پاکستان کے ساہیوال  ڈویژن میں دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے دینی کاموں کے سلسلے میں مدنی مرکز فیضانِ مدینہ اوکاڑہ میں مدنی مشورے کا انعقاد ہوا جس میں ساہیوال ڈویژن نگران، ڈسٹرکٹ نگران، شہر نگران، تحصیل نگران، ٹاؤن نگران، یوسی نگران، وارڈ نگران اور ذیلی حلقہ نگران سمیت شعبہ جات کے ذمہ دار اسلامی بھائیوں کی شرکت رہی۔

تفصیلات کے مطابق ابتداءً دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن و نگرانِ پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری نے سنتوں بھرا بیان کیا اور اسلامی بھائیوں کو نماز / روزوں کی پابندی کرنےنیز نیکی کے کاموں میں حصہ لیتے رہنے کا ذہن دیا۔

اس کے علاوہ نگرانِ پاکستان مشاورت نے ساہیوال ڈویژن میں دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے دینی کاموں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ذمہ داران کو آئندہ کے اہداف دیئے نیز انہیں مدنی قافلوں میں سفر کرنے کی ترغیب دلائی۔بعدازاں نگرانِ پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری نے اختتامی دعا کروائی جبکہ اسلامی بھائیوں نے نگرانِ پاکستان سے ملاقات بھی کی۔

اس موقع پر مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی محمد اسلم عطاری بھی موجود تھے۔(رپورٹ:عبدالخالق عطاری نیوز فالواپ ذمہ دار نگران پاکستان مشاورت، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


پاکستان کے شہر ملتان میں دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے دینی کاموں کے سلسلے میں مدنی مرکز فیضانِ مدینہ ملتان میں مدنی مشورے کا انعقاد ہوا جس میں ملتان ڈویژن نگران، ڈسٹرکٹ نگران، شہر نگران، تحصیل نگران، ٹاؤن نگران، یوسی نگران، وارڈ نگران اور ذیلی حلقہ نگران سمیت شعبہ جات کے ذمہ دار اسلامی بھائیوں کی شرکت رہی۔

دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن و نگرانِ پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری نے سنتوں بھرا بیان کیا اور اسلامی بھائیوں کو نماز / روزوں کی پابندی کرنےنیز نیکی کے کاموں میں حصہ لیتے رہنے کا ذہن دیا۔

اس کے علاوہ نگرانِ پاکستان مشاورت نے ملتان ڈویژن میں دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے دینی کاموں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ذمہ داران کو آئندہ کے اہداف دیئے نیز انہیں مدنی قافلوں میں سفر کرنے کی ترغیب دلائی۔مدنی مشورے کے اختتام پر نگرانِ پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری نے دعا کروائی جبکہ اسلامی بھائیوں نے نگرانِ پاکستان سے ملاقات بھی کی۔

اس موقع پر مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی محمد اسلم عطاری بھی موجود تھے۔(رپورٹ:عبدالخالق عطاری نیوز فالواپ ذمہ دار نگران پاکستان مشاورت، کانٹینٹ: غیاث الدین عطاری)


ملک و بیرونِ ملک کے اسلامی بھائیوں کو علمِ دین سکھانے اور انہیں اشاعتِ دین کا جذبہ دلانے کے لئے عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں کثیر اسلامی بھائی شرکت کرتے ہیں۔

اسی سلسلے میں 19 جنوری 2023ء بروز جمعرات لاہور کے علاقے سوڈیوال کی جامع مسجد محمدی میں دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں قرب و جوار کے کثیر اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔

اجتماع کا آغاز تلاوتِ قراٰن اور نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ و سلم سے کیا گیا جبکہ مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی یعفور رضا عطاری نے سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئے شرکا کو مدنی پھولوں سے نوازا۔

علاوہ ازیں رکنِ شوریٰ نے شرکائے اجتما ع کو دعوتِ اسلامی کے 12 دینی کاموں میں عملی طور پر حصہ لینے کا ذہن دیا جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔(رپورٹ: محمد ابوبکر عطاری معاون رکن شوری حاجی یعفور رضا عطاری ، کانٹینٹ: غیاث الدین عطاری)

دعوتِ اسلامی کے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ جوہر ٹاؤن لاہو رمیں17 جنوری 2023ء بروز منگل شعبہ FGRF کے تحت ایک سیشن ہوا جس میں مختلف کمپنیوں کے C-Level پروفیشنلز ( CFO، CEO (S)) اور مینجمنٹ اسٹاف کے اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔

دورانِ سیشن مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی یعفور رضا عطاری نے سنتوں بھرا بیان کیا اور شرکا کو معاشرے کے مسائل اور اُن کا حل بتاتے ہوئے انہیں اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کا ذہن دیا۔سیشن کے بعد شرکائے اجتماع نے رکنِ شوریٰ حاجی یعفور رضا عطاری سے ملاقات بھی کی۔(رپورٹ:محمد ابوبکر عطاری معاون رکن شوری حاجی یعفور رضا عطاری، کانٹینٹ: غیاث الدین عطاری)


اللہ پاک نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے انہیں میں سے ایک نعمت مال و دولت بھی ہے، کچھ لوگ اس نعمت کو ناجائز طریقے سے حاصل کرتے ہیں، ہمارے معاشرے میں جہاں بے شمار ناجائز طریقوں سے مال حاصل کیا جاتا ہے، انہی میں سے ایک طریقہ سود ہے، سود ایک کبیرہ اور ہلاک کر دینے والا گناہ ہے، آج کل بغیر سود لیے قرض لینا مشکل ہوگیا، دو آدمی کے درمیان یہ ایسا معاملہ ہے کہ اگر ایک نے قرض لینا ہے تو دوسرا آدمی اس سے کہتا ہے کہ جتنا قرض لوگے اس سے کچھ اضافی رقم دے کر واپس کرو گے تو دوں گا، ایسا کرنے سے ہمارے اسلام نے منع کیا ہے، سود کو حرام قرار دیا ہے، اس کے بارے میں اللہ پاک قرآن مجید میں فرماتا ہے: وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ- (پ 3، البقرۃ:275)ترجمہ کنز الایمان:اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیا سود۔

ہمارا دین اسلام ایک مکمل دین ہے جس نے ہمیں زندگی گزارنے کے طریقے بتائے حلال اور حرام کو واضح کر دیا اور ہمیں ان طریقوں کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے، سود کی تعریف کچھ یوں ہے۔ فقہا نے لکھا کہ "سود اس اضافہ کو کہتے ہیں جو دو فریق میں ایک فریق کو مشروط طور پر اس طرح ملے کہ وہ اضافہ عوض سے خالی ہو" (ہدایہ)

سود کی ممانعت و مذمت احادیث مبارکہ میں بھی موجود چند احادیث مبارکہ پڑھیے اور لزر اٹھیں اور اس کبیرہ گناہ سے توبہ بھی کر لیجیے۔

احادیث مبارکہ:

1۔سود کا گناہ 73 درجے ہے ان میں سے چھوٹا یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زنا کرے۔(مستدرک، حدیث: 2354)

2۔رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: معراج کی رات میرا گزر ایسی قوم پر ہوا جن کے پیٹ گھروں کی مانند بڑے تھے اور ان میں سانپ تھے جو باہر سے نظر آرہے تھے، میں نے حضرت جبرائیل سے ان لوگوں کے بارے میں دریافت فرمایا، انہوں نے عرض کی: یہ وہ لوگ ہیں جو سود کھاتے تھے۔(ابن ماجہ، حدیث: 2282)

استغفرا للہ الامان و الحفیظ سود لینے اور دینے والوں کو عبرت حاصل کرنی چاہیے اس احادیث مبارکہ سے دنیا میں تو معمولی سے سانپوں سے ڈرتے ہو تو اس وقت کو تصور کرو اے سود کھانے والو! جب تمہارے پیٹوں میں سانپ ہوں اس وقت کون بچائے گا۔

موت آکر ہی رہے گی یاد رکھ جان جا کر ہی رہے گی یاد رکھ

قبر میں میت اترنی ہے ضرور جیسی کرنی ویسی بھرنی ہے ضرور

3۔سود کا ایک درہم جو آدمی کو ملتا ہے اس کے 36 بار زنا کرنے سے زیادہ برا ہے۔(شعب الایمان)

زنا جو کہ ایک بہت بڑا گناہ ہے جس کی سزا بہت بری اور کڑی ہے تو اگر کسی نے ایک درہم سود لینا ہے اس کا ایک درہم لینا 36 بار زنا کرنے سے زیادہ برا ہے۔

4۔ چار شخص ایسے ہیں کہ اللہ پاک نے اپنے لیے لازم کر لیا ہے کہ ان کو جنت میں داخل نہیں کرے گا اور نہ ان کو جنت کی نعمتوں کا ذائقہ چکھائے گا، پہلا شراب کا عادی، دوسرا سود کھانے والا، تیسرا ناحق یتیم کا مال اڑانے والا، چوتھا ماں باپ کی نافرمانی کرنے والا۔(کتاب الکبائر للذہبی)

5۔ سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو، صحابہ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ وہ سات بڑے گناہ کون سے ہیں؟ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: شرک کرنا، جادو کرنا، کسی شخص کو ناحق قتل کرنا، سود کھانا، یتیم کے مال کو ہڑپنا، کفار کے ساتھ جنگ کی صورت میں میدان سے بھاگنا، پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا۔(بخاری و مسلم)

سود دنیا کا غلیظ ترین نظام ہے،چند پیسوں کے عوض وہ اپنی آخرت تباہ کرتے ہیں، سود خور کو جنت میں داخلہ نہ ملے گا، سود خور بروز قیامت ذلیل و رسوا ہو جائے گا، اپنی حقیقی زندگی کو تباہ ہونے سے بچائیے اس کبیرہ گناہ کو ترک کیجیے، نہ جانے کب ہماری زندگی کی ڈور کٹ جائے اور ہمیں اللہ پاک کے غضب کا سامنا کرنا پڑ جائے۔

منہ خدا کو ہے دکھانا ایک دن اب نہ غفلت میں گنوانا ایک دن

ایک دن مرنا ہے آخر موت ہے کر لے جو کرنا ہے آخر موت ہے

سود کے بارے میں مزید معلومات کے لیے بہار شریعت جلد 2 حصہ 11 اور مکتبۃ المدینہ کے رسالہ سود اور اس کا علاج کا مطالعہ کیجیے۔


17 جنوری 2023ء بروز منگل پولیس لائن قلعہ گجر لاہور میں دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی یعفور رضا عطاری کی دیگر ذمہ داران کے ہمراہ آمد ہوئی۔

اس موقع پر آر پی او سرگودھا محمد اظہر اکرم کی والدہ مرحومہ کے لئے مقامی مسجد میں ایصالِ ثواب اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں آئی جی ریلوے پولیس پاکستان راؤ سردار احمد خان، اعلیٰ پولیس افسران، اہم بیوروکریٹس اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔

تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسول مقبول صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد رکنِ شوریٰ حاجی یعفور رضا عطاری نے سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئے حاضرین کی دینی و اخلاقی اعتبار سے تربیت کی اور انہیں دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے ہر دم وابستہ رہنے کا ذہن دیا۔

اجتماع کے اختتام پر وہاں موجود شخصیات نے رکنِ شوریٰ حاجی یعفور رضا عطاری سے ملاقات کی۔(رپورٹ: محمد ابوبکر عطاری معاون رکن شوری حاجی یعفور رضا عطاری ، کانٹینٹ: غیاث الدین عطاری)

جو چیز ماپ تول سے بکتی ہو جب اس کو اپنی جنس سے بدلا جائے مثال کے طور پر گندم کے بدلے گندم، جو کے بدلے جو لئے اور ایک طرف زیادہ ہیں تو یہ سود ہے جو کہ حرام ہے اور اس کی حرمت کا منکر کافر ہے۔

سود کی تعریف: سود کو عربی زبان میں ربا کہتے ہیں جس کا لغوی معنی زیادہ ہونا، پروان چڑھنا اور بلندی کی طرف جانا ہے اور شرعی اصطلاح میں سود کی تعریف یہ ہے کہ کسی کو اس شرط کے ساتھ رقم ادھار دینا کہ واپسی کے وقت وہ کچھ رقم زیادہ لے گا۔ عقد معاوضہ میں جب دونوں طرف مال ہو اور ایک طرف زیادتی ہو کہ اس کے بدلے دوسری طرف کچھ نہ ہو یہ سود ہے، اسی طرح قرض دینے والے کو قرض پر جو نفع جو فائدہ حاصل ہو وہ سب بھی سود ہے۔

5 فرامین مصطفیٰ:

1۔ رسول کریم ﷺ نے سود دینے والے، لینے والے، اس کے کاغذات تیار کرنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ وہ سب گناہ میں برابر ہیں۔(ابن ماجہ، 3/71، حدیث: 2273)

2۔ حضور ﷺ نے سود کھانے والے، کھلانے والے، سود لکھنے والے اور اس کی گواہی دینے والے پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ یہ سب اس گناہ میں برابر ہیں۔(قرطبی، البقرۃ، تحت الآیۃ: 276، 2/274)

3۔ ارشاد فرمایا: معراج کی رات میرا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کے پیٹ گھروں کی مانند بڑے تھے اور ان میں سانپ تھے جو باہر سے نظر آرہے تھے، میں نے جبرائیل سے ان لوگوں کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے عرض کی یہ وہ لوگ ہیں جو سود کھاتے ہیں۔(ابن ماجہ،3/71، حدیث: 2273)

4۔ جس نے سود کھایا اگرچہ ایک درہم ہو تو گویا اس نے اسلام میں اپنی ماں سے زنا کیا۔(نیکیوں کی جزائیں اور گناہوں کی سزائیں، ص 46)

5۔ سود کا ایک درہم جو آدمی کو ملتا ہے اس کے 36 بار زنا کرنے سے زیادہ برا ہے۔(شعب الایمان، 4/390، حدیث: 5523)

سود کے چند معاشرتی نقصانات: سودی قرضوں کا دائمی رجحان یہ ہے کہ وہ مالداروں کو فائدہ اور عام آدمیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، یہ پیدائشِ دولت، وسائل کی تخصیص اور تقسیم دولت پر بھی منفی اثرات لاتے ہیں، لین دین کے معاملے میں سود سے دوسرے کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے، اس کا حق مارا جاتا ہے جس کی وجہ سے آپس میں نفرتیں پیدا ہوتی ہیں، قرض لینے کے کچھ ہی عرصے بعد قرض دینے والوں کی خوش اخلاقی، ملنساری اور چہرے کی مسکراہٹ سب رخصت ہو جاتی اور اصل چہرہ بے نقاب ہو جاتا ہے جو گالیاں دے رہا ہوتا ہے، غنڈے بھیج کر مار پیٹ کروا رہا ہوتا ہے، گھر کے باہر کھڑے ہو کر ذلیل و رسوا کر رہا ہوتا ہے، لہٰذا عافیت اسی میں ہے کہ سود خوروں کی ملمع کاریوں اور خوش کن ترغیبات سے بچیں اور خدا کے حکم پر عمل کرتے ہوئے سود پر قرض کے لین دین سے دور رہیں۔

سود سے بچنے کی ترغیب: قناعت اختیار کریں، لمبی امیدوں سے کنارہ کشی کریں اور موت کو کثرت سے یاد کریں ان شاء اللہ دل سے دنیا کی محبت نکلے گی اور آخرت کی تیاری کرنے کا ذہن بنے گا، سود کے عذابات اور اس کے دنیوی نقصانات کو پڑھیے اور سنیے اور غور کیجیے کہ یہ کس قدر تباہی و بربادی کا سبب ہے۔


عقد معاوضہ یعنی لین دین کے کسی معاملے میں جب دونوں طرف مال ہو اور ایک طرف زیادتی ہو کہ اس کے مقابلے یعنی بدلے میں دوسری طرف کچھ نہ ہو یہ سود ہے، اسی طرح قرض دینے والے کو قرض پر جو نفع جو فائدہ حاصل ہو وہ سب بھی سود ہے۔ سود لینا شدید حرام ہے جو لوگ سود لیتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ سود لینے سے منع کیا گیا ہے۔

آیت مبارکہ: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً۪- وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ(۱۳۰) (پ 4، اٰل عمران:130) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو! سود دونا دون نہ کھاؤ اور اللہ سے ڈرو اس امید پر کہ تمہیں فلاح ملے۔

احادیث مبارکہ:

1۔حضور سید المرسلین ﷺ نے سود کھانے والے، کھلانے والے، سود لکھنے والے اور اس کی گواہی دینے والے پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ سب اس گناہ میں برابر ہیں۔(مسلم، ص 862، حدیث: 1099)

2۔سود کا گناہ 73 درجے ہے ان میں سے سب سے چھوٹا یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زنا کرے۔(مستدرک، 2/338، حدیث: 2306)

3۔سود کا ایک درہم جو آدمی کو ملتا ہے اس کے 36 بار زنا کرنے سے زیادہ برا ہے۔(شعب الایمان، 4/395، حدیث: 5523)

4۔ارشاد فرمایا: معراج کی رات میرا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کے پیٹ گھروں کی مانند بڑے تھے اور ان میں سانپ تھے جو باہر سے نظر آرہے تھے، میں نے جبرائیل سے ان لوگوں کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے عرض کی یہ وہ لوگ ہیں جو سود کھاتے ہیں۔(ابن ماجہ،3/71، حدیث: 2173)

5۔ سرکار دو عالم ﷺ نے رشوت لینے والے، دینے والے اور ان کے مابین لین دین میں مدد کرنے والے پر لعنت فرمائی۔(مسند امام احمد، 8/327، حدیث: 22462)

سود کے معاشرتی نقصانات: سود ایک حرام کام ہے، لوگ چند پیسوں کی خاطر اپنی آخرت تباہ کر دیتے ہیں، قرآن و حدیث میں بھی سود کے بارے میں واضح طور پر منع کیا گیا ہے، ہمیں چاہیے کہ سود سے بچیں جو اس کا انکار کرے وہ کافر ہے۔ اللہ ہمیں حلال رزق کمانے کی توفیق عطا فرمائے اور اس طرح کے بے جا ناجائز کاموں سے بچائے۔ آمین


سود حرام قطعی ہے، اس کی حرمت کا منکر یعنی انکار کرنے والا کافر ہے، جس طرح سود لینا حرام ہے سود دینا بھی حرام ہے اور یہ بہت ہی سخت گناہ کبیرہ اور جہنم میں لے جانے والا عمل بد ہے۔ اللہ پاک نے فرمایا: اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّؕ- (پ 3،البقرۃ:275) ترجمہ کنز الایمان: وہ جو سود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط (پاگل) بنا دیا ہو۔

سود کی تعریف:عقد معاوضہ یعنی لین دین کے کسی معاملے میں جب دونوں طرف مال ہو اور ایک طرف زیادتی ہو کہ اس کے مقابلے یعنی بدلے میں دوسری طرف کچھ نہ ہو یہ سود ہے، اسی طرح قرض دینے والے کو قرض پر جو نفع جو فائدہ حاصل ہو وہ سب بھی سود ہے۔

5 فرامین مصطفیٰ:

1۔حضور سید المرسلین ﷺ نے سود کھانے والے اور کھلانے والے اور سود لکھنے والے اور سود کے دونوں گواہوں پر لعنت فرمائی اور یہ فرمایا کہ سب گناہ میں برابر ہیں۔(مسلم، حدیث: 1598)

2۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شب معراج میں مجھے ایک ایسی قوم کے پاس سیر کرائی گئی کہ ان کے پیٹ کوٹھریوں کے مثل تھے جن میں سانپ بھرے تھے جو پیٹوں کے باہر سے نظر آرہے تھے تو میں نے پوچھا کہ اے جبرائیل یہ کون لوگ ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ یہ سود کھانے والے ہیں۔(سنن ابن ماجہ، حدیث: 2273)

3۔سود کا ایک درہم جان بوجھ کر کھانا 36 مرتبہ زنا کرنے سے بھی زیادہ سخت اور بڑا گناہ ہے۔(مسند امام احمد، حدیث: 22016)

4۔ ضرور ضرور لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ کوئی ایسا باقی نہ رہے گا جو سود خور نہ ہو اور اگر سود نہ کھائے گا تو سود کا دھواں ہی اسے پہنچے گا۔(سنن ابی داود، حدیث: 3331)

5۔ بیشک سود اگرچہ کتنا ہی زیادہ ہو مگر اس کا انجام مال کی کمی ہے۔(مشکوٰۃ المصابیح، حدیث:2827)

سود کے چند معاشرتی نقصانات: سود ایسا گناہ ہے جس کی وجہ سے ایک شخص کو معاشرے میں بھی طرح طرح کے نقصان پہنچتے ہیں مثلا لوگوں کی نظروں میں ذلیل و خوار ہو جاتا ہے، اللہ پاک اور اس کے فرشتوں اور اس کے نبیوں اور اس کے نیک بندوں کی لعنتوں میں گرفتار ہو جاتا ہے، سود کھانے والے شخص سے شرم و غیرت جاتی رہتی ہے، ہر طرف سے ذلتوں اور رسوائیوں اور ناکامیوں کا ہجوم ہو جاتا ہے۔(جنتی زیور، ص 94-95)

سود سے بچنے کی ترغیب: سود سے بچنے کے لیے قناعت اختیار کیجیے، لمبی امیدوں سے کنارہ کشی کیجیے اور موت کو کثرت سے یاد کیجیے، ان شاء اللہ دل سے دنیا کی محبت نکلے گی اور آخرت کی تیاری کرنے کا ذہن بنے گا، سود کے عذابات اور اس کے دنیوی نقصانات کو پڑھیے سنئے اور غور کیجیے کہ یہ کس قدر تباہی و بربادی کا سبب بنتا ہے۔

اللہ پاک ہمیں سود جیسی بری نحوست سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


سود کے بارے میں اللہ پاک فرماتا ہے: وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ- (پ 3، البقرۃ:275)ترجمہ کنز الایمان:اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیا سود۔ سود کو حلال سمجھ کر کھانے والا کافر ہے، کیونکہ یہ حرام قطعی ہے اور کسی بھی حرام قطعی کو حلال جاننے والا کافر ہے اور ایسا شخص ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔

سود کی تعریف: لین دین کے معاملے میں جب دونوں طرف مال ہو اور ایک طرف زیادتی ہو کہ اس کے بدلے میں دوسری طرف کچھ نہ ہو یہ سود ہے، اسی طرح قرض دینے والے کو قرض پر جو نفع، جو فائدہ حاصل ہو وہ سب بھی سود ہے۔

فرامین مصطفیٰ:

1۔ حضور ﷺ نے سود کھانے والے، کھلانے والے، سود لکھنے والے اور اس کی گواہی دینے والے پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ یہ سب اس گناہ میں برابر ہیں۔(تفسیر صراط الجنان)

2۔ سود کا گناہ 73 درجے ہے ان میں سب سے چھوٹا یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زنا کرے۔(صراط الجنان)

3۔ سود کا ایک درہم جو آدمی کوملتا ہے اس کے 36 بار زنا کرنے سے زیادہ برا ہے۔(شعب الایمان، 4/360، حدیث: 5523)

4۔رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: معراج کی رات میرا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کے پیٹ گھروں کی مانند بڑے تھے اور ان میں سانپ تھے جو باہر سے نظر آرہے تھے، میں نے حضرت جبرائیل سے ان لوگوں کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے عرض کی: یہ وہ لوگ ہیں جو سود کھاتے تھے۔(ابن ماجہ، حدیث: 2273)

5۔ اللہ پاک سود خور کا نہ صدقہ قبول کرے نہ حج، نہ جہاد، نہ رشتے داروں سے حسن سلوک۔(تفسیر قرطبی)

سود کے چند معاشرتی نقصانات: سود کے ذریعے لوگوں میں فساد ہو رہے ہیں، مال میں برکت کی کمی پیدا ہوتی ہے، مال میں اضافہ ہونے کے بجائے مال میں کمی پیدا ہوتی ہے، جو لوگ سود کا مال کھاتے ہیں ان کا مال بہت زیادہ ضائع ہو جاتا ہے، بہت سا مال بیماریوں پر خرچ ہوتا ہے، لوگوں کو سود کے بارے میں علم نہ ہونے کی وجہ سے اپنے مال کو حرام کر دیتے ہیں، لہٰذا سود سے بچنے کے لیے اوپر کی روایتوں کو غور سے پڑھیے اور اپنے گناہوں سے توبہ کریں۔

سود سے بچنے کی ترغیب: بعض اوقات سود سے بچنے کا ذہن بھی ہوتا ہے مگر معلومات نہ ہونے کی وجہ سے آدمی اس کے لین دین میں مبتلا ہو جاتا ہے، سود سے بچنے کے لیے قناعت اختیار کریں، لمبی امیدوں سے کنارہ کشی کریں اور موت کو کثرت سے یاد کریں، ان شاء اللہ دل سے دنیا کی محبت نکلے گی اور آخرت کی تیاری کا ذہن بنے گا۔آپس میں اتفاق پیدا کریں کیونکہ اتفاق میں برکت ہوتی ہے، جب برکت ہوتی ہے تو مال اولاد اور علم وغیرہ میں برکت ہوتی ہے، اپنے گناہوں سے سچی توبہ کریں، توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہوا ہے، نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں، ان شاء اللہ بہت بڑا فائدہ حاصل ہوگا، نمازوں کی ادائیگی کریں اور اپنے مالِ حلال سے زکوٰۃ ادا کریں اس کی برکت سے مال میں برکت ہوگی اور اپنی اولاد اور اپنے اہل و عیال وغیرہ کو حلال رزق کھلائیں۔


فی زمانہ جہاں ہمارا معاشرہ بے شمار برائیوں میں مبتلا ہے وہیں ایک اہم ترین برائی ہمارے معاشرے میں بڑی تیزی کے ساتھ پروان چڑھ رہی ہے وہ یہ ہے کہ اب کسی حاجت مند کو بغیر سود کے قرض ملنا مشکل ہو گیا ہے،سود ایک کبیرہ اور ہلاک کر دینے والا گناہ ہے، سود لینے سے ہمارا اسلام منع فرماتا ہے اور قرآن و احادیث میں اس کی ممانعت آئی ہے، اللہ پاک پارہ 3 سورۂ بقرہ آیت نمبر 275 میں ارشاد فرماتا ہے: اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّؕ- پ 3،البقرۃ:275) ترجمہ کنز الایمان:وہ جو سود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط کر دیا ہو۔آیت نمبر 276 میں ہے: یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِیْمٍ(۲۷۶) (پ 3، البقرۃ: 276)ترجمہ: اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور نا شکرے گنہگار کو اللہ دوست نہیں رکھتا۔

سود کی تعریف: عقد معاوضہ یعنی لین دین کے کسی معاملے میں جب دونوں طرف مال ہو اور ایک طرف زیادتی ہو کہ اس کے بدلے میں دوسری طرف کچھ نہ ہو یہ سود ہے۔(بہار شریعت، 2/769، حصہ: 11)اسی طرح قرض دینے والے کو قرض پر جو نفع فائدہ حاصل ہو وہ سب سود ہے۔

سود کے متعلق مختلف احکام: سود حرام قطعی ہے، اس کی حرمت کا منکر یعنی حرام ہونے کا انکار کرنے والا کافر ہے، جس طرح سود لینا حرام ہے اسی طرح سود دینا بھی حرام ہے۔(گناہوں کے عذابات: ص 37)

فرامین مصطفیٰ:

1۔سود کا گناہ 73 درجے ہے ان میں سے سب سے چھوٹا یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں کے ساتھ زنا کرے۔ (مستدرک، 2/338، حدیث: 2356)

2۔جب کسی بستی میں زنا اور سود پھیل جائے تو اللہ اس بستی والوں کو ہلاک کرنے کی اجازت دے دیتا ہے۔ (کتاب الکبائر،ص 69)

3۔حضور رحمۃ للعالمین ﷺ نے سود کھانے والے، کھلانے والے، سود لکھنے والے اور اس کی گواہی دینے والے پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ یہ سب اس گناہ میں برابر ہیں۔(مسلم، ص 862، حدیث: 1599)

4۔سود کا ایک درہم جان بوجھ کر کھانا 36 مرتبہ زنا کرنے سے بھی زیادہ سخت اور بڑاگناہ ہے۔(مسند امام احمد، حدیث: 22016)

5۔ فرمان مصطفیٰ: رات میں نے دیکھا کہ میرے پاس دو شخص آئے اور مجھے زمین مقدس (بیت المقدس) میں لے گئے پھر ہم چلے یہاں تک کہ خون کے دریا پر پہنچے یہاں ایک شخص کنارے ہر کھڑا ہے جس کے سامنے پتھر پڑے ہوئے ہیں اور ایک شخص بیچ دریا میں ہے یہ کنارے کی طرف بڑھا اور نکلنا چاہتا تھا کہ کنارے والے شخص نے ایک پتھر ایسے زور سے اس کے منہ پر مارا کہ جہاں تھا وہیں پہنچا دیا پھر جتنی بار وہ نکلنا چاہتا ہے کنارے والا منہ پر پتھر مار کر وہیں لوٹا دیتا ہے، میں نے پوچھا: یہ کون شخص ہے؟ کہا: یہ شخص جو نہر میں ہے سود خوار (یعنی سود کھانے والا) ہے۔(بخاری، ص 543، حدیث: 2085)

سود کے چند معاشرتی نقصانات: سود ایسا گناہ ہے جس کی وجہ سے ایک شخص کو معاشرے میں بھی طرح طرح کے نقصانات پہنچتے ہیں مثلاً لوگوں کی نظروں میں ذلیل و خوار ہو جاتا ہے اللہ پاک اور اس کے فرشتوں اور اس کے نبیوں اور اس کے نیک بندوں کی لعنتوں میں گرفتار ہو جاتا ہے، سود والے شخص سے شرم و غیرت جاتی رہتی ہے، ہر طرف سے ذلتوں اور رسوائیوں اور ناکامیوں کا ہجوم ہو جاتا ہے۔(جنتی زیور، ص 94-95)

سود سے بچنے کی ترغیب:حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اللہ پاک سود خور کا نہ صدقہ قبول کرے، نہ حج، نہ جہاد، نہ رشتے داروں کے ساتھ حسن سلوک۔(تفسیر قرطبی، البقرۃ، تحت الآیۃ: 276، 2/274) لہٰذا سود بہت زیادہ ہلاکت کا باعث ہے اس سے ہر حال میں بچنا چاہیے سود سے بچنے کے لیے قناعت پسند بنیے کہ اس سے انسان حرص و لالچ کا شکار نہیں ہوتا۔

بے جا مال کی محبت سے چھٹکارا پانے اور قناعت کی دولت اپنانے کے لیے دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو جائیے نیک اعمال پر عمل کیجیے اور سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کو اپنا معمول بنا لیجیے۔ اللہ کریم ہمیں عافیت و امان کے ساتھ سود کی آفتوں سے محفوظ فرمائے۔آمین


سود سے مراد وہ عقد معاوضہ جس میں دونوں طرف مال ہو اور ایک طرف زیادتی ہو کہ اس کے مقابل یعنی بدلے میں دوسری طرف کچھ نہ ہو یہ سود ہے۔ بہت سی احادیث و آیات میں سود کی مذمت کے متعلق ذکر کیا گیا ہے کہ سود حرام قطعی ہے اس کی حرمت کا منکر کافر ہے اس کے متعلق کچھ احادیث ملاحظہ کیجیے۔

فرامین مصطفیٰ:

1۔ سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو، صحابۂ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ وہ کون سے گناہ ہیں؟ ارشاد فرمایا: شرک کرنا، جادو کرنا،ناحق کسی جان کو قتل کرنا، یتیم کا مال کھانا،سود کھانا، میدان جہاد سے بھاگ جانا، پاک دامن عورت کو زنا کی تہمت لگانا۔(مسلم، ص 65، حدیث: 89)

2۔ اللہ پاک نے سود لینے اور دینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔(76 کبیرہ گناہ، ص 48)

3۔ رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے، کھلانے والے، اس کی تحریر لکھنے والے اور اس کی گواہی دینے والوں پر لعنت کی۔(صراط الجنان، 1/412)

4۔ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:شب معراج میں ایک ایسی قوم کے پاس سے گزرا جن کے پیٹ کمروں کی طرح بڑے بڑے تھے جن میں سانپ پیٹوں کے باہر سے دیکھے جا رہے تھے،میں نے جبرائیل سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟انہوں نے عرض کی:یہ سود خور ہیں۔(سنن ابن ماجہ،ص 72،حدیث:2273)

5۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے سعد! اپنی خوراک پاک کرو مستجاب الدعوات ہو جاؤگے، اس ذات پاک کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے آدمی اپنے پیٹ میں حرام کا لقمہ ڈالتا ہے تو 40 دن تک اس کا کوئی عمل قبول نہیں کیا جاتا اور جس بندے کا گوشت سود اور حرام خوری سے اُگا اس کے لیے آگ بہتر ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:شب معراج میں ایک ایسی قوم کے پاس سے گزرا جن کے پیٹ کمروں کی طرح بڑے بڑے تھے جن میں سانپ پیٹوں کے باہر سے دیکھے جا رہے تھے،میں نے جبرائیل سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟انہوں نے عرض کی:یہ سود خور ہیں۔(صراط الجنان، 1/268)

آئیے اب قرآن پاک سے سود کی مذمت ملاحظہ کیجیے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۲۷۸) (پ 3، البقرۃ: 278) ترجمہ: اے ایمان والو! اگر تم ایمان والے ہو تو اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہو اسے چھوڑ دو۔ایک اور جگہ فرمایا: اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّؕ- پ 3،البقرۃ:275)ترجمہ کنز الایمان:وہ جو سود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط کر دیا ہو۔

بچنے کی ترغیب: سود سے بچنے کے لیے قناعت اختیار کریں، لمبی امیدوں سے کنارہ کشی کریں اور موت کو کثرت سے یاد کریں ان شاء اللہ دل سے دنیا کی محبت نکلے گی اور آخرت کی تیاری کا ذہن بنے گا اور سود کے عذابات کا مطالعہ کیجیے۔

معاشرتی نقصان: سود کا رواج تجارتوں کو خراب کرتا ہے اس سے باہمی محبت کے سلوک کو نقصان پہنچتا ہے، سود سے انسان کی طبیعت میں درندوں سے زیادہ بے رحمی پیدا ہوتی ہے، سود خور کا کسی کو قرض حسن سے امداد پہنچنا گوارا نہیں ہوتا۔