پیارے آقا ﷺ کی بارگاہ کے آداب کیا ہونے چاہییں، یہ ہمیں قرآن سکھا رہا ہے۔ بادشاہوں کی بارگاہ کے آداب کو ان کے نائبین بیان کرتے ہیں،مگر قربان جائیے کہ اللہ پاک کی بارگاہ میں سید المرسلین ﷺ کی شان اتنی بلند ہے کہ ان کی بارگاہ کے آداب اللہ پاک نے خود قرآنِ پاک میں ارشاد فرمائے ہیں۔ چنانچہ

(1)اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۱)(پ 26، الحجرات:1) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول سے آ گے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بےشک اللہ سُنتا جانتا ہے۔

اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ اس آیت میں اللہ پاک نے ایمان والوں کو اپنے حبیبﷺ کا ادب و احترام ملحوظ رکھنے کی تعلیم دی ہے۔ اور آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ایمان والو! اللہ پاک اور اس کے رسول کی اجازت کے بغیرکسی قول اور فعل میں اصلاً ان سے آگے نہ بڑھنا تم پر لازم ہے۔ کیونکہ یہ آگے بڑھنا حضور کے ادب و احترام کے خلاف ہے، جبکہ بارگاہِ رسالت میں نیاز مندی اور آداب کا لحاظ رکھنا لازم ہے اور تم اپنے تمام اَقوال و اَفعال میں اللہ پاک سے ڈرو، کیونکہ اگر تم اللہ پاک سے ڈرو گے تو یہ ڈرنا تمہیں آگے بڑھنے سے روکے گا۔ترکِ ادب سے نیکیوں کے برباد ہونے کا اندیشہ ہے اور اس کی تمہیں خبر بھی نہ ہوگی۔

(2) اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ(۴) (الحجرات: 4) ترجمہ کنز الایمان: بےشک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں۔

تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ بنو تمیم کے چند لوگ دوپہر کے وقت حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچے، اس وقت حضور آرام فرما رہے تھے، ان لوگوں نے حجرے کے باہر سے آپ کو پکارنا شروع کر دیا اور آپ باہر تشریف لائے۔ اس آیت میں حضور کی جلالت ِشان کو بیان فرمایا گیا کہ آپ کی بارگاہِ اقدس میں اس طرح پکارنا جہالت اور بے عقلی ہے۔

(3) وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُ جَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۵) (الحجرات: 5) ترجمہ کنز الایمان: اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ اُن کے پاس تشریف لاتے تو یہ اُن کے لیے بہتر تھا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ ان لوگوں کو ادب کی تلقین کی گئی کہ پکارنے کی بجائے صبر اور انتظار کرتے،یہاں تک کہ حضور ﷺ خود حجرے سے باہر تشریف لے آتے اور وہ لوگ اپنی عرض پیش کرتے۔جن سے یہ بے ادبی سرزَد ہوئی ہے، اگر وہ توبہ کریں تو اللہ پاک اُنہیں بخشنے والا اور ان پر مہربانی فرمانے والا ہے۔

ان آیاتِ مبارکہ سے ہمیں یہ درس حاصل ہوا کہ حضور ﷺ کی تعظیم ہم پر لازم ہے۔آپ کی بے ادبی کرنے والا گنہگار اور عذابِ نار کا حق دار ہے۔ جبکہ آپ کی تعظیم کرنے اور آپ کی تعلیمات پر عمل کرنے والا بخشش و بڑے ثواب کو پانے والا ہے۔یاد رہے یہ آداب خاص وقت تک کے لئے نہیں، بلکہ ہمیشہ کے لئے ہیں۔

(4) اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰىؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۳) ( الحجرات:3 ) ترجمہ کنز الایمان: بے شک وہ جو اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں رسول اللہ کے پاس وہ ہیں جن کا دل اللہ نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔ اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر اور دیگر صحابۂ کرام رضی اللہُ عنہم نے بہت احتیاط لازم کرلی اور سرکار ﷺ کی بارگاہ میں بہت ہی پست آواز میں عرض و معروض کرتے۔ ان حضرات کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور ان کے عمل کی تعریف کی گئی اور آخرت میں ان کے لئے بخشش اور بڑے ثواب کی بشارت دی گئی۔

(5) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲)(پ 26، الحجرات:2) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو !اپنی آواز یں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلا کرنہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔ اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے:ایمان والوں کو حضور ﷺ کے دو عظیم ادب سکھائے جارہے ہیں:

(1) اے ایمان والو! جب نبی ﷺ تم سے کلام فرمائیں اور تم ان کی بارگاہ میں کچھ عرض کرو تو تم پر لازم ہے کہ تمہاری آواز ان کی آواز سے بلند نہ ہو، بلکہ جو عرض کرنا ہو وہ آہستہ اور پست آواز سے کرو۔

(2) حضور ﷺ کو ندا دینے میں ادب کا پورا لحاظ رکھو جیسے آپس میں ایک دوسرے کا نام لے کر پکارتے ہو ویسے نہ پکارو، بلکہ عظمت والے القابات کے ساتھ عرض کرو۔ جیسے یوں کہو: یارسول اللہ، یا نبی اللہ۔ کیونکہ صحابۂ کرام نے تاجدارِ رسالت ﷺ کی ظاہری حیاتِ مبارکہ میں بھی اور وصالِ ظاہری کے بعد بھی آپ کی بارگاہ کا بےحد ادب و احترام کیا۔ اسی طرح ان کے بعد تشریف لانے والے بزرگانِ دین نے بھی دربارِ رسالت کے آداب کا خوب خیال رکھا۔ چنانچہ ان کی سیرت کے اس پہلو کے متعلق ایک واقعہ ملاحظہ ہو:

امام مالک رحمۃ اللہ علیہ(مسجدِ نبوی میں درس دیا کرتے تھے،جب ان)کے حلقۂ درس میں لوگوں کی تعداد زیادہ ہوئی تو ان سے عرض کی گئی: آپ ایک آدمی مقر کرلیں جو(آپ سے حدیثِ پاک سن کر) لوگوں کو سنائے۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اللہ پاک فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ (پ 26، الحجرات:2) ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو! اپنی آوازیں اونچی نہ کرو، اُس غیب بتانے والے نبی کی آواز پر۔ اور رسولِ کریم ﷺ کی عزت و حرمت زندگی اور وفات دونوں میں برابر ہے۔ اس لئے میں کسی شخص کو یہاں آواز بلند کرنے کے لئے ہرگز مقرر نہیں کرسکتا۔ (الشفاء، ص 43)اللہ پاک ہمیں بھی ادبِ مصطفےٰ کرنے اور آپ کی مبارک سیرت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین