19 ذوالحجۃ الحرام, 1441 ہجری

: : :
(PST)

خشوع کے معنی ہیں دل کا فعل اور ظاہری اعضا کا عمل. (تفسیر کبیر، جلد ٨،صفحہ ٢٥٩،مطبوعہ داراحیاءالتراث العربی بیروت)

دل کا فعل یعنی اللہ پاک کا خوف و عظمت پیش نظر ہو دنیا سے بلکل غافل ہو اور دل نماز میں لگا ہوا ہو. اور ظاہری اعضاء کا عمل یعنی سکون سے کھڑا رہے اور کوئی عبث و بے کار کام نہ کرے. ( مدارك، صفحہ ٧٥١،مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت: (مفہوماً)

نماز پنجگانہ اللہ پاک کی وہ نعمت عظمیٰ ہے جو اس نے اپنے کرم عظیم سے خاص ہمیں عطا فرمائی ہے چاہئے یہ تو تھا کہ ہم اس کی قدر کریں مگر ہمارے معاشرے کا ہر دوسرا مسلمان اس سے غافل ہوتا ہے. اللہ پاک کا قرآن کریم پارہ ١٨ سورۃ المؤمنون کی آیت نمبر ١ اور ٢ میں ارشاد ہے :-

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ(۱)الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ(۲)

تَرجَمۂ کنز الایمان: بےشک مراد کو پہنچے ایمان والے جو اپنی نماز میں گڑگڑاتے ہیں ۔

اس آیت کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ ایمان والوں کو خوشخبری دی گئی ہے کہ بے شک وہ اللہ پاک کے فضلِ خاص سے اپنے مقصد کو پانے میں کامیاب ہو گئے اور ہمیشہ کے لئے جنّت کے حقدار ہو گئے اور ہر نا پسندیدہ چیز سے نجاتِ ابدی پا گئے. دوسری آیت کی تشریح کچھ یوں ہے کہ ایمان والے خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں اور نماز ادا کرتے وقت ان کے دلوں میں اللہ کریم کا خوف ہوتا ہے اور ان کے اعضاء ساکن ہوتے ہیں. (تفسیر صراط الجنان، جلد ٦،صفحہ ٤٩٦-٤٩٤، مطبوعہ مکتبۃالمدینہ (مفہوماً)

اے عاشقان نماز! دوسری آیت کریمہ کی وضاحت میں جو ایمان والوں کے اوصاف بیان ہوئے کہ نماز ادا کرتے وقت ان کے دلوں میں اللہ کریم کا خوف ہوتا ہے اور ان کے اعضاء ساکن ہوتے تو یہ اوصاف تب ہی پیدا ہو سکتے ہیں جب نماز ادا کرتے وقت یہ گمان کیا جائے کہ بندہ اللہ کو دیکھ رہا ہے اگر یہ نہ ہو سکے تو یہ یقین ہو کہ اللہ بندے کو دیکھ رہا ہے. جیسا کہ احیاء العلوم میں ہے کہ اللہ پاک ایسی نماز کی طرف نظر نہیں فرماتا جس میں بندہ اپنے جسم کے ساتھ دل کو حاضر نہ کرے. (احیاء العلوم (اردو) جلد ١،صفحہ ٤٧٠، مطبوعہ مکتبۃالمدینہ)

  اے عاشقان نماز! عبادت کرنے والا اس طرح عبادت کرے گویا وہ اللہ ربُّ العزّت کو دیکھ رہا ہے. یہ اخصُّ الخواص  یعنی خاصوں میں سے مخصوص بندوں کا مقام ہے جن کو لوگ نماز کی حالت میں اِن کے خشوع و خضوع میں ہونے کی بنا پر دیکھتے تو یہ سمجھتے یہ گویا کوئی ستون ہیں بعد میں ان کو بتایا جاتا کہ وہ کوئی ستون نہیں بلکہ حضرت سیدنا ربیع بِن خُثيم رحمۃ اللّٰه تعالٰی علیہ ہیں انہوں نے اندھیرے کی وجہ سے حضرت کو ستون سمجھا. (رسالہ قُشیریہ،صفحہ ٤١٦،مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)

اے عاشقان نماز! نماز میں خشوع و خضوع کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نماز میں آنکھ بند رکھنا مکروہ(تنزیہی) ہے، مگر جب کھلی رہنے میں خشوع نہ ہوتا ہو تو بند کرنے میں حرج نہیں، بلکہ بہتر ہے. (بہار شریعت، جلد ١،صفحہ ٦٣٤،مطبوعہ مکتبۃالمدینہ)

    خادم نبی صلی اللّٰه تعالٰی علیہ والہ وسلم حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللّٰه تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے پیارے نبی صلی اللّٰه تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالی شان و عبرت نشان ہے : جو شخص نمازوں کو ان کے وقت میں خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرے تو اس کی نماز سفید اور روشن ہو کر یہ کہتی ہوئی نکلتی ہے : اللّٰه پاک تیری حفاظت فرمائے جس طرح تو نے میری حفاظت کی، اور جو شخص نماز بے وقت ادا کرے اور اس کے خشوع و خضوع کا لحاظ نہ کرے تو وہ نماز سیاہ و تاریک ہو کر یہ کہتی ہوئی نکلتی ہے اللّٰه پاک تجھے ضائع کرے جس طرح تو نے مجھے ضائع کیا، یہاں تک کہ اللّٰه پاک جھاں چاہتا ہے وہ نماز اس جگہ پہنچ جاتی ہے پہر وہ بوسیدہ کپڑے کی طرح لپیٹ کر اس نمازی کے منہ پر مار دی جاتی ہے. (معجم اوسط، جلد ٢،صفحہ ٢٢٧،حدیث ٣٠٩٥،مطبوعہ دارالفکر بیروت)

اے عاشقان نماز! خشوع کا حاصل ہونا اللّٰه ربُّ العزّت کی نہایت عظیم نعمت ہے. ہمیں بھی خشوع و خضوع حاصل کرنے کے لیے خوب کوشش کرنی چاہیے اور اس کے لیے گِڑگِڑا کر دعائیں مانگیں چاہئیں جیسا کہ ہمارے پیارے آقا صلی اللّٰه تعالٰی علیہ وآلہ وسلم یوں دعا مانگا کرتے :

اَللّٰھُمَّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ صَلَاةٍ لَّا تَنْفَعُ: اے اللہ میں تیری پناہ لیتا ہوں اس نماز سے جو نفع نہ دے. (ابو داؤد، جلد٢، صفحہ ١٣١، حدیث ١٥٤٩،مطبوعہ داراحیاءالتراث العربی بیروت).

اللّٰه پاک ہمیں خشوع و خضوع کی اہمیت کو سمجھنے اور خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین!

خشوع اے خدا! تو نمازوں میں دیدے

      اِجابت کرم سے دعاؤں میں دیدے.