15
محرم الحرام 1444ھ بمطابق 13 اگست 2022ء بروز ہفتہ بعد نماز عشاء عالمی مدنی مرکز
فیضان مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں شہر کراچی
کے عاشقان رسول فیضان مدینہ آکر جبکہ دیگر مقامات پر ہزاروں عاشقان رسول بذریعہ
مدنی چینل شریک ہوئے۔
مدنی
مذاکرے میں شیخ طریقت، امیر اہلسنت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقان رسول کی جانب سے کئے گئے سوالات کے علم
و حکمت سے بھر پور جوابات دیئے اور مسلمانوں کی دینی ومعاشرتی رہنمائی کے لئے مدنی پھول ارشاد فرمائے۔
مدنی مذاکرے کے چند مدنی پھول ملاحظہ کیجئے:
سوال: ہم دُرست نمازکس طرح پڑھ سکتے
ہیں ؟
جواب: جس طرح ہرہنرسیکھنے سے آتاہے، اسی طرح نماز بھی سیکھنےکی کوشش کریں گے تو دُرست نمازبھی آجائے گی،دعوتِ اسلامی میں ”فیضانِ
نمازکورس “کروایا جاتاہے، اس میں داخلہ لے
لیں،نمازسیکھنے کے لیے مکتبۃ المدینہ کی ان کتب’’نمازکے احکا م اور فیضانِ نماز‘‘کا مُطالَعہ
کیجئے ۔
سوال : تعزیّت کا اسلامی طریقہ کیا ہے؟
جواب: تعزیّت اظہارِغم ہوتاہے،مثلاً کسی کے ہاں فوتگی ہوجائے تواُن کے پاس جائیں ، سلام
کریں،میّت کے لیے دُعائے مغفرت کریں،لواحقین وسوگواران کو صبرکی تلقین کریں۔
سوال: کیااپنے وطن سے محبّت کرنی چاہئے؟
جواب: وطن سے محبّت تو
فطری بات ہے،اپناوطن جس میں بندہ پیداہوتاہے، بڑاہوتاہے، اس سےفطری طورپر محبّت
ہوتی ہے ،اپنا وطن اپنا ہوتاہے ، اپنے وطن
کی تعمیرکی جاتی ہے ،سجایا جاتاہے ،جو وطن کی توڑپھوڑ کرتاہے ،وہ حماقت کرتاہے
،اگرہم سب وطن کی تعمیرمیں لگ جائیں تو سب
سکھی ہوجائیں ۔
سوال : دعوتِ اسلامی کیسی تحریک ہے؟
جواب : دعوت ِاسلامی مسجدبناؤ اورمسجدبھروتحریک ہے ۔
سوال: پاکستان کیساملک ہے؟
جواب: پاکستان میں جس آزادی سے دِین کا کام ہورہا
ہے اتنا کسی بھی ملک میں آزادی سے نہیں
ہوتا،اللہ کرے ایساہی رہے اس کا بچہ بچہ نمازی بن جائے ۔
سوال: جب خوشی حاصل ہوتو کیا کرنا چاہئے؟
جواب: اللہ پاک کا شکراداکرناچاہئے ،صدقہ
وخیرات کیا جائے ،بندہ اپنا محاسبہ کرے
،نیکیاں کرنے اورگُناہوں سے بچنے کی نیّت کرے ۔
سوال: بچے
کیسےجشن ِآزادی منائیں؟
جواب: بچے بھی جشنِ آزادی منانے کے حقدارہیں ،موسیقی ،باجےوغیرہ سے بچیں
۔
سوال:
آپ کون سے شہر میں پیداہوئے ہیں ؟
جواب: میں اصلاً نسلاًپاکستانی ہوں،کراچی(سندھ) میں پیداہواہوں مگر مدینہ شریف میں مرنے کی
میری خواہش ہے ۔
سوال : آپ
کی فیلڈ(Field) کیا ہے؟
جواب: نیکیاں بڑھاؤ،گناہ
مٹاؤ،یہ ہماری فیلڈاور ہمارادھندایعنی کاروبارہے۔
سوال: مسواک کس طرح اپنے ساتھ
رکھیں،جبکہ ہمارے لباس میں اسے رکھنے کے لیے جیب نہیں ہوتی؟
جواب:اپنے لباس میں مسواک کی جگہ بنا لیں ،آگے نہیں
رکھ سکتے تو کہیں بھی مناسب جگہ پر لبا س میں جگہ بنا لیں ،یہ دل میں رکھنے والی چیز ہے ،طے کرلیں کہ مسواک کو اپنانا ہے ،اس
سُنّت کو قبرمیں جانے تک نِبھانا ہے اوراس کے لیے اپنے پورے لباس میں کہیں نہ کہیں
جگہ بنانی ہے ،اِنْ شَآءَاللہُ الْکریم تاکہ یہ ہمارے ساتھ رہے ،جہاں بھی وضوکریں تومِسواک استعمال کرسکیں ۔
سوال : کیا اسلامی بہنیں مسواک کرسکتی ہیں ؟
جواب : جی ہاں !
اُن کے لیے حضرت
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکی
سُنّت ہے۔
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ” امیرِ اہلِ سنّت کے سفرِ مدینہ کے واقعات “ پڑھنے یاسُننے والوں کوجانشینِ امیرِاہلِ ِسُنّت مدظلہ العالی نے کیا دُعا دی ؟
جواب: یارَبَّ المصطفےٰ! جوکوئی 21صفحات کا رسالہ ” امیرِ
اہلِ سنّت کے سفرِ مدینہ کے واقعات“ پڑھ یا سُن لے ،اُسےعاشقِ مدینہ
امیر ِاہلِ سنّت کے صدقے مدینے کا حقیقی دیوانہ بنااوراُس سے ہمیشہ ہمیشہ کےلئے راضی ہوجا ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ۔
جانشین امیر اہلسنت کی اہلیہ مرحومہ کے لئے لاہور میں ایصال
ثواب اجتماع کا انعقاد
15
اگست 2022ء بروز پیر مدنی مرکز فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور میں جانشین امیر
اہلسنت حاجی مولانا عبید رضا عطاری مدنی مُدَّ ظِلُّہُ العالی کی اہلیہ
مرحومہ کے لئے ایصال ثواب اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں سمن آباد ٹاؤن، داتا
گنج ٹاؤن، گلبرگ ٹاؤن اور اقبال ٹاؤن کے عاشقان رسول سمیت مختلف ذمہ داران دعوت اسلامی
نے شرکت کی۔
جانشین
امیر اہلسنت نے ”ایصالِ ثواب“ کے موضوع پر سنتوں بھرا بیان کیا اور شرکا کو
اپنے مرحومین کے لئے بھی ایصال ثواب کرنے کا ذہن دیا۔ اس موقع پر اراکین شوریٰ حاجی
محمد اظہر عطاری اور حاجی یعفور رضا عطاری بھی موجود تھے۔
آخر میں
جانشین امیر اہلسنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ سے اسلامی بھائیوں نے ملاقاتیں بھی کیں۔
نگران شوریٰ مولانا عمران عطاری کا اسلام آباد میں طلبہ
کے درمیان سنتوں بھرا بیان
مرکزی
مجلس شوریٰ دعوت اسلامی کے نگران مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ
ظِلُّہُ العالی 17
اگست 2022ء کو اپنے تنظیمی دورے پر عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی سے پاکستان
کے صوبہ پنجاب روانہ ہوگئے۔
پنجاب
پہنچ کر نگران شوریٰ حاجی مولانا محمد عمران عطاری مُدَّ
ظِلُّہُ العالی نے پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد میں قائم
مدنی مرکز فیضان مدینہ میں منعقد کردہ سنتوں بھرے اجتماع میں بیان فرمایا۔ اجتماع
میں اسلام آباد، راولپنڈی، کشمیر اور خیبر پختونخواہ میں قائم جامعات المدینہ کے
طلبہ ، اساتذہ کرام اور ناظمین شریک تھے۔
نگران
شوریٰ نے شرکا کی تربیت کرتے ہوئے انہیں اپنا زیادہ سے زیادہ وقت تعلیم میں خرچ
کرنے، دینی کاموں میں شریک ہونے اور محنت و شوق کے ساتھ علم دین حاصل کرنے کی
ترغیب دلائی۔
اس
موقع پر نگران پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری، اراکین شوریٰ حاجی محمد اسلم عطاری، حاجی
مولانا محمدجنید عطاری مدنی، حاجی مولانا محمد اسد عطاری مدنی اور حاجی محمد رفیع
عطاری بھی موجود تھے۔
عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے
زیرِ اہتمام پچھلے دنوں مٹیاری حیدرآباد سندھ میں شعبہ مزارات اولیاء کے ذمہ دار
اسلامی بھائیوں نے پاکستان مشائخ بورڈ کے ممبر پیر اکبر علی قادری صاحب سے ملاقات کی۔
اس دوران صوبائی ذمہ دار عاصم عطاری نے انہیں
دنیا بھر میں اسلامی تعلیمات عام کرنےوالے دعوتِ اسلامی کے مختلف شعبہ جات کا
تعارف کروایا جس پر انہوں نے دعوتِ اسلامی کی کاشوں کو سراہا۔بعدازاں صوبائی ذمہ
دار نے پیر اکبر علی قادری صاحب کو مکتبۃ
المدینہ دعوتِ اسلامی کے کُتُب تحفے میں پیش کیں۔(رپورٹ:دانیال ذمہ دار پاکستان آفس، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
دعوتِ اسلامی کے تحت 16 اگست 2022ء بروز منگل بذریعہ انٹر نیٹ مدنی مشورہ منعقد ہوا جس میں شعبہ کفن دفن کےکراچی سٹی ذمہ داران، ڈسٹرکٹ ذمہ داران اور
ٹاؤن ذمہ داران کی شرکت ہوئی۔
مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی منصور عطاری نے
شعبے کے دینی کاموں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مختلف موضوعات پر کلام کیا
اور ذمہ دار اسلامی بھائیوں کو مدنی
پھولوں سے نوازا۔
مزید رکنِ شوریٰ نے مدنی مشورے میں شریک ذمہ
داران کو زیادہ سے زیادہ تدفین کورس کروانے کے اہداف دیئے جس پر انہوں نے اچھی
اچھی نیتوں کا اظہا رکیا۔(رپورٹ:عزیر عطاری رکن شعبہ کفن
دفن ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
شعبہ روحانی علاج دعوتِ اسلامی کے تحت پنجاب پاکستان کے شہر ڈیرہ غازی خان میں مدنی مشورے کا انعقاد
ہوا جس میں ڈسٹرکٹ، تحصیل اور استخارہ کے ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔
ڈویژن ذمہ دار مولانا محمدانیس عطاری مدنی نے اس مدنی مشورے میں ستمبر 2022ء کو ڈیرہ غازی
خان میں 30 مقامات پر ہونے والے دعائے شفاء اجتماع کے حوالے سے گفتگو کی نیز ڈیرہ
غازی خان کے ہر یوسی میں روحانی علاج کے بستے مکمل کرنے کے بارے میں مشاورت ہوئی
جس پر ذمہ داران نے اپنی اپنی رائے کا اظہارکیا۔
آخر میں دعوتِ اسلامی کے 12 دینی کاموں کے سلسلے
میں اہم نکات پر تبادلۂ خیال کیا گیا جس پر ذمہ داران نے اچھی اچھی نیتوں کا
اظہار کیا۔
(رپورٹ:سمیر علی عطاری آفس ذمہ دار، کانٹینٹ:غیاث الدین
عطاری)
دعوتِ اسلامی کے شعبہ جات کے ذریعے دنیا بھر میں
دینی کام عام کرنے والے ذمہ دار اسلامی بھائیوں کے لئے وقتاً فوقتاً مختلف کورسز
کا اہتمام کیا جاتا جس میں اُن کی دینی، اخلاقی اور تنظیمی اعتبار سے تربیت کی
جاتی ہے۔
اسی سلسلے میں پچھلے دنوں شعبہ کفن دفن دعوتِ
اسلامی کے تحت تدفین کورس کا انعقاد کیا گیا جس میں مدرسۃ المدینہ بوائز ڈسٹرکٹ
اوکاڑہ کے ناظمین سمیت دیگر اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔
ڈویژن ذمہ دار لیاقت عطاری نے کورس میں شریک
ناظمین کو غسلِ میت دینے، کفن کاٹنے اور پہنانے کا طریقہ سکھایا نیز کورس مکمل کرنے کے بعد دیگر عاشقانِ رسول کو
بھی اس طرح کے کورسز میں داخلہ دلوانے کا ذہن دیا جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتوں
کا اظہار کیا۔(رپورٹ:احمد ندیم عطاری شعبہ تعلیم،
کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
میر پور آزاد جموں و کشمیر میں فیضان آن لائن اکیڈمی
کے شفٹ ذمہ داران کا مدنی مشورہ
دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام میر پور آزاد جموں و کشمیر میں قائم شعبہ فیضان آن لائن
اکیڈمی میں مدنی مشورے کا انعقاد ہوا جس میں شفٹ ذمہ دار اسلامی بھائیوں کی شرکت
رہی۔
رکنِ شعبہ فیضان آن لائن اکیڈمی وحید اعظم عطاری مدنی اور برانچ ناظم سیّد بلال شاہ عطاری
نے اس مدنی مشورے میں ذمہ داران سے شعبے کے دینی کاموں کی سابقہ کارکردگی کا جائزہ لیا۔
اس کے علاوہ رکنِ شعبہ نے ذمہ داران کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے دینی
کاموں میں مزیدبہتری لانے کے حوالے سے ذمہ داران کی ذہن سازی کی۔(رپورٹ:محمد وقار یعقوب مدنی برانچ ناظم فیضان آن لائن
اکیڈمی، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
مفتی ِ دعوتِ اسلامی مفتی محمد فاروق عطاری مدنی
کے ایصالِ ثواب کے لئے سنتوں بھرا اجتماع
دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام عالمی مدنی مرکز
فیضانِ مدینہ کراچی میں مفتیِ دعوتِ اسلامی مفتی محمد فاروق
عطاری مدنی کے ایصالِ ثواب کے لئے سنتوں بھرے اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں
مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔
دورانِ اجتماع رکنِ مرکزی مجلسِ شوریٰ حاجی محمد
امین عطاری نے سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئے مفتی صاحب کےحالاتِ زندگی کے چند واقعات
بیان کئےاوراجتماع میں شریک اسلامی بھائیوں کو مفتی صاحب کی طرح دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں
میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا ذہن دیا جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔بعدازاں
رکنِ شوریٰ حاجی محمد امین عطاری نے دعا کروائی۔(کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے
عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں 16 اگست 2022ء بروز منگل ایک میٹنگ ہوئی
جس میں کراچی سطح کے شعبہ مدنی قافلہ ذمہ دار اسلامی
بھائیوں کی شرکت رہی۔
اس میٹنگ میں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی
محمد امین عطاری نے اسلامی بھائیوں کی دینی، اخلاقی اور تنظیمی اعتبار سے تربیت کی
اور شعبے کے دینی کاموں کا فالو اپ لیا جس پر ذمہ داران نے انہیں شعبے کی سابقہ
کارکردگی کے حوالے سے بریفنگ دی۔
رکنِ شوریٰ حاجی محمد امین عطاری نے ذمہ دار
اسلامی بھائیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں مزید اسی طرح اخلاص کے ساتھ دعوتِ
اسلامی کے دینی کاموں کو کرنے اور دینی ماحول سے ہر دم وابستہ رہنے کا ذہن دیا۔(کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
یومِ
آزادی کے موقع پر دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام پنجاب پاکستان کے شہر لاہور میں
سنتوں بھرے اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں UVAS (یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینمل سائنسز) کے اسٹوڈنٹس سمیت کثیر عاشقانِ رسول نے شرکت
کی۔
دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی
یعفور رضا عطاری نے ”Philosophy
of Independence “ کے موضوع پر سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئے آزادی
کے مقاصد بیان کئے اور ملکِ پاکستان کی
ترقی کے لئے مدنی پھول دیئے۔
بعدازاں رکنِ شوریٰ نے اجتماع میں شریک اسٹوڈنٹس
کو دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے ہر دم وابستہ رہتے ہوئے اسلامی تعلیمات کے مطابق
زندگی گزارنے کی ترغیب دلائی جس پر انہوں
نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہا رکیا۔(رپورٹ:محمد
ابوبکر عطاری معاون رکن شوری حاجی یعفور رضا عطاری، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
اکثر
والدین کہتے ہیں کہ ہمارا بچہ بہت ضدی ہو گیا ہے،
بات نہیں مانتا، بد تمیزی کرتا ہے، اپنی من مانی کرتا ہے وغیرہ۔ یاد رہے! بچے
کا ضدی ہونا کوئی ایسا مسئلہ نہیں کہ جس کا حل ممکن نہ ہو۔ کیونکہ یہ کوئی پیدائشی
بیماری نہیں کہ بچے پیدا ہوتے ہی ضدی ہوں، بلکہ ان کے ضدی ہونے کی کئی وجوہات ہیں۔
بچوں کی تربیت چونکہ کسی مہارت سے کم نہیں لہٰذا والدین پر لازم ہے کہ
ان تمام عوامل پر گہری نظر رکھیں جو بچے کو ضدی بناتے ہیں۔ چنانچہ والدین کی خیر
خواہی کی نیت سے ذیل میں ایسی ہی چند باتوں کا ذکر جا رہا ہے، امید ہے انہیں پیش
نظر رکھنے سے وہ بچوں کے ضدی ہونے کی وجوہات کے علاوہ ان کے حل بھی جان لیں گے۔
بچے کے غصے میں ہونے
کی علامات
بچے
عموماً غصے کی حالت میں ضد کرتے ہیں، لہٰذا
سب سے پہلے وہ علامات جاننا ضروری ہیں جن سے یہ معلوم ہو سکے کہ بچہ اس وقت
غصے میں ہے۔ چنانچہ جب بچہ غصے کی حالت میں ہو تو ٭اکثر بلند آواز سے روتا ہے تا
کہ اس کی طرف توجہ دی جائے ٭پیروں کو زمین
پر مارتا ہے ٭سر اور ہاتھوں کو دیوار پر مارتا ہے ٭آس پاس کی چیزوں کو لاتیں مارتا
ہے ٭بڑوں سے بد تمیزی کرتا ہے٭بغیر کسی وجہ کے دانتوں
سے کاٹنے لگتا ہے ٭کھلونے وغیرہ توڑنے لگتا ہے ٭ہاتھ میں جو بھی چیز آئے اٹھا کر
پھینک دیتا ہے۔
ضدی پن کے اسباب و وجوہات اور ان کا علاج
بے جا روک ٹوک: بچوں کو ہر
وقت کسی نہ کسی کام یا بات سے روکتے رہنا انہیں ضدی و ڈھیٹ بنا دیتا ہے۔
علاج: بچوں کو ہر
وقت ٹوکنے و منع کرنے کے بجائے انہیں جس کام سے منع کر رہے ہیں اس کے نقصان دہ
ہونے کے متعلق سمجھائیں۔ مثلاً بچہ بار بار گرم برتن کو چھونے کی کوشش کرے تو اسے
بار بار نہ ٹوکیں، بلکہ یہ سمجھائیں اور احساس دلائیں کہ گرم چیزوں کو چھونا کس
قدر نقصان دہ ہے! آپ کا یہ احساس بیدار کرنا اسے ہمیشہ کے لئے ہر گرم شے کو چھوتے
ہوئے احتیاط کا دامن تھامنا سکھا دے گا۔ ان شاء اللہ
بے جا تفتیش: بچے جب بھی کوئی
کام کریں تو ان کی پوچھ گچھ شروع کر دی جائے کہ انہوں نے یہ کام کیوں کیا! یا انہیں ڈانٹا
ڈپٹا جائے تو بسا اوقات ان میں ضد کی
کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔
علاج:
بچوں کو ہر وقت بے جا تفتیش کے کٹہرے میں کھڑا رکھیں نہ ان سے سختی سے پیش آئیں کہ
بلا وجہ سختی برداشت کرنے والے بچے بڑے ہو کر احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں، ان
میں خود اعتمادی نہیں رہتی اور انہیں ہر وقت یہی خوف رہتا ہے کہ وہ کچھ غلط کر رہے
ہیں۔ چنانچہ اگر ان سے کوئی غلطی ہو جائے تو نرمی
سے اس غلطی کا ازالہ کریں اور اپنے اور بچوں کے درمیان اعتماد کا رشتہ قائم کرنے
کوشش کریں تاکہ وہ اپنی ہر بات آپ کے ساتھ شئیر کر سکیں۔
بے جا لاڈ پیارخواہشات کی تکمیل: اکثر
والدین بچوں سے بے جا لاڈ پیار کرتے ہیں اور بچہ بھی فطری طور پر والدین کے ساتھ
اٹیچ ہوتا ہے، مگر جب وہ کسی موقع پر اس وہم کا شکار ہو جائے کہ اس کے والدین کی
توجہ کا مرکز کوئی اور ہے یعنی وہ کسی اور بچے سے لاڈ پیار کریں تو یہ برداشت نہیں
کر پاتا اور لاشعوری طور پر ضد کرنے لگتا ہے۔اسی طرح بچوں کی ہر خواہش پوری کرنے
والے والدین اگر کبھی کوئی خواہش پوری نہ کر پائیں یعنی بچے ایسی خواہش کا اظہار
کر دیں جو بر وقت پوری نہ ہو سکتی ہو یا ان کے لئے نقصان دہ ہو تو وہ یوں بھی ضدی
ہونے لگتے ہیں۔ مثلاً ایک حکایت میں ہے کہ
ایک بادشاہ کے یہاں بیٹا نہیں تھا۔ اس نے اپنے وزیر سے کہا: بھئی کبھی اپنے بیٹے
کولے آنا۔ اگلے دن وزیر اپنے بیٹے کو لے کر آیا، بادشاہ نے اسے دیکھا اور پیار
کرنے لگا، پھر بادشاہ نے کہا: اچھا بچے کو آج کے بعد رونے مت دینا۔ اس نے عرض کی: بادشاہ
سلامت! اس کی ہر بات کیسے پوری کی جائے؟ بادشاہ نے کہا: اس میں کون سی بات ہے؟ میں
سب کو کہہ دیتا ہوں کہ بچے کو جس چیز کی ضرورت ہو اسے پورا کر دیا جائے اور اسے
رونے نہ دیا جائے۔ وزیر نے کہا: ٹھیک ہے۔ پھر بچے کی خواہش پر ایک ہاتھی لایا گیا،
جس سے وہ تھوڑی دیر کھیلتا رہا لیکن بعد میں رونا شروع کر دیا، بادشاہ نے پوچھا:
اب کیوں رو رہے ہو؟ اس نے سوئی کے ساتھ کھیلنے کی خواہش ظاہر کی، سوئی پیش کر دی
گئی، مگر تھوڑی دیر کے بعد اس نے پھر رونا
شروع کر دیا، بادشاہ نے کہا: ارے! اب کیوں رو رہا ہے؟ تو وہ کہنے لگا: جی! اس
ہاتھی کو سوئی کے سوراخ میں سے گزار دیں۔
علاج: والدین اگرچہ بچوں
سے حد درجہ مخلص ہوتے ہیں، مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ اس انمول رشتے کو مزید با اعتماد
بنانے کے لیے بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ اختیار کیا جائے، فی زمانہ سوشل میڈیا کی
زبان میں یہ رویہ فرینڈلی ہو فرینکلی نہ ہو یعنی رویہ دوستانہ ہو مگر اس میں بے تکلفی نہ ہو۔ چنانچہ بچے کی ہر جائز
خواہش اور مطالبہ ضرور پورا کریں۔ لیکن اگر بچہ کسی کوئی نقصان دہ چیز مانگے یا وہ مہنگی ہو یا اس کے لیے موزوں نہ ہو تو بچے
کو اس شے کے متبادل پر راضی کرنے کی کوشش کریں، اس سے بچے کی ضد ختم کرنے میں بہت
مدد ملے گی۔
باہمی موازنہ کرنا یا یکساں سلوک کا نہ ہونا:بچے کا اپنے
بہن بھائی یا دوسرے بچوں سے موازنہ کرتے رہنا یا بچوں میں یکساں سلوک نہ
رکھنا اور ان میں سے بعض کو بعض پر
ترجیح دینا بھی ان کو ضدی بنا دیتا ہے۔
علاج:جو
بچے یہ سمجھتے ہیں کہ ان سے انصاف نہیں کیا جا رہا وہ احساسِ کمتری کا شکار ہو کر
اندر ہی اندر ہی کڑھتے رہتے ہیں یا پھر احتجاج کا راستہ اپناتے ہوئے غصے کا اظہار
کرنے لگتے ہیں، چنانچہ والدین کو چاہئے کہ ان امور کا خیال رکھیں اور بچوں کو کبھی
بھی احساسِ کمتری کا شکار نہ ہونے دیں۔
بچے دوسروں کو دیکھ کر سیکھتے ہیں: بسا
اوقات گھر میں کوئی ایسا فرد بھی ہوتا ہے کہ جس کے رویہ کا بچے پہ اثر پڑتا ہے جیسے
کوئی غصے کا تیز ہے یا پھر ضدی ہے تو اس کے دیکھا دیکھی بچہ بھی اس رویہ کو اپنا
لیتا ہے۔
علاج:ماحول
کا بچے پہ گہرا اثر پڑتا ہے، ایک اچھا ماحول ہی بچے کی مثالی تربیت میں معاون ثابت
ہو سکتا ہے۔
محسوسات کا اظہار نہ کر پانا: بسا اوقات بچوں کو ایسے معاملات کا سامنا ہوتا
ہے جن کا وہ مناسب انداز میں اظہار نہیں کر پاتے تو ان میں چڑ چڑا پن اور ضد کی
کیفیت پیدا ہو جاتی ہے، مثلاً نیند آنا، بھوک محسوس کرنا یا سردی و گرمی لگنا
وغیرہ۔ گرمی کی وجہ سے بچوں میں یہ کیفیت اکثر دیکھی گئی ہے۔
علاج:3بچے کو اٹھا کر
سینے سے لگا لیں اور یونہی کچھ دیر مضبوطی سے تھامے رکھیں یا پھر اس سے بات چیت کریں۔
مگر اس حالت میں بچے کو بالکل نظر انداز نہ کریں۔ 3اس
حالت میں بچے کی تعریف کریں، اس کی اچھائیاں بیان کریں۔ 3ایسی
حالت میں بچے کا پہلے سکون سے جائزہ لیں اور اس کی ضد کی وجہ جاننے کی کوشش کریں
مگر اس کے ساتھ کوئی سختی مت برتیں۔ 3
بچے کی بوریت دور کرنے کے لئے ہر وقت اس کا ایک آدھ پسندیدہ کھلونا اپنے پاس یا
قریب ہی رکھیں۔
(یہ مضمون ماہنامہ
خواتین ویب ایڈیشن کے اگست 2022 کے شمارے سے لیا گیا ہے)
Dawateislami