13 ربیع ُالآخر , 1441 ہجری

: : :
(PST)
دعوتِ اسلامی كے شعبہ جات میں سے ایک ”مکتبۃُ المدینہ“ بھی ہے۔دورِ حاضر میں پیغامات کی تَرسِیْل اور کتب و رسائل کی اِشاعت کے لئے جدید ذرائع اور وسائل کا اِسْتِعْمال بڑی تیزی کے ساتھ عام ہوتاجارہاہے،ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ان جدید ذرائع کو نیکی کی دعوت کی دُھومیں مچانے یا دِیگر جائز مقاصد کے لئے ہی استعمال کِیا جاتا، مگر افسوس کہ بعض باطل قوّتوں نے اِن ذرائِعِ اِبلاغ کو اپنے مَفادات کی تکمیل کا ہتھیار بنا لِیا، جس کی مدد سے وہ شب و روز اپنے گُمراہ کُن عَقائد کی تَروِیج و اِشاعت کرکے بَھولے بھالے مسلمانوں کو راہِ حق سے ہٹانے میں مَصروف ہیں۔ اَلْغَرض ایک طرف بے عملی کا سیلاب اپنی تباہیاں مَچا رہا تھا تو دوسری طرف بد عقیدگی کے خَوفناک طُوفان کی ہَولناکیاں بربادی کے بھیانک مَناظر پیش کررہی تھیں، لہٰذاشیخِ طریقت،اَمِیرِ اہلسنَّت،بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابُو بلال محمد الیاس عطّارقادِری رَضَوِی ضِیَائی دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اس پُرفِتَن حالات میں بھی بَد عقیدگی کے اس سیلاب کے آگے بند باندھنے کی اَنتھک کوششیں فرمائیں بالآخر آپ کی مُخلِصانہ کوششیں رنگ لائیں اوراَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ۱۴۰۶؁ھ بمطابق 1986 ؁ء میں عاشقانِ رسول کی مدنی تحریک دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے ”مکتبۃُ المدینہ“ کا شاندار آغاز ہوگیا۔دعوتِ اسلامی کے اس شُعْبے سے، اوّلاً صِرف بیانات کی آڈیو کیسٹیں جاری کی گئیں اور پھر اللہعَزَّ وَجَلَّکے فَضْل و کرم اور رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نظرِ عنایت سے ایسی تَرَقّی نصیب ہوئی کہ آڈیوکیسٹوں سے اپنے کام کا آغاز کرنے والے اِدارے مکتبۃُ المدینہ کے تَحْت آج بابُ المدینہ (کراچی) میں باقاعدہ پریس (Press)اور وی سی ڈیز(VCDs) مکتب قائم ہیں، جو اس شُعبے سے مُتَعَلِّق ہر قسم کی جَدید سَہولیات وضَروریات سے آراستہ ہیں۔اس مُخْتَصَر عرصے میں مکتبۃُ المدینہ سے جہاں سُنَّتوں بھرے بیانات ا ور مدنی مُذاکَرات کی لاکھوں لاکھ کیسٹیں اور وی سی ڈیز(VCDs) دُنیا بھر میں پہنچیں اور پہنچ رہی ہيں، وہیں اَعْلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ،امیرِ اَہل سُنَّت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اوردیگر عُلَمائے اَہل سُنَّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی کتابیں بھی شائِع ہوکر کثیر تَعداد میں عوام کے ہاتھوں میں پہنچ کر سُنَّتوں کو زِنْدہ کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔