یقیناً نماز پڑھنے کے بے شمار فضائل و برکات ہیں مگر نماز کو مکمل خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرنا چاہیے کہ اس کی بہت اہمیت ہے ، اور خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کی جانے والی نماز کوہی اعلیٰ درجے کی نماز کہا گیا ہے  اور اس کی اہمیت کو قرآن و حدیث میں وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور فرمایا گیا کہ یہی لوگ کامیابی پانے والے :- جیسا کہ اللہ پاک پارہ 18 سورہ المؤمنون کی آیت نمبر 1 اور 2 میں ارشاد فرماتا ہے کہ :قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ(۱) الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ(۲) ترجمہ کنزالعرفان :" بیشک ایمان والے کامیاب ہوگئےجو اپنی نماز میں خشوع و خضوع کرنے والے ہیں "

اس کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں مولانا نعیم الدین مراد آبادی رحمۃاللہ علیہ لکھتے ہیں ۔

نماز میں خشوع و خضوع یہ ہے کہ اس میں دل لگا ہو اور دنیا سے توجہ ہٹی ہو نظر جائے نماز پر ہو اور گوشہ چشم سے کسی طرف نہ دیکھے ۔(تفسیر خزائن العرفان تحت آیت 1,2 سورۃ المؤمنون پارہ 18)

اللہ پاک کی محافظت :

شعب الایمان کی ایک حدیث پاک میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا کہ : جو شخص اچھی طرح وضو کرے پھر نماز کے لئے کھڑا ہو اس کے رکوع , سجود اور قراءت کو مکمل کرے تو نماز کہتی ہے اللہ پاک تیری حفاظت کرے جس طرح تو نے میری حفاظت کی "

(شعب الایمان ج 3 ص 143 حدیث 3140)

نماز میں خشوع و خضوع کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ

شیطان قریب نہیں آتا :

حضرت سہل بن عبداللہ تُستری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :جس شخص کے دل میں خشوع ہوتا ہے شیطان اس کے قریب نہیں آتا ہے ۔(بصائر ذوی التمییز ج 2 ص 542 )

رحمتِ الٰہی پھر جاتی ہے :

حضرتِ ابوذر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا :اللہ پا ک کی رحمت نمازی کی طرف متوجہ رہتی ہے جب تک وہ ادھر اُدھر نہ دیکھے جب وہ اِدھر اُدھر دیکھتا ہے تو اللہ کی رحمت بھی اس سے پھر جاتی ہے ۔( ابوداؤد ج 1ص 344 حدیث نمبر 909)

صرف جاگنا ملتا ہے :

نماز میں خشوع و خضوع نہ ہونے کے بارے میں حضرت ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا : " بہت سے( رات میں) قیام کرنے والے ہیں جنہیں صرف جاگنا ہی ملتا ہے ۔ (شعب الایمان ج 3ص 316 حدیث 3642)

عمل قبول نہیں :

عبادت (نماز) میں خشوع و خضوع نہ ہونے کی وجہ سے عمل بھی قبول نہیں ہوتا جیسا کہ حدیث پاک میں ہے :سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا :"اللہ پاک اس عمل کو قبول نہیں فرماتا جس میں بندہ اپنے بدن کے ساتھ دل حاضر نہ کرے۔

غم و پریشانی دور :

نماز میں خشوع و خضوع کی اہمیت جس طرح دینی لحاظ سے ہے اسی طرح دنیوی لحاظ سے بھی ہے کہ نماز کو خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرنا فکر و غم کو دور کر دیتا ہے (راہِ علم ص 87)

عمر میں اضافہ اور رزق میں وسعت :

علماء کرام فرماتے ہیں: " نماز کو خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرنےسے عمر میں اضافہ ہوتا ہے اور رزق میں وسعت ہوتی ہے (راہِ علم ص 93)

جنت واجب ہوجاتی ہے :

حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کو دیکھا کہ آپ لوگوں میں کھڑے ہو کر ارشاد فرما رہے تھے کہ "جو مسلمان اچھی طرح وضو کرے پھر ظاہر و باطن کی یکسوئی کے ساتھ دو رکعت پڑھے تو اس پر جنت واجب ہو جاتی ہے "