بڑھتی ہوئی طلاقوں کی کئی وجوہات ہوسکتی ہے جن میں سے کثرت سے پائے جانے والے درج ذیل اسباب ہیں:

بے پردگی: عورتوں کی بے پردگی طلاقوں کی کثرت میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے،جیسے کہ نام کے ترقی یافتہ مغربی ممالک جن میں پردہ ترقی میں رکاوٹ ہے جو عورتوں کے بےپردہ ہونے کے خواہاں ہے۔اور پردہ کو آزادی کے خلاف سمجھتے ہیں ان ہی ممالک میں زنا کی کثرت ہے۔ اور حرام و ناجائز روابط عام،نتیجۃ میاں بیوی میں محبت کا فقدان ہے،گھر میں سکون کی دولت لاحاصل اور ایک دوسرے کی مرضی کے خلاف ہونے پر فورا طلاق۔ یوں مغربی ممالک میں کثرت طلاق میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

لاعلمی: لاعلمی یعنی شریعت میں جو خاوند و بیوی کے حقوق مذکور ہے ان کےعدم علم کی وجہ سے خاوند بیوی کو مثل نوکرانی تصور کیے ہوئے ہے اور بیوی خاوند کو اپنے زیر قدرت دیکھنا چاہتی ہے۔حالانکہ شریعت نے عورت کو اپنے شوہر کی اتنی تعظیم کا حکم دیا کہ اللہ کے علاوہ اگر کسی کو سجدہ کا حکم ہوتا ہو بیوی کو حکم ہوتا کہ خاوند کو سجدہ کرے۔دوسری جانب خاوند کو بیوی کے حقوق بتاتے ہوئے کہا کہ اگر وہ کماکر لقمہ بھی اپنی بیوی کے منہ پر ڈالتاہے تو یہ اسکے لیے صدقہ ہے۔لیکن یہاں معاملہ برعکس ہے۔ نہ لوگ شریعت و علم سیکھتے ہیں کہ حقوق پتاچلے نہ حقوق ادا کرنے کا کوئی ذہن نتیجۃ فریق اول صرف اپنی من مانی چاہتا ہے اور فریق ثانی اس سے رہائی کا متلاشی ہوتاہے اور طلاق ہوجاتی ہے۔

کثرت خواہش: اس وجہ کا تعلق عورت کے ساتھ ہی ہے کہ عورت اپنے خاوند سے کثرت نفقہ کی خواہاں ہوتی ہے جبکہ شوہر کے اندر اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ عورت کی ہر ہر خواہش پر لبیک کہےنتیجۃ عورت اس شوہر کے ساتھ رہنا پسند نہیں کرتی۔

حالانکہ شریعت نے خاوند و بیوی کو گاڑی کے دو پہیے قراردیا کہ حالات جیسے بھی ہو ایک دوسرے کا ساتھ دے کر جتنا ہے اس پر قناعت کرکےاپنی زندگی کی گاڑی کو لے کر آگے بڑھے۔

ٹی وی اور سوشل میڈیا: میرے نزدیک طلاقوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا ایک اہم سبب معاشرے میں ٹی وی اور ٹی وی کے ذریعے دیکھے جانے والے بے حیاء ڈرامے ہے،ان ڈراموں میں ساس بہو اور میاں بیوی کا جو منفی کردار سامنے لایا جاتا ہے بلاشبہ معاشرے پر اپنا اثر چھوڑتا ہے۔ٹی وی کے ساتھ سوشل میڈیا بھی گھروں کو تباہ کرنے میں اپنا پورا پورا کردار ادا کرتا ہے۔

فقدان اعتماد: میاں بیوی کا ہر وقت ایک دوسرے پر شک کرتے رہنا اور ایک دوسرے پر کسی دوسری عورت یا مرد کے ساتھ ناجائز تعلق کا الزام لگاتے رہنا بھی اس رشتہ ازدواج کو کمزور کردیتاہے۔

اسکے علاوہ بھی درج ذیل وجوہات بھی طلاق کے لیے سبب بنتی ہے:

سنی سنائی باتوں کی وجہ سے ایک دوسرے سے لڑتےرہنا،ذہنی ہم آہنگی کا نا ہونا،عدم بردداشت وغیرہ وغیرہ۔


نکاح کے ذریعے مردو عورت رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوتے ہیں۔ یہ رشتہ ان دونوں کے ما بین ایک پختہ عہد ہوتاہے۔ مرد یہ عہد کرتا ہے کہ وہ اپنی ہونے والی بیوی کے نان ونفقہ کا ذمہ دار ہو گا اور اس کے تمام حقوق کی پاسداری کرے گا۔ عورت یہ عہد کرتی ہے کہ وہ اپنے خاوند کی فرمانبرداری کرے گی، اس کی خدمت کرکے اسے سکون پہنچائے گی اور اس کے گھر اور ان کے ہاں ہونے والی اولاد کی پرورش کرے گی۔ لیکن ہم اپنے معاشرے میں دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ اس عظیم رشتہ کو باوجود اس کے عظیم فوائد کے اسے قائم رکھنے میں کامیاب نہیں ہوتے اور طلاق کے واقعات ہیں کہ رفتہ رفتہ بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ بسا اوقات معمولی معمولی باتوں پر نوبت طلاق تک جا پہنچتی ہے اور ہنستا بستا گھر برباد ہو جاتا ہے۔

ویسے تو طلاق کے اسباب بہت زیادہ ہیں لیکن ہم یہاں چند اہم اسباب کا تذکرہ کرتے ہیں اور نیت کرتی ہیں کہ ہم اپنی زندگی کے معاملات میں ان اسباب سے بچنے کی بھرپور کوشش کریں گی:

1۔ شکوک وشبہات اور بد گمانیاں: شکوک وشبہات اور بد گمانیوں کی بناء پر زوجین کے درمیان باہمی تعلقات میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ اور نوبت طلاق تک جا پہنچتی ہے۔ اور بعض لوگ تو بے انتہاء شک و شبہ اور بد گمانی میں مبتلا رہتے ہیں۔اور بے بنیاد اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہی بد گمانی کر لیتے ہیں۔ اور بغیر کسی ثبوت یا دلیل کے محض سنی سنائی باتوں پر ہی یقین کرکے زوجین اپنے تعلقات کو بگاڑ لیتے ہیں۔ پھر اتنی بد اعتمادی پیدا ہو جاتی ہے کہ مرد طلاق دینے کا پختہ عزم کر لیتا ہے یا بیوی اپنے خاوند سے بار بار طلاق کا مطالبہ شروع کردیتی ہے۔

2۔ عورت کی زبان درازی: بعض خواتین نہایت بد زبان ہوتی ہیں حتی کہ اپنے شوہروں کا بھی احترام نہیں کرتیں۔ ان سے بد کلامی کرتی ہیں۔ انہیں برا بھلا کہتی ہیں اور بے عزت تک کرتی ہیں ! ان میں سے بعض کو جب ان کے خاوند دھمکی دیتے ہیں کہ تم باز آجاؤ ورنہ طلاق دے دونگا۔ تو وہ جوابا کہتی ہیں: طلاق دینی ہے تو دے دو یا چیلنج کرتی ہیں کہ تم طلاق دے کر دکھاؤ ! چنانچہ مرد طیش میں آجاتے ہیں اور طلاق دے دیتے ہیں۔

3۔ خاوند کی نافرمانی: بعض بیویاں اپنے شوہروں کی نافرمان ہوتی ہیں۔ وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتیں۔ ہر کام میں من مانی کرتی ہیں اور ان کے شوہر انہیں جس بات کا حکم دیں یا کسی کام سے منع کریں تو وہ اس کے الٹ ہی کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اپنے خاوندوں کی شکر گذار بھی نہیں ہوتیں۔ ایسی عورتوں کا یہ طرز عمل ان کیلئے تباہ کن ہوتا ہے اور ان کے شوہر آخر کار انہیں طلاق دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

4۔ خود مختار زندگی گزارنے کی خواہش: طلاق کی شرح میں اضافے کی ایک اور اہم وجہ خود مختار زندگی گزارنے کی خواہش ہے۔ آج کی خواتین نہ صرف اپنے تعلیمی اور پیشہ ورانہ سفر میں آگے بڑھ رہی ہیں بلکہ وہ اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی خواہش بھی رکھتی ہیں۔ یہ خواہش انہیں ایک ایسے رشتے میں رہنے سے روکتی ہے جہاں انہیں محدود کیا جائے یا ان کی آزادی پر پابندی لگائی جائے۔ خود مختاری کی یہ خواہش اس بات کا ثبوت ہے کہ خواتین اب اپنی صلاحیتوں اور خود اعتمادی پر یقین رکھتی ہیں۔ وہ یہ سمجھتی ہیں کہ ان کی زندگی کا مقصد صرف گھر کی چار دیواری میں محدود رہنا نہیں بلکہ اپنی قابلیت کے ذریعے اپنی پہچان بنانا اور سماج میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ تاہم، یہ خواہش بعض اوقات ازدواجی رشتے میں چیلنج پیدا کرتی ہے، خاص طور پر جب شوہر یا سسرال کے لوگ اس آزادی کو قبول نہیں کرتے یا اسے رشتے کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

5۔ عدم برداشت: ہمیں لاحق ہو چکا ہے زندگی میں کوئی ایسا پہلو نہیں جہاں ہماری برداشت کی حد ختم نہ ہوچکی ہو میاں بیوی جیسے نازک رشتے میں برداشت کے عنصر کا ہر وقت موجود ہونا لازم وملزوم ہےاگر میاں بیوی ایک دوسرے کی باتوں کو برداشت نہیں کریں گے لچک کا مظاہرہ نہیں کریں گے تو رشتے کبھی قائم نہیں رہ سکتے۔

6۔ ذہنی ہم آہنگی کا فقدان: تمام والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ بیٹے یا بیٹی کے جیون ساتھی میں لازمی طور پر وہ اخلاقی اقدار موجود ہوں جن اخلاقی اقدار کے ساتھ انہوں نے اپنے بچوں کی پرورش کی ہے رشتے طے کرتے ہوئے جب مطابقت اور ہم آہنگی کو ہی پس پشت ڈال دیا جائے تو نتیجہ پھر طلاق کی صورت میں نکلتا ہے۔

7۔ بے میل خاندان میں رشتہ جوڑنا: اکثر خاندان اپنے سے اونچے یا بہت نیچے خاندانوں سے رشتے جوڑ لیتے ہیں جن کے رہن سہن طور طریقوں اور زندگی گزارنے کے سٹائل میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے اور پھر انہی مس میچ رشتوں کے بیچ پڑنے والی دراڑیں طلاقوں تک پہنچ جاتی ہیں لہٰذا لومیرج ہویا ارینجڈ میرج کسی بھی صورت میں مناسب خاندانوں کا انتخاب سب سے زیادہ ضروری ہے اپنے بچوں کی زندگی خراب کرنے سے بہتر ہے کہ رشتہ ہی مناسب جگہ پر کر لیا۔

یہ چند اسباب طلاق بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے اللہ پاک ہمیں ان اسباب سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


اسلام آباد، 24 جون 2025 :

عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت دنیا بھر میں نیکی کی دعوت عام کرنے کے لئے جاری سرگرمیوں میں ایک اہم سرگرمی شعبہ قافلہ بھی ہے جس کے تحت نابینا اسلامی بھائیوں پر مشتمل ایک ماہ کا قافلہ اسلام آباد کے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ سے 24 جون 2025ء کو سفر پر روانہ ہوا جس کا مقصد علمِ دین سیکھنا /سکھانا اور نیکی کی دعوت کو عام کرنا تھا۔

اس سفر کے دوران نابینا اسلامی بھائیوں کو فرض علوم، نماز و وضو کا عملی طریقہ، دعائیں، سنتیں و آداب اور نیکی کی دعوت کے اہم اصول سکھائے جائیں گے۔

اس کے علاوہ بنیادی عقائد، معمولاتِ اہلِ سنت اور دعوتِ اسلامی کے شعبہ جات کا تعارف بھی کروایا جائے گا نیز دینی ماحول سے وابستہ رہنے، ماں باپ کا ادب و احترام کرنے اور معاشرے میں ایک مثالی فرد بننے کے لئے شرکائے قافلہ کی ذہن سازی کی جائے گی تاکہ وہ دعوتِ اسلامی کے پیغام کو آگے پہنچانے کے لئے تیار ہوں۔(رپورٹ: کامران عطاری صوبائی ذمہ دار اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری) 


حیدرآباد،سندھ:

24 جون 2025ء کو مدنی مرکز فیضان مدینہ، آفندی ٹاؤن، حیدرآباد میں شعبہ مدنی کورسز دعوتِ اسلامی کے تحت گزشتہ 63 دن سے جاری رہنے والے مدنی تربیتی کورس اور اصلاحِ اعمال کورس کی اختتامی نشست کا انعقاد کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق ان کورسز میں اسلامی بھائی نہ صرف فرائض و نوافل کی ادائیگی میں مشغول رہے بلکہ معلم کورس خالدحسین عطاری نے نماز کے مختلف پہلوؤں، شرائط اور مفسداتِ نماز کے بارے میں انہیں مفید معلومات فراہم کیں۔

مدنی تربیتی کورس میں اسلامی بھائیوں نے نمازِ تہجد، نمازِاشراق و چاشت، نمازِاوابین اور نماز جنازہ کے طریقہ کٔار سمیت دیگر اہم دینی امور سیکھے جبکہ نماز کی شرائط، فرض، واجبات، مفسدات اور نماز کے مکروہات کے بارے میں اُن کی تربیت بھی کی گئی۔

اس کے علاوہ کپڑوں کی پاکیزگی، نیکی دعوت اور 12 اہم دینی کاموں جیسے فجر کے لئے جگانے، تفسیر سننے سنانے کے حلقے، مدرسۃ المدینہ بالغان نیز نیک اعمال کے سلسلے میں اسلامی بھائیوں کی رہنمائی کی گئی۔

بعدازاں اصلاحِ اعمال کورس بھی منعقد ہوا جس میں تکبر، ریاکاری، غیبت، جھوٹ، پیٹ کا قفل اور پیٹ بھر کر کھانے کے نقصانات کے موضوعات پر روشنی ڈالی گئی جبکہ شرکائے کورس نے نگاہیں جھکا کر چلنے، نیک اعمال کے مطابق زندگی گزارنے اور دیگر اہم اسلامی اخلاقیات سیکھیں۔اختتامی نشست میں شعبہ رابطہ برائے تاجران کے ذمہ دار اسلامی بھائی نے ”استقامت“ کے موضوع پر بیان کیا۔ (رپورٹ: محمداحمدسیالوی عطاری رکن شعبہ مدنی کورسزواعتکاف، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

شعبہ قافلہ دعوتِ اسلامی کے تحت 20جون 2025ء کو سندھ کی مختلف ڈویژنز (جن میں حیدرآباد ، بھنبھور،نوابشاھ ، میر پور خاص ، سکھر اور لاڑکانہ شامل ہیں) سے کثیر عاشقانِ رسول ایک ماہ قافلے میں سفر کرنے کے لئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں جمع ہوئے۔

اس دوران عاشقانِ رسول کی تربیت و رہنمائی کے لئے 2 دن کا تربیتی اجتماع ہوا جس میں عرفات رضا عطاری (صوبائی مشاورت معاون نگران)، سہیل عطاری (صوبائی قافلہ ذمہ دار)،اویس چشتی عطاری اور مولانا شاکر عطاری مدنی (12 ماہ پاکستان سطح کے ذمہ دار) سمیت مختلف ذمہ داران نے شرکا کی ذہن سازی کی۔

بعدازاں امیرِ قافلہ کا مدنی مشورہ ہوا اور تمام عاشقانِ رسول کشمیر KPK کے مختلف سمتوں میں روانہ ہو گئے۔(رپورٹ: علی حسن عطاری شعبہ قافلہ 12 ماہ سندھ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


لوگوں کے عقائد و نظریات کی درستگی کرنے اور  اُن کی اصلاح کے لئے 25 جون 2025ء کو کراچی کے علاقے لانڈھی میں قائم جامع مسجد حنفیہ چشتیہ میں مقامی عاشقانِ رسول کے لئے ”اصلاحِ عقیدہ کورس“ منعقد ہوا۔

اس موقع پر دارالافتاء اہلسنت دعوتِ اسلامی کے مفتی شفیق عطاری مدنی نے نہ صرف عقائد کے موضوع پر بیان کیا بلکہ عقائد سے متعلق عاشقانِ رسول کی جانب سے کئے گئے سوالات کے جوابات بھی دیئے۔

اسی طرح مفتی محمد شفیق عطاری نے کورس میں موجود عاشقانِ رسول کی ذہن سازی کرتے ہوئے انہیں اپنے عقائد کی اصلاح کے لئے دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے ہردم وابستہ رہنے کی ترغیب دلائی جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔(رپورٹ:مولانا محمد حاشر عطاری مدنی ، ڈویژن ساؤتھ کورسز ذمہ دار، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


کرچی کے علاقے ڈیفنس، فیز 4 میں واقع جامع مسجد فیضانِ رمضان میں دعوتِ اسلامی کے شعبہ مدنی کورسز کے تحت اسلامی معلومات میں اضافہ کرنے کے لئے  3 دن کا Basics of Islam کورس کروایا گیا جس میں اسٹوڈنٹس کی شرکت ہوئی ۔

معلومات کے مطابق یہ کورس 20، 21 اور 22 جون 2025ء کو منعقد ہوا جس میں اسٹوڈنٹس کو نماز، اخلاقیات اور سنتیں و آداب جیسی بنیادی اسلامی باتیں سکھائی گئیں۔

کورس کے اختتام پر اسٹوڈنٹس سے ٹیسٹ لیا گیا جس میں کامیاب ہنے والے اسٹوڈنٹس کی حوصلہ افزائی کے لئے اُن کے درمیان سرٹیفیکٹس تقسیم کئے گئے۔(رپورٹ:مولانا محمد حاشر عطاری مدنی ، ڈویژن ساؤتھ کورسز ذمہ دار، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دعوت اسلامی کے شعبہ قافلہ کے زیر اہتمام 24 جون 2025ء بروز بدھ مدنی مرکز فیضانِ مدینہ فیصل آباد مدینہ ٹاؤن میں عظیم الشان ”قافلہ اجتماع“ کا انعقاد کیا گیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں عاشقانِ رسول شریک ہوئے۔  اس موقع پرنگران پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری، اراکین شوریٰ حاجی محمد امین عطاری، حاجی وقار المدینہ عطاری، حاجی محمد اسلم عطاری، حاجی محمد اظہر عطاری اور مولانا حاجی محمد جنید عطاری مدنی بھی موجود تھے۔

عالمی اسلامک اسکالر و نگرانِ شوریٰ مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے”علم دین حاصل کرنے“ کے موضوع پر سنتوں بھرا بیان کیا ۔ نگران شوریٰ نے فرمایا کہ دعوتِ اسلامی کے ماحول میں علمِ دین حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ مدنی قافلے میں سفر کرنا اور مدنی مذاکرہ دیکھنا بھی ہے۔مدنی قافلوں میں سیکھنے سکھانے کے حلقے لگائے جاتے ہیں جس میں نماز، غسل اور وضوکا طریقہ سکھایا جاتا ہے ، فرائض و واجبات بتائے جاتے ہیں، بیانات کا سلسلہ ہوتا ہے۔آپ نےکہا کہ دنیا میں ہر انسان کسی نہ کسی کی محبت میں گرفتار ہوتا ہے لیکن خوش نصیب ہے وہ شخص جسے اللہ پاک علم دین کی محبت عطا کرتا ہے۔دین اسلام کو سیکھنے، قرآن و حدیث کی تعلیمات کو سمجھنے اورآقا کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پیاری پیاری سنتوں پر عمل کرنے کے لئے علم دین کا سیکھنا بہت ضروری ہے اور علم دین سیکھنے کا آسان ذریعہ مدنی قافلوں میں سفر کرنا ہے۔دعوتِ اسلامی ہمیں علم دین سیکھنے کے لئے وقتاً وقتاً بہت سارے مواقع فراہم کرتی رہتی ہے ۔

علم دین سیکھنے پر نگرانِ شوریٰ نے فرمان رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سناتے ہوئے فرمایا کہ ”جو طلب علم کے لئے کسی راستے پر چلاتو اللہ پاک اُسے جنت کے راستے پر چلا دے گا“ تونہ صرف ہم نے قافلے میں سفر کرنا ہے بلکہ اپنے عزیز و اقارب، دوست احباب کو بھی احسن طریقے سے قافلے کی دعوت دینی ہے اور اپنے ساتھ مدنی قافلے میں سفر کروانا ہے۔

اجتماع میں شرکا کو گناہوں سے بچنے، بے حیائی سے بچنے اور نیکیوں بھری زندگی گزارنے کی ترغیب دلائی گئی۔صلوۃ و سلام اور دعا پر اجتماع کا اختتام ہوا۔


26 جون 2025ء کو پنجاب کے شہر فیصل آباد میں واقع دعوتِ اسلامی کے تعلیمی بورڈ  کنزالمدارس میں ایک اہم شخصیت ڈائریکٹر آف دارالمدینہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کراچی کیمپس ڈاکٹر مطیع اللہ عطاری کی آمد ہوئی ۔

اس موقع پر ڈاکٹر مطیع اللہ عطاری کی رکنِ شوریٰ و کنزالمدارس بورڈ کے صدر مولانا جنید عطاری مدنی سے ملاقات ہوئی اور بورڈ کے مختلف اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی جن میں تعلیمی اور دینی خدمات کو بہتر بنانے سے متعلق کلام کیا گیا۔

بعد ازاں ڈاکٹر مطیع اللہ عطاری نے کنزالمدارس بورڈ کے مختلف شعبوں کا وزٹ کرتے ہوئے کنزالمدارس بورڈ کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔(رپورٹ:ابراراحمد کیمرہ مین سوشل میڈیا ڈیپارٹمنٹ کنزالمدارس بورڈ فیصل آباد، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


فیصل آباد، پنجاب  24 جون 2025ء :

پنجاب، پاکستان کے شہر فیصل آباد میں قائم دعوتِ اسلامی کے تعلیمی بورڈ کنزالمدارس میں 24 جون 2025ء کو سوشل میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے نگران حاجی بغداد رضا عطاری کو باضابطہ طور پر آمد کا موقع ملا۔

اس دوران سیّد ذیشان حسین بخاری (HOD سوشل میڈیا ٖیپارٹمنٹ، کنزالمدارس ورڈ)نے حاجی بغداد رضا عطاری کو کنزالمدارس بورڈ کا تفصیلی دورہ کروایا اور سوشل میڈیا کے حوالے سے اہم امور پر بریف کیا۔

اس کے علاوہ کنزالمدارس بورڈ کے تمام اہم اراکین کے ہمراہ ایک میٹنگ بھی ہوئی جس میں کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور سابقہ کارکردگی پر بھی گفتگو کی گئی۔

میٹنگ میں کنزالمدارس بورڈ کے کنٹرولر امتحانات مولانا محمد اسماعیل عطاری مدنی اور پروفیسر جاوید اسلم باجوہ سمیت دیگر اہم ذمہ داران نے شرکت کی۔ میٹنگ میں آئندہ کے اہداف، مستقبل کی حکمت عملی اور بہتر کارکردگی کے لئے درکار اقدامات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔(رپورٹ:ابراراحمد کیمرہ مین سوشل میڈیا ڈیپارٹمنٹ کنزالمدارس بورڈ فیصل آباد، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

فیصل آباد، پنجاب میں قائم مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں AI (Artificial intelligence ) کے استعمال کے حوالے سے ایک ٹریننگ سیشن منعقد کیا گیا جس میں پاکستان مشاورت آفس کے ذمہ دار اسلامی بھائی شریک ہوئے۔

اس دوران صوبائی دارالحکومت لاہور سے آئے ہوئے مبلغِ دعوتِ اسلامی نے ذمہ داران کی رہنمائی کرتے ہوئے بتایا کہ AI (Artificial intelligence) کا استعمال آفس ورک میں کافی مفید اور مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔اس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوتی ہے بلکہ کام کی درستگی اور کارکردگی بھی بہتر ہوتی ہے۔

دورانِ سیشن پریزنٹیشن، سوشل میڈیا پوسٹس، بزنس ڈاکومنٹس، مختلف زبانوں میں کمیونیکیشن کے لئے خود کار ترجمہ اوراس کے علاوہ دیگر اہم نکات پر مشاورت کی گئی۔آخر میں ذمہ دار اسلامی بھائیوں کو بتایا گیا کہ اس جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے کیسے دینِ اسلام کی خدمت کی جاسکتی ہے۔ (رپورٹ:عبدالخالق عطاری نیوز فالو اپ ذمہ دار نگرانِ پاکستان مشاورت، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


کراچی (28 جون 2025ء)- دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں 28 جون 2025ء بمطابق 3 محرم الحرام 1447ھ کی شب ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں کراچی شہر کے عاشقانِ رسول نے براہِ راست جبکہ دیگر شہروں اور دیگر ممالک کے اسلامی بھائیوں نے مدنی چینل کے ذریعے شرکت کی۔

اس موقع پر شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے ناظرین و حاضرین کے سوالات کے جوابات دیئے نیز دینی، اخلاقی، تنظیمی، شرعی اور معاشرتی حوالے سے اُن کی رہنمائی کی جس سے شرکا کو اپنی زندگی کو مزید بہتر بنانے اور معاشرتی فضا کو پاکیزہ بنانے میں مدد ملی۔

بعض سوالات کے جوابات:

سوال: مختلف ویڈیوزدیکھتے رہنا کیسا؟

جواب:ویڈیوز مختلف قسم کی ہوتی ہیں، اچھی، بُری اورفضول وغیرہ ۔دعوتِ اسلامی کی ویڈیوز اچھی ہی ہوتی ہیں انہیں دیکھا جائے۔گنا ہ بھری ویڈیو سے بچنا توبہت ضروری ہے اورفضول سے بھی بچا جائے۔ نیک لوگوں کے اوصاف میں ہے کہ وہ اپنے آپ کو لہو و باطل یعنی غلط باتوں اورکھیل کُود میں ملوث نہیں ہونے دیتے،ایسی مجالس اور کاموں سے منہ پھیرے رہتے ہیں۔رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : مِنْ حُسْنِ اِسْلامِ الْمَرْءِ تَرْکُہُ مَالَایَعْنِیْہِ یعنی کسی شخص کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ بے کار باتیں چھوڑ دے۔(مسند امام احمد ،ج3،ص259،حدیث: 1737)نجات دلانے والے کاموں، ذکر و اذکار میں مصروف رہیں تاکہ فضول کاموں میں نہ پڑیں ۔بندہ اللہ پاک کی رضاکے کام کرے اورکرتا جائے ۔

سوال:درودشریف وغیرہ پڑھ کر اگرکسی کو ثواب مِلک کردیاجائے تو کیا وہ مرحومین کو ایصال کرسکتاہے ؟

جواب:جی ہاں !جب کوئی کہے میں نے فلاں نیکی کا ثواب آپ کےمِلک کیا تو اب ’’قبول کیا‘‘کہنے کی حاجت نہیں کیونکہ مِلک کرتےہی دوسرے کو ثواب مِلک ہوجاتاہے ۔

سوال:امیراہل سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے بوڑھوں کے بارے میں کیا فرمایا؟

جواب:یہ میری برادری ہے ۔ عام طورپر بیماری وغیرہ کی وجہ سے بوڑھے دکھی ہوتے ہیں، انہیں خوشیاں دینی چاہئیں، ہم انہیں خوشیاں دیں گے تو ہمیں بھی خوشیاں ملیں گی۔اولادکو چاہیئے کہ ہزار کام چھوڑ کر اپنے بوڑھے ماں باپ کا کا م کردیا کریں ۔یہ بھی تو کام ہے، جنت کاانعام ہے کہ ان کا کام کر کے جنت کے انعامات حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔بزرگوں کوسکون دیں گے تو خود بھی سکون پائیں گے۔جو بوڑھوں کی عزت کرتاہے، جب یہ خود بوڑھاہوگا تو اللہ پاک ایسے لوگ پیدافرمائے گا جو اس کی عزت کریں گے۔اس میں ایک اوربھی بشارت ہے کہ اس عزت کرنے والے اور خدمت کرنے والے کی اپنی عمر بھی لمبی ہوگی۔بزرگوں سے دعائیں لیں۔ اگریہ کوئی سخت کلمات کہہ دیں(انہیں نہیں کہنا چاہیئے ) تو صبر کریں اور جواب نہ دیں۔تمام بزرگ بھی برف کی طرح ٹھنڈے ہو جائیں ۔مزاج کے خلاف بات ہوجائے اورغصہ آجائے توصبر کریں اور کچھ نہ بولیں۔ ورنہ نہ بولنے والے بول دیں گے۔تِرمِذی شریف میں ہے :مَنْ صَمَتَ نَجَا یعنی جوچُپ رہا اُس نے نَجات پائی۔(سنن الترمذی،۴ /225 ، حدیث: 2509)اور یہ مُحاوَرہ بھی خُوب ہے:ایک چُپ سو کوہَرائے ۔

سوال:کاروبار اوردیگرکام کرنے والوں کے لئے کیا سیکھناضروری ہے ؟

جواب:کاروبار اور کام کرنے والوں کو چاہیئے کہ اپنے کاروبار اور کام کے بارے میں ضروری علمِ دین حاصل کریں تاکہ گناہ وحرام میں نہ پڑجائیں۔اللہ پاک پر توکل وکامل بھروسہ کریں ،جوقسمت میں لکھا ہے وہ مل کررہے گا۔لوگ کہتے ہیں میری روزی بندہوگئی ہے یہ نہیں کہنا چاہیئے کیونکہ جس کی روزی بندہوجائے وہ قبرستان چلا جاتاہے جو زندہ ہے اس کی روزی کبھی بندنہیں ہوتی۔

سوال:وضو میں مسواک کرنے کا کیا فائدہ ہے ؟

جواب:مسواک کرکے نماز پڑھنا 70 نمازوں کے برابرہے ۔ جن کو مسواک کی عادت ہوگی ان شاء اللہ الکریم ان کا خاتمہ ایمان پر ہوگا۔ رسالہ ”مسواک شریف کے فضائل “پڑھیں ۔

سوال:بزرگوں کا مدنی چینل کب شروع ہوا،پہلا کون ساپروگرام تھا اور روزانہ اس کی ٹرانسمیشن کب ہوتی ہے ؟

جواب:بزرگوں کا مدنی چینل 1 محرم شریف 1446ھ کوشروع ہوا۔پہلاپروگرام حضرت عمرفاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے بارے میں تھا ۔ روزانہ اس کی ٹرانسمیشن صبح 10 تا 12 بجے ہوتی ہے ۔

سوال:اِس ہفتے کارِسالہ ” چھینک کے آداب “ پڑھنے یاسُننے والوں کو امیراہل سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب:یاربّ کریم! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ ”چھینک کے آداب“ پڑھ یا سُن لے ،اُسےاپنی رضا پر راضی رہنے کی سعادت دے اور ماں باپ سمیت اس کی بے حساب مغفرت فرما ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم