ہمارا دین اسلام جہاں حقوق الله یعنی نماز روزہ حج وغیرہ بجالانے کا حکم دیتا و ہی حقوق العباد کو بجا لانے پر اجرو ثواب اور سستی کرنے پر زجر و تو بیچ کے ذریعے ترغیب دلاتا ہے شریعت محمدیہ میں معاشرے کے ہر طبقے کے حقوق کا بیان ہے ان میں سے شوہر کے حقوق کو بھی بہت اہمیت دی گئی جس طرح کہ حضور علیہ السّلام نے فرمایا : اگر خاوند کی چوٹی سے ایڑی تک پیپ ہو اور وہ(بیوی)اسے چاٹے تو خاوند کاحق ادا نہیں کر پائے گی(مستدرك للحاكم، كتاب النكاح، ٥٤٧/٢، الحديث ۳۸۲۲،۲۸۲۱ و مصنف ابن ابی شيبة، ما حق الزوج على امراتہ،٣٩٧/٣)

آئیے ان میں سے چندحقوق کا مطالعہ کرتے ہیں۔

(1) شوہر کو راضی رکھنا: بیوی کو چاہیے کہ اپنے شوہر کی ناراضگی سے بچے اور اسے ہمیشہ خوش رکھنے کی کوشش کرے کیونکہ اس میں عورت کے لیے بڑا اجرو ثواب ہے جس طرح کہ حضور علیہ السّلام نے فرمایا جو عورت اس حال میں مرے کہ اس کا خاوند اس سے راضی ہو وہ جنت میں جائے گی ( ترمذی، کتاب الرضاع، باب ماجاء فی حق زوج على المراة، 386/2 الحدیث: 1164)

(2)بلا اجازت شوہر گھر سے نہ نکلنا: عورت کو چاہیے کہ بغیر اجازت شوہر گھر سے نہ نکلے بغیر اجازت کے نکلنے کے حوالے سے حضور علیہ السّلام نے فرمایا اگر گھر سے (بیوی) خاوند کی اجازت کے بغیر نکلی تو جب تک واپس نہ ہو یا توبہ نہ کرے، فرشتے اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔(مسند ابی، یعلی 438/2 ،الحديث: 2449 دون ذكر الصوم)

(3)بغیر اجازت شوہر کے نفلی روزے نہ رکھنا: بیوی پر شوہر کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ وہ بلا اجازت شوہر نفلی روزے نہ رکھے کیونکہ حضور علیہ السّلام نے فرمایا بیوی پر یہ بھی حق ہے۔کہ خاوند کی اجازت کے بغیر نفلی روزے نہ رکھے اگر اس نے ایسا کیا تو وہ بھوکی پیاسی رہی اور اس کا روزہ قبول نہیں۔ (المرجع السابق)

(4) شوہر کی اطاعت کرنا: بیوی کو چاہیے کہ شوہر کی اطاعت کرتی رہے وگرنہ نافرمانی کرنے کا بڑا سخت عذاب ہےحضور علیہ السّلام نے جہنم میں عورتوں کی کثرت کی وجہ خاوند کی نا فرمانی بھی ارشاد فرمائی۔(سنن الکبری للنسائی،کتاب عشرہ النساء باب ما ذ کر فی النساءَ ۳۹۸/۵الحدیث ۹۲۵۶)

5)بلا اجازت شوہر کسی کو کوئی چیز نہ دینا: عورت کو چاہئے کہ اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کسی کو کوئی چیز نہ دے جس طرح کہ حضور علیہ السّلام نے فرمایا (بیوی) شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے کسی کو کوئی چیز نہ دے اگر اس نے ایسا کیا تو گناہ گار ہو گی جبکہ شوہر کو ثواب ملے گا۔ (مسند ابی داؤد الطیالسی، الحدیث: ۱۹۵۱،ص ۲۶۳)