خشوع کا معنی دل کا فعل اور ظاہری اعضاء کا عمل

تَرجَمۂ کنز الایمان: بےشک مراد کو پہنچے ایمان والے جو اپنی نماز میں گڑ گڑاتےہیں۔(پارہ 18 سورت مومنون آیت 1.2 )

علامہ بدرالدین عینی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: نماز میں خشوع مستحب ہے۔ (عمدہ القاری ج4 ص391 زیر حدیث 741)

اعلی حضرت لکھتے ہیں رحمتہ اللہ علیہ کامل نماز وہ ہے جو خشوع سےادا کی جائے۔(فتاوی رضویہ جلد 6 ص 205)

امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ آپ نماز میں ایسے ہوتے گویا زمین میں گڑی ہوئی میخ ہے۔

دیگر صحابہ اکرام علیھم الرضوان رکوع میں اتنے پر سکون ہوتے ان پر چڑیاں بیٹھ جاتی گویا کہ وہ بے جان چیزوں میں سے ہیں۔(احیاءالعلوم جلد1 ص 228)

اللہ پاک ایسی نماز کی طرف نظر نہیں فرماتا جس میں بندہ اپنے جسم کے ساتھ دل کو حاضر نہ کرے۔

حضرت سیدنا سعید تنوخی رحمتہ اللہ علیہ جب نماز پڑھتے تو اس قدر روتے کہ رخسار سے داڑھی پر مسلسل آنسو گرتے۔(احیاءالعلوم جلد1 ص 470)

نماز میں خشوع ظاہری بھی ہوتا ہے اور باطنی بھی:

ظاہری خشوع یہ کہ نماز کے آداب کی مکمل رعایت کی جائےنظر جائے نماز سے باہر نہ جائے،آنکھ کے کنارے سے بھی کسی کو نہ دیکھےآسمان کی طرف نظر نہ اٹھائے ،کوئی عبث و بیکار کام نہ کرے،کوئی کپڑا کندھوں پر اس طرح نہ لٹکائے کہ دونوں کنارے لٹک رہے ہوں۔

انگلیاں نہ چٹخائے بلا وجہ آنکھیں بند نہ رکھے،تنگ لباس پہن کر نماز نہ پڑھے،جیب میں کوئی وزنی چیز نہ رکھے،ایسے نماز پڑھے کہ اگر کوئی کام کر رہا تھا تو جونہی نیت باندھے تو اس کام کو بھول جائے اور یکسوئی سے اور مکمل توجہ سے نماز ادا کرے جیسے رب کو دیکھ رہا ہے۔اور اس طرح کی ہر حرکات سے بچے جن سے نماز میں خلل واقع ہو۔باطنی خشوع یہ ہے کہ اللہ پاک کی عظمت پیش نظر ہو دنیا سے توجہ ہٹی ہو،اور نماز میں دل لگا ہو اور اپنی زندگی کی آخری نماز سمجھ کر پڑھے۔