افضل البشر بعد الانبیاء بالتحقیق سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے فضائل آسمان کے ستاروں سے بھی زیادہ ہیں۔دیگر صحابہ کرام علیہم الرضوان کی طرح مولائے کائنات حیدر کرار رضی اللّٰہ عنہ بھی جناب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے فضائل کے گرویدہ اور ان کی افضلیت اور رفعت شان کے قصیدے پڑھا کرتے تھے۔

زبان حیدری سے شان صدیقیت کے چند نمونے ملاحظہ ہوں:

1۔حضرت محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کہ میں نے اپنے والد مولا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل صحابی کون ہیں؟ فرمایا: ابوبکر رضی اللہ عنہ میں نے پوچھا پھر کون ہیں؟فرمایا: عمر رضی اللہ عنہ۔

(صحیح البخاری حدیث 3671 ملتقطا)

2۔مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے،ہم جب بھی کسی بھلائی کی طرف بڑھے تو ابو بکر رضی اللہ عنہ ہم سے سبقت لے گئے۔(مجمع الزوائد حدیث 14332)

3۔مولائے کائنات رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: اللہ نے ابو بکر کو ہم سب سے بہتر جانا اور انہیں ہم پر ولایت دے دی۔(المستدرک للحاکم حدیث: 4756)

4۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا:ابوبکر سے بہتر شخص پر سورج طلوع نہیں ہوا۔

(الریاض النضرہ فی مناقب العشرہ ،1 / 136)

5۔مولا مشکل کشا رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: میں جسے پاؤں گا کہ وہ مجھے ابو بکر و عمر (رضی اللہ عنہما) سے افضل کہتا ہے اسے مفتری(تہمت لگانے) کی سزا کے طور پر اسّی (80) کوڑے لگاؤں گا۔(فضائل صحابہ لاحمد حدیث 49،المؤتلف و المختلف للدارقطنی ج 3 ص 93)

اللہ پاک ہمیں صحابہ و اہل بیت علیہم الرضوان کا حقیقی عاشق بنائے۔آمین

صِدیق بلکہ غار میں جان اس پہ دے چکے

اور حفظِ جاں تو جان فروضِ غرر کی ہے