چلیں آئیں ہم
اپنی زندگی کا جائزہ لیتے ہیں: ہم سخت و کھردرا بستر پسند کرتے ہیں یا نرم و نازک
بستر؟ ہمیں سخت روٹی پسند ہے یا نرم و گول روٹی؟ مرد کے ہاتھ جو سخت ہوں وہ پسند
کیے جاتے ہیں یا عورت کے نرم و نازک ہاتھ؟ سخت تکیہ پسند ہے یا نرم تکیہ؟ اگر ہم
جائزہ لیں تو ہمیں نرم و ملائم چیزیں پسند ہوتی ہیں، اسی طرح ہمیں پسند بھی وہ شخص
آتا ہے جو نرم خو، نرم مزاج ہو، اسی طرح عورت کی آواز بھی اسی لیے کشش رکھتی ہے کہ
وہ نرم و نازک ہوتی ہے۔
اب آپ اپنے آپ
سے سوال کریں کہ جب سب چیزیں نرم پسند، لوگ بھی وہ پسند جو نرم اخلاق ہوں تو پھر
خود کا سخت مزاج کیوں؟ خود کے لیے کیوں نرم مزاجی نہیں پسند کہ سخت مزاجی کو نکال
کر نرم مزاجی پیدا کرنے کی عادت بنانے کی کوشش نہیں کرتے؟
تھوڑا نہیں
پورا سوچئے! سخت مزاجی ایسی بری چیز ہے کہ جس انسان میں ہو لوگ اس سے دور ہوتے ہیں
اس سے نفرت رکھتے ہیں۔
سخت
مزاجی دور کرنے کے لیے معاون چیزیں :
1) اس کے لیے
ضروری ہے سخت مزاجی کے ذریعے ہونے والے نقصانات کو مد نظر رکھے تاکہ نرمی اپنانے
کا ذہن بنے سخت مزاجی کے ذریعے بندے کو بہت نقصانات بھی اٹھانے پڑتے ہیں، حدیث
مبارکہ ہے: پیارے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو نرمی سے محروم رہا وہ ہر بھلائی سے
محروم رہا۔ (مسلم، ص 1072، حدیث: 6598)
سخت مزاجی کی
وجہ سے بعض اوقات گھروں کا سکون برباد ہوجاتا ہے، جس کے اندر سخت مزاجی ہوتی ہے وہ
بات بات پر طنز کرتا ہے،لڑائی جھگڑے کرتا ہے جس سے گھر کا سکون برباد ہوتا ہے، جس
کے اندر سخت مزاجی ہوتی ہے وہ لوگوں پر رحم کرنے کی طرف مائل نہیں ہوتے، اس کی وجہ
سے وہ لوگوں پر ظلم پر اتر آتے ہیں، یوں وہ ظلم کرکے جہنم کے حقدار بن جاتے ہیں، اسی
طرح سخت مزاج لوگوں سے لوگ محبت نہیں کرتے، ایسوں کو کوئی دوست نہیں بناتا، لوگ
ایسے سخت مزاج سے دور بھاگتے ہیں، ایسے لوگوں سے لوگ ملتے ہوئے کتراتے ہیں، امام
غزالی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: ایک انصاری کا قول ہے: گرم مزاج
ہونا حماقت کی اصل ہے۔ (منتخب ابواب احیاء العلوم، ص 10) سختی سے بعض اوقات بنا
ہوا کام بھی بگڑ جاتا ہے۔
2) نرمی کے
فوائد پر نظر رکھیں تاکہ سختی سے بچنے کا ذہن بنے۔ حدیث مبارکہ ہے: پیارے حبیب ﷺ نے
فرمایا: اللہ اس شخص پر رحم فرمائے جو بیچے تو نرمی کرے، خریدے تو نرمی کرے اور جب
اپنے حق کا تقاضا کرے تب بھی نرمی کرے۔ (بخاری، 2/ 12، حدیث:2076)
نرم مزاج
انسان کے دوست زیادہ ہوتے ہیں، لوگ ان کے قریب آتے ہیں، لوگ ان سے محبت کرتے ہیں۔
نرم طبیعت شخص
کتنے ہی جھگڑوں سے بچ جاتا ہے کیونکہ اگر کوئی اسے کچھ کہے بھی تو وہ آگ بگولہ
ہونے کے بجائے نرمی سے جواب دیتا ہے، لہذا ہمیں چاہیے کہ نرمی پیدا کریں، اپنے
اخلاق سنواریں، اپنے لیے اچھے اور نرم اخلاق کے لیے دعا بھی کریں۔
آئیے بارگاہ
رسالت ﷺ میں عرض کرتے ہیں:
میرے
اخلاق اچھے ہوں میرے سب کام اچھے ہوں
بنادو
مجھ کو تم پابندِ سنت یارسول اللہ
اللہ تعالیٰ
سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سخت مزاجی سے محفوظ فرمائے اور ہمیں نرمی جیسی عظیم دولت عطا
فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ
آج کے دور میں
لوگوں کے سخت مزاج کا جائزہ لیا جائے تو یہ انتہائی عروج پر ہے سخت مزاجی یہ ایسا
رویہ ہے جس میں انسان کا عمل سخت اور غیر لچکدار ہوجاتا ہے، ایسے افراد عموما اپنے
اصولوں، خیالات یا جذبات کے اظہار میں شدت اختیار کرتے ہیں جو بعض اوقات منفی اور
بعض اوقات مثبت اثرات مرتب کرسکتا ہے۔ لوگوں کی ایک تعداد سے خیر خواہی، رحم دلی
اور حسن سلوک کا جذبہ بھی دم توڑرہا ہے اسکا بنیادی سبب نرمی کا ختم ہوجانا ہے۔
اللہ جب کسی
گھر والوں کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو ان میں نرمی پیدا فرماتا ہے۔ (مسند امام
احمد، 9/345، حدیث:24481)
سخت
مزاجی کے نقصانات: سخت مزاجی رشتوں میں محبت اور اعتماد کو کمزور
کردیتی ہے، سخت مزاج شخص کو لوگ پسند نہیں کرتے، سخت مزاجی میں کیےجانے والے فیصلے
اکثر غلط ثابت ہوتے ہیں جسکی وجہ سے بعد میں پچھتانا پڑتاہے، سخت مزاج شخص خود بھی
ذہنی دباؤ کا شکار رہتا ہے، سخت مزاج شخص اسلام کی تعلیمات کے خلاف چل پڑتا ہے،
سخت مزاج لوگوں کا دل دکھاتا چلا جاتا ہے، کسی کا دل دکھانا کسی کو سب کے سامنے
ذلیل و رسوا کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔
اس کے علاوہ
بھی کئی دینی و دنیاوی نقصانات ہیں، لہذا اس سے بچنے ہی میں عافیت ہے۔ بےجا سختی
سے انسان کی طبیعت میں رحم دلی ظلم اور زیادتی کے کانٹے اگتے ہیں جو لوگ سخت مزاج
ہوتےہیں لوگ ان کےقریب آنے اور ان سے بات کرنےسےکتراتے ہیں،ایسےسخت مزاج افراد کو
معاشرے میں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا،ان کی پیٹھ پیچھے طرح طرح کی باتیں
کہیں جاتی ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ سخت مزاجی کو چھوڑ کر نرمی اپنانے میں فائدہ
ہی فائدہ ہے۔
پیارے آقا ﷺ نرم
دل تھے۔ قرآن مجید میں رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ترجمہ کنز العرفان: اے حبیب!
اللہ کی کتنی بڑی مہربانی ہے کہ آپ ان کے لئے نرم دل ہیں۔
اس آیت کے
متعلق تفسیر صراط الجنان میں ہے: اس آیت میں رسول اکرم ﷺ کے اخلاق کریمہ کو بیان
کیا جارہا ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا: اے حبیب! اللہ تعالیٰ کی آپ ﷺ پر کتنی بڑی
رحمت ہے کہ اس نے آپ کو نرم دل، شفیق اور
رحیم و کریم بنایا اور آپ کے مزاج میں اس
درجہ لطف و کرم اور شفقت ورحمت پیدا فرمائی کہ غزوہ احد جیسے موقع پر آپ ﷺ نے غضب
کا اظہار نہ فرمایا حالانکہ آپ کو اس دن
کس قدر اذیّت و تکلیف پہنچی تھی اور اگر آپ سخت مزاج ہوتے اور میل برتاؤ میں سختی سے کام
لیتے تو یہ لوگ آپ سے دور ہوجاتے۔ تو اے حبیب! آپ ان کی غلطیوں کو معاف کردیں اور
ان کیلئے دعائے مغفرت فرمادیں تاکہ آپ کی
سفارش پر اللہ تعالیٰ بھی انہیں معاف فرمادے۔ (صراط الجنان، 2/80)
کئی احادیث
مبارکہ میں بھی نرمی کے فضائل بیان ہوئے ہیں، جیسا کہ حدیث مبارکہ ہے: اللہ اس شخص
پر رحم فرمائے جو بیچے تو نرمی کرے، خریدے تو نرمی کرے اور جب اپنے حق کا تقاضا
کرے تب بھی نرمی کرے۔ (بخاری،2/12، حدیث:2076)
سخت مزاج کا
مطلب ہے وہ شخص جو سخت طبیعت کا ہو، نرمی اور لچک کم رکھتا ہو، یا اپنی رائے اور
اصولوں پر سختی سے قائم رہے۔ ایسا شخص اکثر ضدی، سنجیدہ، یا جذباتی طور پر کم
لچکدار ہو سکتا ہے۔ یہ اصطلاح مثبت اور منفی دونوں معنوں میں استعمال ہو سکتی ہے،
جیسے کسی کے پختہ اصولوں کی تعریف کے لیے یا کسی کی سخت گیری پر تنقید کے لیے۔
قرآن پاک اور
احادیث مبارکہ میں سخت مزاجی کی مذمت اور نرمی و حسن اخلاق کی ترغیب دی گئی ہے۔
سورہ آل عمران میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی نرم مزاجی کو اپنی رحمت قرار دیتے
ہوئے فرمایا: فَبِمَا
رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْۚ-وَ
لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا
نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ۪- ( پ 4، اٰل
عمران: 159) ترجمہ: پس اللہ کی رحمت کے باعث آپ ان کے لیے نرم ہو گئے اور اگر آپ
تندخو (اور) سخت دل ہوتے تو یہ آپ کے گرد سے چھٹ کر بھاگ جاتے۔ الآیۃ
اس آیت مبارکہ
سے واضح ہوتا ہے کہ سخت مزاجی لوگوں کو دور کرتی ہے، جبکہ نرمی اور درگزر سے دلوں
کو جیتا جا سکتا ہے۔
حدیث مبارکہ
میں سخت مزاجی کے بارے میں مختلف پہلوؤں سے ہدایات دی گئی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے
ہمیشہ نرمی، بردباری اور حسن اخلاق کی تعلیم دی اور سخت مزاجی سے منع فرمایا۔ نبی
ﷺ کا ارشاد ہے: ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ نرمی کرنے والا ہے اور نرمی کو پسند
فرماتا ہے، اور نرمی پر وہ اجر عطا کرتا ہے جو سختی پر نہیں دیتا اور کسی اور چیز
پر بھی نہیں دیتا۔ (مسلم، ص 1072، حدیث: 6601)
جریر رضی اللہ
عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: جو شخص نرمی سے محروم کر دیا گیا وہ
ہر قسم کی بھلائی سے محروم کردیا گیا۔ (مسلم، ص1072، حدیث 6598)
نبی ﷺ نے
فرمایا: ترجمہ: قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے بدترین شخص وہ ہوگا جسے لوگ اس کے
برے اخلاق (سخت مزاجی اور بدزبانی) کی وجہ سے چھوڑ دیتے ہیں۔ (مسلم، ص1072، حدیث
6596)
حضرت عائشہؓ
سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ ہر کام میں نرمی کو پسند
فرماتا ہے۔ (مسلم، ص 1072، حدیث: 6601)
اللہ پاک ہمیں
تمام کاموں میں نرمی کرنے کی سعادت عطا فرمائے اور سخت مزاجی سے بچنے کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین
رویہ انسان کی
ہر قسم کی سوچ، جذبات، عمل اور،رد عمل کا مجموعہ ہے۔ انسانی رویوں کی کئی اقسام
ہیں انہیں میں سے ایک سخت مزاج رویہ ہے اس کا معنی (تند مزاج اور غصیلا پن) ہیں۔
اسباب:
علمِ
دین سے دوری،بے جا غصہ اور جذبات پر قابو نہ پانا،بری صحبت،تکبر، خود پسندی،
ڈپریشن، نا کامیوں کا سامنا، احساس کمتری،بہت زیادہ تنقیدی ذہن، اکیلا پن، معاشرتی
میل جول کی کمی، برداشت کی کمی، بد گمانی، دنیا کی محبت کے نتیجے میں عزت، شہرت، عہدہ
و منصب کی لالچ اور ان کا حاصل نہ ہونا وغیرہ
اثرات:
سخت
مزاجی کی وجہ سے انسانی زندگی پر بہت سے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں چند ایک درج ذیل
ہیں:
سخت مزاج
انسان کی وجہ سے لوگ دین سے متنفر ہو جا تے ہیں۔ لڑائی جھگڑے کا سبب بنتی ہے اور
قتل و غارت گری تک نوبت پہنچ سکتی ہے۔ دین کا کام کرنے میں مشکلات کا سامنا ہونا۔ بے
صبری کا مظاہرہ ۔ ذہنی اور روحانی طور بے سکون رہنا۔ حافظہ کی کمزوری۔ معاشرتی
تعلقات کی خرابی۔ دوسروں کے دلوں میں سخت مزاج شخص کے لیے نفرت پیدا ہو جانا وغیرہ
وغیرہ۔
اس
رویے کو دور کرنے کے طریقے:
اللہ پاک سے
دعا کریں۔ علمِ دین سیکھیے پیارے آقا خاتم النبیین ﷺ کے حسن اخلاق کے واقعات اور
صحابہ کرام اور بزرگان دین کی سیرت کا مطالعہ کیجئے۔ دین دار اور اچھے اخلاق والی
اسلامی بہنوں کی صحبت اختیار کیجئے۔ اپنے اندر نرمی پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہیں،اللہ
پاک نے قرآن مجید میں اپنے حبیب مکرم ﷺ کے اخلاق کریمانہ کے بارے میں یوں ارشاد
فرمایا: فَبِمَا
رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْۚ- (پ4،اٰل
عمران: 159) ترجمۂ کنز الایمان: تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب! تم
ان کے لئے نرم دل ہوئے۔ الآیۃ مصیبتوں پر صبر کر کے اجر کمائیں، ارشاد باری تعالیٰ
ہے: اُولٰٓىٕكَ یُؤْتَوْنَ
اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا (پ 20، القصص:54) ترجمہ:ان کو
ان کا اجر دگنا دیا جائے گا کیونکہ انہوں نے صبر کیا۔ الآیۃ غصہ دور کیجئے وضو کر
کے اور خاموشی اختیار کی جائے تو بہت بہتر ہے۔ دوسروں کی غلطیوں سے در گزر کیجئے۔یہ
طریقہ اپنا کر سخت مزاجی کو دور کیا جا سکتا ہے۔
سخت
مزاجی سے بچنے کے فوائد:
اللہ تعالیٰ
کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ اشاعت دین میں مدد ملتی ہے۔ معاشرہ پر امن اور خوشحال ہو
جاتا ہے۔ اپنے اعمال پر غورو فکر کرنے کی توفیق نصیب ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ
ہمیں اپنے حبیب مکرم ﷺ کے صدقے اچھے اخلاق اپنا نے اور برے اخلاق سے بچنے کی توفیق
عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
سخت مزاجی کے
معنی مزاج ہیں تیزی،ہر وقت غصے میں رہنا اور سختی سے بات کر نا وغیرہ وغیرہ۔ رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں جہنمی لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہر سخت مزاج،
بد اخلاق اور تکبر کرنے والا (جہنمی) ہے۔ (بخاری، 4/118، حدیث: 6071)
استغفر اللہ
اس حدیث پاک کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم سب کو اپنی ذات پر غور کرنا چاہیے کہ کہیں ہم
بھی تو بے جا سختی نہیں کرتے، ہم سب کو چاہیے کہ سخت مزاجی سے توبہ کریں اور نرمی
احتیار کریں کیونکہ میرے پیارے نبی ﷺ نے فرمایا: جو نرمی سے محروم رہا وہ ہر
بھلائی سے محروم رہا۔ (مسلم، ص1072، حدیث 6598)ہم سب کو اپنے مزاج پر خوب غور کرنا
چاہیے کہ کہیں ہم سختی کی وجہ سے بھلائی سے تو محروم نہیں ہو رہے۔
حدیث شریف میں
ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن اتنا نرم مزاج ہوتا ہے کہ لوگ اسے بیوقوف
سمجھتے ہیں۔ (میزان الحکمۃ، 2/27)
حدیث مبارکہ
کے مطابق مومن کو بہت ہی نرم مزاج ہونا چاہیے کیونکہ لوگ نرمی کرنے والوں سے محبت
کرتے ہیں اور ان کی بات اچھی طرح سمجھ لیتے ہیں
امیر المومنین
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا فرمان ہے: جو نرم مزاج ہوتا ہے وہ اپنی قوم کی
محبت ہمیشہ باقی رکھ سکتا ہے۔
سخت
مزاجی اور ذلالت: حضرت
علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا: بہت سے عزت دار ایسے ہیں جنہیں ان
کی سخت گیری نے ذلیل کر دیا اور بہت سے ذلیل ایسے ہیں جنہیں ان کے اخلاق نے عزت
دار بنا دیا۔
حضرت علی کرم
اللہ وجہہ الکریم کے اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ سخت مزاجی ذلالت کا سبب بھی بنتی
ہے اور خوش اخلاقی عزت کا۔
سخت
مزاجی اور ہمارا معاشرہ؟ ہمارے معاشرے میں ہر طرف بے جا سختی
پائی جارہی ہے یہی وجہ ہے کہ لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد میں خدا ترسی، خیر خواہی،
حسن سلوک کا جذبہ دم توڑ رہا ہے آج کل ہر گھر میں ایک سے بڑھ کر ایک سخت مزاج
موجود ہوتا ہے کہیں بچوں پر تو کہیں بڑوں پر سختی، غصہ کیا جا رہا ہوتا ہے بات بات
پر بھڑک جانا الغرض ہمارے معاشرے میں ہر طرف سختی کی جا رہی ہے۔
سختی
سے بچنے کا طریقہ: سخت مزاجی سے بچنے کا سب سے بڑا ذریعہ اپنے نبی
محمد ﷺ کی سیرت پڑھ کر ان کے اخلاق و سنت اپناکر اور وقتاً فوقتاً سخت مزاجی کا
عبرتناک انجام پڑھ کر تصور کرکے اور اپنے اللہ سے مزاج میں نرمی کی دعا کرکے ہی اس
سے بچا جا سکتا ہے۔
لغت میں اس سے
مراد تیز مزاجی ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں جہنمی لوگوں کے بارے میں
نہ بتاؤں؟ ہر سخت مزاج، بداخلاق اور تکبر کرنے والا جہنمی ہے۔ (بخاری، 4/118، حدیث:6071)
حضرت علی رضی
اللہ عنہ نے فرمایا: بہت سے عزت دار ایسے ہیں جنہیں انکی سخت گیری نے ذلیل کر دیا
اور بہت سے ایسے ذلیل ہیں جنہیں ان کے اخلاق نے عزت دار بنا دیا۔
نرمی جس چیز
میں بھی ہوتی ہے اس کو سجا دیتی ہے اور سخت گوئی جہاں بھی ہوتی ہے اسے برا بنا
دیتی ہے، روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی سے محبت فرماتا
ہے تو اسے نرم مزاج بنا دیتا ہے۔
لہذا یاد رکھئے
پیارے مسلمانو! انسانی مزاج میں نرم رویہ اسکے علم اور فہم کا پتا دیتی ہے۔ سخت
مزاجی ایک ایسی بری عادت ہے جو انسان کی طبیعت میں پیدا ہو کر اسے سخت دل، سخت
طبیعت اور بے رحم بنا دیتی ہے جس سے اس کے اپنے بھی اس سے محروم رہ جاتے ہیں یہاں
تک کہ وہ لوگ جو اس سے سخت محبت کیا کرتے ہیں وہ بھی اس کی سخت مزاجی کی وجہ سے اس
کے قریب آنے سے ڈر جاتے ہیں۔
یاد رکھئے! ہم
مسلمان ہیں اور مسلمان و مومن نہایت نرم طبیعت کے مالک ہوا کرتے ہیں۔
یاد رکھئے گا
آپ کے ارد گرد کے بہت سارے ایسے لوگ ہوتے ہیں جو آپ کے مشکل وقت میں آپ کی مدد
کرنا چاہتے ہیں لیکن آپ کی فطرت، سلوک اور سخت مزاجی کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کرتے۔
اکثر ہم اپنی
بد فعلی اور سخت مزاجی کی وجہ سے اپنے قریب بیٹھنے والوں کو بھی کھو دیتے ہیں جس کی
وجہ ہم ہی ہوتے ہیں۔ آئیے اب اس مذموم بیماری سے جان چھوٹنے کے طریقے پر غور کرتے
ہیں، چنانچہ اس سے بچنے کے لیے درج ذیل باتوں کو اپنائیے:
صبر اور
برداشت پیدا کیجیے، معاف کرنا سیکھیں، مسکراتے رہیے، ہر بات پر غور و فکر کے بعد
اس کا تحمل سے جواب دیجئے، تکبر سے بچیے، اپنے اخلاق کو خوبصورت بنائیں۔
یہ بھی یاد
رکھیں کہ کہیں آپکے مزاج کی وجہ سے کسی اور کے مزاج میں سختی پیدا نہ ہو جائے، کیونکہ
اکثر وہ لوگ سخت مزاج ہوتے ہیں جب بہت سارے لوگ ان کی نرمی کا غلط
فائدہ اٹھا
چکے ہوتے ہیں۔ جس کی زبان جتنی زیادہ سخت ہوتی ہے اس کا غرور اتنا زیادہ ہوتا ہے۔
جو تھوڑا سا شرافت کا مظاہرہ کرے لوگ اسے بزدل سمجھ لیتے ہیں۔ یہ ہمارے زمانے کا
رواج ہے تو اپنی زندگی میں معافی مانگنے کا بھی رواج بنائیں پھر دیکھیں کون کون
بدلتا ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جو شخص نرم
مزاج ہوتا ہے وہ اپنی قوم کی محبت ہمیشہ باقی رکھ سکتا ہے۔
اللہ پاک سے
دعا ہے کہ وہ ہمیں اس مذموم اور قبیح فعل سے محفوظ رکھے۔ آمین
سخت مزاجی کے
معنی ہے غصیلا پن، تند خوئی، تیز مزاجی وغیرہ۔ سخت مزاجی سے مراد ایک ایسی شخصیت
یا رویہ ہے جو سخت، غیر لچکدار، ضدی اور کم نرمی کا حامل ہو۔ ایسے افراد اپنی بات
پر اڑ جانے والے، اصولوں کے سختی سے پابند اور دوسروں کی رائے یا احساسات کو کم
اہمیت دینے والے ہو سکتے ہیں۔ سخت مزاجی بعض اوقات مثبت بھی ہو سکتی ہے، جیسے اصول
پسندی یا مضبوط ارادے کے طور پر، لیکن اگر حد سے بڑھ جائے تو یہ ضد، عدم برداشت
اور سخت رویے کا سبب بن سکتی ہے۔
بے جاسختی سے
انسان کی طبیعت میں بے رحمی، سنگ دلی، ظلم اور زیادتی کے کانٹے اگتے ہیں۔ حقیقی
نرمی دل کا نرم ہونا ہے۔ جب بندۂ مؤمن کا قلب نرم ہوتا ہے تو اسے اللہ پاک کا
قرب ملتا ہے جس کی برکت سے دنیا و آخرت کی بھلائیاں پاتا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ کریم
نے نبی پاک ﷺ کے دل کی نرمی کو اپنی رحمت قرار دیا ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: فَبِمَا
رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْۚ- (پ4،اٰل
عمران: 159) ترجمۂ کنز الایمان: تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب! تم
ان کے لئے نرم دل ہوئے۔ الآیۃ
فرمانِ مصطفےٰ
ﷺ: بیشک اللہ نرمی فرمانے والا ہے اور نرمی کو پسند فرماتا ہے اور نرمی پر وہ کچھ
عطا فرماتا ہے جو سختی پر عطا نہیں فرماتا بلکہ نرمی کے سوا کسی بھی شے پر عطا
نہیں فرماتا۔ (مسلم، ص 1072، حدیث: 6601)
حکایت
اور درس: حضرت
امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے کہ ایک شخص نے آپ کو برا
بھلا کہا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی سیاہ رنگ کی چادر اتار کر اسے دے دی اور اسے
ایک ہزار درہم دینے کا بھی حکم دیا۔ (احیاء العلوم، 3/544)
علما فرماتے
ہیں کہ اس طرح حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے پانچ اچّھی خصلتوں کو جمع
کیا: (1)بردباری (تحمل مزاجی) (2)تکلیف نہ دینا (3)اس شخص کو اللہ پاک سے دور کرنے
والی بات سے بچانا (4)توبہ اور ندامت پر اکسانا (5)اور برائی کے بدلے بھلائی کرنا۔
اس طرح آپ رضی اللہ عنہ نے معمولی دنیا کے بدلے یہ تمام چیزیں خرید لیں۔ (احیاء العلوم،
3/544)
اللہ کریم
ہمیں اسلام کی روشن تعلیمات پرعمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
بڑھتی
ہوئی طلاقوں کی وجوہات از بنت محمد اشرف، جامعۃ المدینہ کنگ سہالی گجرات
کسی بھی
معاشرے کا خاندانی نظام ہی اس کی بنیادی اکائی ہو ا کرتا ہے۔ خاندانی نظام کی
مضبوطی ہی معاشرے کی کامیابی کی ضامن ہے مضبوط خاندانی نظام ہی بچوں کی نشونما
پرورش اور تربیت کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے طلاق صرف دو افراد کے درمیان
علیحدگی کا ہی نام نہیں بلکہ یہ اس گھرانے کی آنے والی نسلوں پر بری طرح اثر انداز
ہوتی ہے۔چند ایک ایسی وجوہات ہیں جو طلاق کا باعث بنتی ہیں درج ذیل ہیں:
شک
و شبہات اور بدگمانیاں: شک و شبہات اور بدگمانیاں یہ طلاق کی سب سے بڑی
وجوہات میں سے ہیں اس کی وجہ سے زوجین میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے اور بغیر کسی ثبوت یا
دلیل کے محض سنی سنائی باتوں پر یقین کر کے تعلقات کو بگاڑ لیتے ہیں پھر بد
اعتمادی پیدا ہوتی ہے جو طلاق کا باعث بنتی ہے۔
عدم
برداشت: میاں
بیوی میں برداشت کا ہر وقت موجود ہونا ضروری ہے ایک دوسرے کی باتوں کو برداشت نہیں
کریں گے تو رشتے کبھی قائم نہیں رہ سکتے اج اسی برداشت کی کمی کی وجہ سے اور اپنی
خواہشات کو دوسروں سے مقدم رکھنے کی وجہ سے طلاقوں میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے۔
اسلام
سے دوری: طلاق
کی ایک بڑی وجہ دین اسلام سے دوری بھی ہے دین اسلام میں شادی کی اہمیت اور زوجین
کے درمیان باہمی حسن سلوک پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے اور میاں بیوی کے حقوق کی
ادائیگی کا خیال رکھا گیا ہے اور نبی کریم ﷺ نے اپنے قول و فعل کے ذریعے زوجین کے
حقوق بیان کیے ہیں اگر دینِ اسلام کو صحیح معنی میں اپنایا جائے تو طلاق میں کمی
ہو سکتی ہے۔
موبائل فون
اور انٹرنیٹ کا استعمال: آج کے دور میں موبائل اور انٹرنیٹ کا ضرورت سے زیادہ
استعمال طلاق کی وجہ بنتا ہے لڑکیاں اپنے سسرال میں ہونے والی چھوٹی چھوٹی باتیں
اپنے میکے میں بتاتی ہیں جس کی وجہ سے ان کی مائیں بہنیں غیر ضروری مشورے اور
ہدایات دیتی ہیں اس سے شوہر کے خاندان سے غلط فہمیاں اور تناؤ بھی پیدا ہوتا ہے
اور میاں بیوی کے درمیان لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں اور نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہیں۔
انا
پرستی اور دکھاوا: انا پرستی اور دکھاوا ہمارے معاشرے میں اس قدر بڑھ
گیا ہے کہ دکھاوے کی وجہ سے اکثر بیویاں شوہروں سے بےجا الجھتی ہیں اور لڑائی
جھگڑوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
دینی
تعلیم کی کمی: آج
کل دینی تعلیم کی طرف لوگوں کا دھیان کم ہے جس کی وجہ سے نوجوان نسل شادی اور طلاق
جیسی نازک چیزوں کو اہمیت نہیں دیتے اور طلاق کو مذاق سمجھتے ہیں۔دینی تعلیم کے
ذریعے لوگوں میں شعور پیدا ہوتا ہے اور اسلام میں میاں بیوی کے حقوق کی اہمیت واضح
ہوتی ہے اور ان پر عمل کرنے کی بھی کوشش ہوتی ہے اور بزرگان دین کی زندگیوں سے سبق
حاصل کرنے اور ان پر عمل کرنے کا ذہن بھی بنتا ہے۔
خاوند
کی نافرمانی: بعض
بیویاں اپنے شوہروں کی نافرمان ہوتی ہیں اور اپنے شوہر کی شکر گزار نہیں ہوتی ایسی
عورتیں بےجا خواہشات کے لیے اپنے شوہروں سے لڑائی جھگڑا کرتی ہیں۔ جس سے شوہر تنگ آتے
ہیں اور طلاق کی نوبت آتی ہے۔
والدین
کی ذمہ داری: تمام
والدین کی ذمہ داری ہے وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اپنے بچوں کے جیون ساتھی میں
لازمی طور پر وہ اخلاقی اقدار موجود ہوں جن اخلاقی اقدار کے ساتھ انہوں نے اپنے
بچوں کی پرورش کی ہے۔ رشتے طے کرتے ہوئے مطابقت اور ہم آہنگی کا خیال نہ رکھا جائے
تو پھر نتیجہ طلاق کی صورت میں نکلتا ہے۔
غیر
ذمہ دارانہ رویہ: ہمارے
معاشرے میں ایک یہ سوچ بھی کار فرما ہے اگر کسی کا بیٹا یا بیٹی ذہنی انتشار کا
شکار ہے تو انہیں شادی کا مشورہ دیا جاتا ہے کوئی لڑکا اگر غیر ذمہ دارانہ رویے کا
مظاہرہ کرے تو اس کا علاج بھی شادی میں ڈھونڈا جاتا ہے اور فرض کر لیا جاتا ہے کسی
ذمہ داری پڑنے پر ٹھیک ہو جائے گا لیکن بعض اوقات کچھ ذمہ داریوں سے اکتا کر رشتے
توڑنے پر تل جاتے ہیں اور طلاق کو غیر سنجیدگی سے لیتے ہیں۔
بڑھتی
ہوئی طلاقوں کی وجوہات از بنت عبدالوسیم بیگ، جامعۃ المدینہ نارتھ کراچی
طلاق کے لغوی
معنی ہیں ترک کر دینا یعنی چھوڑ دینا۔ اس اصطلاح سے ہم سب بخوبی واقف ہیں جس کے
ذریعے مرد اپنی بیوی سے نکاح ختم کرتے ہوئے اس سے ازدواجی تعلق ختم کردیتا ہے جبکہ
نکاح انسانیت کی بقاء کیلئے ایک مضبوط شرعی معاہدہ سمجھا جاتا ہے۔ قرآن پاک میں
مردوں کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد ہوا: وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِۚ-فَاِنْ
كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْــٴًـا وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ
فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا(۱۹) (پ 4، النساء: 13) ترجمہ: ان عورتوں کے ساتھ اچھی گزر بسر کرو اور اگر وہ تم
کو نا پسند ہو تو ممکن ہے کہ تم ایک چیزنا پسند کرو اور خدا اس کے اندر کوئی فائدہ
رکھ دے۔
احادیث میں
بھی بلا ضرورت طلاق کو نا پسند فرمایا گیا ہے حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ الله کے
نزدیک حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے۔ (ابو داود، 2/370، حدیث:
2178) حدیث شریف میں ہے کہ جو عورت سخت مجبوری کے بغیر خود طلاق طلب کرے اس پر جنت
کی خوشبو حرام ہے۔(ترمذی، 2/402، حدیث: 1190)
ہمارے معاشرے
میں جس تیزی سے طلاق کی شرح میں اضافہ ہوتا جارہا ہے وہ خطرناک تو ہے ہی مگر کچھ
واقعات اتنی تکلیف دہ ہیں کہ عقل بھی حیران ہے دو افراد کا یہ رشتہ خوف خدا کی
بنیاد پر ہے کہ وہ ایک دوسرے کے حقوق و فرائض کا ادراک کریں۔
ہمارے معاشرے
میں طلاق کی بیشتر و جوہات موجود ہیں جو ہنستے کھیلتے گھروں کو اجاڑنے اور بالخصوص
نوجوان جوڑوں کی زندگیاں اجاڑ نے کا سبب بن رہی ہے لہذا ان تمام وجوہات کا تدارک
کرنا بے حد ضروری ہے۔
عدم
برداشت: ہماری
زندگی میں کوئی ایسا پہلو نہیں جس میں برداشت کی حد ختم نہ ہو چکی ہو میاں بیوی کے
رشتے میں برداشت کے عنصر کا ہر وقت موجود ہونا لازم و ملزوم ہے آج یہی برداشت کرنے
کے مادے میں کمی اور اپنی خواہشات کو مقدم رکھنے کے باعث طلاق میں بے پناہ اضافہ
ہو رہا ہے گھریلو ناچاقیاں کہاں نہیں ہوتی؟ لیکن جو آزمائش کی اس گھڑی میں صبر کے
ساتھ برداشت کر جائےاس کی زندگی سکھی اور جو جذبات میں آکر صبر کا دامن چھوڑ دے اس
کی زندگی دکھی ہو جاتی ہے۔
جوائنٹ فیملی سسٹم: طلاق کا ایک
بڑا سبب جوائنٹ فیملی سسٹم ہے جوائنٹ فیملی سسٹم میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے
اورتہمت لگانے کا رحجان بڑھتا جارہا ہے رشتے دار اکثر میاں بیوی کے درمیان دوریاں
پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں ایک ہی گھرانے میں مقیم زیادہ تر گھرانے آ پس میں الفت
واتفاق قائم رکھنے کے بجائے الزام تراشیوں پر زیادہ مصروف رہتے ہیں اور یہی گھر
ٹوٹنے کی وجہ بنتی ہے۔
پسند
کی شادی: دنیا
میں مجموعی طور پر 80 فیصد طلاقوں اور خلع کے کیسز (cases)
پسند کی شادی کے ہوتے ہیں لیکن جو نوجوان جوڑے بڑی امیدوں کے ساتھ شادی کرتے ہیں۔
وہ امیدیں چند عرصہ میں کانچ کی طرح ٹوٹ جاتی ہیں، شادی کرنےسے زیادہ مشکل اسے
نبھانا ہوتا، پسند کی شادی کے کچھ عرصے بعد ہی دونوں کو احساس ہوتا ہے یہ تو میرا
آئیڈیل نہیں تھا اس کا تو کریکٹر ہی خراب ہے تب احساس ہوتا ہے کہ وہ باتیں صرف فون
پر ہی اچھی لگتی تھیں اس لیے لو میرج کی
بنیاد پر کھڑے نازک رشتے اکثر چل نہیں
پاتے جسکا نتیجہ طلاق کی صورت میں نکلتا ہے۔
فلموں اور ناولوں کا کردار: اس
حقیقت سے سب واقف کہ میڈیا کے تمام ذرائع انسانوں کے ذہنوں کو کنٹرول کرنے اور ان
کی سوچ بدلنے میں خاص کردار ادا کر رہے ہیں اور میڈیا میں جو کچھ دکھایا جاتا ہے
نوجوان نسل اسے اپنانے کی کوشش ضرور کرتی ہے کہانیوں میں معاشرتی برائیوں اور
اچھائیوں کے درمیان تمییز و تفریق کو مٹادیا گیا ہے عشق و محبت کی وہی افسانی
باتیں لکھی جاتی ہیں جسے پڑھ کر کوئی بھی توقعات کی گہری وادی میں گر جائے اور
حقائق کے برعکس اپنے جیون ساتھی سے امیدیں باندھ لے اور جب وہ خواہشیں پوری نہ ہو
تو محبت نفرت میں بدل جاتی ہے جو بالآخر طلاق کا سبب بنتی ہے۔
مندرجہ بالا
وجوہات کے علاوہ مزید وجوہات اور ہیں جو طلاق کا سبب بنتی ہیں جیسے میاں بیوی کا
ایک دوسرے کے حقوق سے لاعلمی،غصہ،عورتوں کا سسرال کی باتیں میکہ میں جاکر
کرنا،آزاد خیالی،عورت کی یہ سوچ کہ شریعت نے ساس سسر کی خدمت کی ذمہ داری عورت پر
نہیں ڈالی، آ پس میں اتفاق نہ ہونا،ایک دوسرے کو طعنے دینا وغیرہ وغیرہ یہ وہ
معاملات ہیں جنہیں ہم ذرا سی برداشت ذرا سے صبر سے حل کر سکتے ہیں۔
بڑھتی
ہوئی طلاقوں کی وجوہات از بنت نواز، فیضان عائشہ صدیقہ مظفرپورہ سیالکوٹ
طلاق کا معنی
کھل جانا اصطلاح میں طلاق سے مراد کہ عورت مرد کے نکاح سے کھل جاتی ہے۔
طلاق
کا حکم: اعلی
حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بلاوجہ شرعی طلاق دینا ناپسندیدہ و مبغوض و مکروہ
ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، 12/323)
میاں بیوی کا
رشتہ اللہ پاک کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے
مگر ان دونوں
کےرشتوں میں کچھ وجوہات کی بناء پر جدائی ہو جاتی ہے جسے عرف میں طلاق کہا جاتا ہے
موجودہ دور میں طلاق بہت عام سے عام تر ہوتی جارہی ہے ایک روایت میں طلاق کے متعلق
آقا جان ﷺ کی ایک روایت بیان ہوئی حضر ت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ
ﷺ نے فرمایا: جو عورت اپنے خاوند سے بلا ضرورت طلاق مانگے تو اس پر جنت کی خوشبو
حرام ہے۔ (ترمذی، 2/402، حدیث: 1190) یہاں جنت کی خوشبو حرام ہے اس سے مراد یہ
نہیں کہ وہ جنت میں جائے گی ہی نہیں یہاں اس سے ابتدائی داخلہ مراد ہے ہر مسلمان
جنت میں جائے گا خوشبو سے مراد جنتیوں کو جو خوشبو عطا ہوگی وہ اس کی مہک سے محروم
رہے گی مگر وہ جنت میں داخل ہو جائے گی۔
موجودہ دور
میں طلاق کی بہت ساری وجوہات سامنے ہیں آئیے ان وجوہات جو ملاحظہ کرتے ہیں اور
طلاق جیسی بری عادت کو اپنے معاشرے سے مٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔
(1)بے
اولادی: طلاق
کی ایک بڑی وجہ بے اولادی بھی ہے اولاد اللہ پاک کی بہت ہی پیاری نعمت ہے مگر
اولاد کا ہونا نہ ہونا یہ عورت کے اختیار میں نہیں ہوتا بلکہ اللہ پاک کے اختیار
میں ہے جسے چاہتا ہے اولاد دیتا جیسے چاہتا اس سے محروم کر دیتا ہے جسے چاہے بیٹی
عطا فرماتا ہے جسے چاہے بیٹے عطا فرماتا ہے بے شک اللہ پاک ہر چیز پر قادر ہے۔
(2)
کم عمری میں شادی کرنا: طلاق کی دوسری وجہ کہ لوگ اپنی اولاد کی کم عمری
میں شادی کردیتے ہیں کم عمری میں شادی کرنا دیہات میں زیادہ تر ترکیب ہوتی ہے کہ
لڑکی 12اور لڑکے کی 18سال میں شادی کر دیتے ہیں اس چیز کا خیال کیے بغیر کہ انکی
آئندہ زندگیاں کیسے متاثر ہوں گی کم عمری میں شادی کرنے کی وجہ سے بھی میاں بیوی
اپنے رشتے کو قائم نہ رکھ پاتے تو طلاق تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔
(3)شوہر
کی نافرمانی: بڑھتی
ہوئی طلاقوں کی ایک وجہ شوہر کی نافرمانی بھی ہے شوہر کے حقوق پورے نہ کرنا جب
اسکو حاجت ہو اس وقت انکار کر دینا اسکی نافرمانی کرنا اور اگر نیکی کی طرف ترغیب
دلائے شریعت کے مطابق چلنے کا کہے تو اس کی بات نہ ماننا اس سے زبان درازی کرنا یہ
بھی طلاق کی ایک وجہ ہے۔
(4)
عدم برداشت: موجودہ
دور میں طلاق کی وجہ عدم برداشت بھی ہے اگر کوئی لڑائی جھگڑا ہو بھی جائے تو
برداشت کرنے کی ہمت نہیں رکھتے فورا ہی غصے میں آکر نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے اگر
مرد عورت کو ایک بات کہے تو عورت آگے سے چار سناتی ہے۔
(5)
سوشل میڈیا: سوشل
میڈیا پر فلمیں ڈرامے یا دیگر عشق و محبت کی کہا نیاں پڑھ کر دیکھ کر اسکو اپنی
زندگی میں لانے کی کوشش کرنا یہ بھی طلاق کی بہت بڑی وجہ بن جاتی ہے۔
(6)
کفو (برابری) نہ ہونا: بعض اوقات معاشرے میں طلاق کی جو وجہ بنتی ہے ایک
وجہ کفو نہ ہونا بھی ہے کیونکہ اگر لڑکی کم علم یا غریب گھرانہ کی ہو اور لڑکا
امیر اور پڑھا لکھا ہوا تو وہ اپنے علم اور امیر ی کا غرور کرتا ہے جس وجہ سے لڑکی
کو کم علم اور غریب گھرانہ سے ہونے کی وجہ سے طعنے دئیے جاتے ہیں یوں ہی اگر کوئی
لڑکی عالمہ ہے یا لڑکا عالم ہے تو ان کی شادی انکے برابری میں نہ کرنا کہ اگر لڑکا
عالم ہو وہ اپنے علم کی وجہ سے ان پڑھ عورت کو کم سمجھتا ہو اور یوں لڑکی عالمہ ہو
اور اسکی شادی کسی ان پڑھ سے ہو جائے برادری میں کفو نہ ہونے کی وجہ سے بھی نوبت
طلاق تک پہنچ جاتی ہے۔
(6)سسرال
کی باتیں میکے میں آکر کرنا: بعض لڑکیوں کی عادت ہوتی ہے کہ اپنے
سسرال کی اک اک بات میکے میں کرتی ہیں اپنی ماں اور اپنی بہن سے جب وہ اپنے سسرال
کی باتیں میکے میں کرتی ہیں تو والدین اسکی باتوں سے آگ بگولہ ہو جاتے ہیں کہ انکی
ہمت کیسے ہوئی ہماری بیٹی کو ایسے کہنے کی اس طرح دو فیملیز میں لڑائی جھگڑے ہوتے
ہیں اور پھر والدین اپنی بیٹی کو گھر لے آتے اور نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے اس لیے
ہر بیٹی کو چاہیے کہ اپنے سسرال کی باتیں میکے میں نہ کرے اور میکے کی باتیں سسرال
میں نہ کرے۔
(8)فیملی
کا غیر ضروری مداخلت کو منقطع کرنا: میاں بیوی کو اپنے ذاتی معاملات میں
ازخود مختار ہونا چاہیے کسی تیسرے کو اپنے معاملات میں نہیں آنے دینا چاہیے خاندان
والوں کو بھی انکے فیصلوں کا احترام کرنا چاہیے اور انکے فیصلوں پر متفق رہنا
چاہیے۔
(9)معاشی
دباؤ: معاشی
حالات بھی ازدواجی زندگی کے تعلقات کو متاثر کرتے ہیں میاں بیوی دونوں مالی
اخراجات کی تقسیم پر اختلاف ہو یا دونوں میں سے کوئی ایک مالی بوجھ نہ اٹھا سکے تو
اس وجہ سے بھی میاں بیوی کے رشتے میں دڑار واقعہ ہو جاتی ہے۔
(10)پسند کی شادی: پسند کی شادی
کرنے والے افراد یہ فیصلہ بڑی توقعات کے ساتھ کرتے ہیں یہ توقعات اکثر فلموں
ڈراموں اور بے کار کہانیوں کے ذریعے پیدا ہونے والے خوابوں پر مبنی ہے شادی کے بعد
دونوں کو حقیقی زندگی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جسکی وجہ سے انکا رشتہ کمزور
ہو جاتا ہے اور انکے لیے ذمہ داریوں کو پورا کرنا مشکل ہوتا ہے جسکی وجہ سے یہ
اپنا رستہ برقرار نہیں رکھ پاتے۔
ہم نے موجودہ
دور میں ہمارے معاشرے میں پائی جانے والی چند وجوہات اور اسباب کے بارے میں ملاحظہ
کیا اسکے علاوہ بھی بہت سی طلاق کی وجوہات ہیں مگر ان میں سے چند آپکی خدمت میں
پیش گی گئی اللہ پاک ہمیں طلاق جیسی بری عادت سے بچائے۔ آمین اللہ پاک میاں بیوی
کو محبت کے ساتھ رہنے ایک دوسرے کے حقوق کو سمجھنے اور ان تمام وجوہات کو کنٹرول
کر کے اسکا حل تلاش کرنے کی توفیق عطا فرمائے اللہ پاک ہمیں شیطان کے وسوسے سے
بچائے۔ آمین
بڑھتی
ہوئی طلاقوں کی وجوہات از بنت امیر حیدر،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
طلاق کا لفظی
معنی چھوڑنا ہے طلاق میاں بیوی کے درمیان نکاح کے معاہدہ کو توڑنے کا نام ہے۔ طلاق
کی وجہ سے نا صرف ایک رشتہ ختم ہوتا ہے بلکہ بچوں کی زندگیوں پر اسکا گہرا اثر
مرتب ہوتا ہے اور یوں خاندانی دشمنیاں جنم لیتی ہیں۔ طلاق اللہ پاک کو ناپسند ہے،
جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حلال چیزوں میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ
ناپسندیدہ اور مبغوض چیز طلاق ہے۔ (ابو داود، 2/370، حدیث: 2178)
مگر افسوس
اسکی شرح میں اضافہ ہی ہوا ہے ایک تحقیق کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں میں 35 فیصد طلاق
میں اضافہ ہوا ہے، آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو عورت اپنے خاوند سے بلاضرورت طلاق
مانگے تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔ (ترمذی،
2/402، حدیث: 1190)
طلاقوں کی چند
وجوہات:
1۔
برداشت کا نا ہونا: طلاق ہونے میں ایک بنیادی سبب برادشت کی کمی ہے، جو
شوہر بیوی ایک دوسرے کی ناپسندیدہ بات پر آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور پھر عدم
برداشت کو اپنا معمول بنالیتے ہیں انکے رشتے کیلیے یہ بہت بری چیز ثابت ہوتی ہے۔
2۔
بدگمانی: مرد
کا عورت پر اور عورت کا مرد پر شک کرکے بدگمانیوں میں مبتلا ہوجانا کہ یہ کسی اور
سے ترکیب میں ہے اور اپنے ذہن میں ہی اس بات کو حقیقت جاننا، چاہے وہ بات سچ میں
حقیقت ہو یا نہ ہو۔
3۔
ذہنی ہم آہنگی کا نہ ہونا: ذہنی ہم آہنگی ازدواجی رشتے میں بہت
ضروری ہے۔ ذہنی ہم آہنگی جب تک میاں بیوی کے درمیان قائم نہ ہو تو یوں ہوتا ہے کہ
کہا کچھ جاتا سمجھا کچھ اور جاتا۔
4۔
بے جا خواہشات: بیویاں
شوہر کی مالی حالت جاننے کے باوجود جب اس سے غیر ضروری اشیاء کی فرمائش کرتی ہیں اور
وہ چاہ کر بھی اسکی خواہش پوری نا کر پائے تو عورت شوہر کو برا بھلا کہتی ہے جس سے
رشتے میں خرابیاں پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
5۔
شوہر کے حکم کی عدم تکمیل: جو بیویاں شوہر کی اہمیت سے بے خبر
ہوتی ہیں وہ شوہر کی نافرمان ہو جاتی ہیں اور شوہر کے ضروری حقوق کی ادائیگی میں
کوتاہی کرتی ہیں جسکا نتیجہ ان کو طلاق کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔
6۔
ناشکری: کچھ
عورتیں اپنے شوہروں کی طرف سے ملی ہوئی آسائشوں کا شکر ادا کرنے کی بجائے یہ کہتی
ہیں: میں نے تمہارے پاس کوئی بھلائی نہیں دیکھی، فلاں کو دیکھو اپنی بیوی کو کیا
کیا لے کر دیتا ہے۔ یوں ان کے درمیان لڑائیاں بڑھتی جاتی ہیں۔
بڑھتی
ہوئی طلاقوں کی وجوہات از بنت شہباز احمد،فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اسلام ایک
مکمل ضابطہ حیات ہے جو زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ نکاح اور طلاق
جیسے اہم مسائل پر بھی قرآن و حدیث میں واضح احکام موجود ہیں۔ طلاق کو شریعت میں
ناپسندیدہ ترین حلال عمل قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ حدیث میں آتا ہے:
نبی کریم ﷺ نے
ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ حلال چیز طلاق ہے۔ (ابو داود،
2/370، حدیث: 2178)
آج کے دور میں
طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح ایک تشویشناک مسئلہ بن چکی ہے۔ ان وجوہات پر غور کرتے ہیں
جو ازدواجی زندگی میں بگاڑ کا سبب بنتی ہیں اور قرآن و حدیث کی روشنی میں ان کے
ممکنہ حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
دین
سے دوری: قرآن
مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً
ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى(۱۲۴) (پ
16، طہ: 124) ترجمہ: اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا، اس کی زندگی تنگ ہو جائے گی۔
جب میاں بیوی
اللہ کے احکامات اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات سے دور ہو جاتے ہیں تو ان کے درمیان
محبت و رحمت کی جگہ خودغرضی، نفرت اور بداعتمادی لے لیتی ہے، جو طلاق کا سبب بنتی
ہے۔
صبر
و برداشت کی کمی: ازدواجی
زندگی میں صبر ایک بنیادی شے ہے، لیکن آج کل میاں بیوی چھوٹی چھوٹی باتوں پر عدم
برداشت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ میاں بیوی کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کی خامیوں کو
برداشت کریں اور معاملات کو صبر و حکمت سے حل کریں، بجائے اس کے کہ طلاق جیسے
انتہائی قدم کی طرف جائیں۔
غیر
ضروری توقعات اور مادی خواہشات: آج کے دور میں میاں بیوی ایک دوسرے سے
غیر ضروری توقعات وابستہ کر لیتے ہیں، خاص طور پر مادی خواہشات کے حوالے سے۔ نبی
کریم ﷺ کا فرمان ہے: حقیقی دولت مال و دولت کی فراوانی میں نہیں، بلکہ دل کی
تونگری میں ہے۔ (بخاری، 4/233، حدیث: 6446) اگر شوہر بیوی کو مہنگے تحائف نہ دے
سکے یا بیوی شوہر کی توقعات کے مطابق نہ ہو، تو اس سے رنجشیں پیدا ہوتی ہیں، جو
طلاق کی نوبت تک پہنچ جاتی ہیں۔
خاندان
کا غیر ضروری دباؤ: بہت سی طلاقیں سسرال اور میکے کی مداخلت کی وجہ سے
ہوتی ہیں۔ اگر والدین اور دیگر رشتہ دار بلاوجہ ازدواجی زندگی میں مداخلت کریں تو
یہ اختلافات کو جنم دیتا ہے، جو طلاق تک پہنچ سکتا ہے۔
عزت
اور حقوق کی پامالی: اسلام نے میاں بیوی دونوں کو حقوق دیئے ہیں۔ شوہر
پر لازم ہے کہ وہ بیوی کے ساتھ حسن سلوک کرے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تم
میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے اہل کے لیے
سب سے بہتر ہوں۔ (ترمذی، 5/475، حدیث: 3895)
اسی طرح بیوی
کو بھی شوہر کا ادب و احترام کرنا چاہیے۔ جب میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق کو نظر
انداز کرتے ہیں، تو ازدواجی زندگی میں دراڑ آ جاتی ہے، جو بالآخر طلاق کا سبب بنتی
ہے۔
Dawateislami