حضرتِ سیدنا حاتم اصم  رحمۃ اللہ علیہ حضرت سیدنا شقیق بلخی علیہ الرحمۃ القوی کے شاگرد تھے، ایک دن استاد صاحب نے ان سے پوچھا۔ آپ 30 سال سے میر ی صحبت میں ہیں اتنے عرصے میں کیا حاصل کیا؟ تو حضرت سیدنا حاتم علیہ الرحمۃ نے عرض کی۔ ’’ میں نے علم کے 8 فوائد حاصل کیے جو میرے لیے کافی ہے اور مجھے امید ہے کہ ان پرعمل کی صورت میں میری نجات ہے۔ حضرت سیدنا شقیق رحمۃ اللہ علیہ نے ان فوائد کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فوائد یوں بیان کیے ج،ان میں سے چند یہ ہیں۔

پہلا فائدہ :

میں نے لوگوں کو بنظرِ غور دیکھا کہ ان میں سے ہر ایک کا کوئی نہ کوئی محبوب و معشوق ہے، جس سے وہ عشق و محبت کا دم بھرتا ہے، لیکن لوگوں کے محبوب ایسے ہیں کہ ان میں سے کچھ مرض الموت تک ساتھ دیتے ہیں اور کچھ قبر تک پھر تمام واپس لوٹ جاتے ہیں اور اسے قبر میں تنہا چھوڑ دیتے ہیں او ران میں سے کوئی بھی اس کے ساتھ قبر میں نہیں چاتا، لہذا میں نے غور غور و فکر کے بعد دل میں کہا، بندے کا سب سے اچھا محبوب اور بہترین دوست تو وہ ہے جو اس کے ساتھ قبر میں جائے اور وہاں کی وحشت و گھبراہٹ میں اس کا غم خوار بنے، تو مجھے سوائے نیک اعمال کے کوئی اس قابلِ نظر نہ آیا تو میں نے نیک اعمال کو اپنا محبوب بنالیا، تاکہ یہ میرے لئے قبر میں چراغ بن جائے، وہاں میرا دل بھلائے اور مجھے تنہا نہ چھوڑے۔

دوسرا فائدہ :

میں نے دیکھا کہ ہر آدمی دنیا کا مال و دولت جمع کرنے اور اسے ذخیر ہ کرنے میں مشغول ، تو میں نے اللہ عزوجل کے اس فرمان ِلازوال میں غور کیا۔ مَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍؕ- ترجمہ کنزلایمان:جو تمہارے پاس ہے ہوچکے گا اور جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پاس ہے وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔(پ ۱۴،النحل ۔۹۶)

پس میں نے جو کچھ جمع کیا تھا اللہ عزوجل کی رضا کے لیے فقرا ء و مساکین میں تقسیم کردیا تاکہ رب کریم عزوجل کے پاس ذخیرہ ہوجائے۔(اور مجھے فائدہ پہنچے)

تیسرا فائدہ :

میں نے دیکھا کہ لوگ اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں اور نفسانی خواہشات کی جانب بڑی تیزی سے بڑھتے ہیں، تو پھر میں نے اللہ عزوجل کے اس فرمان پر غور کیا۔ وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰىۙ(۴۰) فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ(۴۱) تَرجَمۂ کنز الایمان: اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا ۔ تو بے شک جنّت ہی ٹھکانا ہے( النٰزعٰت،40،41)

اور میرا ایمان ہے کہ قرآن کریم حق اور اللہ عزوجل کا سچا کلام ہے، پس میں نے اپنے نفس کی مخالفت شروع کردی، ریاضت اور مجاہدات کی طرف مائل ہوا اور نفس کی کوئی خواہش پوری نہ کی یہاں تک کہ وہ اللہ عزوجل کی اطاعت و فرمانبرداری کے لیے راضی ہوگیا اور اپنا سر جھکا دیا۔

چھٹا فائدہ :

میں نے دیکھا کہ لوگ ایک دوسرے کی برائی بیان کر تے ہیں اور خوب غیبت کا شکار ہوتے ہیں، اس کے اسباب پر غور کیا تو معلوم ہوا تو یہ سب حسد کی وجہ سے ہورہا ہے، اور اس حسد کی اصل وجہ شان و عظمت ، مال و دولت اور علم ہے تو اس میں نء قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ میں غور کیا۔ -نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا (۳۲) تَرجَمۂ کنز الایمان: ہم نے اُن میں ان کی زیست کا سامان دنیا کی زندگی میں بانٹا(الزخرف ، 32)

تو میں نے اس بات کو باخوبی جان لیا، شان و عظمت کی تقسیم اللہ عزوجل نے ازل سے فرمادی ہے، اس لیے میں کسی سے حسد نہیں کرتا۔ اور رب کریم عزوجل کی تقسیم و تقدیر پر راضی ہوں۔

جب حضرت شقیق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے یہ ۸ فوائد سنے تو ارشاد فرمایا: اے حاتم اللہ عزوجل آپ کو ان پر عمل کرنے کی توفیق سے مالا مال فرمائے، میں نے تو رات ، انجیل ، زبور اور قرآن مجید کی تعلیمات میں غور کیا تو ان تمام کتابوں کو ان فوائد پر مشتمل پایا تو جو خوش نصیب ان پر عمل کرے تو گویا اس نے ان چاروں کتابوں پر عمل کیا۔

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


علمائے کرام کی شان اور فوائد سب لوگ جانتے ہیں اسی طرح علمائے كرام كی صحبت کے فوائد بہت ہیں، اگر تاریخ میں نظر ڈالی جائے تو بے شمار واقعات ایسے ملتے ہیں جن سے علمائے کر ام سے کسی کا ایمان بچ جاتا ہے یا کسی کو ولایت کا مرتبہ حاصل ہوجاتا ہے یا کسی کو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوجاتا ہے۔

اس ضمن میں ایک حکایت آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی سعی کرتا ہوں سیدنا غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ مدینہ منورہ سے حاضری دے کر ننگے پاؤں بغداد شریف کی طرف آرہے تھے کہ راستے میں ایک چور کھڑا کسی مسافر کا انتظار کررہا تھا کہ اس کو لوٹ لے، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جب اس کے قریب پہنچے تو پوچھا ، تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا کہ کہ دیہاتی ہوں ، مگر آپ رحمۃ اللہ علیہ نےکشف کے ذریعے ا س کی مصیبت اور بدکرداری کو لکھا ہوا دیکھ لیا اور اس چور کے دل میں خیال آیا، شاید یہ غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ ہیں، آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو اس کے دل میں پیدا ہونے والے خیال کا علم ہوگیا اور آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا۔ میں عبدالقادر ہوں۔

تو وہ چور سنتے ہی فورا آپ رحمہ اللہ علیہ کے مبارک قدموں پر گر پڑا اور اس کی زبان پر ”اے میرے سردار عبدالقادر میرے حال پر رحم فرمائیے جاری ہوگیا“، آپ کو اس کی حالت پر رحم آگیا اور اس کی اصلاح کے لیے بارگاہِ الہی میں متوجہ ہوئے تو غیب سے ندا آئی ، اے عبدالقادر اس چور کو سیدھا راستہ دکھا دو اور ہدایت کی طرف رہنمائی فرماتے ہوئے اسے قطب بنادو،، چنانچہ آپ کی نگاہ فیض رساں سے وہ قطبیت کے درجے پر فائز ہوگیا۔

اس حکایت سے عبدالقادر کی شان اور علمائے کرام کی صحبت کے فوائد واضح ہوگئی ۔

فوائد:

ایمان کی حفاظت ہوتی ہے۔

علم حاصل ہوتا ہے۔

نیک کام کرنے کی او ر گناہ سے بچنے کی توفیق ملتی ہے ۔

اللہ او راس کے رسول صلی اللہ تعلی علیہ وسلم کی محبت میں اضافہ ہوتا ہے ۔

حلال کمانے اور حرام سے بچنے کا ذہن لتا ہے ۔

لڑائی اور جھگڑے ، جھوٹ غیبت، گالی گلوچ وغیرہ سے بچنے اور در گزر ، معا ف کرنے، ایثار کرنے کے جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


قر آن مجیدکی سو رۃ فا طر کی آیت نمبر28میں اللہ تعالی نے فر ما یا: اہل علم نے کہا یہ آیت علماء کی شان بیان کر تی ہے اور اس امتیاز کو حاصل کر نے کیلئے اللہ سے تقوی اور خشیت ضروری ہے۔ یا د رکھو کہ علم محض جان لینے کا نام نہیں خشیت و تقوی کا نام ہے۔ عالم وہ ہے جو رب سے تنہائی میں ڈرے اور اس میں رغبت رکھے اور اس کی نا راضگی سے بچے۔ سورہ زمرمیں اللہ تعالی نے ارشاد فر مایا: پو چھو بھلا علماء اور جہلاء برابر ہو سکتے ہیں؟ حا لا نکہ نصیحت تو عقلمند ہی حا صل کر تے ہیں۔ فضیلت علم و علماء کا باب امام بخاری نے کتاب العلم میں قا ئم کیا ہے۔ باب العلم قبل القول والعمل اس میں حضر ت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ذکر کی کہ جو کوئی حصول علم کیلئے نکلتا ہے اللہ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے(مسلم)

حضر ت سیدنا کمیل بن زیاد علیہ رحمۃ رب العباد سے مر وی ہے کہ ایک دن امیر المومنین مولا مشکل کشا ، شہنشاہ اولیا حضرت سیدنا علی المرتضٰی کرم اللہ تعالی وجھہ الکریم میرا ہا تھ پکڑ کر ایک قبر ستان کے کنا رے چلنے لگے یہاں تک کہ جب ہم ایک کھلے میدان میں پہنچے تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ ایک جگہ بیٹھ کر سا نس لینے لگے۔ پھر کچھ دیر بعد فر مانے لگے:’’اے کمیل بن زیاد!دل بر تنوں کی طرح ہیں اور ان میں بہتر ین دل وہ ہے جو بات کو زیادہ یاد رکھے۔ یہ بات یاد رکھو!کہ لوگ تین طرح کے ہوتے ہیں:

1۔ عالم ربانی 2۔ راہ نجات پر چلنے والا طالب علم دین اور 3۔ وہ بے وقوف اور جاہل لوگ جو ہر سنی سنائی بات کی پیروی کرنے لگ جا تے ہیں، ہر ہوا کے ساتھ بدل جاتے ہیں،نور علم سے اپنے قلب و باطن کو روشن کرنے سے محروم رہتے اور کسی مضبوط ستو ن کو ذریعہ حفا ظت نہیں بناتے ہیں۔علم مال سے بہتر ہے، علم تیری حفاظت کر تا ہے جبکہ ما ل کی تجھے حفا ظت کر نی پڑ تی ہے۔ علم پھلانے سے بڑھتا ہے جبکہ مال خرچ کرنے سے گھٹتاہے۔

عا لم سے لوگ محبت کرتے ہیں۔ عالم علم کی بدولت اپنی زند گی میں اللہ عزوجل کی ا طا عت بجالا تا ہے۔ عالم کے مر نے کے بعد بھی اس کا ذکر خیر با قی رہتا ہے جب کہ ما ل کا فا ئدہ اس کے زوال کے ساتھ ہی ختم ہو جاتا ہے اور یہی معاملہ مالداروں کا ہے کہ دنیامیں مال ختم ہو تے ہی ان کا نام تک مٹ جاتا ہے اس کے برعکس علماء کا نام رہتی دنیا تک با قی رہتا ہے۔

ما لداروں کے نا م لینے والے کہیں نظر نہیں آ تے جبکہ علما ئے دین کی عزت اور مقام ہمیشہ لو گوں کے دلوں میں قائم رہتی ہے۔ ہا ئے افسوس! پھر آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے ہا تھ سے اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہو ئے فرمایا:

یہاں ایک علم ہے کا ش تم اسے اس کے اٹھانے والوں تک پہنچا دو، ہا ں تم اسے ذہین و فطین کو پہنچا دو گے جس پر اطمینا ن نہیں رہا، دین کو دنیا کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے یا پھر وہ اہل حق کے سا منے تو سر تسلیم خم کئے ہوئے ہے لیکن اس میں کوئی بصیرت نہیں۔ ایسے علم والے کے دل میں پہلی ہی دفعہ شک جگہ بنا لیتا ہے نہ اسے کامیا بی ملتی ہے اور نہ ہی دوسرا کامیاب ہوتا ہے جسے یہ علم سکھاتا ہے۔ وہ لذات و خواہشات میں منہمک رہتا ہے۔ شہوات کی زنجیر وں میں جکڑ ا ہوتا ہے یا مال ودولت کے جمع کرنے میں لگا رہتا ہے اور یہ دونوں شخص دین کی طرف بلانے والے نہیں ان دونوں کی مثال تو چرنے والے جانور کی سی ہے۔ اس طرح علم بھی ایسے لوگوں کے ساتھ مرجاتا ہے مگر اللہ جانتا ہے کہ زمین اللہ کے حق کو دلائل کے ساتھ قائم کرنے والوں سے کبھی خالی نہیں ہوتی تا کہ اللہ کی حجتیں اور اس کے واضح دلائل ضا ئع نہ ہو جا ئیں۔ایسے نفوس قدسیہ کی تعداد بہت کم ہوتی ہے لیکن اللہ کے ہا ں ان کی قدرومنزلت بہت زیادہ ہے۔ ان کے ذریعے اللہ اپنی حجتوں کا دفاع فرماتا ہے یہاں تک کہ پھر ان کی مثل لوگ آکر ان کی جگہ یہ فر یضہ انجام دیتے ہیں اور وہ ان کے دلوں میں شجر حق کی آ بیاری کرتے ہیں پھر حقیقی علم ان کے پاس آتا ہے جس سے جاہلوں کو وحشت ہوتی ہے انہیں اس سے انسیت حاصل ہوتی ہے۔ ان کے جسم تو دنیا میں ہوتے ہیں لیکن ان کی روحیں اعلی منا ظر کے سا تھ معلق ہوتی ہیں۔ یہی لوگ اللہ کے شہروں میں اس کے نائب اور اس کے دین کی دعوت دینے والے ہیں۔

آہ!آہ! ان کی زیارت کا کس قدر شوق ہے! میں اللہ عزوجل سے اپنی اور آپ کی بخشش کا سوال کرتا ہوں۔ اب اگر تم چاہو تو کھڑ ے ہو جائو(کتا ب کا نام اللہ والوں کی با تیں جلد :۱ )

حضر ت ابو امامہ با ہلی رضی اللہ تعالی عنہ فر ما تے ہیں ، حضو ر پُر نو ر صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی با رگاہ میں دو آدمیو ں کا ذکر کیا گیا، ان میں سے ایک عالم تھا اور دوسرا عبادت گزار ، تو حضو ر اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: "عالم کی فضیلت عبادت گزار پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تمہارے ادنی پر ہے پھر سر کا ر دوعالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرما یا " اللہ تعا لی ، اس کے فر شتے ، آسمانو ں اور زمین کی مخلوق حتی کہ چیو نٹیا ں اپنے سوراخوں میں اور مچھلیا ں، لوگوں کو دین کا علم سکھا نے والے پر درود بھجتے ہیں (تر مذی ، کتاب الجنا ئز ،۱۱۔باب ، ۲/۲۹۶، الحدیث : ۳۹۵ ، صراط الجنا ن جلد نمبر ۸ صفحہ نمبر ۴۴۰۔)

یہ ساری فضیلتیں اس وجہ سے ہیں کہ علماء کی وجہ سے لوگ ہدایت پاتے ہیں۔ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے یوم خیبر میں حضرت علی اللہ تعا لی عنہ کو جھنڈا دیتے ہو ئے وصیت کی تھی کہ جنگ کرنے سے پہلے انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دو اگر آدمی کو بھی راہ ہدایت مل گئی تو یہ سرخ اونٹو ں سے بھی زیا دہ قیمتی متا ع ہو گی۔علما میں سے اہل تقو یٰ علمائے باطن اور دل والوں کی فضیلت کے معترف تھے۔ چنا نچہ ،

حضرت سید نا امام شا فعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی شیبا ن راعی کے سا منے اس طر ح بیٹھے جس طر ح طالب علم مکتب میں بیٹھتا ہے اور پو چھتے کہ " اس معاملے کا حکم کیا ہے ؟" کسی نے آپ رحمۃ اللہ تعا لیٰ علیہ سے عرض کی : " حضور ! آپ جیسا عظیم شخص اس بدوی سے پو چھتا ہے؟" فر ما یا : " بے شک اسے اس چیز کی تو فیق ملی ہے جس سے ہم غا فل ہیں۔"

حضرت سیدنا امام احمد بن حنبل علیہ رحمۃاللہ اور حضرت سید نا یحییٰ بن معین علیہ رحمۃ اللہ المبین حضرت سید نا معروف کر خی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے پا س آ تے جا تے اور ان سے مسا ئل پو چھتے تھے حا لا نکہ وہ علم ظاہر میں ان دونوں کے ہم مرتبہ نہیں تھے اور ایسا کیونکر نہ ہو کہ جب آقائے دو عالم ، نور مجسم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خد مت میں عر ض کی گئی کہ اگر ہمیں کو ئی ایسا معاملہ در پیش ہو جس کا حکم کتاب و سنت میں نہ پائیں تو کیا کریں؟ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: " نیک لو گوں سے پو چھ لیا کرو اور ان سے مشورہ کیا کرو۔"

اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ علمائے ظا ہر زمین اور ملک کی زینت ہیں جبکہ علمائے باطن آ سما نو ں اور ملکوت کی زینت ہیں( احیا ء العلوم جلد نمبر : ۱ )

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


اسلامی بہنوں کی مجلس علاقائی دورہ کے زیر ِ اہتمام20 اگست 2020ء کو یورپین یونین ریجن کی علاقائی دورہ ذمہ دار اسلامی بہنوں کا مدنی مشورہ ہوا جس میں فرانس، اٹلی ،ڈنمارک ،ناروے اوراسپین کی ذمہ دار اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

عالمی مجلس علاقائی دورہ ذمہ دار اسلامی بہن نے مدنی مشورے میں شریک اسلامی بہنوں کی کارکردگی کاجائزہ لیتے ہوئے ان کی تربیت کی اور تقرریاں مکمل کرنے نیزپہلی سطح کے مدنی مشورے مضبوط کرنے کا ذہن دیا نیز شعبے کے مدنی کاموں کو مزید بڑھانے اور اس میں بہتری لانے کے حوالے سے نکات فراہم کئے۔


دعوت اسلامی کے زیر اہتمام گزشتہ دنوں امریکہ کے شہر نیو یارک میں چار مختلف مقامات کونی آئی لینڈ، فوسٹر ایوینیو، برائٹن بیچ، بینسن ہرسٹ (Coney Island, Foster Avenue, Brighton Beach, Benson Hurst) پر بذریعہ اسکائپ سنتوں بھرے اجتماعات کا انعقاد کیا گیا جن میں کم و بیش 115 اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

مبلغات دعوت اسلامی نے "صحابیات و نصیحتوں کے پھول" کے موضوع پر بیانات کئے اوراجتماعات میں شریک اسلامی بہنوں کو تربیتی حلقے میں شرکت کرنے اورمحرم الحرام میں روزانہ ہونیوالے مدنی مذاکرہ دیکھنے کی ترغیبات دلائی۔


دعوت اسلامی کے زیر اہتمام 22 اگست 2020ءکو یوکے اسکاٹ لینڈ کے علاقے گلاسگو( Glasgow)میں آن لائن ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں 38 اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

کابینہ نگران اسلامی بہن نے ”دکھیاری امت کی خیر خواہی“ کے موضوع پر سنتوں بھرا بیان کیا اور اجتماعِ پاک میں شریک اسلامی بہنوں کو بزرگان دین کی خیر خواہی کے واقعات اور ان سے حاصل ہونے والے نکات بیان کئے نیز عاشورہ کے فضائل بتائے۔


اسلامی بہنوں کی مجلس شارٹ کورسز کے زیرِ اہتمام 21 اگست 2020ء کو یوکے کے شہر سلاؤ(Slough) میں انگلش میں ”فیضانِ نماز کورس“ کا اِختتام ہوا جس میں تقریباً 15 اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

مبلغۂ دعوتِ اسلامی نے سنتوں بھرا بیان کیا اور کورس میں شریک اسلامی بہنوں کو نماز کے مسائل اورنماز کا طریقہ سے متعلق معلومات فراہم کیں۔


اسلامی بہنوں کی مجلس شارٹ کورسز کے زیراہتمام21 اگست 2020ءکو لندن ریجن کےعلاقےسلاؤ (Slough)میں پانچ دن پر مشتمل ’’تفسیر سورۂ رحمٰن کورس‘‘ کا آن لائن آغاز ہوا جس میں 21اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

کورس میں شریک اسلامی بہنوں کو سورۂ رحمٰن کا آسان ترجمہ نیز تفسیر سیکھنے کا موقع ملا۔


اسلامی بہنوں کی مجلس مدنی انعامات کے زیر ِ اہتمام21 اگست 2020ء کو یوکے کےشہر ایڈنبرا (Edinburgh) میں مدنی انعامات اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں 13 اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

مبلغۂ دعوتِ اسلامی نے سنتوں بھرا بیان کیا اور اجتماعِ پاک میں شریک اسلامی بہنوں کو مدنی انعامات کے بارے میں معلومات فراہم کرتےہوئے اپنے شب و روز کو مدنی انعامات کے مطابق گزارنے اور عاملاتِ مدنی انعامات بننے کا ذہن دیا۔


  دعوت اسلامی کے زیر اہتمام 21 اگست 2020ء کو مانچسٹر ریجن کے علاقے راچڈیل(Rochdale) میں آن لائن مدنی حلقے کا انعقاد کیا گیا جس میں 16 اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

کابینہ نگران اسلامی بہن نے مدنی مذاکرے کی اہمیت اور افادیت بیان کی نیز مدنی حلقے میں شریک اسلامی بہنوں کو پابندی سے ہفتہ وار مدنی مذاکرہ دیکھنے کی ترغیب دلائی۔ مدنی حلقے میں ڈویژن کفن دفن ذمہ دار اسلامی بہن اسلامی بہن نے فقہ کے شعبے میں پاکی اور ناپاکی کے مسائل بیان کئے۔


دعوت اسلامی کے زیر اہتمام 21 اگست 2020ء کو یوکے اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو(Glasgow) میں بذریعہ زوم مدنی حلقے کا انعقاد کیا گیا جس میں 18 اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

اس مدنی حلقے میں فقہ سکھانے کا سلسلہ ہوا ۔ ریجن نگران اسلامی بہن نے سنتوں بھرا بیان کیا اور مدنی حلقے میں شریک اسلامی بہنوں کو مدنی انعامات کو اپنی زندگی میں عملی طور پر نافذ کرنے ذہن دیا ۔


اسلامی بہنوں کی مجلس مدنی انعامات کے زیر ِ اہتمام20 اگست 2020ء کو یوکے ساؤتھ برمنگھم (South Birmingham ) میں مدنی انعامات اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں 43 اسلامی بہنوں نے شرکت کی سعادت حاصل کی۔

مبلغۂ دعوتِ اسلامی نے سنتوں بھرا بیان کیا اور اجتماعِ پاک میں شریک اسلامی بہنوں کو مدنی انعامات کے بارے میں معلومات فراہم کرتےہوئے اپنے اعمال کا روزانہ محاسبہ کرنےعاملاتِ مدنی انعامات بننے کی ترغیب دلائی۔