مدینہ منورہ کو مدینہ اس لئے کہتے ہیں کہ مدینہ کے معنی اجتماع کے ہیں، اور شہر کو بھی عربی میں مدینہ اس لئے کہتے ہیں کہ وہاں ہر قسم کے  لوگ جمع ہو تے ہیں، اور مدینہ منورہ کو لوگ ھجرت سے پہلے یثرب کہا کرتے لیکن اب اسے یثرب کہنا سخت منع ہے، کیوں کہ یثرب ثرب سے مشتق ہے جس کا معنی ہے سزا،مصیبت،بلا اور چونکہ مدینہ منورہ سزا،مصیبت،وبلا کی جگہ نہیں ہے بلکہ یہ تو پاک و صاف جگہ ہے، امام بخاری تو یہاں تک فرماتے ہیں: جو کوئی مدینہ منورہ کو ایک بار یثرب کہے وہ بطور کفارہ دس بار مدینہ کہےسبحان اللہ! کیا بات ہے مدینہ پاک کی۔ احادیث میں تو مدینہ منورہ کے بہت فضائل ہیں لیکن دس فضائل احادیث کی روشنی میں پیش کر نے کی کوشش کرتا ہوں :( 1) حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے مدینہ والوں کو ڈرایا تو اللہ اسے ڈرائے گا۔(فضائل مدینہ للجندی،ص30،حدیث:31)

(2) رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ مدینہ منورہ برے لوگوں کو یوں نکال دے گا جیسے بھٹی لوہے کا میل نکال دیتی ہے۔( اس سے مراد ظہور دجال کے زمانہ کا واقعہ ہےدجال تو مدینہ پاک میں نہ داخل ہوسکے گا مگر مدینہ منورہ میں اس وقت ایسا زلزلہ آئے گا جس سے منافقین یہاں سے بھاگ جائیں گے اور دجال کے جال میں پھنس جائیں گیں۔(مرأۃ المناجیح ،4/239) (3) رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: مدینہ منورہ کے راستوں پر فرشتے ہیں یہاں نہ طاعون آسکتی ہے نہ دجال)۔(فضائل مدینہ للجندی،ص24،حدیث:15)

(4)رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :کہ ایمان مدینہ میں ایسے سمٹ جائے گا جیسے سانپ اپنے بل میں سمٹ تا ہے۔(یعنی قرب قیامت میں ایمان مدینہ میں سمٹ جائے گا)۔(صحیح بخاری، حدیث:1876) (5) رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: کہ کوئی شخص مدینہ والوں سے فریب نہ کرے گا مگر وہ ایسے گھل جائے گا جیسے پانی میں نمک گھل جاتا ہے۔(صحیح بخاری، حدیث:1877 ) (6)حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جب سفر سے آتے اور مدینہ پاک کی دیواروں کو دیکھتے تو اپنی سواری کو تیز فرما دیتے۔(صحیح بخاری،حدیث:1886)(7)رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: مدینہ منورہ کے دونوں پتھریلے کناروں کے درمیان کی جگہ کو میری زبان سے حرم قرار دیا ہے۔(صحیح بخاری، حدیث:1869)

(8)حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے دست اقدس سے مدینہ منورہ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: بیشک یہ حرم ہے اور امن کا گہوارہ ہے۔(معجم الکبیر، حدیث:5611) (9)حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دعا فرمائی: کہ اے اللہ جتنی برکتیں مکہ پاک میں نازل کی ہیں اس سے دگنی برکتیں مدینہ پاک میں نازل فرما۔(مرأۃ المناجیح ،4/245)(10)حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا اللہ پاک نے مدینہ کا نام طابہ رکھا ہے اور طابہ کے معنی پاک و صاف کے ہیں۔(مرأۃ المناجیح،4/238) سبحان اللہ!مدینہ پاک کیسی پیاری جگہ ہے کاش ہمیں بھی مدینہ پاک کی با ادب حاضری نصیب ہوجائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم