فیضانِ مدینہ کراچی میں دستارِ فضیلت و تقسیم اسناد کا سلسلہ

500 علمائے کرام کے سروں پر دستار سجائی گئی

دعوتِ اسلامی کے تعلیمی شعبہ جامعۃ المدینہ بوائز کے زیرِ اہتمام 11 جنوری 2026ء بروز اتوار عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں عظیم الشان ”دستارِ فضیلت و تقسیم اسناد اجتماع“ کا انعقاد کیا گیا۔ یہ پُر وقار تقریب درس ِ نظامی (عالم کورس) سے فراغت حاصل کرنے والے علمائےکرام کی حوصلہ افزائی اور ان کی تعلیمی کاوشوں کے اعتراف میں منعقد ہوئی۔

اجتماع کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا جس کے بعد نعتِ رسولِ مقبول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پیش کی گئی۔ اس موقع پر جامعۃ المدینہ کے ذمہ داران، اساتذۂ کرام، علمائے اہلِ سنت، والدین و سرپرست، مختلف شعبہ جات سے وابستہ اسلامی بھائی اور طلبۂ کرام کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

تقریب میں شیخ الحدیث مفتی محمد حسان عطاری مدنی مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے حدیث پاک:”مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ،جس کے ساتھ اللہ پاک بھلائی کا ارادہ فرماتا ہےاُسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے“سے اپنے بیان کا آغاز کیا۔ حدیث پاک کے متعلق شارحین کے اقوال کا مفہوم بیان کرتے ہوئے مفتی صاحب نے فرمایا کہ اللہ پاک ایسے شخص کو جس کے ساتھ اس نے بھلائی کا ارادہ فرمایا ہےاُسے دین کی طرف رغبت عطا فرماتا ہے، دینی مسائل ، دینی معاملات اور دینی باتوں کو سمجھنے کی توفیق عطا فرماتا ہے اور سب سے اہم اس میں یہ ہے کہ یہ جو ”علم ُ فہم“ ہوتا ہے یہ بندے کے اندر خشیٔت باری تعالیٰ کو پیدا کرتا ہےیعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا خوف اس کے دل کے اندر پیدہوتا ہے۔مفتی صاحب نے اس حوالے سے امام حسن بصری رحمۃُ اللہِ علیہکا قول کرتے ہوئے کہا کہ ”فقیہ ہوتا ہی وہ ہے جو اللہ سے ڈرنے والا ہو“، دین کی سمجھ بوجھ حقیقی طور پر اُسے ہی عطا ہوتی ہےجس کے دل کے اندر اللہ کا خوف موجود ہو۔ علم حاصل کرنے کے اصول پر مفتی صاحب نے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ علم اول تو ہمیشہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کرنا چاہیئے یعنی مقصد اصلی رب تعالیٰ کو راضی کرنا ہوجبکہ دوسرا مقصد علم کو ہمیشہ بطور علم حاصل کریں یعنی مقصد حصول علم ہو، ہمارا ان مقصد سے فائدہ یہ حاصل ہوگا کہ ہمیں ذوقِ علمی و شوقِ علم حاصل ہوگا،جب ہم علم کو بطور علم حاصل کریں گے تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس علم کے اندر ہمارے لئے لذّت عطا فرمادے گا، جس علم کا مقصد اللہ پاک کی رضا ہو،اللہ پاک اس علم کو ”علم نافع“ بنادیتا ہے جس کی نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا کیا کرتے تھے۔ بیان کے اختتام پر مفتی صاحب نے فارغ التحصیل ہونے والے علمائے کرام کو ہمیشہ علم حاصل کرتے رہنے اور شرکا کو بھی علم دین حاصل کرنے کا ذہن دیا اور اس کے لئے سب سے بہترین اور آسان ذریعہ بتاتے ہوئے انہیں مدنی مذاکرہ دیکھنے اور اس میں شرکت کرنے کی ترغیب دلائی۔

بیان کے بعد رکن مجلس جامعۃ المدینہ مولانا سید ساجد عطاری مدنی نےشعبہ جامعۃ المدینہ بوائز پاکستان کی کارکردگی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ پاکستان بھر میں اس وقت جامعۃ المدینہ کی 544 برانچز قائم ہیں جن میں 48397یعنی تقریباً 50 ہزار کے قریب طلبائے کرام درسِ نظامی (عالم کورس) کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں۔ان برانچز کے سسٹم کو چلانے والے اسٹاف جن میں ناظمین، اساتذۂ کرام، خادمین اور دیگر عملے کی تعداد 4785 ہے۔ رکن مجلس نے مزید کہا کہ صرف شہر کراچی میں جامعۃ المدینہ کی 80 برانچز میں تقریباً 5000 طلبہ علم دین حاصل کررہے ہیں۔ ان 544برانچز کے سالانہ اخراجات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ صرف جامعۃ المدینہ بوائز پاکستان کو چلانے کے لئے دعوتِ اسلامی 4 ارب سالانہ خرچ کرتی ہے جبکہ 544 برانچز میں سے اکثر رہائشی ہیں جن میں طلبہ کرام کو قیام و طعام کی سہولت مفت دی جاتی ہے۔اسی طرح جو مقیم طالبعلم 08 سالہ درسِ نظامی مکمل کرکے فارغ التحصیل ہوتا ہے دعوتِ اسلامی اُس پر 15 لاکھ روپے خرچ کرتی ہےجبکہ غیر رہائشی طالبعلم پر 08 سال میں 05 لاکھ روپے خرچ کیا جاتا ہے۔

تمام مراحل کے بعد خوشی کی وہ گھڑی بھی آئی جب مفتیان کرام، اساتذۂ کرام اور اراکینِ شوریٰ کے ہاتھوں جامعات المدینہ کراچی سے عالم کورس اور تخصصات سے فارغ التحصیل ہونے والے تقریباً 500علمائے کرام کے سروں پر دستار سجائی گئی اور انہیں اسناد دی گئی۔

اس موقع پر حاضرین کے چہروں پر خوشی اور مسرت نمایاں تھی جبکہ والدین اور اساتذۂ کرام کی آنکھوں میں فخر اور شکرگزاری کے جذبات جھلک رہے تھے۔ آخر میں خصوصی دعا کا اہتمام کیا گیا جس میں ملک و ملت کی سلامتی، دینی تعلیم کے فروغ، دعوتِ اسلامی کی ترقی اور علما و طلبہ کی استقامت کے لئے دعائیں مانگی گئیں۔ اجتماع نہایت نظم و ضبط، روحانیت اور خوشگوار ماحول کے ساتھ صلوۃ و سلام پر اختتام پذیر ہوا۔