28 جمادی الاخر, 1441 ہجری

: : :
(PST)

18 جنوری  2020 کی رات ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطا قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے عاشقانِ رسول کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے علم و حکمت سے بھرپور جوابات ارشاد فرمائے۔ کثیر اسلامی بھائیوں نے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ آکر مدنی مذاکرے میں شرکت کی سعادت حاصل کی، مدنی مذاکرے کے چند مدنی پھول ملاحظہ کیجئے:

سوال: جب کسی کو چھینک آئےتو وہ کیا کہے؟

جواب:اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ کہے اگرصرف اَلْحَمْدُ لِلّٰہبھی کہا تب بھی دُرست ہے ۔

سوال: چھینکنے والاچھینکنےکے بعدکیا کلمات کہے تو دانتوں کی بیماریوں سے محفوظ رہے گا؟

جواب:جب چھینکنے والاچھینکنے کے بعداَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ عَلٰی کُلِّ حَال کہے اوراپنی زبان دانتوں پر پھیرلیا کرے تو دانتوں کی بیماریوں سےمحفوظ رہے گا۔ سوال:وہ کون ساعمل ہے جس کو کرنے سے دانتوں ،کانوں ، کمر کے درد اوربد ہضمی سے محفوظ رہے گا؟

جواب:جو کسی چھینکنے والے کے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنے سے پہلے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہہ لے تویہ دانتوں ،کانوں ، کمر کے درد اوربد ہضمی سے محفوظ رہے گا۔

سوال: کیا کتاب لکھنے میں بھی مشقت ہوتی ہے؟

جواب: کتابیں لکھنے کاکام دماغی اورمشقت والا کام ہے،کافی محنت کرنا پڑتی ہے ۔میں نےجب"فیضانِ نماز"پر کام کیا تو میری انگلیاں جام ہوجاتی تھیں، حکیم صاحب سے رابطہ کرکے اس کا علاج کیا ،اب اَلْحَمْدُ لِلّٰہ دُرست ہیں ۔

سوال:آپ کی مُونچھوں کا کلرسفید ہونے کی کیاوجہ ہے؟

جواب: میں نے نیّت کی ہے کہ میں اپنی داڑھی مہندی نہ لگا کر سفید کرلوں ،اس میں میری کچھ اچھی اچھی نیّتیں بھی ہیں،مثلاًمیں نے مہندی لگانا شروع کی تو اہلِ محبت نے کلر لگانا شروع کردیے،جس میں کئی مسائل ہیں،ان مسائل سے بچت ہوگی،مہندی لگانے میں وقت لگتاہے،وقت کی بچت کی نیت ہے،گھر کے کسی فرد اورنگرانِ شوریٰ نے داڑھی سفیدکرنے کا کہا،ان کی دِلجوئی کی نیّت ہے۔

سوال: مُراقَبہ کیا ہےاورمُراقَبہ کرنےکا طریقہ کیا ہے؟

جواب: مُراقَبہ کسی چیز پر ایک دَم توجہ دینے کو مُراقبہ کہتے ہیں،مثلاً سارے خیالات کو چھوڑ کر مدینہ شریف کے بارےمیں سوچنا ۔اسی طرح قیامت ،آخرت کے بارے میں سوچنا ،گنا ہ ہوجائے تو آنکھیں بند کرکےاس پر غورکرکے توبہ کرنااوراپنےآپ کو ڈرانا یہ سب مُراقَبے کی صورتیں ہیں۔

سوال: امیرِاہلِ ِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے زندگی کی بے ثباتی اورآخرت کے بارے میں اپنےجذبات کا اظہارکن الفاظ سے فرمایا؟

جواب: زندگی کا کوئی بھروسانہیں ،مجھے اپنا بچپن ،جوانی اوراس میں(مدنی کام کےلیے)کوشش وہمت کرنا یاد ہے،سب خواب لگتاہے ، اب بڑھاپے کی جوکیفیت ہے، وہ میں ہی جانتاہوں کہ کس طرح قبروآخرت کی یاد آتی ہے ،موجودہ سانسیں تو بونس ہیں ،بس اللہ پاک ایمان سلامت رکھے اورایمان پر خاتمہ ہو۔

سوال:اِس ہفتے کارِسالہ ”سرکار(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )کا اندازِ تبلیغِ دینپڑھنے یاسُننے والوں کو امیرِاہلِ ِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب:یاربَ المصطفیٰ!جو کوئی رسالہ ”سرکار(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )کا اندازِ تبلیغ دِین“ پڑھ یا سُن لے،اس کو ایسابندہ بنا جس کی دُعائیں قبول ہواکرتی ہیں اوربے حساب مغفرت اُس کا مُقدربنادے ۔ اٰمِیْن ۔