دینِ اسلام میں استاذ کو وہ فضیلت حاصل ہے جو اس کے علاوہ کو حاصل نہیں ۔ایک مشہور قول ہے: جس نے معالج کی عزت نہ کی، وہ شفا سے معدوم رہا اور جس نے استاذ کی عزت نہ کی ،وہ علم سے محروم رہ گیا ۔

استاذ کا مرتبہ و مقام :علم کا حقیقی مالک اللہ پاک ہے جس نے حضرت آدم علیہ اسلام کو علم کی بنا پر فرشتوں سے اونچا مقام عطا کیا ۔ اور پھر انبیا کے ذریعے انسان علم سے آراستہ ہوا، استاذ کی تعظیم کرنا بھی علم ہی کی تعظیم ہے ۔حضرت علی رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں :جس نے مجھے ایک حرف سکھایا میں اس کا غلام ہوں چاہے اب وہ مجھے فروخت کردے،چاہے تو آزاد کردے اور چاہے تو غلام بنا کر رکھے۔(راہ علم ،ص29)

طالب علم اس وقت تک نہ تو علم حاصل کرسکتا ہے اور نہ ہی اس سے نفع اٹھا سکتا ہے جب تک کہ وہ ،اہل علم اور اپنے استاذ کی تعظیم و توقیر نہ کرتا ہو۔ کسی نے کہا ہے کہ ''جس نے جو کچھ پایا ادب و احترام کر نے کے سبب ہی سے پایا اور جس نے جو کچھ کھویا وہ ادب و احترام نہ کرنے کے سبب ہی کھویا''۔

استاذ کے 5 حقوق : استاذ اور طالب العلم کا رشتہ انتہائی مقدس ہوتا ہے۔ لہذا طالب العلم کو چاہئے کے استاذ کے حقوق اچھے انداز میں سر انجام دے:

(1) اعلی حضرت مجد دین ملت و ملت الشاہ امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی متوفی (1340)ھ رحمۃاللہ کتب معتبرہ کے حوالے سے بیان فرماتے ہیں فتاوی رضویہ جلد24 صفحہ 413 پر استاذ کے حقوق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں فتاوی عالمگیر میں ،نیز امام حافظ الدین کردی سے ہے: فرمایا امام زندویستی نے عالم کا حق جاہل پر اور استاذ کا حق شاگرد پر یکساں ہے اور وہ یہ کہ اس سے پہلے بات نہ کرے اور اس کے بیٹھنے کی جگہ اس کی غیبت (عدم موجودگی) میں بھی نہ بیٹھے اس کی بات کو نہ رد کرے اور چلنے میں اس سے آگے نہ بڑھے۔(فتاوی عالمگیری:5/373 کتاب الکراہیۃ)

(2) آدمی کو چاہئے کہ اپنے مال میں سے کسی چیز سے استاذ کے حق میں بخل سے کام نہ لے یعنی جو کچھ اسے درکار ہو بخوشی حاضر کردے اور اس کے قبول کر لینے میں اس کا احسان اور اپنی سعادت تصور کرے۔

(3)جس نے اسے اچھا علم سکھایا اگرچہ ایک ہی حرف پڑھایا ہو اس کے لیے تواضع کرےگا اور لائق نہیں کہ کسی وقت اس کی مدد سے باز رہے اپنے استاذ پر کسی کو ترجیح نہ دے اگر ایسا کرےگا تو اس نے اسلام کی رسیوں سے ایک رسی کھولدی۔

(4) استاذ گھر کے اندر ہو اور یہ حاضر ہو تو اس کا دروازہ نہ کھٹکھٹائے بلکہ اس کے باہر آنے کا انتظار کرے۔اللہ پاک فرماتا ہے : اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ (۴) وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُ جَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۵) ترجمۂ کنزالایمان: بےشک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم آپ اُن کے پاس تشریف لاتےتو یہ اُن کے لیے بہتر تھا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (پ26،الحجرات:4، 5)

اس آیت سے اشارة معلوم ہوا کہ جب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کے مقرب بندوں اور باعمل علما کی بارگاہ میں حاضر ہوں تو ان کے آستانے کا دروازہ بجا کر جلدی بازی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ انتظار کرنا چاہئے تاکہ وہ اپنے معمول کے مطابق آستانے سے باہر تشریف لے آئیں۔ ہمارے بزرگان دین کا یہی طرز عمل ہوا کرتا تھا، چنانچہ بلند پایا عالم حضرت ابو عبید رحمۃُ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے :میں نے کبھی بھی کسی استاذ کے دروازہ پر دستک نہیں دی بلکہ میں ان کا انتظار کرتا رہتا اور جب وہ خود تشریف لاتے تو میں ان سے استفادہ حاصل کرتا۔(صراط الجنان،پ 26،ص 408)

(5)(استاد کو اپنی جانب سے کسی قسم کی اذیت نہ پہنچنے دے کہ)جس سے اس کے استاذ کو کسی قسم کی اذیت پہنچی، وہ علم کی برکت سے محروم رہےگا۔(فتاوی رضویہ جلد 10۔ص 96،97)


آج کے نوجوان کی تعلیم و تربیت نہایت اہم ذمہ داری ہے جس ذمہ داری پر ہر شخص قادر نہیں ہوتا سوائے پختہ ارادہ رکھنے والے کے اور استاذ ہی وہ ہستی ہے جو اس اہم کام کو انجام دیتا ہے اس لئے کہ وہ اپنے طلبہ کی علمی، اخلاقی، اجتماعی طورپر تربیت کرکے نیک شہری بناتا ہے کہ جن پر آنے والے دنوں میں عوام امید کرسکتی ہے استاذ ہی خوشی و غمی میں امت کا سرمایہ ہوتا ہے جن کے ذریعہ علم کا پھول کھلتا ہے آئیے اس موضوع پر کچھ پڑھنے سے پہلے استاذ کی تعریف ملاحظہ کرتے ہیں : جو کسی کو علم و حکمت کی تعلیم دے ،یا جس نے ہم کو کچھ بھی سکھایا یا پڑھایا ہو، یا جس سے ہم نے خود کچھ سیکھا ہو اسی کو استاذ کہتے ہیں۔

( 1 ) استاذ کا ادب و احترام: استاذ کا پہلا حق ہے کہ اس کے شاگرد اس کا ادب و احترام کریں ، کیونکہ استاذ کا ادب ہی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے چنانچہ ہمارے اسلاف کا ادب دیکھئے کہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے کہ میں نے کبھی اپنے اساتذ کے گھر کی طرف پاؤں دراز نہیں کیے اور امام شافعی رضی اللہ عنہ فرماتے کہ ادب و احترام کی وجہ سے میں اپنے استاذ کے سامنے کتاب کا ورق آہستہ الٹتا تھا ۔

ادب تعلیم کاجو ہر ہے زیور ہے جوانی کا وہی شاگرد ہیں جو خدمتِ استاد کرتے ہیں

( 2 ) استاذ کا حق :اپنے شاگردوں پر اتنا ہی ہے، جتنا ایک باپ کا اولاد پر بلکہ ایک اعتبار سے باپ سے بھی زیادہ، کیوں کہ روح کو جسم پر فضیلت حاصل ہے، والد اگرصلبی وجسمانی باپ ہے تواساتذہ روحانی باپ ،اساتذہ کے معلّم و مربّی ہونے کی وجہ سے اسلام نے انہیں "روحانی باپ” کا درجہ عطا کیا ہے جیسا کہ معلّم انسانیت حضور نبی رحمت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عالیشان ہے :انما انا لکم بمنزلۃ الوالد،اعلّمکم۔یعنی میں تمہارے لئے والد کے درجے میں ہوں، کیونکہ میں تمہیں تعلیم دیتا ہوں( ابن الصلاح (ت 643)، فتاوى ابن الصلاح65 )

( 3)اچھا سلوک: استاد بہترین سلوک کا حق دار ہے شاگردوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے اساتذہ کے ساتھ بہترین سلوک کرتے ہوئے ان باتوں کا خیال رکھیں۔ استاد کے ساتھ عاجزی و انکساری کے ساتھ پیش آئیں،اس کا کہنا مانیں اور جو تعلیم وہ دے اس پر عمل پیرا ہوں گفتگو میں ادب و احترام کو ملحوظ رکھیں۔ کیونکہ استاذ کے سامنے احتراماً نگاہ جھکانے والا ہمیشہ سر اٹھا کر جیتا ہے استاد کی صحبت میں زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں، تاکہ ان کی علمیت سے استفادہ کیا جاسکے۔ امام شافعی نے حصول علم کیلئے چھ چیزوں کا ذکر فرمایا :أَخي لَن تَنالَ العِلمَ إِلّا بِسِتَّةٍ سَأُنبيكَ عَن تَفصيلِها بِبَيانِ ذَكاءٌ وَحِرصٌ وَاِجتِهادٌ وَبُلغَةٌ وَصُحبَةُ أُستاذٍ وَطولُ زَمانِ ۔جن میں سے ایک استاذ کی صحبت بھی ہے ۔

( 4 ) قوم کا محسن:استاد کی معاشرتی خدمات کے عوض اس کا حق ہے کہ اسے سوسائٹی میں اعلیٰ مقام دیا جائے۔کیونکہ استاذ افراد کی کردار سازی کا کام کرتا ہے ۔ افراد ہی سے قوم بنتی ہے اس لئے استاذ پوری قوم کا محسن ہوتا ہے ۔

علم کسی بھی نوعیت کا ہو اس کا عطا کرنے والا بہرحال اللہ رب العزت ہے یقیناً ہر مذہب اور ہر سماج میں اساتذہ کو بڑا احترام حاصل رہا ہے کیونکہ استاذ بنیاد کی وہ اینٹ ہے جو پوری عمارت کا بوجھ اٹھاتا ہے مگر کسی کو نظر نہیں آتی بلاشبہ استاذ ہی وہ شمع ہے جو خود جل کر دوسروں کو روشنی دیتا ہے اللہ کریم عزوجل ہمیں اپنے اساتذہ کا ادب کرنے والا بنائے آمین بجاہ طٰہٰ و یٰسن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


پیارے محترم اسلامی بھائیو! اسلام وہ عظیم دین ہے، جس نے حصولِ علم یعنی علم طلب کرنے کو ایک دینی فریضہ قرار دیا ہے۔ اس کی اہمیت اس سے بھی معلوم ہوتی ہے کہ ہمارے آقا و مولا محمد عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر جو پہلی وحی نازل ہوئی وہ "اِقراء" یعنی پڑھیے پر مشتمل ہے۔ جس سے اسلام میں علم کی عظمت و اہمیت کا پتا چلتا ہے۔ رسول کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اللہ پاک نے معلّم بنا کرمبعوث فرمایا۔ اس سے واضح ہوا کہ علم کی عظمت و اہمیت اپنی جگہ ،تاہم معلّم کا مقام و مرتبہ سب سے بلند ہے۔معلم یعنی استاذ بلاشبہ عظیم ہستی اور انسانیت کی محسن ذات ہے، استاذ کی بڑی شان اور عظمت ہے، دنیا نے چاہے استاذ کی حقیقی قدر و منزلت کا احساس کیا ہو یا نہ کیا ہو، لیکن اسلام نے بہت پہلے ہی اس کی عظمت و شان کو اجاگر کیا، اس کے بلند مقام سے انسانوں کو آشنا کیا اور خود اس کائنات کے عظیم محسن میرے پیارے آقا مدینے والے مصطفی محمد رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے طبقہ ٔ اساتذہ کو یہ کہہ کر شرف بخشا کہ

"میں معلم بناکر بھیجا گیا ہوں"۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر سب سے پہلے جو وحی نازل ہوئی اس میں علم اور تعلیم ہی کا ذکر تھا۔” قراٰن پاک میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ(۱) خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ(۲)ترجَمۂ کنزُالایمان: پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا ۔(پ30،العلق:1، 2)

استاد ہونا ایک بہت بڑی نعمت اور عظیم سعادت ہے ۔معلّم کو اللہ اور اس کی مخلوقات کی محبوبیت نصیب ہوتی ہے، پیارے آقا مدینے والے مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے استاذ کی محبوبیت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا کہ لوگوں کو بھلائی سکھانے والے پر اللہ پاک ،اس کے فرشتے ، آسمان اور زمین کی تمام مخلوقات یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنے بلوں میں اور مچھلیاں پانی میں رحمت بھیجتی اور دعائیں کرتی ہیں۔(ترمذی ،حدیث:2675)

یوں تو استاذ کے شاگردوں پر بہت سارے بہت سارے احسانات ہوتے ہیں جس کی بنا پر ایک شاگرد کامیابیوں کے منازل طے کرتا ہوا نظر آتا ہے بلاشبہ شاگرد کے اپنے استاذ پر بہت سارے حقوق ہے یہاں پانچ حقوق پیش کئے جا رہے ہیں :

(1) استاد کا پہلا حق یہ ہے کہ اس کے شاگرد اس کا ادب و احترام کریں۔

(2) اس کے ساتھ عزت، عاجزی و انکساری کے ساتھ پیش آئیں۔

(3)اس کا کہنا مانیں اور جو تعلیم وہ دے، اس پر عمل پیرا ہوں۔

(4) استاذ کی ادنیٰ سی بے ادبی سے بھی اپنے آپ کو بچائے اس کے ہر حکم کی فوراً تعمیل کرے۔

(5) امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تعالٰی وجہَہُ الکریم فرماتے ہیں کہ’’ جس نے مجھے ایک حرف سکھایا میں اس کا غلام ہوں چاہے اب وہ مجھے فروخت کردے، چاہے تو آزاد کر دے اور چاہے تو غلام بنا کر رکھے۔ آپ رضی اللہ عنہ مزید فرماتے ہیں: میں استاذ کے حق کو تمام حقوق پر مقدم سمجھتا ہوں اور ہر مسلمان پر اس کی رعایت واجب مانتا ہوں۔

حق تو یہ ہے کہ استاذ کی طرف ایک حرف سکھانے پر تعظیماً ایک ہزار درہم کا تحفہ بھیجا جائے۔ (راہ علم،ص29)

اللہ تبارک وتعالٰی سے دعا ہے کہ ہمیں اساتذہ کرام کا صحیح معنوں میں ادب و احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے صدقے سے ہمیں دین ودنیا کے ثمرات و فوائد نصیب فرمائے۔ آمین۔

ان ہی سے معطر ہوئے افکار ہمارے استاذ یہ قوموں کے ہے معمار ہمارے


استاذ علم کا سر چشمہ، معلم و مربی، علم کے فروغ کا ذریعہ اللہ پاک کا انعام و احسان ہے، دنیا میں بہت سارے رشتے ہوتے ہیں جو انسان سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں اور کچھ رشتے روحانی ہوتے ہیں انہی میں سے ایک استاذ کا رشتہ ہے۔ ایک استاذ ہی ہے جو ماں، باپ کے بعد اصل زندگی کے معنی سکھاتے ہیں اور ہمیں اچھی زندگی جینے کا ڈھنگ سکھاتے ہیں، صحیح اور غلط کا پہچان کرنا سکھاتے ہیں۔ دنیا میں جتنے رشتے ہیں ان سب میں سے ایک مقدس رشتہ استاذ اور شاگرد کا مانا جاتا ہے۔

لہٰذا استاذ کی اہمیت اور ان کے مقام و مرتبہ کا اندازہ حضرت علیُّ المرتضیٰ رضی اللہُ عنہ کے اس قول سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ رضی اللہُ عنہ نے ارشاد فرمایا: اَنَا عَبْدُ مَنْ عَلَّمَنِیْ حَرْفًا وَّاحِدًا اِنْ شَآءَ بَاعَ وَاِنْ شَآءَ اَعْتَقَ وَاِنْ شَآءَ اسْتَرَقَّ یعنی جس نے مجھے ایک حرف سکھایا میں اس کا غلام ہوں چاہے اب وہ مجھے فروخت کردے، چاہے تو آزاد کر دے اور چاہے تو غلام بنا کر رکھے۔ (تعليم المتعلم طريق التعليم،ص78) ایک جگہ میرے آقا کريم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے استاذ کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: جن سے تم علم حاصل کرتے ہو ان کیلئے عاجزی اختیار کرو اور جن کو تم علم سکھاتے ہو ان کے لئے بھی تواضع اختیار کرو اور سرکش عالم نہ بنو۔(الجامع ا لاخلاق الراوی، 1/138، حدیث:42)

چنانچہ اسلاف کے ادب و احترام اور تعظیم کے بے شمار آثار اور واقعات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دلوں میں استاذ کی اہمیت کیا تھی۔ آج بھی مدارس اسلامیہ کی فضا میں استاذ کا ادب و احترام باقی ہے ان کی عزت و عظمت کی جاتی ہے اور مدارس کے طلبہ کے ذہن و دل پر یہ نقش ہے کہ استاذ کی شان میں معمولی درجہ کی بے ادبی نعمتِ علم اور سعادتِ دارین سے دوری کا سبب بن سکتی ہے۔ شاگرد کے لئے بےحد ضروری ہے کہ وہ اپنے استاذ کے حقوق کو پہچانے اور وہ اپنے استاذ کا ادب و احترام آخری دَم تک کرتا رہے۔

اسلام نے استاذ کے بہت سے حقوق متعین کئے ہیں جن میں یہاں پانچ حقوق بیان کئے جاتے ہیں:

(1)استاد کا سب سے پہلا حق یہ ہے کہ شاگرد ان کا ادب و احترام کریں ان کے ساتھ عزت، عاجزی اور انکساری سے پیش آئیں، ان کا کہنا مانیں اور وہ جو تعلیم دیں ان پر عمل پیرا ہوں۔

(2)استاذ سے بحث، ضد، غصے اور ناراضگی سے پرہیز کرنا، ان کی سختی اور ڈانٹ کو برداشت کرنا بلکہ نعمت سمجھنا۔

(3)گفتگو میں ادب و احترام کو ملحوظ رکھا جائے ان کی اجازت کے بغیر سوالات نہ کئے جائيں۔

(4)بغیر اجازت ان کی مجلس، درس یا کلاس سے باہر نہ جائیں، نہ ان کی قیام گاہ پر بیٹھا جائے۔

(5)استاذ کو تنگ کرنے کے لئے لَایعنی سوالات سے اجتناب کیا جائے ان کی عیب جوئی، غیبت یا بہتان درازی سے پر ہیز کیا جائے۔

مشورۃً عرض ہے کہ اپنے اساتذۂ کرام کے لئے دعائے خیر کرتے رہیں یہ بڑی سعادت مندی اور بڑی پسندیدہ بات ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو اپنے اساتذۂ کرام کی عزت، ادب و احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جو اساتذۂ کرام حیات ہیں اللہ پاک اپنے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صدقہ و طفیل ان کے علم و عمل میں بے پناہ برکتیں عطا فرمائے اور انہیں درازیِ عمر بالخیر عطا فرمائے۔ اور جو اساتذۂ کرام دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے اور ان کی علمی خدمات کے عوض انہیں جنّتُ الفردوس میں بہترین انعام و اکرام سے نوازے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


وہ شخصیت جو سنگِ راہِ گزر کو آنکھوں کا تارا بنا دیتا ہے، جس کو دنیا کا کامیاب انسان کہا جاتا ہے، جس کی خدمت کو بڑے بڑے اپنی سعادت سمجھیں وہ کوئی اور نہیں بلکہ ایک استاد ہے۔ استاد کی عزت اور عظمت کے لئے یہی بات کافی ہے کہ کائنات کی سب سے افضل شخصیت، اللہ پاک کے سب سے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:بے شک میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔(ابن ماجہ، 1/151، حدیث: 229) دنیا کا کوئی شخص استاد کے بغیر کامیاب نہ ہوا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تحصیلِ علم میں استاد کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ جہاں استاد کی اتنی اہمیت ہے وہیں اس کے کچھ حقوق بھی بیان کئے گئے ہیں۔ آئیے ان حقوق میں سے پانچ حقوق ملاحظہ کرتے ہیں:

(1)استاد کو خود پر مقدم رکھنا: اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ نقل فرماتے ہیں: عالم کا جاہل اور استاد کا شاگرد پر ایک سا حق ہے برابر اور وہ یہ کہ اس سے پہلے بات نہ کرے اور اس کے بیٹھنے کی جگہ اس کی غَیبت (یعنی غیرموجودگی) میں بھی نہ بیٹھے اور چلنے میں اس سے آگے نہ بڑھے اور اس کی بات کو رد نہ کرے۔(فتاویٰ رضویہ،23/637)

(2)استاد کو تکلیف دینے سے بچنا: طالبِ علم و شاگرد کو چاہئے کہ استاد کو تکلیف دینے سے بچے۔ جبکہ عام لوگوں کو بھی تکلیف دینے سے بچنے کا حکم ہے۔ چنانچہ قراٰنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۵۸) ﴾ ترجَمۂ کنز الایمان: اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا (پ22،الاحزاب:58) جب ایک عام مسلمان کو ایذا دینے کا بڑا گناہ ہے تو استاد کو تکلیف دینا کس قدر بُرا ہوگا۔

(3)استاد کے لئے عاجزی اختیار کرنا : طالب علم کو چاہئے کہ استاد کا ادب کرے اورا س کے لئے عاجزی اختیار کرتے ہوئے اس کی تعظیم بجا لائے حدیث ِ پاک میں ہے کہ سیّد ِعالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جن سے تم علم حاصل کرتے ہو ان کے لئے عاجزی اختیار کرو۔ (الجامع لاخلاق الراوی، ص230، حدیث:802)

(4)استاد کی باتیں غور سے سننا :شاگرد کو چاہئے کہ استاد کی گفتگو کو خوب توجہ اور غور سے سنے چنانچہ امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ ارشاد فرماتے ہیں: بے توجہی کے ساتھ سننے سے غلط فہمی کا سخت اندیشہ رہتا اور بسا اوقات ”ہاں “ کا ”نا“ اور ”نا“ کا ”ہاں“ سمجھ میں آتا ہے۔(علم و حکمت کے 125 مدنی پھول، ص70)

(5)استادکی شخصیت کا خیال رکھنا: استاد کا یہ حق کئی امور پر مشتمل ہے جیسا کہ مولیٰ علی رضی اللہُ عنہ کے فرمان کا خلاصہ ہے : استاد سے کثرت سوال سے بچنا، استاد کو کسی سوال کے جواب میں طعنہ نہ دینا، استاد کے تھک جانے پر اصرار نہ کرنا، استاد کے عیب ظاہر نہ کرنا، استاد کی غیبت سے بچنا، استاد کو کوئی حاجت ہو تو ا سے پورا کرنا۔(جامع بیان العلم وفضلہ، ص175)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے استاد محترم کا حق پہچاننے اور اس کو صحیح طور پر بجالا نے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم