ اسلامی کے تحت 23 جنوری 2026ء کو خصوصی سیشن بنام ”فیضانِ شبِ براءت“ کا انعقاد کیا جائے گا جس کا مقصد قرآن و حدیث کی تعلیمات سے آگاہی فراہم کرنا ہے۔

یہ سیشن دنیا بھر کی اسلامی بہنوں کے لئے منعقد کیا جائے گا جس دورانیہ کم و بیش 1 گھنٹہ ہوگا۔

سیشن کے دوران جن موضوعات پر گفتگو کی جائے گی ان میں سے بعض یہ ہیں:٭قرآن و حدیث کی روشنی میں شبِ براءت کی حقیقت٭ماہِ شعبانُ المعظم اور شبِ برات کی فضیلت٭توبہ و استغفار کی اہمیت۔

مزید معلومات اور رجسٹریشن کے لئے آپ درج ذیل رابطہ نمبر اور ای میل سے رابطہ کر سکتے ہیں:

ای میل: ib.admissiononlinecourse@dawateislami.net

واٹس اپ نمبر: +92 3103330988


دعوتِ اسلامی کے شعبہ مدنی کورسز (اسلامی بہنیں) کے تحت دنیا بھر میں 7 سے 12 سال تک کی بچیوں اور 9 سال سے کم عمر کے بچوں کے لئے ایک خصوصی کڈزسیشن بنام ”نجات کی راہ“ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔یہ سیشن 15 شعبانُ المعظم 1447ھ کو منعقد کیا جائے گا جس کا دورانیہ کم و بیش 1 گھنٹہ ہوگا۔

سیشن کی خصوصیات:

٭شعبانُ المعظم کے فضائل٭شبِ براءت کے معمولات٭شبِ براءت اور آتش بازی٭صلہ رحمی، معافی مانگنے اور معاف کرنے کا طریقہ٭شبِ براءت کے نیک اعمال اور دلچسپ ایکٹیٹویٹیز۔

یہ سیشن تمام بچوں اور بچیوں کے لئے مفید اور تعلیمی سرگرمیوں سے بھرپور ہوگا ۔ والدین سے درخواست ہے کہ اپنے بچوں کی شرکت کو یقینی بنائیں تاکہ وہ اس موقع سے فائدہ حاصل کر سکیں۔

مزید معلومات کے لئے رابطہ کریں:

ای میل: ib.admissiononlinecourse@dawateislami.net

واٹس اپ نمبر: +92 3103330988


پاکستان سمیت دنیا بھر کی اسلامی بہنوں کے لئے رمضان کے مقدس مہینے کا استقبال کرتے ہوئے ایک منفرد اور خصوصی کورس ”استقبالِ ماہِ رمضان“ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ یہ کورس صرف 5 دن (روزانہ 1 گھنٹہ) پر مشتمل ہوگا اور اس کا آغاز 1 فروری 2026ء سے کیا جائے گا۔

اس کورس میں شامل ہونے والی اسلامی بہنوں کو رمضان کی اہمیت، تلاوت اور استقبالِ رمضان کی تیاری کے حوالے سے اہم معلومات فراہم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ رمضان المبارک میں تقویٰ و پرہیزگاری اور عبادات سے متعلق اہم رہنمائی بھی دی جائے گی۔

کورس کی خصوصیات میں شامل ہیں:

٭روزوں کے ضروری مسائل٭تراویح اور اعتکاف کے احکام٭استقبالِ ماہِ رمضان کی تیاری٭فیضانِ لیلۃالقدر پانے کے طریقے٭رمضانُ المبارک سے متعلق اہم معلومات۔

اس منفرد موقع سے فائدہ اٹھائیں اور ماہِ رمضانُ المبارک کی تیاری کریں!

واضح رہے اس کورس میں کسی بھی ملک سے خواتین شامل ہو سکتی ہیں۔ مزید معلومات کے لئے رابطہ کریں:

ای میل: ib.admissiononlinecourse@dawateislami.net

واٹس اپ نمبر: +92 3103330988


شعبہ مدنی   کورسز (اسلامی بہنیں ) کے تحت ملک و بیرونِ ملک کی تمام اسلامی بہنوں کے لئے کورس ”فیضانِ تلاوتِ قرآن “ مرتب کیا گیا ہے جس کا آغاز 14 فروری 2026ء کو ہوگا۔

ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق کورس کی مدت 20 اور 30 دن ہوگی جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

دورانیہ: 20 دن کا دورانیہ 1 گھنٹہ 30 منٹ اور 30 دن کا دورانیہ ایک گھنٹہ 15 منٹ ہوگا۔

خصوصیات: الْحَمْدُلِلّٰہ! اس کورس میں روزانہ قراٰنِ پاک کی تلاوت سننے کے ساتھ ساتھ قرآنی واقعات کا بیان، رمضان المبارک میں پڑھے جانے والے مخصوص اذکار و دعا ئیں مع عوامی مسائل اور اُن کا حل سیکھنے کا موقع ملے گا ۔

کورس میں داخلہ لینے کی اہلیت :تمام اسلامی بہنوں کے لئے، تو جلدی کیجئےکہیں دیر نہ ہوجائے۔

داخلے کے لئے رابطہ : اسلامی بہنیں اپنی ٹاؤن، ڈسٹرکٹ اورڈویژن ذمہ دار اسلامی بہنوں سے رابطہ فرمائیں۔

اسلامی بہنیں اس ای میل ایڈریس سے بھی مزید معلومات حاصل کر سکتیں ہیں:

Ib.admissiononlinecourse@dawateislami.net


دعوتِ اسلامی کے شعبہ مدنی   کورسز (اسلامی بہنیں ) نے ملک وبیرونِ ملک کی تمام اسلامی بہنوں کے لئے کورس”استقبال ِ ماہ رمضان“ مرتب کیا ہے جس کا آغاز 1 فروری اور اختتام 5 فروری 2026ء کو ہوگا۔

تفصیلی معلومات کے مطابق پاکستان میں اس کورس کا انعقاد وارڈ سطح پر اور اوورسیز میں ڈویژن سطح پر ہو گا جبکہ کورس کا دورانیہ روزانہ کم و بیش 1 گھنٹہ (60 منٹ) ہوگا۔

کورس کی خصوصیات:

اس کورس میں روزہ ، تراویح و اعتکاف کے ضروری مسائل ، استقبالِ ماہِ رمضان، فیضان لیلۃ القدر کیسے پائیں؟، رمضان افطار شیڈول، ماہ ِرمضان میں پڑھی جانے والی دعائیں وغیرہ اور اس کے علاوہ بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا ان شآءَ اللہُ الکریم ۔

کورس میں داخلہ لینے کی اہلیت: تمام اسلامی بہنوں کے لئے مرتب کیا گیا ہے۔ تو جلدی کیجئےکہیں دیر نہ ہوجائے۔

داخلے کے لئے رابطہ : اسلامی بہنیں اپنی ٹاؤن، ڈسٹرکٹ اورڈویژن ذمہ دار اسلامی بہنوں سے رابطہ فرمائیں۔

اسلامی بہنیں اس ای میل ایڈریس سے بھی مزید معلومات حاصل کر سکتیں ہیں:

Ib.admissiononlinecourse@dawateislami.net


پاکستان سمیت دنیا بھر کی اسلامی بہنوں میں دینی تعلیمات عام کرنے، اُن کی دینی و اخلاقی تربیت کرنے اور  انہیں فرض علوم سکھانے بالخصوص دینِ اسلام کی ترویج و اشاعت کے لئے عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت وقتاً فوقتاً مختلف کورسزو سیشنز منعقد کئے جاتے ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

ماہِ دسمبر میں اسلامی بہنوں کے مختلف شعبہ جات میں ہونے والے کورسز وسیشنز کی مجموعی کارکردگی

کورس کی تعداد:86

مقامات کی تعداد: 6, 681

شرکاء کی تعداد : 1, 10, 063

سیشنز کی تعداد: 78

مقامات کی تعداد: 28, 435

شرکاء کی تعداد :1, 85, 635

(1)شعبہ مدرسۃ المدینہ گرلز :

دسمبر 2025ء، بیرونِ ملک میں ٹیچرزکے لئے ٹیچرٹریننگ کورس منعقد کیا گیا۔ یہ کورس آن لائن اور اردو زبان میں کروایا گیا۔

پاکستان میں ناظمات، اسٹاف اور اجیر اسلامی بہنوں کے لئےٹیچر ٹریننگ کورس،لرننگ سیشن و نظامت کورس منعقد کئے گئے۔ یہ سیشن و کورسز فزیکل اور آن لائن کروائے گئے نیز یہ سیشن و کورسز اردو زبان میں منعقد کئے گئے۔

پاکستان

کورس کی تعداد: 2

مقامات کی تعداد:7

شرکاء کی تعداد: 85

سیشنز کی تعداد: 1

مقامات کی تعداد:1

شرکاء کی تعداد:79

اوورسیز

کورس کی تعداد: 1

مقامات کی تعداد:1

شرکاء کی تعداد: 2

مجموعی کارکردگی

کورس کی تعداد: 3

مقامات کی تعداد:8

شرکاء کی تعداد: 87

سیشنز کی تعداد: 1

مقامات کی تعداد:1

شرکاء کی تعداد:79

(2)شعبہ رہائشی کورسز :

دسمبر 2025ء، بیرونِ ملک میں تمام اسلامی بہنوں کے کورسز New year night ، Deeni Kam Course Prayer Enlightenment Course ، Faizan e Namaz course اور Faizan e surha noor course منعقد کئے گئے۔ یہ کورسز رہائشی اور اردو زبان میں کروائے گئے۔

پاکستان میں اصلاحِ اعمال،فیضانِ ایمانیات،نور کی چابی،نیو ائیر نائٹ،روشن راہیں (دارالمدینہ طالبات کے لئے)کورسز رہائشی اور اردو زبان میں منعقد کئے گئے۔

پاکستان

کورس کی تعداد:5

مقامات کی تعداد:13

شرکاء کی تعداد: 1, 349

اوورسیز

کورس کی تعداد: 9

مقامات کی تعداد:16

شرکاء کی تعداد: 492

مجموعی کارکردگی

کورس کی تعداد: 14

مقامات کی تعداد:29

شرکاء کی تعداد: 1, 841

(3)شعبہ قرآن ٹیچر ٹریننگ :

دسمبر 2025ء، بیرونِ ملک میں اسلامی بہنوں (جنہوں نے مدنی قاعدہ پڑھا ہو اور ناظرہ قرآن کریم پڑھ سکتی ہوں) کے لئے مدنی قاعدہ کورس، قرآن ٹیچنگ کورس اور تجوید القرآن کورس منعقد کئے گئے۔ یہ کورسز فزیکل اور آن لائن کروائے گئے نیز یہ کورسز اردو، بنگلہ، انگلش، پرتگال، تامل اور ہندی زبان میں منعقد کئے گئے۔

پاکستان میں یہ کورسز فزیکل اور آن لائن کروائے گئے نیز یہ کورسز اردو،انگلش،سندھی اور بلوچی زبان میں کروائے گئے۔

پاکستان

کورس کی تعداد: 4

مقامات کی تعداد:864

شرکاء کی تعداد: 9, 125

اوورسیز

کورس کی تعداد: 5

مقامات کی تعداد:610

شرکاء کی تعداد: 6, 743

مجموعی کارکردگی

کورس کی تعداد: 9

مقامات کی تعداد:1, 474

شرکاء کی تعداد: 15, 868

(4)شعبہ روحانی علاج:

دسمبر 2025ء، بیرونِ ملک میں ایک کورس ہوا جبکہ پاکستان میں مدنی انتخاب میں سلیکٹ ہونے والی اسلامی بہنوں کے لئے روحانی علاج کورس منعقد کیا گیا۔یہ کورس فزیکل اور اردو زبان میں کروایا گیا۔

پاکستان

کورس کی تعداد: 1

مقامات کی تعداد:10

شرکاء کی تعداد: 107

اوورسیز

کورس کی تعداد: 1

مقامات کی تعداد:1

شرکاء کی تعداد:6

مجموعی کارکردگی

کورس کی تعداد: 2

مقامات کی تعداد:11

شرکاء کی تعداد: 113

(5)شعبہ کفن دفن:

دسمبر 2025ء، بیرونِ ملک میں عوام و ذمہ دار اسلامی بہنوں کے لئے غسلِ میت و کفن کورس، نوحہ اور شریعت سیشن و کورس منعقد کئے گئے۔ یہ سیشن اور کورس فزیکل اور آن لائن کروائے گئے نیز یہ سیشن و کورس اردو،انگلش اور بنگلہ زبان میں منعقد کئے گئے۔

پاکستان میں اسراف کورس ،ایصالِ ثواب کورس ،نوحہ اور شریعت تکفین کورس ،غسلِ میت و کفن کورس فزیکل اور آن لائن کروائے گئے نیز یہ کورسز اردو زبان میں منعقد کئے گئے۔

پاکستان

کورس کی تعداد:

مقامات کی تعداد:

شرکاء کی تعداد:

سیشنز کی تعداد: 5

مقامات کی تعداد:15, 774

شرکاء کی تعداد:72, 099

اوورسیز

کورس کی تعداد: 1

مقامات کی تعداد:95

شرکاء کی تعداد: 1, 873

سیشنز کی تعداد: 1

مقامات کی تعداد:41

شرکاء کی تعداد:811

مجموعی کارکردگی

کورس کی تعداد: 1

مقامات کی تعداد:95

شرکاء کی تعداد: 1, 873

سیشنز کی تعداد: 6

مقامات کی تعداد:15, 815

شرکاء کی تعداد: 72, 910

(6)شعبہ مدنی کورسز :

دسمبر 2025ء، بیرونِ ملک میں بچوں،تمام اسلامی بہنوں اور ذمہ داران کے لئے طہارت کورس، جادو اور جنات، کورس جنت کا راستہ ، فیضان ایمانیات، کفن دفن ، فیضان زکوۃ کورس، عشرہ مبشرہ،حسن کردار، قصیدہ بردہ ، نیکیاں اور نیتیں ، فیضان صحابیات ، تصوف اور تقلید، تربیتِ اولاد، خود کو سنواریں ، اذکارِ نماز، نماز درست کیجئے، جنت اور دوزخ کیا ہے؟، متفرق تفسیر کورسز، صحت مند زندگی، سیشن آسمانی سیر، کامیاب لوگ، خواتین اور اسلام ، فقہ شافعی ، علم نور ہے،عقیدہ ختم نبوت، آئیے نماز درست کریں، جنت اور دوزخ کیا ہے؟، اردو درجہ، ہفتہ وار سنتوں بھرا اجتماع، مریض کی نماز، زندگی کی کہانیاں، اسراف و مہنگائی، فیضان درود و سلام، بیٹے کا کردار، علم نور ہے،عقیدہ ختم نبوت،Weekend Wisdom, role of daughter, Flower of Jannah, Social Media, path of Jannah, Other Language, Ture Friend’s Shine, Moral Development Stage of life, healthy life, winter camp, Marrige in Islam, Hidden well, Basic of Islam, New Year Resoulution سیشنز اور کورسز منعقد کئے گئے۔یہ سیشنز و کورسز فزیکل اور آن لائن کروائے گئے نیز یہ سیشنز و کورسز انگلش،اردو،بنگلہ،تامل،کریول،عربی اور بلوچی زبان میں منعقد کئے گئے۔

پاکستان میں یہ سیشنز اور کورسز فزیکل اور آن لائن منعقد کئے گئے نیز یہ سیشنز و کورسز اردو زبان میں کروائے گئے۔

پاکستان

کورس کی تعداد: 24

مقامات کی تعداد:3954

شرکاء کی تعداد: 45, 775

سیشنز کی تعداد: 11

مقامات کی تعداد:2103

شرکاء کی تعداد:25, 576

اوورسیز

کورس کی تعداد: 25

مقامات کی تعداد:331

شرکاء کی تعداد: 6, 045

سیشنز کی تعداد: 28

مقامات کی تعداد:201

شرکاء کی تعداد:3, 117

مجموعی کارکردگی

کورس کی تعداد: 49

مقامات کی تعداد:1728

شرکاء کی تعداد: 26, 870

سیشنز کی تعداد: 39

مقامات کی تعداد: 882

شرکاء کی تعداد: 12, 886

(7)شعبہ گلی گلی مدرسۃ المدینہ:

دسمبر 2025ء، پاکستان میں بچوں کے لئے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پیاری سیرت اورعقیدہ ختمِ نبوت سیشن منعقد کئے گئے۔ یہ سیشن فزیکل اور اردو زبان میں کروائے گئے۔

پاکستان

سیشنز کی تعداد: 1

مقامات کی تعداد: 8, 022

شرکاء کی تعداد: 76, 379

مجموعی کارکردگی

سیشنز کی تعداد: 1

مقامات کی تعداد:8, 022

شرکاء کی تعداد: 76, 739

(8)شعبہ جامعۃالمدینہ گرلز:

دسمبر 2025ء، بیرونِ ملک میں طالبات ، ناظمات اور معلمات کے لئے فہمِ قرآن سیشن منعقد کیا گیا ۔ یہ سیشن فزیکل کروایا گیا نیز یہ سیشن اردو اور انگلش زبان میں منعقد کیا گیا ۔

پاکستان میں طالبات دیگر عملہ اور اسلامی بہنوں کے لئے کے لئے فیضان زکوۃ سیشن منعقد کیا گیا۔ یہ سیشن فزیکل کروایا گیا نیز یہ سیشن اردو زبان میں منعقد کیا گیا ۔

پاکستان

سیشنز کی تعداد: 1

مقامات کی تعداد: 612

شرکاء کی تعداد: 38666

اوورسیز

سیشنز کی تعداد: 1

مقامات کی تعداد:13

شرکاء کی تعداد: 386

مجموعی کارکردگی

سیشنز کی تعداد: 2

مقامات کی تعداد:625

شرکاء کی تعداد: 39052

(9)شعبہ نیو سوسائٹیز :

دسمبر 2025ء، پاکستان میں بچوں اور اسلامی بہنوں کے لئے جادو اور جنات، نماز درست کیجئے، ثواب، نیکیاں اور نیتیں، ازکار نماز، جنت کا راستہ، آخری نبی، طہارت کورس، اسلامی بہنوں کے مخصوص مسائل، زکوٰۃ کورس، کفن دفن تربیت، basics of Islam New year Resulution، درودِ پاک کے فضائل، صفائی نصف ایمان، کفن دفن کورس، نوحہ اور شریعت، ایصالِ ثواب سیشنز اور کورسز منعقد کئے گئے۔

پاکستان

کورس کی تعداد:6

مقامات کی تعداد:36

شرکاء کی تعداد: 910

سیشنز کی تعداد: 11

مقامات کی تعداد:51

شرکاء کی تعداد:467

(10)شعبہ تعلیم:

دسمبر 2025ء، پاکستان میں اسٹوڈنٹس،ٹیچرز، پرنسپلز، ڈاکٹرز اور نرسز کے لئے Tolerance اور Winter Campsکورس اورسیشن کروائے گئے۔ یہ کورس و سیشن فزیکل اور آن لائن کروائے گئے نیز یہ کورس و سیشن اردو زبان میں منعقد کئے گئے۔

بیرونِ ملک میں اسٹوڈنٹس کے لئے Seerah of the Prophet،katame nabuwat finality of the last prophet،غوث پاک، qualities of a good student، نماز کا عملی طریقہ، کامیاب لوگ،The Great Mawlid، The blessed mawlid، Aqeeda Khatam e Nabuwat، secondary، The great daughter، how to be a good student، A woman’s asset، Seerat e Mustafa اور higher secondary سیشنز منعقد کئے گئے۔ یہ سیشنز فزیکل اور آن لائن کروائے گئے نیز یہ سیشنز انگلش،اردو اور بنگلہ زبان میں منعقد کیے گئے۔

پاکستان

کورس کی تعداد:1

مقامات کی تعداد:193

شرکاء کی تعداد: 2,000

سیشنز کی تعداد: 1

مقامات کی تعداد:391

شرکاء کی تعداد:1, 500

اوورسیز

سیشنز کی تعداد: 17

مقامات کی تعداد:121

شرکاء کی تعداد:1, 872

مجموعی کارکردگی

کورس کی تعداد: 1

مقامات کی تعداد:193

شرکاء کی تعداد: 2, 000

سیشنز کی تعداد: 18

مقامات کی تعداد:512

شرکاء کی تعداد:3, 372

(11)شعبہ حج و عمرہ:

دسمبر 2025ء، پاکستان میں عمرہ پر جانے والی اسلامی بہنوں اور ذمہ داران اسلامی بہنوں کے لئے حج وعمرہ سیشن اور رفیق الحرمین کورس منعقد کئے گئے۔ یہ سیشن و کورس فزیکل اور آن لائن کروائے گئے نیز یہ سیشن و کورس اردو زبان میں منعقد کئے گئے۔

پاکستان

کورس کی تعداد: 1

مقامات کی تعداد:20

شرکاء کی تعداد: 172

سیشنز کی تعداد: 2

مقامات کی تعداد:368

شرکاء کی تعداد:3, 735


فحش، فاحشۃ، فواحش و فحشاء کے الفاظ عام طور پر بدکاری اور عمل قوم لوط کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ بےحیائی پھیلنے کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں: ایک یہ کہ خود فحش پھیلے اور دوسری یہ کہ فحش کا الزام اور بہتان عام ہو جائے۔ دونوں چیزوں سے مسلم معاشرے پر برے اثرات مترتب ہوتے ہیں اور ساتھ بہتان عائد کرنا مقام انسان کے خلاف ہے اور کسی مؤمن کے وقار کو مجروح کرنا خود بڑا جرم ہے۔

بےحیائی کے متعلق اللہ کریم نے ارشاد فرمایا ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ-فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(۱۹) (پ 18، النور: 19) ترجمہ کنز الایمان: وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بُرا چرچا پھیلے ان کے لیے دردناک عذاب ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ وہ لوگ جو یہ ارادہ کرتے اور چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بے حیائی کی بات پھیلے ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ دنیا کے عذاب سے مراد حد قائم کرنا ہے، چنانچہ عبد اللہ بن ابی، حضرت حسّان اور حضرت مسطح رضی اللہ عنہما کو حدلگائی گئی اور آخرت کے عذاب سے مراد یہ ہے کہ اگر توبہ کئے بغیر مر گئے تو آخرت میں دوزخ ہے۔ مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ دلوں کے راز اور باطن کے احوال جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ (مدارک، ص 774)

اشاعت فاحشہ میں ملوث افراد کو نصیحت: اشاعت سے مراد تشہیر کرنا اور ظاہر کرنا ہے جبکہ فاحشہ سے وہ تمام اقوال اور افعال مراد ہیں جن کی قباحت بہت زیادہ ہے اور یہاں آیت میں اصل مراد زنا ہے۔ (روح البیان، 6 / 130 ملخصاً) البتہ یہ یاد رہے کہ اشاعت فاحشہ کے اصل معنیٰ میں بہت وسعت ہے چنانچہ اشاعت فاحشہ میں جو چیزیں داخل ہیں ان میں سے بعض یہ ہیں:

(1)کسی پر لگائے گئے بہتان کی اشاعت کرنا۔

(2)کسی کے خفیہ عیب پر مطلع ہونے کے بعد اسے پھیلانا۔

(3)علمائے اہلسنّت سے بتقدیر الٰہی کوئی لغزش فاحش واقع ہو تو ا س کی اشاعت کرنا۔

(4) حرام کاموں کی ترغیب دینا۔

(5) ایسی کتابیں لکھنا، شائع کرنا اور تقسیم کرنا جن میں موجود کلام سے لوگ کفر اور گمراہی میں مبتلا ہوں۔

(6) ایسی کتابیں، اخبارات، ناول، رسائل اورڈائجسٹ وغیرہ لکھنا اور شائع کرنا جن سے شہوانی جذبات متحرک ہوں۔

(7)فحش تصاویر اور وڈیوز بنانا، بیچنا اور انہیں دیکھنے کے ذرائع مہیا کرنا۔

(8)ایسے اشتہارات اور سائن بورڈ وغیرہ بنانا اور بنوا کر لگانا، لگوانا جن میں جاذبیت اور کشش پیدا کرنے کے لئے جنسی عریانیّت کا سہارا لیا گیا ہو۔

(9) حیا سوز مناظر پر مشتمل فلمیں اور ڈرامے بنانا،ان کی تشہیر کرنا اور انہیں دیکھنے کی ترغیب دینا۔

(10) فیشن شو کے نام پر عورت اور حیا سے عاری لباسوں کی نمائش کرکے بے حیائی پھیلانا۔

احادیث میں بھی اس بارے میں ممانعت بیان فرمائی گئی ہیں۔ ذیل میں چند احادیث ملاحظہ ہوں:

فرمان مصطفٰی ﷺ ہے : حضور جان عالم ﷺ نے فرمایا اس شخص پر جنت حرام ہے جو فحش گوئی (بے حیائی کی بات) سے کام لیتا ہے۔ (الجامع الصغیر للسیوطی، ص 221، حدیث: 3648)

منقول ہے چار طرح کے جہنمی جو کھولتے پانی اور آگ کے مابین بھاگتے پھرتے ویل و ثبور مانگتے (ہلاکت) مانگتے ہو گے ان میں سے ایک شخص وہ کے جس کے منہ سے خون اور پیپ بہتے ہوں گے جہنمی کہیں گے اس بد بخت کو کیا ہوا ہماری تکلیف میں اضافہ کیے دیتا ہے ؟کہا جائے گا یہ بد بخت خبیث اور بری بات کی طرف متوجہ ہو کر اس سے لذت اٹھاتا تھا جیسا کہ جماع کی باتوں سے۔ (اتحاف السادۃ للزبيدی، 9/147)

اللہ کریم تمام مسلمانوں کو بے حیائی سے بچتے ہوئے اپنی زندگی اسلام کے بتائے ہوئے خوبصورت انداز کے مطابق گزرانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

غلطی کا مطلب کسی کام میں کوئی کوتاہی کر دینا کوئی کام سہی طریقے سے نہ کرنا۔ غلطی ایک دلدل کی مانند ہوتی ہے اگر ہم دلدل کو کیچڑ سمجھیں گے تو اس میں دھنس جائیں گے لیکن دلدل کو دلدل سمجھنے والا انسان اپنے آپ کو اس سے نکالنے کی کوشش کرتا ہے نہ کہ وہی پر جما رہتا ہے۔

غلطی پر اڑ جانے والا خود کو تاریک اندھیروں میں ڈال دیتا ہے۔ ایک کمرہ ابھی تک بند نہیں ہوا اس میں ہلکی ہلکی روشنی رہتی ہے۔ لیکن جب ہم اس کو بند کر دیتے ہے تو مکمل اندھیرے میں گھر جاتے ہیں۔

غلطی کر کے ہمارے پاس معافی مانگنے کا موقع ہوتا ہے یہ ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے کہ ہم اس مغفرت دروازے کو انا کے آڑے آ کر بند کر دیتے ہیں یا پھر معافی مانگ کر اسے دوبارہ کھول لیتے ہیں اور روشنیوں کے امنڈتے سیلاب سے سراب ہو جاتے ہیں۔

حضرت آدم اور شیطان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ حضرت آدم غلطی پر نہ اڑے اور معافی مانگ لی جس کی وجہ سے آج پوری نوع انسانی ان کی شکرگزار ہے اور خاص طور پر امت مسلمه کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ نبیﷺ کی امت ہے، شیطان اپنی غلطی پر اڑا رہا معافی نہ مانگی اور آج جہالت کے اندھیروں میں پڑا ہوا ہے۔

اگر غلطی ہو گئی تو اعتراف کرنا آپ کو چھوٹا نہیں بنا دیتا بلکہ مستقبل میں ایک ابھرتا ہوا ستارہ بنتا ہے۔ ایک ماہر چیف وہ نہیں جس نے کبھی غلطی نہ کی ہو بلکہ وہ ہے جس نے غلطیاں کی ہو اور پھر ان سے سیکھا ہو۔

انسان گر کر ہی اٹھتا ہے لیکن جو انسان کبھی گرا ہی نہ ہو وہ نہیں جانتا کہ اب اٹھنا کیسے ہے۔ غلطی پر اڑ جانے سے بعض اوقات ہم اپنے قیمتی رشتوں کو بھی کھو دیتے ہیں۔ غلطی ہم اپنی انا کی وجہ سے بھی نہیں مانتے۔ جس طرح کامیابیوں کو ہم اپنا حصہ مانتے ہیں تو ناکامیاں اور غلطیاں بھی تو ہماری ہوتی ہیں، پھر ہم ان سے منہ کیوں پھیر دیتے ہیں اور انہیں کسی دوسرے پر کیوں ڈال دیتے ہیں۔ غلطی نہ ماننا کم ظرفی کی علامت ہے۔ ہم اپنی غلطی پر دوسروں پر چیخ چلا رہے ہوتے ہیں بس اپنی غلطی کو چھپانے کے لیے اس پر غصہ تو کرتے ہیں لیکن دراصل اپنی کم عقلی اور اپنے نفسیاتی مرض کو ظاہر کر رہے ہوتے ہیں۔ اپنی غلطی مان لیں کیا ہو گا لوگ آپ کے بارے میں یہی سمجھیں گے کہ آپ کو یہ کام نہیں آتا یا آپ پر طعنے کسیں گے یا کچھ لوگ آپ کی بےعزتی کر دیں گے۔ لیکن یہ اس سے بہتر ہے کہ آپ اپنے نفس کی تسکین کے لیے خاموش رہیں اور دوسروں پر الزام کشی کرنا شروع کر دیں۔ ایک مشور اردو کہاوت ہے کہ ”ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا“



حرمین طیبین سے مراد دو پاک حرم یعنی حرم مکہ اور حرم مدینہ ہیں۔ ان دونوں مقامات کو تاریخ اسلام میں بنیادی حیثیت حاصل ہے اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اللہ کے آخری نبیﷺ کا ظہور اسی شہر یعنی مکہ میں ہوا اور آپ نے اپنی ظاہری زندگی کا زیادہ تر حصہ انہی دو شہروں یعنی مکہ و مدینہ میں گزارا نیز مکہ شریف میں خانہ کعبہ اور مدینہ پاک میں روضہ رسول ﷺ ہے۔

حدود حرم مکہ: عام بول چال میں لوگ مسجد حرام کو حرم شریف کہتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ مسجد حرام، حرم پاک میں ہی داخل ہے مگر حرم پاک مکہ مکرمہ سمیت اس کے ارد گرد میلوں تک پھیلا ہوا ہے۔ (رفیق الحرمین، ص 89)

ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا حرم کی ہے بارش اللہ کے کرم کی ہے

حدود حرم مدینہ: حرم مدینہ بھی شہر مدینہ میں ہی داخل ہے یہ وہ جگہ ہے جس کو اللہ کے آخری نبی، محمد عربی ﷺ نے حرم فرمایا: چنانچہ حدیث پاک میں ہے، مدینہ منورہ عیر پہاڑ سے ثور پہاڑ تک حرم ہے۔ (بخاری، 4/323، حدیث:6755)

فضائل حرمین طیبین: قرآن و احادیث میں حرمین طیبین کے بے شمار فضائل وارد ہیں ان میں سے دو احادیث پیش خدمت ہیں:

1) اللہ کے آخری نبی ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا: اس شہر کو اللہ پاک نے اس دن حرمت عطا فرمائی جس دن زمین و آسمان کو پیدا فرمایا،یہ اللہ پاک کی حرمت کے باعث تا قیامت حرام ہے۔

2) اللہ کے آخری نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:مجھے ایک ایسی بستی کی طرف (ہجرت کا) حکم ہوا جو تمام بستیوں کو کھا جائے گی (یعنی سب پر غالب آ جائے گی) لوگ اسے یثرب کہتے ہیں اور وہ مدینہ ہے، (یہ بستی) لوگوں کو اس طرح پاک و صاف کرے گی جیسے بھٹی لوہے کے میل کو۔ (بخاری، 1/617،حدیث: 1871)

حقوق حرمین طیبین: حرمین طیبین بہت نازک مقامات ہیں۔ جہاں معمولی سی بے ادبی عمر بھر کے اعمال اکارت کر سکتی ہے۔جس طرح ان کے فضائل بے شمار ہیں اسی طرح ان کے حقوق و آداب پر بھی علمائے کرام نے باقاعدہ کتب تصانیف فرمائی ہیں۔ چنانچہ طیبہ کے چار حروف کی نسبت سے حرمین طیبین (حرم مکہ و مدینہ)کے چار، چار حقوق ملاحظہ کیجیے۔

حرم مکہ کے حقوق:

1) تعظیم کرنا: حضور علیہ الصلوة والسلام نے ارشاد فرمایا: یہ امت بھلائی پر رہے گی جب تک اس حرمت کا بحق تعظیم احترام کریں گے جب اسے ضائع کریں گے ہلاک ہوجائیں گے۔ (ابن ماجہ، 3/519، حدیث:3110) لہذا امت کی بقا و سلامتی کے لیے ضروری ہے حرم مکہ کی تعظیم و حفاظت کرے۔

2) شکار کرنے کی ممانعت: حرم امن کی جگہ ہے لہذا حرم میں قتل وغارت کرنا حرام ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًاؕ-(البقرہ: 125) اور ہم نے اس شہر (مکہ) کو امن کا شہر بنایا۔

امن بنانے سے یہ مراد ہے کہ حرم کعبہ میں قتل و غارت حرام ہے یا یہ کہ وہاں شکار تک کو امن ہے یہاں تک کہ حرم شریف میں شیر بھیڑیے بھی شکار کا پیچھا نہیں کرتے بلکہ چھوڑ کر لوٹ جاتے ہیں۔

3) گھاس کاٹنے کی ممانعت: رسول الله ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا کہ اس شہر کو الله نے اس دن ہی حرم بنا دیا جس دن آسمان و زمین پیدا کیے لہذا یہ قیامت تک الله کے حرم فرمانے سے حرام ہے اور مجھ سے پہلے کسی کے لیے اس شہر میں جنگ جائز نہ ہوئی اور مجھے بھی ایک گھڑی دن کی حلال ہوئی چنانچہ اب وہ تاقیامت الله کے حرام کئے سے حرام ہے کہ نہ یہاں کے کانٹے توڑے جائیں اور نہ یہاں کاشکار بھڑکایا جائے اور نہ یہاں کی گری چیز اٹھائی جائے ہاں جو اس کا اعلان کرے وہ اٹھائے اور نہ یہاں کی خشک گھاس کاٹی جائے۔ (مراۃ المناجیح، 2/235)

شرح حدیث: یعنی حرم کے خود رو درخت تو کیا کانٹے توڑنا بھی جائز نہیں،اذخر و کمائت کے سوا وہاں کی سبز گھاس کاٹنا یا اس پر جانور چرانا بھی ہمارے ہاں ممنوع ہے۔

4)حرمت حرم مکہ کی حفاظت: اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖؕ- (پ17، الحج:30) ترجمہ کنز الایمان: اور جو اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے تو وہ اس کےلیے اس کے رب کے یہاں بھلا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی حرمت والی چیزوں کے بارے میں مفسرین کا ایک قول یہ بھی ہے کہ ان سے وہ مقامات مراد ہیں جہاں حج کے مناسک ادا کئے جاتے ہیں جیسے بیت حرام، مشعر حرام، بلد حرام اور مسجد حرام وغیرہ اور ان کی تعظیم کا مطلب یہ ہے کہ ان کے حقوق اور ان کی عزت و حرمت کی حفاظت کی جائے۔

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلیے نیل کے ساحل سے لیکر تا بخاک کا شغر

حرم مدینہ کے حقوق:

1) یثرب کہنے کی ممانعت: مدینہ منورہ کو یثرب کہنا جائز نہیں کہ اعلٰحضرت امام اہلسنّت فرماتے ہیں:مدینہ طیّبہ کو یثرب کہنا ناجائز و ممنوع و گناہ ہے اور کہنے والا گناہگار۔رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: جو مدینہ کو یثرب کہے اس پر توبہ واجب ہے مدینہ طابہ ہے، مدینہ طابہ ہے۔ (مسند امام احمد، 6/409، حدیث: 18544)

کیوں طیبہ کو یثرب کہوں ممنوع ہے قطعاً موجود ہیں جب سینکڑوں اسمائے مدینہ

2) مدینے کی سختی پر صبر: مدینہ طیبہ منبع فضل و برکات ہے لہذا اگر مدینۃ المنورہ مین کوئی سختی یا آزمائش نیکیوں میں اضافے اور درجات کی بلندی کے لیے تشریف لے آئے تو اس پر صبر، صبر اور صبر ہی کرنا چاہیے کہ رسول پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:میرا جو کوئی امتی مدینے کی تکلیف اور سختی پر صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا۔ (مسلم، ص 548، حدیث: 3339)

3) خاک مدینہ کا ادب: خاک مدینہ میں ہر مرض کی شفا ہے۔خاک مدینہ بلکہ مدینہ منورہ کے ہر ہر مقام، ہر ہر ذرّے کی تعظیم لازم ہے بصورت دیگر اس کی سزا بہت سخت ہے۔ امام مالک نے خاک مدینہ کو خراب کہنے والے کیلیے 30 کوڑے لگانے اور قید میں ڈالے جانے کا فتوی دیا۔

بدن پر ہے عطار کے خاک طیبہ پرے ہٹ جہنم ترا کام کیا ہے

4)آواز دھیمی رکھنا: اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) (پ 26، الحجرات: 2) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو اور ان کے حضور زیادہ بلند آواز سے کوئی بات نہ کہو جیسے ایک دوسرے کے سامنے بلند آواز سے بات کرتے ہو کہ کہیں تمہارے اعمال بربادنہ ہوجائیں اور تمہیں خبرنہ ہو۔اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: بارگاہ رسالت ﷺ کا جو ادب و احترام اس آیت میں بیان ہوا، یہ آپ کی ظاہری حیات مبارکہ کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے بلکہ آپ کی وفات ظاہری سے لے کر تا قیامت بھی یہی ادب و احترام باقی ہے۔ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اب بھی حاجیوں کو حکم ہے کہ جب روضۂ پاک پر حاضری نصیب ہو تو سلام بہت آہستہ کریں اور کچھ دور کھڑے ہوں بلکہ بعض فقہا نے تو حکم دیاہے کہ جب حدیث پاک کا درس ہو رہا ہو تو وہاں دوسرے لوگ بلند آواز سے نہ بولیں کہ اگرچہ بولنے والا (یعنی حدیث پاک کا درس دینے والا) اور ہے مگر کلام تو رسول اللہ ﷺ کا ہے۔ (شان حبیب الرحمٰن، ص 225)

ادب گا ہیست زیر آسماں از عرش نازک تر نفس گم کردہ می آید جنید و با یزید ایں جا

اللہ پاک ہمیں ان حقوق کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور حرمین طیبین کی با ادب حاضریاں ہمارا مقدر فرمائے اور بے ادبوں کے سایے سے بھی ہمیں پناہ عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ

حرم سے مراد خانہ کعبہ کے ارد گرد کئی کلو میٹر پھیلا ہوا علاقہ ہے جہاں باقاعدہ نشانات وغیرہ لگا کر اسے ممتاز کر دیا گیا ہے۔ جو لوگ حج و عمرہ کرنے جاتے ہیں انہیں عموماً اس کی پہچان ہو جاتی ہے کیونکہ وہاں جاکر جب لوگوں کا عمرہ کرنے کا ارادہ ہوتا ہے تو عمرہ کرنے کے لئے حدود حرم سے باہر جاکر احرام باندھ کر آنا ہوتا ہے۔ (صراط الجنان، 2/17)

حرم مکہ و مدینہ کے بہت سے فضائل ہیں قرآن کریم میں اللہ پاک نے شہر مکہ کی قسم ارشاد فرمائی فرمایا: لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ(۱) وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ(۲) (پ 30، البلد: 1، 2) ترجمہ: اے پیارے حبیب! مجھے اس شہر کی قسم! جبکہ تم اس شہر میں تشریف فرما ہو۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کی فضیلت کی وجہ سے اس کی قسم ارشاد فرمائی اور مکہ مکرمہ کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ اللہ تعالی نے اسے حرم اور امن والی جگہ بنایا ہے اور مدینہ کی طرف حضور ﷺ نے ہجرت فرمائی۔ مسلمانوں کے دل مدینے کی طرف مائل ہوتے ہیں کیونکہ اس شہر کو رسول اللہ ﷺ سے نسبت حاصل ہے اور عشاق اس کی حاضری کیلئے تڑپتے ہیں۔

امیرِ اہل سنت اپنے نعتیہ دیوان حدائق بخشش میں فرماتے ہیں:

مدینہ اس لئے عطار جان و دل سے ہے پیارا کہ رہتے ہیں میرے آقا میرے سرور مدینے میں

لہذا ہمیں اس کا ادب بجا لانا چاہیے اوردل و جان سے محبت بھی ہونی چاہیے کیونکہ محب کومحبوب سے نسبت رکھنے والی چیز سے محبت ہو جاتی ہے۔ آئیےاس مبارک شہر کے حقوق سننے کی سعادت حاصل کرتی ہیں۔

حرم مدینہ کے درخت نہ کاٹنا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں مدینے کے دو کناروں کے درمیان یہاں سے کانٹے کاٹنا حرام کرتا ہوں۔ (مراۃ المناجیح، 4/245)

بیماری و تکلیف پر صبر: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرا کوئی امتی مدینہ کی سختیوں اورتکلیفوں پر صبر نہ کرے گا مگر میں قیامت والے دن اس کیلئے شفیع اور گواہ ہوں گا۔ (مراۃ المناجیح، 4 /241)

مسلم شریف کی حدیث جو مہری کے غلام سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ حضرت ابو سعید خدری کے پاس حاضر ہوئے اور مدینہ شریف سے کوچ کرنے کے بارے میں مشورہ کیا نیز یہاں کی مہنگائی اور اپنی اولاد کی کثرت کا شکوہ کیا کہ مزید یہاں کی مشقت بھری زندگی سے اور بیماری سے اکتا گیا ہوں۔ اس پر حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تیر استیا ناس ہو میں اس کی اجازت کیسے دے سکتا ہوں جبکہ میں نے اپنے آقا و مولی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو بھی یہاں کی سختیوں اور مشقتوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے صبر کرے گا تو قیامت کے دن میں اس کیلئے شفیع اور گواہ ہونگا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے انہیں فرمایا۔ ایسا نہ کر مدینہ ہی کو لازم پکڑ۔

اہل مدینہ سے نیک سلوک: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی شخص مدینہ والوں سے فریب نہ کرے گا مگر وہ ایسے گھل جائے گا جیسے پانی میں نمک گھل جاتا ہے۔ (مسلم، ص 551، حدیث:3359)

قتل نہ کرنا: خانہ کعبہ کی وجہ سے اللہ تعالی نے پورے حرم کی حدود کو امن والا بنا دیا یہاں تک کہ اگر کوئی شخص قتل و جرم کر کے حدود حرم میں داخل ہوجائے تو وہاں نہ اس کو قتل کیا جائے گا اور نہ اس پر حد قائم کی جائے گی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر میں اپنے والد خطاب کے قاتل کو بھی حرم شریف میں پاؤں تو اس کو ہاتھ نہ لگاؤں یہاں تک کہ وہاں سے باہر آئے۔ (مدارک، ص 174)

حرم شریف کی گرمی پر صبر: مکہ معظمہ میں گرمی بہت زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے آزمائش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن وہاں کی گرمی بھی بڑی برکت والی ہے اس پر صبر کرنے کے حوالے سے حضور ﷺ نے فرمایا: جو شخص دن کے کچھ وقت مکے کی گرمی پر صبرکرے جہنم کی آگ اس سے دور ہو جاتی ہے۔ (اخبار مکہ، 2/311، حدیث: (1565

نیز اس کے علاوہ بھی حرم مکہ و مدینہ کے بہت سے حقوق ہیں جیسے وہاں کےکبوتروں کو نہ ڈرانا، تبرکات کی تعظیم و ادب بجالانا، شکار نہ کرنا وغیرہ۔

اللہ کریم اپنے فضل سے ہمیں وہاں کی با ادب حاضری نصیب فرمائے اور حقیقی معنی میں اس کے حقوق پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

حرم شریف نہایت با برکت اور صاحب عظمت شہر ہے جس میں ہر دم رحمتوں کی چھما چھم بارش بری برستی ہے لطف و کرم کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا مانگنے والا کبھی محروم نہیں ہوتا۔

حقوق:

گناہوں سے بچنا: جس طرح ہر جگہ گناہوں سے بچنا ضروری ہے۔ اس طرح حرم شریف میں گنا ہوں سے بچنا انتہائی ضروری ہے جس طرح ملفوظات اعلی حضرت میں ہے: مکہ میں جس طرح ایک نیکی لاکھ نیکیوں کے برابر ہے اسی طرح ایک گناہ لاکھ گناہ کے برابر ہے بلکہ وہاں پر تو گناہ کے ارادے پر بھی گرفت ہے۔ (ملفوظات اعلیٰ حضرت، ص 236)

حرم شریف کی گرمی پر صبر: حرم شریف میں گرمی بہت زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے آزمائش کا سامنا کرنا پڑتا۔ ہے مگر وہاں کی گرمی بھی بڑی برکت والی ہے اس پر صبر کے حوالے سے ایک حدیث مبارکہ ہے حضور ﷺ نے فرمایا: جو شخص دن کے کچھ وقت حرم کی گرمی پر صبر کرے جہنم کی آگ اس سے دور ہو جاتی ہے۔ (اخبار مکہ، 2/311، حدیث: 1565)

حرم شریف میں بیماری پر صبر: حرم شریف میں جانے سے عموماً ماحول کی تبدیلی کی وجہ سے طبیعت کچھ ناراض سی ہو جاتی ہے۔ حرم شریف میں برکتوں والی بیماری بھی بڑی فضلیت ہے جس طرح اس کے بارے میں ایک حدیث ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص مکہ میں بیمار ہو جائے جو عمل وہ پہلے کر رہا تھا بیماری کی وجہ سے نہ کر سکا تو اس کو اتنا ہی اجر ملے گا اگر بیمار مسافر ہو تو اسے دگنا اجر ملے گا۔ (اخبار مکہ، 2/311)

لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ(۱) وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ(۲) (پ 30، البلد: 1، 2) ترجمہ: اے پیارے حبیب! مجھے اس شہر کی قسم! جبکہ تم اس شہر میں تشریف فرما ہو۔صراط الجنان میں اس آیت کے متعلق ہے: اے حبیب! مجھے اس شہر مکہ کی قسم جب کہ تم اس شہر میں تشریف فرما ہو اے پیارے حبیب حرم شریف کو یہ عظمت آپ کے وہاں تشریف فرما ہونے کی وجہ سے ملی ہے۔ (صراط الجنان:10/678، 679)

مکہ امن والا شہر ہے: وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا (پ 2، البقرۃ: 126) ترجمہ: اور جب ابراہیم نے عرض کی: اے میرے رب! اس شہر کو امن والا بنا دے۔

ادب کرنا: حرم شریف میں جنگلی کبوتر با کثرت ہر مکان میں رہتے ہیں خبردار ہرگز ہرگز نہ اڑائیں نہ ڈرائیں نہ کوئی عذاب ہو جائے بعض ادھر ادھر کے لوگ جو مقامی کبوتر کا ادب نہیں کرتے ان کی ریس نہ کریں مگر بوڑھا انہیں بھی نہ کہیں کہ جب وہاں جانور کا ادب ہے تو انسان کا بھی ہے۔ (بہار شریعت، 1/1086)