فار ایسٹ کے ممالک میں دینِ اسلام کی ترویج اور پیغامِ محبت عام کرنے کے سلسلے میں خلیفۂ امیرِ اہلسنت  مولانا حاجی عبید رضا عطاری مدنی مُدَّ ظِلُّہُ العالی انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ پہنچے جہاں ان کا پُرتپاک استقبال کیا گیا اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے لئے سنتوں بھرے اجتماع کا اہتمام ہوا۔ جکارتہ میں منعقدہ اس پُروقار اجتماع میں انڈونیشین عاشقانِ رسول، پاکستانی کمیونٹی اور خاص طور پر بزنس کمیونٹی کے افراد کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

خلیفۂ امیرِ اہلسنت نے سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئے شرکا کو درج ذیل اہم نکات پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کی:

٭پنج وقتہ نماز کی پابندی: انہوں نے نماز کو دین کا ستون قرار دیتے ہوئے اس کی باقاعدہ ادائیگی کا ذہن دیا ٭عمل کی اہمیت: نصیحت کی کہ کسی نیکی کو چھوٹا سمجھ کر ترک نہ کیا جائے اور کسی گناہ کو معمولی سمجھ کر اپنایا نہ جائے ٭صحبت کا اثر: مولانا نے واضح کیا کہ نیک لوگوں کی صحبت انسان کی کایا پلٹ دیتی ہے، لہٰذا اچھے ماحول سے وابستگی ناگزیر ہے۔

دورانِ بیان حاجی عبید رضا عطاری مدنی نے قرآن پاک کو تجوید اور درست مخارج کے ساتھ پڑھنے پر شرکا کی رہنمائی کی انہوں نے کہا کہ قرآنِ کریم کو عربی لب و لہجے میں پڑھنا ضروری ہے، سورۃ الفاتحہ اور دیگر سورتوں کا درست مخارج کے ساتھ پڑھنا واجب ہے تاکہ ہماری نمازیں کامل ہو سکیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے شرکا کو دعوتِ اسلامی کے تحت چلنے والے مدرسۃ المدینہ (بالغان) میں داخلہ لینے اور اپنی اصلاح کرنے کی ترغیب دلائی۔