فضائلِ شبِ براءت:

خالق کائنات کی طرف سے امت ِمحمدیہ کو سال میں چند راتیں ایسی ملی ہیں جن میں خوب اللہ پاک کی رحمتوں، برکتوں کا نزول ہوتا ہےاور رحمت الہٰی کی چھما چھم بارشیں ہوتی ہیں۔ ان میں عبادت و ریاضت اور دعائیں مانگنے والے شخص کو بارگاہ ِربُّ العزت سے محروم نہیں کیا جاتا، ان راتوں میں جو شخص بیدار رہ کر عبادت کرتا ہے اُسے جنت کی خوشخبری دی گئی ہے۔ اُن بابرکت راتوں میں سے ایک شعبان المعظم کی پندرہویں رات شب براءتبھی ہے ۔ یہ شب ان پانچ راتوں میں بھی شامل ہے جن میں دُعا ئیں رد نہیں کی جاتیں۔ ذیل میں ہم شبِ براءت کی فضیلتوں اور برکتوں پر کچھ روایات ذکرکررہے ہیں اور اس رات کی جانے والی عبادات بھی بیان کررہے ہیں۔

شبِ براءت کی فضیلت پر احادیثِ مبارکہ:

٭اُم المؤمنین حضرت سیدتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا سے روایت ہے،نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک چار راتوں میں بھلائیوں کے دروازے کھول دیتا ہے: (1)بقر عید کی رات (2)عیدالفطر کی رات (3)شعبان کی پندرہویں رات کہ اس رات میں مرنے والوں کے نام اور لوگوں کا رزق اور (اِس سال)حج کرنے والوں کے نام لکھے جاتے ہیں (4)عرفہ کی رات اذانِ (فجر)تک۔ (در منثور، الدخان، تحت الآیۃ: ، 4 / ۴۰۲)

٭حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے پانچ راتیں بیدار رہ کر عبادت میں گزاریں اس کے لئے جنت واجب ہے۔ وہ راتیں یہ ہیں: لیلۃ الترویہ، لیلۃ النحر، لیلۃ عرفہ (نویں اور دسویں ذوالحجہ کی رات)، عید الفطر کی شب اور شب براءت۔ (الترغیب والترہیب (منذری)، 2/ 98)

٭سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہیں کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ پانچ راتوں میں دعا رد نہیں ہوتی۔ ماہ رجب کی پہلی رات، پندرہویں شعبان کی رات (شب براءت)، جمعہ کی رات، عید الفطر کی رات اور عید الاضحٰی کی رات۔ (فردوس الاخبار، ۱/۳۷۷، الحدیث ۲۷۹۷)

شب براءت کے معنیٰ:

ماہ شعبان المعظم کی پندرہویں رات کو” شب براءت“ کہا جاتا ہے۔شب کے معنی ”رات“ اور براءت کے معنیٰ نجات کے ہیں، یعنی اس رات کو ”نجات کی رات“ کہا جاتا ہے چونکہ اس رات کو مسلمان عبادت و ریاضت میں گزار کر جہنم سے نجات حاصل کرتے ہیں اس لئے اس رات کو شبِ براءت کہا جاتا ہے۔(بارہ ماہ کی عبادات، ص108)

شب براءت کے چند نام:

حضرت علامہ علی قاری رحمۃُ اللہِ علیہ نقل کرتے ہیں: شبِ براءت کے چار نام ہیں: (1)لیلۃ المبارکۃ (برکت والی رات) (2)لیلۃ البراءۃ (نجات والی رات) (3)لیلۃ الصَّکِّ_ (دستاویز والی رات) (4)لیلۃ الرحمۃ (رحمت والی رات)۔

مزید فرماتے ہیں: اسے لیلۃ البراءۃ اور لیلۃ الصَّک(نجات و دستاویزات والی رات) اس لئے کہتے ہیں کہ جب تاجر مالک سے اُس کا اناج وصول کرلیتا ہے تو اس کے لئے براءت نامہ لکھ دیتا ہے۔ اسی طرح اللہ پاک اس رات اپنے مؤمن بندوں کے لئے براءت نامہ لکھ دیتا ہے۔ (مجموع رسائل العلامہ الملا علی قاری، الرسالۃ:التبیان فی بیان ما فی لیلۃ النصف من شعبان، 3/41)

اس رات کے بارے میں اللہ پاک قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ(۲) اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِیْنَ(۳) فِیْهَا یُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍۙ(۴)

ترجمہ کنز الایمان: قسم اس روشن کتاب کی،  بےشک ہم نے اُسے برکت والی رات میں اُتارا ،بےشک ہم ڈر سنانے والے ہیں،  اس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت والا کام۔ (سورۃ الدخان، آیت2تا 4)

اکثر مفسرین کے نزدیک برکت والی رات سے شبِ قدر مراد ہے اور بعض مفسرین اس سے ”شبِ براء ت “مراد لیتے ہیں ۔(تفسیرصراط الجنان، سورۃ الدخان، آیت2تا 3)

عبادات شب براءت:

شب براءت میں جس طرح بھی ممکن ہو ہمیں تمام تَر وقت (غروب آفتاب سے طلوع فجر تک) عبادت الہی میں ہی گزرنا چاہیئے مثلاً ذکر و اذکار، درود و سلام اور تلاوت ِقرآنِ پاک الغرض جو بھی ممکن ہوسکے۔ لیکن عاشقان رسول کی آسانی کے لئے چند نوافل ذکر کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ وہ اس رات اپنے لئے ثواب کا ذخیرہ جمع کرسکیں۔

مغرب کے بعد چھ نوافل:

حضرت علامہ سیّد محمد مرتضیٰ زبیدی حسینی رحمۃُ اللہِ علیہ شعبانُ المعظم کے چھ نوافل کے بارے میں فرماتے ہیں: شبِ براءت کی عبادت سے متعلق دورِ اسلاف سے لے کر اب تک صوفیائے کرام رحمۃ اللہ علیہم کا یہ معمول چلا آرہا ہے کہ اس رات نمازِ مغرب کے بعد چھ رکعتیں دو دو کرکے ادا کی جائیں ، ہر رکعت میں ایک مرتبہ سورۂ فاتحہ اور چھ بار سورۂ اخلاص پڑھی جائے۔ ہر دو رکعات کے بعد ایک بار سورۂ یسین اور دعائے نصف شعبان پڑھی جائے۔ پہلی دو کے ذریعے اللہ پاک سے عمر میں برکت ، دوسری دو کے ذریعے رزق میں برکت اور تیسری دو رکعات کے ذریعے اچھے خاتمہ کا سوال کیا جائے۔ اسلافِ کرام رحمۃ اللہ علیہم نے ذکر فرمایا ہے کہ جو اس طریقے کے مطابق یہ نوافل ادا کرے گا اس کی مذکورہ حاجتیں پوری کی جائیں گی۔ مزید فرماتے ہیں : یہ معمولاتِ مشائخ میں سے ہے۔ (اتحاف السادۃ المتقین ، 3 / 708)

سورۂ یٰسین شریف پڑھنے میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی ایک اسلامی بھائی بلند آواز سے قراءت کرے اور دوسرے خاموشی سے سنیں لیکن اس میں یہ خیال رہے کہ سننے والا اِس دوران زبان سے یٰسین شریف بلکہ کچھ بھی نہ پڑھے۔

یہ مسئلہ خوب یاد رکھئے کہ جب قرآنِ کریم بلند آواز سے پڑھا جائے تو جو لوگ سننے کے لئے حاضر ہیں اُن پر فرضِ عین ہے کہ چپ چاپ خوب کان لگا کر سُنیں۔ اِنْ شَآءَاللہ رات شروع ہوتے ہی ثواب کا اَنبار لگ جائے گا۔ ہر بار یٰسین شریف کے بعد’’دُعائے نصف شعبان‘‘بھی پڑھئے۔ (رسالہ”آقا کا مہینہ“ ص15)

دعائے نصف شعبان

مفتیِ مالکیہ حضرت شیخ سالم بن محمد سنھوری مصری رحمۃ اللہ علیہم فرماتے ہیں : حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو بندہ یہ دعا مانگے گا اس کے رزق میں وسعت کردی جائے گی :

اَللّٰھُمَّ یَاذَا الْمَنِّ وَلَا یُمَنُّ عَلَیْہِ ، یَاذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ ، یَاذَاالطَّوْلِ وَ الاِنْعَامِ ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ ، ظَھْرُ اللَّاجِئِیْنَ وَجَارُالْمُسْتَجِیْرِ یْنَ وَمَأْمَنُ الْخَائِـفِیْنَ، اِنْ کُنْتَ کَتَبْتَنِیْ عِنْدَکَ فِیْ اُمِّ الْکِتَابِ شَقِیّاً فَامْحُ عَنِّیْ اِسْمَ الشَّقَاوَۃِ ، وَ اَثْبِتْنِیْ عِنْدَکَ سَعِیْدًا ، وَ اِنْ کُنْتَ کَتَبْتَنِیْ عِنْدَکَ فِیْ اُمِّ الْکِتَابِ مَحْرُوْمًا مُقَتَّرًا عَلٰی رِزْ قِیْ فَامْحُ حِرْمَانِیْ وَیَسِّرْ رِزْ قِیْ وَاَ ثْبِتْنِیْ عِنْدَکَ سَعِیْدًا مُوَفِّقاً لِلْخَیْرَ اتِ ، فَاِنَّکَ تَقُوْلُ فِیْ کِتَابِکَ الَّذِیْ اَنْزَ لْتَ ( یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ ۚ وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ(۳۹) (پ13 ، الرعد : 39)( مصنف ابن ابی شیبہ،7 / 85بتغیرقلیل)

 اِلٰہِیْ بِالتَّجَلِّی الْاَعْظَمِ فِیْ لَیْلَۃِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ الْمُکَرَّمَ ، الَّتِیْ یُفْرَقُ فِیْہَا کُلُّ اَمْرٍ حَکِیْمٍ وَیُبْرَمُ ، نَسْاَ لُکَ اَنْ تَکْشِفَ عَنَّا مِنَ الْبَلَاءِ مَانَعْلَمُ ، وَمَا لَانَعْلَمُ وَمَا اَنْتَ بِہٖ اَعْلَمُ ، اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعِزُّ الْاَکْرَمُ ، وَصَلَّی اللہُ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدِ نِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَعَلٰی آلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَ سَلَّم (الکشف والبیان عن فضائل لیلۃ النصف من شعبان ، ص 27 واللفظ لہ ،  نعت البدایات ، ص 197 بتغیر)

صلاۃُ التسبیح کی اہمیت و فضیلت :

پیارے پیارے اسلامی بھائیو !زہے نصیب کہ شبِ براءت میں دیگر عبادات و نوافل کے ساتھ ساتھ صلوۃُ التسبیح کے نفل بھی ادا کر لئے جائیں جیساکہ حضرت علامہ علی بن سلطان قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : بہتر یہ ہے کہ شبِ براءت میں صلوٰۃُ التسبیح بھی ادا کر لی جائے کیونکہ یہ کسی شک و شبہ کے بغیر صحیح طور پر ثابت ہے۔ (مجموع رسائل العلامۃ الملا علی القاری ، الرسالۃ : التبیان فی بیان مافی لیلۃ النصف من شعبان۔۔ الخ ، 3 / 51)

صلاۃُ التسبیح کی فضیلت پر حدیث:

ہمارے پیارے آقا ، مکی مدنی مصطفٰے صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے چچا حضرت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو صلوۃُ التسبیح کا تفصیلی طریقہ بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : میرے چچا جان!اگرروزانہ یہ نماز ادا کرسکیں توضرور کریں ، اگر روزانہ نہ ہوسکے تو ہرجمعہ کواور اگر ایسا بھی نہ کرسکیں تو ہر مہینے ادا کرلیا کریں ، یہ بھی نہ ہوسکے توسال میں ایک مرتبہ ادا کرلیا کریں اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو زندگی میں ایک مرتبہ ادا کرلیں۔ (ابو داؤد ، کتاب التطوع ، باب صلوۃ التسبیح ، 2 / 45، الحدیث : 1297)

صلاۃُ التسبیح کا طریقہ

اس نماز کو اس ترتیب سے پڑھیں کہ تکبیرِ تحریمہ کے بعد ثَناء پڑھیں پھر پندرہ مرتبہ یہ تسبیح پڑھے : سُبْحٰنَ اﷲِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَر پھر اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم اور بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم سورۂ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھ کر رکوع سے پہلے دس بار یہی تسبیح پڑھے پھر رکوع کرے اور رکوع میں سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْعَظِیْم تین مرتبہ پڑھ کر پھر دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھے پھر رکوع سے سر اٹھائے اور سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہ اور اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْد پڑھ کر پھر کھڑے کھڑے دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھے پھر پہلے سجدے میں جائے اور تین مرتبہ سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی پڑھ کر پھر دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھے پھر سجدہ سے سر اٹھائے اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھ کر دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھے پھر دوسرے سجدہ میں جائے اور سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی تین مرتبہ پڑھےپھراس کےبعدیہی تسبیح دس مرتبہ پڑھےاسی طرح چار رکعت پڑھے اور خیال رہے کہ کھڑے ہونے کی حالت میں سورۂ فاتحہ سے پہلے پندرہ مرتبہ اور باقی سب جگہ یہ تسبیح دس دس بار پڑھے یوں ہر رکعت میں 75مرتبہ تسبیح پڑھی جائے گی اور چار رکعتوں میں تسبیح کی گنتی تین سو مرتبہ ہوگی۔ ( بہار شریعت ، حصہ 4 ، 1 / 683)

ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کریں گے :

حضرت علامہ علی بن سلطان قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : شبِ براءت میں سورۂ الدُخّان پڑھنا مستحب ہے۔ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : جو رات میں حٰم الدُّخان کی تلاوت کرےگا تو وہ صبح اس حال میں کرے گا کہ ستر ہزار فرشتے اس کے لئے دعائے مغفرت کررہے ہوں گے۔ (ترمذی،4/406، الحدیث 2897)

جنت کی خوشخبری :

حضرت علامہ احمد بن محمدصاوی مالکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جو کوئی شبِ براءت میں 100رکعت پڑھے گا تو اللہ کریم اس کے پاس 100فرشتے بھیجے گا ، جن میں سے 30 فرشتے اسے جنت کی بشارت دیں گے ، 30عذابِ نار سے بچائیں گے ، 30 اس سے دنیوی آفتیں دور کریں گے اور10 فرشتے اس سے شیطان کے مکرو فریب دور کریں گے۔ (حاشیۃ الصاوی، الدخان، تحت الایۃ : 2 ، 5 / 1908)

اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں اس رات عبادات کرنے اور زیادہ سے زیادنیکیاں کمانے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمین بجاہِ خاتمِ النبیّین الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

مولانا حسین علاؤالدین عطاری مدنی

اسکالر اسلامک ریسرچ سینٹر دعوتِ اسلامی