مطالعہ کرنے کا درست طریقہ:

مطالعہ کے لغوی معنی غور،توجہ ،دھیان اور کسی چیز کو اس سے واقفیت حاصل کرنے کی غرض سے دیکھنا ہے ۔ (اردو لغت، 18/215) جبکہ اصطلاحی معنی کے اعتبار سے تحریر کے ذریعے مصنف یا مؤلف کی مراد کو سمجھنے کا نام مطالعہ کہلاتا ہے۔(ابجد العلوم، 1/218)

یادکھئے!حصولِ علم کے مختلف ذرائع ہیں مثلاً(1) کتاب (2) صاحب علم کی صحبت (3) کسی ادارے سے درس کا حصول (4) علمی مجالس میں شرکت(5)انٹر نیٹ بھی حصول علم کے ذرائع میں سے ایک اہم ذریعہ ہے ۔

حصولِ علم کے ان ذریعوں میں سے کتب بینی انتہائی مفید اور بہترین طریقہ ہے کہ انسان کی مکمل توجہ کتاب کے ہر ہر لفظ کی مراد سمجھنے پر ہوتی ہے ۔ کسی بھی قوم کے ہر فرد کیلئے مطالعہ انتہائی ضروری ہے کہ زندگی میں مختلف مواقع پر ہماری پڑھی ہوئی بہت سی باتیں بڑی معاون ثابت ہوتی ہیں ۔مطالعے کیلئے عمر کی کوئی قید نہیں بلکہ ہر عمر کے افراد کو اپنے معاملات بحسن و خوبی انجام دینے کیلئے مفید معلومات حاصل کرتے رہنا چاہیے ۔لہٰذا جب بچے پڑھنے کے قابل ہوجائیں تو بچوں کی ذہنی سطح کے مطابق نصابی کتابوں کے علاوہ دیگر کتب پڑھنے کی بھی عادت ڈالی جائے تاکہ بڑے ہونے تک یہ عادت قائم رہے اور ہمارے بچے اپنی علمی شخصیت اور صلاحیت کی بدولت ملک و ملت کی بہتری کیلئے اہم کردار ادا کرسکیں ۔ آئیے!مطالعہ کرنے کا درست طریقہ کار ملاحظہ کیجئے۔

(1)موضوع کا انتخاب: مطالعے کا ذوق رکھنے والے کیلئے موضوع کے انتخاب کی بڑی اہمیت ہے ۔اس کیلئے ہر ایک کو اپنے معمولات کو سامنے رکھتے ہوئے انتخاب کرنا چاہیے اگر کوئی بزنس مین ہے تو تجارت اور خرید و فروخت کے بارے میں زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرے ،کوئی شادی شدہ ہے تو اس سے متعلق شرعی مسائل اور رشتے کو خوش اسلوبی سے نبھانے سے متعلق مطالعہ کرے ۔ صاحبِ اولاد کو بچوں کی اسلامی تعلیمات کے مطابق تربیت کے حوالے سے مطالعہ کرنا چاہیے علی ہذا القیاس ہر ایک اگر اپنے عہدہ و منصب سے متعلق معلومات حاصل کرے گا تو اپنے معاملات بہتر طریقے سے چلانے میں کامیاب ہوسکتا ہے ۔اس کیلئے سیرتِ و اسلامی تاریخ اور تصوف واخلاقیات پر مشتمل کتب ورسائل کا مطالعہ کرنا زیادہ بہتر ہے تاکہ ہم اپنی عملی اور معاشرتی زندگی میں اہم کردار ادا کرسکیں ۔ یاد رہے ایسا لٹریچر پڑھنے سے مکمل اجتناب کیجئے جو بے فائدہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایمانیات اور اخلاقیات سے عاری ہو کیونکہ یہ اخلاق وکردار اور ایمان کیلئے زہر قاتل کے مماثل ہے ۔

(2)مصنف کا انتخاب: مطالعہ کرنے سے پہلے مصنف کا انتخاب بھی از حد ضروری ہے کیونکہ ہر مصنف میں تحریر و تصنیف کی صلاحیت اور اپنا مافی الضمیر عوام کے ذہنوں میں راسخ کرنے کی قابلیت ہویہ ضروری نہیں ،لہٰذا ایسے قابلِ اعتماد محرر کو پڑھئے جو مخالفِ اسلام نہ ہو اور اس کی تحریر بھی عام فہم ہو نے کے ساتھ ساتھ معلومات کا ذخیرہ سمیٹے ہو ۔اس کیلئے اپنے اساتذہ یا اہلِ علم سے مشاورت کرنا مفید ہے ۔

(3)وقت کا انتخاب:مطالعہ کرنے کیلئے مناسب وقت کا انتخاب بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔لہٰذا ایسا وقت اختیار کیجئے جس میں ذہنی اور جسمانی تھکاوٹ یا کوئی اور مصروفیت نہ ہو ۔ اپنی روز مرہ مصروفیات میں سے استقامت کے ساتھ روزانہ چاہے آدھا گھنٹہ ہی مطالعے کیلئے منتخب کریں اور غور وفکر کے ساتھ چند صفحات ہی پڑھے جائیں تو یہ زیادہ مفید ہے ۔ اگر فرصت ہوتو صبح کا وقت مُطالَعہ کرنا زیادہ فائدے مند ہے کیونکہ اس وقت نیند کا غلبہ نہیں ہوتااور ذہن بھی زیادہ فریش ہو تاہے۔

(4)جگہ کا انتخاب:مطالعے کیلئے صحیح جگہ کا تعین بھی بہت ضروری عمل ہے ۔لہٰذا ایسی جگہ جہاں کسی کی دخل اندازی یا کسی بھی طرح کی دشواری ہو تو مطالعے کیلئے ایسے مقام سے اجتناب کیجئیے کیونکہ اس کا نقصان یہ ہوگا کہ پڑھی ہوئی باتیں ذہن میں راسخ نہیں ہوسکیں گی یا پھر آپ پڑھیں گے کچھ اور سمجھ اس کا الٹ ہی آئے گالہذا یکسوئی کے ساتھ مطالعہ کرنے کیلئے کسی بھی قسم کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے ۔ مطالعہ کرنے کی جگہ روشنی کا بھی خاص انتظام کیجئے کہ نہ تو اتنی کم روشنی ہو جو ذہن اور آنکھوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہواور نہ ہی اتنی تیز روشنی ہو جو پڑھنے میں مخل ہونے کے ساتھ ساتھ آنکھوں کیلئے باعثِ ضرر ہو بلکہ جتنی ضرورت ہو اسی اعتبار سے روشنی کا اہتمام کیا جائے۔

مطالعے سے متعلق مزید مفید باتیں:(1)مطالعہ کرتے وقت ایسا انداز اختیار نہ کریں جس سے آنکھوں پر زور پڑے مثلاً روشنی بہت مدہم یازیادہ تیز نہ ہو۔اسی طرح چلتے چلتے ،چلتی گاڑی میں یا لیٹ کر یا پھر کتاب پر جھک کر مطالعہ کرنا آنکھوں کےلئےمضر ہے۔(2) دورانِ مطالعہ کچھ دیر کیلئے آنکھوں اور گردن کی ورزش کیجئے کہ مسلسل ایک ہی جگہ دیکھنے سے آنکھیں تھک جاتی ہیں ۔ (3) اگر کوئی بات غور وفکر کےبعد بھی سمجھ نہ آئے تو اہل علم سےبلا جھجک پوچھ لیجئے۔ (4) مطالعہ کرتے وقت بہت سی نئی باتیں سامنے آتی ہیں جنہیں بطورِ یادداشت لکھ کر محفوظ کرلیجئے تاکہ ضرورت کے وقت تلاش کرنے میں وقت ضائع نہ ہو۔(5) مطالعے کے ذریعے جو معلومات حاصل ہو اسے دوسروں سے بھی شئیر کرتے رہیں اس سے آپ کا علم بھی محفوظ ہوجائے گا اور دوسروں کو بھی نفع پہنچے گا ۔

مطالعے کے فوائد:(1)مطالعہ کرنے سے علم حاصل ہوتا ہےجو دینی اور دنیوی معاملات کیلئے بے حد ضروری ہے۔(2) مطالعہ سے انسان میں شعور پیدا ہوتا ہے اور باشعور انسان معاشرے میں قابلِ عزت سمجھا جاتا ہے ۔(3) مطالعہ کرنےوالے کے پاس الفاظ کا ذخیرہ ہوتا ہے جس سے صحیح موقع پر صحیح بات کرنے کا سلیقہ آتا ہے ۔(4) مطالعہ کرنے والا شخص دینی اور دنیوی لحاظ سے ترقی حاصل کرتا ہے۔ (5)مطالعہ کے ذریعے انسان اپنے بہت سے مسائل کا حل تلاش کر لیتا ہے۔

ہمیں بھی چاہیے کہ مطالعے کی عادت بنائیں اور جو علم حاصل ہو اس پر عمل کی کوشش بھی کریں ۔